Khooni Panje By Soniya Hassan Readelle50256

Khooni Panje By Soniya Hassan Readelle50256 Last updated: 22 September 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khooni Panje

By Soniya Hassan

وہ لوگ بڑی مشکل سے جگہ جگہ بکھرے ہوۓ ٹکڑوں میں سےکیمروں کے میموری کارڈ ڈھونڈھ پاۓ اور ہوٹل واپس آگۓ
لگتا ہے کہ وہ لوگ ہمارے بارے میں جان گۓ ہیں مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ انہوں نے ہمیں کچھ کہا کیوں نہیں
عادل لیپ ٹاپ آن کرتے ہوۓ بولا
شاید وہ لوگ ہماری طرف سے خطرہ محسوس نہ کر رہے ہوں ندا بولی
نہیں اگر خطرہ محسوس نہ کرتے تو کیمرے نہ توڑتے بات کچھ اور ہے صارم نے میموری کارڈ لگا کر ویڈیو پلے کرتے ہوۓ جواب دیا
سارے میموری کارڈز کی ویڈیوز لیپ ٹاپ میں سیو کرکے چلانے پر انہیں کافی کچھ دیکھنے کو ملا تھا صارم نے
اپنے چینل کے مالک سے رابطہ کرکے اس کو کسی اچھے عالم دین کو ڈھونڈنے کا بولا جو کالے جادو کا توڑ کر سکیں
انہوں نے ان سے دو دن کا وقت مانگا ویسے بھی ابھی دوبارہ ان خونی ہاتھوں کے آنے میں دو تین دن باقی تھے
اس لئے وہ لوگ آرام سے ہوٹل کے کمرے میں بیٹھے رہے تیسرے دن کی شام ان کے ہوٹل کے سامنے بہت سی گاڑیاں آکے
رکی جن میں کچھ پولیس کی کچھ میڈیا والوں کی اور کچھ ان کے اپنے چینل والوں کی تھیں
چینل کا مالک اپنے ساتھ ایک روحانی علم کے ماہر بابا جی کو لے کر آیا تھا
جن کے ماتھے کا محراب اور چہرے کا نور بتا رہا تھا کہ وہ سچ مچ کے عالم ہیں
انہوں نے صارم کی زبانی سارے حالات جانے اور ویڈیوز بھی دیکھیں پھر وہ پورے ہوٹل میں پڑھ کر پھونک آۓ
رات سب لوگ آرام سے اپنے اپنے کمروں میں سوئے اور اگلی صبح پہاڑوں میں جانے کے لیے تیار ہو گئے پیر صاحب اپنے
دو مریدوں کے ساتھ صارم اور عادل کو ساتھ لے کر وہاں گئے جس جگہ انہوں نےویڈیو میں بڑا
سا تکون پتھر اپنی جگہ سے کھسکتے اور اندر سے تین سادھوٶں کو نکلتے اور بعد ازاں لڑکی کو پکڑ کر اندر لیجاتے دیکھا تھا
پولیس والے دور سے پوزیشن لے کر کھڑے رہے اور سید صاحب پہاڑیوں میں پھر کر زیر لب کچھ پڑھتے رہے اور اس پتھر پر نشان لگا دیا