Aitbaar By Meem Aain Readelle50152 Last updated: 10 August 2025
No Download Link
51.5K
4
Rate this Novel
Aitebaar By Meem Aain
اس نے کمرے میں آ کر دروازے کو کنڈی لگائی اور كانپتے ہاتھوں سے موبائل پکڑا۔ اس کی نازک انگلیاں اس وقت ایک نمبر ملانے میں مصروف تھیں۔ اس نے نمبر ملا کر موبائل کان سے لگایا ۔ اس کے مطلوبہ نمبر پر مسلسل بیل جا رہی تھی پر کوئی کال اٹھا نہیں رہا تھا۔ وہ بار بار وہی نمبر ڈائل کر رہی تھی۔ آخر کار چھٹی بیل پر کال اٹھا لی گئی تھی۔
"ہیلو!"
مقابل کی آواز سنتے اس نے ایک پر سکون سانس فضا میں خارج کی۔
"ہی۔۔ہیلو تم اس وقت کہاں ہو پلیز میرے گھر آ کر مجھے لے جاؤ ابھی کے ابھی۔"
وہ آنسو صاف کرتی مضبوط لہجے میں بولی۔ اس کی بات سن کر مقابل کے تو سر پہ لگی اور تلووں پہ بجهی ۔
"کیوں؟"
مقابل کے لہجے سے فقط بے زاری چھلک رہی تھی جسے وہ فلحال محسوس نہیں کر پائی تھی۔
"کیوں کہ۔۔۔آئ ایم پریگننٹ ! میں تمہارے بچے کی ماں بننے والی ہوں۔"
وہ روتی ہوئی اگلے وجود پر بجلی گرا چکی تھی۔
"وہاٹ؟ آر یو میڈ؟ کون سا بچہ اور کس کا بچہ ۔ میں نہیں جانتا کہ کس کا بچہ ہے یہ ۔ میرا اس بچے سے کوئی تعلق نہیں۔"
وہ چیخ کر بولتا اس پر بم گرا چکا تھا۔
"تم پاگل ہو گیے ہو ۔تمہارا بچہ ہے یہ تم کیسے مکر سکتے ہو میں تمھارے علاوہ کسی سے نہیں ملی آج تک۔"
وہ چیخ کر بولی۔
"ہاہاہا مجھے کیا پتا ہو کہ کس سے ملتی رہی ہو کس سے نہیں۔ جو لڑکی اپنے ماں باپ کو دھوکہ دے کر مجھ سے ملنے تن تنہا میرے فلیٹ پر آ سکتی ہے اور میری پیار بھری باتوں میں آ کر اپنی عزت قربان کر سکتی ہے تو وہ پھر کسی اور کے ساتھ تنہائی بھرے لمحات کس طرح نہیں بسر کر سکتی ۔ میں نہ تمہیں جانتا ہوں نہ تمھارے کسی بچے کو اور خبردار مجھے کبھی کال کی اگر۔میں کیسے تمہیں اپنا سکتا ہوں۔ جو لڑکی اپنے ماں باپ کی سگی نہیں ہوئی وہ میری وفادار کیسے ہو سکتی ہیں۔ تمہیں تو ویسے بھی بس پیسے سے پیار ہے نہ تو ایسا کرو یہ بچہ ختم کروا کر پھر سے کسی امیرزادے کو پھانس لو ۔ خدا حافظ !"
وہ اپنے الفاظ کا تمانچا اس کے منہ پر مار کر کال بند کر گیا جب کہ وہ وہیں ساکت بیٹھی رہ گئی۔ موبائل ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گر چکا تھا ۔
آہ! تو یہ تھی اس کی حقیقت! جان نچھاور کرنے والے ماں باپ اور لاڈ اٹھانے والے بھائی کی آنکھوں میں دھول جھونک کر جس انسان کی محبت میں اپنا سب کچھ وار ڈالا وہ انسان ایک سیکنڈ میں اس کو عرش سے فرش پر پٹخ کر اس کو اس کی اوقات بتا گیا تھا۔
۔ اتنے میں دروازہ دھڑدھڑایا جانے لگا تو اس نے بے جان ہوتی ٹانگوں سے اٹھ کر دروازہ کھولا۔ سامنے چہرے پر سپاٹ تاثرات سجائے اس کی ماں کھڑی تھی۔ انہوں نے اسے بازو سے پکڑ کر سائیڈ پر کیا اور اندر آ گئیں۔
"فون ملاؤ اس کتے کو!"
لہجہ ہر تاثر سے پاک تھا۔
"کس کو؟"
وہ ناسمجهی سے پوچھنے لگی۔
"اس کو ہی جس کے ساتھ مل کر ہماری عزت کی دھجياں اڑایں۔"
ان کے کہنے پر وہ سر مزید جھکا گئی۔
"کیا تھا فون اور بتا بھی دیا پر وہ کہتا ہے کہ یہ نہ ہتو اس کا بچہ ہے اور نہ ہی وہ اس کے متعلق کچھ جانتا ہے۔"
اب کے اس کے اپنے تاثرات بھی سپاٹ تھے۔
وہ دونوں دھڑ سے کچھ گرنے کی آواز پر پلٹی تھیں جہاں اس بد بخت بیٹی کا باپ سینے پر ہاتھ رکھے نیچے گر کر ہوش و حواس سے بیگانہ ہو چکا تھا۔
وہ دونوں ان کی طرف لپکیں۔
"ابو!"
اس کے تڑپ کر کہنے پر اس کی ماں نے ایک اور تھپڑ مارا تھا اس کی منہ پہ۔
"خبردار منحوس لڑکی اگر اپنی اس ناپاک زبان سے میرے شوہر کو پکارا بھی تو۔ پہنچا دیا نہ باپ کو موت کے منہ میں۔ ارے دعا کر بدبخت کہ تیرا باپ زندہ نہ بچ پائے ورنہ یہ دنیا تیرے گناہ کی سزا میرے شوہر کو دے کر مار ڈالے گی۔"
"اماں پلیز ابو کو ہسپتال لے کر چلو!"
وہ روتی چیختی چلا رہی تھی پر اس کی ماں بہتی آنکھوں کے ساتھ جامد وجود لئے اپنے شوہر کے نیم مردہ وجود کے پاس بیٹھی تھی۔
اتنے میں عمر گھر میں داخل ہوا۔ باپ کو اس حالت میں زمین پر پڑے اور ماں بہن کو روتا دیکھ وہ تیزی سے باپ کی طرف لپكا اور انھیں لے کر ہسپتال کی طرف بڑھا۔ اس کی ماں بھی اس کے باپ اور بھائی کے پیچھے چلی گئی اور وہ اکیلی صحن بھی بیٹھی اپنی کرتوتوں کی سیاہی اپنے آشیانے پر پڑتے دیکھتی رہی۔
*******
وہ ابھی گھر میں داخل ہوا تھا۔ ایک کال سننے دروازے پر ہی رک گیا۔ کال سننے کے بعد وہ جیسے ہہی دروازہ بند کرنے لگا سامنے سے آتا وجود تیزی سے اپنا ہاتھ دروازے میں رکھ گیا۔ والی کی سانسیں ساکت ہوئی تھیں اس حسینہ کو دیکھتے ہی۔ وہ پیچھے ہٹ کر کھڑا ہو گیا تو وہ بھی بلا جھجک اندر داخل ہو گئی۔
وہ اس کے سامنے آ کر اسے دیکھنے لگی۔ گهنی مونچھوں تلے عنابی لب تیکھی ناک اور موٹی موٹی آنکھوں کے ساتھ شہابی رنگت اور مضبوط جسم والا ولی حیدر کسی بھی لڑکی کا خواب ہو سکتا تھا اگر اس کے پاس پیسا ہوتا تو! یہ خوش بخت کا ذاتی خیال تھا۔
"شادی کرنا چاہتے ہو مجھ سے؟ سنا ہے کہ پسند کرنے لگے ہو مجھے؟"
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی بے دھڑک بول رہی تھی۔ ولی اس کی بات پر ناگواری سے نظریں پهير گیا۔ اس نے اس لڑکی سے بے انتہا محبت کی تھی پر اس کا یہ انداز اسے خاصا ناگوار گزرا تھا۔ اسے لڑکیاں ہمیشہ شرماتی جھجکتی ہوئی پسند تھیں۔ اور یہ لڑکی بلکل اس کے برعکس۔ پر پھر بھی ولی حیدر خوش بخت کو اپنا دل دے چکا تھا۔ کاش خوش بخت سمجھ پاتی کہ وہ کتنے بختوں والی تھی جو ولی حیدر جیسے مرد نے اسے پسند کیا تھا۔ پر وہ سمجھ پاتی تو نا!
