Ye Khail Qismat Ky by Fariha Choudhary NovelR50818
Last updated: 25 July 2026
Ye Khail Qismat Ky by Fariha Choudhary Episode01Ye Khail Qismat Ky by Fariha Choudhary Episode02Ye Khail Qismat Ky by Fariha Choudhary Episode03Ye Khail Qismat Ky by Fariha Choudhary Episode04Ye Khail Qismat Ky by Fariha Choudhary Episode05Ye Khail Qismat Ky by Fariha Choudhary Episode06Ye Khail Qismat Ky by Fariha Choudhary Episode07Ye Khail Qismat Ky by Fariha Choudhary Episode08Ye Khail Qismat Ky by Fariha Choudhary Last Episode
Ye Khail Qismat Ky by Fariha Choudhary
"ارے ارے وہ دیکھو وہ آگیا ہے" احد نے اونچی آواز میں کہا
" کہاں کہاں"غنی بھاگتی ہوﺉ آﺉ احد نے ہاتھ کے اشارے سے اسے دیکھایا
"شکر ہے " غنی نے ہاتھ اٹھا کر شکر ادا کیا کرنا بھی چاہیے تھا آخر ڈیڑھ کے انتظار کے بعد نظر آیا تھا
"چلو اب جو میں نے کہا تھا ویسے ہی کرو یہ آج بچ کر نہ جائے " انو نے احد کو حکم صادر کیا
"کیوں کیوں میں کیوں کروں تم خود کرو ویسے بھی تم دونوں کو ہی زیادہ شوق تھا " احد نے انو اور غنی کو دیکھتے ہوئے کہا
"دفعہ ہو جاو پھر خبردار جو تم یہاں نظر آے اگر ہم نے اسے پکڑ لیا تو تمھیں اس کی شکل بھی نہیں دکھائیں گے" غنی نے اپنی پوری آنکھیں کھول کر دھمکایا
"اچھا اچھا اب ڈراؤ تو نہیں میں کرتا ہوں کچھ " احد کا اشارہ اس کی آنکھوں کی طرف تھا
"جلدی کرو کہیں وہ بھاگ نہ جائے " انو نے اس کی کمر پر ہاتھ مارا
"یہ کیا بدتمیزی ہےایک تو میں کام کروں اور......" احد کی بات درمیان میں ہی رہ گئی کیونکہ غنی گیند کے ساتھ پتھر باندھ کر اسے پکڑا رہی تھی
"بعدمیں لڑ لینا پہلے یہ لو اور جلدی کرو" احد نے گیند پکڑا کچھ دیر اسے دیکھا پھر کچھ سوچ کےربولا
"بات دراصل یہ ہے کہ میری دور کی نظر کچھ کمزور ہے اور اگر نشانہ غلط لگ گیا تو وہ ہمارے ہاتھ نہیں آ سکے گا غنی تم لگاو نشانہ تم ایسا کر سکتی ہو چلو شاباش جلدی کرو"
"میں؟ غنی حیرت سے بولی
"ہاں ہاں کیوں نہیں "انّونےبھی تاﺉید کی
"غنی نے گیند پکڑا اور فاسٹ بولر کی طرح تیزبھاگتے ہوے ہوا میں اچھال دیا گیند دیوار سے ٹکڑا کر کھلی ہوئی کھڑکی سے سیدھا کمرے میں موجود ٹیبل پر پڑے گلدان پر لگا نتیجہ کے طور پر گلدان اپنی نا قدری پر نشانہ باز کو کوستے ہوے زمیں بوس ہو گیا۔موحد جو کچھ دیر قبل ہی سویاتھا ہڑبڑا کر اٹھا "یہ .. یہ کیا ہوا"
وہ جلدی سے بیڈ سے اترااور ادھر ادھر دیکھنے لگااچانک اسکی نظر گلدان پر پڑی"یہ کیسے گرا"ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھاکہ کوﺉ چیز زور سے اس کی ناک پر آکر لگی اسے دن میں تارے نظر آگےء " اف میرے خدا"کچھ دیر بعدوہ سنبھل کر کھڑا ہوااور اس چیز کو ڈھونڈنے لگا ایک کونے میں اسے ایک گیند نظر آیا وہ اسے اٹھانے کو جھکا تو میز کے پاس اسے دوسرا گیند نظر آیا جس پر بڑی مہارت سے پتھر لگا کر ربڑبینڈچڑھایا گیا تھاـوہ دونوں گیند اٹھا کر تیزی سے کمرے سے نکلا۔
