Manzil E Ishq By Harram Shah Readelle50200 Episode 13
No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
اسے ایمان کے کمرے سے واپس آئے ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی۔اس معصوم پر کیا وہ ظلم یاد کرکے وہ مسکرا رہا تھا۔وہ یہ سمجھتا تھا کہ ایمان اس کی ملکیت ہے جو چاہے گا اس کے ساتھ کرے گا۔
وہ آ کر کرسی پر بیٹھا اور سگریٹ ہونٹوں کے درمیان لے کر سلگا لیا۔
“بس کچھ عرصے کا انتظار ہے میری رپنزل پھر تم میری ہو جاؤ گی کھلونا بنا کے رکھوں گا میں تمہیں اپنا۔۔۔”
عرفان نے خباثت سے ہنستے ہوئے کہا اور سگریٹ کا کش لے کر آنکھیں بند کرتے ہوئے دھواں ہوا میں چھوڑا۔لیکن تبھی اچانک کسی نے ایک کالا بڑا سا شاپر اسکے سر پر ڈال کر گردن پر باندھ دیا۔
ہڑبڑا کر اس نے وہ کالا شاپر اتارنا چاہا لیکن وہ جو کوئی بھی تھا اب وہ اس کے ہاتھ بھی کمر کے پیچھے باندھ چکا تھا۔
“کون ہے تو۔۔۔؟”
اس نے شاپر کے اندر سے بولنے کی کوشش کی لیکن آواز کے ساتھ ساتھ اس کا دم بھی گھٹ رہا تھا۔
تبھی اس شخص نے اپنی بیلٹ اتار کے ہاتھ کے گرد لپیٹی اور پوری طاقت سے عرفان کو اس بیلٹ سے مارنا شروع کر دیا۔
عرفان کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے خود کو پڑھنے والی اس مار سے بچائے یا اپنی بند ہوتی سانس کی پرواہ کرے۔
اس کی چیخیں بھی اس شاپر میں دب چکی تھیں۔کچھ دیر تک وہ شخص انتہائی وحشیانہ طریقے سے عرفان کو اپنی بیلٹ سے مارتا رہا اور جب عرفان کا سانس بالکل بند ہونے کے در پر آ گیا تو اس نے عرفان کے ہاتھ کھولے اور وہاں سے چلا گیا۔
افسوس کی بات تو یہ تھی کہ ابھی عرفان کا وقت نہیں آیا تھا ورنہ آج وہ اسے زندہ چھوڑ کر جانے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔
اپنے ہاتھ کھلتے ہی عرفان نے وہ شاپر نوچ کر اپنے چہرے سے اتارا اور زور زور سے سانس لینے لگا۔ہڑبڑا کر اس نے اردگرد دیکھا لیکن وہاں کوئی بھی نہ تھا۔
“کون تھا۔۔۔کس نے مارا مجھے؟”
اس نے سہم کر اردگرد دیکھا لیکن وہ یہ بات سمجھنے سے قاصر تھا کہ اس کے ساتھ ایسا کرنے کی جرآت کون کر سکتا تھا۔
کہیں ایمان تو۔۔۔۔نہیں نہیں ایمان کیسے ہو سکتی تھی اس میں نہ تو اتنی طاقت تھی اور نہ ہی اتنی جرت۔۔۔تو پھر کون تھا جو پل بھر میں عرفان کا برا حال کر چکا تھا؟اس سوال کا عرفان کے پاس بھی کوئی جواب نہیں تھا۔
❤️❤️❤️❤️
جنت جو چھٹی ہوتے ہی کالج سے باہر آئی تھی سامنے ہی اپنی کالی گاڑی کے پاس کھڑے سالار کو دیکھ کر اسکا منہ بن گیا تھا۔
دو دن ہو گئے تھے نہ تو سالار اس سے ملنے آیا تھا اور نہ ہی اس سے کوئی بات کی تھی اور اب جنت سخت ناراض تھی اس سے۔
“اہو اہو۔۔۔۔ہائے۔۔۔”
سالار نے اس کے پاس آ کر کہا لیکن جنت منہ پھلا کر کھڑی تھی۔
“ناراض ہے میری دوست مجھ سے۔۔۔؟”
سالار نے پوچھا لیکن جنت نے ابھی بھی کوئی جواب نہیں دیا تھا۔
“چلو ایسا ہے تو یہ چاکلیٹ یہاں کھڑی کسی اور لڑکی کو دے دیتا ہوں ٹھیک ہے نا؟”
سالار نے ایک بڑی سی چاکلیٹ سامنے کر کے کہا تو جنت نے جھپٹنے والے انداز سے اس سے وہ چاکلیٹ چھینی اور گاڑی میں جا کر بیٹھ گئی۔
“آج تو لگتا ہے کہ کوئی کافی زیادہ غصے میں ہے۔۔۔”
سالار نے اسکے ساتھ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کہا جبکہ ان دونوں کے گاڑی میں بیٹھتے ہی جمال نے گاڑی سٹارٹ کی تھی۔
“سالار ملک بات نہ کریں آپ مجھ سے ایک تو دو دو دن تک آپ چہرہ نہیں دیکھاتے اور پھر جب آئے ہی آئے تو آپ کے ساتھ آنے کے لیے جھوٹ بولنا پڑا مجھے بابا سے کہ میری ایکسٹرا کلاس ہے پتہ بھی ہے آپ کو کہ کتنا برا لگا مجھے۔۔۔۔”
جنت نے منہ بنا کر کہا تو سالار مسکرائے بغیر نہ رہ سکا۔
“اچھا تو اب مجھے میری غلطی کی کیا سزا ملے گی آفٹر آل بیسٹ فرینڈ ناراض ہے میری۔۔۔۔”
“او ہیلو کس نے کہا کہ میں آپ کی بیسٹ فرینڈ ہوں میں صرف فرینڈ ہوں آپ کی بیسٹ فرینڈ میں صرف معراج کی ہوں۔۔۔۔”
جنت نے اترا کر کہا جبکہ اس کے منہ سے ہی معراج کا نام سن کر سالار کے تن بدن میں آگ سی لگی تھی۔اچانک ہی اس نے جنت کا چہرہ تھام کر اپنی طرف کیا۔
“کہا تھا نا جنت کہ میری اہمیت تمہاری زندگی میں سب سے زیادہ ہونی چاہیے لیکن تم۔۔۔۔۔معراج تمہارا کزن ہونے کے سوا کچھ نہیں میں تمہارا سب کچھ ہوں تمہارا بیسٹ فرینڈ،پارٹنر،ساتھی،سب کچھ میں ہوں۔۔۔”
جنت اسکی آنکھوں میں موجود جنون کو دیکھ کر سہم گئی تھی۔
“ڈرائیں گے تو فرینڈ بھی نہیں رہوں گی آپ کی۔۔۔۔”
جنت نے نم آنکھوں سے کہا تو فوراً سالار نے اسے چھوڑا اور غصہ کم کرنے کے لیے اپنے بالوں میں ہاتھ چلانے لگا۔
“اچھا سوری یار آئندہ ڈراؤں گا بھی نہیں اور تم سے دور بھی نہیں رہوں گا پکا وعدہ۔۔۔”
سالار نے اپنا ہاتھ سامنے کر کے کہا تو کچھ دیر سوچنے کے بعد جنت نے مسکراتے ہوئے اسکا ہاتھ تھام لیا۔تبھی وہ لوگ سالار کے گھر پہنچ گئے تو جنت بھاگ کر اپنے سونو کے پاس گئی اور اسے باہوں میں اٹھا لیا۔
سالار جو مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا موبائل بجنے کی آواز پر ہوش میں آیا۔موبائل پر حمنہ کی کال دیکھ کر اسکی مسکراہٹ گہری ہو چکی تھی۔
“اسلام و علیکم مما کیسی ہیں آپ؟”
ویڈیو کال پک کرتے ہی سالار سامنے بیٹھی حمنہ کو دیکھ کر مسکرایا۔
“میں ٹھیک ہوں میری جان تم کیسے ہو؟”
“میں بلکل بلکہ ابھی تو کچھ زیادہ ہی ٹھیک ہوں۔۔۔کسی سے ملاؤں آپ کو؟”
سالار اتنا کہہ کر جنت کے پاس آیا جو صوفے پر بیٹھے سونو کو گود میں لیے اس سے لاڈ کر رہی تھی۔
“یہ ہے میری پیاری سی فرینڈ جنت اور جنت یہ ہیں اس دنیا کی سب سے پیاری لیڈی، میری مما۔۔۔”
سالار کی بات پر جنت کی آنکھیں حیرت سے بڑی ہو گئیں اس نے جلدی سے سونو کو چھوڑا اور گڑبڑا کر حمنہ کو دیکھنے لگی۔
“ماشاءاللہ بیٹا بہت پیاری ہو تم بلکل اپنی ماں جیسی معصوم سی گڑیا۔۔۔”
حمنہ نے اسے دیکھ کر نم آنکھوں سے کہا جبکہ جنت کی سنہری آنکھیں اپنی ماں کے ذکر پر بڑی ہو چکی تھیں۔
“آپ جانتی ہیں میری مما کو؟”
“ہاں ناں وہ میری۔۔۔۔دوست تھی۔۔۔۔”
حمنہ نے کچھ سوچ کر افسردگی سے کہا۔کتنا تڑپتی تھی وہ اپنی بہنوں کی بس ایک جھلک دیکھنے کے لیے۔
“تو پھر آپ اپنا نام بتائیں نا میں بتاؤں گی مما کو وہ بہت خوش ہو جائیں گی۔۔۔”
حمنہ نے آنسو پونچھ کر اس معصوم سی گڑیا کو دیکھا۔
“نہیں میری جان فکر مت کرو اللہ نے چاہا تو بہت جلد آ کر میں خود اس سے ملوں گی ان شاءاللہ۔”
اسکے بات جنت کافی دیر حمنہ سے باتیں کرتی رہی تھی اور سالار مسکرا کر ان دونوں کو دیکھتا رہا تھا۔
“آپ کی مما بہت اچھی اور پیاری ہیں بلکل میری مما کی طرح۔۔۔”
کال بند ہونے پر جنت نے خوشی سے کہا۔
“یہ تو ہے جنت۔۔۔اچھا یہ سب چھوڑو اور یہ بتاؤ کہ میں تمہارا بیسٹ فرینڈ ہوں نا۔۔۔”
سالا کی بات پر جنت کو شرارت سوجھی اور اس نے پھر سے انکار میں سر ہلایا۔
“نو میرا بیسٹ فرینڈ صرف میرا شارٹ سرکٹ ہے اور کوئی نہیں۔”
اس کی شرارت کو سمجھتا اب کی بار سالار بھی مسکرا دیا ۔
“بس کچھ وقت جنت پھر میں تمہاری زندگی میں وہ مقام حاصل کروں گا کہ مجھ سے بڑھ کر تمہارے لیے اس دنیا میں کوئی نہیں ہو گا کوئی بھی نہیں۔۔۔”
سالار نے اسکا ناک انگلی سے چھو کر کہا اور وہاں سے اٹھ گیا جبکہ جنت اسکی بات کا مفہوم سمجھنے کی کوشش کرتی رہی تھی۔
❤️❤️❤️❤️
مرجان اپنی بہن گل کے ساتھ وانیا کے پاس ملٹی کلر کا ایک انتہائی خوبصورت فراک لے کر آئی تھی۔
“یہ لو وانیا اور یہ پہن کر تیار ہو جاؤ؟”
مرجان نے فراک اسکی جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔
“کیوں؟”
“کیونکہ ہمارے سردار کا نکاح بس یونہی ہو گیا اس لیے سب گاؤں والوں نے فیصلہ کیا کہ آج اس نکاح کا جشن ہو یہ سمجھ لو کہ تمہارا ولیمہ ہے آج۔۔۔”
مرجان کی بات پر وانیا مزید دکھی ہو چکی تھی۔
“کیسا جشن مرجان جسکی شادی ہے جب وہی خوش نہیں تو کیسی خوشی۔۔۔”
وانیا نے نم آنکھوں سے کہا تو مرجان اسکے پاس بیٹھ گئی۔
“تمہیں پتہ ہے وانیا ہمارا امی کہتا ہے کہ جوڑے آسمانوں پر بنتا ہے انسان جسکا نصیب ہو اسی کے پاس آ جاتا ہے ہو سکتا ہے لالہ تمہارا اور تم لالہ کا نصیب ہو ۔۔۔۔”
وانیا نے فوراً انکار میں سر ہلایا۔
“نہیں مانتی میں نصیب کے اس کھیل کو مرجان مجھے اپنے گھر جانا ہے۔۔۔میرے بابا فوج میں ہیں مرجان تو میں ایک قاتل کا مقدر کیسے ہو سکتی ہوں”
مرجان نے بے بسی سے وانیا کو دیکھا جو اب رو رہی تھی۔
“اللہ پر تو بھروسہ ہے نا بس اس پر بھروسہ رکھو انشاءاللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔”
وانیا نے ہاں میں سر ہلایا۔
“مجھے پورا بھروسہ ہے اپنے اللہ پر وہ مجھے ضرور اس قید سے نکال دیں گے۔”
مرجان نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا۔
“تو چلو پھر یہ پہن کر تیار ہو جاؤ نا۔۔۔”
مرجان نے اسکی طرف وہ کھلا سا فراک کیا جسے وانیا نے پکڑ کر خود سے دور پھینک دیا۔
“نہیں پہنوں گی میں یہ نہ ہی یہاں سے باہر جاؤں گی۔۔۔”
مرجان نے گہرا سانس لے کر اس ضدی لڑکی کو دیکھا۔
“ایسا مت کرو وانیا ورنہ لالہ ہم دونوں کا یہاں آنا بند کر دے گا انہوں نے کہا ہے کہ اگر اب تم نے ہماری بات نہیں مانا تو کسی کو بھی یہاں آنے نہیں دے گا۔۔۔”
مرجان کے افسوس سے کہنے پر وانیا بھی دکھی ہو چکی تھی۔وہ نہیں چاہتی تھی کہ اپنی انا کی وجہ سے اتنی اچھی دوستیں کھودے۔
اسی لیے اس نے اپنے آنسو پونچھے کر وہ خوبصورت سا فراک مرجان سے لیا اور ساتھ والے کمرے میں جا کر پہن آئی۔۔۔
مرجان اور گل نے دل ہی دل میں اس لڑکی کی نظر اتاری۔پھر مرجان نے ملٹی کلر کی بڑی سی ماتھا پٹی اسکے ماتھے پر سجائی اور چاروں طرف سے بھاری کام سے سجا وہ دوپٹہ اسکے سر پر دے دیا۔
ہونٹوں کو لال رنگ اور آنکھوں کو کاجل سے سجانے کے بعد مرجان نے روایتی پانچ کالے نقطے اسکی ٹھوڈی پر بنائے اور تین تین اسکی آنکھوں کے پاس بنا ڈالے۔
“افف آج تو ہمارے لالہ دل ہی ہار بیٹھیں گے۔۔۔”
مرجان نے شرارت سے وانیا کا سجا سنوار روپ دیکھ کر کہا اور وانیا خود بھی اپنے آپ کو حیرت سے آئنے میں دیکھ رہی تھی جیسے وہاں وہ نہیں کوئی بہت ہی حسین سی پختون شہزادی ہو۔۔۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر گل اور مرجان نے دروازے میں سے آتے راگا کو دیکھا تو خاموشی سے وہاں سے چلی گئیں۔جبکہ راگا اپنی بیوی پر نظر پڑتے ہی پتھر کا ہو چکا تھا۔
“اوئے افغان جلیبی اتنا حسین لگو جتنی شدت بعد میں تم سے سہی جائے یہ نہ ہو کہ اپنی افغان جلیبی کو آج سچ میں کھا جائے یہ جن۔۔۔”
راگا کی پر تپش نگاہوں اور معنی خیز باتوں پر وانیا خود میں ہی سمٹی لیکن جب اسکو خود کے قریب آتے دیکھا تو سہم کر دیوار سے جا لگی۔
“دد۔۔۔۔دور رہیں مجھ سے آپ۔۔۔۔”
آج وانیہ کو اسکی آنکھیں بہت سے پیغام دے رہی تھیں اسی لیے وہ بہت زیادہ گھبرا چکی تھی لیکن راگا نے اسکی گھبراہٹ کی پروا کب کی تھی۔
ابھی بھی اپنے دل کی سنتا اور اسکی نازک کلائی تھام کر اسے اپنے قریب کر چکا تھا۔
“دوری اور اس حسن سے ناممکن بات ہے اب سزا بھگتو اتنا حسین لگنے کا۔۔۔۔”
راگا نے اتنا کہا اور اسے مزید مزاحمت کا موقع دیے بغیر بہت حق سے اس کے نازک ہونٹوں پر جھکا اپنی تشنگی مٹانے لگا۔
