Aik Ajnabi Hua Apna by Amreen Riaz NovelR50804

Last updated: 22 July 2026

Aik Ajnabi Hua Apna by Amreen Riaz

"مُجھے میریام شاہ سے بات کرنی ہو گی کیونکہ اس سے بہتر کوئی دوسرا موقع نہیں مل سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ خود سے کہتا ہوا مریام شاہ کے آفس کی طرف بڑھا مگر اُس کی آفس میں نہ موجودگی کا اندازہ کرتا علینہ کی طرف بڑھا جو کمپیوٹر پر کُچھ لکھنے میں مصروف تھی۔
"مریام شاہ آفس میں نہیں ہے کہاں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
"اگر ٹائم کی طرف ایک نظر ڈال لیتے تو تُمہیں مُجھ سے پوچھنے کی ضرورت نہ پڑتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"علینہ نے دل جلانے والی مُسکراہٹ اُسکی طرف اُچھالی اور دوبارہ اپنے کام میں لگ گئی۔اُسامہ نے حسب معمول ایک گُھوری سے اُسے نوازہ اور ہاتھ پر بندھی اپنی واچ کی طرف دیکھا جہاں شام کے سات بج رہے تھے اور اس ٹائم مریام شاہ اپنے پرائیویٹ روم میں ہوتا تھا جہاں کسی کو جانے کی اجازت تک نہ تھی۔
"مُجھے بہت ضروری بات کرنی ہے اُن سے،اُن سے بولو کہ اُسامہ ملنا چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
"مُجھے اپنی جان تُم سے زیادہ عزیز ہے اس لئے مُجھ سے ایسی توقع مت رکھنا،ویسے بھی ایک گھنٹہ ویٹ کر لو وہ آفس میں آ جائیں تو بات کر لینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
"مُجھے تُمہارے مُفت مشوروں کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ چڑ کر بولتا مریام شاہ کے آفس کی طرف بڑھ گیا۔علینہ کندھے اُچکاتی اپنے کام کی طرف متوجہ ہوئی۔
اُسامہ کو بیٹھے ایک گھنٹہ ہوا تھا کہ پرائیوٹ روم کا دروازہ کُھلا تھا اور خاکی پینٹ اور گرے شرٹ پہنے اپنی مردانہ وجاہت لئے مریام شاہ آفس میں داخل ہوا تھا۔اُسامہ اسے دیکھ کر اپنی جگہ سے کھڑا ہوا۔
"بولو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"مریام شاہ کہتا ہوا اپنی سیٹ پر بیٹھا تھا اور ساتھ اسے بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا۔
"جونیجو کراچی آیا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"اُسامہ نے اپنی طرف سے بڑی خبر دی تھی مگر مریام شاہ کے تاثرات دیکھ کر اُسکا جوش جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔
"افسوس تُم دو گھنٹے لیٹ ہو گئے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"مریام شاہ کی بات کا مطلب سمجھتے وہ دل ہی دل میں اُس اطلاع دینے والے کو کوس کر رہ گیا۔
"تو پھر آپ نے اُس کے لئے کوئی حُکم کیوں نہیں دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"اُسامہ کو حیرانی ہوئی تھی۔
"مُجھے یقین نہیں آ رہا کہ تُم بارہ سال میرے ساتھ رہ کر بھی اتنے عقلمند نہیں ہوئے کہ میری باتوں کو سمجھ سکو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"اُسامہ اُسکی بات پر خفیف سا ہو گیا۔
"بڑی مچھلی کو پکڑنے کے لئے چھوٹی مچھلی کو کُھلا ہی رہنے دینا چاہیئے اور تُم جانتے ہو میرا اصل ٹارگٹ قادر بلوچ ہے اُس تک جانے کے لئے جونیجو ہی ہمیں کوئی راستہ دکھا سکتا،ویسے بھی مریام شاہ کو چھوٹے لوگوں کی فکر نہیں ہوتی جو مُجھ سے مقابلہ کرنے کے لئے کسی دوسرے کے سہارے کے محتاج ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"مریام شاہ کے لہجے میں اپنی زات کا غرور صاف چھلک رہا تھا۔اُسامہ بھی سمجھ کر مُسکرایا تھا۔
"میرے لئے کیا حُکم ہے اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
"سُنا ہے جونیجو کسی بہت ہی خاص کام سے کراچی آیا اور وہ کام کا ہونا قادر بلوچ کے لئے بہت ضروری اور میریام شاہ کے لئے اُسکا نہ ہونا ضروری ہے،آگے تُم سمجھ تو گئے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"مریام شاہ کے لبوں کو ایک خوبصورت مُسکراہٹ نے چُھو لیا تھا۔اُسامہ بھی جیسے سمجھ کر مسکرایا۔اور باہر کی جانب قدم بڑھا دئیے۔
