Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

باپ کو مرے بھی ہفتہ گزر گیا تھا اور وہ یوں ہو گئی تھی گویا جیتی جاگتی لاش۔ آج اس کی سب سے اچھی دوست اسے ملنے آئ تھی۔ وہ دوست جو اس کی بھابی بھی تھی۔ اس کے بھائی کی منکوحہ۔
“کیسی ہیں محترمہ خوش بخت صاحبہ! بلکہ میں کیوں پوچھ رہی ہوں یہ سوال کیوں کہ تم تو مزے میں ہو گی نا ۔ پہلے اپنی عزت گنوای وہ بھی خود اپنے ہاتھوں اس کے بعد اپنے باپ کو منوں مٹی تلے سلا دیا اور آج! جانتی ہو تم نے کیا کیا آج؟ مجھ سے میری بچپن کی محبت اور میرا شوہر چھین لیا۔ وہ انسان جو میرے پختہ کردار کی قسم کھاتا کھاتا تھا جانتی ہو اس نے آج مجھ سے کیا کہا؟ سنو میں بتاتی ہوں تمھیں!”
وہ سرخ سوجی ہوئی آنکھیں ایک دفعہ پھر سے دوپٹے سے رگڑ کر اس کے مقابل آئ جو بت بنی کھڑی تھی۔
” جانتی ہو آج تمھارے بھائی نے کیا کہا؟ اس نے کہا معاف کرنا صباء پر میں رخصتی نہیں چاہتا۔ بہتر ہوگا کہ ہم عزت سے الگ ہو جائیں۔ میں نے روتے بلکتے اس سے اپنا قصور پوچھا تو جانتی ہو اس نے کیا کہا؟ اس نے کہا تم میری بہن کی بچپن کی دوست ہو۔ پورے دن میں آدھا دن تو میری بہن کے ساتھ گزارتی ہو تم۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ صحبت کا اثر تم پر نہ ہوا ہو؟ میں کیسے یقین کر لوں کہ تمہارا وجود پاکیزہ ہے۔ جب اپنی بہن کی یہ حرکت دیکھ چکا ہوں تو تم پر کیسے بھروسہ کر لوں ۔ بہت جلد طلاق کے کاغذات تمہیں مل جائیں گے۔ اب بتاؤ خوش بخت کیا حاصل ہوا تمہیں اس سب سے ۔ تم نے اپنے ساتھ ساتھ ہم سب کی زندگیاں بھی برباد کر دیں۔ہم سب کو برباد کر کے تم کبھی کیسے آباد ہو سکو گی۔”
وہ گھٹنوں کے بل گرتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی جب کہ سامنے کھڑی خوش بخت کے دل نے صدا دی تھی کاش اسے اس سب سے پہلے موت آ جاتی یا اب ہی آ جاتی پر ہر گھڑی قبولیت کی نہیں ہوتی۔ اس کے جانے کے بعد بھی وہ بت بنی وہاں کھڑی تھی جب اس کی ماں کمرے میں آئ۔
“میں نے باہر رکشہ منگوايا ہے تمہیں دارلامان تک پہنچا دے گا۔”
وہ اس کے پیلے پڑتے چہرے پر توجہ دیے بغیر اپنا فیصلہ سنا چکی تھی۔
“امی پلیز ایسا مت کریں مجھ پر رحم کریں۔”
وہ روتی گڑگڑاتی ان کے پاؤوں میں گر گئی۔
“اچھا! کیا تمہیں آیا تھا ہم پر رحم؟”
ان کے سپاٹ لہجے میں پوچھے جانے والے سوال پر اس کو گہری چپ لگ گئی۔ وہ اٹھی اور الماری سے چادر نکال کر اوڑھ لی۔ ایک آخری نگاہ اپنے گھر پر ڈالی۔
آنسو بھری نظروں سے اپنی ماں کو دیکھتے قدم باہر کی طرف بڑھا گئی۔ اس کی ماں کا دل تڑپا تھا پر چہرہ بے تاثر تھا۔
“رکو خوش بخت!”
ولی حیدر اسکے سامنے کھڑا تھا۔ وہ چل کر اس کی ماں اور اپنی خالہ کی جانب آیا۔
“خالہ آپ چاہتی تھیں نا کہ خوش بخت سے میری شادی ہو۔ میں خوش بخت سے نہ صرف نکاح کروں گا بلکہ اسکی اولاد کو بھی اپنا نام دوں گا۔ آپ سے میری بس اتنی سی گزارش ہے کہ خوش بخت کے فارغ ہونے تک آپ اسے میری امانت سمجھ کر پناہ دے دیں ۔ پھر میں اسے نکاح کر کے رخصت کروا کر لے جاؤں گا اپنے گھر۔ ماں باپ کے مرنے کے بعد آپ نے اولاد کی طرح پالا ہے تو ایک بیٹے کی بات کا مان رکھ لیں پلیز۔”
وہ ان کے ہاتھ تھامتا اپنی آنکھوں سے لگا گیا۔ انہوں نے اسے باز رکھنا چاہا پر وہ بہت خوبصورتی سے اپنی بات منوا گیا۔ اور پھر خوش بخت نے جس دن ایک بچی کو جنم دیا اس دن پورے ہسپتال نے اس کی چیخیں سنی تھیں ۔ اس کو اپنی گود میں پڑی بچی میں ایک اور خوش بخت نظر آ رہی تھی۔ پر یہاں بھی ولی حیدر نے اسے اپنے پیار سے سمیٹ لیا تھا۔
جب نکاح کا وقت آیا خوش بخت نے انکار کرنا چاہا تو اس کی ماں اپنا دوپٹہ اتار کر اس کے قدموں میں رکھ دیا اور تھوڑی ہی دیر میں وہ اپنے تمام حقوق ولی حیدر کے نام کر گئی۔ اس کے بھائی نے تو اس کی شکل دیکھنی بھی گوارہ نہ کی تھی اور اس کے رخصت ہونے سے پہلے ہی گھر سے نکل گیا جب کہ اس کی ماں نے اسے نہ گلے لگایا نہ کوئی دعا دی پر یہ نصیحت ضرور کی کہ جیو یا مرو پر اس گھر کا رخ نہ کرنا تم سے ہمارا کوئی رشتہ نہیں۔
ولی حیدر نے اس کا ہاتھ تھاما اور اسے لئے اس گھر کی دہلیز پار کر گیا۔
اور پھر زندگی نئی ڈگر پر چل پڑی۔ ولی حیدر نے اسے محبت کی ایک نئی قسم سے ملاقات کروائی تھی۔ وہ اس کا بے پناہ خیال رکھتا اس کا ہر کام اپنے ہاتھ سے کرتا۔ اس کی محبت نے خوش بخت کے دل میں بھی دیپ جلا دیے تھے۔ پر ہر خوش بخت کو ولی حیدر کہاں ملتا ہے۔ اس بچی کو اتنا پیار دیا جتنا شاید اس کا اصلی باپ بھی نہ دے پاتا۔ خوش بخت کی زندگی سہل ہو گئی تھی۔ باپ تو مر گیا تھا پر زندہ ماں اور بھائی کے لئے اس کا دل تڑپتا تھا۔ خوش بخت کی ماں بھی ایک روز آنکھیں موند گئی پر بھائی نے اسکا دیدار بھی نہ کرنے دیا۔ اور پھر اس کے بھائی نے اکیلے ساری عمر بتا دی۔ خوش بخت کے قدم ڈگمگاے تو پورا خاندان برباد ہو گیا۔


بیس سال بیت چکے تھے پر کوئی خوش بخت سے پوچھتا پچھلے بیس سال کی داستان۔
وہ بیٹھی سبزی بنا رہی تھی جب اس کی بیٹی نک سک سے تیار نیچے آئ۔
“کہاں جا رہی ہو؟ “
وہ اپنی بیٹی سے محو سوال تھی۔
“ماما دوست کی طرف جا رہی ہوں!”
جواب اس کی امید کے مطابق ہی تھا۔
“چلو میں تمھارے ساتھ چلتی ہوں!”
ہاں! اسے ایک اور خوش بخت کے جنم سے پہلے ہے اس کا اختتام کرنا تھا۔ اسے اعتبار ضرور کرنا تھا اپنی اولاد کا پر آنکھیں کھلی رکھ کر۔ایک بیٹی کی ماں کو ایسا ہی تو ہونا چاہیے!