66.2K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 37

رات بھر سڑکوں کی دھول چاٹنے کے بعد جب وہ گھر لوٹا تو کمرے میں آتے ہی اسکی سسکیوں کی آواز نے المیر کی رگ بھڑکا دی۔۔۔۔
وہ آندھی طوفان کی طرح اسکی طرف بڑھا اور بیڈ پر لیٹی آنکھوں پر بازو رکھے زونیشہ کو جھٹکے سے اٹھا کر اپنے سامنے کھڑا کیا اسکا وار ایسا بےرحمانہ تھا کے وہ کانپ کر رہ گئی۔۔۔۔۔۔
” بہت تکلیف ہوتی ہے نہ میرے قریب آنے سے؟؟؟؟ ماں کے گھر زیادہ خوش تھیں وہاں سکون تھا وہ اپنا گھر تھا اور یہاں بےسکونی؟؟؟ یہ دوزخ ہے تمہارے لے سہی کہا نہ؟؟؟ اسلئے ہر وقت یہ مگرمچھ کے آنسو بہا کر لوگوں کی آٹینشن لیتی ہو۔۔۔ تمہیں آزادی چاہیے؟؟؟ بولو کردوں آزاد ہمیشہ کے لیے؟؟ دے دوں طلاق؟؟ جواب دو؟؟؟ ” وہ غرایا۔ زونیشہ جو پہلے ہی کانپ رہی تھی اسکے ہر عمل سے اسکی جان نکل رہی تھی ” طلاق ” کا لفظ سن کر اسکی چلتی ” دنیا ” پل بھر میں رک گئی آنکھوں کے آگے اندھیرا سا چھانے لگا تھا۔۔ کتنے آرام سے وہ طلاق کا کہ رہا تھا؟؟ طلاق کا حق ہے تو وہ اسکی سانسیں تنگ کردیگا؟؟؟ اس طرح ڈرا دھمکا کر؟؟؟؟
” دوں طلاق؟؟؟ ” وہ چیخ رہا تھا زونی کا دل چاہا اپنے کان بند کرلے ورنہ اسکی چیخوں سے اسکا دل پھٹ جائے گا۔۔۔۔
” بولو؟؟؟؟ ” وہ اسکی جان لینے کے در پر تھا زونیشہ کا دماغ پل پل جھٹکے کھا رہا تھا کہیں کوئی رگ نہ پھٹ جائے اسے ڈر تھا۔۔۔
اور اگلے ہی لمحے وہ خوف سے کانپتی بےہوشی کی حالات میں گرِنے لگی تھی کے المیر نے اسے خود سے دور دھکیل کر بیڈ پر پھینکا۔۔ ایک اور ناٹک اس لڑکی کا۔۔ نجانے کس منحوس گھڑی میں وہ اسکی زندگی میں آئی۔۔۔۔۔۔۔
اسکا غصّہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا وہ شادی سے پہلے ہی ٹھیک تھا۔ اگر شادی کرنے بھی تھی تو ایسی امیچور لڑکی سے ہرگز نہ کرتا۔۔۔۔۔۔
وہ کمرے میں چکر کاٹتا یہی سوچ رہا تھا اسے زونیشہ پر غصہ بھی تھا اور اس کے بے ہوش ہونے پر تو مزید غصہ آرہا تھا وہ انہی سوچوں میں تھا کہ اچانک سے دروازہ دھکیلتے مایل اندر داخل ہوئی۔۔۔
” زونی کہاں ہے المیر بھائی۔۔۔ ” سامنے المیر کو کھڑے دیکھ اس نے کمرے میں نظر دوڑائے بغیر ہی المیر سے کہا۔ المیر جواب دیتا اس سے پہلے ہی اس کی نظر بیڈ پر اوندھی لیٹی زونیشہ پر پڑی۔۔۔۔۔
” یہ ایسے کیوں لیٹی ہے؟؟؟ “
” دیکھ لو مر ور تو نہیں گئی یہ بھی پھر میرے گلے
میں ” مایل اس کے لفظوں پر حیران رہ گئی وہ کتنی آسانی سے کہہ رہا تھا وہ ایسا تو نہیں تھا۔۔ ایسے تلخ الفاظ تو المیر نے کبھی اس کے بارے میں بھی نہیں کہے۔۔۔
ہاں زونیشہ اور اس کے بیچ سب کچھ ٹھیک نہیں تھا مگر ایسا بھی نہیں تھا کہ وہ زونیشہ کے بارے میں ایسے الفاظ کہے۔۔۔
” آپ ایسے کیوں کہ رہے ہیں؟؟؟ ” زونی کی طرف بڑھتے مایل نے المیر کو غصے سے کہا۔ مایل نے زونیشہ کو آواز دی مگر وہ نہیں اٹھی پھر اس کا بازو ہلایا تب بھی وہ بے سود پڑی رہی۔۔۔
اب تو المیر کو بھی تشویش لاحق ہوئی مایل ڈائریکٹ جا کر صالحہ کو بلا لائی اور اس کے بعد گھر کی خواتین اور گھر کے افراد سب لاؤنج میں ہی بیٹھے اس صورتحال پر پریشان تھے۔۔۔۔۔۔۔
صالحہ مایل کے بلانے پر جیسے ہی کمرے میں آئی اُس نے سب سے پہلے صدیق صاحب سے کہ کر قریبی ڈاکٹر کو بلایا۔
” امی وہ ناٹک کر رہی ہے پہلے یہاں آتے ہی اُسے بخار ہوگیا اور اب یہ بےہوشی کا ناٹک میرے ہاتھ لگے اسکی کمزوریوں کا علاج کرتا ہوں۔۔۔۔ ” ڈاکٹر کا سن المیر بھڑک اٹھا تھا اسکے مطابق بس زونیشہ شاید شاکڈ میں تھی۔ غصہ اب کم ہوا تو اندازہ ہوا کہ وہ حد سے زیادہ اسے سُنا چکا ہے بس غصّے میں وہ کنٹرول ہی کھو بیٹھا۔۔۔۔
شاید اسے غرور تھا۔۔۔ شوہر خود کو ہمیشہ ڈومننٹ(Dominant) سمجھتا ہے وہ جانتا ہے کہ وہ اپنا گھر چھوڑ کر نہیں ْآیا مگر وہ لڑکی اپنا گھر چھوڑ کر اس کے سہارے اس کے آسرے آئی ہے وہ اس کی محتاج ہے وہ چاہے تو اس کے ساتھ کسی بھی طرح کا سلوک یا رویہ اختیار کر سکتا ہے کیونکہ وہ ” شوہر ” کے رتبے پر فائض ہے۔۔۔
صالحہ نے اسکی بےحسی دیکھ کر اسے آنکھیں دیکھائیں
پھر کیا تھا یہ بات پورے گھر میں پھیل گئی اور سب ہی لاؤنج میں جمع ہو گئے اندر ڈاکٹر زونیشہ کو چیک کر رہے تھے لیکن وہاں المیر بھی موجود تھا زونیشہ اس کی بیوی تھی چاہے کچھ بھی ہو وہ اسے اکیلا نہیں چھوڑ سکتا تھا۔۔۔۔
ڈاکٹر نے اسے کہا کہ وہ باہر انتظار کرے مگر وہ ڈاکٹر کے سر پر کھڑا رہا ایک پل کو وہاں سے ہلا تک نہیں۔۔۔۔۔
” انکا بی پی کافی لوو ہوگیا تھا اسی وجہ سے یہ بےہوش ہونگیں۔ پریشانی کی بات نہیں ایک ڈرپ لکھی ہے وہ لگوائیں ٹھیک ہوجائے گی مگر جلدی کیونکہ میں نے انجیکشن نہیں لگایا اُس کی خاص ضرورت نہیں تھی۔۔”
ڈاکٹر المیر کو ھدایت کررہا تھا۔ وہ جانتا تھا ان کے گھر میں زاکون ہے جو خود ہی زونیشہ کو ڈرپ لگائے گا اس لیے انہوں نے بس ڈرپ لکھ کر دی۔۔۔۔
” زونیشہ کو مایل کے کمرے میں لے کر جا رہی ہوں یہاں رہے گی تو تم سے کوئی امید نہیں صبح تک زندہ بچے گی بھی یا نہیں۔۔۔۔۔ ” صالحہ بیٹے سے ناامید ہو چکی تھیں۔ وہ انکا بڑا بیٹا تھا،، سمجھدار بیٹا جس نے آج ماں کی امید انکے ارمان سب مٹی میں ملا دیے۔۔۔۔۔
” شکر ہے میری کوئی بیٹی نہیں ورنہ آج بیٹے سے زیادہ بیٹی کا غم رُلاتا۔۔ پر کاش تمہاری کوئی بہن ہوتی تو آج تمہاری ماں زونیشہ کے سامنے یوں شرمندہ نہ ہوتی۔۔۔۔ “
المیر انکی آخری بات پر شرمندہ ہوگیا۔ وہ ماں کو اپنے دل کا حال کیسے سنائے؟؟؟ اپنے اندر اتنا صبر کیسے لائے وہ کوشش کرتا ہے مگر زونیشہ ہمیشہ اسکی ہر کوشش کو ناکام کردیتی ہے۔۔۔۔
زونیشہ اب بھی غنودگی کی حالت میں تھی لیکن مایل اور صالحہ اسے سہارا دے کر دوسرے کمرے میں لے آئیں۔۔۔۔۔۔
المیر کی رات بے چینی سے کٹی گھر میں خاص کسی کو اتنا کچھ معلوم نہیں ہوا تھا صالحہ نے شاید بات سنبھال لی تھی لیکن پھر بھی وہ اپنے کمرے میں بند نہیں جانتا تھا باہر کیا قیامت گزر رہی ہے؟؟؟ بس وہ کمرے کے چکر کاٹ کر خود کو پُر سکون کر رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ اب تک اس کے ساتھ کیا ہوا ہے؟؟؟؟ کبھی وہ مایل پر ایسے ہی رُعب جھارتا تھا اور اب زونیشہ پر،،، وہ ہمیشہ خود کو حق پر سمجھتا تھا۔۔۔۔۔۔
اس میں نہ صبر تھا نہ برداشت تھی تبھی وہ زونیشہ پر دن با دن سانسیں تنگ کر رہا تھا۔۔۔۔
نہ جانے کس بات کی دشمنی ہے کہ وہ اس پہ ظلم کرنے سے نہ خوف کھاتا ہے نہ کتراتا ہے۔۔۔۔
طلاق کا بھی المیر نے غصے میں کہا تھا مگر وہ اندر سے اس بات سے واقف تھا کہ وہ ڈرے گی اور اس کے آگے جھکے گی طلاق ایسا لفظ ہے جو خود بخود عورت کو کمزور کر دیتا ہے کیونکہ ایک عورت ہی ہے جو معاشرے میں طلاق کا داغ لیے قبر تک جاتی ہے،،،،، لیکن مرد چاہے پانچ شادیاں کرے پانچ طلاقیں دے وہ قبر میں ہر داغ سے پاک جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کے پانچ بج رہے تھے جب اس کے دل میں خیال آیا کہ وہ ایک دفعہ زونیشہ کو دیکھ لے یہی سوچتے وہ دبے پاؤں ان کے کمرے تک آیا اندر جانے کے اس میں ہمت نہیں تھی لیکن وہ اس کی بیوی تھی وہ حق رکھتا تھا اسے دیکھنے کا یہی سوچتے اس نے ہینڈل گھمایا اور بغیر کوئی آواز کیے بالکل ہلکے سے دروازہ کھولا اور سامنے کا منظر حیران کن تھا وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ دونوں اس وقت جاگ رہی ہوں گی۔۔۔۔۔۔
” مج۔۔۔۔۔مجھ۔۔۔۔ک۔۔۔۔ککک۔۔۔۔کچھ۔۔۔ سمجھ نہیں آتا میں کیا ک۔۔۔۔۔۔کر۔۔کروں میرا دماغ اب کام نہیں کرتا نہ مجھے ک۔۔۔۔۔ک۔۔۔چھ یاد رہتا ہے نہ کچھ سمجھ آتا ہے۔۔۔۔۔ میں۔۔۔۔۔۔۔۔ہ۔۔۔۔۔ہکلاہٹ کے ساتھ شاید۔۔۔۔۔۔ اب دماغ بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” وہ مایل کے آگے پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔ اور المیر باہر کھڑا اس کے لفظ ” ہکلاہٹ ” پر چونک اٹھا اتنے دنوں میں وہ یہ بات محسوس تو کر رہا تھا مگر اس نے نوٹ نہیں کی پتا نہیں کیوں شاید گھبراہٹ میں ہکلانا عام ہے مگر۔۔۔۔ وہ خود کہہ رہی تھی کہ وہ ہکلاہٹ کا شکار ہے۔۔۔
یہ سب کیسے ہوا کب ہوا؟؟؟اس وقت واقعی زونیشہ اسے قابل رحم لگ رہی تھی شاید وہ اسے سمجھ نہیں پایا یا شاید وہ اسے ان امتحان سے گزار رہا تھا جس سے وہ دن بدن اپنا اعتماد کھو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
” م۔۔۔۔۔۔۔مایل۔۔۔۔۔۔۔و۔۔۔۔۔۔وہ بولتے۔۔۔ ہیں ا۔۔۔۔۔۔اور میں انکے جانے کے بعد بس خالی ذھن کے ساتھ سوچتی رہتی ہوں۔۔۔مج۔۔۔۔۔۔مجھے امی ابو بہت یاد آتے ہیں امی نے مجھے چھوڑ دیا انکو لگتا ہے میں جان کر ” ان ” سے الگ ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔م۔۔۔۔۔مایل۔۔۔۔۔۔۔مجھے لگتا ہے میں آہستہ آہستہ۔۔۔۔۔پ۔۔۔پاگل ہوجاؤں گی ” وہ اسکے الفاظوں سے پزل سا ہوگیا کچھ ایسا تھا جس سے وہ اب تک واقف نہیں اس وقت زونیشہ کی ایسی حالت دیکھ کر وہ خود کو اس کا مجرم تصور کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔
اب اسکی برداشت جواب دے گئی وہ دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوا جبکے اسے دیکھ زونیشہ کا سانس اٹک گیا۔۔۔
” تم ایسے کیوں بات کر رہی ہو؟؟؟؟ ” وہ مایل کی موجودگی فراموش کر کے بس زونیشہ سے مخاطب ہوا۔۔۔
” آپ کی وجہ سے۔۔۔۔۔۔ ” اسکے بجائے جواب مایل نے دیا۔۔۔۔۔۔
” کیا کہنا چاہ رہی ہو؟؟؟ “
” جب ایک انسان کو بار بار دھتکار دیا جائے تو وہ اپنا
” سیلف کانفیڈنس ” اسی طرح کھوتا ہے آہستہ آہستہ وہ اپنا اعتماد، لوگوں پر سے یقین سب کچھ کھو دیتا ہے اور ان سے خوف کھانے لگتا ہے۔۔ اس میں صرف آپ نہیں کہیں نہ کہیں میری امی بھی شامل ہیں۔ ذہنی دباؤ، ذہنی ٹارچر کی وجہ سے زونی کی دماغ کی رگ دب گئی وہ چاہے بھی تو آٹکے بغیر بول نہیں پاتی۔۔
کیا اس کے ماں باپ نے ایسی دی تھی آپکو؟؟؟؟
ایک سال المیر بھائی ایک کمرے میں ہوتے ہوئے آپ کو محسوس نہیں ہوا کوئی لڑکی گھنٹوں آپ سے بات کرنے کو ترستی ہے آگے سے آپ کی بےرُخی روز اُسے مارتی ہے۔۔
آپ کو کیا چاہیے آپ ڈیسائیڈ کیوں نہیں کرتے؟؟؟ آگر طلاق دینی ہے تو دیدیں آپ کو تو لڑکیاں مل جائیں گئی زونی کے لئے کوئی ڈھونڈ لیں گئے اس جیسا ” ڈس ایبل “
” مایل۔۔۔۔۔۔۔۔ ” وہ اتنی زور سے دھارا کے دونوں ہی کانپ گئیں ارحم جو میٹھی نیند کے مزے لے رہا تھا اس چیخ سے ڈر کر رونے لگا۔۔۔۔
مایل کی آنکھیں بھی لمحوں میں بھیگ اٹھیں۔۔۔۔
جھک کر اس نے سب سے پہلے اپنے روتے بیٹے کو اٹھایا۔۔۔۔
” کس کو ڈیسیبل کہ رہی ہو؟؟؟ بیوی ہے وہ میری اور ہمت کیسے ہوئی میری بیوی کے لئے کسی اور۔۔۔۔۔۔ ” لہجے میں آگ سی تپش تھی وہ سرخ انگارہ ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا مایل کا صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوگیا ایک تو المیر کا وہی دھونس بھرا لہجہ دوسرا ارحم کی چیخیں۔۔۔۔۔۔۔
” چلا کس پر رہے ہیں آپ؟؟؟؟ ہاں؟؟؟ میں وہ مایل نہیں رہی جسکے حکمران آپ بنتے ہیں۔۔ میں مسزز زریق ہوں۔۔ میرے فیصلے میرا شوہر کریگا سمجھے آپ!!! اور میں نے آپ کی بیوی کا نام نہیں جوڑا آپ نے طلاق کا لفظ استعمال کر کے ثابت کردیا آپ کی بیوی آپ کے لئے کیا
” حیثیت ” رکھتی ہے؟؟؟ اور ڈس ایبل آپ نے اسے کیا ہے آپ کے ساتھ جب وہ جُری تھی ایسی نہیں تھی نہ ہکلاتی تھی آپ نے نجانے اسے کس ذہنی اذیت سے نواز کے لوگوں سے بات کرنا تک وہ بھول چکی ہے۔۔ یقین نہیں آتا تو جائیں دنیا کے کسی بھی ڈاکٹر کے پاس جاکر اپنی بیوی کا ” ڈائگنوسس ” (Diagnosis) کروائیں ہر جگہ سے وہی جواب ملیگا جو سُنا تک آپ کو گوارا نہیں ہوگا ” وہ غم و غصّے سے اس سے بھی بلند آواز میں بول رہی تھی۔ زونیشہ کا ذھن ماؤف ہو چکا تھا۔ دونوں کے الفاظ اسے خوف زدہ کر رہے تھے اب المیر یقیناً اسکی جان لے لیگا۔۔۔۔۔
مایل اپنے سیلیپرز پہن کر سائیڈ سے موبائل اٹھا کر ارحم کو لیکر کمرے سے چلی گئی زونیشہ جانتی تھی وہ باہر گیلری میں ارحم کو سُلانے گئی ہوگی ارحم کو گودھ کی عادت تھی ایسے ہی وہ سوتا تھا جب کوئی اسے لیکر چکر کاٹتا تھا۔۔۔۔۔۔
زونیشہ نے دھڑکتے دل کے ساتھ نظریں اوپر کو اٹھائیں تو المیر دروازے کو دیکھ رہا تھا جہاں سے مایل ابھی گئی تھی اسکے آنکھوں میں حیرانگی تھی یا شاید صدمے کی کیفیت میں وہ ابھی تک وہیں جم گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” شادی نہیں کرنی تھی کنوارہ بیٹھا رہتا اس لڑکی کی زندگی کیوں تباہ کی؟؟؟ ” صدیق صاحب کا غصّہ کسی توڑ کم نہیں ہو رہا تھا صالحہ بیٹے کے حق میں کیا کہتیں غلطی ہی اُسی کی تھی بس چُپ بیٹھی رہیں۔۔۔۔
” ایسی نکمی اولادیں ہیں تینوں کی تینوں!!!! میری ہی قسمت پھوٹی تھی جو ایسی اولادیں میری نکلیں ” صالحہ نے خفگی سے انہیں دیکھا۔۔۔۔۔۔
” تو کیا کرتی بانٹ دیتی اپنے بچوں کو ” صالحہ نے نانکلنے والے آنسوں کو بھی زبردستی آنکھوں میں لاکر اپنی مظلومیت ظاہر کی۔۔۔۔۔
” اچھا ہی ہوتا سکون سے تو رہتے ” صدیق صاحب کے جواب نے صالحہ کو آگ لگا دی۔ صالحہ نے بیڈ سے اٹھ کر پنکا تیز کر کے بلینکٹ جو صدیق صاحب نے ٹانگوں پر پھیلایا تھا اپنے اوپر اوڑھا اور لیٹ گئیں جانتی تھیں صدیق صاحب کو بہت ٹھنڈ لگتی ہے۔۔۔۔
” ارے یہ کیا حرکت ہے مجھ سویٹر لاکر دو جانتی بھی ہو ٹھنڈ برداشت نہیں ہوتی ” پنکا تیز ہوا تو سردی ان سے ناقابلِ برداشت ہوئی وہ باقاعدہ کانپنے لگے۔۔۔۔۔
” کسی اور کو بولیں میں بھلا اب اوپر چڑھ کے کیسے نکالوں ” انکا اشارہ کیبینٹ کی طرف تھا جہاں سویٹرز رکھے تھے جو الماری سے آٹیچ اوپر کیبینٹز میں تھا۔۔۔
” شاذ کو بلا لو “
” یاد آگئی نکمی اولادیں؟؟؟ ” صالحہ نے طنزیہ لہجے میں کہا صدیق صاحب تو چُپ ہوگئے پھر صالحہ نے شاز کو بلایا سویٹرز اور ایک موٹا بلینکٹ نکلوایا جسے اپنے اوپر اوڑتے ہی صدیق صاحب کو جیسے سکون محسوس ہوا جو انکے چہرے پر بھی صاف نظر آرہا تھا۔۔۔
” میری اولادوں کا کسی سے مقابلہ نہیں ہے آخر ان کے برابر بھلا ہے کوئی؟؟؟؟ ” صالحہ طنز کرنا بھولی نہیں تھی ان کا پُرسکون چہرہ دیکھ کر وہ طنزیہ انہیں جتا کر خود پُرسکون سی لیٹ گئیں۔۔ جبکے صدیق صاحب بس انہیں گھور کر رہ گئے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرے میں موت سی خاموشی تھی۔ المیر کے اگلے قدم کا انتظار کرتی وہ خوف میں مبتلا تھی۔۔ المیر بالوں میں ہاتھ پھیرتا شاید مایل کے لفظوں پر غور کر رہا تھا یا اندر بھڑکتی آگ کم کر رہا تھا۔ زونیشہ نہ چاہتے ہوئے بھی خود ہی اٹھ کر کھڑی ہوگئی کہیں المیر سے ڈر ڈر کے اسکا دل نہ بند ہوجاے ساری رات کیا وہ اسکے اگلے عمل کا انتظار کریگی؟؟؟؟
وہ اسکے سامنے سے گزر کر اپنے کمرے میں جانے لگی کے المیر نے اسکا ہاتھ سختی سے پکڑ لیا۔۔۔۔
” کیا ہوا ہے تمہیں ہاں؟؟؟ تمہاری خاموشی میرے وجود کو زخمی کرتی ہے تمہیں سمجھ کیوں نہیں آتا مجھ پر چیخو چلائو مگر مجھے اپنے ہونے کا حق تو دو !!!! نہ تمہیں مجھ سے شکایت ہے نہ شکوہ ہے تو میری بیوی بن کر کیوں نہیں رہتیں؟؟؟ اگر شکوہ ہے تو مجھے پر ہاتھ بھی اٹھاؤ اُف تک نہیں کروں گا مگر بولو تو سہی؟؟؟ ” وہ اپنا ہاتھ چھڑواتی تیزی سے اپنے کمرے میں چلی گئی المیر اسکے پیچھے اپنے کمرے میں چلا آیا جہاں وہ اب اسٹڈی ٹیبل پر سر رکھے اپنے دائیں ہاتھ سے ایک پیپر پر کچھ لکھنے لگی تھی جیسے جیسے وہ لکھ رہی تھی اسکی آنکھیں نمکین پانیوں سے بھرتی جا رہیں تھیں پنے پر لکھا لفظ لفظ اسکی دلی کیفیت بیان کر رہا تھا۔۔۔۔
” مجھے اب بولنا اچھا نہیں لگتا!!! مجھے کچھ بھی اچھا نہیں لگتا ہے۔۔۔۔۔ نہ یہ دنیا نہ ہی اس میں رہنے والے لوگ مجھے سب سے دور رہنا پسند ہے۔ اپنی کتابوں کی دنیا میں جہاں ” اچھے لوگ ” پائے جاتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں ناول کی دنیا صرف ایک ” جھوٹ ” ہے جب کے حقیقی دنیا ” سچ “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر سکون ” جھوٹ ” میں کیوں ہے؟؟؟ بےسکونی ” سچ ” میں؟؟ کیوں؟؟ میں اس ” سچی ” دنیا میں اتنے دھوکے کھا چکی ہوں کے اب ” جھوٹی دنیا ” مجھے حسین لگتی ہے جہاں آپ جیسا ” ڈرانے، دھمکانے والا شوہر نہیں،،، جہاں شوہر پتھر نہیں ہوتے، بےحس نہیں ہوتے۔۔ دنیا کے سامنے نہ ” ذلیل ” کرتے ہیں نہ آپ کو سوال بنا کر چھوڑ دیتے۔۔۔۔۔۔ میرا اپنا گھر کوئی نہیں یہاں سے آپ نے تنہا کردیا وہاں سے میرے ” ماں
باپ ” نے امی نے یہ تو سمجھایا شوہر کا گھر ہی میرا اپنا گھر ہے مگر یہ نہیں سمجھایا۔۔۔۔۔۔ جب شوہر ذہنی اذیت دے تو کہاں جاؤں؟؟؟ کس کے آگے رئوں۔۔ نہ یہ بتایا شوہر کیسے خوش ہوگا؟ کیا کروں کٹ پتلی بن کر اپنے آپ کو مار دوں؟؟ میرے دل میں جو دن رات آگ لگی ہے اُسے کیسے بُجھاؤں میرے کانوں میں آج تک لوگوں کے سوال گونجتے ہیں اور میرا شوہر معافی مانگ کر کہتا ہے اگے بڑھوں کیسے بڑھوں؟؟؟ جب دل راضی نہیں؟ اور جب دل کا دکھ چہرے پر اُبھر آتا تب شوہر طلاق کی دھمکی۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!! اور فیصلہ کرو؟؟ تو کیسا فیصلہ کروں؟؟؟؟ بولیں بس آپ کو جواب چاہیے۔۔ یا سمجھوتہ یا تھوڑا سا وقت مگر ایسا وقت جس میں آپ کو میری بےرخی برداشت نہ کرنی پڑی۔۔۔۔۔۔ کیا آپ کو احساس ہے آپ نے میرا کتنا بڑا نقصان کیا ہے؟؟؟؟ میں اب کبھی دنیا والوں کو جواب نہیں دے پاؤں گی کوشش بھی کی تو میرے ٹوٹے لفظوں کا صرف مذاق بنے گا۔۔۔۔۔۔۔
مجھے سکون چاہیے مجھے بہت سارا سونا ہے دنیا کو اس دنیا میں بسے لوگوں کو بھولنا ہے مجھے اب سمجھ آتا ہے ” مومنہ ” کیوں چلی گئی؟؟؟؟ ” المیرکاگز پر لکھی اسکی تحریر پڑھ کے کانپ کر رہ گیا۔ وہ جو اگر غصّہ کرنا چاہ رہا تھا،، معافی مانگنا چاہ رہا تھا، پیشیمان تھا یا غلطیوں کا اقرار کرنے لگا تھا ٹہر سا گیا چلتی دنیا جیسے یکدم آگے بڑھنا بھول گئی۔۔ کاگز پر لکھا ” مومنہ ” کا نام پڑھ کے وہ بھول گیا اسکی ” دنیا ” چلتی کیسے ہے؟؟؟
وہ کیا سوچ رہی تھی؟ اسکے ذھن میں کیا تھا؟؟ اتنا سب ہونے کے بعد بھی وہ جان نہ پایا اور اب بھی وہ وہیں کھڑا ہے مگر اب تک اُسے سمجھ نہ پایا۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” آپ رو رہیں ہیں؟؟؟ ” کمرے سے نکلتے ہی مایل نے زریق کو کال کی جو اسکی آواز سے سمجھ گیا کے وہ رو رہی ہے۔۔۔۔
وہ کچھ نہ بولی مگر زریق کو اسکی مدھم سسکیاں صاف سنائی دی رہیں تھیں۔۔۔۔۔۔
مایل کی آنکھیں تھیں کے بھیگتی چلی جا رہیں تھیں۔۔۔
” ارحم بھی رو رہا ہے۔۔۔ ” ارحم کے رونے کی آواز بھی وہ صاف سن رہا تھا۔۔۔ نجانے کیا ہوا تھا اور مایل کی چُپی۔۔۔
” ک۔۔۔۔۔ کیا کروں چُپ ہی نہیں ہو رہا اچانک نیند میں ڈر گیا۔۔ ” وہ بتاتے خود بھی رو رہی تھی اسکی آنکھیں تھیں کے بار بار جل اٹھتیں۔۔۔۔۔
” بچے کب خواب دیکھتے ہیں مایل؟؟ سب سے پہلے ارحم کا سر اپنے کندھے پر رکھیں اور فون کان کی بائیں جانب رکھیں ” مایل نے اسکی ھدایت کے مطابق جھٹ ایسے کیا ارحم کو اپنے دائیں کندھے پر لٹایا اور فون بائیں جانب سے پکڑا…..
” آپ کہاں ہیں اس وقت؟؟ ” وہ اس سے پوچھ رہا تھا۔۔۔۔
” گیلری کے پاس۔۔۔ “
” گڈ!!!! اب یہاں دس منٹ تک چکر کاٹیں میں فون کاٹ رہا ہوں۔۔۔ ” وہ اسکے فون کاٹنے کا سن کر ہی جیسے بےچین ہوگئی۔۔۔۔
” ز۔۔۔۔ ” وہ تیزی سے بولی کہیں فون نہ کٹ جائے۔۔
” میں دوبارہ کال کرونگا ارحم سو جائے پھر آرام سے بات کریں گئے اور فون ابھی سائیلینٹ پر رکھیں۔۔۔۔” کہ کر زریق نے فون کاٹ دی۔۔۔۔
مایل سست روئی سے چلتی ارحم کی پیٹ تھپک کر اسے سلانے کی کوشش کرنے لگی۔ اسے غصّہ آرہا تھا زریق کو اسکی پروا نہیں؟ اس نے فون کیسے کاٹ دیا ارحم کی پروا ہے اسکی نہیں۔۔۔۔۔۔
بےچینی تھی کے بڑھتی چلی جا رہی رہی۔ اور غصّہ تھا کے جیسے لاوے کی طرح پھٹ پڑھنے کو تیار تھا۔ اسکے قدم اب تیز ہوگئے وہ چاہتی تھی ارحم جلد سو جائے اسی چکر میں ٹانگیں چلتے چلتے شل ھوگئیں مگر وہ نہیں سویا اسکی مدھم سسکیاں ابھی تک جاری تھیں رونا بند ہوا تو اب ہچکیاں لینے لگا مایل تنگ آگئی تھی دونوں بازوں سے اسے سامنے کرتے وہ چیخی۔۔
” سو کیوں نہیں رہے؟ کیوں میری زندگی حرام کی ہے؟؟ ہاں رو رو کر میرے کان کے پردے پھاڑ دیے۔۔۔۔ ” مایل نے کھینچ کر ایک تھپڑ اسکے سرخ گالوں پر جڑا۔۔۔۔۔۔ وہ جو سسکیاں لے رہا تھا مزید بلند آواز میں رونے لگا آریز جو ابھی گھر لوٹا تھا سیڑیوں سے اوپر آتے ہی وہ اپنے کمرے کی طرف جانے لگا تھا مگر مایل کی یہ حرکت دیکھ کر رُک گیا اس کے چہرے پر غصہ صاف نظر آرہا تھا کہ مایل کی یہ حرکت اسے بالکل پسند نہیں آئی۔۔۔
” دماغ ٹھیک ہے تمہارا؟؟؟ کس کا غصہ کس پر اتاڑ رہی ہو کوئی اتنے چھوٹے بچے کو مارتا بھی ہے؟؟؟ ظالم ماں بن گئی ہو بالکل۔۔۔۔ ” آریز نے پل بھر کی بھی دیر کیے بغیر روتے بلکتے ارحم کو مایل سے لیا وہ اسے چُپ کرانے کی کوشش کرنے لگا کبھی اسے لیکر ٹہلنے لگتا تو کبھی جُھلاتا وہ چُپ نہ ہوا تو آریز نے مایل سے پوچھا۔۔۔
” ارحم کا فیڈر کہاں ہے؟؟۔۔۔ “
” کمرے میں۔۔ ” وہ شرمندہ بھی تھی اور دُکھی بھی اس وقت غصّہ صرف زریق پر تھا اور پتا نہیں کیوں تھا؟؟ اس غصّے میں سوچا ہی نہیں کے وہ بھوک کی وجہ سے نہیں سو رہا ہوگا۔۔۔۔
” ارحم گرم دودھ پیتا ہے ” آریز کو اپنے کمرے میں جاتا دیکھ وہ شرمندہ سی بولی آریز ارحم کا فیڈر مایل کے کمرے سے لیتے ہی نیچے کچن میں چلا گیا۔۔
فیڈر کو مائیکرو ویو میں ڈال کر دودھ گرم کیا۔۔۔۔۔
اور ارحم کو لیکر اپنے کمرے میں چلا گیا مایل جب کے اپنے کمرے میں آتے ہی بیڈ پر اوندھے منہ لیٹ گئی دس منٹ بعد زریق کی کال آئی تو اس نے کال کاٹ دی لیکن وہ مسلسل کال کرتا رہا رُکا نہیں مایل کو اس وقت شدید غصّہ آرہا تھا زریق کو سنانے کے لئے آخر اس نے فون اٹھا لیا۔۔۔۔
” مایل ارحم کیا سویا نہیں آپ فون کاٹ رہیں تھیں “
” کیوں کے جسکی آپ کو پروا ہے میرے پاس نہیں آریز بھائی کے پاس ہے اس سے پوچھیں مجھ سے نہیں ” وہ کاٹنے لگی تھی کے زریق جھٹ سے بولا۔۔۔
” کام ڈاؤن۔۔ “
” میری پروا نہیں۔۔۔۔میرا نہیں سوچتے ” وہ غم و غصّے سے بولی۔۔
” آپ ہی کو تو سوچتا ہوں ” وہ اسے پُر سکون کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔
” نہیں جھوٹ میں رو رہی تھی آپ نے کال کاٹ دی ” وہ کسی بچے کی طرح اس سے شکوے کر رہی تھی جس کی لسٹ زریق کو لمبی لگی۔۔۔
” آپ پہلے ارحم آریز کو دیتیں میں آپ سے گھنٹوں بات کرتا۔ اُس وقت بس چاہتا تھا ہم دونوں کے بیچ کوئی نہ ہو اور ارحم سو جاتا تو آرام سے بات کر لیتے اور مایل وہ بچہ ہے ہمارا بچہ ہے وہ رو رہا تھا آپ کو اُس کا رونا بےسکون نہیں کرتا؟؟؟ ” زریق کی بات سن کر وہ شرمندہ ہوگئی۔۔۔۔۔المیر کی وجہ سے وہ اپنوں پر غصّہ کر بیٹھی۔۔۔۔
” کرتا ہے پر وہ چُپ نہیں ہو رہا تھا۔۔۔ ” وہ اپنی بےبسی بیان کر رہی تھی۔۔
” اچھا پریشان نہ ہوں!!! اب شاید آریز کے پاس چُپ ہو گیا ہو آپ خود پریشان تھیں شاید اُس پر توجہ نہیں دے رہی تھیں تبھی وہ مسلسل رو رہا تھا آپ کی توجہ چاہتا تھا اب ظاہر ہے آریز سے وہ توجہ ملی ہوگی تو وہ سکون سے سو رہا ہوگا۔۔۔۔” زریق کی باتوں سے نجانے کیوں نیند اسکی آنکھوں پر سوار ہو رہی تھی اسے زریق سے باتیں کرنا اچھا لگ رہا تھا۔۔۔
” اب آب مجھے یہ بتائیں رو کیوں رہی تھیں؟؟ کیا کسی نے کچھ کہا تھا “
” ہاں۔۔۔ ” وہ بستر پر سیدھی ہوکر لیٹ گئی اور آنکھیں بند کرلیں۔۔۔۔۔
” کیا کہا؟؟؟ “
” فضول میں مجھ۔۔۔۔۔ پر غصہ کیا غلطی خود کی تھی ” اسکی آواز بھاری ہوگئی۔۔۔۔ پلکیں بار بار خود آنکھوں پر سایہ فگن ہوجاتیں۔۔۔
” کیوں؟؟ “
” میں نے رائے دی،، سمجھایا۔۔۔۔۔ اور آئینہ دیکھایا۔۔۔ ” زریق کو اسکی آواز سے لگ رہا تھا اسے نیند آرہی ہے شاید آج کی شوپنگ کی وجہ سے تھکاوٹ تھی۔۔۔
” انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنی غلطی اتنی اسانی سے نہیں مانتا جب تک کہ ہر طرف سے اسے تسلی نہ ہو کہ غلطی اسی کی طرف سے ہوئی ہے۔۔۔۔ جب اُسے احساس ہوگا وہ خود آپ سے معافی مانگ لے گا۔۔۔۔ اور دوسری بات کیا وہ اتنا اہم ہے کہ آپ اُسے اتنا سوچ کر پریشان ہو رہی ہیں؟؟؟؟ خود بھی پریشان ہو رہی ہیں ارحم کو بھی کیا اور مجھے ایک بات بتائیں آپ کسی کے معاملے میں نہیں پڑیں گی اگرچہ یہ شاپنگ سے ریلیٹڈ ہے یا شادی سے جو بھی آپ چھوڑ دیں ان کے حال پر۔۔۔ ہماری رائے ضروری نہیں،،،،، ہر کسی کے لیے میٹر نہیں کرتی ہے آپ رائے دینا چاہتیں ہیں صرف مجھے دیا کریں میں سنوں گا بھی عمل بھی کروں گا باقی دنیا کو چھوڑ دیں۔۔۔
آپ یہ سوچیں آپ کی سننے کے لیے آپ کا غصہ جیلنے کے لیے اس دنیا میں آپکا شوہر آپکا ” زریق ” موجود ہے تو پھر آپ یہ اپنی عزیز چیزیں کسی اور کو کیوں دے رہی ہیں؟؟؟ آپ مجھ پہ غصہ کریں مجھے ڈانٹا کریں مجھے جتایا کریں مجھ پر حکم چلائیں میں اف تک نہیں کروں گا مگر خود کو پریشان نہ کریں۔۔۔۔۔۔ ” زریق کی باتیں اس کے دل میں اتڑ رہی تھیں وہ اسے بہت کچھ کہنا چاہ رہی تھی اس کا دل چاہ رہا تھا وہ پوری رات اس سے باتیں کریں مگر وہ بول رہا تھا اور یہاں مایل نیند کی وادیوں میں اتڑ گئی۔۔۔۔
جاری ہے