66.2K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 35

” آپ یہاں جب تک چاہیں رہ سکتی ہیں!!! میری وجہ سے پریشان نہ ہوں میں حاوز کے پاس نہیں جا رہا۔۔۔ ” وہ اس سے ملنے کچن میں جا رہا تھا مگر مایل راستے میں ہی اسے مل گئی۔۔۔۔
” بھلے ایک ہفتہ؟؟ ” دل سے وہ خوش ہوئی تھی یہ بات سن کر کے وہ حاوز کے پاس نہیں جائے گا۔۔۔۔۔۔ مگر آخر میں وہ معصوم چہرہ بنا کر بولی۔۔۔۔
” اصل میں اگلے ہفتے اسلام آباد جانا ہے تو میں سوچ رہا تھا آپ یہاں ہیں تو آج ہی نکل جاتا ہوں وہاں تین دن کا اسٹے ہے آپ یہاں کا کام نپٹائیں میں وہاں کا ” وہ سنجیدگی سے بولا۔ مایل نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
” اجازت ہے؟؟ اپنے بیٹے سے گلے مل لوں۔۔۔ ” زریق نے ہاتھ بڑھا کر اپنے بیٹے کو مایل کے بازؤں سے لیا جو شاید رویا تھا جسکا اندازہ زیق کو اسکی نم پلکیں دیکھ کر ہوا۔۔۔
بیٹے کو خود میں بھینچے زریق نے اسے گلے لگایا۔ وہ نہ سہی اسکا بچا تو باپ کے لمس کو محسوس کرے۔۔۔۔
” آپ نے پوچھا تھا آپ کیسے لگتے ہیں؟ میں نے کہا تھا حسین زندگی!!! ممی کہتی ہیں ارحم کی آنکھیں بلکل آپ جیسی ہیں۔۔۔ اور۔۔۔۔ ” وہ شرارتاً کہتی خاموش ہوگی زریق کو لمحہ لگا تھا سمجھنے میں وہ سر جھکا کر مسکرایا۔۔۔۔۔
یعنی زریق کی آنکھوں سے محبت کا اظہار وہ ” ارحم ” کے ذریعے کر رہی تھی۔۔۔۔
مایل یک ٹک اسے دیکھے گئی وہ مسکراتا ہوا بےانتہا پُرکشش لگ رہا تھا بہت کم ہی ایسے وہ کھل کر مسکراتا تھا۔ وہ اتنی محو ہوکر اسے دیکھ رہی تھی کے آس پاس کا خیال ہی نہیں تھا اسے۔۔۔۔
نجمہ کچن میں جا رہی تھی کے راستے میں ان دونوں کو دیکھ کر ٹھٹھک کر رُک گئی۔ ارحم زریق کی ہلکی داڑھی کے بال کھینچ رہا تھا اور لگ رہا تھا یہ زریق کو محسوس ہی نہیں ہو رہا نہ چہرے پر شکن تھی نہ ہی وہ اسے روک رہا تھا۔۔۔۔۔
پہلے وہ مایل کو دیکھ رہا تھا مگر پھر ارحم پر دیہان گیا تو مایل کو ارحم کے بازؤں میں تھما کر بولا۔۔۔
” خدا حافظ اپنا خیال رکھیے گا اور ارحم کا بھی۔۔ میں جلد واپس آؤں گا ” اسکی آنکھیں مسکرا رہیں تھیں مایل اب بھی اسی کے سحر میں جکڑی ہوئی تھی پھر وہ چلا گیا مایل کے دل سے بےساختہ اسکی سلامتی کی دعا نکلی۔۔۔۔۔
” مایل ابھی زریق گرم چائے پی گیا کیا اسے عادت ہے ایسے چائے پینے کی؟؟؟ ” نجمہ کی بات پر وہ چونک اٹھی۔۔
” جی امی انھیں ٹھنڈا کھانا اور ٹھنڈی چائے نہیں پسند گرم پیتے ہیں۔۔۔ ” وہ کہ کر اپنے کمرے میں چلی گئی اپنا موبائل لینے تاکے آریز کو اپنی آمد کا بتا کر اسے جلدی آنے کا کہے۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” آپ کا نام؟؟؟ ” وہ اسکے کیبن میں موجود اسکے سامنے رکھی ہوئی چئیر پر بیٹھی تھی اور وہ اسی کی فائل لئیے بیٹھا تھا۔۔۔۔۔ ” فائل میں لکھا ہے۔۔۔ ” اس نے عام سے انداز میں کہا۔ آریز نے آبرو اچکا کر اپنے سامنے بیٹھی عزاہ کو دیکھا۔۔۔ ” آپ سے سنا ہے۔۔۔۔۔۔ ” ” عزاہ رحمان۔۔۔۔ عزاہ آریز۔۔۔ ” جھٹ سے بولی پھر جیسے یاد آنے پر سنبھل گئی۔۔۔ عزاہ کو لگا جیسے وہ شخص مسکراہٹ ضبط کر رہا ہے جو اسکی آنکھوں سے واضع تھا۔۔ ” میرڈ ہیں؟؟؟ ” ” جی ” وہ اسکے سوال پر ” حیران ” رہ گئی وہ پورا اسکا ” باس ” بنا بیٹھا تھا۔۔ ” جاب کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ؟؟ ” ” شوہر خیال نہیں کرتا۔۔۔ ” اسے لگا اسکے جواب پر وہ کوئی ریکٹ کرے گا مگر وہ اسکی فائل پر جھکا رہا چہرہ ہر تااثرات سے عاری تھا۔۔۔۔۔ ” افسوس ہوا آپ کے لئے۔۔۔۔۔ ماں باپ کی زبردستی اولاد کی زندگی خراب کردیتی ہے ” وہ کیا سمجھ رہا تھا؟؟ کہیں اسے یہ تو نہیں لگا میں نے کسی ” مجبوری ” میں شادی کی؟ ” ایسا نہیں ہے۔۔۔ ” وہ بےساختہ بولی آریز اب بھی لاپروا بنا رہا۔۔۔ ” بحرِحال آپ غالباً پہلے انٹرویو دے چکی ہیں؟ ایک دو دن آکر آپ نے ریزائن دے دیا؟ کیا آپ کو لگتا ہے ہمیں آپ کو ہائیر کرنا چاہیے؟؟؟ اور چاہیے تو کیوں؟؟ ” وہ اسکی طرف متوجہ تھا سنجیدہ لب و لہجے میں بولا عزاہ اسکی نظروں سے پزل سی ہوگئی۔۔۔ کتنا بدل گیا تھا وہ۔۔۔۔۔۔ کیا ساری زندگی اس کے ساتھ ایسا رہے گا؟؟؟ ” وہ میرا جذباتی فیصلہ تھا اب ایسا نہیں ہوگا آپ چاہیں تو کانٹریکٹ سائن کروا سکتے ہیں۔ دوسرا یہ کے آپ کے (آئی ٹی) ڈیپارٹمنٹ میں اچھے خاصے ” ایکسپیرینڈ “لوگ ہیں مجھے نہیں لگتا میری کسی بھی پرفارمیسسز پر بھی میں آپ کو قائل کر سکتی ہوں بےشک میرا ایکسپیرینس پانچ سالوں کا ہے مگر آپ کی آئی ٹی سے واقف ہوں دس سال پرانے ایمپلائیز ہیں۔۔۔۔ ” وہ جیسے اسکے جواب سے مطمئن ہوگیا۔۔۔۔۔ ” آپ کل سے جوائن کر سکتی ہیں اور جیسا کے آپ جانتی ہیں پک اینڈ ڈراپ ہماری طرف سے ہے تو عالم صاحب کو ایڈریس لکھوا دیجیئے گا ” وہ فائل بند کر کے ٹیبل پر اسکی طرف رکھتا ہوا بولا تو عزاہ اٹھ کھڑی ہوئی وہ فائل لیکر اٹھ کھڑی ہوئی اور پلٹتے ہی واپس مُڑی۔۔۔۔ ” یس؟؟ اینی تھینگ ایلس؟ ” وہ جو اسی کی طرف متوجہ تھا اسکے پلٹنے پر چوری پکڑے جانے پر اُلٹا آریز نے اس سے پوچھا۔۔۔۔۔ وہ نفی میں سر ہلاتی اسکے آفس سے نکل گئی۔ آریز نے اسکے نکلتے ہی فون نکال کر شاذ کو میسج کیا۔۔۔۔۔۔ ” اسے گھر چھوڑ آؤ۔۔۔۔۔ ” میسج ٹائپ کر کے وہ اپنی سیٹ سے اٹھا اور گلاس ونڈو کے آگے آکھڑا ہوا۔۔ دو تین چار آخر پورے نو منٹ بعد وہ اسے شاذ کے ساتھ آفس سے نکلتی نظر آئی تو وہ کچھ پُر سکون ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” آپ کے جانے کے بعد کیا ہوا تھا؟؟؟ ” وہ جو غور سے سن رہی تھی اسکی بات ختم ہونے پر اس نے سوال کیا۔۔۔۔۔ ” وہ مجھے تم بتاؤ گی!!!! تاکے جب اُسکے خون سے اپنے ہاتھ رنگوں تو خون کا ایک ایک قطرہ اسکے جسم سے نچوڑ کر نکالوں ” اسکے لہجے میں نفرت کی پھنکار تھی رواں رواں جلتا تھا اُس شخص کے ذکر سے جس نے ” عینا ” کے ماہ و سال اس سے چھین لئے۔۔۔۔ ” مجھے یاد نہیں۔۔۔۔۔۔ ” اسکی سرخ آنکھیں دیکھ وہ خائف ہوگئی۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی بات نہیں۔۔۔ ” وہ اسے خوفزدہ دیکھ کر نرم پڑ گیا۔ اسکی آنکھیں عینا سے ہٹنے کو تیار نہ تھیں وہ دیکھ رہی تھی یہ شخص مسلسل اسے اپنی نظروں میں لیے ہوۓ تھا نظریں بھی ایسی سنجیدہ جیسے اس میں کچھ ” تلاش ” رہی ہوں۔۔۔ ” آپ میرے کون ہیں؟؟؟؟ ” خشک ہونٹوں پر زبان پیڑتے عینا نے پوچھا۔۔۔۔۔۔ ” کوئی نہیں۔۔۔۔ ” کافی دیر بعد اِس شخص کے ہونٹ ہلے وہ کیا سوچ رہا تھا؟؟ کیوں وہ اسے ایسے دیکھ رہا تھا عینا کی سمجھ میں نہیں آیا اب تو اسکی نرمی بھی غائب ہو چکی تھی۔۔۔۔۔ مجھے اپنے پیرنٹس کے پاس جانا ہے۔۔ ابھی اسی وقت ” کافی دیر بعد وہ بولی حاوز سلیمان کے ہونٹوں پر کھوکلی مسکراہٹ آن ٹہری یہی تو ڈر تھا،، یہی تو سوچ تھی۔۔۔۔ ” میں تمہیں ابھی لیکر جاتا مگر۔۔۔ ” اسکی بات کاٹتے وہ بولی۔۔ ” مجھے جانا ہے۔۔۔۔۔۔ ” وہ بیڈ سے اٹھنے لگی کے حاوز نے اسے ڈرپ نکالنے سے روکا۔۔۔ ” دو منٹ مجھے سن لو کمزوری کی وجہ سے یہ ڈرپ لگائی ہے بس ختم ہو تمہیں تمہارے گھر چھوڑ آئونگا۔۔۔” اسنے جواب نہیں دیا شاید وہ سمجھ چکی تھی وہ اس بیڈ پر آنکھیں موندے سونے لگی تھی یا شاید ڈرپ ختم ہونے کا انتظار کر رہی تھی۔حاوز سلیمان اٹھ کھڑا ہوا وہ جانتا تھا عینا اسکی نظروں سے خائف ہو رہی ہے۔ وہ سمجھتا تھا اُسکا بُرا وقت چل رہا ہے مگر نہیں بُرا وقت تو اب شروع ہوا ہے۔۔۔۔۔۔ وہ عینا جس نے اسے مدد کے لئے بلایا تھا وہ تو کوئی اور تھی اور یہ ” عینا ” اُس عینا سے بےحد مختلف۔۔۔۔۔ اسکے ذہن سے ” حاوز سلیمان ” کی ہر یاد مٹ چکی تھی۔ ہر یاد۔۔۔۔۔۔۔۔ شدت سے وہ ڈرپ نہ ختم ہونے کی دعا کر رہا تھا نجانے کیوں آج ایک انجانا سا خوف تھا۔۔۔ بےچینی بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔ دل بیٹھ چکا تھا۔۔۔ اسکی رفتار تک مدھم ہو چکی تھی۔۔۔ وہ عینا کو کھوجتی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا جس سے وہ ڈر رہی تھی حاوز اندازہ نہ لگا پایا عینا کی زندگی کے کن ورقوں سے اسکی یاداشت مٹ چکی ہے اسے کیا یاد ہے؟؟؟ اور کن لمحات کو وہ بُھلا چکی ہے۔۔۔۔ وہ ڈرپ اب ختم ہو چکی تھی اسکا دل کسی طور نہیں مان رہا تھا یہ لڑکی تو اسکی ” زندگی ” بن چکی تھی آٹھ سال ” حاوز ” نے دن رات صرف اِسکے جاگنے کا انتظار کیا ہے پھر آج کوئی کیسے اسے لے جا سکتا ہے؟؟؟؟ اسے وہی وقت یاد آیا جب زریق کو دس سال بعد اسکی ماں صدف نے اسکی خالہ ” ثمرین ” سے واپس مانگا تب کیسے ثمرین تڑپ اٹھیں تھیں۔۔۔۔ “صدف بھلے پیدا تم نے کیا پالا تو میں نے ہے۔۔۔ دن رات اسکے لئے ایک کیے ہیں میں نے۔۔۔ میں اپنا بچا نہیں دونگی ہاں جس دن یہ جسم روح چھوڑ دے اس دن تم لے جانا ایک حرف نہیں کہونگی۔۔۔۔ ” دس سال کے زریق کو وہ خود سے لگائے رو رہیں تھیں۔۔ وہاں اسکی ماں کا دل پیگلا آنسوں پیتیں وہ واپس لوٹ گئیں اور یہ ملک ہی چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔ آج اسے بھی احساس ہو رہا تھا۔۔۔ اپنے وجود کے حصے کو دینا کتنا دردناک تکلیف دہ عمل ہے۔۔۔۔ اور شاید اسی وجہ سے بھی ” مایل ” نے اپنے حواس کھوۓ وہ بھی تو ایسی ہی تڑپی تھی ارحم کے لئے۔۔۔۔ وہ اسے سہارا دیکر کار تک لے آیا سمجھ نہیں آرہا تھا کہاں جائے؟؟ کار اسٹارٹ کی تو خود با خود منزل ملتی چلی گئی وہ ان راستوں پر نکل آیا جہاں اسکی ماں اور خالہ ہیں۔۔۔۔۔۔ اور اسکا عزیز بھائی زریق۔۔۔۔ وہ جب وہاں پہنچا حاوز کو ثمرین اور صدف ہی نظر آئیں زریق شاید جا چکا تھا اور مایل؟؟؟ وہ بھی وہاں نہیں تھی۔۔ ” حاوی یہ؟؟؟ ” دونوں لان میں بیٹھیں باتوں میں گم چائے سے لطف اندوز ہو رہیں تھیں مگر حاوی کو یہاں دیکھ پہلے تو وہ خوشی سے حیران ہوئیں پھر پیچھے آتی لڑکی کو دیکھ ٹھٹک گئیں۔۔۔ ” مما یہ عینا ہے۔۔۔۔ ” دونوں نے بغور اسے دیکھا وہ سنجیدہ چہرہ لیے دونوں کو دیکھ رہی تھی جیسے دونوں کو پہچانے کی کوشش کر رہی ہو مگر دماغ پر زور دینے سے بھی کوئی یاد ذھن میں نہ آئی۔۔۔۔ ” پہلی ملاقات ہے۔۔ تم انہیں نہیں جانتی۔۔۔ ” وہ اسکی کھوجتی نگاہوں کو مزید تکلیف دینے سے پہلے ہی بولا۔ ” کون عینا؟؟؟۔۔۔۔ ” ثمرین کے پوچھنے پر انکی بہن نے انہیں آنکھوں سے چُپ رہنے کا اشارہ کیا۔ وہ اپنے بیٹے کو جانتیں تھیں اگر حاوز نے کچھ نہیں بتایا تو یقیناً کوئی بات ہوگی۔۔۔۔۔ ” میرے ممی پاپا کہاں ہیں؟؟ ” عینا نے حاوز سے پوچھا۔ وہ اس وقت حاوز کے دیے کپڑوں میں ملبوس تھی نیوی بلو کلر کی لونگ فراک چوڑی دار پاجامہ اور شانوں پر بھرا سا دوپٹا پھیلائے ہوئے تھی۔۔۔۔۔۔ ” پتا نہیں۔۔۔ ” پہلی دفع وہ خودغرض بنا رہا جھوٹ اپنے آپ ہونٹوں سے پھسلا تھا۔۔۔۔۔ ” آپ نے کہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ ” ” میں نے کچھ نہیں کہا تھا بس ہامی بھری تھی ” اسے غصّہ آرہا تھا،،، بےبسی تھی،،، وقت اسکے ہاتھوں سے پھسل رہا ہے وہ اب دنیا کے سامنے ہے وہ جانتا ہے اسکا باپ راتوں رات اسے ڈھونڈ لے گا اور وہ پھر ایک دفع ” تنہا ” رہ جائے گا جب وہ ” طاقت ” نہیں رہیگی تو حاوز کیسے مضبوط بنے گا؟؟؟ عینا کی موجودگی تھی اسکا لمس تھا اسکی سانسیں تھیں جو حاوز کے دیے ماحول میں سانس لے رہیں تھیں۔۔۔ جس سے وہ خود دن با دن مضبوط ہوتا رہتا تھا۔۔۔۔ ” بیٹا تم آؤ بیٹھو تمہارے ممی پاپا کو ہم جانتے ہیں انھیں بلاتے ہیں ” وہ خالی نظروں سے حاوز کو دیکھتی انکے ساتھ چلی گئی۔۔ ثمرین نے اسے صوفہ پر بٹھایا اور صدف ناشتے کا انتظام کرنے کچن میں چلی گئیں۔۔۔۔۔ ” حاوی اس بچی پر اتنا غصّہ مت کرو مجھے تو معصوم لگ رہی ہے ” ثمرین نے دھیرے سے اسکے کان میں کہا۔ حاوز آکر اسکے سامنے والے صوفہ پر بیٹھ گیا دونوں ہاتھوں کو آپس میں ملائے وہ جھک کر بیٹھا اسے ہی غور سے دیکھ رہا تھا بغیر ثمرین کی موجودگی کی کوئی پروا کیے جو اسے آنکھوں سے اشارہ کر رہیں تھیں وہ ڈھیٹ بنا غم و غصّے کی کیفیت میں اسے دیکھ رہا تھا جیسے پوچھ رہا ہو اتنا ظلم؟؟؟ کیوں وہ اسکے معملے میں ظالم بنی بیٹھی ہے؟؟؟؟ عینا کی کیفیت سے وہ انجان نہیں تھا مگر اسے غصّہ ہر چیز پر تھا سب سے زیادہ ” حبروز ” پر وہ شخص اسکے ہاتھ لگ جائے حاوز سلیمان اسکی ہستی مٹا دے گا۔۔۔۔۔ یکدم سے سوچوں کا تسلسل بیل کی آواز سے ٹوٹا حاوز اب بھی نہیں اٹھا تھا ناچارہ ثمرین کو ٹوکنا پڑا۔۔۔۔ ” حاوی اٹھ کر دیکھو کون آیا ہے؟ “حاوی انکی ایک گھوری سے ناچارہ اٹھ کھڑا ہوا اسکے جاتے ہی عینا نے سکون کا سانس لیا یہ شخص اسے شروع سے عجیب لگ رہا تھا کتنا سچ تھا کتنا جھوٹ اسکی باتوں میں وہ سمجھ نہیں پائی۔۔۔۔۔ پر اس وقت اسے شدت سے بس اپنے ماں باپ کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔ وہ ہوتے تو اسے سب یاد دلانے کی کوشش کرتے۔۔۔۔۔ دروازہ ناگواری سے کھول کر سامنے کھڑی ہستی کو دیکھ کر وہ چونک اٹھا۔۔۔۔ ایک پل کو حاوز سلیمان کا دماغ سُن ہوگیا۔۔۔۔۔ ” میری بیٹی تمہارے بارے میں ہمیشہ سے سہی کہتی ہے!!!! بس ہمیں وقت لگ گیا سمجھنے میں۔۔ یہ اصل چہرہ جو پردے کے پیچھے چُھپا تھا۔۔۔۔۔” مکرم علی نے حاوز سلیمان کا گریبان پکڑ لیا اور پہ دھر پہ تھپڑ سے اس کا چہرہ سرخ کر دیا۔۔۔۔ فرزانہ بیٹی کو دیکھ کر ساکت رہ گئی پھر ہوش آیا تو جاکر بیٹی کو اپنے بازوؤں کے گھیرے میں لیا۔۔ ” میری جان۔۔۔ ” وہ اسے خود سے لگائے نم آواز میں بولیں۔۔۔۔ ” مما۔۔۔۔ ” اتنے اجنبی چہروں میں سے آج پہلی بار اسے اپنوں کا حقیقی چہرہ نظر آیا ہے جو اسکے ماں باپ ہیں جنکو وہ بینا دیکھے پہچان سکتی ہے۔۔۔۔ ” آستین کے سانپ۔۔۔ ذلیل کتے میری بیٹی کو اتنے سال دور رکھ کے آخر کس بات کا بدلہ لیا ایک دفع کہتے تو ذلیل انسان پسند۔۔۔۔۔” وہ کہتے کہتے خاموش ہوگئے۔ انہیں حاوز سے اس قدر نفرت ہو چلی تھی کہ اپنی بیٹی کے ساتھ اس کا نام تو دور وہ زندگی بھر اس کی شکل تک دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔۔ ” ہمیں وقت سے پہلے بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچا کر تو یہاں عیش کر رہا ہے۔۔۔۔۔ ” مکرم علی نے پیڑ پوری قوت سے اسکے پیٹ پر دے مارا جس سے وہ نیچے جا گِرا ثمرین اسے سنبھالنے کو آگے بڑھیں تو مکرم علی نے حاوز پر لاتوں سے وار کردیا ثمرین جو آگے بڑھیں تھیں اسے بھی دھکا دے کر نیچے گرایا جسے دیکھ کر حاوز نے خود کی طرف آتی انکی لات کو ہاتھ سے روکا۔۔۔۔ ” قصور وار میں ہوں تو مار کھا رہا ہوں میری خالہ کو کیوں چھوا۔۔۔۔ ” وہ انکی ٹانگ کو پیچھے دھکیلتا اٹھا وار ایسا تھا کے مکرم علی ذمین پر جا گرِے حاوز نے زخمی حالت میں اٹھ کر اپنی خالہ کو اٹھایا صدف بیغم جو چائے رکھ کے واشروم گئیں تھیں کمرے میں آکر چیخیں سن کر وہ بھی نیچے چلی آئیں۔۔ فرزانہ جو عینا کو سب بتا رہیں تھیں شوہر کو زمین پر گرتے دیکھ دوری چلی آئیں۔۔۔ ” مکرم آپ ٹھیک تو ہیں۔۔۔۔ ” انہیں سہارا دے کر اٹھایا جو خون خوار نظروں سے زریق کو دیکھ رہے تھے۔۔۔ ” دیکھ اب تجھے کیسے برباد کرتا ہوں راتوں رات تجھے سڑک پر لا کر نہ کھڑاکیا تو نام بدل دینا میرا۔۔۔۔” مکرم علی دھارتے ہوئے عینا کا ہاتھ پکڑ کے وہاں سے فرزانہ اور عینا کو لے گئے۔۔۔ ” حاوز وہ عینا۔۔۔۔ ” صدف صدمے کی حالت میں عینا کو دیکھ رہیں تھیں جسے مکرم علی ان کی نظروں کے سامنے سے لے گئے وہ جانتی تھیں ان کا بیٹا حاوز عینا کو بے انتہا چاہتا ہے۔۔۔۔ ” رہنے دیں ممی آپ سے زیادہ اہم نہیں ” وہ ہلکا سا مسکرایا لیکن صدف کو لگا وہ زخمی ہے یا شاید وہ پہلے سے خود کو اس وقت کے لیے تیار کر چکا تھا۔۔۔ ” آپ ٹھیک ہیں خالہ؟؟؟ ” ثمرین کے بازؤں کا معائنہ کرتے پوچھا۔۔ ” میں ٹھیک ہوں مگر۔۔۔ ” ” چھوڑیں خالہ آپ پریشان نہ ہوں ” وہ بےبسی سے مسکرایا۔۔۔۔ ” حاوز مگر عینا کو کچھ یاد کیوں نہیں ہے تم تو کہتے تھے کوما میں انسان کی آنکھیں بند ہوتی ہیں لیکن وہ سب کچھ سن سکتا ہے ” صدف نے اسی کی کہی بات اسے یاد دلائی تو حاوز کچھ بولنے لگا تھا مگر چُپ ہو گیا وہ بھلا سب کو کیسے سمجھائے کہ ہر انسان کو وقت درکار ہوتا ہے عینا کو کوما سے اٹھے ابھی دو دن بھی مشکل سے ہوئے تھے وہ کیسے ہر یاد کو منٹوں میں اپنے ذھن میں لاتی کبھی کبھی تو سالوں گزر جاتے اور حاوز سلیمان نہیں جانتا یہ سزا جو اسکے گناہوں میں لکھی گئی ہے کتنے عرصے تک ہے؟؟ کیا کبھی ختم بھی ہوگی؟؟ یا یہ سزا اسکی موت تک رہے گی؟ اس کا جسم مردہ تو اسی وقت ہو چکا تھا جب اس نے عینا کی آنکھوں میں خود کے لیے بےاعتباری دیکھی وہ اسے ہر بات بتا چکا تھا۔ مگر عینا کو دیکھ کر لگ رہا تھا اسے حاوز کی کسی بات کا یقین نہیں۔۔۔۔۔۔۔ ” مجھے بھی کوئی کچھ بتاؤ آخر ہو کیا رہا ہے ” ثمرین نے کچھ جھنجلا کر کہا۔