Dharhkano Ka Muhafiz by Muntaha Chohan NovelR50511

Dharhkano Ka Muhafiz by Muntaha Chohan NovelR50511 Last updated: 13 February 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dharhkano Ka Muhafiz by Muntaha Chohan

الماس بیگم کا نروس بریک ڈاٶن ہوا تھا۔ اور وہ آٸی ی یو میں تھیں۔
ایک آزماٸش کے ساتھ ایک اور آزماٸش۔۔۔۔
زیان۔۔۔!! تم گھر چلے جاٶ۔
فارس نے دھیمے لہجے میں ICU کے باہر کھڑے اندر دیکھتے زیان سے کہا۔
بھاٸی۔۔۔۔!! وہ مما۔۔۔۔!! زیان اسوقت بالکل بچوں کی طرح بی ہیو کر رہا تھا۔
میں ہوں ناں۔۔۔ یار۔۔۔!! کیوں فکرکرتا ہے۔۔؟؟
فارس نے اسے کھینچ کے اپنے سینے سے لگایا۔
تو وہ ضبط کے باوجود پھوٹ پھوٹ کے رو دیا۔
یہی سہارا یہی کندھا تو وہ ڈھونڈ رہا تھا۔
عفان کے اچانک داغِ مفارقت نے ان سب کو ہی توڑ دیا تھا۔
چلو۔۔ شاباش گھر جاٶ۔۔۔!! فارس شروع سے ہی مضبوط اعصاب کا مالک رہا تھا۔ ابھی بھی وہ اپنا حوصلہ نہیں ہارا تھا۔
زیان دل کا سارا بوجھ آنسوٶں کی صورت نکال کے تھوڑا ریلکس ہوا تھا۔ لیکن ماں کے لیے فکرمندی ابھی بھی قاٸم تھی۔
اسی فکرمندی کے ساتھ وہ گھر میں داخل ہوا۔ عفان کو غسل کے لیے لے جایا جا چکا تھا۔
دلاور شاہ کے پاس پہنچ کے ماں کی کنڈیشن کے بارے میں بتا کے وہ مردان خانے کی طرف چلا گیا۔
آپی۔۔۔!! پلیز۔۔۔!! باہر آٸیں۔۔۔!!
دعا کوٸی دسویں بار اسے بلانے آٸی تھی۔
لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہو رہی تھی ۔
کیسسسے۔۔۔ کیسے۔۔۔ ہم۔۔ باہر آٸیں۔۔؟؟
ہم۔۔۔۔انکو کیسے۔۔۔ یوں دیکھ سکتے ہیں۔۔۔؟؟
دعا۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔ مجھے۔۔۔ یوں۔۔ کیسے۔۔۔؟؟
عین ہچکیوں میں روتےہوٸے بولی۔
دعانے آگے بڑھ کےاسے اپنے ساتھ لگا لیا۔
وہ کہاں بے خبر تھی ۔۔؟ کتین چاہت تھی دونوں میں۔۔۔
لیکن موت کیا کچھ دیکھتی ہے؟اس نے آنا ہے سو آنا ہے۔۔۔
صبر کریں آپی۔۔۔! ایک دن سبھی کو اسکی طرف لوٹ کے جاناہے۔۔۔۔
روتے ہوٸے عین کو تھپکی دی۔
کیسے کریں ہم صبر۔۔۔۔؟؟آپ جانتی ہیں ناں۔۔۔!! وہکیا تھے ہمارے لیے۔۔۔!!
آنکھوں کے لال ڈوروں نے دعا کو۔مزید دکھی کر دیا۔
آپی۔۔۔۔!! بڑی امی کے لیے اللہ سے دعا کریں۔
دعا نے اسکا دھیان الماس بیگم کی طرف دلایا۔ تو وہ پھر رونے لگی۔ وہ شروع سے ہی ڈری سہمی اور اپنے آپ میں رہنے والی چھوٸی موٸی سی لڑکی تھی۔
آج تک کبھی اسکی اونچ آواز نہیں سنی گٸ حولی میں ۔ نرم لہجہ دھیما مزاج۔ اسکے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔
لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی۔ اس نازک مزاج رکھنے والی اس لڑکی کے لیے آگے کتنی بڑی آزامٸش تیار کھڑی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *