Wo Ajnabi by Yusra readelle50025 Episode 33
Rate this Novel
Episode 33
” زونیشہ کی طبیعت اب کیسی ہے۔۔۔۔ ” حیدر مرتضیٰ نے صالحہ کو دیکھتے پوچھا جو کھانے کے بعد اب چائے سے لطف اندوز ہو رہیں تھیں۔۔۔
” اب ٹھیک ہے الحمدللہ!!! ابھی بس اُسی کے لئے کھانا لیکر جاؤں گی پہلے گئی تھی تو وہ عشاء کی نماز ادا کر رہی تھی “
” ہمممممم ” انہوں نے ہنکار بھرا۔۔ نجمہ سب کو خوشی خوشی بتا رہی تھیں کل مایل آئیگی جسے سن کر سب سے زیادہ خوشی شگفتہ کو ہی تھی کیونکہ شگفتہ مایل کو کب سے اصرار کر رہی تھی کہ ایک دفعہ آجائے تاکہ وہ لوگ عزاہ کے گھر جاکر تاریخ لے آئیں اور مایل خود عزاہ سے بھی بات کر لے گی تو بہتر ہوگا ورنہ انکے سامنے وہ ہچکچائے گی۔۔۔۔۔۔۔
صدیق صاحب کا کہنا تھا اگلے ماہ ہی ہو سکے تو زاکون اور آریز کی ساتھ شادی کردیں ورنہ باپ کی عمر میں وہ لوگ اپنے ہی بچوں کے دادا دیکھیں گئے۔۔۔۔۔
” بھائی صاحب زاکون کا سمجھ نہیں آتا کیا کروں؟؟؟ اس کے معاملے میں ہم سب ہی بے بس ہیں آخر وہ کس کی سنتا ہے؟؟؟ ” حیدر مرتضی نے ایک نظر اپنی بیوی کا اداس چہرہ دیکھا اور اگلے ہی لمحے جیسے سوچ لیا آج زاکون سے بات کریں گئے۔۔۔۔
پر انہیں کوئی بھی اس وقت نظر نہیں آیا اور حیدر مرتضی جانتے تھے وہ سب کہاں ہیں؟؟؟
اکثر حیدر مرتضیٰ اس وقت چائے کے دوران سب کی کلاس لیتے تھے کوئی نہیں جانتا انکے دماغ میں کب کیا نیا سوال آجاے اسلئے ینگ پارٹی تو انکے ساتھ اس وقت بیٹھتی ہی نہیں تھی۔۔۔۔۔
سب لان میں اپنی محفل جمائے ہوتے ہیں اس وقت بھی ایسا ہی تھا وہ چاروں گارڈن میں رکھی کرسیوں پر بیٹھے تھے۔۔۔۔۔
انکا آج کا موضوع گفتگو کرکٹ تھا جس سے شاز اُکتا چکا تھا وہیں زاکون کو کسی سوچ میں پاکر شاز نے پوچھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” زکی بھائی آپ کیا سوچ رہے ہیں ” وہ جو گہری سوچ میں گُم تھا اپنا نام پکارے جانے پر چونک اٹھا۔۔۔
” آ۔۔۔ کچھ نہیں بس ایسے ہی ہسپتال کی ایک پریشانی تھی۔۔۔ ” زاکون نے جیسے بات ہی ختم کردی پر شاز بھی اپنے نام کا ایک تھا۔۔۔۔۔۔
” آپ اس لڑکی کے بارے میں سوچ رہیں ہیں؟ مومنہ نام ہے نہ اُسکا؟؟؟ مجھے معلوم ہوا تھا وہ میٹھائی لائی تھی ” شاز نے مسکراہٹ روکنے کے لئے ہونٹ کا کنارہ دبایا المیر اور آریز جو میچ پر بحث کر رہے تھے نام ” مومنہ ” سن کر وہ بھی انہی کی طرف متوجہ ہوگئے۔۔۔۔
” بہت زبان نہیں چل رہی؟؟ ایسا کچھ نہیں ہے۔۔ ” وہ دبے دبے سخت لہجے میں بولا۔۔۔۔
” تو آپ غصّہ کیوں کر رہے ہیں؟؟؟ میں تو بس پوچھ رہا
ہوں ” زکی نے اسے گھورا تو وہ گھبرا کر چُپ ہوگیا۔۔۔
” ویسے اندازہ تم نے سہی لگایا ہے!!! پتا لگ رہا ” المیر بھی چُپ نہ رہ سگا وہ واقع تو اسکے سامنے ہوا تھا۔ اوپر سے زاکون کا غصہ اس بات کی گواہی دے رہا تھا کے شاز نے کہیں نہ کہیں اسکی نس پکڑی ہے۔۔۔۔
” تمہاری بیوی کیسی ہے؟؟؟؟ ” زاکون نے طنزیہ انداز میں پوچھا۔ آنکھوں میں واضح تنبیہ تھی کہ اب جواب دو۔۔
” ٹھیک ہے شکریہ آپ کا ” وہ جیسے جل بن گیا اب جانتا تھا زاکون اس پر طنز ضرور کرے گا۔۔۔۔۔۔
” کتنا ڈرا کر رکھا ہوا ہے آئے ایک گھنٹہ نہیں ہوا بخار چڑ گیا۔۔۔۔ میکے میں ٹھیک تھی بیچاری ” زاکون اس پر طنز کرنے سے باز نہیں آیا المیر نے یہ کڑوا گھونٹ بی پی لیا کیونکہ وہ کہہ تو سچ رہا تھا۔۔۔۔۔
” میری جدائی میں وہیں سے بیمار ہو کر آئی ہے بس ” ڈائیگنوس ” (diagnose) یہاں ہوا ہے ” وہ اپنے اوپر الزام سہنے کو تیار نہ تھا اس نے بات کو کوئی اور ہی رنگ دے دیا زاکون اس کی چالاکی پر دیکھتا رہ گیا۔۔۔۔۔۔
” ہاں تمہارے لئے تو مری جا رہی تھی۔۔۔ ” زاکون نے جل کر کہا۔۔۔
” وہ تو آپ نے خود دیکھا تھا۔.۔۔۔۔۔” زاکون نے دانت پیسے اسکے دماغ کا میٹر ہی گھوم گیا ہے بیوی کی جدائی میں خود ہی وہ ذہنی مریض بن چکا ہے جو دل میں خوش فہمیاں پالے ہے ورنہ زاکون کو اندازہ تھا دونوں کے بیچ کوئی کھنچائو تو ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
زونیشہ مایل کی دوست تھی اور یہ ایک رات کی بات ہے جب المیر اور زونیشہ کا رشتہ پکا ہو چکا تھا تب مایل اس کے پاس آئی تھی رات کے پہر۔۔۔۔ روتی ہوئی اس سے فریادیں کر رہی تھی کہ وہ کسی طرح المیر سے کہے کہ وہ یہ شادی نہ کرے۔۔۔
زاکون اس کی معصوم خواہش پر بس اسے دیکھتا رہ گیا وہ اُس وقت یہی سمجھا تھا کہ مایل شاید المیر سے اس حد تک اٹیچ تھی کہ کسی تیسرے کا وجود اسے برداشت نہیں تھا مگر بات ہی کچھ اور نکلی ہاں اُس دن ذاکون حیدر کو پتا لگا مایل المیر سے محبت کرتی تھی مایل میں اسے کہیں نہ کہیں وہی مومنہ روتی ہوئی نظر آئی جو کبھی اسے مہندی کی رات آس بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی اور وہ اسے ٹھکرا کے چلا گیا تھا۔۔۔۔
پر مایل کی فریادوں پر زاکون نے المیر سے بھی بات کی تب زاکون کو اندازہ ہو گیا کہ محبت صرف یکطرفہ ہے۔۔ مایل کی طرف سے ہے۔۔۔۔۔ المیر کو تو وہ بہنوں کی طرح عزیز تھی اور رشتوں میں ملاوٹ المیر کو پسند نہ تھی۔۔۔
جب وہ بات کر رہا تھا تب بھی زاكون کو المیر کے غصے سے اندازہ ہو گیا کہ دونوں کا نام جوڑنا ہی کس قدر المیر کو اذیت دیتا ہے اسے خود سے گن آنی لگتی ہے۔۔۔۔۔
” بھائی کچھ کہنا نہیں آپ بھی طنزیہ فقرے سے نوازیں المیر کو۔۔۔۔ ” آریز کی آواز پر زاکون جو المیر کی سوچ میں محو تھا سوچوں کے تسلسل سے باہر لوٹا۔۔۔۔۔۔
” میری بس ہوگئی۔۔۔ ” المیر بےبسی سے مسکرایا بس تو اسکی بھی ہوگئی تھی المیر نے زاکون کے کندھے پر جانے کس جذبے سے ہاتھ رکھا۔ اسکی آنکھوں میں ویرانی دیکھ زاکون سمجھ گیا تھا حالات کچھ بہتر نہیں۔۔۔۔۔
زونیشہ مایل کی دوست تھی اور اسے اج تک وہ دن یاد ہے جب زونیشہ اور المیر کی شادی کی ڈیٹ فکس ہوئی تھی تب مایل روتی ہوئی اس کے پاس آئی تھی اس سے فریادیں کر رہی تھی کہ وہ المیر کو اس شادی سے روک دے۔ مایل کو فریادیں کرتے دیکھ زاکون کو وہی مہندی والی رات یاد آئی جب مومنہ اسے آس بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی اور وہ اسے ٹھکرا کر وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔
زاکون نے المیر کو سمجھایا تھا اسے اپنی مثال دی تھی مگر المیر سے بات کر کے زاکون کو اندازہ ہو گیا کہ محبت صرف یکطرفہ ہے۔۔۔۔ مایل کی طرف سے ہے اور المیر کے لیے خود سے جُڑا مایل کا نام کسی شرمندگی سے کم نہیں۔۔۔ کیونکہ وہ اسے بہنوں کی طرح عزیز تھی یہاں تاکہ جب دونوں کا نام کوئی جوڑتا تھا المیر کو خود سے گن آتی تھی۔۔۔۔۔۔۔
اس دن المیر کو زاکون نے بے بس ہوتے دیکھا تھا اسے مایل کی فکر تھی وہ چاہتا تھا مایل زندگی کی طرف لوٹ آئے جو کہ بہت مشکل تھا لیکن کہیں نہ کہیں ارحم کے آنے سے مال مایل مکمل ہو چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
” میری بھی مگر کوشش شروع نہیں کی ” المیر کی بات صرف زاکون ہی سمجھا تھا جبکے آریز اور شاز دونوں کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
” آپ دونوں کی باتیں آپ لوگ ہی جانیں!!! اللّه خیر کرے بھاگو ابو آرھے ہیں ” آریز نے دونوں کو ٹوکا مگر پیچھے سے حیدر مرتضیٰ کو آتا دیکھ آخر میں اس نے دبی دبی آواز میں سب کو تنبیہ کی اور حیدر مرتضی کا سن کر سب کو ہی جھٹکا لگا سب سے پہلے وہاں سے بھاگنے والا شاذ تھا جو واک کے بہانے حیدر مرتضی کو دیکھے بغیر ہی پلٹ کر گیٹ کی طرف چل پڑا اس کے پیچھے ہی المیر بھی نکلا کیونکہ کہیں نہ کہیں اسے یقین تھا کہ وہ ضرور اس سے زونیشہ کا پوچھیں گئے وہ بیگانوں کی طرح کسی کو دیکھے بغیر نارملی اپنے انداز میں چل کر شاز کے پیچھے گیا۔۔۔۔
آخر میں آریز بچا تھا جو دونوں کو کوستا سوچ رہا تھا کیا کرے پھر یکدم سے اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور فون کا بہانہ کر کے وہ بھی ان کے پیچھے نکل گیا۔۔۔۔
پیچھے رہ گیا زاکون جو اٹھا نہیں بلکہ وہیں بیٹھا اپنے باپ کے آنے کا انتظار کرنے لگا آخر سالوں بعد تو ان کے بیچ کی خاموش دیوار ٹوٹی ہے۔۔۔۔۔۔
————-—————*
” تم نہیں بھاگے؟؟؟ ” حیدر مرتضی آکر زاکون کے برابر میں بیٹھ گئے اور ان سب پر طنز کرتے ہوئے بولے جو انہیں دیکھ کر بھاگ گئے تھے۔۔۔۔۔۔
” آپ کی ڈانٹ سنے کے لئے ترس گیا ہوں اسی لئے۔۔ ” وہ نرمی سے مسکرایا۔۔۔۔ حیدر مرتضی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کے بات شروع کی۔۔۔۔
زاکون ان کا سب سے فرمانبردار بیٹا تھا۔۔۔۔
ان کے دل کے بے حد قریب تھا۔۔۔۔۔
ان کی پہلی اولاد تھا
” زکی آٹھ سال کافی ہوتے ہیں دکھ منانے کے لئے۔۔۔ “
” ابو ساری زندگی منائوں پھر بھی لگتا ہے دن کم پڑ جائیں گئے۔۔۔۔ ” وہ تلخی سے مسکرایا۔۔۔ جب کوئی مومنہ کا ذکر کرتا تھا اس کے زخم پھر تازہ ہو جاتے۔۔۔۔
” نہیں!!!!! تم ایک رشتے کی وجہ سے دوسرے محبت کرنے والے رشتوں کو تکلیف دے رہے ہو۔۔۔ تمہاری ماں کا پورا حق ہے کہ وہ پوتے پوتیوں کی خوشیاں دیکھے۔۔ ایک بات بتاؤ ایک نہ ایک دن سب کو اس دنیا سے جانا ہے کل کو تمہاری ماں بستر سے لگ جائے گی اور تم سے خواہش کریگی مجھے اس خوشی سے نوازو تو کیا کرو گے اخری وقت میں؟؟ راتوں رات بچے پیدا کرو گئے؟؟ ” آخر میں ان کا لہجہ سخت ہو گیا۔ زاکون بس خاموشی سے سن رہا تھا انہیں بھی حق تھا کہ وہ اپنا غصہ نکالیں۔ اور وہ جانتا تھا یہ غصہ اس کی ماں کی وجہ سے ہے حیدر مرتضی شگفتہ سے بے انتہا محبت کرتے تھے اول دن سے وہ انہیں عزیز تھیں۔۔۔۔۔۔
” تب تم ایک اور پچھتاوے میں گِر جاؤ گے کہ میں ماں کو یہ خوشی نہ دے سگا؟ کاش میں ان کی پہلے بات مان لیتا۔۔۔۔ زکی زندگی کسی کے لیے رکتی نہیں تمہیں آگے بڑھنا ہے تمہارے بہن بھائیوں کی شادیاں ہو جائیں گی سب اپنی زندگی میں مصروف ہو جائیں گے صرف تم تنہا رہ جاؤ گے۔ زندگی کے ہر مقام پر بیوی کا ساتھ ضروری ہوتا ہے تمہیں بھلے ابھی محسوس نہ ہو رہا ہو لیکن آگے جا کر تمہیں شدت سے بیوی کمی محسوس ہوگی۔ اور آج میں یہاں تمہیں سمجھانے تو آیا تھا پر اب مجھے لگتا ہے مجھے اپنا فیصلہ سنانا چاہیے۔۔۔۔۔ ” زاکون ان سے کہہ نہ سگا کمی تو اسے اب بھی محسوس ہوتی ہے مومنہ کی ہر وقت ہر پل ہر لمحہ —-
” تمہیں کوئی لڑکی پسند ہے تو مجھے بتا دو تمہاری روٹین بہت ٹف ہے تم سے بات کرنے کا مقصد بھی صرف یہی تھا کہ تم سے تمہاری پسند جان سگوں چلو پسند نہ سہی اگر تمہاری نظر میں کوئی لڑکی ہو تو ہمیں بتا دو تم اگر اپنی فیلڈ کی کسی لڑکی سے شادی کر لو تو تمہارے ہی حق میں بہتر ہوگا۔۔۔۔۔ نرسینگ پروفیشن تم چھوڑنا نہیں چاہتے نہ ہمارے ساتھ تم آکر بزنیس میں ہاتھ بٹاتے ہو۔۔۔ اب مہینوں ہو جاتے ہیں تم نہیں آتے جب تمہارا دل کرتا ہے چھٹی کا دن ہوتا ہے تب آکر تم ایک دو پروجیکٹز پہ کام کر کے پھر مہینوں غائب ہو جاتے ہو۔۔۔۔۔۔۔
میں جانتا ہوں تمہارا دل اب افس میں نہیں لگتا جہاں دل لگتا ہے اس کی جس طرح تم فکر کرتے ہو پتا لگتا ہے۔۔۔۔(انکا مطلب ہسپتال تھا) تم نے اس پروفیشن پر اپنے دن اور رات گنوائے ہیں جی جان لگا دی ہے جب تمہیں اسی پروفیشن میں رہنا ہے تو تمہارے حق میں یہی بہتر ہے کہ تم وہیں کی کسی لڑکی کا انتخاب کرو اس طرح یہ ہوگا کہ وہ تمہارے اوقات سے واقف ہوگی تمہاری ٹف روٹین کو سمجھے گی اور تمہارا ساتھ دیگی۔۔۔۔۔ “
” میرے خیال سے تو وہ لڑکی بھی اچھی تھی جو بن بلائے میٹھائی لے کر آئی تھی اسے تمہار اپنوں کی اتنی پرواہ ہے یقیناً وہ تمہیں پسند کرتی ہوگی ورنہ اتنی ہمت تو ہم مردوں میں بھی نہیں ہوتی کہ کسی پسندیدہ لڑکی کے یہاں مٹھائی لے کر پہنچ جائیں لڑکی میں ہمت تھی تبھی تو آئی۔۔۔۔ ” وہ تو پہلے ہی مومنہ کے ذکر پر شرمندہ ہو رہا تھا ان کی آخری بات پر تو اس کا چہرہ مزید سرخ پڑ گیا۔۔۔۔
” تم بس ایک کام کر دو اس کا ایڈریس کہیں سے نکلوا لو باقی کام تمہاری امی اور میں کر دیں گے مجھے یقین ہے وہاں سے انکار موصول نہیں ہوگا۔۔۔۔ ” انہوں نے جیسے جیسے اپنا فیصلہ سنایا زاکون نے ان کے علم میں ایک اور بات کا اضافہ کیا۔۔
