Zindagi Ki Chaon Tum Sy Hi by Jaweria Shabir NovelR50656 Zindagi Ki Chaon Tum Sy Hi (Episode 01)
Rate this Novel
Zindagi Ki Chaon Tum Sy Hi (Episode 01)
Zindagi Ki Chaon Tum Sy Hi by Jaweria Shabir
ارے ارے ہنی یہ کیا کرہی ہو اور یہ کیا پھیلاوہ پھلایا ہوا ہے شاہ زیب آفس سے تھکا ہوا آیا تھا اور اپنے کمرہ کی یہ حالت دیکھ کر اسکا دماغ چکرا گیا تھا حوریہ جو اسٹول پر چڑھی اسکے واڈروب میں گھسی اس کے سارے کپڑے نکال کر بیڈ پر ڈال رہی تھی اچانک شاہ زیب کی آواز پر اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور زمین بوس ہوجاتی کہ شاہ زیب نے اگے بڑھ کر اسے اپنی بانہوں میں تھام لیا حوریہ نے گرنے کے خوف سے انکھیں میچھ لی تھیں اپنے اپ کو آرام جگہ محسوس کرنے پر دھیرے دھیرے انکھیں کھولیں تو سامنے شاہ زیب کو دیکھا تو اسکا رکا ہوا سانس بہال ہوا ۔۔۔۔ شاہ زیب جو اسکو ڈانٹنے کے موڈ میں تھا اسکے معصوم سے چہرے پر بڑی بڑی ہیرنی جیسی انکھیں جو اسکے معصوم سےحسن کو اور نکھار پیدا کرتی تھیں نظر پڑتے ہی سارا غصہ ہوا ھو گیا وہ تھی ہی ایسی من موہنی سی گڑیا اپنا گرویدہ کردینے والی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سنبھال کر اسے نیچے اتارا ۔۔۔۔ اوہ شاہ آپ نے مجھے بچالیا ورنہ میں تو گرجاتی ۔۔۔ ہنی کیوں چڑہی ہوئ تھیں تم اسٹول پر اور میرے کپڑے کیوں پھیلائے ہوئے ہیں ؟؟؟؟؟ شاہ زیب کے انداز میں اب کہ سختی سی تھی !!!!
وہ آپ کو صبح پریشانی ہوتی ہے نہ آج صبح بھی آپکی ٹائ نہیں مل رہی تھی تو میں نے سوچا میں اپکے سارے کپڑے سیٹ کرکے رکھ دوں تاکہ آپ کو آرام سے کپڑے مل جائینگے اور اپکو آفس کیلیئے دیر بھی نہیں ہوگی اور ناشتہ بھی ارام سے کرلینگے اپ روز ناشتہ چھوڑ کے چلے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔ شاہ زیب اسے ہونقوں کی طرح دیکھ رہا تھا اس چھوٹی سی گڑیا کو دیکھ رہا تھا کبھی کبھی وہ اپنی عمر سے بڑی باتیں بھی کر جایا کرتی تھی تمھیں یہ سب کیسے پتا تم تو سورہی ہوتی ہو ؟؟؟ شاہ میں اپکی بیوی ہوں میں خیال نہیں رکھوں گی تو کون رکھے گا ؟؟؟ شاہ زیب کو لگا وہ اس دنیا میں اکیلا نہیں ہے کوئ تو ہے جو اسکا خیال رکھتا ہے شاہ زیب نے اسے کھینچ کر اپنے سینے سے لگا لیا خاموش انسو اسکے بالوں کو بھگو رہے تھے۔۔۔۔۔ 22 سال کا شاہ زیب بزنس ٹائیکون جس کے ماتھے پر ہر وقت بل رہتے تھے کام کے علاوہ اسے کسی اور سے بات کرنے تک کا ٹائم نہیں ملتا زندگی کے ان سرد و گرم تھپیڑوں نے اسے پتھر کا کر دیا تھا اج وہ 12 سال کی لڑکی کی باتوں سے پگھل گیا یا شاید اسے کوئ کاندھا میسر نہیں تھا جس پر سر رکھ کر وہ اپنا اتنے سال کا غماز آنسووں کے ذریعے نکال سکتا ۔۔۔ حوریہ کی باتوں سے اسے لگا کہ دنیا میں ایک ہی یہ ہمدرد ہے میری اج کتنے سال بعد اسکی انکھوں میں انسو ائے تھے یعنی اسکا پتھر دل پگھلا تھا ۔۔۔۔۔
حوریہ کو اپنے بالوں میں نمی محسوس ہوئ تو جھٹ سے اسنے سر اٹھا کر شاہ زیب کو دیکھا !!!!
شاہ ؛ شاہ آپ رو رہے ہیں شاہ زیب کو احساس ہوا تو اپنا سر اٹھا کر حوریہ کو دیکھا ۔۔۔ اچھا شاہ میں ائیندہ کبھی اپکی وارڈروب میں نہیں گھسونگی ۔۔۔ یہ لیں میں نے اپنے دونوں کان پکڑلیئے دیکھیں اب چپ ہوجائیں ۔۔۔ حوریہ نے اتنی معصوم سی شکل بنا کر کہا کہ بے اختیار ہی شاہ کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئ ۔۔۔ یاہو یاہو شاہ ہنس گئے اب وہ مجھ سے ناراض نہیں ہیں اچھل اچھل کر خوش ہوتے ہوئے بولی اور شاہ زیب اسے دیکھ دیکھ کر نہال ہوتا رہا ۔
ارے میں تو بھول ہی گئ آپکو تو بھوک لگی ہوگی میں بی اماں سے کہہ کر کھانے کا کہتی ہوں ۔۔۔۔
بی اماں ، بی اماں شاہ کیلئے کھانہ لگا دیں وہ افس سے اگئے ۔۔۔۔۔ بی اماں کو شاہزیب نے رکھا ہوا تھا وہ انکے گھر کا سارا کام کرتیں تھیں ویسے تو اور ملازم بھی تھے لیکن وہ بلاوجہ گھر میں نہیں اتے تھے بلکہ باہر کے ہی کام نبٹاتے تھے ۔
__________________
دو کمروں پر مشتمل ایک ٹی وی لاونج اور امریکن کچن بنا ہوا تھا گھر زیادہ بڑا نہیں تھا لیکن ان دونوں کے لحاظ سے بڑا ہی تھا بی جان اپنے بچوں کے ساتھ کواٹر میں رہتی تھیں جو کہ شاہ زیب کے گھر کے برابر میں ہی بنا ہوا تھا ۔۔۔۔
تمہارے اسکول کھلنے والے ہیں کل سے اس لئیے اب فالتو ایکٹیویٹیز کو ویکینڈ پر رکھ دو اور کل سے صبح جلدی اٹھ جانا اسکول کیلئیے اور شام کو اپنی کتابیں لے کر بیٹھ جانا ۔۔۔ “جی اچھا ” حوریہ نے تیڑے میڑے منہ سے جواب دیا ۔۔۔۔۔۔ کوئ اور وقت ہوتا تو وہ منع کردیتی لیکن شاہ زیب کی سنجیدہ آواز پر خاموش ہوگئ ۔۔۔۔۔ شاہ زیب اسکی حرکات کو بغور دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔ کھانے کے بعد حوریہ نے شاہ زیب کو باہر جاتے دیکھا تو پوچھا کہاں جارہے ہیں اپ ابھی تو آئے ہیں افس سے پھر باہر جارہے ہیں میرے لئے تو اپکے پاس ٹاہم ہی نہیں ہے شاہ زیب نے مسکرا کر حوریہ کو دیکھا او ہو دادی اماں ابھی اراھا ہوں دوست کے پاس سے پھر اکے ٹائم دیتا ہوں اسکے گالوں کو ہلکے سے تھپتھپا کر کہا اچھا پھر میرے لئے ائسکریم اور چاکلیٹ لانہ نہ بھولئے گا۔۔۔ اوکے شاہ زیب یہ کہہ کر باہر نکل گیا اور وہ اب بی اماں کا دماغ کھانے کچن میں چلی گئی ۔
_________________
شام کو جب وہ گھر ایا تو اسکے ساتھ اسکا جگری دوست تیمور بھی تھا ۔۔۔۔ تیمور بھائ اپ کتنے دنوں بعد ائیں ہیں اپ تو مجھے بھول ہی گئے ہیں ۔۔۔ تیمور کو یہ پیاری سی گڑیا اپنی بہنوں کی طرح عزیز تھی ۔۔۔۔ ہاں حور گڑیا میں کاموں میں الجھا ہوا تھا تیمور نے اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے
ہوئے جواب دیا ۔۔۔۔۔ لو شاہ کیا کم تھے جو آپ بھی بزی ہوگئے ۔۔۔۔ یار تیمور تو بیٹھ ذرا میں ابھی فریش ہو کر اتا ہوں ۔۔۔۔
شاہ تیمور سے کہتا ہوا اپنے روم کی طرف چلا گیا۔۔۔۔ اور وہ تیمور کے ساتھ باتوں میں لگ گئ۔۔۔۔۔۔۔
یہ لو گڑیا میں تمھارے لئے چاکلیٹ لایا ہوں ۔۔۔ اوہ سچ میں آپ بہت اچھے ہیں لیکن میں یہ ابھی نہیں لوں گی ورنہ شاہ مجھ سے ناراض ہو جائینگے اپ ایسا کرنا جب اپ جانے لگے نہ تب دے دیئیے گا۔۔۔ صحیح ہے نہ ؟؟؟؟ وہ کیوں ناراض ہوگا کہہ دینا کہ میں نے دی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کیا راز و نیاز ہو رہے ہیں میرے بغیر ؟؟؟؟ شاہ زیب نے ان دونوں کو ہلکے ہلکے بات کرتے ہوئے دیکھا تو مشکوک لہجہ میں پوچ
کچھ نہیں کچھ نہیں یہ ہماری پرسنل بات ہے ۔۔۔ اچھا چلو روم میں کتابیں لے کر بیٹھو آرہا ہوں میں ۔۔ ابھی تو بہت ٹائم ہے بعد میں پڑھ لوں گی نہ حوریہ نے منہ بناتے ہوئے کہا نہیں اٹھو جلدی پھر تم کہو گی کہ مجھے نیند ارہی ہے اچھا جارہی ہوں ۔۔۔ جاتے جاتے تیمور کو اشارے کرنا نہیں بھولی تھی ۔۔۔۔۔
یار یہ تو بہت پٹاخہ ہے تیمور نے شاہ زیب سے
کہا اور تو مجھے یہ بتا تو نے گڑیا کو کیوں منا کیا کہ وہ مجھ سے چاکلیٹ نہ لے سکندر نے گھورتے ہوئے کہا ؟؟؟ میں نے تجھے ہی نہیں سب کو منع کیا ہے اور میں لاکر دے تو دیتا ہوں پھر بھی سب سے لے لیتی ہے یہ اچھی بات نہیں ہے نہ اور تو اتنا ناراض نہ ہو مجھے پتا ہے اس نے تجھ سے لے لی ہوگی ۔۔۔۔۔ ہاں تیری طرح بے مروت تھوڑی ہے گڑیا تیمور نے ناراض ہوتے ہوئے کہا ۔۔یار تو لڑکیوں کی طرح منہ مت بنایا کر شاہ زیب نے اسکے پھولے ہوئے منہ بنانے پر اعتراض کیا ۔۔۔۔۔ چل یار اب میں چلوں گا امی انتظار کررہی ہوں گی اور یہ گڑیا کو دے دینا اوکے خدا حافظ..
__________________
شاہ زیب کمرہ میں داخل ہوا تو حوریہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ اونگھ بھی رہی تھی ہنی تم نے کھانا کھایا ؟؟؟ حوریہ چونک کر شاہ زیب کو دیکھا !! ججی شاہ آپ کیا کہہ رہے تھے ؟؟؟ شاہ زیب بیڈ کے قریب اکر اسکی کتابیں سمیٹ نے لگا جو حوریہ اپنے ارد گرد پھیلائے بیٹھی تھی !! جاو پہلے منہ دھو کر آو ؟؟ جب تک وہ منہ دھو کر باہر آئی وہ اسکی کتابیں سمیٹ کر بیگ میں رکھ چکا تھا ۔۔۔۔۔
ہاں اب بتاو کھانا کھالیا تم نے وہ اسکے ماتھے پہ آئے بالوں کو ہٹاتے ہوئے بولا ؟؟؟ جی کب کا کھا لیا ۔۔۔ اچھا اب بتاو کیا پڑھا تم نے جب سے ؟؟؟ اوہو ایک تو آپ جب بھی پڑھائی کے بارے میں پوچھتے ہیں نہ تو بلکل اچھے نہیں لگتے حوریہ نے چڑتے ہوئے کہا ۔۔۔ ہاہاہاہا ہاں مجھے پتا ہے چلو شاباش میتھ کی کتاب کھول کر سوال سولو کرو اور جو نہ آئے پوچھ لینا ۔۔۔۔۔ شاہ زیب نے اپنے لیپٹوپ پر میل چیک کرتے ہوئے حوریہ سے کہا ۔۔ کہنے کو تو حوریہ ذہین تھی لیکن پڑھائی سے جان جاتی تھی جبھی شاہ زیب پڑھائی کے معاملے میں جتنا ہی سخت تھا حوریہ اتنی ہی لا پرواہ تھی ۔۔۔۔۔۔
شاہ زیب اپنے کام میں اتنا مگن ہوگیا تھا کہ حوریہ کی طرف دھیان نہیں دیا اسے اپنے ہاتھ پر نرم چیز کا احساس ہوا تو گردن موڑ کر دیکھا حوریہ اسکے بازو پر بایاں گال رکھے سوگئی تھی بے اختیار ہی اس کی اس معصوم ادا پر پیار آیا اور دھیرے سے اس نے حوریہ کے ماتھے پر اپنی محبت کی مہر ثبت کردی اور دھیرے سے اسکا سر تھکیئے پر رکھ دیا اور خود اپنے کام میں بزی ہوگیا ۔۔۔
_______________
اسکی انکھ کھلی گھڑی کی جانب دیکھا جو 30: 7 بجا رہی تھی پھر اپنے برابر میں بے خبر سوتی ہوئی حوریہ پر ڈالی ایک ہاتھ اسکے سینے پر رکھے محو خواب تھی ہنی ، ہنی اٹھو جلدی اسکول کی دیر ہو جائے گی چلو جلدی کرو ۔۔۔ شاہ پلیز اور سونے دیں ابھی اٹھ جاوں گی نہ نہیں نہیں اٹھو اب کہ آواز میں سختی تھی جس نے حوریہ کو اٹھنے میں دیر نہیں لگائی پھر شاہ زیب خود بھی تیار ہوا اور اسے بھی جلدی تیار ہونے کا کہہ کر نیچے ناشتے کی ٹیبل پر چلا آیا تھوڑی دیر بعد وہ بھی بیگ ہاتھ میں اٹھائے اپنے بالوں کو اسکارف میں چھپا کر شاہ زیب کی برابر والی سیٹھ پر بیٹھ گئ ۔۔ شاہ زیب کو کبھی اسے اسکے لباس پر یا بد لحاظی پر ٹوکنا نہیں پڑا کیوں کہ اسے اس سب کی تربیت گھٹی میں پیلائی گئ تھی اس نے انکھ ہی تمیز و تہزیب کے درمیان کھولی تھی اس نے کبھی اپنے گھر کی عورتوں کو بغیر سر پر دوپٹا لئے باہر جاتے نہیں دیکھا یہی وجہ تھی جو اسکے اندر تہذیب خود بہ خود پروان چڑہتی گئ ۔۔۔
آرام آرام سے کھاو کھانا بھاگا تو نہیں جارہا شاہ زیب نے اسے جلدی جلدی کھانے پر ٹوکا ۔۔۔۔ اوہو ابھی تو آپ خود کہہ رہے تھے کہ دیر ہو رہی ہے اچھا میری ماں غلطی ہوگئی مجھ سے وہ اسکے اگے ہاتھ جوڑ کر اپنا کوٹ بازووں میں ڈال کر باہر کی جانب چلا گیا ۔۔۔۔
یہ لو چاکلیٹ کل تیمور لایا تھا میں دینا بھول گیا شاہ زیب نے گاڑی چلاتے ہوئے ایک ہاتھ میں اسٹیئرنگ سنبھالا اور دوسرا ہاتھ اسکی طرف بڑھایا جس میں ڈیری ملک تھی اور اسکے چہرے کے جانب دیکھا جس کے چہرے پر چاکلیٹ کے نام سے چمک آئی تھی کیا کہا تھا تم نے تیمور سے میرے بارے میں ؟؟؟ اب کہ سنجیدگی سے حوریہ سے پوچھا۔۔۔ حوریہ کا بڑھتا ہوا ہاتھ شاہ زیب کی آواز پر رک گیا اور چہرے پر اپنے پکڑے جانے کا خوف کے آثار نمایاں ہوگئے ۔۔۔۔ وہ وہ شاہ اتنے پیار سے لائے تھے اگر میں منع کرتی تو ان کو برا لگتا نہ حوریہ چوری چوری دیکھتے ہوئے بولی کہ کہیں ڈانٹ ہی نہ دیں ،،،، تو اس کا مطلب تم اسے ساری باتیں بتادوگی ۔۔۔۔۔۔ اسکی آواز پر حوریہ کے انسو نکل آئے جنھیں وہ اپنے پھولے پھولے گال رگڑ کر صاف کر رہی تھی وہ گاڑی چلا رہا تھا اس لئے اسکی طرف نہیں دیکھا جب کافی دیر تک حوریہ نے جواب نہیں دیا تو اسکی طرف دیکھا جو رونے میں مصروف تھی شاہ زیب نے گاڑی سائیڈ پر لگائی اور اس کا ہاتھ تھام کر پوچھا برا لگا میری ہنی کو ؟؟؟ حوریہ نے خفا خفا نظر شاہ زیب کی جانب ڈال کر نیچے جھکالی ۔۔۔ جب اسکو شاہ زیب کی کوئ بات بری لگتی وہ اسی طرح کرتی کہ بولنا بند کر دیتی ۔۔ اچھا اوکے سوری دیکھو میں نے اپنے کان بھی پکڑ لئے ؟؟ حوریہ نے اسکو دیکھا اور اسکے اسطرح کان پکڑنے پر کھلکھلا کر ہنس دی.
