Dharhkano Ka Muhafiz by Muntaha Chohan NovelR50511 Dharhkano Ka Muhafiz (Episode 15,16)
No Download Link
Rate this Novel
Dharhkano Ka Muhafiz (Episode 15,16)
Dharhkano Ka Muhafiz by Muntaha Chohan
ابرار۔۔۔!! میرے بیٹے۔۔۔۔!!دردانہ بھاگتی ہوٸیں دروازے کی جانب بھاگیں۔
اور آنے والے کے ہاتھوں اور منہ کو چوما۔
میرے بچے۔۔۔۔!! وہ روٸے جا رہی تھیں۔
کہ اس شخص نے دردانہ بیگم کا ہاتھ بہت زور سے جھٹکا۔
اسکی آنکھوں میں نفرت اور حقارت تھی۔
درد تھا۔
اور سفاکی تھی۔
ایک شکوہ کناں نظر باپ پے ڈالی۔
کبیر شاہ نے سختی سے آنکھیں بند کر کے کھولیں۔
انہوں نے کب چاہاتھا کہ یوں انکا راز فاش ہو۔۔۔؟؟
یہ۔۔۔ ابرار کو کیا ہوا۔۔۔؟؟ اس کے بازو پے۔۔ ہاتھ پے۔۔ چوٹ کیسی۔۔۔۔؟؟
فراز صاحب کو اسے اس حال میں دیکھ دکھ ہوا تھا۔
ہمممم۔۔۔ جسے آپ ۔۔۔ ابرار سمجھ رہے ہیں۔۔ وہ ابرار نہیں۔۔۔ ارباز ہے۔۔۔ ابرار کا جڑواں بھاٸی۔۔۔ ارباز۔۔۔۔!!
فارس نے اونچی آواز میں کہتے سب پے بم پھوڑا
سواٸے دلاور شاہ کے وہاں موجود سبھی کو سانپ سونگھ گیا۔
وہ پہلے سے ہی جانتےتھے۔ ان کے چہرے پے صاف واضح لکھا تھا۔
عین نے بھی نفرت سے نگاہ پھیری۔
وہ بھی تو آج ہی اس حقیقت سے روشناس ہوٸی تھی۔
بہت کھیل کھیلے گٸے ہیں۔۔ اس جڑواں کے چکر میں۔۔۔!!
فارس نے طنز کرتے ارباز کیجانب ایک ایک قدم ٹہر ٹہر کے بڑھایا۔
جوایک بازو اور ہاتھ پٹی میں جکڑا جبکہ دوسرے ہاتھ سے اس نے اس پٹی والے بازو کو تھام رکھا تھا۔ لب بھینچے اس نے فارس کو قہر کی نظر سے دیکھا۔
بہت برا لگ رہا ہو گا۔۔ ناں۔۔۔؟؟
آج۔۔۔ اتنے عرصے بعد ۔۔ راز کا یوں فاش ہونا۔۔۔۔!!فارس غرایا تھا۔ زیان کا بھی فارس جیسا ہی حال تھا دونوں بھاٸی ہی بے انتہا غصے میں تھے۔
ارباز۔۔۔۔؟؟ دردانہ شاہ کے لب سے دھیرے سے ادا ہوا۔
فارس شاہ کو روتے ہوٸے حیرت سے دیکھا۔
جی آپ کا ۔۔۔ اپنا بیٹا۔۔۔! ارباز کبیر شاہ۔۔۔!!
ابرار کے ساتھ ہی اس دنیا میں آیا۔۔۔
لیکن ہمارے عزیز چچا جان نے ان ہستی کو چھپا کے رکھا۔
اشارہ سامنے کھڑے کبیر شاہ کی طرف کیا۔
دردانہ شاہ کی آنکھوں میں حیرت اور بے یقینی تھی۔
ایک نظر شوہر کو دیکھا اور دوسری نظر ارباز ک جو ہو بہو ابرار کی طرح تھا۔
لیکن اس وقت چہرے کے زاویے انتہاٸی سخت تھے۔
آپ۔۔۔ نے ۔۔۔ مجھ سے میرا۔۔۔ بیٹا۔۔۔ چھپایا۔۔۔؟؟
دردانہ بیگم نے روتے ہوٸے کبیر شاہ کی طرف جاتے کہا۔
ان کے پاس تو کہنے کو کچھ بچا ہی نہ تھا۔
کیوں کیا آپ نے ایسا۔۔۔۔؟؟
کبیر شاہ کو وہ بہت ٹوٹی ہوٸیں لگیں۔
کہہ دیں یہ۔۔۔ یہ جھوٹ ہے۔۔۔!
یہ ۔۔۔سچ ہے۔۔۔۔!!
کبیر شاہ دھیرے سے نم لہجے میں بولے۔
فارس سینے پے ہاتھ باندھے اب ان کو سننے لگا۔
کیوں۔۔۔؟؟؟ دردانہ بیگم تڑپ ہی تو گٸیں۔
اپنے بچوں کے لیے۔۔۔
ان کے بہترین مستقبل کے لیے۔۔۔
ہر اس چیز کےلیے جس کے لیے ان کا باپ ترسا۔۔ ہماری اولاد نہ ترسے۔
ہر اس حق کے لیے جو ۔۔۔ان کےباپ کونہ ملا۔۔
ہماری اولاد کوملے۔۔
ہاں۔۔ اس جاٸیداد میں حصہ چاہیے تھا۔۔
جو ہماری اولاد کا بھی حق تھا۔۔
ہاں اس سب کے لیے۔۔
مجھے چھپانا پڑا ۔۔۔ ارباز کو۔۔۔
تم سے۔۔ سب۔۔۔سے۔۔۔ ہر ایک سے۔۔۔
اور سب کچھ۔۔ صحیح ہی تو چل رہا تھا۔۔۔۔
کہ۔۔۔ یہ۔۔ لڑکی بیچ میں آگٸ۔۔۔۔!!
عین کی طرف لب بھینچے اشارہ کیا۔
الماس بیگم اور ماریہ شاہ انکا نفرت سے کہنا بہت سخت برا لگا۔
کتنا خوش تھا میں۔۔ ابرار اور ارباز کو لے کے۔۔۔
اور بہت بڑا پلان بھی ترتیب دیا۔
لیکن۔۔۔۔ ابرار کا دل آگیا اس پے۔۔۔۔ سارا پلان چوپٹ کر دیا۔۔۔۔
اسے عین چاہیے تھی۔۔۔ بس۔۔عین عین عین۔۔۔۔!!
کبیر شاہ بھڑکے۔ عین نے ماریہ شاہ کے بازو کو زور سے پکڑ لیا۔
اور۔۔۔ مجھے میرے بیٹے سے بڑھ کے کچھ نہیں تھا۔۔
عفان سے اسکارشتہ طے کر دیا۔ اور پھر شادی کی تاریخ رکھی۔
بہت رویا اس دن میرا بیٹا۔
بہت۔۔۔۔۔!! کبیر شاہ کا لہجہ دکھی تھا۔
اور ارباز۔۔۔ ابرار کا دیوانہ۔۔۔ اس سے اسکا دکھ نہ دکھا گیا۔۔۔
تو عفان کو راستے سے ہٹانےکا پلان بنایا۔۔ہم نے۔۔۔۔!!
ایک ایسا پلان۔۔ کہ۔۔۔ ایک تیر سے دو شکار ہوجاتے۔۔!!
