Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh NovelR50744 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode10 Part(01)
Rate this Novel
Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode01 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode02 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode03 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode04 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode05 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode06 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode07 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode08 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode09 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode10 Part(01) (Watching)Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode10 Part(02) Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode11 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode12 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode13 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode14 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode15 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode16 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode17 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode18 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode19 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode20 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode21 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode22 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode23 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode24 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode25 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode26 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode27 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode28 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode29 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode30 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode31 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode32 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode33 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode34 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode35 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode36 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode37 Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Last Episode
Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode10 Part(01)
Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode10 Part(01)
نینا یکسوئی سے ٹیبل پر جھکی اپنے کام میں مگن تھی تبھی اس کے فون پر واٹس ایپ الرٹ ہوا۔ اس نے مصروف سے اندازمیں ایک نظر فون کی روشن اسکرین پر ڈالی پھر سر جھٹک کر دوبارہ فائل کی طرف متوجہ ہوگئی مگر اب اس کا ذہن فون پر ریسیوڈ ہونے والے میسج میں اٹکا ہوا تھا ۔
وہ تھوڑی دیر تو لاتعلق بنی رہی پھر بالآخر اس نے واٹس ایپ اوپن کیا۔
سوہنا سائیں ! آپ کہاں ہیں ۔۔۔۔۔؟میر زوار کے مخصوص شیریں لب و لہجے پر اس کے پیازی لب کھل گئے اور انگلیاں خودبخود موبائل کی اسکرین پر تیزی سے چلنے لگیں ۔
آن ڈیوٹی ۔ اس نے مختصر جواب دیا ۔
ائیر پورٹ پہنچ سکتی ہو ۔۔۔۔۔۔؟ دوسری جانب وہ دل وجان سے منتظر بیٹھا تھا ۔منٹ بدلنے سے پہلے جواب آیا ۔
اس وقت ائیر پورٹ کیوں ؟ صبح کے چار بج رہے ہیں ۔۔۔۔ویسے بھی میں ڈیوٹی پر ہوں ۔ نکل نہیں سکتی ۔نینا نے جان چھڑانے والے انداز میں کہا ۔
سوہنا سائیں ! کچھ بھی کرو ، وہاں سے نکلو ۔ مجھے ایمرجنسی میں جانا پڑرہا ہے ۔ تمھارا دیدار کئے بنا نہیں جاؤں گا ۔فوراً ائیرپورٹ پہنچو ۔۔۔۔۔۔۔۔آدھے گھنٹے میں فلائیٹ ہے ۔ہری اپ ۔پلیز! میر زوار نے التجا کی ۔
ائیرپورٹ پر سب کے سامنے مجھ سے ملیں گے تو ہم سب کی نظروں میں آجائیں گے ، اسکینڈل بن گیا تو۔۔۔۔۔۔۔؟
یار ! آپ کو یہاں پہنچ کر مجھ سے ملنا نہیں ہے ، بس میرے سامنے بیٹھ جانا ۔ ہم فون کے تھرو بات کریں گے ۔ میں تمھیں دیکھنا چاہتا ہوں ۔ نینا نے اسکرین پر نظر جمائے گہری سانس کھینچ کر خارج کی ۔
کیا مجھے جانا چاہئے ۔۔۔۔۔۔۔اس طرح تو میر زوار کے حوصلے بڑھ جائینگے ۔ اف کیا کروں ؟ نینا بالوں میں انگلیاں پھنسائے خاموش نظروں سے میر زوار کے جذبوں سے گندھے لفظوں کو دیکھ رہی تھی ۔
ہر گز نہیں نینا۔۔۔۔۔۔ تم میر زوار کے جذبات کو مزید بھڑکانے کی کوشش نہیں کروگی ۔ تم ہرگز نہیں جاؤگی ورنہ واپسی کے راستے تم پر بند ہوجائیں گے ۔اسے جانے دو ۔تمھیں اس سے محبت نہیں ہے جو تم اس کے لئے اتنا سوچ رہی ہو ۔ اس کے اندر سے آواز آئی ۔نینا نے مضطرب ہوکراپنی کنپٹیوں کو مسلا ۔
ڈاکٹر نینا ! ایوری تھنگ از آل رائیٹ ۔۔۔۔۔۔۔؟ مجھے تم کچھ
پریشان لگ رہی ہو ۔ نینا کے کولیگ نے اس کے پاس آکر کہا۔
آں ہاں ۔ڈاکٹر رضا ! کیا میں کچھ دیر کے لئے آپ کی کار لے جاسکتی ہوں ۔۔۔۔۔۔؟ نینا نے ایک پل میں نتیجے پر پہنچتے ہوئے اس کی بات کو یکسر نظرانداز کرکے اجازت طلب کی ۔
بلکل لے جا سکتی ہو مگر اتنی رات کو جانا کہاں ہے ۔۔۔۔۔؟ ڈاکٹر رضا نے حیرت سے استفسار کیا ۔
ایمرجنسی ہے ، واپسی پر بتاؤں گی ۔ وہ اس کے ہاتھ سے کی چین جھپٹتے ہوئے باہر کی جانب لپکی ۔
وہ ریش ڈرائیونگ کرتے ہوئے ہاسپٹل سے ائیر پورٹ کا تقریباً آدھا فاصلہ منٹوں میں سمیٹ چکی تھی ۔ نینا نے فون رنگ پر کال اٹینڈ کرتے ہی اسپیکر آن کیا ۔
نین سائیں ! کہاں پہنچی ہو ۔۔۔۔۔؟ فلائیٹ آدھا گھنٹا لیٹ کرواچکا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ذیادہ لیٹ کروایا تو پیسینجر شور کریں گے ۔سین بن جائے گا ۔ اسپیکر میں میر زوار کی گنمبھیر آواز گونجی ۔
دس منٹ میں پہنچ رہی ہوں ۔ نینا نے دھیرے سے کہا ۔ وہ اپنی کیفیت خود بھی نہیں سمجھ پا رہی تھی ۔
ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈیپارچیور گیٹ پر بندہ کھڑا ہے ۔ اندر آجانا تمھیں کوئی نہیں روکے گا ۔میر نے ہنکارہ بھرنے کے بعد اسے ہدایت دے کر کال ڈسکنکٹ کردی ۔
