Zindagi Ki Chaon Tum Sy Hi by Jaweria Shabir

دو کمروں پر مشتمل ایک ٹی وی لاونج اور امریکن کچن بنا ہوا تھا گھر زیادہ بڑا نہیں تھا لیکن ان دونوں کے لحاظ سے بڑا ہی تھا بی جان اپنے بچوں کے ساتھ کواٹر میں رہتی تھیں جو کہ شاہ زیب کے گھر کے برابر میں ہی بنا ہوا تھا ۔۔۔۔
تمہارے اسکول کھلنے والے ہیں کل سے اس لئیے اب فالتو ایکٹیویٹیز کو ویکینڈ پر رکھ دو اور کل سے صبح جلدی اٹھ جانا اسکول کیلئیے اور شام کو اپنی کتابیں لے کر بیٹھ جانا ۔۔۔ "جی اچھا " حوریہ نے تیڑے میڑے منہ سے جواب دیا ۔۔۔۔۔۔ کوئ اور وقت ہوتا تو وہ منع کردیتی لیکن شاہ زیب کی سنجیدہ آواز پر خاموش ہوگئ ۔۔۔۔۔ شاہ زیب اسکی حرکات کو بغور دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔ کھانے کے بعد حوریہ نے شاہ زیب کو باہر جاتے دیکھا تو پوچھا کہاں جارہے ہیں اپ ابھی تو آئے ہیں افس سے پھر باہر جارہے ہیں میرے لئے تو اپکے پاس ٹاہم ہی نہیں ہے شاہ زیب نے مسکرا کر حوریہ کو دیکھا او ہو دادی اماں ابھی اراھا ہوں دوست کے پاس سے پھر اکے ٹائم دیتا ہوں اسکے گالوں کو ہلکے سے تھپتھپا کر کہا اچھا پھر میرے لئے ائسکریم اور چاکلیٹ لانہ نہ بھولئے گا۔۔۔ اوکے شاہ زیب یہ کہہ کر باہر نکل گیا اور وہ اب بی اماں کا دماغ کھانے کچن میں چلی گئی ۔
شام کو جب وہ گھر ایا تو اسکے ساتھ اسکا جگری دوست تیمور بھی تھا ۔۔۔۔ تیمور بھائ اپ کتنے دنوں بعد ائیں ہیں اپ تو مجھے بھول ہی گئے ہیں ۔۔۔ تیمور کو یہ پیاری سی گڑیا اپنی بہنوں کی طرح عزیز تھی ۔۔۔۔ ہاں حور گڑیا میں کاموں میں الجھا ہوا تھا تیمور نے اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے
ہوئے جواب دیا ۔۔۔۔۔ لو شاہ کیا کم تھے جو آپ بھی بزی ہوگئے ۔۔۔۔ یار تیمور تو بیٹھ ذرا میں ابھی فریش ہو کر اتا ہوں ۔۔۔۔
شاہ تیمور سے کہتا ہوا اپنے روم کی طرف چلا گیا۔۔۔۔ اور وہ تیمور کے ساتھ باتوں میں لگ گئ۔۔۔۔۔۔۔
یہ لو گڑیا میں تمھارے لئے چاکلیٹ لایا ہوں ۔۔۔ اوہ سچ میں آپ بہت اچھے ہیں لیکن میں یہ ابھی نہیں لوں گی ورنہ شاہ مجھ سے ناراض ہو جائینگے اپ ایسا کرنا جب اپ جانے لگے نہ تب دے دیئیے گا۔۔۔ صحیح ہے نہ ؟؟؟؟ وہ کیوں ناراض ہوگا کہہ دینا کہ میں نے دی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کیا راز و نیاز ہو رہے ہیں میرے بغیر ؟؟؟؟ شاہ زیب نے ان دونوں کو ہلکے ہلکے بات کرتے ہوئے دیکھا تو مشکوک لہجہ میں پوچ
کچھ نہیں کچھ نہیں یہ ہماری پرسنل بات ہے ۔۔۔ اچھا چلو روم میں کتابیں لے کر بیٹھو آرہا ہوں میں ۔۔ ابھی تو بہت ٹائم ہے بعد میں پڑھ لوں گی نہ حوریہ نے منہ بناتے ہوئے کہا نہیں اٹھو جلدی پھر تم کہو گی کہ مجھے نیند ارہی ہے اچھا جارہی ہوں ۔۔۔ جاتے جاتے تیمور کو اشارے کرنا نہیں بھولی تھی ۔۔۔۔۔
یار یہ تو بہت پٹاخہ ہے تیمور نے شاہ زیب سے
کہا اور تو مجھے یہ بتا تو نے گڑیا کو کیوں منا کیا کہ وہ مجھ سے چاکلیٹ نہ لے سکندر نے گھورتے ہوئے کہا ؟؟؟ میں نے تجھے ہی نہیں سب کو منع کیا ہے اور میں لاکر دے تو دیتا ہوں پھر بھی سب سے لے لیتی ہے یہ اچھی بات نہیں ہے نہ اور تو اتنا ناراض نہ ہو مجھے پتا ہے اس نے تجھ سے لے لی ہوگی ۔۔۔۔۔ ہاں تیری طرح بے مروت تھوڑی ہے گڑیا تیمور نے ناراض ہوتے ہوئے کہا ۔۔یار تو لڑکیوں کی طرح منہ مت بنایا کر شاہ زیب نے اسکے پھولے ہوئے منہ بنانے پر اعتراض کیا ۔۔۔۔۔ چل یار اب میں چلوں گا امی انتظار کررہی ہوں گی اور یہ گڑیا کو دے دینا اوکے خدا حافظ..
شاہ زیب کمرہ میں داخل ہوا تو حوریہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ اونگھ بھی رہی تھی ہنی تم نے کھانا کھایا ؟؟؟ حوریہ چونک کر شاہ زیب کو دیکھا !! ججی شاہ آپ کیا کہہ رہے تھے ؟؟؟ شاہ زیب بیڈ کے قریب اکر اسکی کتابیں سمیٹ نے لگا جو حوریہ اپنے ارد گرد پھیلائے بیٹھی تھی !! جاو پہلے منہ دھو کر آو ؟؟ جب تک وہ منہ دھو کر باہر آئی وہ اسکی کتابیں سمیٹ کر بیگ میں رکھ چکا تھا ۔۔۔۔۔
ہاں اب بتاو کھانا کھالیا تم نے وہ اسکے ماتھے پہ آئے بالوں کو ہٹاتے ہوئے بولا ؟؟؟ جی کب کا کھا لیا ۔۔۔ اچھا اب بتاو کیا پڑھا تم نے جب سے ؟؟؟ اوہو ایک تو آپ جب بھی پڑھائی کے بارے میں پوچھتے ہیں نہ تو بلکل اچھے نہیں لگتے حوریہ نے چڑتے ہوئے کہا ۔۔۔ ہاہاہاہا ہاں مجھے پتا ہے چلو شاباش میتھ کی کتاب کھول کر سوال سولو کرو اور جو نہ آئے پوچھ لینا ۔۔۔۔۔ شاہ زیب نے اپنے لیپٹوپ پر میل چیک کرتے ہوئے حوریہ سے کہا ۔۔ کہنے کو تو حوریہ ذہین تھی لیکن پڑھائی سے جان جاتی تھی جبھی شاہ زیب پڑھائی کے معاملے میں جتنا ہی سخت تھا حوریہ اتنی ہی لا پرواہ تھی ۔۔۔۔۔۔
شاہ زیب اپنے کام میں اتنا مگن ہوگیا تھا کہ حوریہ کی طرف دھیان نہیں دیا اسے اپنے ہاتھ پر نرم چیز کا احساس ہوا تو گردن موڑ کر دیکھا حوریہ اسکے بازو پر بایاں گال رکھے سوگئی تھی بے اختیار ہی اس کی اس معصوم ادا پر پیار آیا اور دھیرے سے اس نے حوریہ کے ماتھے پر اپنی محبت کی مہر ثبت کردی اور دھیرے سے اسکا سر تھکیئے پر رکھ دیا اور خود اپنے کام میں بزی ہوگیا ۔

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *