Khanak by Zoya Hassan

"غصہ تو مجھے ہونا چاہیے ، لیکن یہاں معاملہ ہی الٹ ہے"
"آج بہن کی شادی ہے تو اتنا اگنور کر رہی ہو، کل کچھ اور مسئلہ ہوا تو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دو گی مجھے"
"اوکے یار، مسلسل نمبر آف ہے ، میں بھی اب سو رہا ہوں، اتنا ہی ویٹ کر سکتا تھا"
میں نے سارے میسج پڑھ کے سکون کا سانس لیا۔ جس دوران میرا نمبر بند تھا شائد تبھی وہ مجھے میسجز کرتا رہا ہے۔ میں سوچنے لگی کہ اب کیا ریپلائی دوں۔ صلح کرلوں یا پھر اس لڑائی کو مزید جاری رکھوں۔ کہیں نہ کہیں غلطی میری بھی تھی۔ شادی کی مصروفیت میں میں اسے اگنور کر تی رہی ہوں۔ اسکا غصہ بجا ہے۔ میں نے میسج بھیجنے کی بجائے اسے کال کی۔ بیلز جاتی رہیں لیکن اس نے فون نہیں اٹھایا، دوسری مرتبہ ٹرائی کیا تو اس نے کال اٹنڈ کی
"ہیلو۔۔۔ !" اسکی آواز میرے کانوں میں پڑی
"جی۔۔۔ !" میں نے اسے جواب دیا
"مل گیا ٹائم آپکو" اس نے تنزیہ کہا
"جی مل گیا، لیکن آپ خود بھی تو بہت مصروف ہوتے ہیں" میں نے بھی تنزیہ جواب دیا
"آپکے مہمان چلے گئے؟" اس نے بات بدلی
"نہیں۔۔۔ اتنی جلدی کہاں"
"ہوں۔۔۔۔ اچھا، سوئی نہیں ابھی تک؟"
"نہیں۔۔۔ گھر میں مہمان اتنے ہیں ، میرے لیے سونے کی جگہ ہی نہیں بچی، سیڑھیوں میں بیٹھی ہوں" میں نے اداس ہو کے جواب دیا
"پرفیکٹ۔۔۔ میں آرہا ہو پھر" اس نے کہا
"کہاں۔۔۔۔؟" میں چونکی
"تمہیں کمپنی دینے۔۔۔" وہ بولا
"نہیں نہیں۔۔۔ پلیز، گھر میں اتنے لوگ ہیں کوئی جاگ گیا تو؟" میں ڈر گئی
"ارے یار۔۔۔ کتنا ڈرتی ہو تم، کچھ نہیں ہوتا۔ اتنے دن ہو گئے تم سے ملے ہوئے" وہ خفا ہونے لگا
"اچھا ٹھیک ہے۔۔۔ آجاؤ لیکن اندر نہیں آنے دوں گی، بس ایک منٹ کے لیے دروازے تک آؤں گی" میں نے ڈرتے ڈرتے ہاں کردی
"اچھا ۔۔ دیکھتے ہیں۔۔۔ دروازے پہ پہنچ کے تمہیں میسج کرتا ہوں" یہ کہہ کے اس نے کال کٹ کردی
میں جلدی سے سیڑھیوں سے اٹھی اور ایک بار پھر سب کمروں کا جائزہ لینے لگی کہ کوئی جاگ تو نہیں رہا۔ سب ہی گہری نیند میں تھے۔ جاسم کا میسج آیا تو میں جلدی سے دروازہ کی طرف مڑی۔ میں نے دروازہ کھولا تو وہ اندر آگیا۔ میں نے اسے روکنے کی کوشش کی کہ کوئی اٹھ جائے گا لیکن اس نے میری ایک نہ سنی۔ وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھا اور میں بھی اسکے پیچھے پیچھے چلی گئی۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ چھت پہ کوئی ہے تو نہیں؟۔ میں نے نفی میں سر ہلایا اور وہ جلدی جلدی سیڑھیاں چڑھتے چھت پہ چلا گیا۔ میں لمحہ بھر نیچے رکی۔ ادھر ادھر نظریں دوڑائیں جب تسلی ہوئی تو میں بھی اسکے پیچھے پیچھے سیڑھیاں چڑھنے لگی۔
میں آخری سیڑھی پہ پہنچی تو چھت پہ بہت اندھیرا تھا۔ میں دوقدم آگے بڑھی، جاسم نے میرا ہاتھ پکڑا۔ میں نے ہاتھ چھڑایا تو اس نے پھر سے پکڑ لیا،
"کیا مسئلہ ہے تمہیں۔۔۔۔؟" میں چڑی کے بولی
"تمہیں کیا مسئلہ ہے۔۔۔۔؟" اس نے جواب دیا
یہ کہہ کے وہ میرے قریب آگیا، اتنا قریب کے اسکی سانسیں میرے چیرے سے ٹکرا رہی تھیں۔ میں ہڑ بڑا کے پیچھے ہٹی
"جاسم۔۔۔ ! دور رہو مجھ سے" میں نے اسکی چھاتی پہ ہاتھ رکھ کے اسے پیچھے کیا
"میں تمہارے پاس نہیں آ سکتا کیا؟" اس نے پوچھا
"نہیں یہ غلط ہے۔۔۔" میں نے جواب دیا
"کچھ غلط نہیں ہے، میں تم سےپیار کرتا ہوں تم مجھ سے تو، پھر غلط کیا ہے؟ شادی کرنی ہے ہم نے" میرے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کے وہ سمجھانے لگا
"شادی کرنی ہے، ہوئی نہیں ابھی" میں نے اپنے ہاتھ چھڑائے
"میں کچھ غلط کرنے کا نہیں کہہ رہا، بس تھوڑی دیر کے لیے تمہارے قریب رہ کے تمہیں محسوس کرنا چاہتا ہوں" وہ اپنی ضد پہ اڑا تھا
"جاسم۔۔۔ کیا بچوں والی ضد ہے تمہاری؟۔۔۔ کہہ دیا نا یہ غلط، میں ایسا کچھ نہیں کرنا چاہتی جس کے لیے بعد میں مجھے پچھتانا پڑے"
"تمہیں پاس آنے کو کہہ رہا ہوں، اس سے زیادہ کچھ نہیں، کیا میں تمہیں چھو بھی نہیں سکتا؟" وہ خفا ہوا
"اگر تمہیں یہ سب کرنا ہے تو میں نیچے جارہی ہوں" میں سیڑھیوں کی طرف بڑھی
"اچھا بابا۔۔۔ ! ناراض مت ہو، تمہیں میرا پاس آنا پسند نہیں تو میں کبھی ایسی ضد نہیں کروں گا" اس نے مجھے روکا

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *