Wo Ajnabi by Yusra readelle50025 Episode 36
Rate this Novel
Episode 36
” اچھا ہے بھائی کی شادی کی تاریخ کل فکس ہوگی ورنہ انکی گھوریوں سے بیچاری عزاہ بھابی تنگ ہیں۔۔ ” شاز نے آج کا واقعہ یاد کرتے آریز کو چھیڑا۔۔۔۔
اِس وقت وہاں گھر کی خواتین اور ینگ پارٹی تھی صدیق صحاب اور حیدر مرتضیٰ تو اپنے کمروں میں چلے گئے تھے۔۔۔
” میں اُسے کہاں گھورتا ہوں؟؟ ” وہ سب کے سامنے اس بات پر چیخ ہی تو اٹھا تھا شاز کو ذرا شرم نہیں آرہی تھی وہ اسی کی ماں کے سامنے کیا باتیں لے کے بیٹھا تھا؟؟؟؟؟
” اچھا یہ بتائیں آج انہوں نے کون سے کلر کے کپڑے پہنے تھے؟؟؟ ” اب کے صالحہ شگفتہ اور نجمہ تینوں آریز کی طرف متوجہ تھیں۔۔۔
” بلیک اتنا تو ہر کوئی نوٹس کرتا ہے۔۔۔۔ ” وہ اس کی عقل پر ماتم کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔
” نہیں ہر کوئی نہیں کرتا!!!! المیر بھائی آپ بتائیں بھابی نے آج کون سے کلر کا ڈریس پہنا ہے۔۔۔ ” شاز کی زبان کو کہاں بریک لگنی تھی المیر جو انکی نوک جھوک انجوائے کر رہا تھا خود کے مخاطب کیے جانے پر الرٹ ہوا۔۔۔۔۔
جبکے زونیشہ بھی یکدم گھبرا گئی اسکا بھلا یہاں کیا ذکر؟؟؟؟
المیر سوچ رہا تھا جواب کیا دے؟؟؟؟دونوں ہاتھوں کو آپس میں مسلے وہ جھک کر اس انداز میں بیٹھا تھا کے زونیشہ کو دیکھ نہ پائے ورنہ وہ سب اسے چیٹنگ ہی کہتے۔۔۔۔۔۔
” جامنی اور سفید کومبینیشن میں پلازو شرٹ بھی اسی کومبینیشن میں ہے.. سیم پرنٹ ہے بس دوپٹے کی بارڈرز پر جامنی گلاب بنے ہیں۔۔۔ جو ڈریس میں کہیں نہیں۔۔۔۔۔ اسی کلر کی میچنگ آرٹیفیشل ایرینگز پہنی ہیں،، ہاتھوں میں ہر وقت وہی سونے کی چار چوریاں پہنی ہوئی ہیں اور دائیں ہاتھ کی تیسری انگلی میں دو انگوٹھیاں۔۔۔ ہر آنکھ کو یہی لگتا ہے وہ ایک انگھوٹی ہے مگر زونیشہ خود دو ملا کر ایک کر کے پہنتی ہے شروع سے!!!!! ” وہاں بیٹھے سب نقوش حیرانگی سے المیر اور تحقیق کرنے کے لئے زونیشہ کو دیکھنے لگے جبکہ زونیشہ جی بھر کر شرمندہ ہوئی مایل بھی حیران تھی اور سوچ رہی تھی کیا زریق بھی اسے اتنا نوٹ کرتا ہے۔۔۔۔
” اور رہ گئے جوتے اسکا حال بھی سنا دیں ” شاذ نے تو ایسے ہی تُقا لگایا تھا مگر المیر نے اسے سیریس لے لیا۔۔۔۔۔
” زونیشہ نے ہیلز پہنی تھیں جو رات میں اس نے باہر نکال کر رکھی تھی مگر پیڑ کی انگلی نجانے کیسے زخمی ہوگئی اور اسی وجہ سے اِس وقت وہ میرے سیلیپرز پہنے ہوۓ ہے ۔۔۔ ” سب کی نظریں بےاختیار زونیشہ کے پیڑ پر گئیں اور اسے المیر کے گھر کے سیلیپرز میں دیکھ سب کی ہی ہنسی چھوٹ رہی تھی۔۔۔۔
” بس یا اور کچھ؟؟؟ ” وہ انہیں حیران چھوڑ کر مسکرایا۔۔۔۔ اب کے اس نے اپنی بیوی کو دیکھا جو شرمندگی کے مارے سر تک نہیں اٹھا رہی تھی۔۔۔۔۔۔
” اچھا ہے کوئی تو گھر میں ایسا مرد ہے جو کام کو چھوڑ کر بیوی کو سوچتا ہے ورنہ ہماری تو ساری زندگی بس جی حضوری میں گزر گئی۔۔۔۔۔ ” صالحہ نے حسبِ توقع بیٹے کا دِفاع کیا۔۔۔
” سچ کہ رہی ہیں اور ساس کی غلامی بھی ” یہ فقرہ نجمہ کی طرف سے تھا بےاختیار صالحہ اور شگفتہ نے نجمہ کو دیکھا انکی ساس بُری ہر گز نہ تھیں بس نجمہ سے انکی بنتی نہیں تھی سب جانتے تھے اور وہی گھر کی ایک ایسی خاتون تھیں جو نجمہ کو منہ پر بےعزت کرتی تھیں ورنہ نجمہ کے اندر سے واقف ہونے کے باوجود سب کہیں نہ کہیں اس سے ایک فاصلہ رکھے ہوئے ہیں کوئی نہ اسے مشورہ دیتا ہے نہ زندگی کے گزرے خوفناک لمحوں کا حساب مانگتا ہے۔۔۔۔۔۔
سب کی خاموشی نجمہ کو محسوس ہوئی اس نے مزید کچھ نہ کہا۔۔۔۔
” مایل تم یہیں کچھ دن رہ لو تمہارا بیٹا آج تو میں لوٹانے والا نہیں ” آریز کی بات پر مایل نے اسے گھورا۔۔
” میں دو دن تک یہی ہوں میرے شوہر اسلام آباد گئے ہیں اس لیے میں اب آپ سب کا سر کھاتی رہوں گی۔۔” وہ پھیل کر بیٹھ گئی آریز مسکرا اٹھا شکر تھا نجمہ کی بات سے جو ایک خاموشی چھائی تھی ٹوٹ گئی.۔۔۔۔
” گریٹ!!! پھر تو آریز بھائی کی شادی پکی ہے مایل تو منٹوں میں شوپنگ کرتی ہے اور کرواتی ہے روز جانا آپ لوگ ” یہ تجویز شاذ کی طرف سے تھی اور واقعی سب کو خوشی ہوئی تھی کہ مایل دو تین دن یہیں رہے گی سب سے زیادہ خوشی المیر کو ہوئی تھی کیونکہ اب اس کا ارادہ تھا وہ زونیشہ کو لے کے اس کی پسندیدہ ناولز اسے دلا دے۔۔۔۔۔
” پھر تم لوگ شاپنگ کرنے جاؤ زونیشہ کو نہیں لے جانا مجھے ایک کام ہے اسے سلسلے میں زونیشہ کو لے جاؤں گا۔۔ ” مایل کچھ کہتے کہتے رُک گئی وہ جانتی تھی زونی کا دل ہوگا اسکے ساتھ چلے مگر وہ کباب میں ہڈی نہیں بن سکتی کہیں اسکا ٹوکنا یا روکنا المیر کو بُرا نہ لگے۔۔
انکی باتوں سے شگفتہ کو ہی ٹائم کا اندازہ ہوا تو وہ مایل سے بولی۔۔۔
” مایل ارحم کو لیکر چلو گی نہ؟؟ پانچ تو بج گئے ہیں نکلتے ہیں پھر دیر نہ ہوجائے۔۔۔۔۔ ” شگفتہ کے کہنے پر مایل نے اثبات میں سر ہلایا وہ اوپر اپنے کمرے سے اپنا بیگ لینے چلی گئی شگفتہ بھی اپنا بیگ لینے نیچے کچن کے پاس بنے اپنے کمرے میں چلی گئی رہ گیا آریز وہ آبی اور ارحم کو لیکر کار میں انکا انتظار کرنے لگا۔۔۔۔۔
جبکہ شاز ان کے جانے کی تیاری دیکھ کر خود گھر سے نکل گیا وہ اس وقت اپنے دوست کے گھر جا رہا تھا جہاں آج ان کی گیٹ ٹوگیدر تھی۔۔۔
یونی ختم ہونے کے بعد آج وہ ملنے والے تھے۔۔۔
مایل اور شگفتہ جیسے ہی کار میں آبیٹھیں تو آریز نے کار اسٹارٹ کردی اسکی منزل عزاہ رحمان کی طرف تھی۔۔۔۔
———————————— ” اب بتاؤ کیا کیا لینا ہے۔۔۔۔ ” المیر اسے اپنے ساتھ لے آیا تھا۔ سب شاپنگ کرنے گئے تھے اور وہ دو واحد تھے جو اس وقت بوک اسٹور کے آگے گاڑھی روک کر کار میں بیٹھے تھے کیوں کے المیر کو زونیشہ کی پسندیدہ کتابیں لینی تھیں۔۔۔ ” ک۔۔۔۔۔۔ کچھ۔۔۔ نہیں۔۔۔ ” اسے غصّہ تھا کے المیر نے اسے مایل کے ساتھ جانے کیوں نہیں دیا۔ ہاں زونیشہ نے المیر سے کہا تھا کے وہ رات میں جائے گی کیوں کے مایل یہاں ہے مگر مایل نے اسے بتا دیا وہ دو تین دن یہاں ہے جب المیر کو یہ بات پتا لگی اسنے زونی کو انکے ساتھ جانے سے منع کیا اور اسے اپنے ساتھ لے آیا کے کسی اور دن اُن کے ساتھ چلی جائے گی۔۔۔ اسکا جواب سن کر المیر نے کار اسٹارٹ کردی۔ اسکی رگیں تن گئیں۔ آنکھوں کی سرخی اس حد تک بڑھ گئی کے اب زونیشہ کو اس سے خوف محسوس ہو رہا تھا۔ وہ بےدردی سے کار روڈ کے بجائے سڑک پر چلا رہا تھا شاید اسلئے کے جلدی پہنچ سگیں مگر سڑک ایسی تھی کے زونیشہ کو ہر قدم پر جھٹکے لگ رہے تھے وہ پتا نہیں جان کر کر رہا تھا یا زونیشہ کا وجود اسے نہ پسند تھا کے گھر پہنچنے کی جلدی تھی بس۔۔۔ اسکا ظالمانہ انداز دیکھ وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپائے رو پڑی تو اگلے ہی لمحے وہ دھارا۔۔۔۔۔۔۔۔ ” اسٹاپ اٹ زہر لگتے ہیں مجھے تمہارے یہ آنسوں۔۔۔۔۔ ” وہ اسکی دھار سے سیٹ سے چپک گئی۔دوپٹا سختی سے پکڑے اس نے ہونٹوں پر اسے جما لیا تاکے اسکی سسکیوں کی آواز وہ نہ سن سگے۔۔۔۔۔۔ المیر نے اسپیڈ مزید بڑھا دی اور لمحوں میں وہ اپنے بنگلے کے گیٹ کے آگے تھا۔۔۔ ” اتڑووو۔۔۔۔۔ ” وہی سختی۔۔ وہی روح فنا کرنے والی آواز تھی۔ وہ اسکے قدم سے لرز اٹھی۔۔۔ اندر جاکر نجمہ اور باقی سب کو کیا جواب دیگی شاز آبی حیدر مرتضیٰ اور صدیق صاحب تو گھر پر تھے۔۔۔۔۔ ” آئوٹ سنا نہیں۔۔۔ ” وہ اسے خون آشنا نظروں سے دیکھ کر ایک بار پھر دھارا زونیشہ کانپتی ہوئی کار کا دروازہ کھولنے کی کوشش کرنے لگی المیر کی برداشت جواب دے رہی تھی اس نے خود ہی ریموٹ سے کار ان لاک کی اور جھک کر اسکی سائیڈ کا دروازہ کھولا تاکے اسے بتا سگے وہ اسے دیکھنا تک گوارا نہیں کر سکتا زونیشہ دروازہ کُھلتے ہی وہاں سے بھاگی۔۔۔۔۔ ———————————— وہ ڈرائیونگ کرتے بیگ یو مرر سے اسے دیکھ رہا تھا جو مجرموں کی طرح پیچھے بیٹھی تھی ایک پل کو اس نے نظر اٹھا کر آریز کو نہیں دیکھا۔۔۔۔ شگفتہ آگے آریز کے ساتھ بیٹھی تھی انکی گودھ میں ارحم تھا اور پیچھے مایل اور عزاہ۔۔۔ ” عزاہ تم شادی کے بعد جاب کنٹینیو رکھو گی۔۔ ” مایل نے ایسے ہی بات کا آغاز کرنے کے لئے موضوع چھیڑا۔۔۔۔ آج شاز نے اسے بتایا تھا عزاہ کو انہوں نے ہائر کیا ہے۔۔۔۔ ” اگر انکی اجازت ہو تو۔۔۔۔ ” آریز جو ڈرائیو کر رہا تھا یکدم سامنے آتی کار سے ٹکراتے ٹکراتے بچا۔۔۔۔ مایل عزاہ نے خود کو سنبھالا شگفتہ نے دل پکڑ لیا۔۔۔۔ ” اللّه خیر۔۔ آریز دیکھ کر چلاؤ۔۔۔۔ ” شگفتہ کی پریشان آواز اُبھری۔ وہ آریز پر کچھ پڑھ کے پھونک رہیں تھیں۔ کار جس سے ٹکرانے والی تھی وہ آریز کو ایک گالی بگتا نکل گیا غلطی آریز کی تھی وہ ایک پل کو ” شاک ” میں چلا گیا۔ وجہ ” عزاہ رحمان ” تھی ایک تو اُسکا ” آپ ” اور دوسرا ” اجازت ” وہ ایک سے نہ سنبھلا تھا عزاہ نے مزید عزت دیکھ کر اسکے ہواس منجمد کردیے اور اسی بےخبری میں وہ کنٹرول چھوڑ گیا جس سے کار دوسری کار سے ٹکراتے بچی۔۔۔۔۔ ” امی سب ٹھیک ہے پریشان نہ ہوں ” آریز نے انھیں تسلی دی ایک پل کو بیک ویو مرر سے اسے دیکھا تو وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی چہرے پر سے پریشانی صاف ظاہر تھی آریز نے نظریں ہٹا کر اب کے سارا دیہان ڈرائیوینگ پر رکھا۔۔۔۔۔ جلد ہی وہ لوگ طارق روڈ پہنچ گئے شگفتہ نے سنا تھا یہاں برائیڈل ڈریسسز کا کلیکشن بہت ہے۔۔۔ اسلئے وہ لوگ یہاں آئے تھے۔۔۔۔۔ ارحم آریز کے پاس تھا جب کے وہ تینوں عزاہ کے لئے کچھ لان کے سوٹ لے رہیں تھیں اور کچھ ہیوی ڈریسسز شادی کا ڈریس انہوں نے سوچ لیا تھا کل آکر لیں گی کیوں کے آج مارکیٹ میں رش بہت تھا۔۔۔ تقریباً چھ بجے کی گئیں وہ نو بجے لوٹیں تو آریز نے شکر کا سانس لیا کیوں کے اسے اُمید نہیں تھی کہ وہ آج لوٹیں گی اتنی دیر کے بعد تو اس نے آسرا ہی چھوڑ دیا تھا جبکہ ارحم اب تھک ہار کر اس کی گود میں سوچکا تھا۔۔۔۔۔۔۔ عزاہ کو چھوڑ کر جب وہ سب گھر لوٹے تو شگفتہ تو نجمہ اور صالحہ کو عزاہ کے لیے خریدے گئیں کچھ ڈریسز دکھانے لگیں جبکہ مایل ارحم کو لیکر اپنے کمرے میں چلی گئی اسے زریق کو کال کرنی تھی۔ اور آریز حیدر مرتضیٰ سے بات کرنے کے غرض سے ان کے کمرے میں چلا آیا۔۔۔۔ ————————-***———-
” ابو مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔۔ ” حیدر مرتضیٰ حسبِ توقع رات کے اس پہر ایک کتاب کا مطالع کر رہے تھے کے آریز آکر انکے سامنے رکھی اس راکینگ چئیر پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
” بولو کیا بات کرنی ہے۔۔۔ ” انہوں نے کتاب فولڈ کر کے ٹیبل پر رکھ دی۔۔۔ “
” ابو۔۔۔۔ ” وہ ہچکچا رہا تھا۔۔۔
” بولو بھی۔۔۔ ” انہوں نے اسے ہچکچاتے دیکھ ٹوکا۔۔۔۔۔
وہ ہاتھوں کو آپس میں مسلے لفظ تراش رہا تھا۔ حیدر مرتضیٰ غور سے بیٹے کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔
” ابو وہ۔۔ سمجھ نہیں آرہا کیسے کہوں؟؟؟ عزاہ گھر کی بڑی بیٹی ہے پہلے وہ بہت مختلف تھی لائف انجوائے کرتی تھی مگر باپ کی موت نے اسے بےحد سنجیدہ بنا دیا۔ وہ بہت خوددار ہے کسی کی پائی تک اپنے اوپر نہیں رکھتی ایک دو دفع۔۔۔۔۔۔” آریز نے تھوک نغلا کیسے بولے
” آپ ” کے دیے پیسوں سے ” اُسکے ” بلز بھرتا تھا۔۔۔۔۔۔۔
” سن رہا ہوں۔۔۔ کچھ کیا ہے تو بتا دو دنیا میں منہ دیدو آخرت میں بچت ہوگی۔۔۔ ” حیدر مرتضیٰ کے طنز سے وہ شرمندہ کیا ہوتا بس خود کی جان بچانے کو اس نے سچ کہ دیا۔۔۔
” میں نے اسکے گھر کے بلز پئے کیے۔۔۔۔۔ ” کہتے ساتھ آریز نے حیدر مرتضیٰ کا چہرہ دیکھا جو اس کی بات سے چونک اٹھے تھے ان کے چہرے پر بھی بے یقینی تھی۔۔۔۔
” اُس نے مجھے اگلے دن پیسے واپس دے دیے۔ ” اگلا جملا آریز نے فوراً بولا کہ کہیں حیدر مرتضی نہ اپنی کاروائی شروع کریں۔۔۔۔
ان کے چہرے کی سنجیدگی دیکھ کر آریز نے مزید کہنا شروع کیا۔ انہیں جھٹکا بیٹے کے پیسے دینے پر نہیں ہوا تھا بلکہ اس بات پر ہوا تھا کہ ان کا بیٹا کس قدر آگے نکل چکا تھا انہیں کبھی توقع نہیں تھی کہ آریز ان کا فرمانبردار بیٹا کسی لڑکی کے چکر میں اس طرح پاگل ہو جائے گا۔۔۔۔
” وہ گھر کا بیٹا بنا چاہتی تھی ماں باپ پر بوجھ نہیں۔ ہمارے کمپنی میں آنے سے پہلے اس نے کافی جگہ جاب کی ہے ایکسپیرینس بھی ہے مگر وہی بات انجینئرنگ کی فیلڈ میں لڑکیوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے ایک آفس میں پچاس لڑکے ہیں تو لڑکیاں آٹھ ہونگی یا سات اس سے زیادہ نہیں۔ مگر یہاں ہمارے آفس میں آپ جانتے ہیں ماحول کیسا ہے لڑکے لڑکیاں آرام سے کام کرتے ہیں لڑکیوں کی تعداد کم بھی ہے تو کبھی کوئی شکایت نہیں ملی کیوں کے مینیجنگ سہی ہے اور مینیجر خود لڑکی ہے۔۔ خیر میں چاہتا ہوں عزاہ کا اپنا ایک الگ کیبن ہو وہ نہیں مانتی تو آپ پلیز اس سے بات کریں اور سب سے بڑی بات اجازت دیں اسے جاب کرنے کی شادی کے بعد بھی پر آپ کی بہو بن کر ایمپلوے نہیں۔۔۔۔۔ “