پر اسرار اندازمیں کہتے وہوہاں موجد سب کو دلوں کی دھڑکن کا ساکت کر گٸے۔
ہاں۔۔۔بنایا پلان۔۔۔ کامیاب پلان۔۔۔!!
مہندی کی رات۔۔۔۔
اس رات بنایا پلان۔۔۔ اور بلایا۔۔ عفان کو ڈیرے پے۔۔۔!!











ابرار۔۔۔۔ کہاں۔۔۔ہو۔۔کیا ہوا۔۔۔تمہیں۔۔۔؟؟
عفان ڈیرے پے آ چکا تھا۔ابرار اور ارباز چھپ کے اسے دیکھ رہے تھے۔
اور عفان کے آنے پے ابرار سامنے آیا۔
اوہ تھینک گاڈ ۔۔!! تم ٹھیک ہو۔۔۔!!
عفان نے ابرار کو گلے سے لگایا۔
مجھے ۔۔۔۔کسی نے اطلاع دی۔۔۔ کہ۔۔ تمہیں۔۔۔ کچھ۔۔۔؟؟
عفان کو سمجھ نہ آیا۔
لیکن۔۔۔!! تم تو ٹھیک ہو۔۔۔۔!!
عفان حیرت سے بولا۔
ہاں۔۔۔ تب تک جب تک ۔۔ تم چاہو۔۔۔۔!!
پراسرار انداز۔۔
کیا۔۔۔کیا۔۔ مطلب۔۔۔؟؟
عفان چونکا۔
عفان۔۔!! عین۔۔۔ میری ہے۔۔۔ اور۔۔ میں اس سے۔۔۔۔!!
ابرار۔۔۔۔! عفان نے ابرار کو کالر سے پکڑا۔ اور غصے سے اسکی آنکھوں میں دیکھا۔
خبردار ۔۔جو عین کا نام بھی لیا تو۔۔۔۔جان سے مار دوں گا۔۔۔۔!!
عفان جو ہمیشہ۔۔۔ ہی تحمل مزاج جانا جاتا تھا۔
اس لمحے غصہ یمیں آگ بھڑکی تھی اسکے اندر۔
ابرار نے زور سے اسکے ہاتھ سے اپنا کالر چھڑایا۔
ابھی بات تو سن پوری۔۔۔۔۔!!پھر اپنا۔۔ غصہ دکھاٸیں
ابرار نے اپنا کالر چھڑایا۔
عفان لب بھینچے غصہ کنٹرول کرنے لگا۔
دیکھ۔۔۔تُو۔۔ ناں۔۔اس شادی سے انکار کردے۔۔۔ کہہ دے۔۔۔ کہ تجھے۔۔ کوٸی اور پسند ہے۔۔۔ تو۔۔۔ موقع کا فاٸدہ۔۔میں اٹھا لوں گا۔۔۔ اور میں شادی کر لوں گا۔۔۔سمپل۔۔۔۔! ابرار نے اپنا پلان بتایا۔
عفان کو اسکی دماغی حالت پے شک ہوا۔
اچھا۔۔۔۔اور میں یہ کیوں۔۔ کروں گا۔۔۔؟؟
سینے پے ہاتھ باندھے دانت پستے ہوٸے پوچھا۔
ابرار نے سخت نظروں سے عفان کو دیکھا۔
اور اس کے قریب ہوا۔
اپنی جان بچانے کے لیے۔۔۔!!
اتنے پراسرار انداز میں ابرار نے کہا کہ ایک لحے کو عفان چپ سا ہوگیا۔
بکواس بند کرو اپنی۔۔۔ اور آٸیندہ اگر عین کا نام بھی تمہارے منہ سے نکلا تو زبان کھینچ لوں گا تمہاری۔۔۔!!
عفان غصے سے کہتا ردوازے کی جانب بڑھا۔
تو تُو نہیں مانے گا۔۔۔؟؟
ابرار کے کہنے پے اسکے قدم رکے۔
پلٹ کے اسکو خونخوار نظروں سے دیکھا۔
ابرار۔۔۔!! یہ تم ہو۔۔جو میں نے تمہارا اتنا لحاظ کر لیا۔۔۔ ورنہ تمہاری جگہ کوٸی اور ہوتا تو ان تک ۔۔۔اسکی جان لے چکا ہوتا۔
عفان بھی اپنا غصہ ضبط کتے سخت لہجے میں بولا۔
ابرار نے اپنی گن نکالی۔ جسے دیکھ عفان کا اچھا خاصا جھٹکا لگا تھا۔
اسے ابرار سے اسطرح کی بے وقوفی کی امید نہ تھی۔
آخری بار پوچھ رہا ہوں۔۔۔
عین یا۔۔۔ موت۔۔۔؟؟ گن کا رخ عفان کی جانب موڑا۔
عفان چلتا ہوا اس کے قریب آیا۔
تم۔۔۔مجھے۔۔۔ مارو۔۔۔ گے۔۔؟؟ بھاٸی ہیں ہم۔۔۔!! تم۔۔۔مجھ پےگوی چلاٶ گے۔۔۔؟؟
عفان کو شدید حیرت کا جھٹکا لگا۔
سگھےبھاٸی نہیں ہیں ہم۔۔۔۔ اور۔۔ وہ سنا نہیں تم نے۔۔۔
Everyting is fair in love and war…
مسکراتے ہوٸے گن عفان کے سر پے رکھی۔
عفان نے ایک لمحے کو پلکیں نہ جھپکیں۔
مجھے ڈرا رہے ہو۔۔۔؟؟ مجھے۔۔۔؟؟ عفان ہنسا۔
کسی بھولمیں نہ رہنا عفان دلاور شاہ۔۔۔ !! عین کے لیے۔۔ میں کی بھی جان لے سکتا ہوں۔
غصے سے کہتے وہ عفان کے قریب آیا۔
تو ٹھیک ہے۔۔۔ چلاٶ گولی۔۔۔۔!!
عفان نے اسے جارحانہ انداز میں کہا۔ تو ابرار سٹپٹا گیا۔
میں نے کہا۔۔ چلاٶ۔۔۔ آج۔۔ تاریخ رقم کردو۔۔۔ کہ ایک بھاٸی نے دوسرے بھاٸی کی جان لے لی۔۔۔ ایک لڑکی کی خاطر۔۔۔!!
عفان غصے میں تھا لیکن لہجہ نم ہوا۔
رک کیوں گٸے۔۔۔؟؟ چلاٶ۔۔ ناں۔۔۔!!
کیا یار۔۔۔ دماغ کی پیٹی کر دی تُو نے۔۔۔۔!!
ارباز اچانک سامنے آیا۔ تو عفان نے اسے پلٹ کے دیکھا۔
آنکھثس حیرت سے کھلی رہ گٸیں۔
عفان سے کہنے کے بعد ارباز ابرار کی مڑا۔
اور تم۔۔ اتنی دیر سے بک بک لگاٸی ہوٸی ہے۔۔ مار گولی۔۔ ختم کر کام کو۔۔۔!!
ایک بندہ نہیں مار سکتا تُو۔۔۔؟؟
ارباز نے منہ بگاڑ کےکہا۔
عفان کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔
یہ۔۔ جال تھا۔ جو اسکے لیے بچھایا گیا۔
ماربھی دے اب۔۔۔۔!! ارباز نے ابرار کو جوش دلایا۔
چل ہٹ۔۔ مجھے تیرے نشانے پے یقین نہثس لا ادھر دے گن۔۔۔۔!!
ارباز نے گن بارار کے ہاتھ سے لی۔ اور عفان کے دلکا نشانہ لیا۔
عفان کو اس ایک لمحے میں یقین نہ آیا کہ وہ اس پے گولی چلا سکتا ہے۔۔
لیکن اگلےہی لمحے گولی چلی۔
جو عفان کے دل کے پار ہوٸی۔
وقت تھم گیا۔
ابرار کی آنکھیں حیرت سے پھیل گٸیں۔
عفان کو سب گھومتا نظر آیا۔
گردن جھکا کے اپنے دل والی طرف کو دیکھا۔جہاں سے خون نکلنے لگا تھا۔
اور سامنے ان دونوں کو۔
ابرار کا رنگ فق ہوا تھا جبکہ ارباز مطمیٸن کھڑا تھا۔
بھاٸی۔ یہ۔۔کیا۔۔۔کیا آپ نے۔۔۔ سچ میں گولی۔۔ چلادی۔۔۔؟؟
ابرار کو شدید دکھ نے گھیرا۔
یہ ان کا پلان نہیں تھا۔
عفان نیچے گرا۔
ابرار بھاگتا ہوا عفان کے پاس پہنچا۔
اسکا سر اپنی گود میں رکھا۔
عفان کا سانس تھمنے لگا تھا۔
ارباز کو ابرار کا عفان کے لیے ہوں دکھی ہونا سخت ناگوار گزرا تھا۔
بھا۔۔۔۔ٸی۔۔۔!! نننہیں۔۔۔۔۔۔۔!! پلیز۔۔۔ نہیں۔۔۔ !!
ابرار کو کچھ سمجھ نہ آیا۔۔ کہ کیا کرے۔۔۔!!
بھاٸی۔۔۔ ایمبولینس کو کال کرو۔۔۔ یا۔۔ گاڑی نکالو۔۔۔
ہاسسسپٹ لے جاتے ہیں۔۔۔ نہیں تو۔۔ یہ۔۔۔مر۔۔۔!!
سن ہوتے دماغ سے عفان نے ابرار کے کہے خری الفاظ سنے تھے۔
میں بڑا ہوکے۔۔۔ فوجی بنوں گا۔۔۔!!
آنکھوں کے آگے زیان کا بچپن کا چہرہ لہرایا۔
اور۔۔میں تو سیکریٹ ایجنٹ۔۔۔۔!!
فارس نے بگی اپنی مرضی بتاٸی تھی۔
اور عفان۔۔۔تم۔۔؟؟ تم کیا بنو گے۔۔؟؟ فارس نے عفان سے پوچھا۔
یہ۔۔ یہ تو دلہا بنیں گے۔۔۔!!
زیان نے ہنستےہوٸے کہا تو سبھیکے چہرے کھلکھلا اٹھے۔
عفان کے لب بھی مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔
فان۔۔۔! وعدہ کرو۔۔۔ تم ۔۔ہمیں ہمیشہ۔۔۔ یونہی ہنساٶ گے۔۔؟؟
ایک چھوٹی سی گڑیا چھوٹا سا وعدہ۔۔۔۔
عفان۔۔۔!! بیٹے باپ کی طاقت ہوا کرتے ہیں۔۔۔!!
دلاور شاہ کی آواز کانوں میں گونجی۔
عفان۔۔۔ !! اپنی اماں کو کبھی چھوڑ کے جان کی بات مت کرنا۔۔۔
اماں۔۔۔ تیری گود کا سکون۔۔۔
قبر میں کہاں ملے گا۔۔۔؟؟
سب کے چہرے ۔۔۔
سب کی باتیں۔۔۔
آپسو میں گڈمڈ ہونے لگیں۔
ایک آنسو تھا۔ جو تھما ہوا تھا۔
آخری ہچکی کے ساتھ وہ بھی نکلتا۔۔ بالوں میں جذب ہوا تھا۔
کبیر شاہ دروازے سے اندر آٸے۔
آپ کا کام ہوگیا۔۔ ہے۔مسٹر کبیر۔۔۔۔!! اب آگے کا پلان آپ کا۔۔۔۔!!
ارباز نے گیند ان کے کوٹ میں پھینکی۔
جبکہ ابرار ابھی بھی حیرت کی مورت بنا عفان کا سر اپنی گود میں رکھے ہوٸے تھا۔
جمیل ان کا خاص آدمی جو ڈیرے کی دیکھ بھال کے لیے بھی مامور تھا۔
کبیر شاہ نے اسے بھی اپنے ساتھ ملایا ہوا تھا۔
ہمم۔۔۔۔۔۔
اب دیکھتا ہوں۔۔ کیسے۔۔۔ دلاور شاہ۔۔ اولاد کی خوچیاں مناتا ہے۔۔۔؟؟
کبیر شاہ کے اندر نفرت کا الاٶ دہک رہا تھا۔
بابا۔۔۔!! عفان۔۔ببھاٸی کو ہاسپٹل لے چلیں۔۔۔ !! ورنہ۔۔۔ یہ۔۔مر جاٸیں گے۔۔۔۔!!ابرار نے باپ کو دیکھتےہی چلا کےکہا۔
کبیر شاہ نے ارباز کو اشارہ کیا کہ اسے یہاں سے لے جاٸے۔
ارباز نے آگے بڑھ کے ابرار کو اٹھایا۔
لیکن وہ نجانے کیوں۔۔ بس روۓ جا رہا تھا۔
چھوڑو۔۔ چھوڑو۔۔ اسے۔۔۔
مر گیا ہے وہ۔۔۔!!
ادھر دیکھو میری طرف۔۔۔ ارباز نے ابرار کا چہرہ اپنی طرف کیا۔
تمہیں۔۔ عین چاہیے ناں۔۔۔ چاہیے ناں۔۔۔؟؟
چلا کے بولا۔
ابرار نے سر اثبات میں ہلایا۔
لیکن۔۔یہ۔۔۔ عفا۔۔۔!!
بھول جاٶ۔۔۔ اسکا جانا ہی ہم۔۔سب کے لیے بہتر تھا۔۔
اب تمہیں تمہاری عین سے کوٸی جدا نہیں کر سکتا۔۔۔
سمجھے تم۔۔۔!! چلو یہاں سے۔۔۔!!
ابرار کولیے ارباز باہر گاڑی تک آیا۔
ابرار کی حالت عجیب ہورہی تھی۔اسے رہ رہ کے عفان یاد آرہا تھا۔ اسکے ساتھ بتاٸے وہ پل آنکھوں میں گھوم رہے تھے۔
وہ اتنا بے حس کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔؟؟اسکے ضمیر نے اسے ملامت کیا۔
ارباز دوبارہ اندر جا چکا تھا۔ اور ابرار سیٹ کی پشت سے ٹیک لگاٸے خود کو نارمل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
بس ۔۔۔ا ب تم دونوں نکلو۔۔۔!
جمیل کو میں نے سمجھا دیا ہے۔ کیاکرنا ہے۔۔۔!!
