Dil Ki Chahat by Jannat Shah NovelR50786 Dil Ki Chahat by Jannat Shah Episode01
No Download Link
303.6K
2
Rate this Novel
Dil Ki Chahat by Jannat Shah Episode01
Dil Ki Chahat by Jannat Shah Episode01
ایمان نے نٸ نٸ یونیورسٹی جواٸن کی تھی مجھے شروع ہی سے یونیورسٹی جانے کا بہت شوق تھا………
اورامی سے ضد کر کے یونیورسٹی جواٸن کروا ہی لی چونکہ بھاٸ کا ووٹ اسکے ساتھ تھا….
اسلیۓ وہ یونیورسٹی کیلیۓ تیار تھی وہ میرپورخاص سے کراچی جا رہی تھی اور چونکہ وہاں کوٸ رشتےدار نہیں تھا اسلیۓ وہ ہوسٹل میں رہنےکا ارادہ رکھتی تھی!.
………………………………………………….
امی اپنا خیال رکھیۓ گا وہ جاتے وقت امی سے بولی جو آنسو بہا رہی تھیں
تم بھی اپنا خیال رکھنا کھانا وقت پہ کھانا ,زیادہ باہر نہ جانا ……امی نے روتے ہوے اسے ہدایت دی تو اسنے انہیں گلے لگا لیا …………..
اس س آنسو روکے نہیں جارہے تھے وہ سمجھتی تھی انکا رونا جاٸز ہے آخر انکی کُل کاٸنات بلال بھاٸ اور وہ ہی تو تھے.
…………………………………………….
بلال بھاٸ اسے اسٹیشن چھوڑ کے جارہے تھے کہ وہ رو پڑی,
ارے میری گڑیا رو کیوں رہی ہو
بھاٸ نے کہا
بھاٸ میں پہلی بار آپ سے اور امی سے دور جارہی ہوں مجھے ڈر لگ رہا ہے بھاٸ آپ مجھے روز فون کرٸیے گا
ٹھیک ہے لیکن رونابند کرو تم بہت بہادور ہو اور بلکل پریشان مت ہونا صرف اپنی پڑھاٸ پر توجہ دینا………
“اوکے”بھاٸ نے کہا
-________________________________
اور پھر وہ کراچی آگٸ وہ ایک بار بھاٸ کے ساتھ کراچی آٸ تھی لیکین جب وہ چھوٹی تھی اب وہ ہمت کر کے گٸ کراچی آ تو گٸٰ تھی پر گھبرا رہی تھی اسنے ایک ٹیکسی والے کو روکا ;
بھیا ! جامیہ کراچی یونورسٹی جاٶ گے 😕
اگرچہ اس نے بہت پیسے بتاۓ تھے لیکین شام بہت ہوگٸ تھی اس لیۓ اسے بیٹھنا پڑا…………………
راستے میں ٹیکسی خراب ہوگٸ تو اسے پیدل چلنا پڑا اس میں لڑنے کی طاقت بھی نہ تھی اور راستہ بھی پتہ نہیں تھا
وہ اورپریشان ہوگٸ راستہ آگے سنسان تھا ….
یا خدا اب میں کیا کروں ?میری مدد کیجیۓ!
اتنے میں اک باٸیک اسکے قریب آکر رکی
کین آٸ ہیلپ ہوٸ میِس?
باٸیک پراس لڑکے نے اتر کر پوچھا بلاشبہ وہ بڑی اچھی پرسنلٹی کا مالک تھا …….
جی!
وہ ایکچولی مجھے جامیہ یونیورسٹی کاراستہ معلوم نہیں ہے میں اس شہر میں نیو ہوں آپ پلیز بتا دیں تو آپکی مہربانی ہوگی …….وہ تھوڑا ہچکیچاٸ
اوہ! آپ ایسا کرو یہاں سے مڑ کر سیدھی چلی جاٶ پھر مڑ جانا پہنچ جاٸیں گی اس نے سمجھاتے ہوۓ کہا………
Thank you
ایمان نے کہا
وہ اسشخص کے کہنے پہ وہاں گٸ لیکین وہاں کچرے کے علاوہ کچھ نظر نہیں آیا
اسےاس شخص پر بہت غصہ آیا وہ سمجھتا کیا ہے اپنے آپ کو …….رات ہونے کو تھی وہ تھک گٸ تھی بھوک بھی لگ رہی ھی بہت مشکل سے وہ یونیورسٹی پہنچی اور پھر پرنسپل کا روم ڈھونڈنے لگی( سُنیے ) اسنے راہ چلتے ہوۓ لڑکے کو پکارہ (جی) لڑکے نےکہا ….
