Ahtayaat by Faryal Khan NovelR50710 Ahtayaat by Faryal Khan Episode 1
Rate this Novel
Ahtayaat by Faryal Khan Episode 1
“رات کے کھانے کے سارے برتن میں نے دھو دیے ہیں، اب صبح ناشتے کے برتن تم دھوگی، سمجھی!”۔ مہک نے اپنے دوپٹے سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے کمرے میں داخل ہوکر کہا۔
“کوئی نئی بات تو نہیں ہے یہ بتانے والی، روز کی روٹین ہے ہمارے گھر کی، کہ ناشتہ کھانا امی بناتی ہیں، ناشتے اور دوپہر کے کھانے کے برتن میں دھوتی ہوں جبکہ رات کے آپ”۔ خوشبو نے نظریں ہنوز موبائل سکرین پر جمائے لاپرواہی سے کہا۔
مہک نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اور کونے میں لگے سوئچ بورڈ کے پاس آکر اپنا موبائل چارج پر سے نکالنے لگی۔ پھر کمرے کی لائٹ بند کرکے موبائل لے کر وہ بیڈ پر خوشبو کے برابر میں اپنے بستر پر آکر لیٹ گئی۔ اور نوٹیفیکیشن چیک کرنے کیلئے موبائل ڈیٹا ان کردیا۔
“ویسے امی کو چاہئے کہ گھر کی صفائی اور برتن کپڑے دھونے کیلئے کوئی ماسی رکھ لیں، قسم سے تھک جاتے ہیں ہم یہ برتن کپڑے دھوتے اور گھر صاف کرتے ، اور یہ ختم بھی نہیں ہوتے،گندے برتن ہر تھوڑی دیر بعد، اور میلے کپڑے ہر تھوڑے دنوں بعد پھر جمع ہوجاتے ہیں”۔ خوشبو نے موبائل چلاتے ہوئے کہا۔
“بری بات ہے، ایسے نہیں بولتے، بلکہ ہمیں تو اللّه پاک کا شکر ادا کرنا چاہئے، ہم خوش نصیب ہیں کہ ہمیں بار بار گندے برتن، میلے کپڑے دھونے پڑتے ہیں اور گھر صاف کرنا پڑتا ہے”۔ مہک نے اطمینان سے کہا۔
“کیا ! دماغ ٹھیک ہے آپی آپکا ! بھلا کپڑے برتن دھونا اور گھر کی صفائی کرنا کونسی خوش نصیبی ہوتی ہے؟۔ خوشبو نے حیرانگی سے کہا۔
“تم میری بات سمجھی ہی نہیں، میرا مطلب کہ ہمیں بار بار گندے برتن کیوں دھونے پڑتے ہیں ؟ کیونکہ ہم ان برتنوں میں کھانا کھاتے ہیں، تب ہی وہ برتن گندے ہوتے ہیں، تو اسکا مطلب ہوا کہ ہم خوش نصیب ہیں کہ ہمیں رزق مل رہا ہے، ورنہ کتنے ایسے لوگ ہے جو بھوکے سوتے ہیں یا جنہیں ایک وقت کا کھانا بھی مشکل سے نصیب ہوتا ہے، ہم کپڑے پہنتے ہیں تب ہی وہ میلے ہوتے ہیں، اسکا مطلب کہ ہم خوش نصیب ہیں کہ ہمارے پاس تن ڈھاکنے کیلئے لباس ہے، ورنہ کتنے لوگوں کو تو یہ بھی نصیب نہیں ہوتا، ہم خوش نصیب ہیں کہ ہمیں بار بار گھر کی صفائی کرنی پڑتی ہے، کیونکہ ہمارے پاس گھر ہے، ورنہ کچھ لوگ تو چھت کیلئے ترستے ہوئے فٹ پاتھوں پر سوتے ہیں”۔ مہک نے وضاحت کی۔
“ہاں ! یہ بات تو ہے، اللّه کا شکر ہے لاکھ لاکھ، اب میں کبھی ان کاموں کو کرنے میں ناک منہ نہیں بناؤں گی، اور جن لوگوں کو یہ سہولتیں میسر نہیں ہیں انکے لئے بھی دعا کروں گی، کہ اللّه پاک انکی مشکلیں آسان کرے”۔ خوشبو نے تاسف سے کہا۔
