Manzil E Ishq By Harram Shah Readelle50200 Last updated: 28 August 2025
No Download Link
Rate this Novel
Manzil E Ishq
By Harram Shah
وانیہ راگا کے جانے پر جتنی خوش تھی اب اتنی ہی افسردہ ہو چکی تھی۔دل تھا کہ گھر سے باہر جائے لیکن اس کی حفاظت کے بغیر ایک قدم اٹھانا بھی وانیا کے لیے محال تھا۔ سارا دن وہ گھر میں بیٹھی اپنے جذبات پر غور کرتی رہی تھی۔وہ پاس تھا تو بھی اس کی جان کا عذاب بنا ہوا تھا اور اب جب اس سے دور چلا گیا تھا تو بھی دل بس اسے ایک جھلک دیکھنے کے لیے تڑپ رہا تھا۔ "وانی کہاں کھویا ہے تم کب سے بلا رہا ہے تمہیں۔۔۔" مرجان کی آواز پر وانیا اپنے خیالوں کی دنیا سے باہر آئی۔ "تم کب آئی۔۔۔؟" "جب تم گم سم سا بیٹھا لالہ کو یاد کر رہا تھا۔۔۔" مرجان نے شرارت سے کہا لیکن وانیا کی پلکیں نم ہو چکی تھی۔ "مجھے سمجھ نہیں آرہا مرجان میں کیا کروں وہ پاس ہوتے ہیں تو ان کے جذبات سے ڈر لگتا ہے اور اب پاس نہیں ہے تو ان کے بغیر کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا۔۔۔۔کیوں مرجان کیوں۔۔۔مجھے وہ اچھے نہیں لگنے چاہیں باقی سب کی طرح ،وہ مجھے برے کیوں نہیں لگتے۔۔۔" وانیا نے روتے ہوئے پوچھا تو مرجان نے اسے اپنے گلے سے لگا لیا۔ "فکر مت کرو وانیا سب ٹھیک ہو جائے گا تم دونوں ایک دوسرے کے لئے بنا ہے۔چاہے ایک آسمان ہے تو دوسرا زمین۔۔۔لیکن اگر تم دونوں ایک دوسرے کا مقدر نہ ہوتا تو اللہ تعالی تم دونوں کو کبھی بھی ایک نہیں کرتا۔" مرجان نے اسے پیار سے سمجھایا تو وانیا ہلکا سا ہنس دی۔ "چھوٹی ہو تم مجھ سے اور بڑی بہنوں کی طرح سمجھانے بیٹھ جاتی ہو۔۔۔پتہ ہے تم مجھے بالکل میری ہانی جیسی لگتی ہو۔" وانیا نے مرجان کے گال کھینچتے ہوئے کہا تو مرجان ہنس دی۔ "کیا بات ہے مرجان آج تو تم بہت زیادہ خوش ہو خیر تو ہے؟" وانیا کے سوال پر مرجان کا چہرہ سرخی چھلکا کر گلال ہو چکا تھا۔ "مم ۔۔۔ میں تو روز ہی خوش ہوتا ہے آج کیا ہونا تھا؟" مرجان نے گھبراتے ہوئے کہا۔ "نہیں کوئی تو خاص بات ہے دیکھو میں تمہاری بڑی بہن ہوں نا بتاؤ مجھے۔۔۔" وانیا نے حکم دیتے ہوئے کہا تو مرجان مزید شرما گئی۔۔۔ "وہ ۔۔۔وہ کل رات انہوں نے مجھے کہا کہ میں بہت خوبصورت ہوں اور میرا بال بھی بہت پیارا ہے۔۔۔۔" مرجان اتنا کہہ کر یوں شرمائی جیسے نہ جانے کیا ہو گیا ہو۔ "اس وجہ سے تم اتنا شرما رہی ہو؟" وانیا نے حیرت سے پوچھا۔ "ارے نہیں وہ میں تو ۔۔۔۔" مرجان فوراً ہی اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا گئی اب وہ وانیا کو کیا بتاتی کہ کل پہلی بار اس نے اپنے شوہر کا پیار بھرا لمس اپنے گالوں پر اور ہونٹوں پر محسوس کیا تھا۔اسکے ہونٹوں پر ابھی بھی ویرہ کے جنون کا احساس موجود تھا۔ "تم کو نہیں پتہ وانی ہمارا شادی ہوئے ایک سال ہو گیا ہے اور کل پہلی بار انہوں نے مجھ سے اتنے پیار سے بات کیا۔" مرجان کی بات پر وانیا کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ "تمہاری سولہ سال کی عمر میں شادی ہو گئی تھی؟" "ہاں ماڑا ہمارے یہاں شادی جلدی کر دیتا ہے لڑکی کی۔۔۔اسی لیے تو میں انہیں پسند نہیں تھا کیونکہ میں بہت چھوٹا ہے ان سے لیکن۔۔۔کل انہوں نے پہلی بار مجھے چھوا وانی۔۔۔ورنہ وہ تو مجھ سے پیار سے بات بھی نہیں کرتا۔" یہ بات کہہ کر مرجان پھر سے شرمائی تھی۔ "یعنی ایک سال ہوا ہے تم دونوں کی شادی کو اور تم دونوں کے درمیان کوئی تعلق ۔۔۔۔" مرجان نے فوراً انکار میں سر ہلا دیا۔ "انٹرسٹنگ۔۔ " وانیا نے آہستہ سے کہا۔ "پتہ ہے وانیا وہ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے تب سے محبت کیا ہے ان سے جب محبت کا مطلب بھی نہیں پتہ تھا۔۔۔دنیا کے لیے وہ جیسا بھی ہے میرے لیے جینے کی وجہ ہے وہ وانی۔۔" مرجان کی بات سن کر وانیا افسردہ ہوئی تھی کیا ہوتا اگر کل کو ویرہ آرمی کے ہاتھ لگ جاتا تو۔۔۔کیا ہونی تھی مرجان کی زندگی ویرہ کے بغیر تو وہ جیتے جی مر جاتی۔ اور اگر ویرہ کے ساتھ راگا بھی پکڑا جاتا تو وانیا کا کیا ہوتا؟کیا وہ جی پاتی اس کے بغیر۔۔۔خود سے یہ سوال کرنے پر ہی وانیہ کی آنکھیں نم ہو چکی تھیں۔ "کیا ہوا وانی؟" مرجان نے پریشانی سے پوچھا لیکن وانیا نے بس انکار میں سر ہلایا۔ہو وہاں سے کیا بتاتی کہ ہمیشہ قید میں رہنا وانیا کا مقدر بن چکا تھا اگر وہ راگا کی قید سے آزاد ہو بھی جاتی تو بھی اس کا دل اور اس کی زندگی کی ہر خوشی راگا کی قید میں رہتی۔ ❤️❤️❤️❤️ سلطان مسکراتے ہوئے اپنے آدمیوں کو دیکھ رہا تھا جو اس کے خلاف آواز اٹھانے والے پولیس والے کو مار رہے تھے۔وہ بے چارہ انصاف کی راہ پر چلنے کی سزا بھگت رہا تھا۔ "سر۔۔۔" اے کے کی آواز پر سلطان نے ابرو اچکا کر اسے دیکھا۔ "سسس۔۔۔۔سر وہ ہمارا پلین فیل ہو گیا جن لوگوں کو ہم نے ریلوے اسٹیشن پر دھماکہ کرنے بھیجا تھا انہیں۔۔۔اس سکندر نے مار دیا۔۔۔" اے کے کی بات پر سلطان نے ضبط سے اپنی مٹھیاں بھینچ لیں۔ "کون ہے یہ سکندر اے کے ابھی تک پکڑ کیوں نہیں پا رہے تم اسے؟" سلطان غصے سے چلایا اور اپنا ہاتھ بہت زور سے دیوار میں مارا۔ "معلوم نہیں سر وہ شخص کہاں سے سوچتا ہے کب کیا کر گزرے پتہ ہی نہیں چلتا خبر تو تب ہوتی ہے جب وہ سب ختم کر چکا ہوتا ہے۔" اے کے کی بات پر سلطان نے اسے اپنی خطرناک نگاہوں سے گھورا۔ "تمہیں میں نے یہاں تک بے بس ہونے کے لیے نہیں پہنچایا اے کے جتنی جلدی ہو سکے اس سکندر کو پکڑو ورنہ جس گند سے تم آئے تھے اسی گند میں واپس پھینک آؤں گا ۔" اتنا کہہ کر سلطان آگے بڑھا اور اپنے آدمی کے ہاتھ سے ڈنڈا پکڑ کر خود اس پولیس والے کو ظالمانہ انداز میں مارنے لگا اور تب تک مارا جب تک وہ بیچارا مر نہیں گیا
