Ishq Zard Rang Maiel by Rose Marie NovelR50746
Last updated: 30 June 2026
No Download Link
808.5K
14
Ishq Zard Rang Maiel by Rose Marie Episode01Ishq Zard Rang Maiel by Rose Marie Episode02Ishq Zard Rang Maiel by Rose Marie Episode03Ishq Zard Rang Maiel by Rose Marie Episode04Ishq Zard Rang Maiel by Rose Marie Episode05Ishq Zard Rang Maiel by Rose Marie Episode06Ishq Zard Rang Maiel by Rose Marie Episode07Ishq Zard Rang Maiel by Rose Marie Episode08Ishq Zard Rang Maiel by Rose Marie Episode09Ishq Zard Rang Maiel by Rose Marie Episode10Ishq Zard Rang Maiel by Rose Marie Episode11Ishq Zard Rang Maiel by Rose Marie Episode12Ishq Zard Rang Maiel by Rose Marie Episode13Ishq Zard Rang Maiel by Rose Marie Last Episode
Ishq Zard Rang Maiel by Rose Marie
شام کے پانچ بج رہے تھے اور وہ چھت پہ دھلے کپڑے پھیلانے کی غرض سے آئی تھی۔
"نین تارا۔۔۔۔ نین تارا۔۔۔۔ نجانے کدھر مر گئی ہے؟؟کم بخت ماری"۔ گھر کے صحن میں کھڑے ہو کر اسنے پورے گھر کو سر پہ اٹھا رکھا تھا۔
کانوں میں ممتاز بیگم کی آواز گونجتے وہ تیزی سے چھت کا دروازہ بند کرتی سیڑھیوں کی جانب دوڑی۔ وہ اپنے پیچھے بائیں جانب کمروں کی قطار اور دائیں جانب لکڑی سے بنی نہایت عمدہ اور خوبصورت نئے طرز کی گرل کو پیچھے چھوڑے راہداری سے گزر رہی تھی پھر ممتاز بیگم کی پشت پہ بنی وسیع و عریض سیڑھیاں عبور کرتی اسکے قریب جا پہنچی۔
"جی تائی جان؟"۔ اب وہ اسکے قریب آ گئی تھی اور سانس بھی کافی حد تک پھولی ہوئی تھی۔
"کیا مر گئی تھی؟ جو تمھارے کانوں میں میری آواز تک نا سما سکی۔ گزرتے وقت کیساتھ کیا سماعت بھی ساتھ دینا چھوڑ رہی ہے؟؟"۔ اسنے بھڑاس نکالی۔
"ن۔ نہیں تائی جان وہ دراصل میں چھت پہ کپڑے پھیلانے کی غرض سے گئی تھی تو اس وجہ سے دیر ہو گئی"۔ سر جھکائے اسنے معذرت کی۔
"میری بات کان کھول کے سن لو پورے گھر کو اچھے سے چمکا دو کہیں مجھے گرد نظر نا آئے۔ میرا احتشام تین سال بعد واپس آ رہا ہے۔ اسکا کمرہ اچھے سے صاف کرنا اور چیزیں جیسے رکھیں ہیں ویسے ہی رہنے دینا ادھر ادھر مت کر دینا۔ اب جاو میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو؟؟"۔ احتشام کا نام برسوں بعد اسکے کانوں میں گونجا تھا۔ نیا دن۔۔ نیا سال۔۔ نیا مہینہ مگر تڑپ اور چاہت وہی پرانی تھی جو برسوں سے وہ اپنے اندر سموئے ہوئے تھی۔ سوچ میں ڈوبی وہ ممتاز بیگم کے چہرے کو تک رہی تھی جب اسنے تپ کر کہا۔
"ج۔ ج۔ جی"۔ پلکیں جھپکتے ہی وہ اثبات میں سر ہلاتی بائیں اور مڑ گئی تھی۔
"کیا ہوا ہے ماما آپ اتنی ہڑبڑائی ہوئی کیوں ہیں؟؟"۔ اسکو یوں غصہ کرتا دیکھ روہینہ بھی اس طرف آئی تھی۔
"ارے میں کہاں ہڑبڑائی ہوئی ہوں؟۔ سچ پوچھو تو میری تو خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں ہے"۔ بولتے ہی وہ اپنے روم کی جانب سیڑھیوں کی دائیں سائیڈ بڑھ گئی تھی۔
"ایسا کیا ہوا ہے ماما؟؟ مجھے بھی تو بتائیں"۔ روہینہ متجسس اسکے عقب میں آئی۔
"ارے احتشام کی کال آئی تھی وہ کل آرہا ہے"۔ اب اسنے اپنے کمرے کی دہلیز پار کر دی تھی جب اسنے روہینہ کو آگاہ کیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
رات کے نو بج رہے تھے وہ کام سے فارغ البالی اپنے روم میں آ گئی تھی۔ یہ ایک چھوٹا سا روم تھا جو بمشکل ایک انسان کو سرو کر سکتا تھا۔ عموما ملازمین کے زیر استعمال یہ روم اب نین تارا کی ملکیت میں تھا۔ نا ہی کوئی چارپائی نا ہی کوئی بیڈ بس تھا تو صرف ایک میٹرس جس پہ ایک سادہ چادر بچھی تھی اور ایک تکیہ رکھا تھا۔
میٹرس کے سرہانے دائیں سائیڈ ایک تپائی رکھی تھی جس پہ چند اشیا رکھی گئیں تھیں۔ سارا دن بغیر کسی وقفے کے کام کرنے کے بعد جب نین تارا اس میٹرس پہ لیٹتی تو جیسے دنیا بھر کا سکون مانو اس چھوٹے سے کمرے میں اس میٹرس پہ لیٹتے ہی اسکو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہو۔۔۔ تب نیند ہی اسکی ساتھی بنتی کیونکہ باقی گھر والے اس سے قطع تعلق کر لیتے سوائے ایک انسان کے جو اسکا ہما وقت احساس کرتا تھا لاکھ رکاوٹوں اور طعنوں کے اس سے پیار کرتا تھا اور وہ تھا نین تارا کی دادی قدسیہ جنہیں سب بی جان کہہ کر بلاتے تھے۔
"احتشام اب کیسے ہوں گے؟؟ کیسے دکھتے ہوں گے؟؟ کیا انہیں بھی کوئی لڑکی پسند ہوگی؟؟"۔
میٹرس پہ دائیں کروٹ لیٹے وہ سوچ کے بھنور میں پھنسی خود سے ہی ہم کلام تھی۔
"نہیں نہیں نین تارا اچھا اچھا سوچ۔۔۔ غلط خیال اور تصور کے نقوش اپنے ذہن سے مٹا دے۔۔۔ ایسا کرتی ہوں سو جاتی ہوں رات بہت ہو گئی ہے اگر تائی جان کو بھنک بھی پڑ گئی کہ میں رات کے اس پہر لائٹ جلائے انکے اکلوتے بیٹے کے بارے میں سوچ رہی ہوں تو وہ میری سوچوں کے ساتھ ساتھ منہ بھی نوچ ڈالیں گی"۔ اپنے ذہن میں گردش کرتے تمام خیالات کو جھٹکتے اسنے ہاتھ بڑھا کر لائٹ آف کی پھر کپڑا منہ پہ کرتے خواب خرگوش کے مزے لوٹنے لگی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
جب وہ روم کی دہلیز پہ آ کھڑا ہوا تو اسکا استقبال اندھیرے نے شان و شوکت سے کیا۔ ہاتھوں میں پکڑا بیگ اسنے بغیر لائٹ آن کیئے دائیں طرف صوفے پہ رکھا پھر ہاتھ بڑھا کر لائٹ آن کی۔ کالر اور کف بٹنز کھولے وہ صوفے سے تھوڑا فاصلے پہ رکھے بیڈ کی پائینتی پہ جا بیٹھا تھا۔
کچھ سوچتے اسنے چہرہ ہاتھوں کی اوک میں لیا پھر ایک سرد آہ بھری۔
"جیسے بغیر روشنی کے دنیا سنسان رہتی ہے ٹھیک ویسے بغیر خوشی کے زندگی ویران رہتی ہے۔۔۔ اس مصنوعی روشنی کا کیا فائدہ جب میری زندگی میں اجالے کا دور دور تک کوئی امکان ہی نہیں"۔ اپنے آپکو ڈھیلا چھوڑتا وہ پیچھے کو ہوتا بیڈ پہ لیٹ گیا تھا جس سے اسکی نظر سیدھی لائٹ پہ پڑی جو اسکی نظر کے سامنے آب و تاب سے جگمگا کر اسکے روم کو روشن کر رہی تھی۔
"ارے مبشر بیٹا تم کب آئے؟؟"۔ اسکے روم کی لائٹ کو آن دیکھتے وہ بھی اس طرف آئی تھی۔
"بس ماما تھوڑی دیر پہلے ہی آیا ہوں"۔ کشور کی آواز کانوں میں گونجتے وہ سیدھا ہو بیٹھا تھا۔