” اپ کو اس کا نام پتا ہے؟؟؟ “
” نہیں۔۔۔۔ “
” مومنہ۔۔۔ ” حیدر مرتضی کو چُپ لگ گئی۔مگر انہوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ مومنہ کے گھر ضرور جائیں گے لیکن زاکون کو اندازہ تھا جس نے بھی ان کو یہ خبر دی ہے وہ آدھی دی ہے اور وہ کون ہو سکتا ہے زاکون کو اندازہ ہے اس کی خبر تو وہ کر لے کر رہے گا۔۔۔۔۔۔۔
فلحال تو وہ اپنے دل کے بارے میں سوچ رہا تھا وہ اپنے باپ کو کوئی جواب ہی نہ دے سگا اس کی خاموشی بھی انہیں ” ہاں ” لگ رہی تھی۔ اور وہ سوچ رہا تھا جب دل ہی خالی ہو چکا ہے تو کوئی آئے یا جائے کیا فرق پڑتا ہے؟؟؟ لیکن اس لڑکی کی زندگی تو متاثر ہوگی نا تو کیا وہ اس کے ساتھ غلط کر رہا ہے؟؟؟
————-—————***
” امی زونیشہ نے کھانا کھایا؟؟؟ ” اس وقت رات کے دو بج رہے تھے وہ لوگ ابھی واک کر کے لوٹے تھے آتے ساتھ ہی باقی سب تو کمروں میں چلے گئے جبکہ وہ کچن میں چلا آیا جہاں اسکی ماں پہلے سے موجود تھیں۔۔۔۔۔
” نہیں جب کھانا لیکر گئی وہ نہانے چلی گئی تھی تبھی اب گرم کر کے لے جا رہی ہوں۔۔۔۔۔”
” اِس وقت؟؟ ” وہ اس کے نہانے کا سن کر حیران رہ گیا۔۔۔۔۔
” ہاں بخار اتڑا ہے شاید گرمی لگ رہی ہوگی۔۔ ” صالحہ نے عام سے انداز میں کہا جب کہ المیر زونیشہ کو سمجھنے سے قاصر تھا۔۔۔۔۔۔
” اتنی کے دوسری دفع نہانے چلی گئی خیر!! آپ مجھے دیدیں میں لے جاتا ہوں ” اسے واقعی سمجھ نہیں آیا اس لیے وہ صالحہ سے کھانے کی ٹرے لے کر کمرے میں آگیا جہاں وہ آئینے کے سامنے کھڑی گیلے بالوں کو کنگی کر رہی تھی۔۔۔
” آکر کھانا کھالو۔۔۔۔۔۔۔ ” کمرے میں اس کی موجودگی پا کر بھی وہ بے نیاز بنی اپنے الجھے بال سلجھاتی رہی جب وہ بال بنا کر بیڈ پر لیٹنے لگی تو المیر نے خود ہی اسے مخاطب کیا۔۔۔
ایک لفظ کہے بغیر خاموشی سے وہ آکر صوفے پر بیٹھ گئی المیر نے ٹرے اس کی طرف کھسکائی تو اس نے کھانا شروع کیا وہ چھوٹے چھوٹے نوالے لے رہی تھی جیسے پوری رات اسی میں گزار دیگی۔۔۔۔۔۔
المیر نے اسے کبھی کھانا کھاتے نوٹ نہیں کیا تو وہ جان نہ پایا کہ وہ جان کر کر رہی ہے یا وہ کھاتی ہی ایسے ہے۔۔۔۔ وہ اس کی موجودگی سے تنگ نہ ہو اس لیے المیر موبائل نکال کر اس پہ مصروف ہو گیا۔۔۔
وہ کھانا کھا کر جب ٹرے لے کر اٹھ کھڑی ہوئی تو وہ جو موبائل میں خود کو بےنیاز ظاہر کر رہا تھا بول اٹھا۔۔۔۔
” یہیں رکھ دو ابھی۔۔۔۔۔۔ ” اسکے کہنے پر زونیشہ نے ٹرے وہیں رکھ دی مگر قدم آگے نہ بڑھا سگی کیوں کے اسکی کلائی المیر کے مضبوط ہاتھوں کی گرفت میں تھی۔۔۔۔۔۔۔
المیر نے ایک جھٹکے سے کھینچ کر اسے اپنے پاس بٹھایا۔۔۔
وہ سوالیاں نظروں سے اسے دیکھنے لگی تو المیر نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔۔۔۔۔۔
” تمہارے ہاتھ کتنے پیارے ہیں نرم، ملائم۔۔۔۔ ” گلابی مخروطی انگلیاں جس کے نیلز ہلکے سے بڑھے ہوئے تھے مگر صاف ستھرے تھے سفید بلکل ان نرم ہاتھوں کی طرح انہیں اپنے ہاتھوں میں لئے وہ اسے اپنے ہاتھ کی حرارت پہنچانے لگا۔۔۔۔۔زونیشہ پزل سی ہوگئی مگر نظریں نہ اٹھائیں نگاہیں جھکی رہیں۔۔۔۔۔۔ مگر اسکی پُر حدت نظروں سے گال دہک اٹھے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
” مجھے تمہارے کھلے بال بھی پسند ہیں اور نہانے کے بعد گیلے بال کبھی بند نہیں کرتے سر میں درد ہوتا ہے ” وہ اسکے جوڑے میں مقید بال کیچر کی مدد سے کھول چکا تھا۔۔ وہ آج اسے حیران پر حیران کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔
مگر وہ بھی اپنی نام کی ایک تھی کسی بات کا نہ جواب دیا نہ اسے نظر اٹھا کر دیکھا۔۔۔۔۔۔۔
المیر نے یہ محسوس کیا مگر وہ کچھ کر نہیں سکتا تھا آج وہ بےبس تھا!!!!!! المیر نے ایک نظر اسے دیکھا اور نہایت دھیمے لہجے میں بات شروع کی۔۔۔۔۔۔
” کہاں سے شروع کروں زونیشہ؟؟؟ یہ دنیا یہاں بسا ہر انسان سوچتا ہے اسکے ساتھ ظلم ہوا ہے مگر درحقیقت وہ جسکی خوائش میں ہوتا ہے وہ اسکا مقدر نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔
زندگی کے پینتیس سال میں نے کسی سے نہ محبت کی نہ شادی کے بارے میں کبھی سوچا۔ ہاں جب پچیس، چھبیس پر عمر آن پہنچی سوچتا تھا اب تو ماں باپ کو شادی کروانی چاہیے؟؟؟ میرے ہم عمر میرے دوست سب کی آہستہ آہستہ شادیاں ہوئیں۔۔ ان دنوں میری بھی خوائش تھی میری بیوی میرے پاس ہو مگر۔۔۔۔۔۔۔ اس گھر میں بہت سالوں پہلے ایک شادی کے موقع پر جوان موت ہوئی تھی اسکے بعد میری دادی بھی اسی غم میں چلی گئیں۔۔۔۔ پتا نہیں شاید اسلئے ہمارے بڑوں نے شادی کی جلدی نہیں کی یا ہوسکتا ہے ان سب کو اُس ” شادی ” کا گہرا اثر پہنچا ہو۔۔۔۔ انھیں انتظار ہو ہم سب اپنی مرضی سے کریں گئے۔۔۔ بحرِحال میری عمر جب بتیس تک پہنچی تب امی پیچھے پڑ گئیں شادی کرلوں،، ایک دم سے انکے ذھن میں بس میری شادی کا خیال آگیا۔۔۔
ہو سکتا ہے رشتہ داروں کی شادیوں میں جاتے وقت ان میں سے کسی نے کچھ کہہ دیا ہو!!! یا زکی بھائی سے سب نے امید توڑ دی کے کبھی وہ شادی کریں گئے۔۔۔ اسلئے میرا نمبر آگیا مگر تب تک میری جو خوائش تھی دم توڑ گئی مایل مجھے ہر شخص سے بڑھ کے عزیز تھی امی سے سختی سے کہ دیا تھا جب تک مایل کو رخصت نہ کردوں شادی نہیں کرونگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔” مایل کے نام پر بھی المیر نے اسکا چہرے پر کھوجنا چاہا تو کچھ نہیں تھا وہ بس کسی پتھر کی مورت بنی سنتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔ گہرا سانس لے کر اس نے بات آگے جاری رکھی۔۔۔۔۔۔۔
” تم مجھے مایل کے حوالے سے ہی عزیز تھیں جیسے اسکی پریشانی دور کرنا میرا فرض ہے اسی طرح تمہیں بھی جب کسی مصیبت میں دیکھا اپنا فرض سمجھ کر تمہاری طرف بڑھتا تھا۔۔۔۔۔۔تم ہماری پڑوسی بھی تھیں۔۔ کبھی سوچا نہ تھا میرا عمل تمہیں زندگی کے کس رُخ پر لے جائے گا اس میں تمہاری غلطی نہیں تھی ” محبت ” جذبہ ایسا ہے ” برباد ” کرتا ہے تو ” آباد ” بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ تلخی سے مسکرایا۔۔۔۔ بربادی کی ایک مثال تو وہ دیکھتا آرہا ہے ” زاکون حیدر “۔۔۔۔۔ اسکی مسلسل خاموشی المیر کو چُب رہی تھی جانے کس جذبے سے بس وہ اسے پُکار بیٹھا۔۔۔۔۔۔
” زونی!!!!!۔۔۔۔ ” وہ اب بھی ویسے ہی اپنی گودھ میں رکھے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی جب کے دوسرا ہاتھ المیر کے ہاتھوں میں تھا۔۔۔۔۔۔۔
” نہیں دیکھنا مت دیکھو پر سن لو مجبوری میں نہیں نہ بیذاری سے۔۔۔۔۔۔ اب مزید میں یہ دیوار برداشت نہیں کر سکتا!!!!! تمہیں کھو دیا تو جانتا ہوں ساری زندگی صرف پچھتاوا میری قسمت میں رہے گا۔۔۔۔۔۔ یہ سچ ہے میں نے تم سے شادی صرف اسلئے کی کے مایل اپنی زندگی میں آگے بڑھے میں نے تمہارے ساتھ غلط کیا تھا اسکے لے تاعمر شرمندہ رہوں گا مگر یہ سچ نہیں کی میں کسی سے ” محبت ” کرتا ہوں!!!! تمہیں اگنور نہیں کرتا تھا بس تمہیں یہاں لاکر میں بھول گیا میرے ساتھ ایک اور وجود ” جڑا ” ہے۔۔۔ زونی میں ان دنوں اتنا پریشان تھا کے اپنی ہی شادی کی خوشی محسوس نہ کر سگا کوئی جذبہ نہ تھا نہ کوئی خوشی،،، بس ذھن ہی کہیں اور تھا مگر جس دن ہمارا نکاح ہوا یقین جانو نظریں تم سے ہٹ نہیں پارہیں تھیں۔۔۔ شاید وہ سماں وہ لمحہ ایسا تھا اوپر سے پھر وہ نکاح کا وقت۔۔ جب ہم پاک مقدس رشتہ میں جُڑ گئے۔۔۔۔۔وہ وقت یاد کر کے المیر کی اداس آنکھوں میں لمحے کو چمک آئی تھی جو زونیشہ نے نہیں دیکھی۔۔۔
” اسی دن رخصتی ہوجاتی تو تمہیں مجھ سے شکوے نہ ہوتے۔۔۔۔۔ ” اسکا ہاتھ دبا کر وہ مسکرایا مگر پتھر کی بنی اس مورت میں کوئی ہلچل نہیں ہوئی۔۔۔۔۔
” خیر!!!! تم جب رخصت ہوکر آئیں میں تم سے لاپروا ہی رہا تم انجان نہیں کے مایل۔۔۔۔۔۔” وہ کہتے کہتے رُک گیا اب وہ کسی اور کی بیوی تھی۔۔۔ اسے شدید زہر لگتا تھا اپنا نام مایل کے ساتھ جوڑنا۔۔۔۔۔۔۔۔
” اسکی اداس آنکھیں دیکھ کر کبھی اپنا جہاں آباد کر ہی نہ سگا۔۔۔۔خیر مجھے اسکی خوشی عزیز تھی!! پتا ہے زونی۔۔۔۔” وہ جیسے بہت ضبط کیے ہوئے تھا۔۔۔ دل راضی نہ تھا کہنے کے لئے مگر وہ جانتا ہے زونیشہ کسی سے کچھ نہیں کہے گی۔۔۔۔۔۔۔
” میں اسکی پروا کیسے نہ کرتا؟؟؟ جس نے بہن کی موت سے زیادہ میرے دکھ میں آنسوں بہائیں ہیں وہ بہت روئی ہے اسکی چیخیں میں نے دروازے کے باہر تک سنی ہیں!!!! اپنی ماں سے بہت مار بھی کھا چکی ہے!!! کبھی کبھی سوچتا ہوں انسان کتنا بےبس ہے مجھے اس سے
” محبت ” کبھی ہو ہی نہیں پائی۔۔۔۔ اور کہیں یہ میری
” سزا ” تو نہیں کے ” احساس ” ہے ” محبت ” نہیں۔۔۔ ” وہ تلخی سے مسکرایا پہلی بار زونی نے نظر اٹھا کر خالی خالی نظروں سے اسے دیکھا تو المیر سٹپٹا گیا کہیں وہ اسے غلط نہ سمجھے۔۔۔۔۔
” زریق اسکے لئے ڈیزرونگ ہے دونوں ساتھ میں مکمل لگتے ہیں اور دیکھو انھیں ” ارحم ” نے آکر مکمل کردیا۔۔۔۔۔” اس نے کہا دل سے تھا لیکن شاید زونیشہ کو بناوٹی لگا وہ واپس نظریں جھکا کر اس سے بیگانہ ہوگئی۔۔۔۔۔۔
” زونی کبھی کبھی زندگی کی تلخ حقیقت کو ایکسیپٹ کرنا بھی بہت مشکل ہے میں تمہیں آج ایک بات سے آگاہ کر رہا ہوں آج کے بعد میں ہمارے بیچ ” مایل کا نام ” کبھی نہیں سنوگی۔۔۔
مجھے ایسا کہنا نہیں چاہیے وہ کسی اور کے نکاح میں ہے مگر ” اگر وہ میری زندگی میں ہوتی بھی نہ زونی یقین کرو مرد کا انتقام بہت خطرناک ہوتا ہے میں نے کبھی اُسے اُس نظریے سے دیکھا ہی نہیں ہے میرے دل میں کبھی مایل جیسے جذبات پیدا ہی نہیں ہوئے پتا نہیں کب وہ کیسے اِس محبت کی زنجیر میں قید ہو گئی۔۔۔ بڑوں کو,, لوگوں کو لگتا ہے شادی کے بعد ساتھ رہیں گے بچے ہو جائیں گے صلح ہو جائے گی۔۔۔۔۔۔ بچے تو ہو جاتے ہیں زونی لیکن وہ ” صلح ” کبھی نہیں ہوتی میں نے اپنی آنکھوں سے لوگوں کی بربادی دیکھی ہے ماں باپ شادی تو کروادیتے ہیں لیکن پھر بچے خوش نہیں رہ پاتے جب اس کی محبت جانے کے باوجود بھی میرے دل میں اس کے لیے ویسے جذبات نہیں آئے تو تم خود سوچو اگر شادی ہو بھی جاتی تو کیا ہوتا؟؟؟ کچھ نہیں صرف بربادی ہوتی۔۔۔۔ اور میں دو طرح کے گلٹ میں ہوتا ایک تو یہ کہ محبت نہیں ہو پائی،،،، دوسرا اس سے انتقام لیتا۔۔۔۔۔۔ میں خود کو انسانیت کے درجے سے گرا دیتا!!!! کسی پر ظلم و ستم کر کے۔۔۔ زونی میں اسے خوش دیکھنا چاہتا ہوں مگر میرے ساتھ نہیں!!! اور دیکھو وہ خوش ہے پر میرے ساتھ نہیں ” تو تم جان لو ہماری آخری ملاقات میں بھی اس کے آنسوں کی وجہ سے میں بے بس ہوا تھا مجھے یہ سوچ کھائے جا رہی تھی کہ اس نے میری وجہ سے اپنا بچہ گنوا دیا تم یقین مانو جب میں نے اسے ہسپتال میں اُس حالت میں دیکھا تھا میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔۔ تم خود بتاؤ میں کیا کرتا اُس وقت؟؟؟؟ میرے ذہن میں اُس وقت صرف کسی کی برباد زندگی گھوم رہی تھی اور تم مجھ سے اپنا جہاں آباد کرانے آئیں تھیں میں یہ بھی جان گیا ہوں کہ تمہیں شاید ڈر ہوگا لیکن زونی وہی بات کہ ہمیں اپنے دکھ یاد ہوتے ہیں لیکن دوسروں پہ گزرے دکھ نہیں۔۔۔ن تم بھی اُس وقت اپنے دُکھ میں تھی ںاور میں بھی کسی اور کے دُکھ میں دُکھی تھا اور یقین مانو زونی اب میں اس فیس سے نکل آیا ہوں وہ بہت خوش ہے مجھے گلٹ تھا لیکن اب وہ گلٹ کم ہو چکا ہے۔۔۔۔ ” المیر صدیق مجھے اتنا برباد کرنے کے بعد بھی آپ کہ رہے ہیں کے ” گلٹ کم؟؟؟ ” یعنی ختم نہیں ہوا؟؟؟؟؟ مجھ سے آپ ” ہماری ” نہیں ” مایل اپنی “
باتیں کر رہے ہیں جب اُسکا دکُھ تھا تو آپ کو کس نے حق دیا تکلیف دوسروں کو دو؟؟؟؟؟
آپ کے آج کے لفظوں نے مجھے اذیت کے سوا کچھ نہیں دیا۔ اسکی خاموشی سے المیر کا دماغ گرم ہو رہا تھا وہ کن لفظوں میں اسے قائل کرے۔۔۔۔
ایک ہاتھ المیر کے ہاتھ میں تھا۔۔۔۔۔
جبکے دوسرے ہاتھ کی پشت المیر نے اسکے گال پر پھیری زونیشہ نے ضبط کرتے آنکھیں بند کرلیں۔۔۔۔۔۔
” کاش آج بھی وہ اپنے گھر میں اپنے کمرے میں ان کتابوں میں مصروف ہوتی جو المیر سے زیادہ وفادار تھیں جو اسے رُلاتی نہیں تھیں اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں آنے دیتی تھیں جو زونیشہ کا ہر غم بھلا گئیں یہاں تک کہ وہ المیر صدیقی کو بھی بُھلا چکی تھی۔۔۔ کتنے سکون و دن تھے تنہا راتیں تھیں۔۔ جب وہ اپنے بستر پر اپنی پسندیدہ ناولز پڑھتی تھی،، آزادی سے سانس لیتی تھی یہاں آئے صرف اسے ایک دن ہوا تھا اور ایسے لگ رہا تھا زندگی اس پر تنگ ہو گئی ہے۔۔۔۔المیر کے لفظوں نے بوجھ کیا کم کیا الٹا بڑھا دیا۔۔۔ پتا نہیں وہ اب اس سے کیا فرمائیشیں کریگا۔۔۔۔۔
” زونی۔۔۔ ” اسے سوچتا پاکر المیر نے لہجے میں محبت سموئے اسے پیار سے پُکارا۔۔۔۔
” ان دنوں یقین مانو میں نے صرف تمہیں سوچا ہے صرف تمہاری خواہش کی ہے کتنی ہی دفعہ میں سوچتا ہوں کہ کاش تم اس وقت میرے پاس ہوتیں اور میں تمہارے وجود سے سکون حاصل کرتا۔۔۔۔” تو کیا ضرورت کے لئے بس اسے زونیشہ کا ساتھ چاہیے؟؟ یا آج وہ اسکے لفظوں کو سمجھنے میں غلطی کر رہی ہے جیسے کبھی المیر نے کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
” تمہیں شاید اس وقت مجھ پر غصّہ ہوگا،، یا شاید نفرت؟؟؟ تمہیں زبردستی یہاں واپس لے آیا!!!!۔۔۔۔ ” وہ اسے بولنے پر اُکسا رہا تھا۔۔۔۔۔۔
” بولو نہ۔۔۔۔ ” اسکا اسرار بڑھتا گیا ہاتھ ابھی بھی اسکے گالوں پر تھا جسے اب جاکر المیر نے ہٹایا۔۔۔۔۔۔۔
” معاف کروگی مجھے؟؟؟ میں تم سے بیگانہ رہا معاف کردو مجھے۔۔۔۔۔ ” وہ التجا کر رہا تھا۔ اگر وہ خاموش رہی تو اسے امید تھی وہ ساری رات اُسے یہاں بیٹھائے رکھے گا زونیشہ نے دھیرے سے سر اثبات میں ہلایا تو پورے عمل میں پہلی بار المیر مسکرایا تھا۔۔۔۔۔
لیکن یہ خوشی صرف ایک پل کی تھی۔۔۔۔۔
وہ ایک لمحے کی خوشی اسے دیکھ کر اسکے اندر جذبات جگا کر آہستہ سے اسکی گرفت سے اپنا ہاتھ چھڑوا گئی۔
وہ اٹھی المیر اسکی ہر حرکت دیکھ رہا تھا وہ واشروم میں جاکر بند ہوگئی دو منٹ بات جب وہ نکلی تو المیر نے ایک گہری نگاہ اس پر ڈالی وہ اپنا چہرہ اور ہاتھ دھو کر آئی تھی۔۔۔۔۔
المیر کی رگیں تک گئیں۔ ٹی شرٹ پہنے وہ ایک ہاتھ کی مٹھی بنائے دوسرا ہاتھ اس مٹھی پر رکھے ضبط کی انتہا پر تھا آنکھوں میں یکدم ہی سرخی بڑھنے لگی۔۔
ہاف سلیوس میں فولادی مسسلز سے اُبھرتی نسیں اسکے ضبط کی گواہ تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا المیر کے لمس سے اُسے اتنی نفرت محسوس ہوئی؟؟ وہ صرف منہ دھونے واشروم گئی تھی۔۔ کیا اسے چیلنج کر رہی ہے؟ یا نفرت کا اظہار۔۔۔۔۔۔
وہ اسکے وجود سے ایسے بیگانہ تھی جیسے کمرے میں کوئی نہیں۔۔۔ٹاول سے چہرہ پونچھنے کے بعد زونیشہ نے اپنے کھلے بالوں کی چوٹی بنائی۔۔ بال تو وہ پہلے ہی سُلجھا چکی تھی ابھی بس ہاتھ سے اس نے جلدی سے چوٹی بنا لی پھر گندے برتن اٹھانے اسکی طرف آئی وہ جتنا خود کو نڈر ظاہر کرتی اتنی ہی خوفزدہ تھی جسکا اندازہ المیر کو اس کی چال سے ہوا۔۔
برتن اٹھانے کو وہ جھکی تو اس کے ہاتھ کپکپا رہے تھے ہونٹ لرز رہے تھے۔۔۔۔ پلکیں بالکل نیچے کو جھکی ہوئیں تھیں جیسے نہ اٹھانے کی قسم کھائی ہو جب وہ اٹھ کے چلنے لگی تب بھی اس کے پاؤں میں ہلکی سی لڑکھڑاہٹ آئی جسے سنبھال کر وہ بلا آخر کمرے سے نکل گئی۔۔ یقیناً وہ باہر جا کر بہت خوش ہوگی کہ وہ اس کی نظروں کے حصار سے بالاآخر نکل آئی۔۔۔۔
کچھ دیر بعد جب وہ لوٹی تو آتے ساتھ ہی اس نے کمرے کی لائٹ بُھجا دی اور اور جا کر فوراً سے بیڈ پر لیٹ گئی۔۔ یہاں المیر کا ضبط جواب دے گیا وہ اٹھا لائٹ جلائے بغیر ہی وہ زونیشہ کی سائیڈ پر آیا اور وہاں سے لیمپ کی روشنی آن کی وہ اب بھی ویسے ہی خود پر چادر تانے بے نیاز تھی۔۔۔۔
حالانکہ وہ جانتا ہے وہ جاگ رہی ہے اس کی ہر حرکت پر المیر کا پارہ ہائی ہو رہا تھا پوری قوت سے ہاتھ بڑھا کے المیر نے سختی سے اس کے بازو کو جکڑ کے باقاعدہ جھٹکا دے کر اٹھایا۔ انداز ایسا تھا کہ کوئی بھی ہوتا تو ڈر جاتا زونیشہ کا بھی یہی حال تھا۔۔۔۔۔۔
وہ باقاعدہ خوفزدہ ہوگئی۔ اور یہ خوف المیر اس کی انکھوں اور چہرے پر دیکھ سکتا تھا جو پوری انکھیں کھول کر اسے ہی تک رہی تھی اور انویر کی انکھوں میں سرخی دیکھ زونیشا نے تھوک نکلا دوسرے ہاتھ سے انمیر نے اس کا جبڑا اپنی سخت گرفت میں لیا۔۔۔
” کس کے کمرے میں موجود ہو؟؟؟؟؟ بولو ” وہ دھارا۔۔۔
” آ۔۔۔۔۔۔آ۔ ۔۔۔۔۔آ۔۔۔آپ۔۔۔ککک۔۔۔۔کے۔۔۔ ” وہ اس کی حکلاہٹ پر غور ہی نہ کر سگا ایک تو غصہ سر پر سوار تھا۔۔ دوسرا ایسی حالت میں تو ویسے ہی ہر کسی کی زبان جواب دے جاتی ہے۔۔۔۔
” میں نے تمہیں کہا جاکر سو؟؟؟؟ ” اس کی غصیلی آواز پر وہ باقاعدہ رونے کو ہو گئی اس نے نفی میں گردن ہلائی۔۔۔۔۔۔۔۔
” لائٹ بند کرنے کو کہا؟؟؟؟؟ ” اس کے سخت لہجے پر باقاعدہ اس کی آنکھوں سے آنسو بہ نکلے کب اس نے المیر کا ایسا سخت لہجہ دیکھا تھا۔۔۔۔۔ روتے ہوئے اس نے نفی میں گردن ہلائی تو المیر نے غصّے سے اسکا چہرہ آزاد کیا۔۔۔۔۔۔
” اٹھو!!! لائٹ اون کرو اور اسٹرونگ چائے بنا کر لاؤ۔۔۔ “
اس کے بازو پر زور دے کر المیر نے نہایت سخت لہجے میں کہا اور ایک جھٹکے سے اسے چھوڑ دیا وہ بیڈ کی بیگ سے ٹکراتے ٹکراتے بچی۔۔۔۔۔۔
اور اس کے حکم پر تیر کی تیزی سے وہ اٹھی دوپٹہ شانوں پر اچھے سے پھیلا کر اس نے کمرے کی لائٹ ان کی اور تیزی سے نیچے چلی گئی پانچ منٹ بعد ہی وہ چائے لے کر حاضر تھی۔۔۔۔۔۔
جب وہ آئی تو المیر بیڈ سے ٹیک لگائے لیپ ٹاپ ٹانگوں پر رکھے اس پر کچھ کام کر رہا تھا زونیشہ نے ابھی چائے رکھی ہی تھی کہ اس کی سخت آواز پھر کمرے میں گونجی۔۔۔۔۔
” وارڈروب میں سے کوئی سوٹ نکال کر پریس کرو۔۔۔ اور ٹائے میچنگ ڈھونڈنا۔۔۔۔۔ میکے جاکر اپنی زمیداریاں بھول گئی ہو دوسرے تمہیں بیٹھ کر یاد دلائیں۔۔۔۔۔۔ ” جانے اتنا غصہ کس بات پر تھا کہ اس کے آنسو دیکھ کر بھی وہ نرم نہیں پڑا۔ اس کے کہے مطابق زونیشہ نے اس کے لیے میچنگ شرٹ پینٹ اور ٹائے نکالی۔ اسے پریس کرنے کے بعد اس کے سامنے ہی اس نے وہ ہینگ کر کے صوفے پر ہینگر رکھ دیا۔۔۔۔۔۔
تب تک وہ چائے بھی ختم کر چکا تھا۔ وہ ہینگر رکھ کر پلٹی تھی کہ اس نے نیا حکم سنایا۔۔۔
” لیپ ٹاپ بیگ میں لیپ ٹاپ رکھ کے لائٹ اوف کردو!!! اور دماغ درست ہوگیا ہے تو خود بھی آکر لیٹ جاؤ ” پہلے کے مطابق غصہ کم تھا لیکن لہجہ ویسا ہی سخت تھا۔
اسکے کہے مطابق لیپ ٹاپ رکھ کے وہ بستر پر آکر لیٹ گئی۔ کمرے میں یکدم خاموشی چاہ گئی پھر المیر کی بھاری آواز نے اس خاموشی کو توڑا۔۔۔۔۔
” اگر نہیں سونا تو کمرے سے نکل جاؤ میری نیند حرام مت کرو۔۔۔۔۔ ” وہ اس کی سسکیاں سن کر باقاعدہ دھاڑا اس کی دھار سے وہ بیڈ سے جھٹکے سے اٹھی اور باتھ روم میں جا کر بند ہو گئی لیکن جانے سے پہلے وہ ڈریسنگ ٹیبل سے اپنا فون اٹھانا بھولی ہی نہیں تھی۔۔۔
کافی ٹائم گزر گیا المیر بھی جاگ رہا تھا آج نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی پتا نہیں کیوں وہ اس پر اتنا غصہ کرگیا وہ سوچ رہا تھا کے اسے بھی تو حق ہے اپنی ناراضگی دیکھانے کا۔۔۔ وہ بھی تو ایک عرصہ خود اسے اگنور کرتا رہا تھا۔۔ لیکن سب سے زیادہ المیر کو اس کی خاموشی کسی ناک کی طرح ڈس رہی تھی۔۔۔
جب کافی دیر تک وہ لوٹی نہیں تو المیر نے سوچا کہیں اسے کچھ ہو نا گیا ہو؟؟؟ یہی سوچتے ہوئے بیڈ سے اٹھ کر واش روم کی طرف آیا اور دروازہ کھٹکیا۔۔۔۔
لیکن ایک ہی بار میں دروازہ نوک کرنے پر وہ واش روم سے باہر نکل آئی۔ اس اس کے قریب سے نظریں جھکا کے وہ گزری تھی اور بیڈ پر جا کے لیٹ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلے وہ تھی جو ہر وقت المیر کو سوچتی تھی اور اب المیر ہے جو اس کی ہر حرکت پر غور کر رہا ہے۔۔ اس کا دل چاہ رہا تھا پھر سے وہ مایل سے کہے کہ وہ زونیشہ کے لکھے الفاظ اس تک پہنچائے۔۔۔۔۔۔
وہ لیٹی تو المیر بھی آکر خاموشی سے لیٹ گیا مگر آج نیند دونوں کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