“امین “۔ مہک نے کہا۔ اور اپنے موبائل کی جانب متوجہ ہوگئی۔ جہاں نوٹیفیکشنز کی لائن لگی ہوئی تھی۔ وہ ایک ایک کرکے سب چیک کرنے لگی اور سب کا جواب دینے لگی۔
“پتہ ہے خوشبو ، میں نے جو شاعری والا اپنا پیج بنایا تھا ناں، اس پر ایک ہزار لائکس ہوگئے ہیں”۔ مہک نے بتایا۔
“ایک ہزار ہوئے ہیں ناں! جب ایک لاکھ ہوجائیں تب بتانا”۔ خوشبو نے لاپرواہی سے کہا۔ مہک ہنوز نوٹیفیکیشنز کا جواب دینے میں مصروف تھی۔ کہ تب ہی اسے میسینجر پر میسج موصول ہوا۔ اس نے چیک کیا تو سیما کا میسج تھا۔
“یہ سیما کون ہے؟ خوشبو نے پوچھا۔ جو سکرین پر اسکا نام پڑھ چکی تھی۔
“فیس بک فرینڈ ہے، ابھی کچھ دنوں پہلے ہی اسکا میسیج آیا تھا میرے پاس، کہہ رہی تھی کہ میری لکھی ساری شاعریاں پڑھتی ہے یہ، اسے سب بہت پسند ہیں، مجھ سے دوستی کرنا چاہتی ہے، اس نے ریکویسٹ بھیجی تو میں نے ایکسیپٹ کرلی”۔ مہک نے بتایا۔
“واہ ! ایسے ہی کسی بھی انجان کو منہ اٹھا کر فرینڈ لسٹ میں شامل کرلیا”۔ خوشبو نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
“صرف فرینڈ لسٹ میں ہی تو شامل کیا ہے، اس میں اتنی کونسی بڑی بات ہے”۔ مہک نے اطمینان سے کہا۔ خوشبو کاندھے اچکا کر دوبارہ اپنے موبائل میں مگن ہوگئی۔ جبکہ مہک سیما سے بات چیت کرنے لگی۔
“مہک ! آج میں نے ایک ویب سائٹ ڈھونڈی ہے، آپ اپنی شاعری اس ویب کو سینڈ کریں، پھر یہ اسے اپنی ویب پر شائع کریں گے تو آپکے اور بھی فین بن جائیں گے”۔ سیما کا میسیج آیا۔
“اچھا ! یہ تو بہت اچھی بات ہے، نام بتاؤ ویب کا”۔ مہک نے ریپلائی کیا۔
“ارے نام کی کیا ضرورت ہے، میں آپکو سیدھا لنک دیتی ہوں ناں”۔ سیما کا جواب آیا۔
“ٹھیک ہے کرو سینڈ”۔ مہک نے خوشی سے کہا۔ پھر تھوڑی بعد مہک کو ایک لنک موصول ہوا۔ اس نے لنک پر کلک کیا تو ایک اپشن آیا جو فیس بک سے لاگ ان کرنے کیلئے موبائل نمبر اور پاس ورڈ مانگ رہا تھا۔ ایک لمحے کو مہک کے دل نے کہا کہ “مہک نمبر مت ڈالنا” پر اس نے دھیان نہیں دیا۔ اور اپنا نمبر ڈال کر لاگ ان پر کلک کردیا۔ تھوڑی دیر سرچینگ ہوئی پھر کچھ لکھا ہوا آیا۔ جو کم از کم اسکی سمجھ سے باہر تھا۔ مہک نے اسکا سکرین شاٹ لیا اور سیما کو سینڈ کرکے پوچھا کہ یہ آرہا ہے، اب کیا کروں؟ سیما نے سکرین شاٹ دیکھ لیا تھا۔ پر اسکا جواب نہیں آیا۔ مہک نے دو تین بار مسیج کیے پر جواب دینے کے بجائے وہ آف لائن ہوگئی۔ پھر مہک نے بھی زیادہ دھیان نہیں دیا اور دوسری چیزوں میں مصروف ہوگئی۔ تھوڑی دیر گزرنے کے بعد اسے واٹس ایپ پر ایک اجنبی نمبر سے میسیج موصول ہوا۔
اس نے میسیج چیک کیا تو ڈی پی کسی لڑکے کی تھی اور میسیج “السلام و علیکم” کا تھا۔ اسے بہت حیرت ہوئی کہ اسکا نمبر کیسے اسکے پاس پہنچ گیا۔
“کون ؟ مہک نے میسیج کیا۔
“آپکا فین”۔ جواب آیا۔
“کیا مطلب ؟ کون ہو تم ؟ اور میرا نمبر کہاں سے ملا تمھیں؟۔ مہک نے پوچھا۔
