66.2K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 34

” میں آج امی کے گھر جاؤں؟؟ ” وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا اپنی ریسٹ واچ پہن رہا تھا مایل کی بات پر سر اٹھا کر شیشے پر بنے اسکے عکس کو دیکھنے لگا۔۔
” خیریت؟؟؟؟ “
” ہاں تائی امی نے بلایا ہے آریز بھائی کی شادی کی ڈیٹ فیکس ہوگی۔۔۔۔۔ ” وہ بیڈ پر ارحم کے اوپر جھکی تبت پاؤڈر لگا کر اب ارحم کو پیپمر باندھ رہی تھی جو زریق کے ساتھ ہی نیند سے جاگا تھا۔۔۔۔
مایل خود صبح سات بجے ہی اٹھ جاتی آج بھی وہ جلدی اٹھی تھی پہلے اس نے زریق کا ناشتہ بنایا اور اب زریق جب فریش ہو کر نکلا تو مایل نے ارحم کو نہلایا۔۔۔۔۔
اور اب وہ اسے تیار کر رہی تھی جیسے ہی مایل نے اسے باڈی سوٹ پہنایا (بچوں کا ڈریس جس میں شرٹ اور پینٹ یا پاجامہ ساتھ ہی آٹیچ ہوتا ہے) زریق بھی اپنی تیاری مکمل کر کے پیچھے مُڑا اور بیڈ پر لیٹے ارحم کو اٹھایا جو ہاتھ پیڑ مار رہا تھا کبھی ہاتھ کی مُٹھی بنا کر منہ میں ڈالتا۔۔۔۔
” آپ تیار ہوجائیں میں چھوڑ دیتا ہوں ” وہ ارحم کے گندے کپڑے زمین سے اٹھا رہی تھی جب اس نے زریق کی آواز سنی وہ ارحم کو لیکر کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔۔۔
” ٹھیک ہے۔۔۔۔”
مایل نے ارحم کے گندے کپڑے واشروم میں جاکر ٹب میں بھیگو دیے تھوڑا سا صرف ڈال کر اور خود اپنے کپڑے الماری سے لیکر نہانے چلی گئی۔۔۔۔۔۔
وہ نہا کر نکلی تو جلدی سے پہلے ارحم کے گیلے کپڑے باہر گارڈن میں ہینگ کیے جسکا دروازہ مایل کے بیڈروم میں بھی کُھلتا تھا پھر آکر سب سے پہلے اپنی پیکینگ کی اپنے دو سوٹ رکھے اور باقی ارحم کا سامان اسکے کپڑے شوز دودھ نیپکین پیپمپرز سب اس بیگ میں رکھے ارحم کے سامان سے ہی اسکا پورا بیگ بھر گیا وہ گیلے بالوں کو کھلا چھوڑ کر جب کمرے سے باہر آئی تو زریق چائے پی رہا تھا اور ارحم زریق کے پاس ڈائنیگ ٹیبل پر بیٹھا تھا۔۔ منہ میں دودھ سے بھرا فیڈر تھا۔ جس کا ایک گھونٹ لینے کے بعد وہ فیڈر منہ سے نکال دیتا اور زریق بریڈ کا چھوٹا سا ٹکڑا اسکے منہ میں ڈالتا جسے ارحم دودھ کے ذریعے نغلتا پتا نہیں یہ کس کے دماغ میں آیا تھا؟؟؟ لیکن طریقہ تھا اچھا ورنہ مایل نے تو ڈر کے مارے ابھی تک اسے کچھ کھلایا نہیں تھا کہیں گلے میں پھنس نہ جائے۔ ارحم کے معملے میں وہ حد سے زیادہ ڈرپوک تھی۔۔۔۔۔
وہ یہی سوچ رہی تھی جب اسے زریق کی آواز سنائی دی۔۔۔۔
” کیا آپ وہاں رکیں گی؟؟؟ ” اسکا بڑا سا بیگ دیکھ کر زریق نے پوچھا۔ مایل نے خشک لبوں پر زبان پھیری۔ زریق اکثر اسے میکے جانے پر بولتا تھا ” آپ کا پیٹ نہیں بھرتا اتنا عرصہ آپ رہ کر آئی ہیں ” اور وہ ناراض ہوکر منہ پھیر لیتی مگر آج تو مجبوراً جا رہی تھی وہ۔۔۔
” جی دو دن۔۔۔۔ ” چور سی آواز نکلی۔۔۔۔۔
” آپ نے یہ نہیں بتایا ” وہ اسے دیکھتے کہ رہا تھا مایل جیسے سن کر انجان بن گئی بیگ نیچے رکھ کے ٹیبل پر رکھے بریڈ اور انڈے کے بنے ٹوسٹ میں سے ایک ٹوسٹ لیا اور چائ کی چسکیاں لیتے کھانے لگی۔۔۔۔۔
” میں یہاں کیا کروں گا پھر؟ حاوز کے یہاں چلا جاؤں
گا ” یہاں اسکے کھانے کو بریک لگی مایل نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا تو وہ سنجیدگی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا جیسے پوچھ رہا ہو اب بولو؟؟؟
” آپ وہاں نہیں جائیں گئے۔۔۔ ” وہ کھانا بھول کر غصّے سے بولی۔۔۔پھر ڈھیر سارا غصّہ ضبط کرکے تھک ہار کر بولی۔۔۔۔۔
” مجھے لینے آجائیے گا۔۔۔۔۔ ” خفگی سے اسے دیکھتے مایل کیچن میں چلی گئی وہاں سے ڈسپوزیبل کپ لے کر مایل نے گرم چائے اس میں ڈالی زریق اسکی بےتابی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
” آرام سے ناشتہ کریں مایل!!!!! میں انتظار کر لونگا “
وہ اسکی جلدبازی دیکھ کر ٹوکے بغیر رہ نہ سگا۔ اس نے سنا تھا گرم چائے پیتے زبان بھی جل جاتی ہے اور وہ نہیں چاہتا تھا مایل کو تکلیف پہنچے۔۔۔۔
” نہیں!!! راستے میں کرلونگی ورنہ آپ کے بیٹے کا رونے کا موڈ آن ہوا تو میری شامت آئ گی ابھی چُپ ہے اسلئے اپنے کام نپٹا لونگی۔۔۔۔۔۔ ” وہ وہی ٹوسٹ ہاتھ میں لیتی اندر چلی گئی اپنا پرس بیگ اور موبائل اٹھا کر باہر آئی تو زریق وہاں نہیں تھا۔۔۔
مایل نے ناشتہ ڈھک کر رکھ دیا ابھی ثمرین بیگم اور زریق کی خالہ (اسکی ماں )نے بھی ناشتہ کرنا تھا وہ رات کو ان سے اجازت لے کر آئی تھی ابھی اسے لگا وہ سو رہی ہوں گی لیکن پھر بھی وہ ان کے اندر روم میں گئی تو دونوں جاگ رہی تھیں کسی بات پہ موضوع گفتگو تھیں مایل ان دونوں سے گلے مل کر باہر آگئی۔۔۔۔
اسکا ٹوسٹ ختم ہوچکا تھا دل چاہ رہا تھا ایک اور لے لیتی وہ ارحم کو بھی فیڈ کرواتی تھی جس وجہ سے بار بار اسے بھوک لگتی تھی۔ زریق نے اسے آتے دیکھا تو مایل سے ہینڈ بیگ لیکر پیچھے سیٹ پر رکھ دیا جبکے اسکا سوٹکیس نما بیگ وہ پہلے ہی رکھ چکا تھا۔۔۔
مایل آگے آکر بیٹھی تو ارحم اسے ڈرائیونگ سیٹ پر نظر آیا جسے زریق نے سیٹ بیلٹ باندھا تھا اور ہاتھ میں چابی دی تھی جسے وہ دونوں ہاتھوں میں پکڑے کبھی منہ میں ڈالتا تو کبھی سیٹ پر گِرا دیتا پھر اٹھا کر واپس منہ میں ڈالتا مگر اسکی کاروائی ماں کو دیکھتے ہی رُک گئی ارحم نے چابی چھوڑ کر دونوں بازو آگے کر کے آواز نکالی مطلب کے اسے گودھ میں لے مگر مایل نے اسے آنکھیں دیکھائیں۔۔۔۔۔۔۔
” وہیں بیٹھے رہو پھر یہ چائے ساری مجھ پر گرا دوگے ” وہ اسے گھورتے بولی مگر ارحم بھی اپنے نام کا ایک تھا چُپ نہ ہوا۔۔
زریق بھی تب تک آگے آچکا تھا اس نے ارحم کو اٹھایا اور ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھ گیا ارحم کو اس نے اپنی گود میں بٹھا لیا۔۔۔
” مایل یہ ٹوسٹ کھا لیں پھر ٹھنڈے ہوجائیں گئے ” مایل نے اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا اور حیران رہ گئی یہ تو اس نے آتے ساتھ دیکھا ہی نہیں اس کی پہلی نظر تو ارحم پر ہی پڑی تھی مگر وہ حیران اس بات پر بھی تھی کہ زریق بن کہے کیسے اسکی ہر بات سمجھ لیتا ہے؟؟؟؟ آگے ڈیش بورڈ پر رکھی ڈسپوسیبل پلیٹ میں دو ٹوسٹ پڑے تھے ایک وہ اٹھا کر چائے کے ساتھ کھاتی رہی ۔ زریق آہستہ ڈرائیونگ کر رہا تھا جب کے ارحم اسٹرنگ پر ہاتھ مار کر اسے ڈسٹرب کر رہا تھا مایل جب چائے ختم کر چکی تو ارحم کی طرف اپنی دونوں باہیں پھیلائیں اور وہ تو اسی انتظار میں تھا جھٹ سے اگلے پل وہ ماں کی گودھ میں پُرسکون بیٹھا اب اسے بےسکون کر رہا تھا۔۔۔
مایل نے دوسرا ٹوسٹ اٹھایا جسے وہ خود بھی کھا رہی تھی اور اس میں سے انڈا نکال کر تھوڑا قطرے جتنا ارحم کے منہ میں ڈال رہی تھی جب کے ارحم اسکے گلے میں پہنی چین کے ساتھ کھیل رہا تھا۔۔۔۔۔
” آپ چاہیں تو وہاں رہ سکتی ہیں!!!۔۔۔۔۔ ” ارحم کی کھلکھلاہٹوں میں زریق کی بھاری آواز گونجی۔۔۔۔
” مجھے آپ کا بھائی زہر لگتا ہے ” وہ خود کو کہنے سے روک نہ پائی اسکی بات پر زریق کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آن ٹھری۔۔۔۔
” اور میں؟؟؟؟ ” ڈرائیونگ کرتے ایک پل کو اس نے گردن موڑ کے مایل کو دیکھا جو اسے خود کی طرف تکتا پاکڑ بوکھلا گئی اور ارحم کو آنکھیں دیکھائیں جو اسکی گودھ میں کھڑا ہوکر اسکے کندھے پر ایک ہاتھ سہارے کے لئے رکھے دوسرے ہاتھ سے مایل کے کان میں پہنی ائیرنگ پر ہاتھ مار رہا تھا۔۔۔۔۔۔
” طوبہ ہے آپ کا بیٹا ابھی کھڑا ہونا آتا نہیں اور سہارے لیکر اپنے کارنامے دیکھا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔ ” وہ اسکی بات کو گول کر گئی اور ارحم کو کمر پر ہلکی سی دھپ لگائی جس سے وہ سنبھلنے کے لئے مایل کے اوپر گرا اور مایل کے دونوں کندھوں پر ہاتھ جما کر خود کو گرنے سے روکا پر اس سے پہلے ہی مایل اسے اپنے دونوں بازؤں میں تھام چکی تھی۔۔۔۔اسکا چہرہ اپنے چہرے سے قریب کرتے مایل نے اسکی ٹھوڑی اپنے ہونٹوں میں دبا لی وہ کھلکھلا رہا تھا پھر مایل نے اسکے گالوں کو سختی سے چوما۔۔۔جسکی سفید رنگت میں سرخی گل گئی تھی اب۔۔۔۔
بےساختہ مایل نے اسے خود میں بھینچ لیا۔۔۔۔
” آپ نے بتایا نہیں ” زریق جو ڈرائیونگ کرتے دوران اسے ہی دیکھ رہا تھا ایک بار پھر مخاطب کر بیٹھا۔۔۔۔
ماں بیٹے کی محبت تو وہ دن رات دیکھتا تھا۔۔
مایل نے اسکے سوال پر ایک نظر زریق کو دیکھا پھر اپنے بیٹے کو اور اسکی آنکھیں چومتے وہ محبت سے بولی۔۔
” حسین زندگی۔۔۔۔۔”
وہ مسکرایا۔۔۔۔۔۔۔۔
” آپ کو یہ مجھے سمجھانے والے انداز میں بتانا چاہیے تھا۔۔۔ ” وہ اسکی بات کا مطلب سمجھ نہ سگی بس سوالیاں نظروں سے اسے دیکھنے لگی جو اب سنجیدگی سے ڈرائیونگ کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔
” میں آپ کو کب سمجھ پاؤں گی؟؟ ” وہ ہولے سے بڑبڑائی اور اپنے بیٹے کو ایک بار پھر وہ اپنے سینے میں بھینچ گئی۔۔۔
——–——————-
وہ کب سے ڈریسنگ ٹیبل کے آگے کھڑا اپنا بال کومب کر رہا تھا کے باتھروم سے نکلتی زونیشہ اسکی کاروئی دیکھ کر بیڈ پر آکر بیٹھ گئی وہ نہا کر نکلی تھی آج مایل نے آنا تھا اسلئے اسے شاید بعد میں ٹائم نہ ملے اوپر آنے کا اسلئے وہ ابھی ہی تیار ہوکر نیچے جانے کا سوچ رہی تھی اسے سوچوں میں گم دیکھتے المیر جو کب سے اسکا انتظار کر رہا تھا کنگی رکھ کے اسکے پاس بیٹھ گیا۔۔۔
زونیشہ پزل سی ہوگئی وہی اسکی کلون کی مہک آس پاس بھکر گئی۔ اور وہ نظریں جھکاتی اس سے پہلے ایک پل کو دونوں کی نظریں ملیں۔۔ وہ تو آنکھوں میں ایک جہاں آباد کیے اسے دیکھ رہا تھا مگر زونی نے پلکیں جھکا دیں۔۔۔
” آئی ایم سوری۔۔۔۔۔ ” اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامے وہ کہ رہا تھا کل کے اپنے رویے پر وہ شرمندہ تھا۔۔۔۔۔۔
” تمہاری خاموشی نے مجھے غصّہ دلا دیا!!!! پتا نہیں کیوں خود تمہیں تکلیف دوں وہ یاد نہیں رہتا اور دیکھو پل بھر کی تمہاری بےرُخی برداشت نہ ہوئی ” وہ کہ رہا تھا اسے اپنی نظروں کے حصار میں لیے جب کے زونیشہ کی نظریں ویسی ہی جھکی رہیں۔۔۔۔۔
” تم بہت بدل گئی ہو!!! اتنی برداشت کہاں سے لاتی ہو؟؟؟ ایسا لگتا ہے تم پُر سکون ہوکے مجھے بےسکون کر گئیں ” وہ سہی کہ رہا تھا۔ اسکا ہاتھ ہلکے ہلکے لرز رہا تھا وہ بےارادہ پیچھے کھسک رہی تھی اسکی حرکت المیر سے پوشیدہ نہیں رہ سگی۔۔۔۔۔۔۔
” ٹھیک ہے تمہیں ایسے مجھ سے بدلے لینے ہیں تو مجھے منظور ہے۔۔۔۔ ” وہ اس سے خوف کھا رہی تھی؟؟؟ جو اسکی پناہ میں خود کو محفوظ سمجھتی تھی؟؟؟ اس سے بڑی اذیت المیر کے لئے اور کیا ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔
” نہیں جانتا کن لفظوں میں تم سے کہوں!!!!! مگر ایک خوائش ہے ویسے ہی مجھ سے شکوہ کرو پوچھو میں نے تمہیں کیوں نظر انداز کیا ” اسکے ہونٹ ہلے تھے مگر وہ کہ نہ سگا بس اسے دیکھے گیا جو واقعی ” خود ” سے اور ” اس ” سے لاپروا ہو چکی تھی۔
وہ شاید اسکے جانے کے انتظار میں تھی المیر نے بھی اسے مزید اذیت نہیں دی اسکا ہاتھ چھوڑ کر کمرے سے ہی نکل گیا بلکے بغیر ناشتہ کیے گھر سے ہی نکل گیا۔۔۔۔۔
——–————
——-
” المیر ناشتہ کیے بغیر چلا گیا۔۔۔۔ ” صالحہ نے زونیشہ سے پوچھا جو مایل اور زریق کے لئے آج خاص دیسی کھانوں کا احتمام کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
” پ۔۔۔۔۔۔پتا۔۔۔ن۔۔۔نہیں ” وہ آٹا گوندھ رہی تھی اسکی نظریں جھکی ہوئیں تھیں اب ویسے بھی وہ کم ہی سر اٹھاتی تھی لوگ کہیں اسکی ” آنکھیں ” دیکھ کر اسکا
” اندر ” نہ پڑھ لیں۔۔۔
صالحہ خود چاول چھان رہیں تھیں انکا دیہان اسکی
” ہکلاہٹ ” پر آیا ہی نہیں وہ آج بریانی بنانے والی تھیں جبکے نجمہ کورمے کے لئے مثالا بنا رہی تھی صبح ہی اٹھ کر دس بجے سے وہ کھانے کی تیاریوں میں لگ گئے ناشتہ کر کے مرد تو سب جا چکے تھے سوائے المیر کے۔۔۔۔۔۔
” کمال ہے!!!!! ان لڑکوں کا بھی کوئی حال نہیں شاید آفس میں ہی آج ناشتہ کرنے کا موڈ ہوگا آریز بھی نہیں کر کے گیا تبھی تم سے پوچھ رہی تھی شاید تمہیں بتا کر گیا ہو ” صالحہ نے تفصیل بتائی تو زونیشہ نے گہرا سانس لیا شکر تھا کسی نے محسوس نہیں کیا کے انکے بیچ ناراضگی چل رہی ہے۔۔۔۔
” امی۔۔۔ امی۔۔۔۔ کہاں ہیں آپ؟؟؟ ” مایل باہر سے ہی چیختی ہوئی آرہی تھی باہر صدیق صاحب بیٹھے تھے جو آج آفس نہیں گئے انھیں لاؤنچ میں دیکھ کر وہ مسکراتی ہوئی انکی طرف آئی۔۔
” اسلام علیکم تایا ابو کیسے ہیں آپ؟؟ “
” وعلیکم اسلام۔۔ میرا بچا اب بلکل ٹھیک ہوں تم کیسی ہو اور ہمارا بیٹا کہاں ہے؟؟ ” ان کا اشارہ ارحم کی طرف تھا انہوں نے سلام کا جواب اونچی آواز میں خوش دلی سے دیا وہ اسے دیکھ کر بے انتہا خوش تھے۔۔۔۔۔
وہ کچھ بولتی اس کے پیچھے ہی زریق بھی چلا آیا ایک ہاتھ میں مایل کا بیگ تھا جبکے دوسرے ہاتھ کے بازو میں وہ ارحم کو اپنے کندھے پر لیے ہوئے گھر میں داخل ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔
” زریق بھی آیا ہے؟؟ آج تو رونق ہی رونق ہے۔۔۔ بیٹا یہیں رکھ دو میں آبی سے کہتا ہوں وہ کمرے میں رکھ دے گا ” انہوں نے زریق کو دیکھتے کہا اور بیگ وہیں رکھنے کا کہا زریق نے سائیڈ پر بیگ رکھ دیا اور خود ان سے آکر گلے ملا گلے ملتے ہی صدیق صاحب نے فوراً ارحم کو زریق سے لیا ایک سکون انکی رگ وجاں میں سراہیت کرگیا کتنا شوق تھا انھیں اپنے پوتے پوتیوں اور نواسوں کے ساتھ وقت گزارنے کا انھیں پالنے کا۔۔۔