جب بہت دیر تک وہ دور نہ ہوا تو وانیا اسکی گرفت میں پھڑپھڑانے لگی لیکن مقابل کو پروا ہی کہاں تھی وہ تو بس اپنے دل کی سنتا اسے بے بس کر چکا تھا۔
وانیا اب اسکے سینے پر مکے برسا کر اسے خود سے دور کرنا چاہ رہی تھی۔
دور ہو کر راگا نے مسکراتے ہوئے اسکے چہرے پر آنے جانے والے رنگوں کو دیکھا جو اسے مزید حسین بنا گئے تھے۔
“ته زما مینه یې(تم میری محبت ہو)
تاسو زما جنون یاست(تم میرا جنون ہو)
تاسو زما تیاره نړۍ ځلیږئ(تم میری تاریک زندگی کی روشنی ہو)
تاسو زما یاست(تم میری ہو)
تاسو یوازې زما یاست(تم صرف میری ہو)”
راگا نے اسکے کان میں سرگوشی کی تو وانیا کانپ کر رہ گئی۔اتنی پشتو تو وہ بھی سمجھ سکتی تھی کہ راگا اسے اپنی محبت،اپنا جنون اور ہر لحاظ سے صرف اپنا کہہ چکا تھا۔
دروازہ کھٹکنے کی آواز پر وانیا گھبرا کر اس جنونی سے دور ہوئی تو راگا بھی مسکرا کر دروازے کی جانب گیا اور ان لڑکیوں کو اندر آنے کا کہا جو مسکراتے ہوئے وانیہ کو عورتوں کی محفل میں لے جا چکی تھیں۔
❤️❤️❤️❤️
ان دونوں کو بائے روڈ شگار پہنچتے ہوئے تقریباً دو دن لگ گئے تھے۔انس نے ایک ہوٹل میں ان کے لیے کمرے لیے تھے۔
“اب ہم یہاں آ تو گئے انس لیکن ہم اس راگا کو کہاں ڈھونڈیں گے۔۔۔؟”
“میں بھی یہی سوچ رہا تھا ہانیہ کیونکہ میں یہاں کسی کو جانتا بھی نہیں۔۔۔”
ہانیہ یہ جان کر پریشان ہوئی تھی اور اس کو اس طرح سے اضطراب میں دیکھ کر انس کو کچھ اچھا نہیں لگا تھا۔انس اسکے پاس آیا اور اپنا ہاتھ اسکے کندھے پر رکھا۔
“فکر مت کرو ہانیہ میں کچھ نہ کچھ ضرور کر لوں گا کوئی نہ کوئی شخص ایسا ضرور ملے گا جو ہمیں راستہ دیکھائے گا۔۔۔”
ہانیہ نے ہلکا سا مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا۔
“اوکے اب تم یہیں رکو میں جاتا ہوں اور جو پتہ لگا سکوں گا لگا لوں گا۔۔۔”
“میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گی۔۔۔”
ہانیہ نے فورا کہا۔
“نہیں ہانیہ تم یہیں رکو گی اور میں کوئی سراغ ڈھونڈنے جاؤں گا پھر جب مجھے کوئی بھی سراغ ملے گا تو تمہیں اپنے ساتھ لے کر جاؤں گا۔”
اسکی بات سمجھ کر ہانیہ نے ہاں میں سر ہلایا۔انس نے مسکرا کر اسے دیکھا اور باہر کی جانب چل دیا۔اسکے جاتے ہی ہانیہ کا دھیان اسکے والٹ پر پڑا جو وہ یہیں بھول گیا تھا۔
“انس والٹ۔۔۔”
ہانیہ نے والٹ تھام کر پیچھے جانا چاہا لیکن والٹ کھولتے ہی اسے دو انکشافات کا اندازہ ہوا تھا۔ایک کہ انس آئی بی کا سب انسپکٹر تھا اور دو کہ انس کے والٹ میں ہانیہ کی تصویر تھی وہ بھی تب کی جب وہ صرف پندرہ سال کی تھی۔
ہانیہ اس تصویر کو دیکھ کر جم سی گئی تھی اس سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ تب اس کے جذبات کی دھجیاں اڑانے کے بعد اسکی تصویر اپنے پاس رکھنے کا کیا مقصد تھا۔
“ہاں ہانیہ کیا ہوا؟”
انس کی آواز پر ہانیہ نے فوراً والٹ بند کر کے خود پر قابو کیا تھا۔
“آپ کا والٹ آپ بھول گئے تھے۔۔۔”
ہانیہ نے والٹ سامنے کرتے ہوئے کہا۔
“اوہ تھینکس یار۔۔۔”
انس نے والٹ پکڑ کر مسکرا کر کہا اور وہاں سے چلا گیا لیکن ہانیہ بہت دیر کشمکش میں مبتلا وہیں کھڑی رہی تھی۔
❤️❤️❤️❤️
وانیا کافی دیر سے سب عورتوں کے ساتھ اس کمرے میں موجود تھی جو اس جشن کی وجہ سے سج دھج کر کافی خوش نظر آ رہی تھیں۔
“راشه او وګوره راگا د نورو نارینه وو سره نڅا کوي”(آؤ اور دیکھو راگا باقی آدمیوں کے ساتھ ناچ رہا ہے۔۔)
ایک لڑکی کے ہنس کر آواز لگانے پر باقی سب مسکراتے ہوئے کھڑکی کی جانب گئیں تاکہ سب آدمیوں کو ڈانس کرتے ہوئے دیکھ سکیں۔وانیہ نے ساتھ موجود کھڑکی میں سے باہر دیکھا جہاں راگا شلوار قمیض پہنے باقی آدمیوں کے ساتھ روایتی میوزک پر ڈانس کر رہا تھا۔
وہ پٹھانوں کا روایتی ڈانس اتن تھا اور وانیا کی نظریں نہ چاہتے ہوئے بھی صرف راگا پر تھیں۔وہ ہنستے مسکراتے خوبرو ہی اتنا لگ رہا تھا۔
اچانک سے کسی نے وانیا کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی جانب کھینچا تو وہ حیرت سے مرجان کو دیکھنے لگی جو اسے ساتھ چلنے کا اشارہ کر رہی تھی.
وانیہ بہت خاموشی سے اس کے ساتھ ایک دوسرے کمرے میں آئی جہاں مرجان کی ماں اور اس کی بہن گل بھی موجود تھیں۔مرجان کی ماں پشتو میں اس سے کچھ کہہ رہی تھیں جو ان کے تیزی سے بولنے کی وجہ سے وانیہ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔
“اماں کہہ رہی ہیں کہ ہمارا بھائی باہر وادی کے پاس تمہارا انتظار کر رہا ہے وہ تمہیں سکردو میں موجود فوج کے کیمپ میں چھوڑ آئے گا۔۔۔تم جلدی سے یہ پہنو اور چپکے سے نکل جاؤ وانیا سب آدمی جشن میں مصروف ہیں۔۔۔۔”
مرجان نے جلدی سے کہتے ہوئے ٹوپی برقع وانیا پر ڈالتے ہوئے کہا جس سے وہ مکمل طور پر چھپ گئی تھی۔
“لیکن آپ لوگ میری اتنی مدد کیوں کر رہے ہیں خاص طور پر تم مرجان تم پھر سے خطرے میں ۔۔۔”
“تمہاری مدد ہم نہیں وانیا کوئی اور کر رہا ہے ۔۔۔۔”
“کون؟”
مرجان کی بات پر وانیا نے بے چینی سے پوچھا۔
“وہ ہم تم کو نہیں بتا سکتا جلدی چلو ماڑا وقت ضائع مت کرو۔۔۔۔”
مرجان نے اسے ایک پیچھے کی جانب موجود دروازے کی طرف لے کر جاتے ہوئے کہا۔وانیا چپکے سے وہاں سے باہر نکلی اور خاموشی سے اس طرف چلتی گئی جہاں اسے مرجان نے جانے کا کہا تھا۔
تھوڑی دور جاتے ہی اسے مرجان کا سولہ سالہ بھائی نظر آیا۔
“جلدی چلو باجی ورنہ کوئی آ جائے گا۔۔۔۔”
اس لڑکے نے جلدی سے کہا تو وانیا خاموشی سے اس کے ساتھ چلنے لگی حالانکہ اس کا دل بہت زور سے دھڑک رہا تھا۔وہ بس اتنا جانتی تھی کہ آج وہ یہاں سے آزاد ہو جانے والی تھی۔
