Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aik Ajnabi Hua Apna by Amreen Riaz Episode04

Aik Ajnabi Hua Apna by Amreen Riaz Episode04

“مریام شاہ،مریام شاہ،کان پک گئے میرے یہ نام سُن سُن کر،ایک آدمی تُم دونوں سے اتنا بھاڑی ہے کہ وہ تُمہارے سامنے تُم لوگوں کی گیم برباد کر کے وہ جاتا ہے اور تُم لوگ لکیر پیٹتے ہی رہ جاتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”حاکم کی بھڑکتی آواز ایئر پیس میں سے آئی جس پر قادر بلوچ لب بھینچ گیا۔
“یہ بات نہیں حاکم،اُسکی پہنچ کہاں تک ہے یہ تُم بھی جانتے ہو اور دُوسری بات اُس تک پہچنا ہی مُشکل ہے مارنا تو پھر دُور کی بات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے لہجے میں چھلکتی بے بسی پر حاکم حیران ہوا۔
“یہ تُم کہہ رہے ہو بلوچ؟،وہ بلوچ جس نے آج سے بارہ سال کیا شاندار گیم پلان کی تھی کہ آج تک پولیس کُچھ کر ہی نہیں پائی،تُمہاری لئیے اُس وقت کے صوبائی وزیر کو مارنا آسان تھا اور اس انسان کو مارنا مُشکل دِکھ رہا جو صرف عام سا بزنس میں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“وہ صرف بزنس مین ہی نہیں بلکہ اُسکے تعلقات اُوپر تک ہیں،اُسے ہمارے سارے کالے دھندوں کا علم ہے اگر اُس کے ہاتھ کوئی ثبوت لگ گئے تو ہم تینوں بُری طرح پھنس جائیں گئے حاکم اس لئے اُس پر ہاتھ ڈالنے کے لئے ہمیں بہت سوچ سمجھ اور ہوشیاری کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اب کی بار بلوچ کی بات میں وزن تھا جس پر حاکم نے بھی سر ہلایا۔
“ہاں ٹھیک کہہ رہے ہو تُم،پہلے تو تُم کسی ایسے انسان کو ڈھونڈو جو مریام شاہ کے بارے سب جانتا ہو،کس ٹائم یہ کہاں پایا جاتا ہے سب،خاص طور پر اُسکی طاقت کس چیز کے بل بوتے پر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اُسکی تم فکر نہ کرو،میرے پاس ایک آدمی ہے،جو چھ سال مریام شاہ کے ساتھ رہ چُکا ہے مگر اُسکے ڈسنے پر اُس سے نفرت کی اُس انتہا پر ہے جہاں ہر ٹائم اُسکی موت کا طالب ہے۔۔۔۔۔۔۔”
“ویری گُڈ،یہ بندہ ہمارے کام آ سکتا ہے،اگر یہ کُچھ کر پائے تو ٹھیک ورنہ آخری پتہ تو ہمارے ہی پاس ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حاکم کی مُسکراتی آواز بلوچ کے کانوں میں پڑی تو وہ ریلکیس ہوا۔
“ہاں اور ایسا پتہ جس کے استمال سے مریام شاہ گھٹنوں کے بل چل کر آئے گا،ہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔”دونوں قہقہ لگا کر ہنس پڑے۔
“تُم کب آ رہے ہو۔۔۔۔۔”بلوچ نے پوچھا۔
“اگلے اتوار کو،پر تم یا راٹھور مجھے ملنے نہیں آؤ گئے،میں ہی کوئی جگہ سلیکیٹ کر کے بتاؤنگا،اب فون رکھتا ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔”کہہ کر اُس نے کال بند کردی اور بلوچ نے موبائل سائڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔
“جبکہ دُوسری طرف انکی گفتگو سُنتا مریام شاہ نے بھی ہیڈ فونز اُتار کر ٹیبل پر رکھے اُس کے لبوں پر ایک تلخ سی مُسکرآہٹ آئی۔
“حاکم،بلوچ اور راٹھور۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ تینوں کے نام زیر لب لیتا اپنے موبائل کی طرف متوجہ ہوا۔
“___________________________________”
جونیجو راہداری سے گُزرتا ہال میں داخل ہوا جہاں امتل بلوچ کو دیکھ کر اُسکا حلق تک کڑوا ہو گیا۔
“جونیجو۔۔۔۔۔”وہ ہمیشہ کی طرح اُسکی طرف لپکی۔
“جی کیسی ہیں آپ۔۔۔۔۔۔۔”بظاہر خُوشدلی سے پوچھا گیا۔
“آپ آ گئے سمجھے بہار آ گئی ان کے چہرے پر۔۔۔۔۔۔۔”ایک نسوانی آواز پر پلٹا جہاں نمل بلوچ مُسکراتے ہوئے آ رہی تھی۔امتل نے اُسکی بات پر اسے گھورا پر جونیجو نے اگنور کیا۔
“اینی ویز مُجھے نمل بلوچ کہتے ہیں،آپکی بہت تعریفیں سُنی ہوئی ہیں،پر قریب سے دیکھ کر لگتا ہے کُچھ غلط بھی نہیں سُنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ امتل بلوچ کی طرف دیکھ کر مُسکرا کر بولتی جونیجو کو امتل بلوچ سے بھی زیادہ زہر لگی۔
“دونوں بہنیں ہی کھسکی ہوئی ہیں۔۔۔۔۔۔۔”وہ بڑبڑایا۔
“جس نے بھی میری تعریفیں آپکے سامنے کی ہیں اُس بندے کا شُکریہ ادا کرنا تو اب لازمی ہو گیا ہے،اگر آپکو دوبارہ ملے تو ضرور میری طرف سے ادا کیجئیے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ارے آپ خُود ہی اُس بندے کا شُکریہ ادا کر لیں آپ کے سامنے ہی تو ہے،میں تب تک چائے منگواتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ امتل بلوچ کو اشارہ کرتی کچن کی طرف چلی گئی۔
“اوہ تو آپ وہ ہستی ہیں جا نے مُجھ نا چیز کو اتنا اہم کر دیا۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسکی طرف پلٹا۔
“اپنی اہمیت اور قدر و قیمت تو ہم سے پوچھیں،کس قدر اہم ہیں آپ ہمارے لئے۔۔۔۔۔۔۔”وہ بے باک تھی اور جونیجو کو یہی بے باکی زہر لگتی تھی۔
“مُجھے اجازت دیں،سیکیورٹی کمیرے چیک کرنے ہیں مُجھے،پھر ملتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جان چُھڑاتا سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔امتل بلوچ گہرا سانس بھرتی وہی بیٹھ کر اُسکا انتظار کرنے لگی۔
جونیجو اُوپر کا سارا سیکورٹی سسٹم چیک کرتا ٹیرس کی طرف آیا تبھی اُسکی نگاہ کی گرفت میں ایک ہلکے گلابی رنگ کا آنچل آیا تھا وہ کوئی لڑکی تھی جو اُسکی طرف پُشت کئیے کھڑی تھی۔
دوسری طرف پرخہ نے اپنی پُشت پر کسی کی نظروں کا ارتکاز محسوس کرتے ہوئے پلٹ کر دیکھا تھا ٹیرس پر اُسے ایک آدمی کھڑا دکھائی دیا مگر وہ اُسکی شکل دیکھنے سے قاصر رہی کیونکہ سُورج کی پڑتی شُعائیں اُس کی آنکھوں کو چندھیا رہیں تھیں اس لئے وہ اُس پر نظر ڈالتی آگے کی طرف بڑھی جہاں سے صندل بُوا کپڑوں کی باسکٹ پکڑے آ رہی تھیں۔
“پرخہ،تُم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔۔۔۔”
“دُھوپ لینے آئی ہوں ہماری سائیڈ پر تو دھوپ آتی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُنکو جواب دیتی کن آنکھیوں سے ٹیرس کی طرف دیکھنے لگی جہاں ابھی تک وہ کھڑا اس طرف ہی دیکھ رہا تھا۔
“بُوا یہ کون ہے اوپر۔۔۔۔۔۔۔۔”صندل بُوا سے پوچھنے لگی جنہوں نے اسکے اشارے پر ٹیرس کی طرف دیکھا مگر شکل وہ بھی نہ دیکھ پائیں۔
“مُجھے تو نظر نہیں آ رہا،شاید جونیجو ہوگا۔۔۔۔۔۔”وہ کہتے ہوئے کپڑے لان کے ایک جانب لگی تار پر پھیلانے لگیں۔
“جونیجو کون۔۔۔۔۔۔”
“بلوچ سائیں کا بہت خاص آدمی ہے،اُنہوں نے حویلی نہیں بھیجا ہے اسے سب پر نظر رکھنے کو،چلو اب اندر ورنہ نسیماں بی بی تُمہیں دیکھ کر پھر واویلا کرنا شُروع کر دیں گئیں۔۔۔۔۔۔۔”صندل بُوا کے کہنے پر وہ سر ہلاتی اُن کے ساتھ چل دی مگر پھر کسی احساس کے تحت اُس نے اُوپر کی طرف دیکھا تھا جہاں ابھی بھی وہ کھڑا تھا وہ جلدی سے آگے بڑھ گئی۔
“__________________________________”
“میرے خیال میں اب تُمہیں ساری سمجھ آ گئی ہے،اب تو کُچھ سمجھانے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔۔”ایاز بلوچ کے پوچھنے پر اُس نے سر نفی میں ہلایا۔
“مُجھے سب سمجھ آ گئی ہے سائیں کہ جو بھی لڑکی بھگانی ہے پھر اُسے یہاں تک لے کر آنا ہے۔۔۔۔۔”
“ہاں اور جن چیزوں سے بچنا ہے اُسکا بھی بخوبی علم ہو گیا ہے تُمہیں،جتنا اچھے سے کام کرو گئے اُتنا زیادہ ملے گا۔۔۔۔۔۔”ایاز بلوچ نے اُسے لالچ دیا۔
“اُسکی آپ فکر نہ کریں سائیں،آپ کی سوچ سے بھی زیادہ بہتر طریقے سے کرونگا،میں آپکا مال آپ تک پہنچاؤنگا آپ میرا انعام مُجھے دینے کے لئے بس تیار رہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ہمیں تُم پر بھروسہ ہے جگو،یہ لو یہ رہا ایڈوانس،باقی کام کے ہونے کے بعد۔۔۔۔۔۔۔”ایاز بلوچ نے ہرے نوٹوں کی کاپی اُس کے سامنے ٹیبل پر رکھی جسے دیکھ کر نہ صرف اُسکے مُنہ میاں پانی آیا تھا بلکہ آنکھیں بھی خُوشی اور بے یقینی سے باہر آنے کو پھیلیں۔
“باپ رے،سائیں،یہ سارے میرے ہیں،سچ میں سائیں۔۔۔۔۔۔”وہ اُنکو پکڑ کر کسی تبرک کی طرح مُنہ سے لگا کر چومنے لگا۔
“ہاں سب تُمہارے ہیں،ابھی تو شُروعات ہے جگو بس تُم دیکھتے جاؤ کیسے تُمہیں زمین سے اُٹھا کر آسمان تک پہنچاتا ہوں،راتوں رات کڑور پتی بن جاؤ گئے۔۔۔۔۔۔۔”ایاز بلوچ ٹیبل پر اپنے پاؤں رکھتا اس کے مُنہ سے ٹپکتی لالچ کی رال کو اور کھیچنے لگا۔
“بڑی مہربانی سائیں،اب سے میرا جینا مرنا آپکے لئے سائیں۔۔۔۔۔۔۔”جگو اُس کے قدموں میں بیٹھ کر پاؤں دبانے لگا۔
“تُم نے ابھی تک یہ نہیں پوچھا کہ میں اُن لڑکیوں کا کیا کرونگا۔۔۔۔۔۔”ایاز بلوچ نے مشروب کا گلاس لبوں سے لگایا۔
“سائیں مُجھے جس چیز سے مطلب ہے میں تو اُسکی بات کرونگا،لڑکیاں جانے آپ جانے مُجھے اس سے کیا سائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”جگو کی بات پر ایاز بلوچ قہقہ لگا گیا۔
“بہت سمجھدار آدمی ہو،مُجھے پسند آیا تُمہارا جواب،بہت آگے تک جاؤ گئے تُم۔۔۔۔۔۔”
“شُکریہ سائیں۔۔۔۔۔۔”وہ خُوش ہوا۔
“اچھا اب نکلو یہاں سے،باہر گاڑی کھڑی ہے وہ تُمہیں تُمہارے گھر تک چھوڑ دے گی،کل سے اپنے کام پر لگ جانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جی سائیں،خدا حافظ سائیں۔۔۔۔۔۔۔”جگو اُس کے سر ہلانے پر چلا گیا۔ایاز بلوچ نے موبائل نکالا اور ایک نمبر ڈائل کر کے فُون کان سے لگا لیا۔
“ہاں امجد،جگو پر نظر رکھو،کہاں جاتا ہے کس سے ملتا ہے سب،اوکے۔۔۔۔۔۔۔”اپنی بات ختم کرکے اُس نے کال بند کر دی۔
“__________________________________”
مریام شاہ نور حویلی کی طرف بڑھ رہا تھا کہ کسی نے آ کر اُسکا بازو پکڑ کر روکا مریام شاہ نے غُصے سے پلٹ کر اُسامہ کی طرف دیکھا۔
“مریام ایک دفعہ پھر سوچ لیں،آپکا وہاں جانا کسی خطرے سے خالی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔”اُسامہ نے سمجھانا چاہا۔
“اور مریام شاہ کو خطروں سے کھیلنا خُوب آتا ہے یہ بات تُم اچھی طرح جانتے ہو اُسامہ۔۔۔۔۔۔”
“پر نُور حویلی۔۔۔۔۔۔”
“کیسے خاموش ہونا پسند کرو گئے تُم۔۔۔۔۔۔”مریام نے اپنے ہاتھ میں پکڑا پسٹل اُسکی کنپٹی پر رکھا۔
“اوکے جائیں۔۔۔۔۔۔”اُسامہ جانتا تھا اب کوئی بات یا اُسے روکنا مطلب اپنی موت کو خُود گلے لگانا۔
“یہاں رُکو،ٹائم نوٹ کرو ساڑھے گیارہ،پورے بارہ تُم گاڑی سٹارٹ کر دینا،میں آ گیا ٹھیک نہ آیا تو بھی،پر تُم پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھو گئے۔۔۔۔۔۔۔”اُسے ہدایت دیتا وہ نُور حویلی کی پیچھلی دیوار کی طرف بڑھا اُس نے دیکھا وہ دیوار تقریباً سات فیٹ کی تھی جس پر وہ آسانی سے چڑھ گیا اس نے ارد گرد نظر دوڑائی جہاں ہر طرف گارڈز کھڑے پہرہ دے رہے تھے اور ساتھ کُتے بھی باندھ رکھے تھے اس نے ایک نظر حویلی کے چاروں طرف لگے کیمروں کی طرف ڈالی پھر گھڑی کی طرف دیکھا جہاں اُس کے چھلانگ لگانے کے ایکوچل ٹائم میں دو سیکنڈ تھے اُن دو سیکنڈ کے گُزرتے ہی ایک آدمی حویلی سے نکلا حویلی کے پچھلی طرف پہرہ دینے والے دونوں آدمیوں کو ساتھ لئے چل دیا۔
“گُڈ میرے وفادار دوست۔۔۔۔۔۔۔۔”مریام شاہ بڑبڑایا اور چھلانگ لگا کر جلدی سے پیچھے بنے ہیڈ کوارٹروں کی طرف بڑھا وہاں بھی کھڑے ایک پہرہ دار کو دیکھ کر رُکا اور پانچ سیکنڈ انتظار کے بعد وہی آدمی دوبارہ نمودار ہوا وہاں کھڑے گارڈ کو ساتھ لئے چل دیا۔مریام شاہ نے دو کمرے چھوڑ کر تیسرے کمرے کی طرف قدم بڑھائے جہاں سے بلب کی روشنی آ رہی تھی وہ کُچھ یاد کر کے زیر لب مُسکرایا اور کمرے کی بائیں دیوار پر بنی کھڑکی کو آہستگی سے کھولتا وہ بہت آحتیاط سے اُس پر چڑھ گیا اور اگلے لمحے ہی وہ کمرے کے اندر تھا اُس نے ایک نگاہ کمرے میں دوڑائی جہاں ایک طرف لکڑی کی الماری اور ایک میز تھا دوسری طرف درمیان میں رکھیں دو کرسیاں اور دو سنگل بیڈ جن پر دو وجود محو خواب تھے ایک کا سر باہر نکلا ہوا تھا وہ کوئی پچاس سالہ عورت تھی جبکہ ایک وجو کمبل میں دُبکے پڑا ہوا تھا مریام شاہ کے قدم بے اختیار اُس بیڈ کی طرف بڑھے دبے دبے انداز میں اُس بیڈ پر بیٹھتا ہاتھ بڑھا کر کمبل اُس وجود کے چہرے سے ہٹانے لگا اگلے لمحے ہی وہ خُوبصورت چہرہ اُسکی آنکھوں کے سامنے تھا سُرخ و سفید رنگت،بڑی بڑی آنکھی جو اس وقت محو خواب تھیں،انگور کے دانوں جیسے رس بھرے گلابی ہونٹ،ملائم گال،ستواں ناک،چمکدار سُنہری زُلفیں جو چُٹیا میں باندھی ہوئی تھیں اور بہار سراپا اُسکا دل دھڑکا گیا مریام شاہ نے آہستہ سے جُھکتے ہوئے بڑی عقیدت سے اُسکی روشن پیشانی پر اپنے لب رکھے۔پرخہ اپنے ماتھے پر پُرشدت لمس محسوس کر کے کسمکسائی پر نیند کی وادیوں میں اس قدر کھوئی ہوئی تھی کہ اُٹھ نہ سکی۔
“صرف چار دن اور میری جان،پھر میں تُمہیں یہاں سے لے جاؤنگا اُس وعدے کو پُورا کرنے جو بارہ سال پہلے تُم سے کیا تھا،اور دیکھو ہر خطرے کا سامنا کر کے تُم تک آیا ہوں ایسے ہی ان سب کی آنکھوں میں دُھول جھونک کر تہیں یہاں سے لے بھی جاؤنگا،تُمہیں اب کسی قسم کی فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ مریام شاہ کے ہوتے کوئی تُمہارا بال بھی بھیکا نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکے کان میں سرگوشی کی پھر وہاں سے آہستگی سے اُٹھا سامنے دیوار پر لگے وال کلاک پر ایک نظر ڈالی دوسری لکڑی کے میز پر جسے اُٹھا کر دیوار کے ساتھ رکھا اور اُوپر چڑھ کر کلاک اُتار کر اُس کے اندر اپنی جیب سے کیمرہ نکال کر فٹ کر دیا پھر کلاک کو اُسکی جگہ پر رکھ کر میز کو بھی رکھا اور دوبارہ پھر پرخہ کے قریب آیا۔
“اپنا خیال رکھنا میری جان۔۔۔۔۔۔۔”جُھک کر اُسکے نرم و ملائم ہاتھ کو پکڑ کر چُوم لیا پھر آہستگی سے اُس کے سینے پر رکھ کر کمبل ٹھیک سے اُڑھایا اور ایک پیار بھری نگاہ ڈالتا واپسی کے رستے کو ہو لیا۔
اُسامہ نے گھڑی کی طرف دیکھا جہاں صرف کُچھ ہی سیکنڈز رہ گئے تھے بارہ بجنے میں اُس نے گاڑی سٹارٹ کی اور فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول دیا جہاں دو سیکنڈ بعد ہی مریام شاہ آ کر بیٹھا تھا سیٹ کی بیک سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند گیا۔اُسامہ کو پتہ تھا اب یہ کوئی بات نہ کرے گا نہ سُنے گا اس لئے گاڑی ریورس کر کے روڈ پر ڈال دی۔
“___________________________________”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *