Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ye Khail Qismat Ky by Fariha Choudhary Last Episode

Ye Khail Qismat Ky by Fariha Choudhary Last Episode

“ہوں ….یہ تو بہت غلط ہوا تم غانیہ سے نہیں ملے دوبارہ “صائمہ نے مؤحد کی پوری بات سن کر کہا
“نہیں “
“کیوں …اور شیزہ کے بارے میں کیا سوچا تم نے “
” میں اس کے ساتھ نہیں رہ سکتا ” وہ خاموش ہو گئی “تم نے اپنے بارے میں نہیں بتایا ” موحد نے اسے بغور دیکھتے ہوے پوچھا
“میں نے شادی نہیں کی “
“واٹ؟؟ مگر تمہاری مما نے تو کہا تھا کہ “
“ہاں انہوں نے بہت زور دیا مگر میں نہیں مانی اور یہاں الگ فلیٹ لے کر رہنے لگی ہوں تب سے یہیں جاب کر رہی ہوں ” اسنے حقیقت بتائی
“تم نے مجھ سے رابطہ کیوں نہیں کیا ؟؟”
“مجھے لگا تم اپنی زندگی میں مگن ہو گے میں نہیں چاہتی تھی کہ تمہاری زندگی میں آکر تمہیں ڈسٹرب کروں ” وہ صاف گوئی سے بولی
“بالکل غلط سوچا تم نے میں ایک لمحہ تمہیں نہیں بھولا تم نے تین سال ضائع کر دئیے اپنے بھی اور میرے بھی میں آج ہی مما سے بات کرتا ہوں اور اب میں تمہاری ایک نہیں سنوں گا سمجھی ” موحد نے خفگی سے کہا
“لیکن ـ ـ ـ ” اسنے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا مگر موحد نے درمیان میں ہی ٹوک دیا
“لیکن ویکن کچھ نہیں بس بہت سہہ لی جدائی اب مزید نہیں سہہ سکتا ” وہ اسے دیکھ کر رہ گئی
★★★★★
صائمہ موحد کی کلاس فیلو تھی وہ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے موحد کو تین سال کے لیے ایبروڈ جانا تھا اس لیے وہ چاہتا تھا کہ جانے سے پہلے صائمہ کا اس کے ساتھ نکاح ہوجائے صوفیہ بیگم اور ریحان صاحب نے اسکی خواہش کا احترام کیا تھا مگر صائمہ کے گھر والوں کی طرف سے یہ کہہ کر ا نکار کر دیا گیا کہ وہ بچپن سے اپنے کزن کے ساتھ منسوب ہے موحد کے لیے یہ کسی شاک سے کم نہ تھا وہ اسکے گھر بھی گیا تھا مگر وہ لوگ وہاں سے کہیں اور شفٹ ہو گئے تھے یہ سب ہونے کے بعد بھی وہ اسے بھول نہیں سکا تھا ہمیشہ اسکے انتظار میں رہا اور وقت نے ثابت کردیا کہ اسکا انتظارائیگاں نہیں گیا
….دوسری بار بھی ہوتی… تو تمہی سے ہوتی
….میں جو بالفرض… محبت کو دوبارہ کرتا
★★★★★★★★★★★★★
شیزہ اس دن کے بعد واپس نہیں آئی تھی نہ ہی موحد اسے لانا چاہتا تھا ریحان صاحب اور صوفیہ بیگم آج میمونہ بیگم کی طرف آئے تھے وہ چاہتے تھے کہ مل بیٹھ کر اس مسلے کا حل ڈھونڈا جائے وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے لاوٴنج میں بیٹھے ان کا انتظار کر رہے تھے وہ دو بار ملازم سے بھی پوچھ چکے تھے “وہ آرہی ہیں ” کہہ کر چلا جاتا اس قدر تزلیل پر انہیں غصہ تو بہت آیا مگر چپ کر گۓ
“سوری بھائی صاحب آپ کو انتظار کرنا پڑا ایک بہت ضروری کال آگئی تھی ” میمونہ بیگم آتے ہی بولیں
“کوئی بات نہیں “صوفیہ بیگم غصہ پی کر بولیں
“کہیے کیسے آنا ہوا ؟؟”
“شیزہ اتنے دنوں سے آپکی طرف ہے آپ نے پوچھا نہیں اس سے کہ وہ اپنے گھر کیوں نہیں جاتیں “ریحان صاحب رسان سے بولے
” اپنا گھر کون سا اپنا گھر جہاں سے اسے آدھی رات کو بےعزت کر کے نکال دیا گیا “وہ لگی لپٹی رکھے بغیر بولیں
“اس سب میں قصور بھی صرف اس کا تھا “ریحان صاحب بھی تلخ ہوئے
“کیا قصور تھا اس کا مؤحد نے اس پر ہاتھ اٹھایا اور آپ کھڑے دیکھتے رہے وہ اب اسی صورت دوبارہ اس گھر میں جائے گی جب مؤحد اس سے معافی مانگے گا “یہ کہہ کر وہ کچھ سنے بغیر کمرے سے چلی گئیں وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گۓ
★★★★★★★★★★★★★
ڈور بیل بجنے پر مزنہ نے دروازہ کھولا مگر جونہی اسنے سامنے دیکھا اسکی اوپر کی سانس اوپر رہ گئی سامنے فرجاد کھڑا تھا وہ بھاگ کر اندر چلی گئی
” مزنہ میری بات سنو “فرجاد اسکے پیچھے گیا اور اسکا بازو پکڑکر اسکا رخ اپنی طرف کیا
” کیوں آئے ہیں آپ یہاں “اسکی آنکھوں میں آنسو تھے فرجاد تڑپ گیا
” اونہوں بہت رو لیا اب بس” وہ اسکے آنسو صاف کرتے بولا” میں جانتا ہوں میں نے تمہارے ساتھ بہت غلط کیا میں تو شاید معافی کے بھی لائق نہیں لیکن یہ سچ ہے کہ تمہارے بعد مجھے معلوم ہوا کتنی محبت ہے تم سے میں مجرم ہوں تمہارا چاہے تو معاف کردو چاہے تو ٹھکرا دو” وہ سرجھکاے کھڑا تھا
مزنہ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا کتنا بدلا بدلا لگ رہا تھا وہ ایک پل لگا تھا اسے فیصلہ کرنے میں
“مجھے آپ سے کوئی گلہ نہیں “وہ مضبوط لہجے میں بولی
“تم بہت اچھی ہو مزنہ آئی رئیلی لو یو ” وہ فرطِ جزبات سے اسکی طرف بڑھا عین اسی لمحے اسکی جیب میں پڑا موبائل بج اٹھا اسنے نمبر دیکھا ایاد کا تھا جو نیچے کھڑا ان دونوں کا انتظار کر رہا تھا
” افوہ ایک تو یہ لڑکا” وہ کال کاٹتا ہوا بولا
” کون ہے “مزنہ نے پوچھا” ایاد ہے ہمارا انتظار کر رہا ہے “وہ آگے بڑھا اور اپنا ہاتھ اسکی طرف بڑھا کر بولا “میں تمہیں لینے آیا ہوں اس وعدے کے ساتھ کہ اب کبھی تمہارے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہونے دوں گا سب بھلا کر ایک نئی زندگی شروع کرتے ہیں چلو گی میرے ساتھ” مزنہ کچھ دیر اسکی آنکھوں میں دیکھتی رہی پھر ہو لے سے سر ہلا کر اپنا ہاتھ اسکے مضبوط ہاتھ میں دے دیا
★★★★★★★★★★★★★
ایاد کے جانے بعد غانیہ کمرے میں چلی آئی وہ بور رہی تھی انعم اور عباد مری گئےہوئے تھے گھر پہ سلطانہ بیگم کے سوا کوئی نہ تھا اسنے اپنا سوٹ نکالا اور واش روم میں جانے کے لیے مڑی جب اسکے کمرے کا دروازہ کھلا اور سلطانہ بیگم اندر آئیں وہ تو حیران رہ گئی
” آنٹی… آپ …یہاں “وہ ہکلا کر بولی
” کیوں میں نہیں آسکتی کیا میرے بیٹے کا کمرہ ہے جب دل چاہے آوں” وہ طنزًا بولیں
وہ چلتی ہوئی اسکے سامنے آکر کھڑی ہوگئیں
” کتنے پیسے لو گی میرے بیٹے کا پیچھا چھوڑنے کے”
“جج جی” وہ ناسمجھی سے انکا منہ تکنے لگی
” سمجھ نہیں آتا کیا تمہیں ….کبھی خود کو دیکھا ہے ششیشے میں ارے کہاں میرا ہیرے جیسا بیٹا اور کہاں تم.. بہتر یہ ہے خاموشی سے میرے بیٹے کی زندگی سے نکل جاؤ جتنے پیسے کہو گی اتنے دے دوں گی
” اسےتو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا جواب دے
“آنٹی یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں “
“جتنی جلدی اپنی اپنی اصلیت پر آجاو گی تمہارا ہی فائدہ ہے ورنہ تمہیں اس گھر سے نکالنا میرے لیے مشکل نہیں “
ان کے لہجے میں حقارت ہی حقارت تھی “لگتا ہے تم ایسے نہیں مانو گی “انہوں نے اس کا بازو پکڑا اور گھسیٹتے ہوئے باہر لے جانے لگیں وہ جانتی تھیں اس وقت گھر پر کوئی نہیں ہے اور اس سے اچھا موقع انہیں شاید نہ مل سکتا وہ اسے کھینچتے ہوئے سیڑھیوں تک آئیں “نکل جاؤ اس گھر سے اور اگر تم دوبارہ کبھی یہاں نظر آئی یا کسی سے ملنے کی کوشش کی تو بہت برا حشر کروں گی تمہارا “
“آنٹی میں کہاں جاؤں گی “
“یہ میرا دردِسر نہیں ہے سمجھی “اسی لمحے ایاد اور مزنہ گھر میں داخل ہوئے فرجاد کسی کام سے چلا گیا تھا اس سے پہلے وہ کچھ بولتا اس کی نظر سامنے پڑی وہ حیران ہوا “جاؤ نکل جاؤ دفعہ ہو جاؤ” سلطانہ بیگم نے اسے زور کا دھکا دیا وہ جو پہلی سیڑھی ہر کھڑی تھی دھکا لگنے سے سیڑھیوں سے نیچےجا گری
“مما ” ایاد زور سے چیخا اور اسکی طرف بھاگا “غانیہ غانیہ ” وہ اوندھے منہ گری تھی اس نے اسے سیدھا کیا تو دھک سے رہ گیا اس کے سر سے خون تیزی سے بہہ رہا تھا اس نے ایک نظر سامنے کھڑی ماں کو دیکھا اور اسے اٹھا کر باہر کی طرف بھاگا
خون صرف آگے سے نہیں سر کے پچھلے حصے سے بھی بہہ رہا تھا “ڈرائیور تیز چلاؤ “ایاد کی شرٹ اس کے خون سے رنگی جا چکی تھی اس کی حالت دیکھ کر اس کا دل بند ہو رہا تھا اس کی آنکھوں سے دو آنسو ٹوٹ کر نکلے اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ اسکی ماں اس حد تک بھی جا سکتی ہے مزنہ بغور اس کی پریشانی دیکھ رہی تھی ہسپتال پینچتے ہی اس نے فرجاد کو کال کی تھی وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے بھاگتا ہوا آیا تھا غانیہ I.C.Uمیں تھی ڈاکٹرز کے مطابق اسکی حالت بہت سیریس تھی وہ اسے دیکھتے ہی اس کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا “بھیا اگر اسے کچھ ہو گیا تو “
