Wo Ajnabi by Yusra readelle50025 Episode 39
Rate this Novel
Episode 39
” زریق کے بھائی سے ملیں تھیں۔۔۔۔ “
ناشتہ کرنے کے بعد وہ لاؤنچ میں ارحم کو لیکر بیٹھی اُسے سیریلک کھیلا رہی تھی۔ نجمہ پالک لیکر وہیں آکر اسکے برابر میں بیٹھ گئیں وہ شاید لنچ کی تیاری میں تھیں۔ وہ ارحم میں مگن زریق کی سوچوں میں گم تھی کے ماں کے اس سوال پر چونک اٹھی۔۔۔۔۔
” جی۔۔ مگر آپ آج یہ کیوں پوچھ رہی ہیں ” اسے حیرت ہوئی۔۔
” بس ایسے ہے۔۔۔ ” نجمہ نے عام سے لہجے میں کہا مگر مایل کے لئے ایک بار پھر سوچوں کا ایک نیا دروازہ کھول دیا۔۔۔
” اصل میں امی مجھے اُس سے ڈر لگتا ہے۔۔ بے شک وہ لوگوں کے دماغ پڑھ کر انہیں جان لیتا ہے اُن کی شخصیت سے اُن کے اندر کا حال بیان کر دیتا ہے اُن کے چہروں سے اُنہیں پہچان لیتا ہے مگر کون اپنا اصل چہرہ دیکھنا چاہتا ہوگا؟؟؟ مجھے ڈر اس بات کا لگتا ہے کہ وہ ہمیشہ مجھے اُن باتوں سے آگاہ کرتا ہے جس سے میں بے خبر رہتی ہوں مجھے وہ ایسی نئی نئی باتیں بتاتا ہے جس سے میں خوفزدہ ہو جاتی ہوں اور مجھے لگتا ہے کہ اگر میں سوچنے لگی تو اپنے لیے مزید پریشانی کھڑی کروں گی اس لیے میں بس اپنی ایک چھوٹی دنیا میں خوش رہنا چاہتی ہوں!!! زریق اور ارحم کے ساتھ جہاں ہم تینوں کے علاوہ کوئی نہ ہو مجھے اب کسی کی زندگی سے کوئی سروکار نہیں میں اپنے شوہر کے ساتھ خوش ہوں۔۔ بہت خوش!!!!! اور حاوز نے بھی مجھے یہی کہا تھا کہ میں جتنا ہو سکے ان سوچوں سے باہر نکلوں۔۔۔۔ ” نجمہ کے دل کو گویا سکون ملا خاص کر کے مایل کی بات سن کر کے وہ زریق کے ساتھ بہت خوش ہے اب نجمہ کو لگ رہا تھا کہ زندگی میں خوشیوں کے سکون کے پل واپس لوٹ آئے ہیں۔۔۔۔
” بہت اچھی بات ہے یعنی اس سے ملنے کا تمہیں اور مجھے فائدہ ہی ہوا۔۔ اچھا! چلو یہ بتاؤ کہ زریق کب لوٹ رہا ہے اور زونیشہ کو کیا ہوا تھا؟؟ کل اس کی طبیعت کیوں خراب ہو گئی؟؟؟ ” وہ پالک کاٹتے عام سے لہجے میں پوچھ رہیں تھیں۔۔۔
” شاید آج آجائیں اور زونیشہ اب ٹھیک ہے امی آپ کو نہیں لگتا زونی کے ساتھ آپ نے زیادتی کی ہے؟؟ میرے کسی پاگل پن میں وہ قصور وار نہیں تھی نہ ہی زونیشہ کبھی بیچ میں آئی میری قسمت جس کے ساتھ جڑی نہیں تھی اس کے رشتوں سے کیسا انتقام؟ ” نجمہ کے چہرہ پر سایہ سا لہرایا وہ خود کو کنٹرول کر کے نارمل لہجے میں بولی۔۔۔
” ہمممم۔۔۔۔ آج تمہارے لیے چائینز بنا رہی ہوں بھابی کہ رہیں تھیں سب شوق سے کھاتے ہیں بس زونیشہ کا نہیں پتا اسے پسند ہے؟؟ “
” جی۔۔۔۔ ” وہ ماں کی باتوں سے سمجھ گئی وہ اپنی کیے پر شرمندہ تھیں لیکن نجمہ کی عادت تھی وہ لوگوں کے آگے جُھکنا پسند نہیں کرتی تھی نہ معافی مانگتی تھی بھلے انہوں نے زونیشہ کے ساتھ کچھ بھی کیا ہو وہ اپنے عمل سے اسے سدھاریں گی۔۔۔۔ لیکن کبھی زونیشہ کے آگے اس بات کا اقرار نہیں کریں گی جو کہ مایل کو تو غلط لگا کیونکہ اُس لڑکی نے ایک سال تک ان کی نفرت برداشت کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” طبیعت کیسی ہے؟؟؟ ” مندی مندی آنکھیں کھولیں تو سامنے ہی اسے المیر بیٹھا نظر آیا ایک پل کو ذہن سُن ہوگیا کل رات کا واقع یاد آیا تو المیر کے نرم لہجے کی وجہ سمجھ آئی۔۔۔۔
” ٹھیییک۔۔۔۔۔۔ ” وہ پھر سے کہیں اسے لیکر پنچائیت نہ شروع کرے اسلئے زونیشہ نے بھی لہجہ نرم رکھا۔۔۔۔
” چلو فریش ہوجاؤ ناشتہ راستے میں کرلیں گئے۔۔ ابھی ڈاکٹر کے پاس جائیں گئے۔۔چلو گی؟؟؟ ” ڈاکٹر کا سن کے وہ سوالیاں نظروں سے اسے دیکھے گئی جو کے المیر سے پوشیدہ نہ تھیں۔۔
بہت کم یہ پلکیں اٹھتیں تھیں اور آج اٹھیں ہیں تو وہ بےساختہ بس نظریں ان آنکھوں پر گاڑھے اسے دیکھتا رہا۔ وہ اسکے دیکھنے سے پزل ہوتی خود ہی بیڈ سے اٹھی۔۔۔
وہ ان آنکھوں میں اتنا مگن تھا کے اسکے اٹھنے سے جیسے کسی سحر سے باہر نکلا۔ آج اسکا نظرانداز کرنا بُرا نہیں لگا کیوں کے وہ اسے جان چکا تھا۔۔۔
” چلو گی نہ؟؟؟ ” زونیشہ نے اسکی نرم پکار پر بس سر اثبات میں ہلایا اور دوپٹا بیڈ سے اٹھا کر باتھروم میں گم ہوگئی واپس آئی تو ہاتھ منہ دھلا ہوا تھا الماری سے کپڑے لیکر وہ ایک بار پھر واشروم میں چلی گئی اب کے بار نکلی تو المیر نے دیکھا تھا وہ عام کپڑوں سے ہٹ کر کوئی کاٹن کا سوٹ پہنے ہوئے تھی جو ہلکی پھلکی ڈیزائننگ کے ساتھ اس پر خوب جچ رہا تھا۔۔۔۔
وہ ماں کو اطلا دیکر زونیشہ کو لیکر کار میں آبیٹھا۔ کار میں دونوں کے بیچ خاموشی حائل رہی جب وہ ایک ہوٹل کے آگے آرکا تب اس نے زونیشہ سے پوچھا۔۔
” ناشتے میں کیا لوگی؟؟؟ “
” ک۔۔۔۔ک۔۔کچچچ بھی۔۔۔۔ ” اسکا دیہان کہیں اور تھا اچانک مخاطب کیے جانے پر وہ گھبرا اٹھی تبھی اسکی زبان لڑکھڑائی۔۔۔۔۔
” اوکے ” اس نے اسرار نہیں کیا کیوں کے شاید اسرار کرنا اسے پسند نہیں تھا۔۔ کار ریورس کرنے کے بعد وہ ایک ہوٹل کے سامنے آرکے۔۔۔
چائے کے ساتھ المیر نے چکن چیز پراٹھے آرڈر کیے یہ سب اس نے کار میں ہی منگوا لیا تاکے ہوٹل میں وہ ان کمفرٹبل نہ فیل کرے۔ پہلے تو وہ کھاتے ہچکچا رہی تھی مگر پراٹھے اتنے مزے کے تھے کے وہ خود کو روک نہ پائی اوپر سے سوکر اٹھو تو بھوک اتنی شدید لگتی ہے۔ وہ چھوٹے چھوٹے نوالے لیکر پورا پراٹھا ختم کر گئی۔۔
” اور منگواؤں؟؟؟ ” المیر کے پوچھنے پر وہ شرمندہ سی ہوگئی اور نفی میں سر ہلایا۔۔
” اس میں شرمندگی کی کیا بات ہے جو تمہارا چہرہ سرخ ہوگیا؟؟ مجھے دیکھو تین پراٹھے آرام سے کھا لیتا ہوں اتنا زبردست ہے تو خوائش ہوتی ہے بھلا یہ کیا بات پتھر کی لکیر ہے کے لڑکیاں ایک ہی پراٹھا کھائیں گی ” المیر کا لہجہ ویسا ہی نرم تھا۔۔
” نہیں۔۔۔ ب۔۔ بس ” چائے کا آخری گھونٹ بھرتے زونی نے کہا المیر نے لڑکے کو بلا کر بل ادا کیا اور اب کے کار اُس بڑے ہسپتال کے آگے آکر روک دی جہاں وہ مشہور نیرولوجسٹ بیٹھتا ہے۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” یو آر گورجیس ” وہ اپنے لئے جوس لینے کائونٹر پر آئی تھی کے پیچھے سے یہ آواز سن کر چونکی گردن گھما کر دیکھا تو وہی شخص تھا جو کچھ دیر پہلے اسے ملا تھا بقول اسکی ماں کے افنان قریشی کا بیٹا جس نے بزنیس کی دنیا میں بےشمار نام کمایا ہے۔۔۔
” قاتل نظریں ہیں!!! پہلے کبھی آپ کو پارٹیز میں دیکھا نہیں۔۔۔۔ ” وہ اسکے دیکھنے پر مسکراتا ہوا اسکے برابر آن کھڑا ہوا۔۔۔۔۔۔
آنکھیں سیکوڑ کے وہ اسے غور سے دیکھنے لگی آواز جانی پہچانی نہ تھی مگر یہ چہرہ جیسے جانا پہچانا سا لگ رہا تھا۔۔۔
مگر آواز ایسی نرم ایسی پراسر تھی کے وہ ایک پل کو اسکے سحر میں جکڑ گئی مگر اگلے ہی لمحے وہ اپنے آپ پر قابو پاتی اس شخص سے دو قدم پیچھے ہٹی جو کائونٹر ٹیبل سے ٹیک لگا کر اسکے آگے جھکا اسکی آنکھوں میں جھانک رہا تھا۔۔۔۔۔
” مجھے پارٹیز نہیں پسند!!!! ” وہ رخائی سے بولتی جانے لگی کے اس شخص نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔۔
” مگر مجھے تم پسند ہو!!!! پہچانا نہیں؟؟؟؟ ” وہ اسکی آنکھوں میں جھانکتا اسے کہ رہا تھا جو دماغ پر زور ڈالے اسے پہچانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔
” افسوس!!! وہ تم سے نفرت کرتی ہے۔۔۔ ” یہ آواز۔۔۔ یہی تو ایک آواز ہے جسے وہ پہچانتی ہے مگر وہ چہرہ اسکی کسی یاد میں نہیں بس آواز جانی پہچانی ہے جیسے صدیوں سے یہ آواز اسکے کان میں گونج رہی ہے اور چہرہ دیکھتے ہی وہ اسے کوئی ” اجنبی ” لگتا ہے۔۔۔۔
عینا نے اس سے ہاتھ چھڑوا کر اپنے دائیں جانب دیکھا تو وہ پوری شان و شوقت سے اسے اپنے قریب تر آتا دیکھائی دیا۔۔۔۔
وہ شخص اپنے سامنے سے آتے حاوز سلیمان کو دیکھ کر بس خون کے گھونٹ بھر کے رہ گیا۔۔۔۔۔
” شریفوں کی پارٹی میں تم جیسے حرام خور کیا کر رہے ہیں؟؟؟ ” وہ عینا کے بےحد قریب آکے ٹھنڈے ٹھار لہجے میں بولا ” حبروز ” جسکا موڈ خوش گوار تھا حاوز سلیمان کو دیکھتے ہی اسکے اندر کی آگ بھڑک اٹھی نفرت کی لہر اسکے وجود میں سراہیت کر گئی۔۔۔
عینا سانس روکے اسے دیکھ رہی تھی آج اتنے دنوں بعد وہ آیا تھا۔ اسکی کلون کی مہک عینا کے ناک کے نتھوں سے ٹکرائی۔ وہ اسکے اتنا قریب تھا کے عینا ایک قدم آگے بڑھاتی تو سیدھا اس سے جا لگتی۔۔
” عزت داروں کو بدنام کرنے آئے ہیں۔۔۔ ” وہ خباثت سے ہنسا۔۔۔۔۔
” یعنی مانتے ہو ” حرام خور ” ہو؟؟؟ ہم تو ویسے ہی زمانے میں بدنام ہیں مگر ” عزتیں ” محفوظ ہیں ” عینا نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا اسی وقت حاوز سلیمان کی آنکھوں نے اس ” پری پیکر ” کو دیکھا جو پتا نہیں خوبصورت تھی یا اسکی آنکھوں کی ” خوبصورتی ” تھی کے یہ لڑکی اس کے دل و دماغ پر حکمرانی کر کے بیٹھی ہے۔ اس لڑکی میں نجانے ایسا کیا تھا کے یہ ” حسن ” اسے دنیا میں کہیں نہیں ملتا اس جیسا ” حسین ” کوئی نہیں لگتا۔۔۔۔
ٰعینا کو لگا جیسے وہ اسی کے بارے میں بات کر رہا ہے۔۔۔
” تم یہاں کیا کر رہے ہو؟؟ ” مکرم علی کی دھاڑتی آواز سے عینا نے دیکھا یکدم سے حاوز سلیمان کے چہرے کے تااثرات سخت ہوگئے۔۔۔۔۔۔
” ہو دا ہیل آر یو آسکینگ می؟؟؟ ” اسکی بدتمیزی پر مکرم علی خون کے گھونٹ بھر کے رہ گئے انہوں نے اسے دھکا دیکر اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑ کے اپنی طرف کھینچا۔ عینا اپنے باپ کا ایسا سلوک دیکھ کر حیران رہ گئی انہوں نے کبھی محفل میں اس طرح کی ہرکت نہیں کی انھیں تو بیٹی سے زیادہ عزت پیاری تھی۔۔۔۔۔۔
وہ اسے اپنے ساتھ کھینچتے چلے جا رہے تھے جب کے حاوز سلیمان بلیک کوٹ میں ملبوس پینٹ کی جیبوں میں دونوں ہاتھ ڈالے ٹیبل سے ٹیک لگاتا اسے جاتے دیکھ رہا تھا اسکا انداز بےحد پُر سکون تھا جیسے اسے کوئی فرق ہی نہیں پڑا۔۔۔۔۔۔
” پہلے سے زیادہ خوبصورت ہوگئی ہے۔۔۔ ” حبروز اسے خباثت سے دیکھا حاوز سلیمان سے مخاطب تھا جو باہر سے خود کو مضبوط ظاہر کرتا اندر ہی اندر آگ میں جل رہا تھا۔۔۔۔۔
” اتنا نرم لہجہ کیسے اختیار کرلیا؟؟ ایک لڑکی کے آگے اتنے بےبس ہوگئے کے پہچان چھپا کر آئے ہو؟؟ اس پارٹی میں موجود سارے خبیث تمہاری اصلیت سے واقف ہیں سوائے میرے سسر کے اسے بھی تمہاری طرح خون کے آنسوں رلائونگا۔۔۔۔۔ ” وہ پراسر مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے مخاطب حبروز سے تھا مگر نظریں اپنی اس
” زندگی ” پر تھیں جو اسے ہی دیکھ رہی تھی اور پھر یکدم ہر طرف سناٹا چاھ گیا بلکل اسکے دل کی طرح جو اب لگتا تھا دھڑکنا بھول گیا ہے دھڑکن جو اسے دیکھتے تیز ہوگئی تھی اب سست روئی سے چل رہی تھی کیوں کے وہ جا چکی تھی۔۔۔۔۔
” اسے کچھ یاد نہیں۔۔۔۔۔۔
آدھی زندگی تو اسے ہوش میں لاتے گنوادی۔۔
باقی کی زندگی اسکا بُت بنا کر پوجنا۔۔۔۔
اسے چھوڑنے والا تو میں نہیں۔۔۔۔۔
ہاں اسی ایک دفع استعمال کرنے کا بعد دیکھنا کیا کرتا ہوں اسکے جسم کی ایک ایک خال کھینچ نکالوں گا۔۔۔
نہ انسانوں میں شمار ہوگی نہ مردوں میں۔۔۔
اسی کمینی کی وجہ سے میری بہن دن رات شوہر کا ماتم منا رہی ہے۔۔۔۔۔
تیری کمزوری میرے ہاتھ ہے ” حاوز سلیمان ” دیکھنا اسکی بوٹی بوٹی کچل ڈالوں گا۔۔۔ ” نفرت میں ڈوبے زہر خند الفاظ سن کر بھی اسکے وجود میں کوئی ہلچل نہ ہوئی وہ پُر سکون تھا جو دیکھ کر حبروز کے تن بدن میں آگ لگ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
” اُسکا قصور کیا تھا؟؟؟؟ ” حاوز سلیمان کے سوال پر حبروز پل بھر کو سوچ میں پڑ گیا۔۔ اُسکا کیا قصور تھا؟؟؟ ذہن پر وہی کتاب کے پرانے پنے دورانے لگا تو یاد آیا اُسکا قصور تھا اُس نے خون ہوتے ہوئے دیکھا تھا اُسکا قصور تھا وہ خوبصورت تھی۔۔ اُسکا قصور تھا وہ حبروز کی آنکھوں کو بھائی تھی اسکے دل میں سمائی تھی۔۔۔۔۔۔۔ اور اسی کا قصور تھا کے اسکی دوست نے حبروز کی بےعزتی کی تھی۔۔۔ اور اسی کی وجہ سے تو حاوز سلیمان نے اسکے بہنوئی کو مارا تھا۔۔۔۔
” یہی کے وہ میری نظرِ کرم بنی ” حاوز نے غور سے ان آنکھوں کو دیکھا پھر دھیما سا مسکرایا اِسکا انداز حبروز کو پل پل آگ لگا رہا تھا۔۔۔۔
” پھر ملینگے کہیں!!! کسی جگہ!!! زندگی رہی تو ” حاوز پُر سکون چال چلتا اسکی نظروں کے سامنے سے اسی راستے پر نکل گیا جہاں سے ابھی عینا گئی تھی۔۔۔۔۔
اسکے دماغ میں کیا تھا حبروز سمجھ نہ سگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکا ایک آدمی ہر وقت زریق کے گھر کے باہر انکی نگرانی کرتا تھا۔جیسے ہی حبروز کو خبر ملی عینا کو حاوز زریق کے یہاں لایا ہے اُسی وقت اُس نے اپنی سورسسز کے ذریعے مکرم علی کو انفارم کیا۔۔۔
وہ ایک بار عینا کو اپنے ساتھ لے جاکر غلطی کر چکا تھا دوبارہ نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ اسنے اپنا بہنوئی کھویا تھا حاوز نے جو اس سے بدلہ لیا تھا وہ اسی کو تباہ کر کے اسکی قیمت وصول کریگا۔۔ اسی لئے وہ مکرم علی سے آج ملا ایک عزت دار بزنیس مین کی حیثیت سے اب کل وہ انکے یہاں عینا کا رشتہ لینے جائے گا۔۔۔۔
اسکی دہشت میں ڈوبی آواز سن کر وہ جو ” آٹھ ” سال سے قوما میں تھی جھٹکے سے اٹھی تھی اور اسے دیکھ کر بس خوفزدہ نظروں سے تکتے یاد کرنے لگی مگر کمزوری کی وجہ سے یا شاید دماغ پر زور ڈالنے کے بائث وہ بےہوش ہوگئی اور جب اٹھی تب وہ درید کے پاس تھی۔ حبروز عینا کو اپنے ساتھ اپنے فارم ہاؤس لیکر گیا تھا لیکن درید وہاں اسے دیکھتے ہی غصّے سے کھول اٹھا اس لڑکی کی وجہ سے اتنے سالوں تک وہ کورٹ میں ریپ کیس میں ذلیل ہو رہا تھا۔ وہ صرف حاوز سلیمان کو سبق سیکھانے کے لئے اسے اپنے ساتھ لے گیا مگر آج تک وہ نہ لوٹا اور اب ” حاوز سلیمان ” کی خاموشی اِسکا صبر حبروز کو سوچنے پر مجبور کر رہا تھا آخر اِسکے پاس کیا ہے جو وہ خوش ہے؟؟؟ اِسکی زندگی تو حبروز نے اِس سے چھین لی پھر؟؟؟ کس شے پر وہ اتنا ُپر سکون ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آریز سے کچھ پیپرز سائن کروانے آئی تھی۔ وہ اسے دیکھ کر نہ چونکا تھا نہ کوئی ہلچل ظاہر کی بس بےنیاز بنا بیٹھا رہا نہ ہی اسکی کسی بات کا جواب دیا تنگ آکر اس نے خود مخاطب کیا۔۔۔
” کب تک ناراض رہو گئے؟؟؟ “
” آپ جا سکتی ہیں۔۔۔ ” آخری پنے پر سائن کرتے اس نے عام سے انداز میں کہا۔۔۔۔۔
” سر (حیدر مرتضیٰ) چاہتے ہیں میں ایمپلوائے نہیں بلکے آپ کی وائف کی حیثیت سے یہاں اونر کی سیٹ سنبھالوں الگ کیبن ہو میرا۔۔۔ پر میں نے انھیں کہ دیا رخصتی کے بعد۔۔۔۔۔” وہ جانتی تھی یہ ” آریز نے کیا ہوگا تبھی وہ خود سے اسے آگاہ کر رہی تھی اسکی نظریں آریز پر تھیں جو فائل میں نجانے کون سے خزانے ڈھونڈ رہا تھا۔۔۔
” مجھے علم نہیں۔۔۔۔ ” اسکی بےرخی پر وہ جو سامنے کھڑی تھی چل کر اسکے پاس آکھڑی ہوئی وہ اسکی حرکت نوٹ کرتے بھی فائل پر جھکا رہا۔۔۔
عزاہ نے اپنا نرم ہاتھ اسکے کندھے پر رکھا وہ جو اپنی سیٹ پر برجمان تھا اسکی حرکت سے ساخت ہوگیا۔۔۔۔
” اتنے سالوں میں جھوٹ بولنا بھی نہیں سیکھے؟؟ “
” تم نے سچ پر اعتبار ہی کب کیا ہے؟؟؟ ” وہ جھٹکے سے اٹھا اور اسکے مقابل آکھڑا ہوا عزاہ ایک پل کو گھبرا گئی وہ اس سے قد میں چھوٹی تھی آریز کا قد اچھا خاصا لمبا تھا ایک دم سے اٹھنے پر وہ واقعی ڈر گئی تھی۔۔۔
” تمہاری ناراضگی نہیں سہی جاتی ” وہ اسکے سینے سے جا لگی اسکا دل بھر آرہا تھا آریز کی لاتعلقی دیکھ کر وہ خود اسے کتنا تنگ کرتی تھی اور اب آریز کا یہ انداز اس کی جان لے رہا تھا اتنے دنوں کا جو ضبط تھا آخر کار اس کے سامنے ٹوٹ گیا اور وہ اس کے سینے سے لگے بس آنسو بہائے جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔
” اور تمہاری ناراضگی سہتے سہتے موت کو چھو کر آیا ہوں۔۔۔۔ اب نہیں تم سے زیادہ اہم میرے لئے میرے اپنے رشتے ہیں جنھیں بہت تکلیف دی ہے۔۔۔۔ ” آریز نے نہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا نہ اس کی پیٹ پر اُسنے کوئی ایسی حرکت نہیں کی جس سے عزاہ کو تھوڑا بھی دلاسا ہو کہ وہ اس کے آنسوؤں سے پیگھل گیا ہو بس بُت بنا رہا چاہ کر بھی اپنا ہاتھ آگے نہ بڑھا سگا کیونکہ آگر آج وہ اس کے سامنے پیگھل گیا تو اسے یقین تھا عزاہ ساری زندگی پھر اسے ایسے ہی سزائیں دے گی۔۔۔۔۔
” آری۔۔۔۔آریز۔۔۔۔ ” اسکے ہونٹ کپکپائے۔ اس نے آریز کا کورٹ اپنی مُٹھی میں جکڑا جیسے اس حرکت سے اس کا پرانا آریز پھر سے جاگ اٹھے گا۔ آریز کے لفظوں نے اسکا دل توڑا تھا کیا وہ اب کہیں نہیں تھی اس دل میں؟؟؟؟
اُسی وقت آریز کی پے اے بنا نوک کیت اندر آئی اور ان دونوں کو اس پوزیشن میں دیکھ کر پہلے تو وہ گھبرائی پھر مطمئن انداز میں بولی۔۔۔
” سر آپ کو حیدر سر بلا رہے ہیں میٹنگ شروع ہونے والی ہے۔۔۔۔ “
” خیال رکھا کریں آپ کو معلوم ہے حسبنڈ وائف ہیں ہم تو لاک کر کے آنا چاہیے تھا خیر سر سے کہیں میں آرہا ہوں۔۔۔۔ ” آریز کا لہجہ نارمل تھا وہ کسی بھی امپلوئے سے بدتمیزی نہیں کرتا تھا لیکن اسے یہ بات ناگوار گزری کہ کوئی اس طرح بنا نوک کیے اس کے کیبن میں آگیا وہ بھی تب جب عزاہ اور وہ ایسی حالت میں تھے وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی بھی عزاہ کے بارے میں کچھ بولے نہ اچھا نہ بُرا اُسے عزاہ کا ذکر کسی کے منہ سے پسند نہ تھا آریز نے اسکی کمر کے گرد بازو پھیلائے وہ لڑکی نظریں جھکا کر چلی گئی جبکے آریز نے اسکی کمر سہلائی۔۔
” منہ دھو کر آؤ اور آرام سے آنا میٹنگ ابھی شروع نہیں کر رہا!!! ابو چاہتے ہیں اب تم ہر میٹینگ میں شریک ہو آگے ہم دونوں نے ہینڈل کرنا ہے۔۔۔ ” وہ نرمی سے عزاہ سے کہ کر الگ ہوا اور عزاہ کتنی ہی دیر اسکے لمس سے خود کو سراب کرتی رہی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ارحم کے ساتھ گارڈن میں کھیل رہی تھی گھر کی خواتین اس وقت وہیں گارڈن میں شام کی چائے انجوائے کر رہیں تھیں مایل نے بھی اپنا بھرا ہوا چائے کا مگ وہیں رکھا تھا اور ارحم کے ساتھ ٹھنڈی گھاس پر ہلکے سے بھاگ رہی تھی وہ کہکلاتا ہوا ماں کے پیچھے بھاگتا دونوں ہاتھ آگے کیے اُسے پکڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔
موسم نے موڈ پر بھی ایسا اثر کیا تھا کے مایل سب کچھ بھلا کر بس موسم کی تروتازگی کو محسوس کرتی دل سے مسکرا رہی تھی۔۔۔۔
ارحم اسکی طرف بڑھ رہا تھا مایل کی پیٹ گیٹ کی طرف تھی اسے ہارن کی آواز آئی لیکن وہ پلٹی نہیں اِس وقت بس وہ اپنے بیٹے میں مصروف تھی۔ کوئی گھر کا فرد آیا ہوگا اسکے خیال میں یہی تھا پر خیال تب تبدیل ہوا جب ارحم ماں کو چھوڑ کر آنے والے کی طرف بھاگا مایل نے حیران ہوکر پیچھے دیکھا تو زریق کار کو ان لاک کیے ارحم کی طرف آرہا تھا اس سے پہلے کے ارحم گھاس کا سفر تحہ کر کے زمین پر آگڑتا زریق نے جھک کر اپنے بیٹے کو اٹھایا اور اسے اپنے ساتھ لیے خواتین کی طرف آگیا۔۔۔۔
مایل کو غصہ تو آیا کہ وہ اسے اگنور کر کے آگے چلا گیا لیکن وہ جانتی ہے کہ ضرور اب وہ اسے اپنے ساتھ چلنے کو کہے گا اور ابھی وہ صرف ان سب سے سلام دعا کرنے آیا ہے ظاہر ہے وہ کیسے انکے احترام میں کوتاہی کر سکتا ہے۔۔
اور ایسا ہی ہوا سب سے مل کر وہ مایل کی طرف متوجہ ہوا نجمہ نے بھی مایل کو آنکھیں دیکھائیں مطلب تھا کہ شوہر دیکھ رہا ہے تو اس کے پاس جائے وہ کچھ کہنا چاہ رہا ہوگا۔۔۔۔۔۔
” آپ کا سفر کیسا رہا؟؟؟ اور آپ کا کام ہو گیا؟؟ ” قریب آتے ہی اس نے زریق سے سوال کیا مگر اس کے جواب پر وہ اسے دیکھتی رہ گئی۔۔۔
” ہمم اچھا رہا!!! آپ اپنی چائے لے کر کمرے میں چلیں اور میرے کپڑے نکال دیں میں فریش ہوجاؤں ۔۔” وہ اسے کہہ کر خود ارحم کو لے کر گھر کے اندر چلا گیا مایل اپنا چائے سے بھرا مگ لے کر اس کے پیچھے چلی آئی جیسے ہی وہ کمرے میں پہنچی سب سے پہلے زریق نے ارحم کو نیچے زمین پر اتاڑا۔۔۔۔
مایل سے مگ لیکر ہونٹوں سے لگایا۔۔۔
” میں دوسری بنا دیتی ہوں یہ میری جھوٹی ہے “
” آپ بھی تو میری ہیں ” مایل کا دل بےساختہ دھڑکا۔ وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا شاید اسکے چہرے کے بدلتے رنگوں پر غور کر رہا تھا۔۔ پھر مایل کو ہی یاد آیا چائے گرم تھی۔۔۔۔
” گرم ہے “
” خیر ہے “
” مت پیئیں ” مایل نے زریق کے کسرتی بازو پر ہاتھ رکھ کے التجا کی دوسرے گھونٹ کے لئے مگ ہونٹوں سے لگاتا وہ ٹہر گیا اور اسکے فکر پر مگ ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ دیا۔۔
” ٹھیک ہے “
اب کے وہ کوٹ اتاڑ کر اسکی طرف متوجہ ہوا پھر ٹائے ڈھیلی کر کے گلے سے نکالی۔۔۔۔
” آپ بتائیں اتنی بدگمان کیوں رہتی ہیں؟؟؟ ” زریق نے ابھی ذکر شروع کیا ہی تھا کے وہ آنسو بہاتی اسکے سینے سے جا لگی جیسے اسی سوال کا انتظار رہا۔۔
” آپ روتی کیوں ہیں اتنا؟؟ کیا کروں میں آپ کا؟؟ ” وہ اسکی کمر سہلاتا اس سے شکوہ کر رہا تھا مگر انداز اسکا ویسے ہی تھا نارمل مگر مایل کو لگا وہ ” شکوہ ” کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔
” آپ اپنے بیٹے سے بھی جیلیس ہیں؟؟ ” وہ پوچھ رہا تھا۔ مایل نے خفگی سے کہا
” میں جیلیس نہیں!! آپ کو اسکی پروا ہے میری نہیں؟؟؟ اور میں اسے بھی ماروں گی اسنے آپ کا وقت، آپ کا پیار سب لے لیا مجھ سے۔۔۔ ” وہ اسکی باتوں پر ہنستا اسے خود سے لگائے ہوئے تھا جو اپنی باتوں پر شاید خود بھی شرمندہ تھی اور ہنستی روتی مکمل اسکی پناہوں میں چُھپ گئی۔۔
جاری ہے۔۔۔