"_____________________________"
آج صُبح سے ہی بارش زور و شور سے ہو رہی تھی اور وہ کمرے میں بند بستر میں گھس کے بیٹھی تھی اُسے بچپن سے ہی بارش اور بادلوں کی گرج چمک سے بہت ڈر لگتا تھا کیونکہ ایک ایسی ہی رات میں اُس کے ماں باپ اور بھائی کو کسی نے بڑی بے رحمی سی مار کر ان کے گیٹ پر پھینک کر چلے گئے تھے۔تب یہ صرف دس سال کی تھی اور تب کا آن بیٹھا خوف ابھی تک نہیں نکلا تھا۔
"پرخہ بیٹی۔کہاں ہو تُم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"صندل بوا جو بچپن سے اسکی ماں باپ ہر رشتہ نبھا رہی تھیں جانتی تھیں وہ بارش سے بہت ڈرتی ہے اس لئے حویلی کا کام نپٹا کر اسکے پاس آئیں تھیں۔
"بُوا میں یہاں ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔"ہمیشہ کی طرح آج بھی اُنکو دیکھ کر اسے ڈھارس ملی تھی۔صندل بوا اسکے بستر پر ہی ٹک گئیں تو پرخہ نے اپنا سر اُنکی گود میں رکھ لیا اور اُن کے ٹھنڈے یخ ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لئے اور بولی۔
"آپ اب کام نہ کیا کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
"میں نہ کروں تو کیا تُمہیں کرنے دُوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔"صندل بوا نے پیار سے اُس کے نرم و ملائم بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
"اتنے تو کام کرنے والے لوگ ہیں اس حویلی میں،نو مالک ہیں اور پچاس ملازم ہیں پھر بھی آپ کیوں تائی ماں کے کام کرتی ہیں مُجھے اچھا نہیں لگتا،آپ بس ہر ٹائم میرے پاس رہا کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
"ہاں پر نسیماں بی بی ہم دونوں کو یوں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے دیکھ نہیں سکتیں یوں سمجھو کہ دو وقت کا کھانے کے لئے کسی ایک کو تو اُنکی چاکری کرنے پڑے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
"تو آپ بیٹھیں میں آپ کے حصے کا کام کرونگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"پرخہ پرجوش انداز میں اُٹھی مگر صندل بوا نے سر نفی میں ہلایا۔
"آج کے بعد ایسی بات بھی اپنے مُنہ سے مت نکالنا،تُم ابھی پیدا ہونے والی تھی جب حُسنہ بی بی نے مُجھے اپنے پاس بلوایا تھا تُمہاری دیکھ بال کے لئیے اور تب سے میں تُمہارے ساتھ ہوں کراچی جانے سے پہلے بھی حُسنہ بی بی نے مُجھے تُمہارا خاص خیال رکھنے کو کہا تھا تو میں کیسے تُمہیں یوں کام کرتے ہوئے دیکھ سکتی ہوں،تُم تو شہزادیوں کی طرح رہا کرو تا کہ کُچھ تو میں وجاہت صاحب اور حُسنہ بی بی کا قرض اُتار سکوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"انکی نگاہیں نم ہو گئیں تھیں۔پرخہ کی آنکھوں کے آگے اپنے ماما پاپا اور پانچ سالہ ساحل کی خُون سے لت پت لاشیں لہرائیں تو اُسکی آنکھیں بھی پانیوں سے بھر گئیں۔
"بُوا کتنے اچھے دن تھے نہ وہ جب ماما پاپا میں اور ساحل گھومنے جایا کرتے تھے،میں اور ساحل ایک ساتھ سکول جاتے تھے اور ماما ہمیں مزے مزے کے اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاتی تھیں اور پاپا مُجھے اپنا بیٹا اور ماما ساحل کو اپنا بیٹا کہہ کر گیمز کھیلتے تھے ایک مُکمل اور خُوشحال گھرانہ تھا ہمارا بوا کس کی نظر لگ گئی یوں اچانک سے کون کھا ہماری خُوشیوں کو یہ بھی نہ سوچا کہ ساحل ایک معصوم بچہ اُسکا کیا قصور تھا اُس کے سینے پر گولی برساتے زرا رحم نہ آیا ظالموں کو بوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"پرخہ کی آنکھوں سے آنسو تسبیح کے دانوں کی طرح گرنے لگے۔صندل بُوا بھی سسک اُٹھیں۔

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *