Wo Ajnabi by Yusra readelle50025 Episode 38
Rate this Novel
Episode 38
وہ اسے وہیں روتا چھوڑ کر گارڈن میں چلا آیا۔ اس وقت وہ زلزلوں کی زد میں تھا۔۔۔۔۔
وہ وہاں رُکتا بھی تو اسے تسلی کے کوئی الفاظ نہیں دے پاتا شاید صرف اذیت دیتا وہاں اسکے سر پر کھڑے رہ کر۔۔۔۔
سرد موسم میں اس وقت ہر طرف خاموشی چھائی تھی۔ دھند تھی جس نے آسمان کو اپنی لپیٹ میں لیا تھا المیر گارڈن میں رکھی پھولوں سے سجی بینچ پر بیٹھ گیا۔ خالی آسمان کی طرح اسے اپنا آپ خالی سا لگ رہا تھا۔۔۔۔۔
“موت ” ایک ایسی حقیقت جس نے اس گھر کے لوگوں کی سوچ بدل دی۔ اور ” مومنہ ” کی موت نے تو سب کو بدل دیا یہاں تک کے اُسکی ” ماں ” کو بھی۔۔۔
انسان جوانی میں خود کو حکمران سمجھتا ہے جو گناہ جوانی میں کیے اسکی معافی بُڑھاپے میں مانگتا ہے کیا فائدہ اُس معافی کا؟؟؟ جب سہنے والا بھی دکھ برداشت کر کے اب آخری وقت میں آن پہنچا اُسکے اچھے ” دن ” تو دوسروں کی غلامی میں گزر گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہی تو زونیشہ کے ساتھ ہوا تھا وہ اسے یہاں لاکر ایسا بھولا تھا کے دوسرے اس پر ” حکمرانی ” کرنے لگے یہاں تک کے وہ خود بھی ۔۔۔۔۔۔۔
کیا نجمہ چچی کی ہمت ہوتی کے وہ اسکے ساتھ ایسا سلوک کرتیں؟؟؟ آگر ان دونوں میں محبت کا نہ سہی
” اعتبار ” کا رشتہ ہوتا تو کیا زونی اسے نہ بتاتی کے اسکی ماں اولاد کی خوائش کے لے اُسے ” پھکی ” كهیلاتی ہیں۔۔۔
یہاں تک کے وہ اسکی توجہ محبّت پانے کے لئے غلط راستوں تک نکل آئی تھی تو اور کیا ثبوت چاہیے تمہیں المیر صدیقی؟؟؟؟؟ وہ اب تک شاید عورتوں کو سمجھ نہیں سگا مرد اتنے سینسیٹو نہیں ہوتے جتنی عورتیں ہوتی ہیں۔۔۔۔۔
زونی نے مجھ سے پوری طرح بےرخی بھرتی بھی نہیں اور میں نے غصّے میں اُسے ” طلاق ” کی دھمکی دے دی؟؟؟ جس نے ہمیشہ مجھے اپنے ” محافظ ” کے روپ میں دیکھا اسے ” بیوی ” ہونے کا حق وہ عزت اور اہمیت نہیں دے سگا تو کیا اُسے حق نہ تھا کے وہ اپنے لئے بہتر فیصلہ کرتی؟؟؟؟ اسلئی تو میرے لفظوں سے تنگ آکر وہ ماں باپ کے یہاں چلی گئی۔ اور جب اسے واپس لے آیا تب وہ حق پر تھی کے جو اسکے ساتھ کیا وہی وہ میرے ساتھ کرتی مگر میری سختی،،، کے اسے فیصلہ کرنے پر مجبور کیا۔۔۔ کیا ہوتا آگر ٹائم دیتا؟؟؟ آخر میری بیوی ہے وہ محبوبہ نہیں جو میرے ہاتھ سے نکل جاتی میرے دی گئی اذیتوں نے اسکے ذھن پر دباؤ بڑھا دیا فیصلہ کرتی بھی تو کیسے جب دماغ اسکا ساتھ چھوڑ چُکا تھا۔۔۔
جسکی وجہ وہ خود ہے۔۔۔۔
لڑکیوں کے ہزار موڈ سوئینگز ہوتے ہیں انکی طبیعت کا معلوم نہیں ہوتا نہ اس دل میں جھانک کر اندازہ لگا سکتے ہیں اِس وقت اسے شوہر کی ضرورت ہے یا اُن محبتوں کی جسے چھوڑ کر وہ شوہر کے سہارے آئی ہے۔۔۔
میں نے اسکی کمزوری پکڑ لی کے وہ مجھے سے ڈرتی ہے۔۔
اونچی آواز سے خوفزدہ ہوجاتی ہے۔۔۔۔۔
میں چاہتا تھا وہ میرے ساتھ رہے۔۔۔۔
سب بھول کر ہنسی خوشی۔۔۔
چاہے محبّت سے یا خوف سے۔۔۔
اسے ایک پنحرے میں بند کردیا میں نے اور آزادی بھی اس سے پوچھ کر صرف اُسی قیمت میں دی کے سب بھول کر نارمل ہوجاے اور وقت؟؟ وہ کہاں دیا میں نے وہ ایسا کرتی بھی تھی تو میری دی اذیتوں نے اُسے سمجھا دیا کہ ہوگا وہی جو ” المیر صدیقی ” چاہے گا
میں سب جانتے ہوئے بھی جان کر کرتا رہا صرف اس لیے کہ مجھے ڈر تھا اسے حاصل نہیں کر سکوں گا یا خود کو کسی ٹینشن ذہنی دباؤ سے آزاد کرنے کے لیے میں اس سے اذیت دیتا رہا۔۔۔۔۔
میں ظلم پر ظلم کرتا رہا خوف میرے اندر تب تک نہ آیا جب تک مومنہ کا نام نہیں پڑھا یہ تک بھول گیا وہ میری وجہ سے محرومی کا شکار ہوچکی ہے۔ میری وجہ سے وہ زندگی سے اس حد تک نفرت کرنے لگی ہے کے ” موت ” اسے ایک آسان حل نظر آتا ہے۔ سکون اسے وہاں نظر آتا ہے۔۔۔۔۔
اور آج جب اس نے اپنا بھاینک چہرہ دیکھا تو یہ سوچ اسے مار گئی کہ وہ اس کے سامنے جائے گا کیسے؟؟؟ اور کیا وہ دوبارہ اسے ویسی ہی زونشہ بنا پائے گا جیسے اس کے ماں باپ نے اِسے دی تھی؟؟؟ وہ جو خوشیاں المیر نے اس پر حرام کی تھیں کیا اب دوبارہ اس کی جھولی میں وہ خوشیاں بھر پائے گا؟؟؟؟؟
وہ سوچوں میں نہ جانے کہاں آگے نکل آیا تھا کے اسے احساس بھی نہ ہوا وہ آنکھیں اسے دھوکہ دے گئیں۔ وہ آنکھیں جو ہمیشہ اپنے سرد پن سے اگلے انسان کی روح فنا کر دیتی تھیں آج وہی آنکھیں زونیشہ کے دُکھ میں اشک بہا رہی ہیں۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” اسلام علیکم کیا آپ جاگ گئیں؟؟ اب طبیعت کیسی ہے؟؟ جیسے ہی اُٹھیں مجھے کال کریں آپ کے انتظار میں ہوں ” وہ اٹھی تو پہلی نظر اس کی موبائل پر پڑی جو اس کی کمر کے پاس بیڈ پر رکھا تھا اسے اندازہ بھی نہیں ہوا کہ کب اس کی آنکھ لگی اور کب زریق کا فون بند ہوا بس اسے زریق کے کہے الفاظ یاد تھے۔۔۔۔۔ وہ لفظ یاد کرتے ہی خود بخود مسکراہٹ اس کے ہونٹوں کو آن چھوئی اور وہ سوچ رہی تھی کہ واقعی وہ کتنی پاگل ہے کہ ایک فضول انسان کی باتوں کو دل پر لگا کر وہ زریق پر غصہ کر گئی اور اپنے بیٹے سے اسے یاد آیا ارحم اس کے پاس نہیں تھا اسے یاد آیا رات میں آریز اُسے اپنے کمرے میں لے گیا تھا۔۔۔۔۔ وہ دوپٹہ شانوں پر اچھے سے پھیلا کر جھٹ سے بیڈ پر سے چھلانگ لگا کر اٹھی اور تیزی سے آریز کے کمرے میں جا پہنچی جیسے ہی مایل کمرے کا دروازہ کھولا کر اندر داخل ہوئی تو سامنے ہی اسے آریز نظر آیا جو ڈریسنگ ٹیبل کے آگے کھڑا بال کومب کر رہا تھا اس کی پہلی نظر آریز پر پڑی اور دوسری نظر اس نے بیڈ کی طرف گھمائی جہاں اسے ارحم نظر آیا۔ ارحم کو دیکھتے ہی ایک سکون کی لہر اس کی روح میں سرایت کر گئی وہ فوراً ہی اس کی طرف بڑھی ۔۔۔۔۔ جھک کر مایل نے ارحم کو اٹھایا اور جیسے ہی وہ کمرے سے جانے لگی اسے آریز کا خیال آیا۔۔۔۔۔ ” کیا ناراض ہوگئے مجھ سے؟؟ ” وہ اس سے پوچھ رہی تھی آریز جو بظاہر خود کو مصروف ظاہر کر رہا تھا پر اس کی نظر مایل پر تھی خود کے مخاطب کیے جانے پر وہ پیچھے مڑا۔۔۔ ” اور نہیں تو کیا میرے داماد پر ہاتھ اٹھایا ہے۔۔۔ ” اس کا خوشگوار موڈ دیکھ کر مایل کو تھوڑی تسلی ہوئی وہ تو سمجھی بیٹھی تھی کہ آج اریز اس کی کلاس لے گا۔۔۔۔۔ ” یہ سب تمہارے بھائی المیر کی وجہ سے ہوا ہے!!!! انھیں سیکھاؤ رشتے کیسے نبھاتے ہیں میں نے بس ان سے زونیشہ کے متعلق کہا تھا جو وہ اسکے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں۔۔۔۔ ” ” مایل چھوڑ دو سب!!! المیر کے معملوں میں مت پڑا کرو اُسے بات تب تک سمجھ نہیں آتی جب تک وہ اس پر گزرتی نہیں جتنا تم بولو گی بے فضول ہے احساس اُسے اپنے وقت پر ہی ہوگا میرا بھائی ہے میں جانتا ہوں۔۔۔۔ ” لفظ ” بھائی ” پر مایل نے اپنی آنکھوں کی پتلیاں اوپر کو گھمائیں جو اریز کی نظر سے پوشیدہ نہ تھا وہ اس کی اس حرکت پر مسکرایا۔۔۔۔ ” چلو تمہارا طنز میں سمجھ گیا۔۔۔ میرا بھائی سُدھرا ہوا نہیں ہے پر تم تو ایک اچھی ماں ہو نا؟؟؟ تو یہ کیا حرکت تھی کہ کسی اور کا غصہ تم نے اس معصوم بچے پر اتاڑا؟؟ یعنی آگر میں کل نہیں آتا تو تم نے تو مار مار کے اپنے ہی بچے پر سارا غصہ نکالنا تھا ایسا ہی ہے نا؟؟؟ ” اب وہ واقعی میں اس کی کلاس لے رہا تھا مایل شرمندہ تو تھی مگر ” مار ” سن کر اسکا اپنا دل پس رہا تھا اس نے ارحم کا ماتھا چوما۔ آریز نے اسکا رونے کا مشغلا جاری ہوتے دیکھ ہاتھ جوڑ دیے۔۔۔ ” پلیز مایل رونا نہیں لڑکیوں کا روتا چہرہ دیکھ میں اب پک چکا ہوں ” آریز نے باقاعدہ ہاتھ جوڑے تو وہ روتے روتے ہنس دی۔۔۔ ” جائیں معاف کیا صرف اس لئے کے میرے بیٹے کا آپ نے خیال رکھا۔۔۔ ” وہ اس کی بات سن کر اسے گھور کر رہ گیا جبکہ مایل دل ہی دل میں سوچ رہی تھی کہ آخر ارحم پوری رات ایک دفعہ بھی رویا کیوں نہیں ورنہ اکثر وہ بھوک کی وجہ سے رات میں اٹھتا تھا۔۔۔۔۔۔ وہ ارحم کو کمرے میں لے آئی۔۔۔ اسے بیڈ پر لیٹا کر مایل نے ایک سیلفی لی اور زریق کو بھیج دی۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے یہاں آئے آج دوسرا دن تھا اور آہستہ آہستہ اس کے ذہن میں ہر وہ یاد دوبارہ آرہی تھی جو اس کے ذہن سے مٹ چکی تھی وہ اپنے کمرے میں جیسے ہی پہنچی تھی کمرے کا جائزہ لیتے ہی اسے اپنی جوانی کے دن بچپن یادیں سب زہن میں آتک چلی گئیں سوائے اُس میموری کے جو حاوز سلیمان سے جڑی تھیں وہ شخص جو دعوی دار تھا کہ آٹھ سالوں سے اس کا انتظار کر رہا ہے وہی شخص صرف وہی شخص اس کی ہر یاد سے مٹ چکا ہے اور ایسا کیوں؟؟؟؟
پورا دن یہی سوچتے اس کا گزر گیا تھا اور وہ شخص بار بار ذہن میں آرہا تھا جو اس کے لیے رویا تھا جس نے اسے ایسی سچائی کا رُخ دکھایا تھا جو اس کی یادوں میں کہیں نہیں آخر حبروز نامی کوئی شخص ہے تو اس نے اب تک اِسے اغوا کیوں نہیں؟؟؟ پہلے بھی تو وہ اس کے انتظار میں تھا کے اسے اغواہ کریگا؟؟؟ اور حبروز کون ہے؟؟ اور وہ شخص کون ہے جسکی آواز سے وہ نیند سے جاگی تھی جسکی آواز سن کر اسے خوف آتا ہے۔۔۔۔
کیا اب تک جو تھا وہ سب جھوٹ تھا حاوز سلیمان نے اسے جو کہانی سنائی اس میں کہاں تک سچائی تھی؟؟؟ اس کہانی کا کوئی ایک بھی ایسا کردار نہیں تھا جو اسے نظر آتا صرف حاوز سلیمان اور وہ خود تھی جن سے کہانی تو تھی مگر اس کہانی کی کوئی سچائی نہیں تھی۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” بس میری کمی ہے۔۔۔۔ ہے نہ؟؟؟ ” تصویر دیکھ کر زریق نے جواب دیا جو مایل کے موبائل میں موصول ہوا۔۔ ” جی۔۔۔ ” وہ جھجکی۔۔۔۔ ” کل جب آپ کی کال آئی میں مارکیٹ گیا ہوا تھا وہاں سے ارحم کے لئے اور اپنے لئے کچھ ڈریسسز لئے آپ کی شوپنگ کا تجربہ نہیں اس لئے کچھ لہ نہیں پایا۔۔۔۔ ” میسج پڑھ کر مایل کا دل یکدم سے خراب ہوا۔ کیا وہ اس کے لیے ایک بریسلٹ تک نہیں خرید سکتا تھا مطلب کچھ لیا ہی نہیں؟؟؟؟ ” کوئی بات نہیں میرے پاس سب کچھ ہے ” دل اندر سے رو رہا تھا مگر وہ آخر کہہ کیا سکتی تھی بس آنسو پیتی رہ گئی۔۔۔۔۔ ” شیور؟؟؟؟ ” ” جی۔۔۔ ” ” آپ ناراض تو نہیں ہیں؟؟؟ بس اس لئے بتایا کے سامنے دیکھاتا تو آپ کو فیل ہوتا آپ کے لئے کچھ نہیں لایا اور اب وقت بچا نہیں آج واپس آؤں گا آگر لینے بیٹھا تو کل کی فلائٹ کروانی پریگی۔۔۔۔ ” وہ کافی دیر اس کے جواب کا منتظر رہا لیکن مایل کا دل بہت خراب ہو چکا تھا اس کا میسج پڑھ کر مایل نے بس ٹھیک ہے کا ریپلائی دیا پھر وہ موبائل رکھ کر ارحم کو لے کر بیڈ سے اٹھی۔۔۔۔ وہ خود فریش ہوئی اس نے ارحم کو بھی نہلا کر نئے کپڑے پہنائے اور ناشتہ کرنے کے غرض سے نیچے حال میں چلی آئی جہاں سب خواتیں اسی کا انتظار کر رہی تھیں۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
