Chaand Jalta Rha by Rubab Naqvi NovelR50736 Last updated: 27 June 2026
Rate this Novel
Chaand Jalta Rha by Rubab Naqvi Episode01Chaand Jalta Rha by Rubab Naqvi Episode02Chaand Jalta Rha by Rubab Naqvi Episode03Chaand Jalta Rha by Rubab Naqvi Episode04Chaand Jalta Rha by Rubab Naqvi Episode05Chaand Jalta Rha by Rubab Naqvi Episode06Chaand Jalta Rha by Rubab Naqvi Episode07Chaand Jalta Rha by Rubab Naqvi Episode08Chaand Jalta Rha by Rubab Naqvi Episode09Chaand Jalta Rha by Rubab Naqvi Episode10Chaand Jalta Rha by Rubab Naqvi Episode11Chaand Jalta Rha by Rubab Naqvi Episode12Chaand Jalta Rha by Rubab Naqvi Episode13Chaand Jalta Rha by Rubab Naqvi Episode14Chaand Jalta Rha by Rubab Naqvi Episode15Chaand Jalta Rha by Rubab Naqvi Episode16Chaand Jalta Rha by Rubab Naqvi Episode17Chaand Jalta Rha by Rubab Naqvi Episode18Chaand Jalta Rha by Rubab Naqvi Last Episode
Chaand Jalta Rha by Rubab Naqvi
گھونگٹ کے پار سے وہ سامنے دیوار پر لگے آئینے میں اپنا پور پور سجا عکس دیکھ رہی تھی ۔۔۔
مگر دل تھا کہ بھرنے میں نہیں آ رہا تھا ۔۔!
جب ہی اس نے بہت احتیاط سے گھونگٹ اٹھا لیا تھا ۔۔۔
وہ اچھی طرح خود کو نہارنا چاہتی تھی ۔۔۔
لاہور شہر کے اُس چھوٹے سے محلے سے اِس پوش علاقے تک کا سفر اسے ایک خواب سا لگ رہا تھا ۔۔۔۔
قسمت یوں بھی پلٹا کھاتی ہے ۔۔
وہ سرشار کم حیران زیادہ تھی ۔۔
غربت ۔۔ لاچارگی ۔۔ بیمار ماں اور وہ سات بہن بھائی!
ایسے ظالم حالات میں دنیا نے منہ تو موڑنا ہی تھا ۔۔۔۔
اور جب وہ قسمت سے شاکی بلکل نا امید ہو گئی تھی ۔۔ تب فرشتے کی طرح وہ اچانک اس کی زندگی میں چلا آیا تھا ۔۔۔!!
وہ کون تھا؟
اچانک کہاں سے اس کی روکھی پھیکی زندگی میں آ دھمکا تھا ۔۔۔
وہ بس سوچتی رہتی ۔۔ اور حیران ہوتی رہتی ۔۔۔!
خیر ۔۔۔ حالات خوشگوار ہوئے تو لوگ بھی اپنے ہو گئے ۔۔۔
اور وہ ان ہی نام نہاد رشتوں کی دعائوں کے زیر سایہ اس فرشتہ صفت شخص کی سنگت میں اندھیری گلیاں چھوڑ اس سنہرے محل میں چلی آئی تھی ۔۔
وہ دولت کی ہوس کا شکار نہیں تھی مگر جان گئی تھی کہ اس دنیا میں رشتوں کا ساتھ بھی تب ہی حاصل ہوتا ہے جب دولت پاس ہو ۔۔۔
سو اس وقت اس کی گردن میں سریا فٹ تھا ۔۔۔!!!
اپنے سفیدی مائل گندمی چہرے کو محبت سے چھوتی وہ دروازے پر ہونے والی آہٹ پر تیزی سے گھونگٹ گرا کر نظریں ہی نہیں سر بھی جھکا گئی تھی ۔۔۔۔
دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے لرزتی پلکوں کی جھالر اٹھا کر دیکھا تھا اور اگلے ہی جھٹکے سے گھونگٹ الٹ دیا تھا ۔۔۔۔
پھٹی پھٹی نظروں سے وہ اس سیاہ مہانسوں بھرے ادھیڑ عمر شخص کا چہرہ دیکھ رہی تھی ۔۔ بلکہ گھور رہی تھی ۔۔۔
جو دانت نکوستا اس کے سامنے نشست سنبھال رہا تھا ۔۔۔!
اس نے اپنی سمٹی ہوئی ٹانگیں سکیڑ کر سینے سے لگا لی تھیں ۔۔۔
اس کا دماغ بلکل سائیں سائیں کر رہا تھا ۔۔۔ یہ کیسا مزاق تھا ۔۔۔۔
شائد وہ غلط سمجھ رہی ہے ۔۔۔
بات کچھ اور ہو ۔۔۔
ہو سکتا ہے یہ پارس کے کوئی رشتے دار ہوں ۔۔ مگر ان کا انداز !!!
"کون ہو تم ؟"
"تمہاری ضرورت !!"
"یہ کیا بکواس ہے ؟؟؟"
وہ بھڑک کر اٹھنے لگی تھی جب اس شخص نے اپنے کھردرے سیاہ آہنی ہاتھ سے اس کا بازو پکڑ کر جھٹکے سے واپس بٹھا لیا تھا ۔۔۔۔
"تمہیں دولت کی ضرورت ہے !
جو میرے پاس بہت ہے ۔۔۔
اور مجھے حسن کی چاہ ہے ۔۔۔۔
جو تمہارے پاس بیش بہا ہے ۔۔۔!
ایک تو سارے جہاں کا قدرتی حسن ان تنگ و تاریک گلیوں میں قید ہوتا ہے ۔۔۔
اور اس سے بھی بری بات یہ ہے کہ وہیں پر عزت نفس ، اصول ، پابندیوں وغیرہ کا بھی ڈیرا ہوتا ہے ۔۔۔۔!"
"کیا بکواس کر رہے ہو ؟
تم ہو کون ؟
چھوڑو مجھے ۔۔ پارس کہاں ہیں ؟
پارس !! پارس !!!"
حلق کے بل چلاتی وہ مچل کر اس شخص کے بازئوں سے نکلی تھی اور زرق برق شرارا اٹھائے کمرے سے باہر بھاگتی چلی گئی تھی ۔۔۔
پیچھے ہی جناتی قہقہ لگاتا وہ شخص بھی کمرے سے نکل آیا تھا اور ریلنگ پر ہاتھ ٹکائے اس خوبصورت چڑیا کو سونے کے پنجرے میں پھڑپھڑاتے دیکھتا مزہ لینے لگا تھا ۔۔۔
دوازے کھڑکیاں پیٹ پیٹ کر اس کی سرخ کانچ کی چوڑیاں ٹوٹ گئی تھیں اور کلائیوں پر سرخ دھاریاں بن گئی تھیں جن سے بے پروہ وہ صرف یہاں سے نکل جانا چاہتی تھی ۔۔۔۔
"یہ کیا ہو رہا ہے ۔۔۔ دروازہ کھولو کوئی ۔۔!! پارس
پلیز کوئی دروازہ کھولو ۔۔۔
پارس ۔۔ کہاں ہیں آپ ؟
پارس ۔۔۔!!!"
زرا سی دیر میں وہ اتنا رو پڑی تھی کہ اس کا گلا بیٹھ گیا تھا ۔۔۔
"بس سویٹ ہارٹ بہت کھیل لیا ۔۔۔
اب آ جائو یہاں شاباش !
سارے سوالوں کے جواب دوں گا میں ۔۔۔ ساری گرہیں سلجھا دوں گا ۔۔ ادھر آ جائو شاباش !"
اس شخص کو اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر اس کا دل بند ہونے لگا تھا جب یکدم ہی اس کے ذہن میں جھماکا سا ہوا تھا ۔۔۔
قریب ہی رکھا بیش قیمت گملہ اٹھا کر اس نے کھڑکی پر پوری قوت سے اٹھا مارا تھا ۔۔۔۔
شیشے کی کھڑکی ٹوٹ چکی تھی مگر اتنی زیادہ نہیں کہ وہ آرام سے باہر نکل جاتی پھر بھی وہ دیوانہ وار اس ٹوٹی کھڑکی سے نکلنے کی کوشش میں اچھی خاصی زخمی ہو گئی تھی جب وہ آدمی بجلی کی تیزی سے اس کے قریب آیا تھا ۔۔۔۔
"پاگل لڑکی !
ادھر آ ۔۔۔ کیوں اپنے حسن کی دشمن ہو رہی ہے ؟
تیرا تو حسن پوجنے کے لائق ہے ۔۔۔۔
اور ابھی تجھے بہت پجاری ملیں گے ۔۔۔۔
نا نا !! خود کو نقصان نا پہنچا شہزادی !!"
اس شخص کا لہجہ ہلکا پھلکا تھا مگر گرفت اتنی سخت تھی کہ اسے اپنے بازو بے جان ہوتے محسوس ہوئے تھے ۔۔۔۔
زار و قطار روتے ہوئے اس نے مزاحمت کرنی چھوڑ دی تھی اور اس کی ہار محسوس کر کے اس شخص نے بھی کھلکھلا کر ہنستے ہوئے اس کے بازئوں پر گرفت ڈھیلی کردی تھی اور اسی بات کا فائدہ اٹھا کر اس نے پوری قوت سے اس شخص ک پیچھے دھکیلا تھا ۔۔۔
اب اسے بد قسمتی کہیں یا خوش قسمتی مگر وہ شخص اس دھکے کے لیئے بلکل تیار نہیں تھا اور اسی ٹوٹی کھڑکی میں جا گرا ۔۔۔
اسے کہاں کہاں کانچ لگے تھے جو وہ درد سے بلبلا کر چیخا تھا ۔۔
وہ نہیں جانتی تھی ۔۔۔۔ وہ جاننا بھی نہیں چاہتی تھی ۔۔۔
وہ بس ساکت نظروں سے اس شخص کا سفید لباس سرخ ہوتا دیکھتی رہی پھر یکدم دوسرا گملہ اٹھا کر دوسری کھڑکی پر مارا ۔۔۔
ایک اور گملہ اٹھایا اور پھر سے اس ہی کھڑکی پر مارا اور جب اتنا رستہ بن گیا کہ وہ بآسانی نکل کر دوسری طرف جا سکتی تھی تب وہ دوسری طرف کود گئی ۔۔۔
"سسسس !!"
کئی کانچ پھر سے اس کی ایڑھیوں اور بازئوں میں چبھتے اسے لہو لہان کر گئے تھے مگر اسے ان پر توجہ نہیں دینی تھی ۔۔ ان چوٹوں پر رونے کا ابھی وقت نہیں تھا ۔۔۔ اس وقت سب سے ضروری اس کے لیئے اس کی عزت تھی ۔۔۔!!
پھر کھڑکی پر پڑا وہ شخص بھی ہوش ہواس میں ہی تھا ۔۔۔ اور چلا چلا کراس کا خون خشک کر رہا تھا ۔۔۔۔
جسمانی اذیت تو ایک طرف ۔۔۔
ذہنی اذیت کی انتہائوں کو چھوتی وہ بڑا سا سیاہ گیٹ کھول کر باہر بھاگ نکلی تھی ۔۔۔
سنسان روڈ پر کھڑی وہ خوفزدہ تھی کہ کہیں اس شخص کا کوئی کارندہ کہیں موجود نہ ہو ۔۔۔!!
"کیا کروں کہاں جائو "
کی گردان کرتا دل دور سے آتی گاڑی دیکھ کر اور بھی سہم گیا تھا ۔۔۔
ذہن بلکل ہی مفلوج ہو رہا تھا ۔۔
سو کچھ بھی سوچے سمجھے بغیر وہ دہشت زدہ سی دل کے الہام پر سیدھے روڈ کی جگہ جنگل کی طرف بھاگی تھی ۔۔۔۔
"میں نے تمہیں فرشتہ سمجھا تھا مگر تم !!
تم شیطان سے بھی بد تر نکلے ۔۔۔ خدا تمہیں غارت کرے ۔۔ خدا تمہیں غارت کرے !!!"
چھلتے ہوئے حلق سے ایک مری مری سی زہر میں ڈوبی بد دعا نکلی تھی ۔۔۔۔۔!