“میں آپکا فین ہوں، میرا نام اطہر ہے، اور مجھے آپکا نمبر آپکے فیس بک پیج سے ملا ہے”۔ جواب آیا۔
“جھوٹ ! میں نے پیج پر اپنا نمبر ڈالا ہی نہیں ہے، سچ سچ بتاؤ نمبر کہاں سے ملا؟۔ مہک نے پوچھا۔
“ارے میں نے گوگل سے آپکا پیج اوپن کیا، تھوڑی سی جدوجہد کی اور نمبر لے لیا”۔ وہی جواب آیا۔
“خوشبو ! جلدی سے گوگل کھول کر میرا پیج اوپن کرو”۔ مہک نے کہا۔
“کیوں کیا ہوگیا؟۔ خوشبو نے چونک کر پوچھا۔ پھر مہک نے اسے ساری تفصیل بتائی۔
“آپی پیج پر تو کہیں بھی آپکا نمبر نہیں ہے”۔ خوشبو نے بتایا۔
“دیکھو ! سچ سچ بتا دو کہ تم نے نمبر کیسے لیا ہے؟۔ مہک نے میسیج کیا۔
“چلو اب تم ضد کررہی ہو تو تمہارے بارے میں سب کچھ بتاتا ہوں، تم مہک ہو، تمہاری عمر بیس سال ہے، تم سیکنڈ ایئر کی سٹوڈنٹ ہو ، تم دو بہنیں ہو، اور تمہارے ابو کی موبائل کی شاپ ہے، اور اس وقت تمہارے ہاتھ میں Q Mobile E900 ہے، ہے ناں ؟۔ اطہر کا جواب آیا۔ یہ پڑھ کر تو دونوں کے ہوش ہی اڑگئے۔
“آپی ! اسے یہ سب کیسے پتہ چلا”۔ خوشبو نے حیرانگی و پریشانی سے کہا۔
“پتہ نہیں”۔ اس نے لاعلمی ظاہر کی۔ تب ہی دوبارہ میسیج ٹون بجی۔ اور اب تو میسیج دیکھ کر نہ صرف دونوں کے ہوش اڑ گئے۔ بلکہ دل بھی کسی کمزور پتے کی مانند کانپنے لگا۔ دونوں اٹھ کر بیٹھ گئیں۔ کیونکہ اس نے مہک اور خوشبو کی تصویریں سینڈ کی تھیں۔ یہ تصویریں مہک کے فون میں تھیں۔
“میں نے تمہارا فون ہیک کرلیا ہے، میں نے جب نمبر لیا تھا تو سوچا تھا کہ یہ ان نہیں ہوگا، پر دیکھو میری قسمت، کہ نمبر ان تھا، اب مجھے تم سے دوستی کرنی ہے”۔ اسکا میسیج آیا۔
مہک جلدی سے سیدھی ہوکر بیٹھ گئی۔ اور فٹافٹ فون آف کرکے اس میں سے کارڈ اور سم نکال دیے۔ دونوں کا دل اس وقت ڈر کے مارے بری طرح کانپ رہا تھا۔
“اب کیا کریں آپی ؟ ابو کو بتائیں کیا ؟ خوشبو نے پوچھا۔
“تم بتاؤ، بتانا چاہئے کیا؟ مہک نے الٹا سوال کیا۔ وہ بھی بہت گھبرائی ہوئی تھی۔
“ایسا کرتے ہیں بتا دیتے ہیں”۔ خوشبو نے کہا۔ مہک نے گھڑی کی جانب دیکھا۔ جو رات کا ایک بجنے کی اطلاع دے رہی تھی۔
“ابھی تو امی ابو سوگئے ہوں گے، صبح بتا دیں گے”۔ مہک نے کہا۔
“ٹھیک ہے، پر پکا ناں آپی کوئی مسلہ نہیں ہوگا؟۔ خوشبو نے پوچھا۔
“ہاں ! کچھ نہیں ہوگا”۔ مہک نے اسکے ساتھ ساتھ خود کو بھی تسلی دی۔
“چلو سو جاؤ تم، کچھ نہیں ہوگا”۔ مہک نے کہا۔ اور دونوں واپس لیٹ گئیں۔ مہک نے اپنا موبائل سم اور کارڈ تکیے کے نیچے رکھ لئے۔ اسکا دل کسی پتے کی طرح کانپ رہا تھا۔ وہ سوچنے لگی کہ آخر اس لڑکے کو اتنا سب کچھ کیسے پتہ چلا۔ پھر اسے خیال آیا کہ یہ ساری باتیں تو اس نے اپنے فیس بک فرینڈز کو بتائی ہوئی ہیں۔ پر اسکی فرینڈ لسٹ میں تو سب اسکے جاننے والے ہی تھے۔ تب ہی اسکے ذہن میں کوندا لپکا۔ سیما تو انجان تھی ناں! پر اس نے اسے بھی یہ سب بتایا ہوا تھا کہ انکے گھر میں کون کون ہے، ابو کیا کرتے ہیں، وہ کتنے سال کی ہے، اور کونسی کلاس میں ہے۔ ساری کڑیاں مل گئیں۔
“اسکا مطلب یہ جو سیما تھی یہ دراصل اطہر ہی تھا۔ جس نے نقلی آئی ڈی کے ذریعے مجھ سے معلومات لی۔ اور جو لنک سیما (اطہر) نے مجھے سینڈ کیا تھا۔ اس پر نمبر ڈالنے سے ہی میرا نمبر اطہر تک پہنچا تھا اور فون ہیک ہوا”۔ مہک نے دل میں سوچا۔
مہک اس وقت بہت پچھتا رہی تھی۔ اور سوچ رہی تھی کہ کاش کاش اس نے اپنے دل کی سنی ہوتی اور اس لنک پر نمبر نہیں ڈالا ہوتا۔ پر کسی کاش سے کوئی فائدہ نہیں ہونے والا تھا۔
اس نے خوشبو کی جانب دیکھا۔ جو آنکھیں بند کیے سونے کی کوشش کررہی تھی۔ دونوں ہی اس وقت پریشان، ڈری اور گھبرائی ہوئی تھیں۔ پر ایک دوسرے کے سامنے مظبوط بنی ہوئی تھیں۔ شاید ایک دوسرے کو حوصلہ دے رہی تھیں۔ پھر تھوڑی دیر بعد مہک اٹھ کر باتھروم چلی گئی۔ اور وضو آکر آکے جائے نماز بجھائی اور دو رکعت نفل نماز حاجت کی نیت کرلی۔ خوشبو نے ایک نظر اسے دیکھ کر پھر سے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا تھا۔ مہک نے نماز پڑھی اور دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے۔ کافی دیر وہ چپ چاپ سر جھکائے آنسوں بہاتی رہی۔ کیونکہ کسی اور کیلئے بظاہر یہ بہت عام سی بات ہو۔ پر کہتے ہیں ناں کے
“جس تن نوں لگدی او تن جانڑے”
“جس پر گزرتی ہے وہی جانتا ہے”
وہ بھی لڑکی تھی۔ نازک تھی حساس تھی۔ ڈر گئی تھی وہ کہ کہیں کوئی بڑی انہونی نہ ہوجائے۔ کہیں وہ اسکی تصویروں کا غلط استمعال کرکے…………..!
بس اس سے آگے تو اس سے سوچا بھی نہیں جارہا تھا۔ ایک لڑکی ہونے کی حیثیت سے آگے کچھ بھی سوچ کر اسکی روح کانپ جاتی تھی۔ کافی دیر تک دعا مانگنے کے بعد پھر وہ بیڈ پر آکر لیٹ گئی۔ اور بےچینی سے صبح کا انتظار کرنے لگی۔
************************************
اللّه اللّه کرکے صبح ہوگئی تھی۔ اور چاروں اس وقت دسترخوان پر بیٹھے ناشتہ کررہے تھے۔ خوشبو نے مہک کو آنکھوں سے اشارہ کیا کہ “بتاؤ ابو کو”۔ مہک نے خشک ہوتے لبوں پر زبان پھیرتے ہوئے لب کھولے۔
“ابو ! آپ سے ایک بات کرنی ہے”۔ مہک نے ہمت جمع کرکے کہا۔
“ہممم! بولو بیٹا”۔ راشد صاحب نے کہا۔
“ابو کل رات مجھے ایک انجان نمبر سے میسیج آیا کہ………….! اور پھر مہک نے باقی ساری تفصیل بھی انھیں بتادی۔ جسے وہ خاموشی سے سنتے رہے۔
“دیکھا ! اسی لئے منع کرتی تھی میں یہ فیس بک کے چکر میں پڑنے سے”۔ ساری بات سن کر نجمہ نے کہا۔
“امی اس میں بھلا ہماری کیا غلطی ہے؟۔ مہک نے کہا۔
“اچھا اپنا فون اور سم لے کر آؤ”۔ راشد صاحب نے نرمی سے کہا۔ مہک اٹھ کر کمرے میں گئی اور فون لے آئی۔ راشد صاحب نے موبائل میں سم واپس لگا کر اسے ان کیا۔ ان کرتے ہی اطہر کے میسیج موصول ہوئے۔
