Yaar Bereham By Zeenia Sharjeel NovelR50396 Yaar Bereham (Episode 8) 2nd Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Yaar Bereham (Episode 8) 2nd Last Episode
Yaar Bereham By Zeenia Sharjeel
وہ یہی سوچ کر چچا جان کے گھر رکی تھی کہ نگی بھی رات تک رکنے آجائے گی مگر ہوا کچھ یوں کے دو گھنٹے پہلے گھر کے نمبر پر نگی کی روتی ہوئی کال آئی۔۔۔ اسجد سے نگی کی لڑائی ہونے پر چچا اور چچی کو صبحیہ خالہ کے بلانے پر اُن کے پاس جانا پڑا۔۔۔۔ حرم کمرے میں ٹہلتی ہوئی چچا جان اور نزہت چچی کے واپس لوٹ آنے کا انتظار کررہی تھی تب اُس کے موبائل پر بہرام کی کال آنے لگی جو حرم نے سے جلدی سے ریسو کرلی
“اتنی بےتابی۔۔۔ کیا بات ہے بہت مِس کررہی ہو مجھے”
حرم کے ہیلو کہنے پر بہرام اُس سے پوچھنے لگا
“حقیقت ہے میں تو مس کررہی ہوں کافی دیر سے لیکن شاید آپ بہت خوش ہیں بیوی کے میکے رکنے پر”
حرم جو کافی دیر سے ٹہلتے ٹہلتے اب تھک چکی تھی کرسی پر بیٹھتی ہوئی بولی
“زیادہ فضول کے ڈائیلاگز بولنے کی ضرورت نہیں ہے میرے آگے۔۔۔ اگر میں مِس نہیں کررہا ہوتا تو کبھی بھی کال نہیں کرتا۔۔۔ اور اب تو میں نے یہ بھی سوچ لیا تمہارے کہنے پر تمہیں فوراً سے تمہارے چچا کے گھر نہیں لےکر جاؤں گا وہاں جاکر تمہاری رکنے کی فرمائشیں شروع ہوجاتی ہے اور تم بہت زیادہ پھیل جاتی ہو”
بہرام اُس کو ڈانٹتا ہوا بولا۔۔۔ دوپہر میں وہ حرم کے منہ سے روکنے کا سن کر حرم کے چچا چچی کے سامنے اُسے کچھ بھی نہیں بول پایا تھا اِس لیے اُس وقت کی جھنجھلاہٹ کو وہ اب اتار رہا تھا کیونکہ حرم کے بغیر وہ آج اپنے فلیٹ میں اُس کی کمی کو محسوس کررہا تھا
“بہرام رات میں نگی کو بھی رکنے آنا تھا اور پھر نزہٹ چچی بھی چارہی تھیں کہ میں آج یہاں رُک جاتی”
حرم بہرام کو آرام سے بتانے لگی
“اوہو تو اصل وجہ یہ تھی تم نزہت چچی کے کہنے پر وہاں رکی ہو۔۔۔ پھر تو سارے میلے کپڑے آج ہی دھولیے ہوگیں تم نے۔۔۔۔ اب کل ایسا کرنا کہ پورے ایک مہینے کا کھانا بناکر اُسے فریز کر کے یہاں میرے پاس آجانا”
بہرام تپے ہوئے انداز میں بولا تو حرم اُس کی بات سن کر ہنسنے لگی
“بہرام اِس طرح کسی کے خلوص پر شک نہیں کرتے، چچی نے مجھے اپنے گھر کے کام کروانے کے لئے نہیں روکا ہے بلکہ محبت میں روکا ہے۔۔۔ اور آپ یہ کس طرح ٹریٹ کررہے ہیں مجھے کسی سخت گیر شوہر کی طرح”
حرم موبائل کان پر لگائے کرسی سے اٹھ کر بیڈ پر بیٹھتی ہوئی بولی
“جس طرح تمہیں ابھی ٹریٹ کررہا ہوں ناں یہی میرا اسٹائل ہے خوش نصیب ہو تم جو تمہارا میرے جلاد والے روپ سے پالا نہیں پڑا، ناجانے تمہیں اپنے دیکھ کر میرے اندر کی سختی کہاں رفوچکر ہوجاتی ہے۔۔۔ اب تمہیں اس بات کو اچھی طرح سمجھنا چاہیے کہ تمہیں ہر وقت میرے آس پاس رہنا چاہیے، اِسی میں تمہارا فائدہ ہے۔۔۔ بولو تو ابھی لینے آجاؤ تمہیں”
بہرام جیکٹ کی زپ بند کرتا ہوا حرم سے پوچھنے لگا
“ابھی نہیں بہرام چچا چچی کیا سوچیں گیں اور نگی بھی تو میری وجہ سے آئی ہوئی ہے۔۔۔ میں کل آ تو رہی ہوں آپ کے پاس”
حرم کو بہرام کی جذباتی پن پر جھوٹ بولنا پڑا کہ نگی یہاں رکی ہوئی ہے اگر بہرام کو معلوم ہوجاتا کہ نگی یہاں موجود نہیں تو وہ اِسی وقت اسے لینے کے لئے آ جاتا تھا۔۔۔ حرم نے سوچ رکھا تھا کہ وہ کل شام تک خود بہرام کے پاس چلی جائے گی
“ہاں مجھے اندازہ ہورہا ہے وہاں بیٹھ کر تم کتنا یاد کررہی ہو اپنے شوہر کو۔۔۔ بس میں ہی بلاوجہ خوار ہورہا ہوں تمہارے پیچھے”
بہرام اپنے اوپر پرفیوم چھڑکتا ہوا اُس سے شکوہ کرتا بولا
“ایسی بات نہیں ہے بہرام میں واقعی آپ کو یاد کررہی ہو، مگر اِس طرح رات میں آپ کے ساتھ آجانے پر، آپ خود سوچیں کتنا عجیب لگے کا کیا سوچیں گے سب لوگوں”
حرم بہرام کو سمجھاتی ہوئی بولی نگی کی اسجد سے لڑائی ہوچکی تھی۔۔۔ وہ بھی رات میں اِس طرح چلی جاتی تو چچا چچی نہ جانے کیسا محسوس کرتے
“ٹھیک ہے اگر مجھے مِس کررہی ہوں تو پھر موبائل پر ہی کِس دے دو۔۔۔ اب میں رات میں تمہارے تکیے سے تو رومینس کرنے سے رہا۔۔ اِسی کِس کو یاد کرکے کام چلالو گا”
بہرام کی فرمائش سن کر وہ بری طرح بلش کر گئی
مگر آگے سے اُس نے کچھ بولنے کی بجائے بہرام کی خواہش کا احترام کر کے موبائل کی کال ڈسکنکٹ کردی۔۔۔ جس پر بہرام ہنس دیا،، وہ لازمی اپنے عمل پر خود شرما چکی ہوگی تبھی اُس نے رابطہ منقطعہ کردیا بہرام سوچتا ہوا گھر لاک کرنے لگا۔۔ اُسے باری صاحب کے ایڈرس پر جانا تھا۔۔۔ تاکہ اینجل کا معلوم کرسکے
*****
“اف بہرام بھی ناں اتنی عجیب فرمائشیں کرتے رہتے ہیں”
حرم موبائل رکھتی ہوئی خود سے بولی تو گھر کا دروازہ بجنے لگا
“آگئے چچا جان اور چچی واپس”
حرم سوچتی ہوئی دروازہ کھولنے چلی گئی مگر سامنے کھڑے وجود کو دیکھ کر وہ سکتے میں آگئی
یہ وہی اسٹور والی اُس کی ہم شکل لڑکی تھی۔۔۔ جو اُسی دن کی طرح اُسے دیکھ کر عجیب پراسرار طریقے سے مسکرا رہی تھی
اس سے پہلے حرم اُسے کچھ بولتی اینجل نے ہاتھ میں پکڑا ہوا اسپرے اُس کے چہرے کے قریب لاکر کردیا۔۔۔ جس کے بعد حرم ہوش سے غافل ہوکر نیچے فرش پر گر گئی
“رشید جلدی سے اسے اٹھاکر گاڑی میں ڈالو”
اینجل حرم کے بےہوش نیچے پڑے ہوئے وجود کو دیکھ کر اپنے ڈرائیور کو حکم دیتی ہوئی بولی
*****
“آخر تم سمجھتے کیوں نہیں ہو اینجل اب اس دنیا میں نہیں رہی اور اگر بقول تمہارے وہ زندہ ہے تو اُس نے مجھ سے ابھی تک کانٹکیٹ نہیں کیا ہے اس لیے مجھے بالکل اندازہ نہیں ہے کہ وہ اِس وقت کہاں پر موجود ہے”
باری صاصب (اینجل کے انکل) اب کی بار بہرام کے پوچھنے پر ذرا تیز لہجے میں تھوڑا جھنجھلاتے ہوئے بولے
“اپنی آواز نیچی اور لہجہ درست رکھ کر میرے سوال کا جواب دیجیے۔۔۔ یہ مت سمجھئے گا اینجل کے رشتے کی حیثیت سے میں یہاں آپ سے اُس کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں،، اُس کے اوپر کیس ہے یونیورسٹی ڈرگ سپلائی کرنے کا۔۔۔ اگر آپ نے اِس معاملے میں اس کی ہیلپ کی تو اُس کو سپورٹ کرنے کے جرم میں آپ کو بھی حراست میں لیا جاسکتا ہے”
بہرام بغیر نرمی برتے باری صاحب سے بولا تو وہ کچھ پریشان ہوکر سوچ میں پڑگئے
*****
جیسے ہی حرم نے اپنی آنکھیں کھولیں تو اس نے اپنے آپ کو اجنبی کمرے میں موجود پایا وہ تیزی سے اٹھ کر بیڈ پر بیٹھی۔۔۔ تو سامنے صوفے وہی اُس کی ہمشکل لڑکی اُسی کے کپڑوں میں موجود تھی۔۔۔ حرم حیرت زدہ ہوکر اپنے کپڑوں کو دیکھنے لگی اُس کے بدن پر موجود لباس (ٹاپ اور کیپری) اُس کا ہرگز نہیں تھا وہ دوبارہ اینجل کو حیرت زدہ ہوکر دیکھنے لگی
“یوں بیوقوفوں کی طرح مجھے گھورنے کی ضرورت نہیں ہے کم عقل لڑکی۔۔۔ میں تمہارے شوہر کی پہلی بیوی ہوں اینجل”
اینجل صوفے سے اٹھ کر قدم اٹھاتی ہوئی حرم کے پاس آئی اور اُس کی کنفیوژن دور کرتی ہوئی اُسے بتانے لگی
“تمہیں تو بہرام نے۔۔۔ میرا مطلب ہے تم تو۔۔۔ تم کیسے زندہ ہوسکتی ہو”
حرم اینجل کو زندہ اپنے روبرو دیکھ کر پریشان ہوچکی تھی
“تم یہ سمجھ رہی ہو کہ میں مر گئی تھی اسٹوپڈ گرل، ایک بات میری ہمیشہ یاد رکھنا مجھے بہرام سے نہ تو موت دور کرسکتی ہے نہ خود بہرام مجھ پر گولی چلا کر اپنے آپ سے دور کرسکتا ہے۔۔۔ تمہارا شوہر تم سے پہلے میرا شوہر ہے۔۔۔ اُس پر میرا حق تم سے پہلے اور تم سے زیادہ ہے سمجھ آرہی ہے تمہیں میری بات”
اینجل حرم کے قریب آتی ہوئی اُس سے بولی تو حرم بیڈ سے اٹھ کر اُس کے سامنے کھڑی ہوگئی
“تم بیشک بہرام کی پہلی بیوی سہی مگر اُن پر اُسی کا حق زیادہ ہوگا، جس کی بہرام کے دل میں جگہ ہوگی اور یہ بات تم اچھی طرح جانتی ہو اِس وقت اُن کے دل میں تو کیا دل کے کسی کونے میں بھی تمہاری جگہ موجود نہیں ہے”
حرم اُس سے بغیر ڈرے بےخوف سے بولی تو اینجل بالکل خاموش ہوگئی
“جوجو”
اینجل نے غصے میں حرم کو دیکھ کر اپنے کُتے کو پکارا تو کمرے کے دروازے سے ایک بڑا سا کتا نمودار ہوا جسے دیکھ کر حرم ڈر گئی۔۔۔۔
جوجو نے ایک نظر حرم پر تو دوسری نظر اینجل پر ڈالی پھر اچانک ہی وہ حرم پر چھلانگ لگاتا ہوا بری طرح جھپٹ پڑا۔۔۔ حرم جوجو سے اپنا بچاؤ کرتی ہوئی خوف سے بری طرف چیخنے لگی جبکہ اینجل نے ہنستے ہوئے جوجو کی زنجیر پکڑلی اور اُسے کمرے سے باہر نکال دیا۔۔۔ حرم دوبارہ خوفزدہ نظروں سے اینجل کو دیکھنے لگی
“جوجو میرا وفادار ہے مجھ سے پیار کرتا ہے اِس لیے مجھے پہچانتا بھی ہے۔۔۔ لیکن بات تمہاری بھی غلط نہیں اِس وقت بہرام کے دل میں صرف حرم کی جگہ ہے۔۔۔ ایسا ہی ہے ناں”
اینجل حرم کو دیکھ کر اُس سے پوچھتی ہوئی ہنسنے لگی۔۔۔ حرم خاموشی سے اپنی ہم شکل لڑکی کو دیکھ رہی تھی جیسے دیکھ کر اُسے ناجانے کیوں خوف آرہا تھا
“لیکن بہرام حرم سے اتنی محبت تو ہرگز نہیں کرتا ہوگا کہ وہ اپنی حرم کو اُس کی خوشبو سے پہچان لے”
اینجل نے بولتے ہوئے دراز میں سے رسی نکالی اِس سے پہلے حرم کمرے سے نکلنے کی کوشش کرتی اینجل نے اُسے پکڑ کر بیڈ کی جانب زور سے دھکیلا۔۔۔ جس کی وجہ سے حرم کے سر پر بیڈ کا سراہ لگا اور اُس کے منہ سے کراہ نکلی
“کیا کررہی ہو تم میرے ساتھ۔۔ دیکھو مجھے چھوڑ دو یہاں سے جانے دو۔۔۔اگر بہرام کو معلوم ہوگیا کے تم زندہ ہو اور تم نے میرے ساتھ اِس طرح کا سلوک کیا ہے تو وہ تمہیں بخشے گے نہیں”
اینجل رسی سے حرم کے ہاتھ کمر کے پیچھے باندھنے لگی۔۔ تو حرم اُس کو اُس کے عمل کے نتائج سے آگاہ کرتی ہوئی بولنے لگی
“کون بتائے گا یہ بات بہرام کو کہ اُس کے پاس حرم موجود نہیں بلکہ اینجل موجود ہے”
اینجل غصے میں حرم کا منہ جبڑے سے پکڑتی ہوئی اُس سے پوچھنے لگی
“بہت مزے کرلیے تم نے بہرام کے ساتھ اُس کے بستر پر۔۔۔ سمجھ لو آج کے دن سے تمہارے برے دن کا آغاز ہوا جاتا ہے اور میری رنگین راتوں کا”
اینجل حرم کے منہ پر بڑا سا ٹیپ لگاتی ہوئی بولی۔۔۔ حرم کے بیڈ سے اٹھنے پر اینجل نے اُسے دوبارہ بیڈ پر دھکا دیا۔۔ اور حرم کے ہاتھ سے اُس کی ڈائمنڈ کی رینگ اتار کر پہنتی ہوئی دوبار اس سے بولی
“اگر تم نے اِس کمرے سے باہر نکلنے کی کوشش کی تو یاد رکھنا۔۔۔ باہر جوجو موجود ہے جسے نے دو دن سے کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں دیا ہے، اِس کمرے سے باہر نکلنے کی صورت میں وہ تمہاری بوٹی بوٹی نوچ ڈالے گا اور تمہیں یہاں بچانے والا کوئی نہیں ہوگا”
اینجل حرم کو وارن کرتی ہوئی حرم کو بیڈ پر روتا ہوا چھوڑ کر باہر نکل گئی
اُس نے حرم کے لئے آگے سوچ رکھا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے مگر پہلے ایک مرتبہ وہ حرم کے روپ میں بہرام کے پاس اُس کے فلیٹ میں پہنچنا چاہتی تھی۔۔۔ وقتی طور پر اُس نے اپنے موبائل کا نمبر بند کردیا تھا۔۔ اور سارے ملازموں کو بھی فارغ کردیا تھا کیونکہ وہ بہرام کو کسی بھی قسم کے شک میں مبتلا نہیں کرنا چاہتی تھی ایک دم سے اُس کے ہاتھ میں حرم کا موبائل بجنے لگا جسے بےزاری سے دیکھنے لگی
“جی فرمائے”
بغیر سلام کے وہ کال ریسیو کرتی ہوئی نزہت چچی سے بولی
“بیٹا میں اور تمہارے چچا پریشان ہورہے ہیں آخر تم کہاں چلی گئی ہو گھر سے”
واپس گھر آنے کے بعد جب ان دونوں کو گھر خالی ملا تو شوہر کے کہنے پر نزہت نے حرم کے موبائل پر کال ملائی تھی
“میں کہاں جاسکتی ہوں بہرام کے گھر کے علاوہ بلاوجہ میں ہی آپ دونوں پریشان ہورہے تھے بہرحال اب آپ کو بتادیا ہے تو دوبارہ کال ملا کر مجھے یا پھر بہرام کو ڈسٹرب مت کرئیے گا”
اینجل بےزار لہجے میں بولتی ہوئی خود ہی نزہت چچی کی کال کاٹ چکی تھی۔۔۔ حرم کا موبائل اُس کے بیگ میں ڈالتی ہوئی دوپٹے کو اچھی طرح خود سے کور کر کے وہ بہرام کے فلیٹ میں جانے کے لئے اپنے ہٹ سے نکل گئی
*****
ڈرائیونگ کے دوران سامنے ہٹ میں پولیس کی وین دیکھ کر بہرام سمجھ چکا تھا کہ یہاں کوئی واردات ہوئی تھی لیکن اِس وقت اُسے اس بات سے غرض نہیں تھی کیونکہ پولیس مجرم کو ہتھکڑی لگا کر پولیس وین میں بٹھا رہی تھی یہ وہاں کا ایریا تھا جہاں اینجل رہتی تھی۔۔۔ جس کا ایڈریس اُسے باری صاحب سے ملا تھا، اِسی ہٹ کے چار گھر چھوڑ کر اینجل کا ہٹ تھا
بہرام نے مطلوبہ ہٹ کے سامنے گاڑی روکی مگر دروازے پر بڑا سا تالا لگا ہوا تھا۔۔۔ اچھا ہی تھا کہ اینجل اِس وقت گھر پر موجود نہیں تھی بہرام اُس کے ہٹ کی اینجل کی غیر موجودگی میں تلاشی لینے کا ارادہ رکھتا تھا اس کے لئے باؤنڈری وال پھیلانگ کر ہٹ کے اندر داخل ہوگیا۔۔۔ جیسے ہی بہرام مین دوڑ کا دروازہ کھول تیزی سے دروازے کے سائیڈ میں ہوا ویسے ہی جوجو باہر لان کی طرف نکل کر بھاگا اُس سے پہلے جوجو غراتا ہوا بہرام کی طرف لپکتا بہرام نے پھرتی سے ہٹ میں داخل ہو کر اندر سے دروازہ بند کرلیا
“نفسیاتی عورت نے کُتا بھی اپنی جیسا نفسیاتی پالا ہے”
بہرام بڑبڑاتا ہوا بولا۔۔۔ جوجو کہ غراہٹ کی آواز پر وہ دروازہ کھولنے سے پہلے ہی محتاط ہوچکا تھا کہ اندر کوئی موجود ہے لیکن اِس وقت بھی ہٹ کے اندر داخل ہو کر اُسے محسوس ہو رہا تھا جیسے کہ کوئی اور بھی اِس ہٹ میں موجود ہے بہرام ایک ایک کر کے تمام کمروں کے دروازے کھولنے لگا
*****
بند کمرے کا دروازہ کھول کر جیسے ہی اُس نے کمرے کی لائٹ آن کی تو اُس کی نگاہیں سامنے بیڈ پر گئیں۔۔۔ بہرام سے ایک پل کے لئے اُسے دیکھ کے چونکا، نہ صرف اُس کے منہ پر ٹیپ لگا کر اُس کی آواز کو بند کیا گیا تھا بلکہ دونوں ہاتھوں کو بھی پیچھے رسی سے باندھا گیا تھا۔۔۔ یہ کام لازمی گھر میں گھسنے والے اُن ڈکیتوں کا ہوسکتا تھا جن کو تھوڑی دیر پہلے پولیس گرفتار کرکے لے جارہی تھی
“کیا ہوا مجھے یہاں اپنے سامنے دیکھ کر خوشی اور حیرانگی ہورہی ہے۔۔۔ تھوڑی دیر میں تمہارے اِس چہرے سے یہ خوشی اور حیرت میں چھین لونگا، مجھے تمہارے اِس چہرے پر صرف اور صرف انسو، درد، تکلیف اور اپنے لئے خوف دیکھنا ہے”
بہرام اُس کی طرف قدم بڑھاتا ہوا آیا مٹھی میں حرم کے بالوں کو پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کرتا ہوا بولا۔۔۔
حرم جو تھوڑی دیر پہلے یہاں خوف سے ڈری سہمی بیٹھی تھی اچانک وہاں بہرام کی آمد اُسے کسی معجزے سے کم نہیں لگ رہی تھی جسے دیکھ کر حرم حیران ہوئی تھی بلکہ دل ہی دل میں شکر ادا کرتی ہوئی وہ خوش بھی تھی۔۔۔ مگر جب اُس نے بہرام کے سرد رویے کو دیکھا اور اپنے بالوں میں اٹھتی ہوئی تکلیف محسوس کی تو وہ نفی میں سر ہلانے لگی
“میرا نشانہ کبھی نہیں چونکتا نہ جانے کیسے تمہارے دل پر چلنے والی گولی، تم سے تمہاری سانسیں نہیں چھین سکی لیکن آج تم میرے قہر سے نہیں بچ پاؤ گی”
بہرام نے مٹھی میں جکڑے ہوئے اُس کے بالوں کو آزاد کرکے زوردار طمانچہ حرم کے منہ پر مارا۔۔۔ جس سے اُس کا دماغ بری طرح سنسنا اٹھا وہ چکرا کر نیچے فرش پر جاگری
بہرام اُسے اینجل کے گھر میں اور اُس کے کپڑوں میں اسے اینجل سمجھ رہا تھا حرم چاہ کر بھی منہ بند ہونے کی وجہ سے اُسے بتا نہیں پائی کہ وہ اینجل نہیں حرم ہے۔۔۔ اِس سے پہلے حرم خود کو سنبھال کر کھڑی ہو پاتی بہرام نے اُس کے بالوں کو دوبارہ مٹھی میں جکڑ کر اُسے اپنے سامنے کھڑا کیا۔۔ حرم کوشش کرنے لگی اپنی پشت پر بنے ہوئے اپنے ہاتھ کھول سکے مگر ناکام رہی
“حرم کو نقصان پہنچانا چاہتی تھی تم، اُس کے چہرے پر ایسڈ پھینک کر اس کا چہرہ بگاڑنا چاہتی تھی، آج میں تمہارا حشر بگاڑ دوں گا”
بہرام نے بولتے ہوئے دوسرا زوردار طمانچہ اُس کے گال پر مارا تو حرم کا سر دیوار پر جا ٹکرایا
وہ پہلے تھپڑ کی تاب نہیں لا پائی تھی پہلے ہی اُس کا دماغ بری طرح سنسنا رہا تھا دوسرے تھپڑ پر اُس کا دماغ مکمل طور پر ماؤف ہوچکا تھا اور سر میں بری طرح ٹیسیں سے اٹھنا شروع ہوچکی تھی۔۔۔ اِس کا شوہر بےرحم بنا ہوا انجانے میں نے اُس کے ساتھ بالکل مجرموں جیسا سلوک کررہا تھا
بہرام ایک بار پھر اُس کے قریب آیا اپنی جیکٹ کی پاکٹ میں دونوں ہاتھ ڈالے وہ اُس کے فرش پر گرے وجود کو دیکھنے لگا۔۔۔ جو اُس کے دو طماچوں میں ہی ڈھیر ہوچکی تھی۔۔۔ حرم کے فرش پر ٹکے ہوئے گال کو اپنے جوتے کی نوک سے اُس کے چہرہ مزید اوپر کرتا ہوا وہ حرم کے نڈھال وجود کو دیکھنے لگا۔۔ حرم خود بھی اپنی آنکھوں میں ڈھیر سارے آنسو لئے خاموشی سے بہرام کو دیکھ رہی تھی
“رحم کرنے لائق نہیں ہو تم، میں تمہارے اِس معصوم چہرے کو دیکھ کر، تم پر بالکل ترس نہیں کھا سکتا کیونکہ تمہارا دل اور کردار اس قابل نہیں کہ تم پر رحم کیا جائے۔۔۔ بہت شوق ہے ناں تمہیں اپنے جسم پر ٹیٹو بنوانے کا۔۔۔ آج میں تمہارے جسم کے ایک ایک حصّے پر ایسے نیل ڈالوں گا کہ تمہارے سارے گھٹیا شوق اور آوارگی ہوا ہوجائے گی”
بہرام نے بولتے ہوئے جھک کر ایک بار پھر حرم کی گردن کو ہاتھوں میں جکڑے اپنے سامنے کھڑا کیا اور اُسے کمرے کے دروازے کی جانب دھکیلا اس سے پہلے حرم دوبارہ فرش پر نیچے گرتی بہرام اسے بالوں سے پکڑتا ہوا ہٹ سے باہر لے جانے لگا۔۔ لان میں کھڑا ہوا جوجو باہر زبان نکالے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا بہرام نے اپنی گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولتے ہوئے حرم کو سیٹ پر دھکیلا اور گاڑی اسٹارٹ کر دی۔۔ اُس کی گاڑی کا رخ سینٹرل جیل کی طرف تھا
*****
گاڑی کی پچھلی سیٹ پر حرم نڈھال وجود لیے پڑی تھی جب گاڑی سینٹرل جیل کے آگے رکی۔۔۔ وہ حرم کو بازو سے پکڑتا ہوا اندر کمرے میں لایا جہاں لیڈی انسپکٹر فرحت موجود تھی۔۔۔ انسپکٹر فرحت بہرام کو آتا دیکھ کر اپنی کرسی سے کھڑی ہوکر اسے سلوٹ کرنے لگی تبھی بہرام حرم کی طرح اشارہ کرتا اُس سے بولا
“انسپیکٹر فرحت لے جائیے اِسے اور لاک اپ کریئے اِس کے معصوم چہرے اور آنکھوں میں آنسو دیکھ کر اِس پر ترس کھانے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔۔۔ زمانے کی ہوا نے اِس پر کافی برے اثرات مرتب کیے ہیں میں چاہتا ہوں جب میں صبح واپس یہاں پر آؤں تو اِس کی اچھی طرح توازہ ہوچکی ہو مجھے امید ہے آپ یہ کام اچھے سے انجام دیں گیں”
بہرام نے لیڈی انسپیکٹر سے بولتے حرم کو بازو سے پکڑ کر اُس کی طرف دھکیلا
“آپ بے فکر ہو جائیں سر ایسی بگڑی ہوئی لڑکیوں کو مجھے سیدھا کرنا بہت اچھے سے آتا ہے۔۔۔ جب آپ صبح یہاں تشریف لائیں گیں تب تک یہ سیخ کی طرح سیدھی ہوچکی ہوگی”
انسپیکٹر فرحت نے ایک نظر روتی ہوئی حرم کو دیکھا جس کے ہاتھ اور منہ ابھی تک بند تھے۔۔۔ بہرام لیڈی انسپکٹر فرحت کی بات سن کر وہاں سے چلا گیا
“منہ کالا کرتی ہوئی پکڑی گئی ہو یا پھر چوری چکاری کررہی تھی بی بی”
انسپکٹر فرحت حرم کے منہ سے ٹیپ ہٹاتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی
“بہرام غلط سمجھ رہے ہیں مجھے۔۔۔۔ پلیز آپ انہیں یہاں دوبارہ بلائیں انہیں بتائیں کہ میں حرم ہوں”
منہ کُھلتے ہی حرم روتی ہوئی انسپکٹر فرحت سے بولی جس کے جواب میں انسپیکٹر فرحت نے اُس کے گال پر کرارا تھپڑ رسید کیا
“گھر والی ہے تُو اے سی پی صاحب کی جو وہ تیرے یہاں بلانے پر دوبارہ دوڑے چلے آئیں گے۔۔۔۔ روقیّہ لے جاؤ اِس نازک کلی کو اور بھوری کے ساتھ لاک اپ میں بند کردو”
انسپکٹر فرحت کرخت لہجے میں روقیّہ کو آرڈر دیتی ہوئی بولی تو حرم رحم طلب نظروں سے اُسے دیکھنے لگی
“انسپیکٹر صاحبہ بھوری کو دو دن سے انجکشن نہیں لگے ہیں وہ ہر ایک کو بری طرح پیٹ رہی ہے۔۔۔ سوچ لیں بھوری کہیں اِس نازک کلی کا کچومر ہی نہ نکال ڈالے”
روقّیہ حرم کے نازک سراپے کو دیکھتی ہوئی انسپکٹر فرحت سے بولی تو حرم اس کی بات سن کر خوفزدہ ہوتی بری طرح کانپنے لگی
“آپ میرا یقین کریں میں سچ کہہ رہی ہوں میں اے سی پی بہرام عباسی کی وائف ہوں آپ میری ایک بار اُن سے بات کروا دیں پلیز، وہ غلط فہمی کی بناء پر مجھے یہاں لے آئے ہیں” نہ جانے اُس کو کسی پاگل کے ساتھ لاک اپ میں ڈالا جارہا تھا، حرم روتی ہوئی انسپکٹر فرحت سے التجائی انداز میں بولی۔۔۔ جس پر انسپیکٹر فرحت کے ساتھ ساتھ روقیّہ بھی قہقہہ مار کر ہنس پڑی
“سن رہی ہوں رقیہ یہ اے سی پی صاحب کی وائف ہے، اُن کی پرسنالٹی دیکھ کر پجاری اپنا دل دے بیٹھی ہے اے سی پی صاحب پر، بی بی وہ تجھ جیسی کو منہ لگانا پسند نہ کریں۔۔۔ چلو بھئی رقیہ جلدی سے اُس کو بھوری کے لاک اپ میں بند کرو، اِس کے ارمان تو وہی نکالے گی”
انسپیکٹر فرحت کے حکم پر رقیہ حرم کو لاک اپ کی طرف لے جانے لگی
“پلیز میری بات سنیں صرف ایک مرتبہ میری بہرام سے بات کروا دیں”
حرم کے روتے ہوئے التجا کرنے پر بھی رقیہ اُس کی سنی اَن سنی کرکے اُسے لاک اپ کی طرف لے گئی
*****
واپس اپنے اپارٹمنٹ میں آتے ہوئے اُس کو رات کے ڈھائی بج چکے تھے اینجل کو اُس کے صحیح ٹھکانے پر پہنچا کر بہرام کا مائینڈ ریلکس ہوچکا تھا کم سے کم اینجل سے اب حرم کو خطرہ نہیں تھا۔۔ کل وہ سینٹرل جیل میں جاکر اینجل کی حالت دیکھنے کے بعد اُس کو طلاق دے کر ہمیشہ کے لیے اُس سے اپنا رشتہ ختم کرنے کا ارادہ رکھتا تھا، اچھا ہی تھا بنا حرم کے یا جیاء کے علم میں لائے بغیر اینجل کا باب ہمیشہ کے لئے بند ہوجاتا بہرام سوچتا ہوا بیڈروم میں آیا تو بیڈ پر کمفرٹر میں موجود وجود کو حیرت سے دیکھنے لگا
“تو مسسز احساس کرکے خود ہی رات میں چلی آئیں”
بہرام دل ہی دل میں مسرور انداز میں سوچ کر چینج کرنے چلاگیا جب وہ واپس آکر کمفرٹر اوڑھ کر لیٹا تو اُس نے حرم کو کھینچ کر اپنے سے قریب کرلیا
“میں یہی سوچ رہا تھا کہ آج رات تمہارے بغیر خود کو کتنا اکیلا محسوس کروں گا۔۔ مجھ سے دور مت جایا کرو میری جان، یہ دوری مجھے بےچین کردیتی ہے”
بہرام اس کے نازک سراپے کو باہوں میں لیے ہلکی آواز میں سرگوشی کرتا ہوا بولا تو بہرام کے سینے پر سر رکھے اینجل نے مسکرانے پر اکتفا کیا۔۔۔
اِس وقت بہرام کی باہوں میں اُس کے قریب سینے پر سر رکھے وہ اندر سے کتنا اطمینان محسوس کررہی تھی اینجل چاہ کر بھی بہرام کو نہیں بتا پائی، اس وقت وہ اِسی طرح اُس کی دسترس میں رہنا چاہتی تھی۔۔۔ بہرام نے حرم کی نیند کی وجہ سے اُسے مزید ڈسٹرب نہیں کیا بلکہ اس کے وجود کو باہوں میں لےکر وہ خود بھی سونے کی کوشش کرنے لگا
*****
“سوری پاپا آپ سے محبت ہونے کے باوجود میں آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتی میں نے ماما اور ارحم کے ساتھ نیویارک جانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔۔۔ آپ کی حقیقت جاننے کے بعد بھی میں آپ سے محبت تو ختم نہیں کرسکتی کیونکہ آپ پاپا ہیں میرے مجھے دنیا میں سب سے زیادہ عزیز بھی لیکن اس کے باوجود میں آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتی” یعقوب نیازی کو اپنی بیٹی کے بولے گئے جملے یاد آنے لگے جو اس نے جانے سے پہلے اُس ے بولے تھے۔۔۔
اُس کی بیوی خلع لےکر جاچکی تھی اُس کا بیٹا اُس کی شکل دیکھنے کا روادار نہیں تھا اسے سب سے زیادہ محبت اپنی بیٹی سے تھی، یعقوب نیازی نے اسے لاکھ روکنے کی کوشش کی مگر وہ بھی اس کو چھوڑ کر چلے گئی۔۔۔
پورے خاندان میں یہ خبر پھیل چکی تھی کہ اُس کی بیوی اُس سے تعلق توڑ کر اپنے بچوں کو اپنے ساتھ لے جاچکی ہے۔۔۔ پورے خاندان میں اُس کی رسوائی ہوچکی تھی وہ صبح سے ہی سب ہمدردی میری کال ریسیو کر کر کے تھک چکا تھا اس وقت دوبارہ اُس کا موبائل بجنے لگا
“ہاں ہاں چھوڑ کر چلے گئے ہیں مجھے سب کے سب، اکیلا ہو چکا ہوں میں۔۔۔ اب مجھے کسی کی بھی جھوٹی ہمدردی کی ضرورت نہیں اس لیے بند کر دو تم سب لوگ اپنے یہ ڈھکوسلے”
یعقوب نیازی غُصّے کی شدت سے موبائل پر چیختا ہوا بولا اور اس نے اپنا موبائل دیوار پر زور سے دے مارا
“سر آپ ٹھیک تو ہیں”
شور کی آواز سن کر یعقوب نیازی کا وفادار ملازم اُس کے کمرے میں آتا ہوا اُس سے پوچھنے لگا
“ٹھیک کیسے ہوسکتا ہوں میں سب کچھ برباد ہوچکا ہے میرا۔۔۔ بوبی ہمیشہ کے لیے مجھے چھوڑ کر چلا گیا، میرے بچے میری شکل دیکھنے کے لئے تیار نہیں ہیں، میری بیوی مجھ سے رشتہ ختم کرکے چلی گئی۔۔۔ سب نے اکیلا چھوڑ دیا ہے مجھے، پورے خاندان میں شرمندہ ہوچکا ہوں،، زلیل اور رسوا ہوچکا ہوں صرف اور صرف اُس اے سی پی کی وجہ سے۔۔۔ اب کسی بھی حالت میں مجھے اُس اے سی پی کی بیوی میرے اِس گھر میں چاہیے۔۔شرمندگی کیا ہوتی ہے رسوا ہونا کسے کہتے ہیں اِس کا ذائقہ وہ اے سی پی بھی چکھے گا۔۔۔ صبح ہوتے ہی آدمیوں کو ساتھ لے کر جاؤ اور اے سی پی بہرام عباسی کی بیوی کو اٹھا کر یہاں میرے گھر میں لے آؤ”
یعقوب نیازی انتقام کی آنکھ میں پاگل ہوتا ہوا اپنے ملازم کو حکم دینے لگا
*****
اپنے سینے پر ہونٹوں کا لمس محسوس کر کے بہرام کی نیند ٹوٹی۔۔۔ نیند سے بیداری پر اُس نے اپنی بیوی کو اپنے بےحد قریب اپنے سینے پر جھکے پایا
“آج صبح ہوتے ہی اتنی مہربانی کہیں یہ خواب تو نہیں”
بہرام اُس کے اِس انداز پر حیرت زدہ ہوکر اُس سے پوچھنے لگا
“آپ کی دوری مجھے آپ سے بےحد قریب لے آئی ہے سمجھ لیں کہ اب مہربانیوں کا سلسلہ چل نکلا ہے”
اینجل بہرام کے چہرے کے قریب اپنا چہرہ لاکر ایک ادا سے اُس سے بولی
تو بہرام نے اُس کو بانہوں میں لیتے ہوئے بیڈ پر لٹا دیا خود اُس کے اوپر جھکتا ہوا اپنے ہونٹ اُس کے ہونٹوں پر رکھتے ہوۓ اُس پر اپنی شدت لٹانے لگا لیکن بہرام نے محسوس کیا اُس سے زیادہ جذباتی آج وہ تھی یوں اچانک ہی بےتکلفی کا یہ انداز بہرام کو اپنے لیے کچھ نیا سا لگا
“صرف ایک رات کی دوری یہ رنگ لائی ہے میں حیران ہوں”
طویل معنی خیز خاموشی کے بعد بہرام اُس کے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ ہٹاتا ہوا شرارت بھرے لہجے میں بولا
“کیا صرف حیران ہونے میں ہی وقت گزارنے کا ارادہ ہے”
بہرام نے اُس کو کہتے سنا۔۔۔ وہ اُس کی شرٹ کے بٹن بھی کھول رہی تھی بہرام ایک پل کے لئے اُس کے لہجے، لفظوں اور انداز پے غور کرتا ہوا کا چونکا
“رات جب میں تمہیں لینے کے لئے آرہا تھا تب تم نے مجھے کیوں منع کیوں کردیا۔۔۔ اور پھر اچانک خود سے آنے کا ارادہ کیسے بن گیا” بہرام اُس کا چہرہ دیکھتا ہوا سنجیدہ لہجے میں پوچھنے لگا
“منع کرنے کے بعد ہی تو پچھتائی تھی پھر چچا جان سے کہا، آپ مجھے یاد کررہے ہیں لینے آنا چاہ رہے تھے میرے بغیر آپ کا ایک رات بھی گزارا نہیں اِس لیے مجھے میرے شوہر کے پاس چھوڑ کر آجائیں”
اینجل بہرام کے چہرے پر اپنی انگلی پھیرتی ہوئی بولی
بہرام اُس کی انگلی منہ میں لیتا ہوا چوم کر ایک نظر غور سے اس کے مسکراتے ہوئے چہرے کو دیکھنے لگا۔۔۔ وہ اُس کی حرکت پر مسکرا رہی تھی شرمانے کی بجائے۔۔۔
“کیا ہوا اتنے غور سے کیا دیکھ رہے ہیں مجھے”
اینجل معصوم مسکراہٹ ،نرم لہجے میں اپنے اوپر جکھے بہرام کے گال پر ہاتھ رکھتی ہوئی اُس سے پوچھنے لگی۔۔۔ تو بہرام اُس کے اوپر سے اٹھتا ہوا اُس کے برابر میں بیڈ پر لیٹ
گیا
“صرف چہرا ہی نہیں میں تمہیں بھی پورا کا پورا غور سے دیکھنا چاہتا ہوں کپڑے اتار دو اپنے”
بہرام نے سوچ سمجھ کر یہ جملہ بولا تو اینجل اُس کی بات پر چونکی۔۔۔ بہرام نے اس سے تو پہلے کبھی ایسا کچھ کبھی نہیں بولا تھا شاید وہ حرم سے ایسے ہی۔۔۔ اینجل سوچ میں پڑگئی تو بہرام اُس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھنے لگا
“اتنا سوچ کیا رہی ہو کیا آج پہلی بار ایسا بولا ہے”
بہرام اُس کے چہرے کے آگے چٹکی بجاتا ہوا بولا تو اینجل بےساختہ مسکرائی
“نہیں وہ سوچ رہی تھی کہ آپ کے پولیس اسٹیشن جانے کا ٹائم ہوگیا ہے ناں”
اینجل جلدی سے بات بناتی ہوئی بولی۔۔۔ اُس کی بات سن کر بہرام پریشان ہونے لگا وہ سسپینٹ تھا۔۔۔ اور حرم کو معلوم تھا مگر اینجل یا کوئی دوسرا یہ بات نہیں جانتا تھا
اینجل نے جب بہرام کو خاموش دیکھا اُس کے موڈ خراب ہونے کے ڈر سے وہ بہرام کے سامنے بیٹھی اپنی شرٹ اتارنے لگی۔۔۔ بہرام میں کندھے سے آتے اس کے بالکل پیچھے کیے، حرم کا روتا ہوا چہرہ اُس کی نظروں کے آگے گھومنے لگا اس وقت منہ پر ٹیپ لگے ہونے کی وجہ سے وہ بول نہیں پارہی تھی۔۔۔ بے خیالی میں بہرام نے اسکے شولڈر سے اسٹیٹ نیچے کیے اب شک کی کوئی گنجائش نہیں بچی تھی
“او بہرام لو یو سو مچ “
اینجل اُس کے بےباک انداز پر بولتی ہوئی اُس کی گردن پر جھک گئی
بہرام کو تھپڑ یاد آنے لگے جو وہ حرم کے گال پر لگا چکا تھا اُس وقت وہ کتنی بےبسی محسوس کررہی ہوگی جب وہ خود اس سے
جیل میں چھوڑ کر جارہا تھا۔۔۔
اِس وقت غُصّے سے وہ خود بےحال ہونے لگا، اپنے اوپر جھکے ہوۓ وجود کو حقارت سے اُس نے دور دھکیلا اور اٹھ کر بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔۔ اگر اینجل بیڈ کا سراہ نہ پکڑتی تو شاید بیڈ سے نیچے گِر پڑتی
“کیا ہوا بہرام”
اینجل اُس کے خطرناک تیور دیکھ کر فوراً اپنا حلیہ درست کرتی ہوئی بہرام سے پوچھنے لگی
“کافی بناکر لاؤ”
بہرام بناء تاثر کے اپنی شرٹ پہنتا ہوا بولا۔۔۔ اینجل اُس کے تاثرات دیکھتی ہوئی خاموشی سے بناء کچھ بولے کمرے سے نکل کر کچن میں چلی گئی بہرام نے کچھ سوچتے ہوۓ اپنا موبائل اٹھایا
“وعلیکم اسلام بیٹا سب خیریت ہے”
دوسری طرف اس کے کال کرنے پر نزہت چچی بہرام سے پوچھنے لگیں
“جی خیریت ہے، کل رات حرم کتنے بجے چچا جان کے ساتھ یہاں پہنچی تھی”
بہرام الُجھتا ہوا نزہت چچی سے پوچھنے لگا
“تمہارے چچا جا کے ساتھ تھوڑی وہ تو اکیلی نکل گئی تھی۔۔۔ جب میں اور تمہارے چچا نگی کے سسرال میں تھے”
نزہت چچی کے بولنے پر وہ مزید پریشان ہوگیا
“آپ دونوں نگی کے سُسرال۔۔۔ مگر کل رات نگی تو آپ لوگوں کے پاس تھی ناں”
کہاں پر کیا مسنگ تھا وہ کڑیاں نہیں ملا پایا۔۔۔ مگر نزہت اُس کو ساری باتیں بتاتی ہوئی آخر میں پوچھنے لگی
“سب خیریت تو ہے ناں بیٹا۔۔۔ حرم ٹھیک ہے ویسے کل پہلی بار اُس نے فون پر بہت عجیب طریقے سے بات کی تھی۔۔۔ آج سے پہلے کبھی اس بچی کا ایسا لہجہ محسوس نہیں کیا میں نے”
دوسری سمت سے نزہت کی بات پر وہ ہوش میں آیا
“جی وہ میرے اچانک کال کرکے بلانے پر، پریشان ہوگئی ہوگی۔۔۔ آپ زیادہ مت سوچیں”
بہرام بولتا ہوا کال رکھ تھا تھا
کل رات آخر کیسے وہ غصے میں حرم کو پہچان نہیں پایا تھا، اتنے بڑے بلنڈر پر وہ بری طرح پچھتاکر بےچین ہوتا ٹیرس میں چلا آیا اور موبائل پر دوسری کال ملانے لگا
*****