پرنسپل کا آفس کہا ہے ?
وہاں سامنے لزکے نےکہا.
ٹھیک ہے شکریہ………..
اس ے کہا اور پھر پرنسپل کے روم میں آگٸ
آپاس ٹاٸم پہنچی ہیں آپ کو تو صبح آنا تھا !پرنسپل ںے غصے سے کہا
سر وہ ایکچولی …..
ابھی وہ کچھ کہنا ہی چاہتی تھی کے پچھے سے کسی کی آواز آٸ
سر یہ راستہ بھول گٸ تھی بیچاری ..
اسنے مڑ کے دیکھا یہ وہی لڑکا تھا جسنے غلط راستے بتایا تھا.
اسے غصہ آنے لگا وہ چیخی
سر انہوں نے ہیمجھے غلط راستہ بتایا تھا انکی وجہ سے میں پورے دن خوار پریشان ہوتی رہی ………کیا تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے میں تو تمہں جانتا بھی نہیں اور ویسے بھی میرے پاس اتنا فالتو وقت نہیں کے غلط راستہ بتاتا پھیروں اور وہ بھی تم جیسی لڑکیوں کو (وہ صاف مکر گیا)
سر یہ…!جھوٹ بول رہے ہی بیلومی انہوں نے ہی مجھے……
اسنے ایسے کہا جیسے احسان کر رہی ہو پھر ایمان بھی چپ چاپ کمرے میں آکر آرام کرنے لگی وہ سوچ رہی تھی جب سے وہ یہاں آٸ تھی اسکےساتھ سب غلط ہو رہا تھااور پھر آرام کی غرض سے لیٹ گٸ ….
دوسرے دن جلد بازی میں یونیورسٹی پہنچی تو کسی سے بری طرح ٹکراٸ کیب دیکھ کے نہیں چل سکتے ہو اندھے ہو اتنی تیز مادی وہ سامنے والے کو بنا دیکھتے ہوۓ بولی
ارے بندریا تم…سامںے ارمان تھا
تم!ایمان چلاٸ تم نے بندریا کس کو کہا گر میں بندریا ہوں تو تم بندرو کے سردار ہو اسٹوپڈ ہو پاگل ہو اندھے ہو وہ یہ سب یک جان کہ گٸ….
واٹ…! تمہاری ہمت کیسے ہوٸ مجھے یہ سب کہنے کی میں بھی تم پر الزام لگا سکتا ہوں تم مجھ سے جان بوجھ کے ٹکراٸ ہو ویسے پھی ہزاروں لڑکیاں میرے پیچھے پڑی رہتی ہیں اوروتم پھر جب سے آٸ ہو بار بار میرے سامنے آرہی ہو …..
میں اور تمہاڑے پیچھے شکل دیکھی ہے اپنی آٸینے میں ویسے اتنا غلط نھیں کہا تم نے
کیوں کہ جوکر دیکھنے کیلیے لڑکیاں پیچھے پڑ ہی جاتی ہیں وہ یہ کہ کر کلاس لیںنے آگٸ
کلاس میں اودھم مچی ہوٸ تھی ایسا لگ رہا ھا چیسے مچھلی مارکیٹ ہو وہ ایک سیٹ خالی دیکھ کر وہاں بیٹھ گٸ۔
کلاس میں سر آۓ تو بھگدڑ مچ گٸ اور ارمان جو ابھی کلاس میں آیا تھا اسکے برابر میں ہی بیٹھ گیا مگرھسر کی وجہ سے وہ کچھ کہ ںہ سکی وہ جھٹکے سے بیٹھاتو ایمان کی باذو میں لگ گٸ ۔
“دیکھ کے نہیں بیٹھ سکتے ہو کیا”
وہ باذو سہلاتی ہوٸ بولی
رے میں و جوکر ہوں پھر کیسے دیکھ کے بیٹھ کے سکتا ہوں
لگتا ہی تم بھول گٸ بندریا
ارمان نے کہا…….