” تمہاری طرف سے اجازت ہے؟؟؟ ” انہیں جیسے تفصیل سے فرق ہی نہیں تھا۔ بس بیٹے کی رائے جانا چاہتے تھے۔۔
” جی مجھے کوئی مسلا نہیں “
” مینیج کرلو گئے؟؟ کل کو بچے ہونگے پھر؟؟؟ “
” ابو سب ہوجاے گا عزاہ اپنی ماں کو خرچ کبھی میرے پیسوں سے نہیں بھیجے گی میں جانتا ہوں وہ بہت مختلف ہے پیسوں کی جتنی تنگی ہو لالچ اس میں
نہیں “انھیں جیسے بہو کی خودداری پر فخر سا محسوس ہوا وہ ” خاندانی ” لڑکی تھی۔۔۔۔۔
” تمہاری باتوں میں صرف عزاہ ہے تم کہاں ہو؟؟؟ تمہیں بھی تو حق ہے زندگی جینے کا۔۔۔۔ ” وہ تفصیل صرف اسی لئے چاہ رہے تھے تاکے آگے اس بات کو لیکر گھر میں کسی قسم کا کوئی جھگرا نہ ہو نہ ہی آریز اپنے لفظوں سے بدلے کچھ فیصلے انسان جذبات میں آکر کر تو لیتا ہے مگر پھر نبھاتا مشکل سے ہے۔۔۔
” ابو جی تو رہا ہوں!!! ایک لڑکی اپنا سب کچھ چھوڑ کر شوہر کے آسرے آتی۔۔۔ صرف ایک مضبوط سہارا اور عزت کی زندگی چاہیے ہوتی ہے اُسے۔۔ جب کے وہ کتنا کچھ سہتی ہے شوہر کا دھوپ چھائوں جیسا رویہ،، ساس، سسر کی باتیں، دیور نندوں کی زیمیداریاں عورت پورا ایک گھر چلاتی ہے جب کے مرد صرف گھر کے اخراجات ورنہ آپ خود دیکھیں گھر ہم صرف مہمانوں کی طرح کھانا کھانے آتے ہیں آپ کے رشتے داروں سے نبھائی میری امی نے ہے نہ؟؟؟؟ آپ گھر کی ” الف ” ” ب ” سے واقف نہیں ہونگے جب کے امی آپکے رشتےداروں انکی ساتھ نسلوں سے نپٹ کر بھی گھرداری سنبھالتی ہے۔ ہم سب کو سنبھالا ہے امی نے یقیناً وہ بھی جاب کرتیں تو پہلی پرائیوریٹی انکا اپنا گھر ہوتا ہے۔۔۔ اسی طرح عزاہ ہے۔
اور میں عزاہ کو جانتا ہوں وہ اپنی زمیداری کے ساتھ خود سے جڑے رشتوں کی زمیداری بھی اٹھانا جانتی ہے۔۔۔۔ ” وہ بہت نرمی سے انہیں سمجھا رہا تھا الفاظ تھوڑے بہت تلخ اگر تھے بھی تو انداز ایسا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کی ہر بات سکون سے سن رہے تھے۔۔۔۔۔
” ہم سہی کہ رہے ہو اور شکر ہے بہو ہمیں عقل مند ملی ہے تمہارے طرح باپ کے پیسے نہیں لوٹاتی۔۔۔۔ ” آخر میں وہ اسے یاد دلا رہے تھے کہ یہ بات انہیں ساری زندگی اب یاد رہے گی اور آریز بس سر کھجاتا رہ گیا ۔۔۔۔۔۔۔
” اور رہی بات عزاہ کی کل میں اسے خود ہینڈل کروں
گا ” انہوں نے جیسے آریز کی ہر مشکل آسان کر دی بے اختیار آریز کا دل چاہا اپنے باپ کی گال چوم لے۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
