Ankhon Ke Paar Chand by Ushna Kosar Sardar NovelR50788
Last updated: 17 July 2026
Ankhon Ke Paar Chand by Ushna Kosar Sardar Episode01Ankhon Ke Paar Chand by Ushna Kosar Sardar Episode02Ankhon Ke Paar Chand by Ushna Kosar Sardar Episode03Ankhon Ke Paar Chand by Ushna Kosar Sardar Episode04Ankhon Ke Paar Chand by Ushna Kosar Sardar Episode05Ankhon Ke Paar Chand by Ushna Kosar Sardar Episode06Ankhon Ke Paar Chand by Ushna Kosar Sardar Episode07Ankhon Ke Paar Chand by Ushna Kosar Sardar Episode08Ankhon Ke Paar Chand by Ushna Kosar Sardar Episode09Ankhon Ke Paar Chand by Ushna Kosar Sardar Episode10Ankhon Ke Paar Chand by Ushna Kosar Sardar Last Episode
Ankhon Ke Paar Chand by Ushna Kosar Sardar
یہ کیا چکر ہےیار؟فرحان اسکےسامنے بیٹھا پوچھ رہاتھا
کون سا؟
وہی جو میں بہت دنوں سے دیکھ رہا ہوں اب مکرمت جانا کہ نظریں ہم بھی رکھتے ہیں وہ ہاتھ اٹھاکر باور کرانے والے انداز میں بولا تواعیان عمر شیخ مسکرادیا..
سب کچوجانتے ہو پھر کیوںپوچھ رہے ہو؟
پوچھ اسلیے رہا ہوں کہ آپکے والدین نےماہا بیگم کےلیےآپکویہاں بھیجا ہے اور آپ مذہب تک کو پھلانگتے نظر آرہے ہیں..یہ ماہا بیگم کس خانےمیں فٹ ہوںگی؟
فکر کیوں کر رہےہو یار -میرے دل کےابھی تین خانے مزیدخالی پڑے ہیں اسکاانداز شریر تھا
فرحان اسے مصنوعی خفگی سے گھوررہاتھا
کیا ماہا تمہیں پسند نہیںآی؟
میں نے ایسا کب کہا
تمہیں اس لڑکی سےمحبت ہے؟
ایسا بھی نہیں کہا میںنے
پھر؟
ابھی کوی فیصلہ نہیں کیا
ویسےیار اتنی جلدی کیا ہے سوچیں گےسمجھے گے آرام سے کسی نتیجے پر پہنچیں گے
مجھے تمہاری منطق کی سمجھ نہیں آرہی۔
آخر انکل آنٹی کو کیا جواب دو گے تم؟
"اٹ ازمای ہیڈک...اونلی مای ہیڈک...اوکے...
اوکے مگرشادی ختم ہوے اک ہفتہ بھر ہونے کو ہے واپس کب چلنا ہےمجھے اپنے وطن کی یاد شدت سےآرہی ہے-
وطن کی یاد نہیں اس کالی بلی کی یاد کہو...وہ یکدم ہنس پڑا.
خبردار جواسے کالی بلی کہو تہماری ہونے والی بھابھی ہے وہ اور فرح نام ہے اس کا-فرحان نےاسےکشن مارتے سبیہ کی وہ شیشے کےسامنے کھڑا ہوکراپنا جایزہ لےرہاتھا_فرحان نے اپنے اونچے لمبے پروجیہہ پرسنالٹی کےحامل کزن اور دوست کو دیکھااورمسکرادیا..
ویسے لڑکی اچھی ہے کیانام ہے اس کا؟
کس کا؟وہ یکسرانجان بن گیا
اس سانولی شام کا فرحان نےشرارت_
خبردار اسکا نام پوجا ہے.. سانولی شام-ویسے یہ نام بھی برا نہیں لیکن اسےتمام خطابات والقابات سےنوازنےکا حق فقط مجھے ہے..
تمہاری میراث کب سے بن گی وہ؟وہ شوخی سے مسکرایا
جب سے نظروں کے راستے دل میں گھسی ہے اعیان نےبھی برجستہ جواب دیاتھا
ویسے کیاتم اس معصوم لڑکی کےساتھ اس طرح فقط ٹایم پاس کرکےغلطی نہیں کررہے فرحان کو اس بھولی سی صورت والی لڑکی پر اچانک ہی ترس سا آگیا تھا...
تمہیں کس نے کہہ دیا ک میں اسکے ساتھ ٹایم پاس کررہاہوں؟ وہ خود پر پرفیوم اسپرے کرنے لگا..
گویا سریس ہو-اس معاملے میں
میں نے ایسا بھی نہیں کہا وہ بولا تو فرحان نے اسےکشن کھینچ مارا اور تب وہ کھلکھلا کر ہنسنے لگا
****......****
ابھی وہ کلاس لے کر باہر نکلی تھی اور آکر اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھی تھی کہ اچانک دو بھاری قدم اس کے قریب آن رکے اس نے سراٹھا کر دیکھااور نگاہ ساکت رہ گی وہ ایک اٹل حقیقت کی مانند اس کے روبرو تھا--
آپ؟لیکن ماہا تو آج نہیں آی--
ماہا سےملنے کےلیے مجھےیہاںآنے کی کیا ضروت تھی اسے تو میں گھر پر بھی سیکڑوں بار بلاتامل مل سکتاہوں اسکا جواب اتنا مفصل تھا کہ پوجاکےلب جامدہوگے-وہ اور کچھ نہ بول سکی وہ اسکےقریب گھاس پر بیٹھ گیا-پوجا کی جان جیسےفنا ہونےلگی تھی اردگرد کے ماحول پر اک نگاہ ڈالی-اسے لگاجیسے ہر کوی اسکی طرف متوجہ ہو--
اعیان عمر شیخ شاید اسکی کیفت بھانپ گیا تھا تبھی مظبوط لہجے میں بولا
دنیا کی پروامت کرو کیونکہ دنیا ہماری کبھی پروا نہیں کرتی-
لیکن پروا کرنی پڑتی ہے وہ ٹھوس لہجے میں بولی تو وہ اسے دیکھ کر مسکردیا--
خوشی ہوی جان کر کہ آپ بھی منہ میں زبان رکھتی ہیں اور تب جانے کیوںوہ سختی سےہونٹ بھینچ کر سرجھکاگی
پوجا-اس نےپکارا-
ہوں اس نےسر اٹھاےبغیر جواب دیا-
میں نے تمہیں اپنے دل کی بات بتا دی کیا تم مجھے اپنے دل کی بات نہیں بتاوگی اپنی مرضی سے آگاہ نہیں کروگی؟
اف دل میں لاکھ طوفان سہی لکین کہنا یار کس میں ہے-
میری.... کلاس....ہے وہ یکدم اٹھنے لگی--
میں جانتا ہوں تمہاری کلاس ابھی ختم ہوی ہےاور دوسری کلاس شروع ہونےمیں ابھی بہت وقت ہے وہ مظبوط انداز میں بولا اور وہ اسے دیکھ کرسرجھکا گی--
کیا جاننا چاہتے ہیں آپ مجھ سے؟ اپنا مدعابیان کر تو چکاہوں کیا تم پھر سےمیری زبان سےسننےکی آرزومند ہو؟وہ اسکی آنکھوںمیں دیکھتا ہوا بولا تو وہ سٹپٹاکررہ گی---
میرے......پاس کوی جواب نہیں
کیوں؟
پتا نہیں..اسکا انداز معصوم اور بھولا تھا شکست آمیز ہتھیارڈالنے والا تب جانے کیوں اعیان کو اس پر ترس آگیا اور نظریں اسکے چہرے پر سے ہٹا لیں پھر دھیرے سےدوستانہ انداز میں اسکا ہاتھ تھام لیا--
مجھ پر یقین کرتی ہو؟پوجا کو جیسےکرنٹ چھوگیا-ہاتھ اسکی گرفت سے نکلاناچاہا مگروہ اسکیجانب قطعی متوجہ نہ تھا ہاتھ پر بنا مہندی کے ڈایزاین کوبغور دیکھ رہاتھا-
آپ کو میںٹھیک سےجانتی تک نہیں اور آپ یقین اعتبار کی بات کررہے ہیں-وہ اتنےپراعتمعاد لہجے میں بولی ک وہ یکدم اسے دیکھنے لگا-
