Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh NovelR50744
Last updated: 28 June 2026
Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode01Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode02Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Last EpisodeYeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode03Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode04Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode05Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode06Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode07Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode08Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode09Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode10 Part(02)Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode10 Part(01)Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode11Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode12Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh Episode13
Yeh Bandhan Pyaar Ka Season 2 by Umme Mariyam Sheikh
نینا دھڑکتے دل اور لرزتی ٹانگوں پر چل کر زرینہ کے ساتھ داخلی دروازے سے اندر آئی تھی ۔ محل نما بنگلے کے کاریڈور کا اختتام طویل اور عریض سیڑھیوں پر ہوا جو ہلکے سے خم کے ساتھ پہلی منزل پر جاکر ختم ہورہی تھیں ۔
وہ دھیرے دھیرے سیڑھیاں چڑھنے لگی ، عنابی کارپیٹ سے سجی سیڑھیوں کے خم دار بل پر ایک دروازہ ایستادہ تھا ۔
میر سائیں یہاں ہیں ۔ زرینہ بولی ۔اس نے دروازے کی طرف اشارہ کیا اور آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا پھر خود سائیڈ پر کھڑی ہو گئی ۔
(یہ میر زوار پیلس تو نہیں ہے ۔میر نے کبھی اس جگہ کا ذکر بھی نہیں کیا ۔ اف اللہ ! اندر جاؤں یا نا جاؤں ۔)نینا چند لمحے اپنی جگہ جمی کھڑی سوچتی رہی پھر تھوک نگل کر حلق تر کیا اور ہمت جٹاتی کھلے دروازے سے اندر داخل ہوگئی ۔
میرزوار بلیک شلوار سوٹ پر فان کلر کا کوٹ زیب تن کئے صوفے پر شانِ بے نیازی سے براجمان دیوار میں نصب اسکرین پر نظر جمائے بیٹھا تھا ۔ ٹیبل پر سامانِ شوق سجا تھا ۔
روشنی کے نام پر ایک بھی لائیٹ یا لیمپ آن نہیں تھا ۔ کمرے کے فرش پر ہر تھوڑے فاصلے کے بعد شیشے کا بڑا سا ٹکڑا پیوست تھا جس کی بدولت کمرے کے نیچے موجود سوئمنگ پول کے پانی کا جھلملاتا عکس اس کے گنبھیر سنجیدگی لئے چہرے کے ایک ایک نقش کو واضح کررہا تھا اور کمرے میں مدہم روشنی پیدا کررہا تھا ۔ نینا کی آمد پر میر زوار کی آنکھوں کی پتلیاں متحرک ہوئیں ۔
میر زوار نے ہاتھ میں پکڑا گلاس ٹیبل پر رکھ دیا۔ایل ای ڈی آف کی اور ریموٹ صوفے پر اچھال کر کھڑا ہوگیا ۔ وہ مضبوط قدم اٹھاتا ہوا نینا کے پاس آیا ۔
آپ کو تو میری صورت دیکھنا بھی گوارا نہیں تھا پھر مجھے دھوکے سے یہاں کیوں بلایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ نینا نے انگارے چباتے ہوئے میں لب کشائی کی ۔
دھوکے بازوں کے ساتھ انہیں کے انداز میں بات ہوتی ہے ۔ میر زوار نے اسے شانوں سے تھام کر مسکراتے ہوئے کہا ۔
طعنے دینے کے لئے بلایا ہے تو میں واپس جارہی ہوں کیونکہ اب میں بھی کچھ سننے کے موڈ میں نہیں ہوں ۔ میں نے بہت منتیں کرلیں مگر اب اپنی صفائی میں ایک لفظ نہیں کہوں گی ۔ نینا نے اس کے ہاتھ جھٹکنے چاہے مگر اس کی گرفت میں مذید سختی در آئی ۔
میری جان ! طعنے دینے کے لئے نہیں بلایا ہے ۔ باقی رہی بات صفائیاں دینے کی تو اتنا وقت ہی نہیں میرے پاس کے ان فضولیات میں گنواؤں ۔
میں تو چٹکیوں میں حساب بے باق کرنے والا بندہ ہوں ۔ میرزوار دل موہ لینے والی مسکراہٹ کے ساتھ کاٹ دار لہجے میں گویا ہوا ۔ اس کی مسکراہٹ لفظوں کا ساتھ نہیں دے پائی اور پل میں چھب دکھلا کر غائب ہوگئی ۔
مجھے دھکے دے کر اپنے گھر سے نکلوا چکے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اب کونسا حساب باقی رہتا ہے ؟ نینا خفگی سے بولی ۔ میر زوار نے آئے برو اچکاکر اسے دیکھا پھر پلٹتے ہوئے بولا ۔
ایک منٹ ! میرے ہرجائی کی معصوم ادائیں اس اندھیرے میں گم ہورہیں ہیں ۔ لائٹ آن کرلوں ۔ اس نے کہتے ہوئے سوئچ بورڈ کی طرف قدم بڑھائے اور بٹن آن کیا ۔ پورا کمرہ روشنی میں نہا گیا ۔ میر زوار نے سر تا پا اس کے سراپے پر گہری نظر ڈالی ۔
بس بہت ہو گیا ، آپ بہت باتیں سنا چکے ہیں۔ ہزار بار کہہ چکی ہوں مذاق میں بیٹ لگائی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وقت آنے پرمیں خود ہی سچائی بتادیتی ۔۔۔۔۔۔۔۔میں تو سیریس بھی ہوگئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شادی کے لئے بھی راضی تھی کیونکہ میرے دل میں بدی نہیں تھی لیکن اب میں سمجھ چکی ہوں آپ کو میری سچائی پر کبھی یقین نہیں آئے گا اس لئے میں یہاں سے جارہی ہوں ۔ نینا ایک ہی سانس میں بے بقط سنا کر مڑی تو میر زوار نے ایک ہی جست میں اس تک پہنچ کر دروازے کا بولٹ چڑھادیا ۔
شادی کے لئے راضی تھی کیا مطلب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمھیں اب بھی راضی ہونا چاہئے ۔ تم جو کرچکی سو کرچکی مگر اب اپنی زبان سے نہیں پھر سکتی ۔ میر زوار ٹہرے ہوئے لہجے میں کہا۔
آپ ہوش میں تو ہیں ؟ جب آپ کا دل چاہے گا مجھ سے لاتعلق ہوجائیں گے اور جب دل کرے گا منہ اٹھا کر شادی کا تقاضا کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک ہفتے بعد سنان شاہ کے ساتھ میری شادی ہے ۔ آپ بے خبر ہیں تو میں آپ کو مطلع کررہی ہوں ۔ نیناتمسخرانہ بولی ۔
تمھاری شادی صرف میر زوار سے ہوسکتی ہے اور وہ بھی آج ہوگی اور اسی وقت ہوگی ۔ میر زوار سر پھرے انداز میں دوٹوک بولا ۔
آپ کی بھول ہے کہ اب میں آپ سے شادی کروں گی اور کیوں کروں گی جبکہ میں جانتی ہوں آپ مجھ سے نفرت کرتے ہیں ، انتقام کی آگ میں جل رہے ہیں ۔ نینا کو اس کی بات پر پتنگے لگ گئے ۔ وہ تنک کر بولی ۔
انتقاماً ہی سہی مگر شادی ضرور ہوگی ۔ تمھاری مرضی سے نا سہی تو زبردستی ہی سہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہتر ہوگا یہ نیک کام راضی خوشی ہوجائے ورنہ مجھے کوئی اور طریقہ اختیار کرنا ہوگا ۔ میر زوار کے دھمکی آمیز لہجے پر نینا ٹھٹک گئی ۔
اگرچہ یہ مذاق ہے تو بہت بے ہودہ ہے اور اگر آپ سنجیدہ ہیں تو اپنا وقت ضائع کررہے ہیں کیونکہ میں آپ کی کسی دھمکی سے نہیں ڈرنے والی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں شادی سنان شاہ سے ہی کروں گی ، یہ میرے ماں باپ کی عزت کا سوال ہے ۔ نینااعتماد سے بولی ۔
عزت ہی نا رہے پھر ۔۔۔۔۔۔۔بولو ! پھر کیا کروگی ؟ تب بھی تو شادی کے لئے میری منتیں کروگی التجائیں کروگی ۔ میر زوار کے ہونٹوں پر خطرناک مسکراہٹ ابھری ۔
میر زوار ! اپنی حد میں رہیں ۔ جیسا باپ ویسا بیٹا مگر میں زرتاج نہیں ہوں جسے میر سجاول نے روند ڈالا اور اس کے بے بس ماں باپ اپنی عزت بچانے کے خاطر بڑی حویلی والوں کے پیروں میں گر پڑے ۔ ایسا سوچنا بھی مت ورنہ میرا باپ آپ کے خاندان کی اینٹ سے اینٹ بجادے گا ۔ نینا اس کے ارادوں کوبھانپ چکی تھی پھر بھی ہمت سے کام لیتے ہوئے بے خوفی سے گویا ہوئی ۔