ایکسیوزمی میں بندریا نہیں ہوں
وہ بندریا پہ ذور دیتے ہوۓ سرگوشی میں بولی ہاں تم بندریا نہیں ہو تم
تو بلی ہو کانٹنے والی
ارمان نے شرارت سے کہا
جسٹ شٹ اپ
اس نے غصے سے کہتے ہوۓ سر کی طرف توجہ کرلی…..
وہ روزاہ تمام پریڈ اٹینڈ کر رہی تھی آج اسے کچھ دیر ہوگٸ تھی وہ جلی جلدی چل رہی تھی کے کسی چیز سے ٹکراگٸ اورنیچےگر گٸ ……اسنے چہرہ اٹھایا یہ سبارمان ا کیا دھرا تھا سب لوگ اس کی طرف دیکھ رہے تھے
اسے خفت نے آگھیرا وہ کھڑی ہوگٸ …
یہ کیا بتمیزی ہے!?
اینان نی ارمان سے کہا جو بے نیاز مسکرا رہا تھا
بدتمیزی لیکین یہ تو کتاب ہے اسںے ہاتھ میں پکڑی ہوٸی کتاب لہراٸی۔
بات کرنا فضول تھی ایمان چپ چاپ وہاں سے چل دی..
سے یہاں آۓ دو ہفتے ہوگۓ تھے اور ارمان کی بدتمیزیاں بڑھتی جارہی تھی وہ رات کو سونے کیلیے لیٹی تو رات کے نہ جانے کس پہر اسکی آنکھ کھل گٸ
اسے لگا جیسے کوٸ ہے
وہ اٹھی اور اِدھر اُدھر دیکھنے لگی کھڑکی سے دیکھا بلیک جیکٹ میں کوٸ تھا وہ اسکے پیچھے بھاگی اور چلاٸ
رکو رکو ………..!
دیکھو کون ہو تم میں نے کہا رکو وہ اسکے پیچھے جارہی تھی لیکین یہ کیا وہ آنکھوں کے سامنے سے اوجھل ہوگیا
وہ نہیں جانتی تھی وہ کہا ہے
ابھی وہ سمبنھل بھی نی پاٸ تھی کے ارمان اور اوزین آگۓ ۔اوزین کہنے لگا
اوۓ ہم تو تمہیں بہت سیدھا سادہ سمجھتے تھے ………….
مگر تم تو بڑی “وہ نکلی”
یہ کیا بدتمیزی ہے اور آپ دونوں یہاں کیا کر رہے ہیں ?.
واٹ…….
ہم کیا ر رھے ہیں یہ بواٸس ہوسٹل ہے میڈم یہ سوال تو ہمیں کرنا چاہیے
تم یہاں کیا کر رہی ہو …….?
کیا (بواٸس ہوسٹل )
اسے تو کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا
وہ وہا سے بھاگی اور کسی سے ٹکراگٸ
سر آپ……
سر کو دیکھ کر اسکی جان میں جان آٸ ۔
ارے سر اچھا ہواآپ آگۓ ۔
دیکھۓ سر پوچھے ان سے یہ یہاں کیا کر رہی ہیں ?
ارمان نے کہا
سر میں!بس سے تو کچھ کہا بھی نہیں جارہا تھا وہ رو دینے کو تھی
سر یو لوگ مجھے غلط سمجھ رہے ہیں سر میں آپ کو بتاتی ہوں میں سو رہی تھی کہ میری آ نکھ کھول گٸ
اور پھر وہ سب پتاتی چلی گٸ ….
آپ چلیۓ میرے ساتھ……سر نے غصے سے کہا
لیکن سر!اس نے کچھ کہناچاہا لیکین سر نے ہاتھ اٹھا کے منع کردیا …….
یہ آپکی پہلی غلطی ہے اسلیۓ آپ کو معاف کیا جارہا ہے آٸندہ اگر ایسی قوٸ غلطی ہوٸ تو معافی نہیں ملے گی اب جاٸیۓُاور وہ جی کہ کر اپنے کمرے میں آگٸ ……..
اب نند
کہان سے آنے تھی اب وہ رونے بیٹھ گٸ صبح اسکا یونیورسٹی جانے کا موڈ نہیں تھا لیکین
نا جانے کا مطلب تھا اپنے اوپر لگے الزام کو سچ ثابت کرنا اسلیۓ تیار ہوگٸ وہ ابھی جارہی تھی تو اس نے چھوٹو کو دیکھا جو یمکینٹین میں کام کرتا تھا
چھٹو تم یہاں کیا کر رہے ہو ?
ایمان نے اس سے پوچھا
اوراسکا ہاتھ دیکھ کر دنگ رہ گٸ
اسکے ہاتھ میں وہی جیکیٹ تھی جو کل رات اسںے دیکھی تھی
یہ جیکیٹ……..یہ جیکیٹ کس کی ہے چھوٹو اور تمہیں کہاں ے ملی!?
یہ تو ارمان
بھاٸ کے کمرے سے ملی ہے انہی کی ہے …..تم!تم سچ کہ رہے ہو
ہاں ایمان آپی یہ ارمان بھاٸ کی ہی ہے
چھوٹو نے کہا تو وہ چپ چاپ آگے بڑھی
اسکی سمجی میو سب کچھ آرہا تھا
یہ سب سکے ساتھ مذاق کیا گیا تھا
مگراتناگھٹیا مذاق اسکی عزت پر داغ بھی آسکتاتھا اسکا کرٸیر خراب ہو سکتا تھا ……….
وہ جانتی تھی وہ کینٹین میں ہی ہوگا اس لیے وہ سیدھی وہی چلی آٸ وہ سامنے ہی کھڑا نظر آگیا۔
اسکا چہرہ دوسری طرف تھا اس نے ارمان کی شرٹ پکڑ کر چہرہ اپنی طرف کیا…..تو مسٹر ارمان
کیا کہا تھا میں جان بوجھ کر بواٸز ہوسٹل آٸ ہوں شرم آنی چاھے اتنی گری ہوٸ حرکت کرتے ہوے!.
اتنا حیران کیوں ہو رہے ہیں یہ جیکیٹ آپکی ہی ہے نا………?.
اسنے جیکیٹ آگے کی
اگر میں چاہوں ابھی پرنسپل کے پاس جاکر ساری بات بتا سکتی ہوں …مجھے تو معافی مل بھی گٸ مگر آپ کو تو معافی بھی نہیں ملے گی مگر میں ایسا نہیں کروں گی……..
کیوں کہ اگر میں ںی ایسا کیا تو آپ میں اور
“مجھ میں کیا فرق رہ جاۓ گا….
تو میں آپکو معاف کرتی ہوں
وہ جانے لگی پھر واپس مڑی اور اگلی اٹھا کر بولی اور اگر ایسی غلطی دوبارہ ہوٸ تو زومیدار آپ خود ہونگے
وہ یہ کہ کر اپنے کمرے میں آگٸ……
ارمان کے دماغ میں ایمان
کی باتیں گردش کر رہی تھی اسے ساری رات نیند نہیں آٸ…..
اسے سمجھ نہیں آرہا تھا اسکے ساتھ کیا ہو رہا ہے ….
وہ تو صرف مذاق کرتا تھا شرارتیں کرتا تھاسب کے سب ساتھ اسکے آگے پیچھے ہزاروں لڑکیاں تھیں لیکیناس لڑکی میں پتا نہیں کیا بات تھی کہ اسکا دل چاہا ابھی جاکر اس سے سے سوری کہے لیکین بسکی انا آڑی آگٸ….
یہ اسے کیا ہو رہا تھا اُسے خود سمجھ نیہں آرہا تھا …..
صبح وہ یونیورسٹی پنںچہا سے وہ کہی پھی نظر نہ اس نے سامنے سے آتی ماہا سے پوچھا……
“ماہا تم نےکہی بندریا کو دیکھا ہے?
بندریا!ارمان
کیا ہو گیا ہے صبح صبح یہاں بندریا کہا سے آٸ
ماہا نی حیران ہوکر کہا….
اوہ سوری!تم
نی ایمان و کہی دیکھا ہے؟
ایمان وہ تو اپنے گھر چلی گٸ ….
ماہا نے کہا
گھر لیکین کیوں?ارے بابا اسکا گھر ھے جب دل چاہے گا آۓ گی جب دل چاہے گا جاۓ گی تم اسکا کیوں پوچھ رہے ہو?.
ماہانے پوچھا?
بس یونہی!
ارمان نے نورمل انداز میں کہاپھر وہاں سے چل دیا
اسے گۓ ہوۓ ایک ہفتہ ہوگیا تھا اور رمان
کی حالت عجیب ہو رہی تھی اسےکچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا .
“آخر مجھے کیا ہوگیا ھے”
اسنے خود کلامی کی اتنے
اتنے میں مزمل آگیا مزمل اسکا سب سے اچھا دوست تھا اس نے اپںے کیفیت کے بارے میں اسکو بتایا……..
“کیہں تمہیں پیار تو نہیں ہوگیا”
مزمل نے کہا
واٹ! تم جانتے ہو میں محبت وحبت پر یقین نہیں رکھتا
ارمان نے مزمل کو گھورتے ہوے کہا
لیکین
اسکا دل اسکے ساتھ نہ تھا
ہا جانتا ہوں اچھا چھوڑو یہ بتاٶ بھابھی کیسی ہیں ……..?
ہاں وہ پلکل ٹھیک ہیں اوہ وہ اس طرح ارمان کا دھیان دوسری طرف لگانے میں کامیاب ہوگیا.
ایمان واپس آٸ تو ماہا نے فوراً پوچھا ایمان تم بنا بتاۓ کیسے چلی گٸ تھی گھر
سب ٹھیک ہے نہ?.
ہاں گھر پر سب ٹھیک ھے بس امی کی طبیعت تھوڑی خراب تھی تو ملنے چلی گٸ
اچھا میں پریشان ہوگٸ تھی تم نے فون ہی کر لینا تھا
ماہا نے کہا ہاں سوری ایمان نے کہا…
ویسے ایمان تمہیں پتا ہے ارمان کا برتھ ڈے آرہا ہے اور وہ ہر سال ہم سب کو ہی انواٸٸیٹ کرتا ہے اپنے گھر چونکہ تم ہمارےگروپ کا حصہ ہو تو تمہیں بھی آنا پڑے گا
نہیں میں نہیں آسکوں گی
ایمان نے جلدی سے کہا( کیوں )
مہوش نے پوچھا وہ میرا کام بہت جمع ہوگیا ہے تو وہ مجھے سمجھنے میں ٹاٸم لگے گا
تم بہانے مت بناٶ لکہ سچ تو یہ ہے تم
ابھی تک ارمان سے ناراض ہو
“وہ چپ رہی”
دیکھو ایمان جو ہوگیا اسے بھول جاٶ
اورپھر اگر وہ تمہارے پاس آۓ اورتم اںکار کرو یو ھی تو بدلہ ہی ہوا نا…
اس سے بہتر ہے اسے دل سے معاف کر دینا کیا معاف کر دینا اتنا آسان ہو تا ہے ماہا ….?ایمان نےاسکی طرف دیکھتے ہوۓ کہا نہیں آسان نہیں ہوتا اور میں یہ نہیں کہ رہی تم اسے دوست بنالو تم
ایک کلاس فیلو کی حیثیت سے اسکابرتھڈے اٹینڈ کر لینا….
اور پھر میرا تمہارے پغیر دل کیسے لگے گا…?
ٹھیک ہے کوشش کروں گی آنے کی
کوشش ںھیں تم میرے ساتھ چلو گی اور اس نے ہامی بھر لی……
وہ دوسرے دن گارڈن میں بیٹھی تھی کہ ارمان آگیا
کیسی ہو ایمان!?
وہ اسکے سامنےبیٹھ گٸ
بولیے کوٸ کام تھا مجھے سے ….?
ایمان نے سخت لہجے میں کہا اور کھڑی ہوگٸ وہ بھی ساتھ ہی کھڑا ہوگیا…
ایمان پیلیز میری بات سنو میں تم سے سوری کہنا چاہتا ہوں
پلیز میں نے آپ سے کہا تھامیں نے
آپ کو معاف کیا
پھر اب آپ میرے تیچھےکیوں پڑے ہیں
ایمان اگر تم نے مجھے معاف کر دیا تو پلیز کل میرا برتھڈے ہے تم
آجانا اور اگر تم نے آٸ تو میں سمجھ جاٶں گی تم نے مجھے دل سے معاف نہیں کیا یہ کہ کر وہ وہاں سے چلا گیا
ایمان نے مہوش سے وعدہ کیا تھا اسلیۓ اسے جانا پڑا وہ دونوں ماہا کی گاڑی نیں گھر پہنچی
تو وہ گھر کسی محل سے کم نہ تھا وہ دونو اندر دخل ہوٸ تو گھر لاٸٹوں اور پھولو سے سجا ہوا تھاماہا نے آگے بڑھ کر کسی کو سلام کیا۔
اَلسَلامُ عَلَيْكُم ایمان نے بھی سلام کیا
انہوں نے جواب دیا……..
یہ ہیں ارمان کی بھابھی اور بھابھی یہ ہیں ایمان حیدر ….ہماری نیو فرینڈ
ماہا نے تعارف کا مرحلہ حل کیا وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراٸیں …
بھابھی!ارمان کہاں ہیں نظر نہیں آرہا ماہا نے ارمان
کے بارے میں پوچھا
وہ عاٸشہ کو لینےگیا ہے بھابھی نے بتایا تو ماہا خوشی سے بولی ….
کیا عاٸشہ آرہی ہے” یہ تو بہت اچھی خبر ہے”
اور پھر ایمان سے مخاطب ہوٸ
ایمان…..عاٸشہ ارمان کی فرسٹ کزن ہے بہت اچھی لڑکی ہے ارمان کی اور اسکی بہت گہری دوستی ہے مجھے لگتا ہے وہ ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں ….
ماہا نے بتایا
ایمان کو عجیب سا فیل ہوا اسکا دل چاہا فوراً یہاں سے بھاگ جاۓ مگر وہ ایسا نھیں کر سکتی تھی
ہاتھ میں پکڑا ہوا بوکے بہت بھاری محسوس ہوا لدی جلدی میں ہی خرید سکی تھی ارمان کیلیے اور پھر اتنے بڑے گھر میں رہنے والے کیلیے اسکے گفٹ کی کی اہمیت ہو سکتی ھے ……….
وہ ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ ارمان آگیا اسکے ساتھ ایک خوبصورت سی لڑکی بھی تھی ماہا نے آگے بڑھ کر اسےگلے لگایا
ہاۓ عاٸشہ کیسی ہو تم ?
ماہا نے پوچھا
میں تو ٹھیک ہوں تم سناٶ
عاٸشہ نے کہا
میں کیا سناٶں?..
اچھا ان سے ملو یہ ایمان حیدر میری نیو فرینڈ اور یہ ہیں عاٸشہ
ہاۓ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ارمان جو کب سے دور کھڑے اسےدیکھ رہا تھا آگے آیا آٸ تھِینک یہ تم میرے لیے لاٸ ہو اس نے بوکے کی طرف اشارہ کیا.
جی سوری Happy Birth Day
اس نے کہا تو ارمان نے Thank You کہا
چلو وہاں چلکر بیٹھتے ہیں ماہا نے کہا ذیادہ دوست تو نہیں تھے بس وہ دوست اور ارمان کے کزن تھے ………..
پھر اسکی برتھڈے کا کیک کاٹا گیا تو وہ لوگ صہفے پر ڈیرا ڈال کر بیٹھ گۓ
چلو شاعری کرتے ہیں…..ارمان کے ایک کزن نے کہا تمہیں اسکے علاوہ کچھ آتاے
مزمل نے کہاتمہیں کیا تکلیف ہے تم جیسے لوگ شاعری کو کبھی سمجھ ہی نہیں سکتے
ماہا نے مزمل کو کہا تو وہ چپ ہوگیا……..