پسٹل ۔۔۔کہاں۔ہے۔۔؟؟
ارباز نے پوچھا۔
عفان کے اتھ میں پکڑا دی ہے۔
اور وہ خط۔۔۔؟؟
ارباز نے یاد دلایا۔
ابھی نہیں رکھ سکتا۔۔۔
دلاور شاہ آجاٸے۔۔ اس کے بعد ہی خط والا کام ہوگا۔
میں نہیں چاہتا کہ خط کسی اور کےہاتھ لگے۔
اب چلو۔۔۔ جلدی کرو۔۔۔ کوٸی ڈیرے پے آنہ جاۓ۔۔
وہ تینوں جمیل کووہیں چھوڑ وہاں سے نکلے۔









ہال میں ایک گہری خاموشی چھا گٸی تھی۔
ایک کرب کا عالم تھا۔ جس سے سب گزر رہے تھے۔
الماس بیگم کو آج اپنا بچہ بہت یاد آیا۔
جس کیے سب نے یہی کہا اس نے حرام موت کو گلے لگایا۔
جبکہ۔۔۔ وہ تو۔۔قتل ہوا تھا۔۔۔
سب کی إکھیں اشک بار تھیں۔
فارس نے پلٹ کے ایک زور دار طمانچہ ارباز کے منہ پے جڑ دیا۔
وہ منہ پے ہاتھ رکھے زین بوس ہوا۔
دردانہ بیگم تڑپ ہی گٸیں۔
فارس نے اسے زمین سے اٹھایا۔
اور ایک اور مکا جڑا اسکے منہ پے۔۔ اسکے منہ سے خون بہنےلگا۔
اللہ کا واسطہ ہے ۔۔ فارس۔۔۔ میرے بچے کو۔۔۔۔!!
دردانہ شہ آگے بڑھیں۔لیکن فارس نے انہیں پیچھے کرت ایک اور مکا ارباز کے پیٹ میں مارا۔
دردانہ شاہ زمین پے گریں تھیں۔
فاریہ نےآگے بڑھ کے ماں کو اٹھایا۔
کسی نے بھی فارس کو نہ روکا۔
ارباز بھی خاموشی سے مار کھاتا رہا۔ اور باپ کو دیکھتا رہا۔
جب فارس اسے ادھ موا کر چکا تو پیچھے ہٹا۔
آپ کو کیا لگا۔۔۔۔ آپ پلان کریں گے۔۔۔ اور کسی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا۔۔۔؟؟ فارس سخت تیور لیے کبیر شاہ کی جانب بڑھا۔
وہ جسے آپ نے اپنی لالچ کے بھینٹ چڑھا دیا۔
وہ بھاٸی تھا۔۔۔ میرا۔۔۔۔!!فارس کی آواز انتہاٸی اونچی ہوگٸ۔
الاس بیگم کے آنسو تھم نہ رہے تھے۔
زیان نے آگے بڑھ کے الماس بیگم کو گلے لگایا۔ اس کے اپنے آنسو بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
کون۔۔۔۔ سا۔۔۔خط۔۔۔ تھا۔۔۔ وہ۔۔؟؟ جو ۔۔تم چاہتے تھے۔۔کہ مجھے ملے۔۔۔؟؟
دلاور شاہ نے کبیر شاہ سے سختی سے پوچھا۔
کیا۔۔۔۔کیا۔۔۔مطلب۔۔۔؟؟ وہ خط۔۔۔ آپ کو نہیں ملا۔۔۔؟؟
کبیر شاہ کو بھی حیرت ہوٸی۔
وہ اب تک یہی سمجھ رہا تھا۔ کہ خط دلاور شاہ کے پاس ہے۔جبکہ۔۔ خط۔۔ کے بارے میں انکو کچھ علم نہ تھا۔
خط کے زکر پے عین کا فشار خون بڑھتا چلا گیا۔
اسکی دل کی رفتار بھی بڑی۔ اس نے فارس شاہ کو دیکھا۔
لیکن اسکا دھیان اسکی طرف نہ تھا۔
کبیر شاہ نے ارباز کو دیکھا۔ کہ آیا خط اس نے رکھا بھی تھا یا نہیں۔۔؟؟
خط عفان کی مٹھی میںرکھنے کے لیے ارباز کو کہا تھا۔ کبیر شاہ نے۔۔ وہ بھی ہاسپٹل میں۔۔۔ سب سے نظر بچا کے۔
میں ۔۔۔نے۔۔۔ نے رکھا تھا۔۔۔۔!!
ارباز نے منہ سے خون صاف کرتے زمین پے بیٹھے ہی کبیر شاہ کی آنکھو ظا سوال سمجھتے فوراً جواب دیا۔
پھر۔۔۔! خط۔۔ کہاں۔۔۔گیا۔۔؟؟ زیرِلب بڑبڑاٸے۔
وہ۔۔ خط۔۔میرے پاس ہے۔۔۔ !!
فارس کے ہاتھ کبیر شاہ کے گریبان تک پہنچ چکے تھے۔
تمہیں ۔۔ یہ کیوں لگا۔ ۔۔کہ عفان کو مار کے تم بچ جاٶ گے۔۔وہ بھی۔۔۔۔ تب۔۔ جبکہ۔۔ فارس شاہ زندہ ہے۔۔۔!!شیر کی طرح دھاڑتے وہ سب کا خون خشک کرگیا تھا۔
فارس اس وقت آہے میں نہیں تھا۔
سب لحظ بلاٸے تاک رکھے۔ فار نے ایک مکا کبیر شاہ کے منہ پے دے مارا۔
وہ پیچھے جا کے گرے۔
فارس۔۔۔!! دلاور شہ نے اونچی آواز میں پکارا۔
سبھی فارس کے اس عمل سے حیران ہوٸے تھے۔
فارس کی غصیلی نظرثس کبیر شاہ پے ہی تھیں۔
اس نے اپنی نظریں اس پے سے نہ ہٹاٸیں۔
نہیں۔۔۔ بیٹا۔۔۔!! ہاتھ نہیں اٹھانا۔۔۔!!
دلاور شاہ نے فارس کے غصے کو قابو کرنا چاہا۔
لیکن وہ بنا پلک جھپکاٸے شیر کی طح کبیر شاہ پے غراتا رہا۔













فارس بیٹا۔۔۔ نہیں۔۔۔!!
فارس کا ایک بار پھر ہاتھ اٹھا۔
لیکن الماس بیگم نے آگے بڑھ کے روک دیا۔
تو سختی سے آنکھیں بند کیے اس نے اپنا ہاتھ نیچے کیا۔
میرا بھاٸی۔۔۔مجھ سے چھینا انہوں نے۔۔۔ صرف۔۔ اس جاٸیداد کی خاطر۔۔۔۔!!
فارس کا لہجہ نم ہوا۔
میں جانتا تھا۔۔۔
میرا دل بھی نہیں مانتا تھا۔۔۔ کہ عفان ۔۔۔ سوساٸیڈ۔۔۔ کر سکتا ہے۔۔۔!!
آنکھیں بھی نم ہوٸیں۔
میں۔۔۔ میں نے بہت دعاٸیں مانگیں تھیں اماں۔۔۔!!
عفان۔۔۔ کے لیے۔۔۔۔!!
ہمارے عفان کے لیے۔۔۔
لیکن۔۔۔۔ نہیں قبول ہوٸیں۔۔
الماس بیگم نے فارس کے آنسو صاف کیے۔ اور اسکے چہرے پے پیار س ہاتھ پھیرا۔
اور جب۔۔ میں اس کے پاس گیا۔۔۔
he was dead…..
وہ روتا ہوا گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔
جیسے آج ہی ہارا ہو اپنے عکس کو۔
اسکے ہاتھ میں ۔۔۔۔ اسکی مٹھی میں ۔۔۔ مجھے ۔۔وہ خط ملا۔۔۔
جو۔۔۔ میرے خلاف بھی انہوں نے سازش کی۔
اس وقت مجھے نہیں پتہ تھی اس خط کی سچاٸی۔۔۔
اور۔۔میں بھی۔۔ اس خط سے گمراہ ہوا۔
وہ خط۔۔۔عفان کے نام تھا۔۔۔
نور کی طرف سے۔۔۔۔
جس۔۔۔میں نور نے۔۔۔ اپنی محبت کا اظہار کیا تھا۔۔
فارس کی نظریں نور پے اٹھیں۔
نور کے آنسو بندھ توڑ کے بہے۔
فارس سے محبت کا اظہار۔۔۔
اور عفان کو ۔۔۔ ہماری زندگی سے نکل جانے کا خط تھا وہ۔۔۔!!
دھیمے لہجے میں کہا۔
اور سازش۔۔۔ ان کی تھی۔۔۔!!
کبیر شاہ کی طرف دیکھا۔
اور اس راز کا سرا بھی مجھے۔۔ انہی کے بیٹے۔۔ ابرار نے پکڑایا۔
جس رات آپ ۔۔۔
کبیر شاہ کی جانب اشارہ کیا۔
ابرار سے راز و نیاز کر رہے تھے۔۔
سب سن لیا تھا میں۔۔ نے۔۔۔۔!!
فارس نے ان پے ایک اور بم پھوڑا۔
کبیر شاہ کو وہ رات یاد آٸی۔ جب ۔۔ ابرار نے عفان کےاس دنیا سے جانے کے بعد اپنا رشتہ جوڑنے کی بات کہی تھی۔














بابا ۔۔۔۔! آپ۔۔بات کریں۔۔ تایا سے۔۔۔ کہ میری اور عین کی شادی کروا دیں۔
پاگل ہوگٸے ہو کیا۔۔۔؟؟ ابھی فان کو گٸے دن ہی کتنے ہوۓ ہیں۔۔۔؟؟ جو یہ نیا شوشہ چھوڑنے لگے۔۔۔ ہو۔۔۔؟؟ تھوڑا صبر سے کام۔لو۔۔۔!!
تمہارے بھاٸی کا یہ کھیل رچایا ہوا ہے۔۔۔ آگے کی لاننگ بگی اسے کرنے دو۔۔۔!!
کبیر شاہ کے کہے الفاظ پے فارس بہت سخت کنفیوژن کا شکار ہوا تھا۔
ایک طرف عفان کی موت تو دسری طرف وہ خط تھا۔ جو عن کو غلط ثابت کر رہا تھا۔
اور ایک طرف اا باپ بیٹے کی گفتگو۔۔
بھاٸ۔۔۔۔کونسا بھاٸی۔۔۔؟؟ اور کونسی پلاننگ۔۔۔؟؟
سب جاننے کے لیے۔۔پھرمیں نے ایک پلاننگ کی۔۔۔!!
اس پلاننگ کے تحت۔۔۔ میں نے یہی باور کروایا۔کہ نور کو ہی میں عفان کی موت کا زمہ دار سمجھتا ہوں۔
ایک نظر پھر نور پے ڈالی جو اب خاموش کھڑی سب سن رہی تھی۔
نور کو شادی کے دن۔۔ کڑنیپ کرنے کی پلاننگ بھی جان چکا تھا۔
جس میں فاریہ بھی شامل تھی۔
چاہتا تو ۔۔ ادھر ہی روک سکتا تھا۔
لیکن۔۔۔ مجھے۔۔ اس تیسرے تک پہنچنا تھا۔
نور کو ابرار نے کڈنیپ کیا۔
اس دن بھی وہ تیسرا سامنے نہ آیا۔
فارس کا ہر لفظ عین کے دل کے پار ہو رہا تھا۔
مطلب وہ اس سب سے انجان تھی۔
اسے پتہ ہی نہ چلا۔
اور نور کو اس دن۔۔۔۔ میری وجہ سے۔۔ تکلیف ہوٸی۔۔۔!!
شرمندہ نظروں سے نور کو دیکھا۔
نو نے نفی میں گردن ہلاٸی۔ آنسو آنکھ سے چھلکا اور گال پے گرا۔ تو منہ پھیر لیا۔
اس دن بھی میں تیسرے تک نہ پہنچ سکا۔
لیکن۔۔۔۔۔ میں جانتا تھا۔۔ کوٸی۔۔ اور ہے۔۔۔ کوٸی تیسرا۔۔۔ جو ہم۔۔پے نظر رکھے ہوٸے ہے۔۔۔!!
اس نے۔۔ ہم۔۔پے۔۔ حملہ بھی کیا۔۔!!
مجھے مارنا چاہا۔۔۔!!
لیکن۔۔ نور۔۔۔ نے میرے حصے کے وہ زخم بھی خود کھاٸے۔
لہجے میں درد تھا۔
اور پھر وہ تیسرا۔۔۔ میرے سامنے آیا۔۔۔
اس روپ میں ۔۔۔۔
اپنی پاکٹ سے ایک تصویر نکال کے سامنے کی۔
جو ابرار کے والٹ سے اسکی اور ارباز کی تصویر گری۔۔ جو فارس کے ہاتھ لگ گٸی۔
ایک ہی شکل کے دو انسان۔۔۔
فارس حیرت میں پڑ گیا۔
پھر اس نے زیان کی مدد سے اس کیس کو بھی solve کیا۔
پولیس کی بھی مدد لی۔ اور سارا باٸیو ڈیٹا نکلوایا۔
اور اس میں ۔۔ پتہ چلا۔۔۔
کہ ارباز۔۔ کبیر شاہ کا بیٹا ہے۔۔۔!!
ابرار کا جڑواں بھاٸی۔۔۔!!
فارس ایک ایک کر کے سارے راز کھولتا جا رہا تھا۔
سبھی کی آنکھیں نم تھیں۔
اب جب۔۔۔ دمن کا پتہ چل ہی گیا تھا۔ تو۔۔۔ اسے پکڑنا بھی تھا۔۔۔
اور۔۔پھر۔۔ جال بچھایا ہم نے۔۔۔۔!!
فارس کے کہتےہی کبیر شاہ خود سے نظریں نہ ملا پاٸے۔
دوسری طرف ارباز کی حیرت سے آنکھیں کھلی رہ گٸیں۔
مطلب وہ۔۔۔ ٹریپ ہوا تھا۔۔۔۔۔!! جبکہ اسےلگا۔۔ اس نے انکو چکما دیا تھا۔
یہ۔۔۔یہ جانتا تھا۔۔۔ نور۔۔ ہی میری کمزوری ہے۔۔۔!!
عین کی ہارٹ بیٹ مس ہوٸی۔
یہ۔۔مجھ پے اٹیک نہیں کر سکتاتھا۔۔۔
کیونکہ سامنے سے وار کرنا بزدل کے بس کی بات ہی نہیں۔۔۔
اس نے وہی کیا۔۔ جو اسے کرنا تھا۔
اس نے پھر سے نور کو نشانہ بنایا۔
یعنی ہر بار۔۔ ہمیں۔۔۔ ہی۔۔۔ انہوں نے خود جان بوجھ کے۔۔۔۔!!
نور بس سوچ کے رہ گٸ۔
یہ نور کو لے کے گیا۔ اور یہی اسکا آخری وار تھا۔
اور۔۔ یہ پکڑا گیا۔۔۔!!
فارس نے اسے گریبان سے پکڑ کے اٹھایا۔ اور سامنے کھڑا کیا۔
الامس بیگم نےآگے بڑھ کے اسے دیکھا۔
تم۔۔بھی۔۔تو ۔۔اسی۔۔ خاندان۔۔کے بیٹے۔۔۔ تھے ناں۔۔ پھر کیوں۔۔ مجھ سے میرا بیٹا چھینا۔۔۔۔!!
بیٹا۔۔۔۔ میں۔۔۔ اس خاندان کا۔۔۔۔؟؟
ہاہاہہاہاہہا۔۔۔۔۔ ارباز پاگلوں کی طرح ہسننے لگا۔
آج۔۔۔ کہاں۔۔کھڑا ہوں۔۔۔ میں ۔۔اس خاندان کی جہ سے۔۔۔؟؟
ایک قاتل بن گیا۔۔ میں اس خاندان کی وجہ سے۔۔۔
یہ۔۔۔میرا باپ۔۔ہے۔۔۔ جس نے۔میرے وجود کو ہی چھپا دیا۔۔۔
ہر رشتے سے محروم کر دیا۔۔۔
اورجب۔۔۔ بیٹا۔۔۔ جاتا ہے ناں۔۔ چھوڑ ۔۔۔کے۔۔ کتنا۔۔۔۔ درد۔۔ہوتا۔۔ہے۔۔۔ عفان کے۔۔۔ جانے کے بعد پتہ چلا ناں۔۔۔۔!!
ہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔!
وہ پاگلوں کی طرح ہنسے جا رہا تھا۔
بیٹا۔۔۔! ادھر دیکھ۔۔۔ میں تیری ماں۔۔۔ ہوں۔۔۔!! مجھے معاف کر دے۔۔۔ مجھے۔۔ نہیں پتہ تھا۔۔۔ تم۔۔ زندہ ہو۔۔۔!! اس شخص نے جھوٹ بولا۔۔۔ مجھ سے۔۔ کہ۔۔ ایک بیٹا۔۔ مرا ہوا۔۔ پیدا ہوا ہے۔۔۔!!
دردانہ بیگم کا رو رو کے برا حال تھا۔٠
وہ زمین پے بیٹھے اپنے بیٹے ارباز سے معافی مانگ رہی تھیں۔
نہیں۔۔ کبھی۔۔۔نہیں۔۔۔ کروں گا معاف۔۔۔
وہ ہذیانی انداز میں چینخا۔ او دردانہ بیگم کو زور سے دھکا دیا۔ وہ بمشکل بچیں۔
فارس نے فوراً انہیں سہارا دیا۔
اوۓ۔۔۔ !!
پر اسرار انداز میں فارس کو پکارا۔
اگر اپنی اور اپنے خاندان کی جانبچانا چاہتا ہے۔۔۔ تو ماردے مجھے۔۔۔۔!!
ورنہ۔۔۔ میں ماردوں گا سب۔۔کو۔۔۔ ایک ایک کر کے۔۔۔۔!!
ارباز ابھی بھی باز نہ آیا تھا۔
فارد آگے بڑھتا کہ زیان نے روک دیا۔
نہیں بھاٸی۔۔۔!! اسے قانون سزا دے گا۔۔۔
اس نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔ جو رکارڈ بھی ہو چکا ہے۔۔
زیان نے ٹیپ ریکارڈر فارس کے سامنے کیا۔
ارسم آنے والا ہو گا۔ اسے بھی اور کبیر شاہ کو بھی گرفتار کرنے۔۔۔۔!!
ہمارے عفان کی موت کا کھیل کھیلنے والا ماسٹر ماٸنڈ تو یہی ہے۔۔۔۔۔!!
زیان کے ہرلفظ میں نفرت اور حقارت تھی۔
اتنا بڑا ظلم۔۔۔۔ کیوں کیا۔۔۔؟؟ خود پے بھی اور ۔۔۔ اپنے بچوں پے بھی۔۔۔؟؟
کیا ملا یہ سب کر کے۔۔۔؟؟ کبیر شاہ۔۔۔!!
دلاور صاحب کی غصے سے بھری آواز آٸی۔
انہیں آج تک کسی نے اتنے غصے میں نہیں دیکھا تھا۔
بھاٸی۔۔۔۔صاحب۔۔۔۔ !! معاف۔۔۔۔!
ہاتھ جوڑنے چاہے۔
معافی۔۔۔؟؟ کس کس گناہ کی معافی مانگو گے۔۔۔؟
ساری خطاٸیں معاف بھی کر دو۔۔۔ تو۔۔۔ اپنے بیٹے۔۔۔ کا قتل کیسے معاف کروں۔۔۔؟؟کہتے کہتے انکی آنکھیں نم ہوگٸیں۔
ارسم پولیس فورس کے ساتھ وہاں پہنچ چکا تھا۔
بھاٸی۔۔۔ آپ۔۔آخری بار۔۔۔!! معاف۔۔۔
پولی نے انہیں حراست میں لیا۔
وہ رونے لگے۔دلاور شاہ نے منہ پھیر لیا۔
میرے۔۔۔ میرے بیٹے کو۔۔۔ چھوڑ دو۔۔۔۔!! اسکی کوٸی غلطی نہیں۔۔۔۔۔ سارا ۔۔۔کچھ۔۔ میں نے کیا ہے۔۔۔۔ لالچ ۔۔۔میرے من میں آیا تھا۔۔۔
اس بیچارے کی تو ساری زندگی ہی۔۔۔ انگاروں پے گزری ہے۔۔۔ اس کے۔۔ اسکے دل۔میں نفرت کی آگ۔۔۔ بھی میں نے ہی لگاٸی۔۔۔ سزا دینی ہے۔۔تو مجھے۔۔ دے دو۔۔۔ میرے۔۔ بیٹے کو چھوڑ دو۔۔۔!!
آج۔ وہ واقعی ایک ہارے ہوٸے باپ لگ رہے تھے۔سوری مسٹرکبیر شاہ۔۔۔۔ !! پپ کے بیٹے نے قتل کیا ہے۔۔۔یہ قانون کامجرم۔ہے۔۔۔ اور آپ کو بھی۔۔ آپ کے کیے کی سزاملے گی۔۔۔!!
ارسم کے اشارے پے ارباز اور کبیر دونوں کو حراست میں لیا گیا۔
ارباز نے موقع یکھتے ہی ارسم کی گن کو ہاتھ میں لے لیا۔ااور پیچھے ہٹا۔
نہ۔۔۔نہ۔۔۔ اتنی آسانی سے ہاتھ۔۔ نہیں آنا۔میں نے۔۔۔۔!!
وہ زخمی تھا۔ لیکن ابھی بھی ہمت نہیں ہارا تھا۔
ارباز۔۔۔ ڈونٹ ڈو۔۔ دِس ۔۔ خود ک قانون کے حوالے کردو۔
فارس او زیان بھی چوکنا ہوٸے۔
ہاں۔۔ کیا۔۔میں نے قتل۔۔۔۔ قاتل ہوں۔۔ میں۔۔ !!
وہ ہزیانی انداز میں چلایا۔
لیکن۔۔مجھے۔۔قاتل۔۔بنایا۔۔۔ میرے باپ نے۔۔۔۔ان سب نے۔۔۔!!
ارباز نےسب کی طرف اشارہ کرتے غصے سے کہا۔
ارباز گن نیچے کرو۔۔۔
فاارس نے دھمکی ددی۔ اور آگے بڑھا۔
بہت چالاکی کی میرے ساتھ تم نے۔۔۔۔!! میرے لیے جال۔بچھایا۔
مجھے۔۔۔ پھسایا۔۔۔۔!!
ابرار میرا۔۔ بھاٸی۔۔۔ !! اسے بھی تم نے مارا۔۔۔
میرے سامنے۔۔۔ میں اسے۔۔ مار کھاتا دیکھتا رہا۔۔۔ میں جانتا تھا۔۔ تم مجھ تک پہنچنے کے لیے یہ سب کر رہے ہو۔۔۔اس لیے۔۔ میں نے بھی ارادہ بدلا۔
تمہیں مارنے کا پلان بدلا۔
ہاں۔۔ عفان کے بعد تمہارا نمبر تھا۔۔۔
ارباز کے الفاظ الماس بیگم کے دل کو لگے۔
وہ اب مزید کسی کو نہیں کھو سکتی تھیں۔
لیکن۔۔۔ ہر بار تو بچ گیا۔۔۔۔
پھر میں نے سوچا۔۔۔ فسعاد کی جڑکو ہی ختم کر دیتا ہوں۔۔۔
میں نے۔۔اس لڑکی کو مارنے کا پلان بنایا۔
جہاں۔۔ تمہیں۔۔ یہ لگا۔۔ کہ تمہیں۔۔ مارنا چاہتا ہوں۔۔
میں نے پلان بدل دیا۔
اور ۔۔۔ا سے کڈنیپ کیا۔۔۔۔ !
اشارہ اب کی بار عین کی طرف تھا۔
مارنے ہی والا تھا کہ۔۔۔ یہ۔۔ پھر پہنچ گیا۔۔۔ بچانے۔۔!
نجانے کیسے۔۔۔ لیکن۔۔۔ اسے خبر ہوگٸ۔۔۔۔
ہر بار کی طرح اس نے مجھے ہرا دیا۔
ارباز کوافسوس ہوا۔
میں نے گاڑی کے بریکس فیل کیے۔یہ پھر بھی بچ گیا۔
گھر والوں نے فارس کی جانب دیکھا۔
ہر بار۔۔ موت کے منہ سے بچ کے نکلا ہے یہ۔۔۔!!
عفان جو۔۔۔ ایک جھٹکے کی مار تھا۔۔
اس شخص نے مجھے اتنے ہی جھٹکے دٸیے۔
اب۔۔ بس۔۔۔ اور ۔۔ نہیں۔۔۔!!
ارباز جیسے تھک ہار گیا تھا۔
ارباز۔۔۔۔!! میرے بیٹے۔۔۔۔!!
دردانہ نے آگے بڑھنا چاہا۔
وہیں۔۔ کھڑی رہیں۔۔!! کوٸی ماں نہیں میری۔۔۔!!
ارباز نے ان پے بھی گن تانی۔ تو وہ ناچاہتے ہوٸے بھی رک گٸیں۔
بہت۔۔ درد دیٸے ہیں۔۔ اس زندگی نے۔۔۔۔!!
اب۔۔اور نہیں۔۔۔!!
میں مر تو جاٶں گا۔۔ لیکن۔۔ خود کو تم۔لوگوں کے حوالے ہرگز نہیں کروں گا۔
ارباز کی بات پے سبھی نے دل دہلا کے اسکی طرف دیکھا۔
ایک گولی۔۔۔ !! فارس کی جانب دیکھا۔
ایک گولی تھی۔۔ جو عفان۔۔ کے دل کے پار کی تھی۔۔۔
جانتے ہو کیسے۔۔۔؟؟
ارباز کے پراسرار انداز پے سبھی کے رونگٹے کھڑے ہوۓ۔ کبیر شاہ کو ارباز کا انداز ڈرا گیا۔
ایک گولی۔۔۔ اور کام تمام۔۔۔
کہتے ہی ساتھ گولی چلاٸی۔
فارس بھاگا اسکی طرف۔
زیان بھی اسکی طرف لپکا۔
کبیر شاہ کو لگا ان کا سانس رک گیا ہے۔
گولی ارباز نے اپنے دل کے مقام پے چلاٸی تھی۔
ہاتھ سے گن چھوٹی۔
اور خون کی ایک لہر نکلی جہاں اس نے گولی ماری
اور وہ نیچے گرتا چلا گیا۔
فارس نے آگے بڑھ کے اسے تھامنا چاہا۔
ارباز۔۔۔ ارباز۔۔ آنکھیں کھولو۔۔۔۔!!
ارباز کے چہرے پے ایک مسکراہٹ تھی۔
اسے لگا۔ عفان اسکے پاس کھڑا اسے مسکرا کے فیکھ رہا ہے۔۔۔۔
کجیسے وہ اسے لینے آیا ہو۔۔۔!!
سبھی اشک بار تھے
دردانہ شاہ کی چینخ پکار اونچی ہوگٸ۔
کبیر شاہ زمین پے گرتے چلے گٸے۔
بھاٸی ہاسپٹل۔۔۔۔!!
زیان کی آواز پے فارس نے ارباز کو اٹھانا چاہا۔
لیکن۔۔ ارسم نے روک دیا۔ جس نے ارباز کی نبض چیک کی تھی۔
He is no more.
الفاظ نے سب پے ایک سکتہ طاری کر دیا۔
وہ جاتےجاتے ایک بار پھر سے۔ سب کو ثابت کر گیا۔۔ کہ وہ ارباز ہے۔۔ اکیلا رہا اکیلا ہی چلا گیا۔
یوں۔۔ زندگی کا ایک اور باب ختم ہوگیا۔۔ ایک اور موت پے۔۔۔
یہ ایک گھر کی نہیں۔۔ تقریباً ہر گھر میں ہی دولت جاٸیداد کے لیے اپنے اپنوں کا جینا حرام کیے ہوٸے ہیں۔۔ سازشیں چلتے ہیں۔۔
وار کرتے ہیں۔۔
قتل کرتے ہیں۔۔
کتنی ماٸیں ان جاٸیدادوں کے لیے پنے بیٹے قربان کر چکی ہیں۔۔٠
لیکن۔۔ پھر بھی۔۔ انسان کا لاچ ختم نہیں ہوتا۔
یہ نہیں سمجھتے کہ یہ سب یہیں رہ جانا ہے۔۔۔
جاتے ہوٸے صرف اپنے اعمال ساتھ لے کے جانے ہیں۔۔
اللہ ﷻکا نام اور مُحَمَّد ﷺ کا کلمہ۔۔۔!!
