Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

بابا جی منہ میں کچھ پڑھتے ہوۓ جلدی سے اس کمرے میں پہنچے جو ایک بہت بڑا ہال نما کمرہ تھا اور جسکی ساری دیواریں کالے رنگ کی تھیں
سامنے کی دیوار کے پاس دیوہیکل کالی کا بت نصب تھا
جس کے پاؤں کے آگے قربان گاہ بنائی گئی تھی جو خون سے بھری ہوئی تھی اور پورے ہال میں گندگی اور خون کی بدبو پھیلی ہوئی تھی
بابا جی نے جلدی جلدی میں کچھ پڑھ کر بت کی طرف پھونکا تو بت سے چیخنے چلانے کی آوازیں آنے لگیں ایسے لگ رہا تھا جیسے کٸ بدروحیں مل کر بین کر رہی ہوں
باباجی ندا کے ہنسنے اور پنڈتوں کے اشلوک پڑھنے کی آوازوں کی سمت کا اندازہ کرکے آگے بڑھے اور بت کے پاٶں کے پاس بنا ہوا خفیہ لیور کھینچ دیا
گڑگڑاہٹ کی آواز ابھری اور بت کے پیچھے چوکور سا خانہ بن گیا جہاں سے تہ خانے کی سیڑھیاں نظر آنے لگ گئی
باباجی بےدھڑک سیڑھیاں اتر گٸے
جب کہ تینوں پنڈت جو گڑگڑاہٹ کی آواز سن کر منتر چھوڑ سیڑھیوں کی طرف متوجہ ہوۓ تھے گھبرا کر جلدی سے اپنی اپنی جگہ سے کھڑے ہو گئے
وہ اتنی جلدی باباجی کے اندر پہنچنے کی امید نہیں کر رہے تھے
ندا اپنی جگہ پر آرام سے بیٹھی ابھی تک ہنس رہی تھی اس کے آگے آگ کا الاؤ جل رہا تھا اور اس کے قریب ایک لمبا سا بڑے پھل کا چاقو پڑا ہوا تھا جسے وہ اٹھا کر اس کی دھار پہ ہاتھ پھیر رہی تھی
بابا جی کو دیکھ کر تینوں پنڈت بوکھلا گۓ اور اونچی آواز میں کوئی منتر پڑھنے لگے
جب کہ باباجی اپنی پڑھائی مکمل کر کے اب اطمینان سے کھڑے ہو کر مسکراتی نظروں سے ان کی گھبراٸی ہوٸ شکلیں دیکھ رہے تھے
وہ لوگ منتر پڑھنے کے ساتھ اپنے ہاتھوں کو گول گول داٸرے کی شکل میں گھما رہے تھے جہاں سے کالا دھواں نکل نکل کر باباجی کے اردگرد پھیلنے لگا
مگر وہ مطمٸن سے کھڑے ندا کی طرف دیکھ رہے تھے جو کہ ان سب سے بے نیاز چاقو کی دھار پر ہاتھ پھیر رہی تھی
جیسے ہی باباجی نے ندا کی طرف قدم بڑھاۓ تو ان میں سے ایک پنڈت گرجا
وہیں رک جاؤ مولوی !
