Yaar Bereham By Zeenia Sharjeel NovelR50396
Last updated: 24 November 2025
Yaar Bereham By Zeenia Sharjeel
بہرام کافی پیتے ہوئے معنی خیزی سے حرم سے بولا وہ بری طرح بلش کرگئی جس پر بہرام وہی بیٹھا اسے دیکھ کر مسکرا دیا۔۔۔۔ ہفتے بھر سے اتنی نزدیکیوں کے باوجود وہ پہلے دن کی طرح اُس کے سامنے ایسے ہی شرما جاتی اور حرم کا اِس طرح شرمانا بہرام کو بہت خوبصورت لگتا "ہم اِس وقت اپنے فلیٹ میں نہیں ہیں آپ کو خیال کرنا چاہیے" حرم بہرام کے اِس طرح دیکھنے پر بولی۔۔۔ بہرام کا یوں دیکھنا اُس کو شرمانے پر اور نظریں چرانے پر مجبور کررہا تھا "خیال ہی تو کررہا ہوں، ورنہ تمہیں کیا لگ رہا ہے ابھی تک یہ فاصلے قائم ہوتا ہمارے درمیان" بہرام مسلسل اُسے معنی خیز نظروں سے دیکھتا ہوا بولنے لگا، حرم کا اُس کی باتوں پر ہی بلش کرنا اِسے لطف دے رہا تھا "آپ دکھنے میں ویسے نہیں لگتے، جیسے آپ اکیلے میں ہوجاتے ہیں" حرم چہرے پر سرخی لیے نظریں جھکاۓ بہرام سے بولی۔۔۔ اُس کی قربت اور کبھی کبھار بڑھتی ہوئی شدت حرم کو یونہی سرخ کردیتی "کیسا ہوجاتا ہوں میں اکیلے میں" بہرام مسکراہٹ چھپاۓ سنجیدگی اپناتا ہوا حرم سے پوچھنے لگا وہ کافی پیتا ہوا مسلسل حرم کے چہرے پر نظریں جماۓ بیٹھا تھا "اب آپ جان بوجھ کر مجھے تنگ کررہے ہیں بہرام۔۔۔ پلیز یہاں مجھے ایسے مت دیکھیں میں کنفیوز ہورہی ہوں" حرم آس پاس دیکھتی ہوئی بہرام سے بولی تو بےساختہ بہرام کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی "ٹھیک ہے مگر ایک شرط پر آج رات تم جیاء سے یا نگی سے موبائل پر لمبی چوڑی باتیں نہیں کروگی۔۔۔۔ بلکے آج ہم دونوں وہی کیک والی ریسیپی ٹراۓ کریں گے جو پرسوں شام ٹراۓ کی تھی" بہرام کی بات پر پرسوں کا دن کرتے ہوۓ وہ مزید شرمائی "وہ کیک نہ تو آپ نے مجھے پرسوں بیک کرنے دیا تھا نہ ہی آج بیک کرنے دیں گیں" حرم صرف ایک نظر بہرام کو دیکھ کر بولی پھر آئسکریم میں چمچہ گھمانے لگی جو اب میلٹ ہورہی تھی "کیک بےشک بیک نہ ہو مگر آج بھی ہمہیں ٹراۓ ضرور کرنا چاہیے۔۔۔ مجھے تو کیک کھانے سے زیادہ کیک بنانا مزا دے گیا تھا پرسوں" بہرام کے بولنے پر حرم کو اپنے چہرے اور گردن پر لگی کریم اور چاکلیٹ یاد آنے لگی،، جس انداز میں بہرام نے وہ کریم اور چاکلیٹ صاف کی تھی۔۔۔ وہ سوچ کر رہ گئی "حرم ڈارلنگ آنکھیں کھولو اپنی، ابھی ہم اپنے کچن میں موجود نہیں نہ ہی ابھی کیک بیک ہورہا ہے" بہرام اسے چھیڑنے کے انداز میں بولا تو حرم نے انکھیں کھول کر اپنے آپ کو نارمل کیا بہرام نے بھی اسے مزید تنگ نہیں کیا تاکہ وہ سکون سے آئسکریم کھاسکے