وہ گاڑی پارک کرنے کے بعد تقریباً بھاگتی دوڑتی ہوئی ڈیپارچیور گیٹ تک پہنچی۔گیٹ سے اندر داخل ہونے پر تیز قدموں سے وہاں کی طویل راہ داریاں عبور کرتی ہوئی ویٹنگ ایریا میں داخل ہوئی ۔
اس کی متلاشی نظریں ادھر ادھر میر زوار کو ڈھونڈ رہی تھیں پھر وہ جلد ہی نظر دوڑانے پر میر زوار کو دیکھنے میں کامیاب ہوگئی ۔
میر زوار کافی فاصلے پر اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ صوفے پر براجمان تھا ۔
نینا چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی میر زوار کے سامنے ہی مگر اس کی نشستوں سے دور ترچھے رخ کی نشست کے سامنے جاکر رکی ۔
میر زوار نے طائرانہ نظر ہال پر ڈالی تبھی نینا پر اس کی نظر پڑی مگر لوگوں کی موجودگی کے خیال سے اس نے فوراً ہی نظروں کا زاویہ بدل دیا پھر چند لمحے بعد دل کی آواز پر ایک بھرپور نظرمیں اس کا مکمل جائزہ لیا ۔
نینا نے بلیو نیرو جینز پر وہائیٹ شرٹ زیب تن کی ہوئی تھی ۔ شرٹ کا نچلا حصہ جینز کے اندر بیلٹ سے دبا ہوا تھا ، مخملی پیروں کو لانگ شوز میں قیدکئے جو ٹخنوں سے زرا اوپر تھے،صوفے پر بیٹھ کر ایک ٹانگ گھٹنے پر رکھے جھلانے لگی ۔
وہ کسی بہترین برانڈدڈ کمپنی کی ماڈل سے کم نہیں لگ رہی تھی ۔
پورے ہال کی ستائشی نظریں اس کے ہوش ربا سراپے کا طواف کر رہی تھیں ۔ میر زوار نے نظروں کے تصادم پر زرا سی آئی برو اچکا کراسے نظروں ہی نظروں میں سراہا ۔
سوہنا سائیں ! پیاری لگ رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔دل کرتا ہے اپنے ساتھ ہی لے جاؤں ۔ میر زوار کی طرف سے ٹیکسٹ موصول ہوا ۔ نینا کی مسکراہٹ کےساتھ ہی ان دونوں کےڈمپل بھی گہرےہوگئے ۔
اپنے دل کو زرا سنبھال کر رکھیں ۔۔۔۔۔۔۔بہت منہ زور ہوتا جارہا ہے۔ نینا نے فٹافٹ ریپلائے دیا ۔
تم نے ہی بنایا ہے ورنہ لڑکیوں کے معاملے تو یہ ہمیشہ سے بے زبان رہا ہے ۔ اب یہ حال ہے کہ بغاوت پر اترآیا ہے ۔
باقاعدہ مقدمے لڑتا ہے ۔میرزوار نے ایک ہاتھ اپنے سینے پر دل کی جگہ رکھا ۔
ہم سب کو پتہ ہے کہ لفظوں کے ہیر پھیر سے ہی آپ لوگوں کے دل و دماغ پر قبضہ جما لیتے ہیں اپنی جادوگری مجھ پر چلانے کی کوشش مت کریں ۔ یہ بتائیں کچھ دیر پہلے تو کوئی پروگرام نہیں تھا ، آپ نے کال پر بھی نہیں بتایا پھر اچانک کیوں جارہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟
صبح ضروری میٹنگ ہے ۔۔۔۔۔۔۔شام تک واپس آجاؤں گا۔
جب تم سے بات ہوئی تب تک کوئی ارادہ نہیں تھا جانے کا اس لئے نہیں بتایا تھا ۔میرزوار نے ایک ہاتھ کی انگلیاں اپنی گھنی دلکش مونچھوں میں سرسرائیں پھر پورا ہاتھ داڑھی پر پھیرا ۔
آپ کی آئیز ریڈ ہورہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔بہت تھکے ہوئے لگ رہے ہیں پھر کیا ضرورت ہے جانے کی ؟
کام بہت ضروری ہے اس لئے جانا پڑ رہا ہے ۔یو ڈونٹ وری مائے کوئین ! فلائیٹ میں نیند پوری ہوجائے گی ۔
یہ برے دھندے چھوڑ کیوں نہیں دیتے ۔۔۔۔۔۔۔۔جتنا کمایا ہے کافی نہیں ہے کیا ۔۔۔۔۔۔۔؟
اب تک اپنے لئے کما رہا تھا ، اب صرف تمھارے لئے ۔ یہ سب میں تمھارے لئے ہی تو کررہا ہوں ۔
مجھے بدنام مت کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔میں اتنے میں بھی بہت خوش ہوں ۔ میرے لئے خود کو مزید گناہ گار مت کریں ۔