"اچھا۔۔۔ ایسا کرو تم فریش ہو جاو میں کھانا لگاتی ہوں یا تمھارے روم میں ہی لے آوں؟؟"۔ جاتے جاتے اسنے پوچھا۔
"نہیں ماما کھانے کا بالکل موڈ نہیں ہے آپ ایسا کریں ایک گلاس دودھ لے آئیں"۔ اپنے آپکو پرسکون کرتا وہ کھڑا ہوا۔
"ٹھیک ہے بیٹا میں لے آتی ہوں"۔ بولتے ہی وہ روم سے نکل گئی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
یہ پرانے طرز کا کشادہ، اونچا اور خوبصورت گھر تھا جو گھر کم اور حویلی زیادہ گردانہ جاتا تھا۔
باہر کی جانب لگا گیٹ لوہے کا بنا تھا جو کافی مضبوط تھا جہاں ہما وقت ایک چوکیدار کا سایہ پایا جاتا تھا۔
گیٹ سے انٹرنس تک ماربل کا فرش تھااور سامنے ہی کار پورچ بھی۔ اس راہداری کے دونوں اطراف لان تھے۔ انٹرنس کا دروازہ کافی قد آور تھا مانو راجہ مہاراجہ کی صدی سے یہاں کی زینت بنا ہو۔۔۔ پرانہ تو تھا ہی مگر بیش قیمت بھی۔ انٹرنس کے باہر جانب سیڑھیاں تھیں جو شمار میں پانچ تھیں جبکہ اندرونی جانب کچھ مسافت پہ مقابل ہی دوسری منزل تک رسائی کیلئے سیڑھیاں بنی تھیں جو کافی وسیع تھیں جہاں رومز کی قطار تھی جو با آسانی دیکھی جا سکتی تھی اور فرش پہ کھڑے رہتے رومز شمار کیئے جا سکتے تھے۔
کار کے ہارن کی آواز پہ اسکا دل زور سے دھڑکا تھا۔۔۔۔ دھڑکنوں کی رفتار دگنی ہو گئی تھی۔ عجلت میں اسنے اپنا دائیاں ہاتھ اس کڑاہی کے ساتھ مار لیا تھا جس میں وہ حلوہ بنا رہی تھی۔
"ادھر آنے کی آہٹ ہوئی اور ادھر مہر ثبت ہو گئی۔ یہ اندیشہ اچھا ہو خدا کرے"۔ ہاتھ کی پیشانی کو دیکھتے وہ مسکرا۔ "اے میرے دل کی دھڑکنو ذرا آرام سے،،، ذرا دھیرے سے ۔۔۔ ابھی تو دیدار یار باقی ہے"۔ دل پہ ہاتھ رکھتے اسنے کہا پھر شرما دی۔
"نین تارا ۔۔۔ ارے او نین تارا"۔ ممتاز آوازیں لگاتی کچن کی جانب آئی جب نین تارا فورا سے خیال جھٹکتے دوبارہ سے حلوے میں چمچہ ہلانے لگی۔
"ج۔ ج۔ جی تائی جان؟؟"۔ وہ ہکلا اٹھی۔
"حلوہ ہے یا پائے چڑھا رکھے ہیں چولہے پہ جو گل نہیں رہے؟"۔ حلوے کو دیکھتے اسنے تپ کر کہا۔
" بس تائی جان بن گیا ہے"۔ بولتے ہی اسنے چولہا بند کر دیا۔
"احتشام آ گیا ہے اس کیلئے جوس لے آو دھیان رکھنا زیادہ چینی نا ہو اسے زیادہ مٹھاس پسند نہیں۔ جلدی آ جانا یہیں مت بیٹھی رہنا"۔ جاتے جاتے اسنے سختی سے تنبیہ کی۔
ممتاز کے جاتے اسنے جلدی جلدی ہاتھ چلاتے جوس بنایا پھر ٹرے میں گلاس سجائے لڑکھڑاتے قدموں سے باہر کی جانب بڑھی۔ جوں جوں وہ کچن کی دہلیز سے دور ہوتی جا رہی تھی قہقہوں اور گفتگو کی آواز اسکے کانوں میں واضح رقص کرنے لگیں تھیں۔
وہ سب صحن میں لگے صوفوں اور چیئرز پہ براجمان تھے۔ احتشام یوں بیٹھا تھا کہ نین تارا کی جانب اسکا سائیڈ پوز نمایاں تھا۔ بمشکل ہمت کرتے وہ اسکے قریب گئی اور ہلکا سا جھکتے ٹرے اسکے سامنے کی۔۔۔۔ دھڑکنوں کی گستاخی کے سبب دیکھنا تو درکنار اسے ایک جھلک بھی نصیب نا ہوئی۔ جونہی مہمانوں کو گلاس تھمائے وہ خالی ٹرے لیئے واپس کچن میں آ گئی تھی۔
"حسرت دیدار بھی کیا چیز ہے
وہ سامنے ہو تو مسلسل دیکھا بھی نہیں جاتا"