وہ صدف اور حاوز کی طرح عینا کے پاسٹ سے واقف نہیں تھیں مگر حاوز نے صدف کو ہر بات بتائی تھی۔۔۔۔۔ اسی وقت حاوز سلیمان کا فون بج اٹھا نمبر ” پرائیویٹ نمبر ” کے نام سے شو ہو رہا تھا ایک پل کو وہ ٹھٹکا پھر اس نے فون ریسیو کیا۔۔۔۔۔ ” کیسا لگا میرا تحفہ؟؟؟؟ تکلیف ہوئی نہ؟؟؟؟ میری بہن بھی روز اس تکلیف سے گزر رہی ہے جو ہجر کے لمحے میری بہن کاٹ رہی ہے اب وہی تم بھی کاٹو گے۔ عینا تمہاری ہو کر بھی نہیں ہوگی بہت جلد وہ میری دسترس میں ہوگئی کیا فائدہ اتنے سالوں مجھ سے چھپا کے رکھنے کا آج دیکھو اس کے باپ کو اس کی زندگی کی نوعیت سنانے والا میں تھا۔۔۔۔ آج بھی آگر اس کی بیٹی کا ہاتھ مانگنا چاہوں تو بغیر نکاح کے وہ اسے میرے ساتھ رخصت کر دے گا۔۔۔۔۔ ” حاوز نے اپنی آنکھیں میںچ لیں انشااللہ کتے سے بدتر موت وہ اسے دے گا۔۔۔ ” میرے بہنوئی کو مار کر۔۔۔۔۔۔۔ ” حبروز مزید کچھ کہ رہا تھا مگر حاوز سلیمان نے اسکی کال کاٹ دی اس کا دل ہر چیز سے اٹھ چکا تھا۔۔۔ وہ کسی کی بات سنے بغیر ہی گھر سے نکل گیا۔۔۔ دل چاہ رہا تھا پھوٹ پھوٹ کے روئے اتنا روئے کہ اس کا دل ہی درد سے پھٹ جائے تاکے یہ تکلیف اس دل کو دوبارہ نہ چھو پائے۔۔۔۔ ” حاوی۔۔۔ ” وہ دونوں اسے بلاتی رہ گئیں لیکن وہ پلٹ کر واپس نہیں آیا۔ یہاں تک کے وہ پارکنگ ایریا میں کھڑی ثمرین کی کار لیکر نکل گیا جسکی چابی گھر کے دروازے کے پاس بنے کی ہولڈر سے اس نے لی تھی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” تم نے بڑا ظلم کیا ہے۔۔۔ ” وہ ارحم کے دونوں گالوں کو چومتا ہوا محبت سے بولا۔ وہ سب لوگ آج جلدی ہی آفس سے آگئے تھے المیر تو فریش ہونے چلا گیا تھا جب کے آریز صرف کپڑے بدل کر نیچے آگیا باقی شاز اور حیدر مرتضیٰ چینج کرنے گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔
” کیسا ظلم؟؟ ” مایل چونکی۔۔۔۔
” اب تک ہم سے ارحم کو چھپا رکھا تھا۔۔۔ ” آریز نے ابرو اچکا کے اسے دیکھتے کہا مایل نے اسے گھورا۔
” اب تم بھلے شوہر کے ساتھ رہو ارحم ہمارے ساتھ رہے گا۔۔۔۔۔۔۔ ” وہ بلیک شلوار سوٹ میں ملبوس بلیک شال اوڑھے ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا تھا ارحم کو آریز نے اپنی ایک ٹانگ پر بٹھایا تھا جسے حرکت دیکر وہ اسے جُھلا رہا تھا۔۔۔۔۔
” جی نہیں میرا بیٹا ماں کے بغیر ایک پل نہیں رہتا!!! رو رو کر آپ کی حالت خراب کردیگا۔۔۔۔۔ ” سموسے سے انصاف کرتے مایل نے مغرورانہ انداز میں کہا۔۔۔۔
” بھائی میں بھی ارحم کو اٹھاؤں ” آبی جو ابھی اسکول سے آیا تھا بیگ صوفے پر پھینک کر فوراً آریز کی طرف لپکا جس کے پاس ارحم تھا۔۔۔۔
” نہیں پہلے چینج کر کے آؤ اچھے بچوں کی طرح پھر ” جواب مایل کی طرف سے تھا آبی نے منہ بنا کر سموسہ لیا اور وہیں آریز کے پاس چپک کر بیٹھ گیا۔۔۔
” آپ بھی لیں نہ آپ ہی کا گھر ہے ” مایل نے آریز سے کہا جو اسکے بیٹے میں مگن تھا۔۔۔۔
” نہیں میں بس چائے لونگا اگر آپ پلا سگیں تو؟؟؟ ” وہ اسے تنگ کر رہا تھا مایل جانتی تھی اکثر شادی سے پہلے بھی وہ اسے ایسے ہی تنگ کرتا تھا جان کر کام کا کہا کرتا تھا اور سامنے سے تعنہ آتا تھا کہ ” میں اس لیے کہتا ہوں تاکہ سسرال میں تم یہ کام چوری کم دکھاؤ۔۔۔ ” اور وہ اسکا بدلہ چائے میں چینی زیادہ ڈال کر لیتی۔۔۔۔
” کمال ہے مائکے میں بھی آکر کام کروں تو کیا فائدہ اس سے اچھا سسرال میں ہی رہوں۔۔۔ ” مایل اسے آنکھیں دیکھاتی کچن میں چلی گئی۔۔۔
” چینی کم ڈالنا شربت بنا کر مت لانا ” وہ اسے ٹوکنا نہیں بھولا تھا۔ آبی ہنسا جس پر آریز اب اس کے پیچھے پڑ گیا۔۔
” بس کر موٹے!!! گیس ہوجاے گی اور چلو شاباش کپڑے بدل آؤ پھر رات میں آئیس کریم کھانے چلیں گئے۔۔۔ “
” سچی؟؟؟ ” پہلے تو گیس کی بات پر آبی کا منہ بن گیا آریز کہ تو سچ رہا تھا آبی کو بہت بُری گیس ہوتی ہے جس کے طوفانی حملوں کا شکار پورے گھر والے ہوتے ہیں لیکن پھر آئیس کریم کی لالچ پر وہ واقعی تیسرا سموسہ رکھ کر کپڑے بدلنے چلا گیا۔۔۔۔۔۔
جبکے آریز اب رس کیک کھا رہا تھا جس کا چھوٹا ٹکرا وہ ارحم کے منہ میں بھی ڈال رہا تھا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” اچھا کیا شلوار قمیض نکالی پینٹ شرٹ پہنے کا موڈ نہیں تھا۔۔۔۔ ” وہ آفس سے آکر سیدھا نہانے چلا گیا تھا اسکے کپڑے زونیشہ نے پریس کر کے واشروم میں ہی ہینگ کردیے تھے وہ نہا کر نکلا تو زونیشہ کو مخاطب کرنے کے لئے جان کر بات آغاز کیا ورنہ وہ جانتا تھا جواب وہ اب بھی نہیں دے گی مگر وہ ایک کوشش تو کر سکتا تھا؟؟ پر جواب نہ پاکر وہ جو بالوں کو ٹاول سے رگڑ رہا تھا ٹاول بیڈ پر پھینک کر اسکی طرف چلا آیا جو المیر کا فون چارجنگ پر رکھ کر اب اسکے سامنے کھڑی اس کے اگلے حکم کی منتظر تھی۔۔۔۔ ان دونوں کے بیچ کی تلخی تو وہ دور نہیں کرسکتی تھی مگر اسے المیر کے غصے سے ڈر لگتا تھا اس لیے وہ جب تک کمرے میں ہوتا زونیشہ کوشش کرتی کہ وہ اس کے کام کرے اس کے سامنے رہے اور اس کی تھوڑی بہت باتوں کا جواب دے تاکہ پھر سے وہ اسے اپنے سوالوں میں نہ الجھا سکے۔۔ ” شکایت تھی مجھ سے کے تمہیں سوچتا نہیں اب سوچتا ہوں تو اتنا ڈرتی کیوں ہو؟؟؟ ” اسکے قریب آنے پر وہ دو قدم پیچھے ہٹی۔۔ باقاعدہ اسکا وجود کانپنے لگا۔۔۔ ” جب تک تم دل سے رضامند نہیں ہوگی!!! تب تک بےفکر رہو تمہیں پریشان نہیں کروں گا۔۔۔۔ ” اسے غصّہ تو آیا اس کے دور جانے سے جو المیر سے خوف کھا رہی تھی مگر وہ ضبط کرگیا۔۔۔۔۔ ” تم کچھ بولتی کیوں نہیں؟؟؟ کم گو تو تھیں گونگی تو نہیں ہو؟؟؟ ” اسکی آنکھوں میں دیکھتے وہ سنجیدگی سے بولا جو نظریں جھکائے ہوئے تھی۔۔۔۔ ” اس دن بھی بس تمہاری خاموشی نے غصّہ دلایا رات بھر میں بھی نہیں سویا۔۔۔۔” ” س۔۔۔س۔۔سوری۔۔۔۔ ۔ ” وہ مزید بحث کرتا اس سے پہلے ہی تنگ آکر زونیشہ بولی وہ اسکے لہجے کی لڑکھڑاہٹ،، ہکلاہٹ کو اسکا ڈر ہی سمجھ رہا تھا۔۔۔۔ ” ڈرو نہیں!! اور شرمندہ میں ہوں۔۔۔۔ ” المیر نے اسکے دونوں ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں لیے۔ اس بار اس نے کوئی ایسی حرکت نہیں کی نہ ہاتھ چھڑواے نہ پیچھے ہٹی۔۔۔۔۔ ” مایل بتا رہی تھی تمہیں ” ناولز ” بہت پسند ہیں؟؟؟ آج چلیں تمہاری پسندیدہ بُکس لینے۔۔۔۔۔ ” اسکے جھکے چہرے کو ٹھوڑی سے پکڑ کے اوپر کیا۔۔۔ ” جی۔۔۔۔۔ ” وہ بس اتنا ہی کہ سگی المیر مسکرایا۔۔۔۔۔ ” چلو پھر ابھی چلتے ہیں۔۔۔۔ ” ” نہ۔۔۔نہیں مایل۔۔۔۔ ” زونیشہ نے جھٹ سے جھکی پلکوں کو اٹھا کر اسکی طرف دیکھا وہ ابھی بھی مسکرا رہا تھا۔ وہ اس کی بات کا مطلب سمجھ گیا کہ مایل آئی ہوئی ہے تو وہ کیسے جا سکتی ہے اسے چھوڑ کر؟؟ ” ٹھیک ہے پھر رات میں چلیں گئے۔۔۔۔۔۔ ” وہ جھکا تھا اور اسکی پیشانی پر لب رکھتے وہ پیچھے ہٹا زونیشہ کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ جھکا سر کچھ اور جھک گیا وہ مسکراتا ہوا کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔۔۔ زونیشہ کی آنکھیں بھیگنی لگیں کب کا رکا سانس بحال ہوا اس شخص کی موجودگی کیوں اسے بُری لگنے لگی ہے جب کے اسے یہاں اب ساری عمر رہنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج دن میں خاص احتمام ہوا تھا سب مرد چونکے گھر پر تھے اسلئے آج معمول سے زیادہ پکوان بناۓ گئے تھے۔ گھر کی سب خواتین اور مرد اس وقت ڈائینگ ٹیبل کے گرد بیٹھے لزیز کھانوں سے لطف اٹھا رہے تھے۔۔۔۔۔
” المیر کمال ہے آج تمہارا پسندیدہ پلاؤ بنایا ہے تو تم چاول کی روٹی اور ساگ کھا رہے ہو؟؟؟ ” صالحہ نے اپنے بیٹے کو کہا۔۔
” امی آج ساگ بنا ہی اتنا مزے کا ہے آپ کا پلاؤ ساگ سے پیچھے رہ گیا۔۔۔ ” ماں کو تنگ کرنے کے غرض سے المیر نے ایسے ہی کہا وہ انجان تھا یہ بات اس کے گلے پڑ جائے گی۔۔۔
” توبہ توبہ تائے امی وہ دور ابھی سے آگیا بیوی کے آگے آج ماں کا کھانا چخنا تک گوارا نہیں کیا؟؟ ” آریز نے مسکراہٹ دباتے کہا۔۔
” یہ زونیشہ نے بنایا ہے؟؟؟ امی مجھے تو معلوم تک نہیں تھا پر یہ تم آگ کس خوشی میں لگا رہے ہو؟؟؟ ابھی پلاؤ بھی کھاؤنگا کھانے سے ہاتھ تھوڑی اٹھائے ہیں؟؟ “
” بس رہنے دو پلاؤ چخا تک نہیں ہے!!! اور رہی بات ساگ کی میری بہو ہے آخر ہنر مند تو ہوگی۔۔۔۔ ” انکی بات پر وہاں بیٹے سب لوگ مسکراے صالحہ کا واقعی جواب نہ تھا باتوں میں ان سے کون جیت سکتا تھا۔ بہو کے نام کی بھی تعریف انہوں نے خود ہی وصول کی زونیشہ بھی ان کی مسکراہٹوں میں شامل بس مسکرا رہی تھی۔۔۔
” مایل زریق کیوں چلا گیا۔۔ ” اچانک سے وہ اپنے نام کی پکار پر ایک پل کو ڈر گئی۔ سوال کیا بھی حیدر مرتضی نے تھا جس کے جواب میں اگر سچ اور جھوٹ ملا کر بھی بولا جائے تو وہ فورا پکڑ لیتے ہیں۔۔۔
” تایا ابو وہ اسلام آباد گئے ہیں۔۔ انہوں نے کہا جب تک وہ وہاں کا کام نپٹاتے ہیں تب تک میں یہاں آپ سب کے پاس رہوں پھر آنا مشکل ہوتا ہے۔۔۔۔۔ ” آریز المیر اور شاز اسکی بوکھلاہٹ پر مزے سے اسے دیکھ رہے تھے حیدر مرتضیٰ نے سر ہلایا تو مایل نے سکھ کا سانس لیا۔۔۔
” تو بھائی کب کی تاریخ لینی ہے؟؟؟ ” حیدر مرتضی نے اپنی بیوی کو مخاطب کیا۔۔۔
” جب آپ کہیں۔۔۔ ” انہوں نے ساری بات شوہر پر چھوڑ دی مگر صدیق صاحب نے اپنی رائے دی۔۔۔۔
” میری مانوں اگلے مہینے ہی کردو!!! ہمارے بچوں کی قسمت کا وہی حال ہے راتوں رات بدل جاتی اگلے مہینے نہیں ہوئی تو کہیں پھر یہ شادی لمبی نہ چلی جائے۔۔۔ تیاریوں کا کیا ہے؟؟؟ ہوتی رہیں گی مگر شادی جتنی جلدی ہو اتنا اچھا ہے ان کی عمریں بھی تو دیکھو اس عمر میں میرے خود کے دو بچے ہو چکے تھے۔۔۔۔۔ ” حیدر مرتضی نے اس انداز میں کہا کہ وہاں بیٹھے ان تینوں کو شرم آگئی جیسے شادی نہ ہونا اولاد نہ ہونے میں انکا قصور ہے۔ بچا صرف زاکون تھا جو اس وقت یہاں موجود نہیں تھا یقیناً آج ایوینگ شفٹ میں ہوگا۔۔۔۔۔۔
” ہاں سہی کہ رہے ہو بس پھر ڈن ہے باقی آریز کو تو کوئی مسلا نہیں ہے۔۔۔ ” انہوں نے جیسے بات ختم کردی سب نے انکی رائے میں ہامی بھری۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