صدیق صاحب نے زریق کو بٹھایا اور اونچی آواز میں صالحہ سے چائے کا کہا۔۔ مایل تو ان سے ملکر کچن میں آگئی جہاں الگ ہی رونک لگی ہوئی تھی پہلے تو وہ نجمہ سے ملی پھر صالحہ سے ملنے کے بعد محبت سے وہ اپنی پیاری دوست زونیشہ سے ملی وہ اسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی مگر اسکا چہرہ کچھ اور ہی داستان سنا رہا تھا۔۔۔۔۔
” کیسی ہو؟؟؟ ” سر اثبات میں ہلا کر جیسے اس نے مایل کے سوال کا جواب دیا۔ نجمہ نے بھی یہ منظر دیکھا تھا وہ جب سے آئی ہے کافی بدلی ہوئی ہے۔ نجمہ نے کل سے اسکی آواز نہیں سنی نہ وہ انکی طرف دیکھتی ہے۔ حالنکے وہ اتنی قصور وار بھی نہیں تھی۔ اسکی غلطی نہیں تھی مایل تو آج اپنے گھر میں خوش ہے پھر زونیشہ کیسے قصور وار ہوئی؟؟؟ الٹا وہ تو مایل کے آنے سے ہی تھوڑا مسکرائی تھی۔۔ اسکے لئے خاص احتمام کر رہی تھی اور نجمہ نے ہمیشہ اسے لفظوں کے تیر مارے ہیں نجمہ کو تھوڑی شرمندگی محسوس ہو رہی تھی اب تو وہ نجمہ سے بات تک نہیں کرتی تھی ورنہ کبھی کبھی اس سے چیزوں کا پوچھتی تھی اب تو خود ہی بھلے ایک گھنٹہ لگ جائے ڈھوڈنے میں مگر نجمہ سے نہیں پوچھے گی۔۔۔۔۔
نجمہ ان دونوں کو ایک دوسرے میں گم دیکھ کر باہر چلی آئی ایک ٹرالی میں تھوڑا سی ڈیشز ریفرشمنٹ کے لئے لیکر وہ صالحہ کے ساتھ لاؤنچ میں آئی۔۔۔
نجمہ کا داماد آیا تھا آخر ایک ہی تو ہے اس گھر میں داماد تو اس کے لئے کیوں نہ خاص احتمام کریں؟؟؟ وہ ٹرالی لائیں اور انکے سامنے ٹیبل پر صالحہ بھابی کے ساتھ سب رکھتی گئیں۔۔۔
شگفتہ نے چائے بنائی تھی صالحہ نے ناگیٹز اور کباب فرائے کر لئے کچھ بیکری کے بسکیٹس اور رس کیک نان کھٹائی وغیرہ انکے آگے رکھ دیے۔۔
صدیق صاحب اسرار کر رہے تھے لیکن وہ بار بار منع کر رہا تھا کہ ابھی ناشتہ کر کے آیا ہے لیکن صدیق صاحب کے اسرار پر آخر کو اس نے ناگیٹس اور کباب لیے۔۔۔۔
نجمہ ارحم کو لیتے ہی دیوانوں کے طرح پیار کرنے لگیں جلدی ہی وہ بچا گھبرا کر رونے لگا تو نجمہ اسے کچن میں مایل کے پاس لے آئیں۔۔۔۔۔
انہیں امید نہیں تھی کہ انکی آمد غلط وقت پر ہوئی تھی۔ زونیشہ مایل کے سامنے اپنے آنسوں پیتے نجانے کیا دھیرے سے کہ رہی تھی کے ارحم کی روتی آواز سن کر وہ دونوں چونک اٹھیں مایل نے آگے بڑھ کر نجمہ کی گود سے ارحم کو لے کر چُپ کرایا جبکہ زونیشہ اب پھر اپنے کام میں مگن ہو گئی۔۔
اس کی آنکھوں کی ہلکی نمی نجمہ سے پوشیدہ نہ تھی جبکے ارحم ماں کے گود میں آتے ہی خاموش ہو گیا تھا۔ وہ مایل کے کندھے پر ہی سر رکھے سسکیاں لے رہا تھا اور مایل اسکی پیٹ تھپک رہی تھی۔۔۔۔
” امی گھر میں اکیلا ہے تو یہاں اتنے سارے لوگوں کو دیکھ کر گھبرا گیا۔۔۔۔۔ ” مایل نے مسکراتے ہوئے کہا جب کہ نجمہ خاموشی سے واپس پلٹ گئی مایل اب دوبارہ زونیشہ کے پاس چلی آئی۔۔۔۔
” تم کب فارغ ہوگی؟ میرے کمرے میں چلتے ہیں کچھ دیر۔۔۔۔ “
” بس ہونے والا ہے۔۔۔ ” مایل چونک اٹھی وہ جو اندازہ لگا رہی تھی سہی تھا۔۔۔۔
” میں ایک کال کر کے آتی ہوں۔۔ ” مایل کہتے ہی فوراً کچن سے نکل گئی کچن سے نکلتے ہی راستے میں اسکا ٹکراؤ زریق سے ہوا۔۔۔۔۔۔
——–——————-
” بلو کوٹ ان کیتھ لیب۔۔ بلو کوٹ ان کیتھ لیب۔۔۔۔ ” ہسپتال میں یہ انائوسمنٹ سن کر ایک لمحے کو اسکا دل کانپ اٹھا۔ وہ کچھ دیر پہلے ہی اوٹی (آپریشن تھیٹر)کی فارمیسی میں آئی تھی۔ اس کی دوست فاطمہ یہاں ہوتی تھی وہ اسے ایک انسٹرومنٹ دینے آئی تھی۔ نیچے کوئی تھا نہیں جسکے ہاتھ وہ بھجوا سگے اور پیشنٹ کی حالت خراب تھی۔ تبھی وہ یہاں خود دینے آئی تھی ویسے بھی نیچے والی ان پیشنٹ فارمیسی تھی جہاں ایک شفٹ میں چار لڑکیاں ہوتی ہیں جب کے اوٹی میں ایک ہی لڑکی ہوتی ہے ایک شفٹ میں۔ وہ دیکر اب واپس لوٹ رہی تھی کے ” بلو کوٹ ” کی آنائوسمنٹ ہوگئی اسکا مطلب تھا پیشنٹ کریکیٹیکل ہے جیسے ہی بلو کوٹ آنائونس ہوتا سب نرسسز، اسٹاف اُس جگہ آجاتے جہاں پیشنٹ کریٹیکل تھا سب اس کی حالت سنبھالنے لگتے۔۔
اس نے دل سے دعا کی جو بھی تھا ” اللّه ” اسے زندگی دے۔ دل جو کانپ اٹھا تھا اب اپنی اسی پوزیشن میں لوٹ آیا تھا وہ اوٹی سے نکل کر نیچے جا رہی تھی کے اوٹی کے راستے میں کیتھ لیب تھی اسے دروازے سے باہر جاتا دیکھ ایک اوٹی ٹیکنیشن نے روکا۔۔۔۔۔
” میڈم “
” جی ” وہ اسکے پکارنے پر وہیں رکھ گئی۔۔
” کیتھ لیب میں مریض کی ڈیتھ ہو چکی ہے!!! اسکے گھر والوں نے ہنگامہ کیا ہے ابھی ایک ڈاکٹر پیٹا ہے آپ نہ جائیں باہر آپ نے سفید کوٹ پہنا ہے۔۔۔” اسکی بات سن کر مومنہ کی آنکھیں حیرت کے مارے پھیل گئیں سفید کوٹ مطلب اسے بھی ڈاکٹر سمجھ کر ماریں نہ۔۔۔۔ ابھی ابھی تو بلو کوٹ آنائونس ہوا تھا پھر ڈیتھ اتنی۔ جلدی کیسے؟؟ یکدم اسکے ہاتھ میں پکڑا موبائل بج اٹھا مومنہ نے نمبر دیکھا تو اسکے بھائی کی کال تھی یقیناً وہ باہر انتظار کر رہا ہوگا۔۔۔مومنہ کو سمجھ نہ آیا کیا کرے۔۔
” یا اللّه میری مدد فرما۔۔۔ ” بےساختہ اسکے منہ سے نکلا تبھی سامنے سے آتے زاکون حیدر کو دیکھ کر وہ چونک اٹھی جو اسے دیکھتے ہی نیچے جانے کے بجائے اب اسکی طرف آرہا تھا۔۔۔۔
وہ دور سے اسے غور سے دیکھ رہی تھی چہرے پر ماسک لگا تھا وہ کیتھ لیب سے ہی نکلا تھا شاید وہ بھی پیشنٹ کو اسٹیبل کر رہا تھا۔ اسکا ایک ایک قدم مومنہ کے دل کی دھڑکن بڑھا رہا تھا وہ پُراسر شخص دسترس سے کتنا دور تھا۔۔۔۔
” آپ یہاں؟؟؟؟ “
اسے یہاں اوٹی کی فارمیسی میں دیکھ کر زاکون نے پوچھا۔ اس فارمیسی میں تو وہ دوسری دو لڑکیوں کو دیکھا کرتا تھا اکثر جب ان کا کام پڑتا تھا وہ اوٹی میں آتے تھے لیکن کبھی بھی اس نے مومنہ کو اوپر کی فارمیسی میں نہیں دیکھا اس لیے اس کا چوکنا مناصب تھا۔۔۔
” جی وہ۔۔۔ ” وہ ہچکچائی اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی اوٹی ٹیکنیشن نے ساری بات زاکون کو بتائی۔ زاکون کی نظر اس کے مسلسل بجتے فون پر گئی تو اس نے ابرو اچکایا گویا پوچھ رہا ہو اٹھا کیوں نہیں رہی؟؟
” وہ میرا بھائی مجھے لینے آیا ہے اور مجھے سمجھ نہیں آرہا میں نیچے کیسے جاؤں؟؟؟ ” وہ رو دینے کو تھی زاکون نے ایک نظر اس کے پریشان چہرے کو دیکھا اور پھر نہایت دھیمے لہجے میں کہا۔۔
” میرے پیچھے آؤ۔۔۔ ” وہ اچھا خاصا لمبا چوڑا تھا مومنہ تو اس کے وجود کے پیچھے بالکل چُھپ سی گئی تھی لگ ہی نہیں رہا تھا کہ کوئی اس کے پیچھے آرہا ہے وہ احتیاط سے اسے اپنے ساتھ لے جا رہا تھا ایک ہاتھ پیچھے کرتے وہ اسے پروٹیکٹ کر رہا تھا۔۔۔ اس کا ہاتھ مومنہ کے بازو سے ٹچ ہو رہا تھا لیکن اسے اس وقت پرواہ نہیں تھی اسے بس نیچے تک پہنچانا تھا۔۔
وہ جیسے ہی کیتھ لیب سے گزرے وہاں دو آدمی ڈاکٹرز اور مینیجر سے لڑ رہے تھے۔۔۔۔
” ایک روپیہ نہیں دیں گئے تم جیسے حرام خوروں کو۔۔ میرے جوان بیٹے کو مار دیا۔۔ اسکی حالت اتنی خراب نہیں تھی جتنی تم لوگوں نے کر کے اسے مار دیا۔۔ ” اس شخص کا باپ مسلسل روئے جا رہا تھا ماں الگ بددعائیں دے رہی تھی انہیں اور وہ انہیں سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے۔۔۔۔۔
جنہوں نے اپنا جوان بیٹا کھویا ہو انہیں کون سی دلیلیں دے کے یہ لوگ قائل کر سکتے تھے؟؟؟ اور آخر کار وہ لوگ یہاں ہنگامہ کرنے میں کامیاب بھی ہوگے۔۔
زاکون خاموشی سے مومنہ کو اپنے پیچھے لا رہا تھا جب وہ لوگ کیتھ لیب سے باہر نکلے اس نے مومنہ کو کہا کہ وہ اب آگے ہوکر چلے وہ اس کے پیچھے آرہا ہے۔ کیتھ لیب سے نکل کر اب خطرہ ٹل چکا تھا وہ اسے آگے جانے کو اس لیے کہہ رہا تھا کہ اسے بھی اپنی وارڈ میں واپس لوٹ کر صفائیاں دینی ہیں۔ جس پیشنٹ کی ڈیتھ ہوئی اسے اسٹیبل کرنے میں وہ بھی شامل تھا کیونکہ وہی ٹیم لیڈر تھا۔ اسے فارمیسی کے باہر پہنچا کر وہ واپس اوپر آگیا اپنی واڈ “سی سی یو میں ” جہاں کا ماحول یکدم ہی خراب ہوچکا تھا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