Yaaram by Sumaira Hameed NovelR50531 Last updated: 18 February 2026
Rate this Novel
No chapters found.
Yaaram by Sumaira Hameed
اس نے سالوں تڑپ تڑپ کر، چھپ چھپ کر روتی رہی آنکھوں کو اٹھا کر عالیان کو دیکھا۔ عالیان وہیں کا وہیں رہ گیا۔ اس نے اپنی زندگی میں دو آنکھوں میں اتنی تڑپ، تکلیف،دکھ اور غصہ سمٹا ہوا نہیں دیکھا تھا-اس نے سیاہ مشرقی آنکھیں دیکھی تھی۔ ان مشرقی آنکھوں میں طیش و شکوے کے ایسے بادل نہیں دیکھے تھے۔ وہ اسے شکایت سے دیکھ رہی تھی کہ اردو بولنے والا نام سے مسلمان لگنے والا وہ بھی ان کے ساتھ شامل تھا
عالیان چپ کا چپ ہی رہ گیا۔ اس کی بھوری آنکھوں نے اس دے بھرپور شکایت کی۔ اسے انہیں ان دو سیاہ آنکھوں کے اتنا قریب نہیں لے جانا چاہئیے تھا۔ اب اگر وہ ایسا کر چکا تھا تو اس کا انجام اسے ہی بھگتنا تھا۔۔۔۔ اکیلے۔۔
عشق مجازی کا اگر کوئی لاڈ کا نام ہوتا تو ہو محبوب کی آنکھ کا طیش ہوتا اور اگر روتی ہوئی اندھیری آنکھوں کا کوئی لاڈ کا نام ہوتا تو وہ امرحہ ہوتا۔
عالیان کو یہ یاد کرنے میں دقت ہوئی کہ وہ کہاں بیٹھا ہے۔اس سے بھی زیادہ دشواری اسے اپنی آنکھوں کو آنسوءں کےپانیوں میں غرق ان آنکھوں سے ہٹانے میں ہو ئی۔ وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کھرا ہوا اور دو قدم پیچھے کو چلا اور پھر سے بھاگ پڑنے جیسے انداز میں اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ ماسٹر بالی کلارنٹ پر بسنت رنگ بجا رہے تھے۔
اگلے دن وہ سب باری باری گھر آتے رہے اور دروازے کے پاس پھول رکھتے گئے۔ رات اس نے ان کا سوری قبول نہیں کیا تھا۔۔
ڈر کے مارے وہ اندر نہیں آ رہے تھے۔وہ کھڑکی میں بیٹھی سب کا تماشہ دیکھتی رہی۔سب سے بڑا گلدستہ ایرک کی طرف سے تھا،یہ وہی تھا جس نے امرحہ کا انتخاب کیا تھا۔اس ڈرامے کیلیے۔ پھر اسے ایک لمبا چاڑٹ ملا جس پر ان سب کے دستخط تھے اور چارٹ پر ایک طرف روتا ہوا موٹے موٹے آنسو والا سوری لکھا تھا۔چارٹ کے ساتھ ہی وہ ویڈیو بھی بھیجی گئی تھی جو کل رات بنائی گئی تھی۔اسنے وہ ویڈیو دیکھی اور اپنی ہنسی کنٹرول کرنے کی ناکام کوشش کرتی رہی۔واقعی۔۔۔وہ ایک مکمل عملی مزاق تھا۔ان سب کے تاثرات کمال کے تھےاسنے وہ ویڈیو لیڈی مہر اوع سادھنا کو بھی دکھائی۔۔وہ لوٹ پوٹ ہوتی ہوئی باربار ویڈیو چلا کر دیکھتی رہیں۔
بعد میں اسے معلوم ہوا کہ کام کرنے کیلیے جتنے بھی لوگوں کا گروپ وہاں موجود تھا۔ان سب کے ساتھ کچھ نہ کچھ کچھ کیا جانا تھا۔ وہاں موجود سب ہی اسٹوڈنٹس مانچسٹر یونیورسٹی میں پچھلے چار سال سے پڑھ
رہے تھے اور یہ ایک روایت ہی تھی کہ وہ ہر سال کچھ نہ کچھ کرتے لیکن امرحہ کے ساتھ مزاق کچھ زیادہ ہی سیریس ہو گیا۔۔
