Ahtayaat by Faryal Khan NovelR50710 Last updated: 30 May 2026
Rate this Novel
Ahtayaat by Faryal Khan
اللّه اللّه کرکے صبح ہوگئی تھی۔ اور چاروں اس وقت دسترخوان پر بیٹھے ناشتہ کررہے تھے۔ خوشبو نے مہک کو آنکھوں سے اشارہ کیا کہ "بتاؤ ابو کو"۔ مہک نے خشک ہوتے لبوں پر زبان پھیرتے ہوئے لب کھولے۔
"ابو ! آپ سے ایک بات کرنی ہے"۔ مہک نے ہمت جمع کرکے کہا۔
"ہممم! بولو بیٹا"۔ راشد صاحب نے کہا۔
"ابو کل رات مجھے ایک انجان نمبر سے میسیج آیا کہ.............! اور پھر مہک نے باقی ساری تفصیل بھی انھیں بتادی۔ جسے وہ خاموشی سے سنتے رہے۔
"دیکھا ! اسی لئے منع کرتی تھی میں یہ فیس بک کے چکر میں پڑنے سے"۔ ساری بات سن کر نجمہ نے کہا۔
"امی اس میں بھلا ہماری کیا غلطی ہے؟۔ مہک نے کہا۔
"اچھا اپنا فون اور سم لے کر آؤ"۔ راشد صاحب نے نرمی سے کہا۔ مہک اٹھ کر کمرے میں گئی اور فون لے آئی۔ راشد صاحب نے موبائل میں سم واپس لگا کر اسے ان کیا۔ ان کرتے ہی اطہر کے میسیج موصول ہوئے۔
راشد صاحب نے اپنے موبائل میں کسی کا نمبر ڈائل کیا اور فون کان سے لگایا۔
"السلام علیکم ظفر صاحب، خیریت سے ہیں؟....... جی ایک چھوٹا سا کام ہے آپ سے، ایک نمبر سینڈ کیا ہے میں نے آپکو، ذرا اسکے بارے معلوم کرکے تو بتائیں............تنگ کررہا ہے یہ میری بیٹی کو.................جی ٹھیک ہے"۔ راشد صاحب نے کہا اور موبائل کان سے ہٹا کر لائن کاٹ دی۔
"گھبراؤ نہیں، ظفر صاحب ایس۔ایچ۔او ہیں، میری اچھی سلام دعا ہے ان سے، ابھی تھوڑی دیر میں ساری معلومات نکال لیں گے اسکی"۔ راشد صاحب نے مہک کو کہا۔ پھر تھوڑی دیر بعد ظفر صاحب کا فون آیا۔ اور انھوں نے بتایا کہ یہ نمبر کسی شہزاد احسان نامی لڑکے کا ہے، اور ساتھ ہی ساتھ اسکا پتہ بھی نکلوالیا تھا۔ راشد صاحب نے پھر مہک کے نمبر سے شہزاد عرف اطہر کو فون کیا۔ اور انھوں نے بس اسے اسکے اصلی نام سے مخاطب ہی کیا تھا کہ اس نے لائن کاٹ دی۔
"سارا ایڈریس مل گیا ہے اسکا، ظفر صاحب سے کہتا ہوں کہ ابھی کچھ سپاہی لے کر پہنچیں اسکے گھر، اور طبیعت ٹھیک کریں اسکی"۔ راشد صاحب نے کہا۔
"ابو ابھی رہنے دیتے ہیں، اگر دوبارہ اس نے تنگ کیا تو گرفتار کروادیں گے"۔ مہک نے کہا۔
"نہیں بیٹا، ایسے لوگوں کی عقل ٹھکانے لگانا ضروری ہوتا ہے"۔ راشد صاحب نے کہا۔
"اور تم نے بہت اچھا کیا جو ہمیں بتا دیا، کبھی بھی کوئی بھی مسلہ ہو، گھر والوں سے نہیں چھپانا چاہئے"۔ انھوں نے مزید کہا۔
یہ تو محض ایک چھوٹی سی کہانی تھی۔ لیکن یہ حقیقت کے بہت نزدیک تھی۔ روزانہ ہمیں کئی لوگوں کی فرینڈ ریکویسٹ موصول ہوتی ہیں۔ جن میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہوتے ہیں۔ پر ہمیں چاہئے کہ بنا جان پہچان کسی کو بھی اپنے پاس ایڈ نہ کریں۔ اور نہ ہی ہر کسی کو اپنے بارے میں بتائیں۔
اور نہ ہی بنا کسی تحقیق کے کسی لنک پر کلک کریں۔ کیونکہ ٹیکنولجی بہت آگے جاچکی ہے۔ اور جہاں کچھ لوگ اس سے فیض یاب ہورہے ہیں۔ وہیں کچھ لوگ اسکا غلط استمعال بھی کررہے ہیں۔ اور انھوں نے بڑی چالاکی سے ہمارے ارد گرد جال بن رکھا ہوتا ہے۔ لہٰذا اس جال میں پھنسنے سے بچنے کیلئے ہر قدم پھونک پھونک کر رکھیں۔
اور ایک بہت ضروری بات کہ کبھی بھی کسی انجان نمبر سے کال یا میسیج آئے تو اسکا جواب مت دیں، یہاں تک کہ "آپ کون" کا میسیج بھی مت کریں، اگر وہ آپکا کوئی جاننے والا ہوگا تو خود بتا دے گا کہ "میں ہوں فلاں" پر آپ نے ہرگز جواب نہیں دینا ہے۔
ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگوں کو یہ بہت معمولی بات لگے۔ پر ایک لڑکی کے لئے یہ معمولی بات نہیں ہے۔
مہک کی تو قسمت اچھی تھی کہ اسے اسکے ابو کی سپورٹ حاصل تھی۔ پر ضروری نہیں ہے کہ ہر لڑکی کو یہ ایسے موقے پر ایسی سپورٹ حاصل ہو۔ لہٰذا ایسے موقے پیدا ہونے ہی نہ دیں۔ اور "احتیاط" کریں۔