ہمارے کام میں دخل اندازی مت کرو ورنہ انجام اچھا نہیں ہوگا
یہ کہہ کر اس نے اپنی مٹھی باباجی کی طرف کرکے کھولی تو اس کی انگلیوں سے بجلی نکل کر باباجی کی طرف لپکی مگر دھوٸیں کے مرغولے سے ٹکرا کر بجھ گٸ
جب کہ باباجی اطمینان سے کھڑے ہو کے اس دھوئیں کو ملاحظہ کررہے تھے
ان کا اطمینان دیکھ کر ایک پل کے لئے تو اس پنڈت کے چہرے پر گھبراہٹ آئی مگر دوسرے پل وہ بڑے غرور سے زمین پر پاٶں مار کر بولا
شانگلی چڑیل اس مورکھ کو جلا کر بھسم کردے
زمین پھٹی اور اندر سے چاروں ہاتھوں پاٶں پر چلتی ہوٸی گھناٶنی سی عورت باہر نکلی جس کے ٹھوڑی تک لمبے دانتوں پر سے رال ٹپک رہی تھی
سر پر گنتی کے چار لمبے بال چہرہ بغیر گوشت کے اور مڑے ہوۓ ہاتھ پاٶں کے ساتھ اچھلتی ہوٸی باباجی کی طرف لپکی
مگر اچانک جیسے کسی نایدہ یوار سے ٹکرا کر اچھل کر دور جا گری اور بھیانک آواز میں چلاتی ہوٸی دوبارہ سے بھاگی مگر اس بار اسے اس کالے دھویں سے زور کا کرنٹ لگا جو باباجی سے ایک فاصلے پر اردگرد گھوم رہا تھا اور آگے نہیں بڑھ پارہا تھا
اتنے میں کہیں سے بہت سے کالی بلیاں وارد ہوٸی اور چڑیل کے ساتھ مل کر دھویں کی طرف بڑھی
دھواں بھی اب سمٹ کر ایک جگہ ہیولے کی شکل میں جمع ہوگیا تھا
اب کا منظر اور بھی دل دہلانے والا تھا بلیاں بڑھتے بڑھتے کتوں کے ساٸز کی ہوگٸ تھیں اور ان کے دانت بھی کتوں کی طرح بڑھ کے باہر نکل آۓ تھے
دیکھتے ہی دیکھتے سب بھیانک آوازیں نکالتے ہوۓ آپس میں لڑنے لگے
پنڈت حیرت سے اپنے چیلوں کو دیکھ رہے تھے جو آپس میں ہی لڑ لڑ کے ختم ہو رہے تھے جبکہ بابا جی ابھی بھی اطمینان سے کھڑے متبسم نظروں سے ان پنڈتوں کی طرف دیکھ رہے تھے جن کا دھیان ان سے ہٹ گیا تھا
انہوں نےآگے بڑھ کر ندا کے ماتھے پر اپنا داٸیں ہاتھ کا انگوٹھا رکھا اور زیر لب کچھ پڑھنے لگے
پھر تو جیسے طوفان ہی آگیا طرح طرح کے کیڑے مکوڑےزمین سے نکل کر پنڈتوں کی طرف بڑھنے لگے
اتنا شور تھا کہ کان پڑی آوازیں سناٸی نہیں دے رہی تھیں۔
ندا بیہوش ہوچکی تھی۔پنڈتوں نے جب دیکھا کہ انکا عمل خراب ہوگیا ہے اور انکا ہر وار الٹا پڑ گیا ہے اور اب ان کیڑے مکوڑوں سے ان کی موت یقینی ہے تو بوکھلاہٹ میں ہتھیار اٹھاکر باباجی کی طرف لپکے
ہم ہار نہیں مانیں گے مولوی۔ ہم تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے تم نے ہمارے کیۓ کراۓ پر پانی پھیر دیا
اتنا کہہ کر جیسے ہی ان میں سے ایک نے چاقو والا ہاتھ باباجی پر اٹھایا تہ خانے کی دیواریں گولیوں کی گونج سے لرز اٹھیں
پولیس اہلکار تہ خانے کی سیڑھیوں پر کھڑے اندھا دھند گولیاں برساکر ان پنڈتوں کو چھلنی کر چکے تھے اور سارے کیڑے مکوڑے بھاگ کر ان کی لاشوں کو نوچنے کیلٸے ان پر چڑھ دوڑے تھے
ایک بہادر اہلکار نے نیچے اتر کر بیہوش ندا کو اٹھایا اور باہر دوڑ لگا دی
باقی سب بھی جلدی سے باہر نکل آۓ
اندر سے ابھی بھی بھیانک آوازیں آرہی تھیں
باباجی کی ہدایت پر پولیس اہلکاروں نے ہی تہ خانے میں تیل کے ڈرم لڑھکا کر فاٸر کر دیٸے جس کے بعد اندر سے دھماکوں کی آوازوں کے ساتھ پوری پہاڑی وادی لرزنے لگی
سب لوگ جلدی وہاں سے آبادی کی طرف روانہ ہوگۓ
اگلے دن تک سب کچھ ٹھیک ہوچکا تھا
جن کی بچیاں ان شیطانوں کا شکار ہوچکی تھیں ان کا نقصان تو پورا نہیں ہو سکتا تھا
مگر اب وادی والوں نے آٸندہ کسی بھی اجنبی کو وادی میں پناہ دینے سے توبہ کرلی تھی
ندا کو اپنی گمشدگی کا کچھ یاد نہیں تھا اور نہ کسی نے اسے کچھ بتایا
وہ تینوں بھی اپنے چینل کے مالک کے ساتھ واپس اپنے شہر پہنچ گۓ تھے اور اب گھروں میں بیٹھ کر چھٹیاں مناتے ہوۓ اگلے کسی ایڈونچر کے بارے میں سوچ رہے تھے۔
ایک رات کسی احساس کے تحت ندا کی اچانک آنکھ کھل گٸ دیکھا تو اس کے پاٶں کی طرف کوٸی کالے لباس والی عورت سر جھکاۓ بیٹھی تھی
کون ہو تم؟
ندا کے درشتی سے پوچھنے پر اس نے اپنا جھکا ہوا سر اٹھایا تو اسکی شکل دیکھ کر ندا کے رونگھٹے کھڑے ہوگۓ
لمبوترے چہرے پر جھریاں پڑی ہوٸی تھیں ایک آنکھ کا ڈیلا باہر لٹک رہا تھا کان لٹک کر کندھوں پر جھول رہے تھے اور وہ اپنی سانپ جیسی زبان باہر لہرا کر ندا کی طرف دیکھ کر ہنس دی
ندا نے بے اختیارچیخنا شروع کر دیا اور جب تک اسکے گھر والے آۓ وہ چلا چلا کر بیہوش ہوچکی تھی
اسکی ماما نے جلدی سے اسکے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے اور جیسے ہی وہ ہوش میں آٸی
اس سے چلانے کی وجہ پوچھی تو جیسے ہی وہ بتانے لگی اسکی نظر ڈریسنگ ٹیبل کی طرف پڑی جہاں وہ بھیانک عورت شیشے کے سامنے بیٹھی اسی کو دیکھ کر ہنس رہی تھی
اسنے شیشی کی طرف اشارہ کرکے پھر سے چلانا شروع کر دیا
اسکی ماما کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ان کی بیٹی کو ہو کیا گیا ہے کیونکہ انہیں تو وہاں کچھ بھی دکھاٸی نہیں دے رہا تھا
اب تو یہ معمول بن گیا تھا وہ عورت ہر وقت ندا کے آس پاس بھٹکتی رہتی اور ندا چیختی چلاتی چیزیں اٹھا اٹھا کر دیواروں پہ مارتی رہتی
وہ نیم پاگل ہوگٸی تھی
اس کے گھر والے اسکا علاج کروا کروا کر تھک گۓ مگر کچھ فرق نہیں پڑا
وہ شیطان کی قربانی سے بچ کر واپس آ تو گٸ تھی مگر وہ شیطان کا شکار تھی
سو وہ کیسے اپنا شکار چھوڑ سکتا تھا اسی لیے اس نے اپنی خاص چیلی ندا کے سر پر مسط کردی تھی
اب بس شیطان کو اس خاص گھڑی کا انتظار تھاجب وہ ندا کو قربانی کیلیے اٹھا کے لے جاتا
اور جس پر شیطان کی نظر پڑ جاۓ وہ کہاں سکون پا سکتے بھلا
ایسے ہی تو نہیں شیطان مردود سے پناہ مانگنے کی ہدایت کی گٸ۔
اللّٰه پاک ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین
ختم شد