مگر میں تو چاہتا ہوں دنیا بھر کی دولت تمھارے قدموں میں ڈھیر کردوں ۔ میر زوار کا جذباتی پن چہرے سے جھلکنے لگا ۔ نینا کی گردن فخر سے تن گئی ۔
زار! آپ روٹین سے ذیادہ ہینڈسم لگ رہے ہیں ۔ کوئی خاص بات ہے یا پھرخاص ملاقات ۔۔۔۔۔۔؟ نینا نے شرارت سے ہوا میں تیر چلایا ۔
حد ہے یار ! لڑکیاں کتنی بھی لبرل کیوں نا ہوجائیں لیکن ان میں سے شک کے جراثیم کبھی ختم نہیں ہونے والے ۔ بندہ ملک سے باہر جارہا ہے تو کیا تیار بھی نہیں ہوسکتا ۔ تعریف ہی کرنی تھی تو زرا دل خوش کرنے والے انداز میں کر دیتی ۔میر زوار نے منہ بگاڑ کر تاسف سے سرہلایا۔
وہ آف وائیٹ بوسکی کے شلوار سوٹ پر بلیک لیدر کی جیکٹ میں ملبوس تھا ۔ اس کی دلکشی رات کے اس پہر بھی تھکن اور نیند کے باوجود عروج پر تھی ۔ڈارک براؤن آنکھیں ہمیشہ کی طرح رتجگوں کی ہلکی سی سرخی سے سجی غضب ڈھا رہی تھیں ۔
اتنا برا کیوں لگ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔یہ تو چور کی داڑھی میں تنکے والی بات ہوئی ۔ نینا نے بھی جواب داغا ۔
ہمیں کیوں برا لگے گا ۔آپ ہماری سرکار ہیں ۔ آپ کا حق ہے ، آپ کچھ بھی کہہ سکتی ہیں ۔ آپ تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آفیسر نے میر زوار کے پاس جھک کر کچھ کہا تو اس کی بات ادھوری رہ گئی ۔
نین سائیں ! اب میں جانے والا ہوں۔تم ہاسپٹل چلی جانا اور ڈرائیونگ احتیاط سے کرنا ۔میرے گارڈز تمھیں ہاسپٹل تک فولو کریں گے۔
فولو کیوں کریں گے ؟ میں آئی بھی اکیلی تھی تو اکیلی جا بھی سکتی ہوں ۔ نینا نے جھٹ ریپلائے کیا ۔
یہ آپ کی بھول ہے کہ آپ اکیلی آئی تھیں ، آپ کو بتاتا چلوں کے میں آپ کو اکیلے کہیں بھی نہیں جانے دیتا ۔ میر زوار نے اسے اشارہ دیا تھا مگر یہ سن کر نینا دنگ رہ گئی ۔
آپ مجھ پر نظر رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔؟ نینا نے ٹیکسٹ کرنے کے بعد میر زوار کی طرف دیکھا ۔
بس خبر رکھتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تم سے غافل نہیں رہ سکتا ۔مجھے دنیا والوں پر بھروسا نہیں ہے ۔تم بھی تو لیڈی ڈیانا بن کر گھومتی ہو ۔ میر نے جواب دے کر کندھے اچکائے ۔مبہم سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر کھیل رہی تھی ۔
میر کا میسج ملتے ہی نینا نے کھاجانے والی نظروں سے اسے دیکھا پھر اپنی جگہ سے کھڑی ہوگئی ۔ وہ باہر جانے کے لئے قدم بڑھا رہی تھی تبھی کوئی جان بوجھ کر اس سے بری طرح ٹکرایا ۔
نینا نے تکلیف سے بلبلا کر اس چالیس پینتالیس سال کے آدمی کو دیکھا جو ڈھٹائی سے اس کے سامنے کھڑا دانتوں کی نما ئش کررہا تھا ۔ وہ اپنا بازو سہلاتے ہوئے آگے بڑھ گئی مگر پیچھے سے زوردار تھپڑ کی آواز نے نینا کے قدم روک لئے ۔
اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو میر زوار اس آدمی کا گریبان پکڑے اس کی مرمت میں مصروف تھا ۔ میر نے پے در پے کئی تھپڑوں
سے اس کا جبڑا ہلا دیا ۔ ارد گرد لوگوں کا مجمع لگنے لگا ۔ سب گھیرے کی صورت ان دونوں کے گرد جمع تھے مگر کسی میں بھی میر زوار کا ہاتھ روکنے کی جرأت نہیں تھی۔ میر زوار کے ساتھی اور سیکیورٹی اہلکار اس آدمی کو میر کی گرفت سے چھڑانے کے لئے آگے بڑھے لیکن وہ بپھرتا جارہا تھا ۔
میر سائیں ! اسے چھوڑدیں ، آپ کے لئے بہت بڑا مسئلہ بن جائے گا ۔ ایک ساتھی منسٹر نے اسے قابو کرتے ہوئے دھیرے سے کہا ۔
جاری ہے