اگر تم کہتی ہو تو ٹھیک ہے کیوں عاٸشہ.
ارمان نے پہلے ماہا تھر عاٸشہ سے پوچھا..
ہاں چلو پہلے میں ہی سناتی ہوں( یہ ارمان کیلیے) عاٸشہ نے کہا…
“کاش اس دے کی آواز میں اتنا اثر ہوجاۓ
ہم آپ کو یادکریں اور آپ کو خبر ہوجاۓ خدا سے دعا مانگتے ہیں آپ جیسے بھی چاہو
وہ زندگی میں آپ قا ہمسفر ہو جاۓ”
واہ!واہ!واہ!جیسے ہی اس نے شعر ختم کیا ہر طرف سے واہ واہ کی آواز آٸ
اب ماہا کی باری ہے
عاٸشہ نے کہا تو ماہا فوراً مان گٸ
“اک نفرت ہی نہیں دنیا میں درد کا سبب فرازمحبت بھی دل والو کو بڑھی پکلیف دیتی ہے”
ماہا نی جیسے ہی شعر ختم کیا مزمل فورا کھڑا ہوگیا
“مانا کے گفتوگو کے ماہر ہو فراز
وفا کے لفظ پر اٹکو تو یاد کر لینا”
مزمل نے فورا ہی ماہا کو غلطی کا احساس دلایا
اب ارمان کی باری ہے
چلو ارمان تم سناٶ عاٸشہ ںے کہا تو وہ جوحکم “عالی جان” کا کہ کر کھڑا ہوگیا
“یونہی لوگ اسے محپت سمجھ بیٹھے فراز وہ شخص ہمیں جان سے پیارا ہے اور بس”
اوہ تو یہ بات ھے بھابھی بھی ارمان کو شرارت سے دیکھنے لگی
اب ایمان کی باری ہے
ماہا نے کہا نہیں مجھے شعر نہیں آتے
ایمان جلدی سے بولی کیوں نہیں آتے چلو جلدی سے سناٶ ماہا نے ضد کی……
اب اگر کوٸ سنانا نہیں چاہتا تو کیوں ضد کر رہی ہو ماہا ارمان نے کہاتو پتہ نہیں کیوں ایمان کو رونا آنے لگا….
تم سناٶ ایمان یہ تو پاگل ہو
ماہا نے کہا
اور اس سے پہلے کہ اور بےعزتی ہوتی اس ںے شعر سنانا شروع کیا
“تقسیم محبت میں ھی کچھ غم ملے
پھر بھی شکایت ہےکےصلے کم ملے
اے ذندگی ذرا بتاہم کو
کیا دل دکھانے کیلیے تجھے ہم ہی ملے”
ایمان نے شعر سنایا اور بھاگ کے باہر آگٸ
اسے رونا آرہا تھا
یہ وہ خود نہیں جانتی تھی اسے ارمان کا اگنور کرنا عاٸشہ کو امپورٹینس دینا برا لگ رہا تھا
“اسے کیا ہوگیا ہے”.
ایمان کے اس طرح چلے جانے پر مزمل نے کہا
میں دیکھتی ہوں مہوش نے کہاتو بھابھی نے فورا روک دیا ……….
تم روکو میں جاتی ہوں بھابھی نے کہا
ایمان…..!بھابھی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو اس نے جلدی سے اپنے آنسو صاف کیے…….
اور بھابھی قی طرف چہرہ کر کے مسکراٸ۔
بھابھی آپ یہاں?.
وہ اپنی بات مکمل نہ کر سکی
ایمان میں جانتی ہوں تمہیں ارمان کی بات بری لگی ہے وہ دل کا برا ںہیں ھے بس کبھی کبھی انجانے میں دل دکھاجاتا ھے میں اسکی طرف سے تم سے معافی ………..ابھی بھابھی نے اپنی بات مکمل نہ کی تھی کہ وہ بول پڑی
نہیں بھابھی پلیز آپ۔۔۔
جاری ہے