یہی کل کنجی ہے۔۔۔
پھر بھی دنیاوی اور مادی چیزوں کے لیے قتل و غارت کرنے سے باز نہیں آتے۔
ارباز کا کردار۔۔ بھی ان میں سے ہی تھا۔
جہنیں۔۔ نہ دنیا میں سکون نصیب ہوا۔۔۔ او نہ آخرت میں۔۔۔
براٸی کاانجام ہمیشہ برا ہی ہوتا ہے۔۔
اور بچے تو ماں باپ سے ہی سیکھتے ہیں۔۔ ارباز نے بھی وہی سیکھا جو باپ نے سکھایا۔
اپنے فاٸدے کے لیے۔۔ دولت کی لالچ کے بھینٹ چڑھا فیا انی اولاد کو۔۔
اور ایسے والدین کے پاس سواٸے پچھتاوے کے اور کچھ نہیں بچتا۔۔۔













وقت گذرتے ہوٸے زخم تو بھر دیتا ہے۔۔ لیکن۔۔ انکا درد ساری زندگی کے لیے ساتھ رہ جاتا ہے۔
ارباز کے جانے کا درد دردانہ شاہ کو۔۔
اور عفان کے جانے کا درد الماس بیگم کو ۔۔۔
کاش۔۔۔ کبیر شاہ یہ کھیل نہ کھیلتا تو۔۔ سب ٹھیک ہوتا۔۔
کاش۔۔
یہ۔۔۔کاش۔۔۔ہی تو۔۔ ہماری زندگیوں میں رہ جاتا ہے۔۔
کبیر شاہ کو7 سال کی سزا ہوٸی تھی۔
دردانہ شاہ اورفاریہ ابرار کے ساتھ حویکی چھوڑ جا چکے تھے۔
لیکن۔۔۔ انکا جو حق بنتا تھا۔ دلاور شاہ نے اس سے کہیں زیاہ انہیں دیا۔ تا کہ ۔۔ وہ اپنی زندگی کو آسانی کے ساتھ گزر سکیں۔
اور یہ صرف انہوں نے اپنی مرحوم بہن کی محبت کے لیے کیا تھا۔
دعا اور زیان واپس جا چکےتھے۔
دعا ویسے ہی ہاسٹل میں تھی ۔ اور زیان فلیٹ میں۔
دعا اپنی پڑھاٸی کر رہی تھی تو زیان اپنی جاب نبھا رہا تھا۔
عین اور فارس کے بیچ سب صحیح تو ہو گیا۔۔لیکن ایک خلش تھی جو رہ گٸ تھی۔
جب سے سب ٹھیک ہوا تھا۔
عین نے محسوس کیا تھا۔ وہ عین سے جان بوجھ کے دور دور رہتا ہے۔ اور اسے اگنور کرتا ہے۔
یہاں تک کہ۔۔ وہ سونے کےلیے اسٹڈی روم کا استعمال کرتا تھا.اور گھر میں کوٸی نہیں جانتا تھا۔عین نے بھی اسے نہ چھڑا۔
اصولاً عین کو یہی لگتا تھا۔ کہ فارس کو اس سے بات کرنی چاہیے۔
یعنی پہلا قدم فارس کو بڑھانا چاہیے۔
جتنی عین کی یہ خواہش تھی۔ فارس اس سے اتنا ہی دور ہو رہا تھا۔
جس سے عین کو تکلیف ہور رہی تھی۔
اور عین نے اس سے خود بات کرنے کا سوچا۔
لیکن۔۔
فارس اپنےکسی خاص کام کے لیے شہر سے باہر چلا گیا۔اور یہ سب اچانک ہوا۔
کوٸی اب تک نہ جان سکا۔۔ کہ وہ کام کیا کرتا ہے۔۔
کیونکہ اسے لندن سے یہاں شفٹ ہوٸے کافی عرصہ بیت گیا تھا۔
لیکن وہ شہر کیوں جاتا تھا۔۔؟؟ کیاکرتا تھا۔۔ کوٸینہیں جانتا تھا۔
زیان نے اپنا یونی میں میں پڑھانے کےبارےمیں گھر والوں کو بتا دیا۔
لیکن اپنی سیکرٹ جاب کا زکر نہ کیا۔
فارس کو گٸے پندرہ دن ہوگٸے تھے۔
اور عین بےکل سے حویلی میں ادھر سے ادھر ہو رہی تھی۔
تم ۔۔۔جانتی ہو۔۔۔میں جب بھی تمہارے قریب آتا ہوں۔۔مجھے تمہاری دھڑکنوں کا شور سناٸی دیتا ہے۔۔۔
اور میں فارس شاہ۔۔۔ ان دھڑکنوں کا محافظ ہوں۔۔۔!
کہتے ہوٸے وہ ایک پیا بھرا لمس اسکے ماتھے پے چھوڑ گیا۔
جھولے پے بیٹھے فارس کے کہے الفاظ اس کی سماعت سے ٹکراٸے۔
تو ہاتھ بے اختیار ماتھےپے گیا۔
ایک آنسو آنکھ سے چھلکا۔
اور گود میں گرا۔
ان پندرہ دنوں میں وہ کیسے مرجھاٸی تھی۔
الماس شاہ کی آنکھوں سے چھپا نہ تھا۔
اور آج ہی تو انکی فارس سے بات ہوٸی تھی۔
اور الماس شاہ نے اسے واپس آنے کو کہا تھا۔
وہ تو آنا چاہتا تھا۔ لیکن۔۔ وہ نور کا سامنا نہیں کر پا رہا تھا۔
بدلے کی خاطر اس نے نور سے نکاح کیا۔
لیکن۔۔جب پتہ چلا کہ وہ بے قصور ہے۔۔ تو اس نے اپنے رب کے آگے سجدہ کیا تھا۔ کہ اس نے نور کو کوٸی تکلیف نہیں پہنچاٸی۔
لیکن پھر بھی۔۔ کہیں نہ کہیں وہ نور کو درد دے گیا تھا۔۔
اس لیے اس نے اپنے اور عین کے بیچ ایک فاصلہ قاٸم کر دیا تھا۔
وہ چاہتا تھا وہ اسے پکارے۔
یہ جانے بنا کہ وہ تو لڑکی ہے۔۔ کبھی جس نے اپنے حق کےلیے کبھی کچھ نہ بولا۔ وہ کیسے اسے بلاتی۔۔۔؟؟
وہ یہاں نہیں تھا۔ لیکن ایک ایک منٹ کی رپورٹ رکھتا تھا۔
حویلی کی سیکیورٹی پے وہ کوٸی کمپروماٸز نہی ںکر سکتا تھا۔
ابھی وہ الماس بیگم کی باتوں پے سوچ رہا تھا۔ کہ موبٸیل بجا۔
اور اسکا دھیان بٹا۔
یس۔۔۔ چارلی۔۔۔سپیکنگ۔۔۔۔!!
یس۔ گڈ۔۔۔۔!! آٸی وِل چیک۔۔
ویلڈن۔۔۔!!
چہرے پے اسکے ایک چمک تھی۔
فون بند کرتےہی ای میل چیک کی۔
اور اپنے نٸے کیس کے بارے میں تمام ڈیٹیلز اسے مل چکیں تھیں۔
اب اسکا کام اور آسان ہوگیا تھا۔
ہاں۔۔ وہ کوٸی فوجی نہیں تھا۔۔
وہ کوٸی سیکریٹ ایجنٹ بھی نہیں تھا۔
لیکن۔۔۔ کام اس کے اس ملک کے لیے ہی تھے۔
جب پہلی بار ایک ماں کے لیے اس نے اس کے بیٹے کی موت کا بدلہ لیا تھا۔۔۔
انسانیت ابھی مری نہیں تھی۔
یہاس نے ثابت کیا تھا۔
وہ بلیک چارلی تھا۔۔۔
کالی دنیا کے اندر گھس کے کالے کرتوتوں والوں کو موت کے گھاٹ اتارنا ہی اسکا مقصد تھا۔
بنا کسی ریوارڈ کے۔۔۔۔وہ لوگوں کیمدد کرنے والا۔۔۔ بلیک چارلی تھا۔
جو رات کے اندھیروں میں مجبور اور مفلس لوگوں کی مدد کرتا تھا۔
اور زیان اس سب میں فارس کا بھرپور ساتھ دیتا تھا۔
دونوں ہی اپنے وطن پاکستان کے سچے محبِ وطن تھے۔
جاری ہے