“دلاور خان کون ہے یہ عورت اور کہاں لے جا رہا ہے تم اسے؟”
اپنے پیچھے کال کی آواز سن کر وہ دونوں گھبرا کر رکے۔
“لالہ یہ وہ۔۔۔۔”
دلاور نے کچھ کہنا چاہا لیکن اس سے پہلے ہی وانیا سامنے نظر آنے والے راستے کی طرف دوڑ لگا چکی تھی۔
“پکڑو اسے۔۔۔۔”
کال اپنے ساتھ موجودہ آدمیوں کو کہا اور خود بھی وانیا کی طرف بھاگنے لگا۔وہ جتنی تیز ہو سکتا تھا بھاگ رہی تھی لیکن ان پہاڑوں کے اتر چڑھاؤ پر بھاگنا اس کے لیے بے حد مشکل ثابت ہو رہا تھا۔
اسی مشکل کے باعث اچانک وہ لڑکھڑا کر گری اور اس کے گرتے ہی کال نے اس کے قریب آ کر اسکا برقع کھینچ کر اتار دیا۔
“واہ اتنا سب ہو جانے کے بعد بھی یہ کرنے کی جرآت باقی ہے تجھ میں۔۔۔۔اس کے بعد نہیں رہے گی۔”
کال نے آگے بڑھ کر وانیا کا ہاتھ بہت سختی سے پکڑا اور اسے کھینچتے ہوئے ہم اپنے ساتھ لے جانے لگا۔وانیا اس کی گرفت میں مچلتے ہوئے رو رہی تھی لیکن یہاں پروا کسے تھی۔
“یہ رہا تمہارا کھلونا راگا،جو تمہاری قید سے بھاگ رہا تھا۔۔۔۔فوجی کی اس اولاد کو لگا ہمارا قبیلے سے بھاگنا آسان ہے۔”
راگا کے آدمی کال نے ایک جھٹکے سے وانیا کا نازک وجود راگا کے قدموں میں پھینکا۔
راگا کی نظر آنسوؤں سے بھری کانچ سی آنکھوں سے ہوتی ہوئی اسکی کلائی پر پڑی جہاں اس آدمی کی گرفت کے سرخ نشان تھے۔
“اس کو تم پکڑ کے لایا؟”
راگا نے اسکی کلائی کو نرمی سے سہلاتے ہوئے کال سے پوچھا۔
“ہاں راگا۔۔۔۔”
“او تم تو کمال ہے مانا،تمہیں تو انعام ملنا چاہیے۔۔۔۔”
اتنا کہہ کر راگا وانیا کو چھوڑ کر مسکراتے ہوئے آگے بڑھا اور کال کا دائیاں ہاتھ تھام لیا لیکن اگلے ہی لمحے کال کی دردناک چیخ اس وادی میں گونجی تھی۔
راگا کے ہاتھ میں خون سے سنا چاقو اور کال کا کٹا ہاتھ زمین پر پڑا دیکھ کر وانیہ نے ایک چیخ کے ساتھ اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا۔
“کہا تھا نا اسے پھر سے چھوا تو کچھ چھونے کے قابل نہیں رہے گا اب اسکے بارے میں سوچا بھی نا تو اس ہاتھ کی جگہ تیرا دماغ زمین پر ہو گا ۔۔۔۔”
راگا نے دانت پیس کر وحشت سے کہا اور کراہتے کال کو جھٹکے سے زمین پر پھینک کر باقی آدمیوں کی طرف مڑا۔
“یہ لڑکی راگا کا ملکیت ہے، جنون ہے یہ راگا کا اسکو چھونا تو دور کسی نے اسے نظر بھر دیکھا بھی تو راگا اسکا آنکھیں نوچ لے گا۔۔۔۔۔هغه زما ده۔”(وہ میری ہے)
اتنا چلا کر راگا وانیا کے قریب آیا جو ہاتھوں میں چہرہ چھپائے خوف سے کانپتے وجود کے ساتھ رو رہی تھی۔
“سزا تو تمہارا بھی بنتا ہے میری افغان جلیبی۔۔۔۔تیار رہنا آج رات تمہاری سزا کی ہے۔”
اپنے کان کے قریب راگا کی سانسوں کی گرمائش محسوس کر کے وہ معصوم لڑکی خوف سے کانپ اٹھی۔