راشد صاحب نے اپنے موبائل میں کسی کا نمبر ڈائل کیا اور فون کان سے لگایا۔
“السلام علیکم ظفر صاحب، خیریت سے ہیں؟……. جی ایک چھوٹا سا کام ہے آپ سے، ایک نمبر سینڈ کیا ہے میں نے آپکو، ذرا اسکے بارے معلوم کرکے تو بتائیں…………تنگ کررہا ہے یہ میری بیٹی کو……………..جی ٹھیک ہے”۔ راشد صاحب نے کہا اور موبائل کان سے ہٹا کر لائن کاٹ دی۔
“گھبراؤ نہیں، ظفر صاحب ایس۔ایچ۔او ہیں، میری اچھی سلام دعا ہے ان سے، ابھی تھوڑی دیر میں ساری معلومات نکال لیں گے اسکی”۔ راشد صاحب نے مہک کو کہا۔ پھر تھوڑی دیر بعد ظفر صاحب کا فون آیا۔ اور انھوں نے بتایا کہ یہ نمبر کسی شہزاد احسان نامی لڑکے کا ہے، اور ساتھ ہی ساتھ اسکا پتہ بھی نکلوالیا تھا۔ راشد صاحب نے پھر مہک کے نمبر سے شہزاد عرف اطہر کو فون کیا۔ اور انھوں نے بس اسے اسکے اصلی نام سے مخاطب ہی کیا تھا کہ اس نے لائن کاٹ دی۔
“سارا ایڈریس مل گیا ہے اسکا، ظفر صاحب سے کہتا ہوں کہ ابھی کچھ سپاہی لے کر پہنچیں اسکے گھر، اور طبیعت ٹھیک کریں اسکی”۔ راشد صاحب نے کہا۔
“ابو ابھی رہنے دیتے ہیں، اگر دوبارہ اس نے تنگ کیا تو گرفتار کروادیں گے”۔ مہک نے کہا۔
“نہیں بیٹا، ایسے لوگوں کی عقل ٹھکانے لگانا ضروری ہوتا ہے”۔ راشد صاحب نے کہا۔
“اور تم نے بہت اچھا کیا جو ہمیں بتا دیا، کبھی بھی کوئی بھی مسلہ ہو، گھر والوں سے نہیں چھپانا چاہئے”۔ انھوں نے مزید کہا۔
************************************
یہ تو محض ایک چھوٹی سی کہانی تھی۔ لیکن یہ حقیقت کے بہت نزدیک تھی۔ روزانہ ہمیں کئی لوگوں کی فرینڈ ریکویسٹ موصول ہوتی ہیں۔ جن میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہوتے ہیں۔ پر ہمیں چاہئے کہ بنا جان پہچان کسی کو بھی اپنے پاس ایڈ نہ کریں۔ اور نہ ہی ہر کسی کو اپنے بارے میں بتائیں۔
اور نہ ہی بنا کسی تحقیق کے کسی لنک پر کلک کریں۔ کیونکہ ٹیکنولجی بہت آگے جاچکی ہے۔ اور جہاں کچھ لوگ اس سے فیض یاب ہورہے ہیں۔ وہیں کچھ لوگ اسکا غلط استمعال بھی کررہے ہیں۔ اور انھوں نے بڑی چالاکی سے ہمارے ارد گرد جال بن رکھا ہوتا ہے۔ لہٰذا اس جال میں پھنسنے سے بچنے کیلئے ہر قدم پھونک پھونک کر رکھیں۔
اور ایک بہت ضروری بات کہ کبھی بھی کسی انجان نمبر سے کال یا میسیج آئے تو اسکا جواب مت دیں، یہاں تک کہ “آپ کون” کا میسیج بھی مت کریں، اگر وہ آپکا کوئی جاننے والا ہوگا تو خود بتا دے گا کہ “میں ہوں فلاں” پر آپ نے ہرگز جواب نہیں دینا ہے۔
ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگوں کو یہ بہت معمولی بات لگے۔ پر ایک لڑکی کے لئے یہ معمولی بات نہیں ہے۔
مہک کی تو قسمت اچھی تھی کہ اسے اسکے ابو کی سپورٹ حاصل تھی۔ پر ضروری نہیں ہے کہ ہر لڑکی کو یہ ایسے موقے پر ایسی سپورٹ حاصل ہو۔ لہٰذا ایسے موقے پیدا ہونے ہی نہ دیں۔ اور “احتیاط” کریں۔
ختم شد