“برا مت سوچو دعا کرو سب ٹھیک ہو گا “وہ اسے تسلی دینے لگا
★★★★★★★★★★★
آج اسے دو دنوں بعد ہوش آیا تھا دو دنوں میں ایاد ایک لمحے کو بھی اسکے پاس سے نہ ہلا تھا اسے ہوش میں آتا دیکھ کر فوراًاس کی طرف لپکا “غانیہ غانیہ میری جان آنکھیں کھولو ” اس نے جونہی آنکھیں کھولیں ایاد کو اپنے اوپر جھکا پایا “اـ ـ ـ یاـ ـ د ” اس کے منہ سے کراہ نکلی
“کیا ہوا درد ہو رہا ہے ؟؟”اس نے ہاں میں گردن ہلائی “کہاں پر ؟؟” اس نے سر کی طرف اشارہ کیا “میں ڈاکٹر کو بلا کر لاتا ہوں ” وہ اس کے سر پر بوسہ دے کر باہر نکل گیا
★★★★★★★★★★★★
آج ایاد اور فرجاد لاہور شفٹ ہو رہے تھے اپنی اپنی پیکنگ کرنے کے بعد وہ لوگ نیچے آۓ جہاں سلطان مہراب ، عباد ،انعم اور فرہاد کے علاوہ سلطانہ بیگم بھی موجود تھیں سب سے ملنے کے بعد ایاد سلطانہ بیگم کے پاس گیا “میں جانتا ہوں آپ ناراض ہوں گی ہمارے جانے سے مگر آئیم سوری اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں جو آپ چاہتی ہیں وہ ہمارے بس میں نہیں اسی لیے ہم نے سوچا یہاں سے ہی چلے جائیں “یہ کہہ کر وہ دروازے کی طرف بڑھ گیا جہاں سب کھڑے تھے مگر اچانک اسکے قدموں کو بریک لگ گیا سلطانہ بیگم بلک بلک کر رو رہی تھیں وہ اچانک اٹھیں اور فرجاد کےسامنے جا کر کھڑی ہو گئیں ” مجھے معاف کر دو بہت بری ہوں میں ہمیشہ تم سے نفرت کرتی رہی خود کے علاوہ سب کو حقیر جانتی رہی مگر اتنی بڑی سزا مت دو مجھے” انہوں نے اسکے آگے ہاتھ جوڑ دیے سب دم بخود رہ گئے وہ چند لمحے یونہی کھڑا رہا پھر آگے بڑھ کر انکے ہاتھ کھول دیے” میں نے ،،،، آپکو،،،، معاف کیا” اسکی اپنی آنکھیں بھی بھیگ گئی تھیں وہ اسکے کندھے سے لگ کر بری طرح رو دیں کچھ دیر بعد اسنے انہیں الگ کیا اور انکے آنسو صاف کیے” ہمیں دیر ہو رہی ہے” ایاد اونچی آواز میں بولا” کیا مطلب تم اب بھی جاو گے” سلطانہ بیگم جھٹکے سے پلٹیں “ہاں تو اور کیا آپ نے کونسا مجھے روکنے کا کہا” وہ معصوم بنا” فرجاد کو کہا تو ہے “
“میں فرجاد تھوڑی ہوں” اسے غصہ آیا
” مگر تمہاری چابی تو ان کے پاس ہی ہے نا “انعم کی بات پر سب کا مشترکہ قہقہ گونجا
★★★★★★★★★★★★★
موحد نے شیزہ کو طلاق دے دی تھی اس دن کے بعد سے شیزہ نے ایاد سے ملنے کی کوشش نہیں کی تھی وہ اسی دن سمجھ گئی تھی کہ ایاد اسکی قسمت میں نہیں تھا اسنے جو چال چلی تھی وہ اسی پر الٹ دی گئی تھی وہ جان گئی تھی محبت کوشش سے نہیں قسمت سے ملتی ہے
محبت کھیل ہے قسمت کا
یوسف ملتا نہیں زلیخا نام رکھنے سے
ختم شد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *