Wo Ajnabi by Yusra readelle50025 Last Episode
Rate this Novel
Last Episode
” عینا بیٹے۔۔۔ آؤ بیٹھو!!! کیا سوچ رہی ہو میری جان “
عینا کو اکیلے گارڈن میں ٹہلتے دیکھ مکرم علی نے اسے آواز دیکر اپنے پاس حال میں بلایا۔۔۔
وہ انکی پکار پر اپنے کندھوں سے لٹکتی چادر درست کرتی انکی طرف آئی۔۔۔
” اب بتاؤ کیا بات ہے؟؟؟ کیا سوچ رہی ہو؟؟ “
” ڈیڈ۔۔۔ سب کچھ بہت دھندھلا ہے کچھ سمجھ نہیں آتا میرے ساتھ کیا ہوا تھا کچھ یاد کیوں نہیں آتا مجھے ” وہ بےبسی سے بولی سچ میں اسکا دماغ پھٹ رہا تھا بار بار وہ ذہن پر زور ڈال کر اپنی پرانی یادوں کو تلاش کرنے کی کوشش کرتی مگر ہر بار ناکام لوٹتی۔۔۔۔
” دماغ پر زور مت دو آنا ہوگا آجاے گا۔۔ ویسے بھی اب دنیا کی سب سے سیو جگہ پر ہو اپنے ماں باپ کے پاس!!! خود کو مرنے دیں گئے مگر اولاد پر کوئی تکلیف آنے نہیں دیں گئے۔۔ بہت ڈھونڈا تمہیں تمہارے جانے کے بعد احساس ہوا ہم کتنے امیر تھے اور راتوں رات کیسے غریب ہوگے۔۔۔۔ ” وہ شاید اپنے پرانے رویے پر شرمندہ تھے عینا کچھ بول نہ سگی وہ وقت تو اسکے لیے بھی بہت تکلیف دہ تھا۔۔۔
” ڈیڈ میں کوما میں کیسے گئی؟؟ “
” پتا نہیں ہم جب آئے بس تماری خون۔۔۔۔۔ ” کہتے ہی انکی آواز بھرآگئی عینا سوچ میں پڑ گئی کس کا یقین کرے؟؟؟ کس کی بات مانے؟؟؟ حاوز کے مطابق وہ مجھے ڈیڈ کے حوالے کر گئے اور ڈیڈ لاعلم ہیں۔۔ آخر اُس دن گھر میں ہوا کیا تھا؟؟ سر پر چوٹ کیسے لگی؟؟ اور ایسا کیا ہوا کے میں کوما میں چلی گئی؟؟؟
” کل تم پارٹی میں حبروز سے ملی تھیں نہ وہ آج رشتہ لیکر آئے گا۔۔ ” وہ سوچوں میں گم تھی کے یکدم اسکے ڈیڈ نے اسکے سر پر بم پھوڑا۔۔۔۔۔
” مگر۔۔۔ ” وہ ہل کر رہ گئی ابھی تک اسے اپنا آپ مکمل یاد نہیں آیا تھا اور اسکے ڈیڈ کسی اور کو اسکی زندگی میں شامل کرنے کا سوچ رہے تھے۔۔۔
” میں باپ ہوں تمہارا!!!! تمہارے لئے سہی فیصلہ کرونگا آج نہیں تمہارا کل سوچ رہا ہوں وہ عزت میں پیسے میں رتبے میں ہم سے بھی اوپر ہیں اور سب سے بڑی بات آج تک اسے تمہارے علاوہ کوئی لڑکی پسند نہیں آئی دس سال بڑا ہے تم سے ساری زندگی بس اس نے نام، شہرت اور عزت کمائی ہے اب وہ شادی کرنا چاہتا ہے تم پہلی پسند ہو اسکی۔۔۔ ” وہ اسے قائل کرنے کی کوشش کر رہے تھے اتنا تو وہ بھی جانتی ہے نہ بھی مانے اسکے ڈیڈ نے کرنی اپنی ہے۔۔۔۔
” جیسا آپ کو سہی لگے۔۔۔ ” دل نجانے کیوں خالی خالی سا لگ رہا تھا ” حاوز سلیمان ” کا چہرہ بار بار ان آنکھوں کے سامنے سے گزرتا آخر وہ کیوں اسکے دماغ پر حاوی ہے وہ اسے کب کیسے ملا؟؟؟؟ اور اتنے سالوں تک کیوں وہ اس پر اپنا وقت پیسا لٹاتا رہا کیا سچ میں وہ آٹھ سال
” حاوز سلیمان ” کی پناہوں میں رہی؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” انکی رپورٹس میں دیکھ چکی ہوں مگر یہ کوئی ” جینیٹک فیکٹر نہیں ” نہ بچپن سے ہے جیسا کے آپ نے بتایا اور جینیٹک مطلب زونیشہ کے خاندان میں کسی کو ہکلاہٹ نہیں!!!! ” المیر ڈاکٹر کے ساتھ بیٹھا غور سے انکی باتیں سن رہا تھا زونیشہ اس وقت باہر بیٹھی اسکا انتظار کر رہی تھی ایک گھنٹے سے وہ ڈاکٹر کے مختلف سوالوں کا جواب دے رہی تھی اسکی پرانی رپورٹس دیکھ کر بھی انہوں نے یہی کہا زونیشہ کے دماغ کی ایک نس دب چکی ہے تبھی وہ ہکلاہٹ کا شکار ہوئی ہے۔۔۔۔
” آپ کے سوال کا جواب ” ہاں ” ہے ایسا ہی ہے یہ اچانک نہیں ہوا سمجھیں جس طرح ایک دوا روز انسان کو صحت یابی کی طرف لے جاتی ہے اسی طرح روز روز کا اسٹریس شاک انسان کو ڈیپریشن کی طرف لے جاتا ہے۔۔
زونیشہ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے اسے جب ہر طرف سے نیگٹو ریکشنز ملے تو آہستہ آہستہ وہ اپنا سیلف کانفیڈنس لوز کرتی گئی مگر ایک بات ہے اسکی ایک سب سے بڑی وجہ ” ریجیکشن ” ہے یہ اندازہ نہیں یقین ہے جو زونیشہ سے بات کرنے کے بعد ہی آپ سے کہ رہی ہوں۔ ریجکشن کا صدمہ سہا ہے زونیشہ نے آئ ڈونٹ نو آپ نے دوسری شادی کی ہے یا واٹ ایور شی سیڈ یو ڈونٹ لائک ہر۔۔۔۔۔ ” وہ صدمے کی سی کیفیت میں انھیں سن رہا تھا انکی آخری بات سے تو گویا وہ تڑپ اٹھا۔۔۔۔
” ایسا نہیں ہے “
” یہ آپ اپنی بیوی کو سمجھائیں کچھ تو تھا؟؟ ورنہ ریکشن آپ کی بیوی میں نہیں دیکھتا ” وہ بےاختیار پیچھے ہوکر کرسی سے ٹیک لگا گیا۔ کسی انسان کے دماغ سے ” شک ” نکالنا ایسے ہی ہے جیسے پاکستان انڈیا کی دوستی کروانا۔ وہ ڈاکٹر باقاعدہ زونیشہ کی کائونسلینگ کرنے کے بعد المیر کو ایک ایک حقیقت سے آگاہ کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
” کیا وہ کبھی۔۔۔۔ ” اسکے الفاظ دم توڑ گئے وہ لب پھینچ گیا مگر ڈاکٹر سمجھ گئی تھی وہ کیا کہنا چاہتا ہے؟
” کہنے کو ایک مہینہ لگ سکتا ہے سال لگ سکتا ہے سالوں بھی لگ سگتے ہیں آپ پر ڈیپینڈ کرتا ہے کتنی جلدی اسکا سیلف کانفیڈنس واپس لا سکتے ہیں۔۔۔ اور ساری زندگی بھی لگ سکتی ہے۔۔۔۔۔۔ ” اسکا سانس اٹک گیا وہ انھیں پھٹی آنکھوں سے دیکھتا رہا نہ کوئی علاج دیا نہ کوئی دوا نہ کوئی آسرا۔۔۔
یعنی تکلیف اس نے دی تو وہی اسکا علاج کریگا وہی تڑپے گا سسکے گا!!!! اسے زونیشہ کے ہکلانے سے مسلا نہیں مگر وہ یہ کیسے سہے کے اسے تکلیف دینے والا وہ خود ہے جب جب وہ ” ہکلائے ” گی درد اسے ہوگا۔۔ سہی تو کہا تھا مایل نے اسکے ماں باپ نے ایسی تو نہیں دی تھی اُسے۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسکے ساتھ کیا کر بیٹھا؟؟؟ کوئی خوشی تو نہ دی الٹا اُسے محروم کردیا۔۔۔ وہ صرف اسکی وجہ سے ہر رشتے سے دور ہوگئی حقیقت سے دور اُس دوسری دنیا میں جہاں بناوٹی کہانیوں کے پسندیدہ اختتام دیکھ وہ خوش ہوجاتی ہے۔ حقیقت سے میلوں دور اسے بس کتابوں کے بناوٹی کردار اب اچھے لگتے ہیں۔ اس سے زیادہ اہم زونیشہ کے لئے اب وہ کتابیں ہیں جب کے پہلے
” المیر صدیقی ” اسکے لئے اہم تھا۔۔۔
وہ وہاں سے اٹھا زونیشہ باہر ہی اسکا انتظار کر رہی تھی وہ ٹیبل سے زونیشہ کی فائل اٹھا کر ڈاکٹر کے کیبن سے باہر نکل آیا۔ زبان سے ایک لفظ ادا نہ کیا بس اسکا ہاتھ پکڑ کے اسے اپنے ساتھ باہر لے آیا۔ فائل بیک سائیڈ پر رکھ کر زونیشہ کے لئے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر اسے بٹھایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارحم آکر اسکی ٹانگوں سے لپٹ گیا وہ جو زریق کے سینے سے لگی آنسوں بہا رہی تھی ہنستی ہوئی پیچھے ہوئی زریق کی مسکراہٹ گہری ہوگئی۔ مایل الگ ہوئی تو جھک کر زریق نے ارحم کو اٹھایا۔۔۔۔
” دیکھا جس مما کے پاس آنے کے لئے آپ روتے تھے وہی آج آپ سے جیلیس ہیں ” وہ کہ ارحم سے رہا تھا مگر مخاطب مایل سے تھا وہ جانتی تھی وہ اسے تنگ کر رہا ہے زریق نے ہاتھ بڑھا کر چائے کا کپ ڈریسنگ ٹیبل سے اٹھایا اور اُسے ہونٹوں سے لگایا جس میں چائے یقیناً اب اتنی گرم نہیں ہوگی۔۔
ارحم ماں باپ سے لاپروا زریق کی ہلکی داڑھی ہاتھ کی مٹھی میں دبائے ہوئے تھا جسکا اندازہ زریق کو نہ تھا۔۔۔
جبکے مایل کا سر مزید جھک گیا۔ زریق اسکا چہرہ دیکھ رہا تھا جو تیزی سے سرخ ہو رہا تھا وہ شاید اسکے دیکھنے سے گھبرا رہی تھی مایل بلاوجہ کام ڈھونڈنے لگی بیڈ پر رکھا ہوا زریق کا اتاڑا کوٹ وہ تحہ کرنے لگی۔۔
” میلا ہوچکا ہے کیا کل یہی دوبارہ دینگی؟؟ ” اسکی بات پر مایل کوٹ بیڈ پر رکھ کر ہونٹ کا کنارے سختی سے دانتوں تلے دبا گئی اور رُخ موڑ لیا کہیں وہ اسکی مسکراہٹ نہ دیکھ لے جسے وہ چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔
” آج جان لیا لڑکیاں کیوں اور کیسے شرماتی ہیں ” وہ مسکراتا ہوا آخری گھونٹ بھر کر چائے کا کپ واپس ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ کے اسکے پیچھے آن کھڑا ہوا۔۔
” آج پہلی دفع شاید بار بار مسکرا رہا ہوں ” وہ اسکا رُخ اپنے طرف کرتے نرم لہجے میں مخاطب تھا مایل نے سختی سے آنکھیں میچ لیں۔ ارحم باپ کو خود کی طرف متوجہ نہ پاکر اپنے ہاتھ کی مٹھی بنا کر زریق کا منہ نوچنے لگا جسکا اندازہ زریق کو نہ تھا وہ یک ٹک مایل کو نہایت غور سے دیکھ رہا تھا شاید وہ جو اب تک صرف انٹرنٹ پر پڑھتا تھا اب اسکا عملی مظاہرہ دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔
اچانک سے دروازے نوک ہوا تو مایل نے جھٹ سے اپنی آنکھیں کھولیں سامنے کا منظر دیکھ کر اسکی آنکھیں کھلی رہ گئیں ارحم اپنے ناخن سے زریق کے چہرے پر جگہ جگہ نشان بنا چکا تھا۔ ناخون کے نشان اسکے چہرے پر صاف واضع تھے۔۔۔۔۔
” ارحم۔۔۔۔۔ ” مایل نے غصّے سے اسے پکارا مگر وہ باپ کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش میں اسے زخمی ہی کر چکا تھا مایل نے ایک جھٹکے سے ارحم کو زریق سے لیا اور دروازہ کی طرف بڑھی دروازہ کھولا تو باہر چوکیدار تھا۔۔۔
” بیٹا یہ زریق صاحب کا بیگ “
” بابا آپ کیوں لے آئے میں بعد میں لے آتی ” وہ شرمندہ سی ہوگئی۔ یہ انکا چوکیدار تھا جو گیٹ کے پاس بیٹھتا تھا وہ بزرگ تھے تایا ابو یا چچا ان سے کوئی بھاری وزن نہیں اٹھواتے تھے۔۔۔۔۔
” بیٹا زریق صاحب وہیں بھول گئے تھے تھکے ہارے آئے تھے اسلئے میں خود لے آیا ” انہوں نے بیگ وہیں زمین پر رکھا اور مسکرا کر واپس لوٹ گئے مایل کو شرمندگی ہو رہی تھی۔۔۔
” رہنے دیں میں آرہا ہوں ” وہ جو بیگ اٹھانے کے لئے جھک رہی تھی رُک گئی زریق اسکے جھکنے سے پہلے ہی تیزی سے آگیا اور خود بیگ اٹھا کر بیڈ پر رکھ دیا۔۔۔۔۔
بیڈ پر رکھتے ہی زریق نے بیگ کی زیپ کھولی تو مایل بیگ میں موجود سامان کو دیکھتی رہی۔۔۔۔
بیگ کھولتے ہی اوپر لڑکیوں کی ڈریسسز رکھیں تھیں جو یقیناً مایل کے لئے تھیں۔۔۔۔
” یہ سب آپ کے لئے سوری آپ میری وجہ سے خود کو تکلیف دیتی رہیں۔۔۔۔۔ میں نے آپ کو کال اسلئے کی تھی کے جہاں گیا تھا وہ مینز شاپ تھی فیمیل ڈریسسز اویلیبل نہیں تھیں۔ تھیں بھی تو آپ جینز شرٹ اب نہیں پہنتیں اسلئے سوچا کسی اچھی جگہ سے کبھی کچھ خاص لوں گا آپ کے لئے مگر فون پر شاید آپ ناراض ہوگئیں اسلئے اسی وقت پاکستانی شاپ ڈھونڈ کر آپ کے لئے یہ ڈریسسز خریدیں۔۔۔۔”
” پر آپ تو اسلام آباد گئے تھے ” مایل کو شرمندگی ہو رہی تھی خامخواہ اسنے زریق کو تنگ کیا۔ یقیناً چار پانچ گھنٹے تو بس وہ شاپ ڈھونڈتا رہا ہوگا۔۔۔۔
” آپ کو بتایا تو تھا دبئی سے ہوکر ہی لوٹوں گا وہاں پاپا کا ایک کام تھا حاوز بزی تھا اس لئے میں ہوکر آگیا “
” ہاں تو غلطی آپ کے بھائی کی ہے ہر وقت میری سوتن بنے بیٹھے ہوتے ہیں ” وہ الٹا اس سے شکوہ کرنے لگی زریق نے ہاتھ بڑھا کر اسے اپنے قریب کیا۔۔
” رویا مت کریں دل میں کوئی بات ہو کہ دیا کریں، وعدہ رہا آپ کہیں گی خاموشی سے سنوں گا نہ صفائی دونگا نہ ہنسوں گا بس دل میں مت رکھا کریں آپ رات بھر سوئی نہیں اور ارحم بھی یقیناً پریشان ہوتا رہا ہوگا ” مایل کا سر جھک گیا وہ زریق کی شرٹ پر انگلی سے کبھی سرکل بناتی تو کبھی کوئی الگ شیپ جو زریق دیکھ کر بس مسکرا رہا تھا انداز اسے تب سمجھ آیا جب آنکھوں سے پانی بہ کر گالوں تک آیا۔۔۔۔۔
” آپ مجھے پریشان کیا کریں تنگ کریں مگر مجھ سے ناراضگی میرا غصّہ کسی اور پر نہ نکالیں اچھا نہیں لگتا لوگ ہمیں ڈسکس کریں یا آپ کے لئے کچھ کہیں پرانا جو وقت تھا گزر گیا۔۔۔ مایل نہ اب زیادہ سوچتی ہے نہ خوابوں میں رہ کر اصل بھولتی ہے مایل اب ایک میچور لڑکی ہے۔۔۔ میری بیوی ہے میرے بچے کی ماں ہے اسکے علاوہ کسی کی کچھ نہیں وہ آپ کے پرسنل رشتے ہیں مگر میرا آپ سے بہت اہم اور گہرا تعلق ہے۔۔۔ ” آخری جملے پر مایل نے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا وہ نظریں اسے پر مرکوز کیے کہ رہا تھا اور نجانے کیوں آج وہ ایسی باتیں کر رہا تھا مایل نے اسکے سینے سے ہاتھ ہٹا کر اپنا سر وہاں رکھ دیا۔۔۔۔
” مجھے نیند آرہی ہے ” زریق نے اسکی کمر سہلائی ایسے ہی جب وہ نیند میں جانے لگتی ہے زریق کے اس عمل سے جلد ہی وہ دنیا سے بےخبر نیند کی وادیوں میں اتڑ جاتی ہے۔۔۔۔
” وہ اسے بیڈ تک لے آیا بیڈ پر لیٹا کر چادر سے اسکا پورا وجود ڈھک دیا۔ پھر کمرے کا دروازہ بند کر کے وہ ارحم کو لیکر نیچے چلا آیا ایک نیند وہ ہوتی ہے جہاں آپ سو بھی رہے ہو پر آپ کا ذھن جاگتا ہے جو کل رات وہ پوری کر چکی ہے۔ مگر ابھی زریق کو کو یقین تھا وہ اسکے دماغ کو سلا چکا ہے ذہنی سکون دے چکا ہے اور اسکے لمس سے اسکا وجود بھی گہری نیند میں جاچکا ہے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” ہ۔۔۔۔۔ہ۔۔ہیلوووو ” اسکی کانپتی آواز فون کے اسپیکر سے اُبھری وہ جو کمپیوٹر کے آگے بیٹھا سسٹم پر کچھ کام کر رہا تھا اسکی آواز سن کر چونک اٹھا۔۔۔۔۔۔
” ہم بولو!!!! ” وہ فائل ٹیبل پر رکھے کام میں مصروف تھا ابھی ہی وہ اپنے پیشنٹ کی سی وی پی کر کے بیٹھا تھا کے فارمیسی سے کال آگئی۔۔۔۔۔
” ع۔۔۔۔۔۔عب۔۔۔۔عباس سر ہیں؟؟ ” اسکی آواز میں خوف محسوس کر کے اب کے بار زاکون کی بورڈ پر چلتی انگلیاں رکھیں گہری برائون آئی برو اچکا کے پوچھا۔۔۔۔
” کیا ہوا؟؟؟ وہ جا چکے ہیں “
” مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے “
” بتاؤ کیا ہوا؟؟ ” وہ اٹھ کھڑا ہوا اسکی چھٹی حس کہ رہی تھی وہ کسی پریشانی میں مبتلا ہے۔۔۔۔
” ایک بندہ کیش پر مرسیلک لینے آیا ہے میں کیسے دوں بغیر ” پریسکریپشن ” کے آلائو نہیں اب وہ کبھی ڈاکٹرز کا نام لے رہا تو کبھی مینیجرز کا وہ جا ہی نہیں رہا اور کب سے مجھے ہی دیکھ رہا ہے ” اسکی خوف میں ڈوبی آواز سن کر وہ تو سمجھا تھا فارمیسی میں آگ لگ گئی مگر یہ مسلا سن کر وہ جو جوش میں آیا تھا واپس اپنے ہوش میں لوٹ آیا۔۔۔
” میں آرہا ہوں ” فون رکھتے ہی وہ اپنے سیلیپرز پہن کر وہ نیچے چلا آیا سی سی یو پہلے فلور پر ہے جب کے فارمیسی گرائونڈ فلور پر۔۔۔۔۔
نیچے آیا تو سامنے ہی اسے بڑے سے شیشے کے پیچھے مومنہ نظر آئی اسکے ساتھ ایک لڑکی اور تھی اور ایک لڑکا جو یقیناً پورٹر تھا(جو سپلائے لاتے اور میڈیسسنز ارینج کرواتے)۔۔۔۔ جبکے باہر ایک نوجوان کھڑا تھا جو شیشے کے نیچے کی خالی جگہ پر جھکا کچھ کہ رہا تھا تاکے آواز اندر تک جائے۔۔۔۔
” جی کہیں کیا مسلا ہے ” زاکون نے اسی آدمی سے کہا وہ آدمی اسکی آواز سن کر سیدھا ہوا۔۔۔
” زکی تم؟؟ یہ لڑکی اس سے کب سے کہا ہے مرسیلک چارج کردو کیش پر لینے آیا ہوں مگر یہ بندی پہلے اس نے کہا پریسکریپشن کے بغیر نہیں دے گی ڈاکٹر سے لکھوا کر آیا تب بھی نہیں دے رہی ” اس شخص نے مومنہ کو دیکھتے غصّے سے کہا جبکے مومنہ اسکی آنکھوں میں غصّہ دیکھ کر خوف سے ایک قدم پیچھے ہٹی۔۔
” ان کی پولیسی نہیں کیش پر دینے کی سمپل ” وہ دونوں ہاتھ باندھے پُر سکون انداز میں گویا ہوا پرپل اسکرب میں اسکے کسرتی بازو نمایاں تھے۔۔۔۔
” کیوں نہیں دے گی؟؟؟ مجھے اپنے ایکسپیریمنٹ کے لئے چاہیے ضرورت ہے مجھے ” لفظ ” ایکسپیریمنٹ ” سن کر زاکون نے بےاختیار مومنہ کو دیکھا اس نے خوف سے سر ہاں میں ہلایا تو وہ مسکرایا۔۔۔۔۔۔
اب اسے ساری بات سمجھ آگئی۔۔۔۔
” کہیں اور سے لے لو!!! ان کی مینیجر اس وقت نہیں نہ تو وہ آلائو کرینگی انکے ہاتھ میں نہیں لہذا صرف بحث ہوگی رات تک چاہے یہیں رہو وہ نہیں دیں گئے ” وہ شخص ضبط کرتا سرخ ہو چکا تھا پریسکریپشن مٹھی میں دبائے وہ زمین پر پھینکتا وہاں سے غصّے میں چلا گیا۔۔۔
جبکے اب پورٹر نے فارمیسی کا لاک کھولا۔ اور باہر آکر اسکا شکریہ ادا کیا وہ ایک نظر مومنہ کو دیکھ کر واپس چلا گیا جیسے ہی وہ گیا مومنہ چیئر پر آدھمکی نوشابہ نے اسے پانی لاکر دیا جو وہ سارا پی گئی پھر یکدم ایکسٹینشن چیخ اٹھا۔۔۔۔
مومنہ کو نجانے کیوں لگا اُسی کی کال ہوگی تبھی نوشابہ کے اٹھانے سے پہلے ہی اُس نے کال اٹھا لی۔۔۔۔۔
” کمال ہے آپ ہر کسی سے ڈرتی ہیں مگر مجھے جیل بھیج کے ذرا برابر خوف نہیں آیا ” وہ شاید مسکرایا تھا مومنہ کو شرمندگی نے آن گھیرا لفظ نہیں تھے کے وہ ہونٹوں پر سے چُپی کا فقل توڑے۔۔۔۔
” خیر!!!! ” وہ خود ہی سمجھ گیا۔
” سوری ایسے ہی کہا تھا میں ان باتوں کو نہیں سوچتا اور ڈرنے کی بات نہیں وہ سب کا نام اسی لئے لے رہا تھا کے وہ یہاں کا ایکس اہمپلوئے رہ چکا ہے!!! اسکا انداز مجھے بھی پسند نہیں آیا ورنہ آپ کی مینجر سے بات کر کے اسے خود دلوا دیتا۔۔ ” کیا وہ میڈم کے برابر تھا جو انھیں اپنے کام کے لئے کنوینس کر لیتا اسکی پوزیشن آخر کیا تھی؟؟ وہ تو ایک عام نرس تھا؟؟
” میڈم آپ کی بات مان لیتیں؟؟؟ ” اس نے بےاختیار پوچھا۔۔۔اسکے پاس کھڑی نوشابہ نے اشارے سے پوچھا چائے پینے جائے؟؟ مومنہ نے سر ہاں میں ہلایا جب کے اب پورٹر بھی کسی کام سے جا چکا تھا وہ اکیلی ہی فارمیسی میں موجود تھی۔۔۔
” مینیجر آپ کی ہیں میری تھوڑی؟؟ اور مان لیتیں پہلی دفع تھوری کہتا۔۔۔ ” یعنی وہ پہلے بھی ایسا کر چکا ہے۔۔۔
” اُس لڑکے کو کوئی ایکسپیرمینٹ کرنا تھا پتا نہیں کسی کو کاٹ کے پھر مرسیلک (دھاگے) سے جوڑنا تھا اسلئے بھی میں ڈر گئی تھی۔۔ اور وہ مجھے ہی دیکھ رہا تھا سمجھ گیا تھا میں سینئر ہوں میں ہی دے سکتی ہوں ” وہ اب واپس اپنے اُسی کام میں مشغول ہوچکا تھا اور کان پر ایکسٹینشن لگاۓ اسے سن رہا تھا۔۔۔۔
” ہم ایسا کچھ ہو سیکیوریٹی میں انفارم کردیا کرو ” مومنہ نے ہونٹ کا کنارہ کاٹا کیا اب وہ فون بند کردیگا؟؟؟
” میں پر مزید جاب نہیں کرنا چاہتی ” اپنا ناخن ٹیبل سے خھروچتے وہ کہ رہی تھی۔۔
” آپ کی مرضی ” مومنہ کو اپنے جسم میں درد کی ایک لہر اٹھتی محسوس ہوئی یعنی اسکے جانے سے اُسے فرق نہیں پڑتا؟؟؟
” شادی کرنا چاہتی ہوں وہ بھی آپ سے مجھے ہمیشہ ڈر لگا رہتا ہے کے میں اس ” خاص ” شخص کو کھو نہ دوں آپ کو سمجھ نہیں آتا میں اسرار کرتی ہوں آپ کے آگے جھکتی ہوں آپ کو خوشی محسوس ہوتی ہے؟؟؟ آپ نے شادی کبھی تو کرنی ہے تو مجھ میں کیا خرابی ہے؟؟ ” اسکی آنکھیں یکدم سے جلنے لگیں آتے جاتے لوگ شیشے میں سے ایک پل کو دیکھ کر چلے جاتے۔۔
” خرابی کچھ نہیں!!! آپ مومنہ ہیں مگر میری ” مومنہ ” نہیں ” کہتے ساتھ اس نے فون رکھ دیا جبکے مومنہ کو یکدم سے سانس لینا مشکل لگا گلا رندھا گیا جیسے ہی نوشابہ چائے لیکر اندر آئی وہ تیزی سے واشروم کی جانب لپکی۔۔۔۔۔
اندر آکر خود پر اختیار نہ رہا وہ کتنی ہی دیر روتی رہی کوئی دس بیس منٹ بعد جب وہ باہر نکلی تو سامنے سے جرنل وارڈ سے آتے زاکون حیدر سے ٹکراتے ٹکراتے بچی وہ جو فائل لیکر جا رہا تھا اسکی سرخ آنکھیں دیکھ کر جہاں تھا وہیں ٹہرا رہ گیا۔ مومنہ اس پر ایک سرد نگاہ ڈال کر وہاں سے نکلتی چلی گئی پیچھے وہ کتنی ہی دیر آنکھیں میچے سناٹوں میں کھڑا رہ گیا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے اب غصّہ آرہا تھا اپنے ڈیڈ پر کیا وہ کوئی شوپیز ہے جسے دیکھنے کے لئے وہ لوگ آرھے ہیں؟؟؟ وہ بس ٹرائوزر اور شارٹ شرٹ پہن کر نیچے چلی آئی آج کریسمس تھا نیا سال بقول انگریزوں کے جب کے اسے کوئی خاص دل چسپی نہ تھی کریسمیس سے۔۔۔۔ وہ نیچے آکر بیٹھ گئی اسکی ماں کھانے کی تیاروں میں لگیں تھیں اور وہ شدید کوفت میں مبتلا تھا۔۔۔۔
سامنے سے اسے اپنے ڈیڈ آتے دیکھائی دیے تو وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ انہوں نے آکر اسے خود سے لگایا۔۔۔
” ایسے اکیلے کیوں بیٹھی؟؟ فرزانہ سے کہتی یہاں آکر تمہارے ساتھ بیٹھتی ” وہ اس سے الگ ہوتے بولے۔۔۔۔
” نہیں میں ٹھیک ہوں وہ ڈنر کی تیاری کروا رہی ہیں ” انہوں نے سمجھنے والے انداز میں سر ہاں میں ہلایا وہ بیٹی سے مزید گفتگو کرتے مگر انکا موبائل چیخ اٹھا انہوں نے دیکھا تو کوئی ” ان نون ” نمبر تھا۔۔۔
” ہیلو۔۔۔ ” جھٹ سے فون اٹھایا اور کان سے لگایا۔۔۔۔
” ویڈیو سینڈ کی ہے عینا کے سامنے مت دیکھنا ” کہتے ہی دوسری طرف سے فون بند ہوگیا مکرم علی نے ایک نظر عینا کو دیکھا جو زمین پر نظریں جمائے کسی سوچ میں گم ہوگئی تھی وہ فوراً لاؤنچ سے نکل کر گارڈن میں آئے تبھی وہ ویڈیو لوڈ ہوکر آچکی تھی انہوں نے جیسے ہی اسے کھولا سامنے کا منظر حیرت انگیز تھا….
حبروز کوریڈور میں عینا کا نام چیختے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا۔ وہ ایک کمرے کے آگے آروکا آٹومیٹک لاک تھا جسے حبروز نے فنگر پرینٹس سے کھولا تھا جو پہلے سے اسکے پاس موجود تھے اندر آتے ہی وہ اسکا نام پکارتا پھر چیخا اور وہ وجود جو لیٹا ہوا تھا اسکی چیخیں سن کر اٹھا حبروز کا قہقا گونجا آخر وہ اسے مل ہی گئی مکرم علی حیرانگی سے دیکھ رہے تھے وہ شخص پہلے سے جانتا تھا عینا کہاں ہے؟؟؟ اور اسکے بعد صاف نظر آرہا تھا وہ بےہوش عینا کو اپنے ساتھ لے گیا۔۔۔
ویڈیو ختم ہو چکی تھی مگر ان کے دماغ میں موجود سوالوں کا کوئی جواب نہ تھا آخر وہ کس سے پوچھتے؟؟
کیا وہ غلط شخص کے ہاتھ اپنی بیٹی دے رہے تھے؟؟ یہ ویڈیو سینڈ کرنے والا کون تھا؟؟؟ کیا حاوز سلیمان؟؟
وہ سوچوں میں گم تھے کے باہر سے گاڑیوں کی آواز آنے لگی یقیناً وہ شخص گارڈز کے ساتھ اندر آرہا تھا۔۔۔۔
حبروز اپنی مغرور چال چلتا انکے روبرو آن بیٹھا تھا انہی کے لختِ جگر کو کیسے وہ انہی کے سامنے گندی نگاہوں سے تک رہا تھا۔ انکا خون اُبل رہا تھا حبروز اپنے ماں باپ کے ساتھ آج یہاں موجود تھا پہلے مکرم علی اسکی آمد سے بےتحاشا خوش تھے اب انہیں اس شخص سے خوف محسوس ہو رہا تھا آگر یہی انکی بیٹی کا گہنگار ہوا تو؟ وہ شخص تو رُتبے میں سورسز میں ان سے بھی آگے تھا آخر کیسے وہ اپنی بیٹی کو اس سے بچا پائیں گئے؟ آخر میں انکے پاس بس ایک ہی جواب تھا ” حاوز سلیمان “
وہ شخص کافی دیر بیٹھا رہا اس نے عینا سے اکیلے میں بات کرنے کی خوائش ظاہر کی تو عینا نے بےبس نظروں سے مکرم علی کو دیکھا جو خود کو اپنی ہی بیٹی کے ” مجرم ” تصور کر رہے تھے۔۔۔۔
” عینا جاؤ تم لوگ بات کرلو ” فرزانہ نے جلتے پر نمک کا کام کیا بےاختیار مکرم علی کے دل سے دعا نکلی ” یا میرے اللّه کیسا باپ ہوں اپنی ہی بیٹی کی حفاظت نہیں کر سکتا “۔۔۔۔۔انہوں نے آنکھیں میچ لیں پھر نجانے کہاں سے ہمت آئی۔۔۔۔۔
” نہیں!!! مجھے حبروز سے کچھ بات کرنی ہے ” بیٹی کے معملے میں آخر کار پہلی دفع انہوں نے ہمت دیکھائی تھی وہ جو ہر معملے میں باپ کی سنتی تھی آج انہیں دل سے یہ بات محسوس ہوئی وہ پہلے ہی بہت ناانصافی کرچکے تھے اب مزید نہیں۔۔
حبروز کے چہرے کے تااثرات سخت ہوگئے مکرم علی اسے لیکر باہر آگے بارہ بجنے میں محض پانچ منٹ تھے۔ نیا سال شروع ہونے والا تھا۔۔۔۔۔۔
” کیا بات کرنی تھی آپ نے؟؟؟؟ ” اسکا لہجہ سرد تھا مکرم علی مسکرائے۔۔
” آخری ملاقات یادگار بنانی تھی!! میرے بیٹی نے جو درد برداشت کیا اسکا حساب تم تاعمر دوگے ” وہ نفرت سے گویا ہوئے اس سے پہلے حبروز کچھ کہتا آسمان پر فائرینگ شروع ہوگئی اچانک سے تین سے چار بیلیٹس آکر اس کے سینے پر آلگیں وہ درد سے چلایا مکرم علی نے اسکے گرتے وجود کو پکڑا۔ انکے گارڈز جو گیٹ کے باہر پھیرے داری کر رہے تھے سب اندر آگئے حبروز کی ماں اور باپ بیٹے کی ایسی حالت دیکھ کر چیختے ہوئے ایمبولینس کو بلانے کو کہ رہے تھے وہ درد سے کراہ رہا تھا اور جب تک ایمبولینس آتی وہ جان کی بازی کھیلنے والا آج اپنی ہی جان کی بازی ہار چکا تھا مکرم علی نے پلس اور ہارٹ بیٹ چیک کی جو خاموش ہو چکی تھیں ایمبولینس اور پولیس سائرن کی آواز قریب تر آتی جا رہی تھی پر اب کیا فائدہ؟؟؟ ایمرجنسی میں آنے والے حبروز کی لاش کو ایمبولینس میں لیٹا چکے تھے جبکے اسکے ماں باپ بیٹے کے پیچھے پاگلوں کی طرح رش ڈرائوینگ کرتے جا رہے تھے۔۔
” ڈیڈ ” عینا خوف سے سفید پڑتی اپنے باپ کے سینے سے آلگی۔۔۔
” کچھ نہیں ہوا میری جان ” مکرم علی نے اسے سینے سے لگایا وہ خوف سے کانپ رہی تھی اور انہیں یقین تھا آج آخری دفع وہ بیٹی کی آنکھوں میں یہ خوف دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔
” حاوز نے کیا؟؟ ” عینا کے منہ سے نکلتے الفاظ مکرم علی کو پتھر کا کر گئے وہ ساکت بس حیرانگی سے عینا کو خود سے دور کیے اسے تکتے رہ گئے۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
the end
