Yaqeen E Kamil by Waheed Sultan NovelR50743

Yaqeen E Kamil by Waheed Sultan NovelR50743 Last updated: 29 June 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yaqeen E Kamil by Waheed Sultan

پرنس سے ملاقات کے بعد شانزے شاہیر کے ساتھ اپنے روم میں واپس آئی ۔ کمرے میں آتے ہی شانزے نے نقاب اتارا اور پانی کے تین گلاس پئیے ۔ شاہیر شانزے کو پانی پیتے دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔ شانزے نے چوتھی بار گلاس میں پانی ڈالا اور پورا گلاس پانی شاہیر پر پھینک دیا ۔
"اوہو ۔ ۔ ۔ ۔ یہ کیا بدتمیزی ہے؟" شاہیر نے شانزے سے پوچھا
"تمہیں بار سمجھانا پڑے گا کہ مجھے دیکھ کر مت مسکرایا کرو" شانزے نے غصہ سے پھاڑ کھانے والے انداز میں کہا تو شاہیر ٹھٹک گیا اور پھر واپس جانے کے لیے مڑا تو شانزے نے شاہیر کو اس کا نام پکار کر مخاطب کیا تو شاہیر نے پلٹ کر شانزے کی طرف دیکھا
"تھوڑی دیر بیٹھ جاؤ ، تم سے کچھ باتیں کرنی ہیں" شانزے نے شاہیر سے کہا تو شاہیر واپس پلٹا اور صوفے پر بیٹھ گیا ۔
"اب کوئی بات بھی کرو یا یونہی خاموش بیٹھے رہو گے" شانزے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد شاہیر سے مخاطب ہوئی
"تم نے کہا تھا کہ تم نے کچھ باتیں کرنی ہیں مجھ سے ، اس لیے اب تم ہی کوئی بات شروع کرو ورنہ خاموش بیٹھی رہو" شاہیر نے شانزے سے کہا
"میرے ذہن میں کوئی بات نہیں آ رہی اس لیے تم کوئی بات کرو" شانزے نے چھت کے ساتھ لگے فانوس کو دیکھتے ہوئے شاہیر سے کہا
"جب تمہارے شوہر فرہاد کی موت ہوئی تو تم اس کی یادوں کو بھلانے کے لیے کسی دینی مدرسے میں چلی گئی تھیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ " شاہیر نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی
"تم کہنا کیا چاہتے ہو؟" شانزے نے پوچھا
"میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب طیب سے تمہارے بریک اپ ہوا تھا تو طیب کی یادوں کو مٹانے کے لیے بھی تم نے کسی مدرسے میں پناہ لی تھی؟" شاہیر نے شانزے کے سوال کا جواب بھی سوال سے دیتے ہوئے کہا
"طیب کی یادوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے میں تین ماہ کے لیے عورتوں کے تبلیغی مرکز چلی گئی تھی" شانزے نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا
"تو کیا طیب کی یادوں سے تمہیں چھٹکارا مل گیا تھا؟" شاہیر نے ایک اور سوال داغا
"نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی یادیں آج بھی میرے دل میں زندہ ہیں" شانزے نے شاہیر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو شاہیر نے گہری سانس لی اور مایوس کن نظروں سے شانزے کو دیکھا
"کیا ہوا شاہیر؟ تمہارے چہرے کا رنگ کیوں پھیکا پڑ گیا؟" شانزے نے شاہیر سے پوچھا
"مجھے بہت زیادہ تھکاوٹ ہو چکی ہے اور نیند بھی بہت آئی ہوئی ہے" شاہیر جمائی لیتے ہوئے بولا
"او کے ، تم یہاں بیڈ پر سو جاؤ ، میں کیچن میں سو جاؤں گی" شانزے نے شاہیر سے کہا اور پھر چھوٹا کمبل ، تکیہ اور چادر لے کر کیچن میں چلی گئی ۔ شانزے نے کیچن کا دروازہ بند کیا اور مکیف (اے سی) آن کیا ۔ شانزے نے کمبل کیچن کے فرش پر بچھایا اور پھر لیٹ گئی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤☆☆
صبح کے دس بج رہے تھے جب پرنس اپنے کچھ کارندوں کے ہمراہ اے ایل کلب کے جنرل مینیجر کے فلیٹ پر پہنچ گیا ۔ سیکیورٹی گارڈز کو پرنس کے کارندوں نے گن پوائنٹ پر یرغمال بنا لیا جبکہ پرنس مینیجر کے کمرے کی طرف گیا اور دروازہ پر زور زور سے دستک دینے لگا ۔ دروازہ کھولتے ہی مینیجر نے نیم کھلی آنکھوں کے ساتھ پرنس کو گھورا ۔
"لدى وكيل النادي ، برنس ، جواز سفر يدعى جقن شانسى ، إذا لم تصل إلى العنوان حتى المساء السادس ، فسوف تتصل بـ Dan Walta وستكون مسؤولاً عن النتائج"
ترجمہ : "تمہارے کلب کی ایجنٹ شہنیلا کے پاس جگن شانزے نامی لڑکی کا پاسپورٹ ہے ، اگر وہ پاسپورٹ شام چھ بجے تک اس ایڈریس پر نہ پہنچا تو تمہیں ڈان والٹا کی کال آئے گی اور نتائج کے ذمہ دار تم خود ہو گے" پرنس نے عربی زبان میں بولتے ہوئے کہا تھا اور ایک پرچی مینیجر کے ہاتھ میں تھما دی ۔ مینیجر نے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ پرچی پکڑی اور دروازہ بند کر دیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *