66.2K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

وہ صالحہ کا سہارا لیکر واشروم سے نکلی کمزوری کے بائث اسے چکر آرہے تھے۔ المیر نے خود آکر اسے سہارا دیا تو صالحہ پیچھے ہٹ گئیں۔۔۔۔۔
صالحہ نے پانی کے گلاس میں cac – 1000 plus ڈالی جب تک زونیشہ بیڈ پر آکر بیٹھی وہ ٹیبلٹ پانی میں گُھل چکی تھی المیر نے صالحہ سے لیکر اسے گلاس تھمایا تو وہ خاموشی سے پینے لگی۔۔۔۔
” زونیشہ میں سوپ بھیجواتی ہوں گرم ہی پینا ” زونیشہ نے اثبات میں سر ہلایا تو انہوں نے پیار سے اسکا چہرہ چھوا اور نیچے چلی گئیں زونیشہ اب بیڈ سے ٹیک لگائے لیٹی تھی آنکھیں بند کر کے تاکے وہ اس شخص کو نا دیکھ پائے مگر بند آنکھوں سے ہی اسے اپنے ہاتھ پر المیر کا لمس محسوس ہوا وہ اسکا ہاتھ سہلا رہا تھا۔۔۔۔
” پورا ختم کرو!!!! ” اسکا اشارہ گلاس کی طرف تھا جس میں ابھی بھی آدھا پانی تھا جو زونیشہ نے سائیڈ پر رکھ دیا تھا۔ المیر نے گلاس اٹھا کر اسے دوبارہ دیا زونیشہ نے گلاس لینے کے لئے اپنا ہاتھ چھڑوانا چاہا تو گرفت مضبوط تھی تنگ آکر اس نے دوسرے ہاتھ سے گلاس لیکر ایک ہی گھونٹ میں پی کر ختم کردیا وہ اسکی تیزی دیکھتا رہا ایک بار پھر وہ آنکھیں موندھ چکی تھی۔۔۔۔۔
” ڈرپ کی وجہ سے بخار جلدی اتڑ گیا۔۔۔۔ ” وہ محسوس کر رہا تھا اسکے ہاتھ گرم نہیں تھے پھر المیر نے اسکا ماتھا چھوا تو وہ ٹھنڈا تھا شاید بخار میں آئے پسینے کی وجہ سے۔۔۔
وہ خاموش رہی۔ اسے وحشت ہو رہی تھی المیر کی موجودگی سے کہاں نظر اٹھا کر نہیں دیکھتا تھا اب اسکا پیچھا نہیں چھوڑ رہا۔۔۔۔۔۔
کتنی ہی دیر بند آنکھوں سے بھی وہ اپنی چہرے پر اسکی نظروں کی تپش محسوس کر رہی تھی اسے الجھن ہو رہی تھی کہاں آکر پھنس گئی تھی وہ۔۔ اب جب ہر خوائش دم توڑ چکی ہے تو وہ اس پر مہربان ہو رہا ہے۔۔۔۔۔
وہ بھی ڈھیٹ بنی سوتی رہی اب باقاعدہ بیڈ پر لیٹ گئی تاکے وہ اسے سویا ہوا پاکر یہاں سے چلا جائے اور ایسا ہی ہوا۔۔۔۔۔
جب اسے محسوس ہوا وہ سو چکی ہے وہ اٹھ کر باہر چلا گیا دروازہ بند ہوتے ہی زونیشہ نے اپنی آنکھیں کھولیں پتا نہیں کیوں یہ اس کے سر پر سوار تھا؟؟ پہلے کبھی وہ اسکی ایک نظر کو ترستی تھی مگر اب وہ جب بس اسے ہی نظروں میں لیے بیٹھا ہے تو وہ تنگ آچکی ہے۔
وہ ابھی انھیں سوچوں میں گم تھی کے موبائل کی بیپ بجی زونیشہ نے دیکھا تو مایل کا میسج اسکرین پر جگمگا رہا تھا۔۔۔۔
” زونی تمہیں نہیں لگتا بہت دن ہوگے؟؟؟ المیر بھائی سے بات تو کرو ” مایل اکثر اسے میسجز کرتی تھی کے وہ المیر سے بات کرے دونوں پھر سے ایک ساتھ اپنی زندگی کی نئی شروعات کریں اسلئے تنگ آکر کبھی کبھی وہ مایل کے میسجز تک کا رپلائے نہیں کرتی مگر آج اسکا دل بھر آرہا تھا۔۔۔۔۔
” کیا بات کروں؟؟؟ انہی کے کمرے میں بیمار پڑی ہوں ” پہلے تو اتنی جلدی اسکا میسج دیکھ کر مایل حیران ہوگئی پھر میسج کھولا تو بےیقینی حیرانگی کیا کچھ نہ تھا؟؟؟ وہ خوشی سے اُچھل پڑی اور فوراً زونیشہ کو کال کی جسے زونیشہ نے اسی وقت کاٹ دیا۔۔۔۔۔
” کال کیوں کاٹ دی۔۔۔ ” مایل جھنجھلائی وہ اتنی ایکسائیٹڈ تھی۔۔۔
” پتا نہیں۔۔۔۔ ” کیا مایل سمجھی نہیں؟؟ وہ فون پر اس سے کیسے بات کر سکتی ہے؟ کیا مایل بھول گئی اب اسکی زبان میں ہکلاہٹ ہے۔۔۔۔
” میں تمہیں بتا نہیں سکتی مجھے کتنی خوشی ہو رہی میرا دل چاہ رہا میں بھی وہاں آجاؤں!!!! “
” تم آجاؤں نہ پلیز کچھ دن یہاں رہو؟؟ ” زونیشہ نے اسرار کیا کیوں کے المیر کے ساتھ رہنے کی اسکی ہمت نہیں تھی۔ دل میں اب کوئی جذبہ ہی نہ تھا وہ جس طرح اسکے پیچھے پڑا ہے یقیناً سانس لینا مشکل ہوگا۔۔۔۔
” زریق نہیں مانیں گئے۔۔۔ اور ویسے بھی میں جاتی ہوں میری سوتن میرے شوہر پر قبضہ جما لیتی ہے ” مایل نے منہ بیگاڑ کر ٹائپ کیا وہ ایک دن زریق کو اکیلا چھوڑتی ہے تو اس میں سے اسے ” حاوز سلیمان ” کی خوشبو آتی ہے۔۔۔۔۔۔
” سوتن؟؟ ” وہ اسکا مسیج دیکھ کر پتھرا گئی۔۔۔
” ہاں میرا دیور!!! انکی خالہ کا بیٹا ہے ” مایل نے جلدی سے ٹائپ کیا یہ تو کسی کو معلوم نہیں دونوں ٹوئینس ہیں۔۔
” میں ڈر گئی تھی سچ مچ والی سوتن سمجھی ” زونیشہ نے بےاختیار گہرا سانس لیا ایک تو چادر میں اب اسے گرمی ہو رہی تھی بلینکٹ تو کب کا وہ اپنے وجود سے ہٹا چکی تھی اب اٹھ کر اسنے پنکھا بھی چلا دیا اسکا دل چاہ رہا تھا نہا کر فریش ہو جائے۔۔۔
” ارے نہیں نہیں!!! چلو چھوڑو میں آتی ہوں چاول دم پر رکھ لوں ” مایل کا میسج دیکھ کر وہ بھی الماری کی طرف بڑھی اور اپنے وہی شادی کے دوران بناۓ وہ نئے لان کے سوٹ میں سے ایک لیا جنھیں وہ بہت کم پہنے لگی تھی۔۔۔۔۔
—————–————–***
زونیشہ سے بات کر کے مایل کچھ پُرسکون ہوگی تھی ورنہ اِسے لگتا تھا المیر اور زونی اسکی وجہ سے الگ ہوئے ہیں۔ وہ انہی سوچوں میں گُم الماری سیٹ کر رہی تھی۔ رات کا کھانا بھی وہ بنا چکی تھی۔ الماری سیٹ کرتے وہ ایک نظر ارحم کو بھی دیکھ رہی تھی جس کے منہ میں فیڈر تھا جسے وہ ہاتھ سے پکڑے ہوئے بیڈ پر بیٹھا تھا ارحم ساتھ ماہ کا ہوچکا تھا اب وہ بیٹھنے لگا تھا مایل نے اسکے ارد گرد تکیے رکھے تھے تاکے وہ گِرے نہ۔ سامنے لگی بڑی ایل سی ڈی پر وہ ” بی بی شارک ” سونگ سن کر خوش ہو رہا تھا جسکا اندازہ مایل کو اسکے ڈانس کرنے سے ہو رہا تھا باقاعدہ وہ بیٹھے بیٹھے آگے پیچھے کو جسم کو موو کر رہا تھا جیسے بچے کرتے ہیں۔۔۔۔۔
” آپ نے ہاتھ منہ نہیں دھونا۔۔۔۔۔۔ ” زریق ابھی آیا تھا اور آتے ساتھ ارحم کو لیکر بیڈ پر لیٹ گیا شوز تک اسنے نہیں اتاڑے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
” فریش ہونے جا رہا ہوں بس ” زریق نے ایک نظر اسے دیکھتے کہا مایل نے زریق کے لیے الماری سے آرام دہ شلوار قمیض نکالی زریق نے بیڈ پر سیدھا لیٹ کر ارحم کو اپنے سینے پر سلایا اسے نیند آرہی تھی اور ارحم تھا کے زریق کو دیکھ کر اسکے پاس آنے کے لئے رونے لگا تھا تبھی زریق نے اسے اپنے سینے پر ہی لٹادیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
” کیوں مجھے اتنا تنگ کرتے ہو؟؟ جب سے تمھاری ماں ہم دونوں کو چھوڑ کر گئیں تھیں تب سے کچھ زیادہ فرامنبردار بیٹے نہیں بن گئے؟؟؟ ” زریق ارحم کی پیٹ تھپکے کہ رہا تھا جو منہ میں فیڈر ڈالے اوندھے منہ زریق کے سینے پر لیٹا ہوا تھا مایل جو اب وارڈ روب دوبارہ سے سیٹ کرنے لگی تھی اس الزام پر پیچھی مڑی۔۔۔۔۔
” میں چھوڑ کر نہیں گئی آپ خود مجھے اگنور کرتے تھے۔۔۔۔ ” مایل کے لہجے میں خفگی تھی۔۔۔
” ایسے الزام؟؟ قریب آؤں تو آپ خوفزدہ ہوجاتی ہیں!! دور رہوں تو اگنور کرتا ہوں؟؟ ” وہ سنجیدگی سے اسکے لگائے الزام اسے گنوا رہا تھا مایل نے نظریں جھکا لیں لیکن اپنی غلطی نہیں مانی۔۔۔
” آپ کون سا تنگ ہوتے ہیں جو میرے بیٹے پر الزام لگا رہے ہیں؟؟؟ ” اسنے بات بدل دی زریق اسکی چالاکی دیکھتا رہ گیا اور ریموٹ سے ٹی وی بند کردیا۔۔۔۔
” میں نہ آپ سے تنگ ہوتا ہوں نہ اپنے بیٹے سے!!!! بس یہ سوچ آتی ہے کہیں میرے ساتھ رہ کر اسے تکلیف نہ پہنچے اب بھی وہ میرے سینے پر لیٹا ہے اسے بھی نیند آرہی ہے مجھے بھی۔۔۔۔۔ کہیں نیند میں میرا ہاتھ یا ٹانگ نہ اسے لگ جائے یا میں کروٹ لوں تو بس۔۔۔۔۔ اسلئے!!! پر جتنی نیند آئے نہیں سونگا کنٹرول کرونگا وہ سوجائے پھر اسے آرام سے لیٹا کر سونگا ” وہ نرمی سے اسے دیکھتے کہ رہا تھا جبکے مایل جو انہی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی سوچ رہی تھی شاید یہ شخص ناواقف ہے کے اسکی نظریں کیسے اسکی ” بیوی ” کو پزل کرتی ہیں۔ اسکی کیفیت سے انجان وہ اپنے بیٹے کی پیٹ سہلاتا رہا
” آپ سوجائیں میں اسے باہر لے جاتی ہوں ” وہ نظریں جھکائے اسے لینے کے لئے آگے بڑھی تو زریق نے اسے ٹوک دیا۔۔
” نہیں رہنے دو روئے نہ۔۔۔ ” وہ جو اسے لینے لگی تھی زریق کی بات پر رُک گئی۔ زریق کا فون اچانک ہی بج اٹھا خاموش کمرے میں جب موبائل ٹون بجی تو ارحم گھبرا کر اٹھ گیا اور رونے لگا فیڈر اسکے منہ سے نکل کر بیڈ پر گِر گیا۔ چہرے پر نہ شکن تھی نہ کوئی پریشانی، نہ گھبراہٹ مایل نے دیکھا تھا وہ ارحم کو لیکر اٹھا اور اسے اپنے کندھے پر لیٹا کر کمرے کے چکڑ کاٹنے لگا۔۔۔۔
مایل اسے دیکھتی رہ گئی اسے نیند آرہی تھی، وہ تھکا ہوا تھا مگر اس وقت شاید اسکے لئے انمول کام ارحم کو سکون دینا تھا۔۔۔۔
جب وہ سو چکا تو زریق نے اسے دیکھ کر اشارے سے پوچھا۔ کے ” کیا وہ سو چکا ہے؟؟؟ ” مایل کے اثبات میں سر ہلانے پر احتیاط سے زریق نے اسے ” بےبی بیسینٹ ” میں سلایا جو مایل نے بیڈ سے اٹیچ کر کے رکھا تھا رات کے ٹائم وہ اسے اٹیچ کرتی تھی صبح ہٹا دیتی تھی وہ ایک سائیڈ سے کھلا ہوا تھا وہ مایل نے خود کھلوایا تھا سوتے وقت وہ ارحم کا ہاتھ پکڑ کے اکثر سوتی تھی مایل خوفزدہ رہتی تھی کے پھر کوئی نہ اسکے پہلو سے ارحم کو اٹھا کر لےکر جائے۔۔۔۔۔
” اتنی غور سے میں نے آپ کو مما کی کلینک میں دیکھا تھا۔۔۔۔ ” وہ اسکے دیکھنے پر مسکراتا ہوا اس سے کہ رہا تھا مایل جو اسے محویت سے تکے جا رہی تھی نظریں پھیر لیں۔۔۔۔۔
” پھر؟؟؟ ” وہ پوچھنے سے خود کو روک نا پائی جبکے ارحم پر چھوٹی سی چادر ڈالے وہ خود کو مصروف اور بےنیاز ظاہر کر رہی تھی۔۔۔۔
” اگر میں احساس سے عاری نہ ہوتا!!! تو آپکا مجھ سے بڑا دیوانہ کوئی نہ ہوتا۔۔۔۔۔۔ ” وہ دھیرے سے اس سے کہ رہا تھا مایل ساکت رہ گئی۔ وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا کیا آنکھیں بھی جھوٹ بولتی ہیں؟؟؟ اگر وہ اس سے محبت نہیں کرتا تو یہ آنکھیں کیوں جھوٹی گواہی دے رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” میں چینج کر کے آتا ہوں آپ ڈنر ریڈی رکھیں ” وہ اسے حیران پریشان چھوڑ کر مسکراتے ہوئے اسکا ہاتھ ہلکے سے دبا کر اسکا نکالا ہوا شلوار اور کُرتا اٹھا کر واشروم میں بند ہوگیا مگر مایل کتنے دیر اسکے حصار میں قید رہی۔۔۔۔
” زریق ہمیشہ ایسی باتیں کیوں کرتا ہے؟؟؟ ” وہ سوچ رہی تھی اسکا ذہن الجھا ہوا تھا وہ ارحم پر ایک نگاہ ڈال کر کھانا گرم کرنے چلی گئی کیوں کے سمرین بیغم کو تیز گرم کھانا ہی پسند تھا ورنہ زریق اور مایل آرام سے کھانا گرم کیے بغیر بھی کھا لیتے ہیں۔۔۔۔۔۔
**—————–————–*
” یاد رکھنا پہلا امپریشن آخری امپریشن ہوگا!!! پریزینٹیشن سے لیکر ایکسپریشنز تک انھیں سوچنے پر مجبور کرنا پر اپنے حق میں ” وہ دونوں دس منٹ میں تیار ہوکر نیچے آئیں تھیں دونوں نے ھلکا پھلکا میک اپ بھی کیا تھا تاکے انہیں شک نہ ہو وہ نیچے دیر سے کیوں آئیں؟؟
” تم دونوں کے جواب ایک جیسے ہونے چاہیں وہ دونوں کو الگ الگ بیٹھا کر پوچھیں گئے جس پر شک ہوا اسکے لیے سوالوں کا سلسلہ طویل ہوجاے گا۔۔۔ ” وہ جب نیچے آرہیں تھیں ” حاوز سلیمان ” کی باتوں کو بار بار یاد کر رہیں تھیں تاکے ان سے کوئی ایسی غلطی نہ ہو کے وہ پچھتائیں۔۔۔۔۔
” سہانا کا پوچھیں بس کہ دینا ” معلوم نہیں” فوٹوگرافی کا شوق تھا کہیں گئی ہوگی تصویریں لینے۔۔۔۔ اپنا کیمرہ چھپا دو یا پھینک دو بس کمرے میں انہیں نہ ملے اور ہاں آخری بات جتنا کنٹرول کیا ہے انکے سامنے سہانا کی لاش دیکھ کر رو لینا ہو سگے تو صدمے میں چلے جانا!!!! تم لوگ جہاں ہو وہ پاکستان نہیں ذرا بھی شک ہوا تو سنیں گئے نہیں بس۔۔۔۔۔۔۔ ” وہ آگے کہ نہ سگا۔ چُپ ہوگیا مگر انہیں ہدایت کرتا رہا دونوں پہلے ڈری ہوئیں تھیں مگر حاوز سے بات کرنے کے بعد دونوں کا ڈر کسی حد تک کم ہوا تھا۔ کوئی تو تھا جس نے انہیں گائیڈ کیا تھا ورنہ اگر وہ اسی حالت میں آجاتیں تو؟؟؟ کیمرہ بھی وہ لوگ کھڑکی سے باہر پھینک آئیں تھیں پول میں۔۔
حاوز کے کہے مطابق وہ ہر اس بات پر عمل کرتی رہیں جو انہیں جیل میں جانے کا سبب بن سکتی ہیں۔ وہ دونوں انکے سامنے بلکل نارمل تھیں انکے گیلے بال انکی ڈریسنگ سے اندازہ لگ رہا تھا دونوں تیار ہوکر آئیں ہیں ایسے جیسے ان سے ملکر باہر نکل جایئں گی موبائل ائیر فونز وہ نیچے آتے انہیں دیکھانے کے لئے بیگ میں رکھ رہیں تھیں۔۔۔۔۔
انکے سوالوں کا جواب بھی وہ نارملی دے رہیں تھیں لیکن پھر سلسلہ طویل دیکھ کر آبرا نے پوچھا۔۔
” آپ اتنے سوال کیوں کر رہے ہیں؟؟؟ بےکوز ہم پاکستانی ہیں؟؟؟ ” اسکے سوال پر انسپیکٹر گھبرا گیا کہیں یہ لڑکی نئی ” پروٹیسٹ ” نہ اسٹارٹ کروائے انہوں نے جواب میں کچھ نہیں کہا بس انہیں اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کیا اور وہ جو دونوں کب سے ضبط کیے بیٹھیں تھیں اپنی دوست کی ایسی حالت دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں عینا تو زمین پر گڑنے کے انداز میں بیٹھ گئی وہ دونوں بلک بلک کر رو رہیں تھیں ایک لیڈی انسپیکٹر نے ان دونوں کو آکر سنبھالا انسپیکٹر نے مزید ان سے کچھ نہیں پوچھا کیوں کے باڈی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ انکے موبائل میں آچکی تھی پوسٹ مارٹم کے بعد وہ یہ ڈیڈ باڈی واپس مردہ خانے لے جا رہے تھے مگر انہیں اطلاع ملی تھی کہ سہانا اپنی دو دوستوں کے ساتھ آئی تھی۔
جن سے انہیں سوال جواب کرنے جانا ہے اس لیے وہ ڈائریکٹ یہیں آگئے اور ان سے سوال کرنے کے بعد انہیں سہانا کی ڈیڈ باڈی دیکھائی مگر جیسے ہی رپورٹ ان کی موبائل پر آئی اور انہیں اپنے اسٹاف سے خبر ملی تو انکا شک لڑکیوں سے ہٹ کر اب سہانا کے بوائے فرنڈ پڑ گیا۔ مگر ان لڑکیوں سے مزید پوچھ تاج کے بعد بھی انہیں یہ اندازہ نہیں ہوا کہ سہانا کا بوائے فرینڈ تھا یا نہیں؟؟
رپورٹس کے مطابق کسی نے سہانا کا ریپ کیا تھا اور اس انسان کے ٹریسسز بھی ان لوگوں نے اپنے پاس محفوظ کیے ہیں۔۔۔۔۔۔
وہ لوگ سہانا کی لاش لے گئے ایک گھنٹہ گزرا دو گھنٹے گزرے وہ دونوں ابھی تک خوفزدہ تھیں یہاں تک کہ چار گھنٹے گزر گئے مگر حاوز سلیمان نے اپنا کہا ہوا نبھایا نہیں ٹھیک چار گھنٹے بیس منٹ گزرنے کے بعد جب انکے کمرے کا ڈور نوک ہوا تو دونوں چونک اٹھیں۔۔۔۔
آبرا نے آگے بڑھ کے دروازہ کھولا سامنے کسی انجان کو پاکر وہ سوالیاں نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔
” حاوز سلیمان ” ایک لفظی جواب پر اسکا منہ کھل گیا وہ سائیڈ پر ہوگئی کیوں کے وہ شخص کسی کو ڈھونڈ رہا تھا آبرا جیسے ہی سائیڈ ہوئی حاوز سلیمان قدم اٹھاتا اسکی طرف بڑھا وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا گہری نظریں اسکے وجود پر مرکوز تھیں۔۔۔۔۔۔۔
چہرے کی ویرانی،، آنکھوں میں خوف،، کپکپاتے لب اسکی زہنی کیفیت کی گواہی دے رہے تھے حاوز نے مٹھیاں بھینچ لیں ” اگر اُس شخص کو کتے کی موت نہ ماری عینا تو وعدہ ہے تم سے کبھی اپنی شکل نہیں دیکھائونگا ” حاوز نے خود سے عہد کیا اور گھٹنوں کے بل اسکے پاس بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔
” تم ٹھیک ہو نہ؟؟؟ ” اسکی گھمبیر لہجے پر بیڈ شیڈ پر ہاتھ کی گرفت سخت ہوگئی۔ لب کچھ کہنے کی صورت میں صرف پھرپھڑاتے رہ گئے نظریں جھکی ہوئی تھیں۔
” ابھی تک ناراض ہو؟؟؟ ” جواب ناپکڑ ایک اور سوال پوچھا گیا مگر وہ خاموش رہی۔ حاوز کا دل کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا وہ بےآواز رو رہی تھی۔۔۔۔۔
” واپس چلو گی!!!!! ” اسکی بات پر وہ جو نظریں جھکائے تھی جھٹ اسکی طرف دیکھنے لگی۔ بھیگی آنکھوں میں جیسے چمک در آئی۔۔۔
” ایسے مت دیکھو۔۔۔۔۔ خوش فہم ہوجاتا ہوں ” وہ پھر نظریں جھکا گئی مگر سر ہاں میں ہلایا۔ حاوز سلیمان حسرت سے اسے دیکھتا رہا زندگی میں جس سے اس نے محبت کی وہ اس سے دور ہوگیا۔۔ اسکی بہن،، اسکا بھائی جو اسے جان سے زیادہ عزیز ہے اور اب عینا!!!! کیا تھا عینا میں جو وہ حاوز سلیمان کی رگوں میں خون بن کر دوڑنے لگی؟؟؟؟ وہی محرومیاں جو ” زریق ” اور ” حاوز ” نے دیکھیں؟؟؟ فرق یہ تھا ” احساس ” اسے ہوتا تھا زریق کو نہیں۔۔۔
وہی سب محرومیاں عینا نے دیکھیں تھیں وہ دونوں صرف باپ کی محبت سے ” محروم ” تھے جبکے عینا
” ماں ” اور ” باپ ” دونوں کی محبت سے محروم رہی۔۔۔
” عینا ” اسکی پکاڑ میں نجانے کیا تھا کے وہ جو ضبط کیے ہوئے تھی اسکا بازو پکڑ کے اس پر سر رکھے پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔۔۔۔۔ روتے روتے وہ نڈھال ہو رہی تھی حاوز نے اسکے سر پر ہاتھ رکھتے اسے حوصلہ دیا۔۔۔۔
” عینا میرے پاس اختیار نہیں کے یہ آنسوں۔۔۔۔۔ ” اس نے بات ادھوری چھوڑ دی آبرا جو کب سے وہیں دروازے پر کھڑی تھی اس نے آکر حاوز سے پوچھا۔۔۔
” آپ نے دو گھنٹے کہا تھا؟ ہم دونوں ڈر گئے تھے ہمیں لگا آپ نہیں آئیں گئے۔۔۔۔ ” وہ جیسے اسکے رونے کی ایک اور وجہ بتا گئی۔۔۔
” کیا فائدہ اگر یہاں ہو کر بھی نہیں ہوتا میں؟؟ دو گھنٹے پہلے آجاتا تو پولیس کو شک ہو جاتا۔ انھیں علم ہوجاتا تم لوگ سہانا کی موت سے پہلے سے واقف ہو۔۔۔ خیر اب سب ٹھیک ہے۔۔۔۔ سہانا کی ڈیڈ باڈی پاکستانی ایمپیسی کے حوالے کردی گئی ہے دبئی کی پولیس نے اب یہ کیس وہاں ٹرانسفر کیا ہے ہاں اگر مجرم یہاں موجود ہے تو تمام گواہوں کی موجودگی میں اسے سزا دی جائے گی۔۔۔۔۔ اب پیکینگ کرلو بس ہم نکل رہے ہیں۔۔۔۔ عینا خود کو ہلکان مت کرو۔۔۔۔۔کاش میں تمہارے معملے میں بےبس نہیں ہوتا۔۔ ” وہ اسکا آخری جملا سن کر تیر کی تیزی سے اس سے دور ہٹی جاندار مسکراہٹ حاوز سلیمان کے ہونٹوں پر آن ٹہری۔۔۔۔۔
وہ اسکی نظروں سے گھبڑا کر اٹھ کھڑی ہوئی حاوز فون پر مصروف ہوا تو آبرا نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔۔
” بندہ اچھا ہے پر کافی چھچھوڑا ہے۔۔۔ پر اتنا سجیدہ کیسے ہے؟ جب چھچھوڑا ہے تو۔۔۔۔ ” وہ سوچنے کی اداکاری کرتے بولی تو عینا اسکی سائیڈ سے ہٹ کر اپنے کپڑے سمیٹنے لگی۔ ابھی ایک سوٹ بیگ میں رکھا ہوگا کے اسکی آنکھیں بھر آئیں بار بار سہانا کا چہرہ اسکی آنکھوں کے سامنے آجاتا۔۔۔۔
” عینا بس کردو پتا ہے ابھی اسکی وجہ سے میں سوچوں سے باہر آئی اور تم پھر؟؟؟ ہمیں سہانا کے لئے دعا کرنی چاہیے تم روگی تو اسے تکلیف ہوگی۔۔۔ پلیز عینا اور۔۔۔ وہ تم سے ناراض نہیں ہمیں کیا پتا اُس دنیا میں کیا ہے لیکن تم نے لوگوں سے سنا ہے نا کہ وہاں جا کے لوگ اپنے پیاروں کے خوابوں میں آتے ہیں انہیں تسلی دیتے ہیں ان سے بات کرتے ہیں شاید یہاں کا علم بھی انھیں ہوتا ہے تو کیا پتا سہانا کو بھی وہاں جا کے پتا چل گیا ہو کہ جس شخص نے اُس کے ساتھ یہ سب کیا ہے اس میں تمہارا قصور نہیں۔۔۔۔ ” وہ خود ہی اس کے ہاتھ سے کپڑے لے کر اسے گلے لگ گئی اور اسے تسلی دے رہی تھی اسے حوصلہ دے رہی تھی سب سے بڑی بات اسے کہہ رہی تھی کہ وہ خوش قسمت ہے کہ حاوز سلیمان کا ساتھ اس کے ساتھ ہے وہ کبھی اسے کسی تکلیف میں گڑنے نہیں دے گا اس کا اندازہ آبرا کو ہو چکا تھا کہ وہ اب کسی کے محفوظ سائے میں ہے۔۔۔۔
ہوٹل چھوڑنے سے پہلے حاوز نے آبرا سے ریکویسٹ کی تھی کہ اسے عینا کا یورین سیمپل چاہیے کسی بھی توڑ پڑ اور اسے ایک شیشی بھی دی تھی۔۔۔۔۔
آبرا نے قائل کرکے عینا کو منا لیا تھا۔۔ مگر عینا پھر اس سے کافی دیر ناراض ہی رہی جس کی پرواہ آبرا کو بالکل نہیں تھی کیونکہ یہ عینا کے حق میں بہتر تھا۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں اب حاوز کے ساتھ اس ہوٹل سے ہی باہر نکل آئیں۔
” تبھی آپ کو اتنی دیر ہوگئی ” پرائیویٹ جیٹ دیکھ کر دونوں کی آنکھیں پھیل گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔
” ہمممممم!!!! آپ دونوں کو بھی دبئی پولیس کی پرمیشن سے لیکر جا رہا ہوں ورنہ کتنا ہی امیر ہو بندہ جہاں کانون سخت ہے وہاں رشوت بھی کام نہیں آتی اور اگر آج دیر نہیں کرتا تو شاید کافی عرصے ہمارے یہاں چکر لگتے۔۔۔۔ ” اس کی بات سن کر دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگی جبکہ حاوز نے انہیں آگے بڑھنے کا اشارہ کیا جب وہ تینوں بیٹھ چکے تو پائلٹ نے جیٹ کو اڑانا شروع کیا۔ عینا کو اتنی پوزیٹو فیلنگ آرہی تھی کہ وہ بیان نہیں کر سکتی ابھی دو ہی گھنٹے گزرے ہوں گے کہ وہ پاکستان کی سرزمین پر لینڈ کر گئے پھر وہاں سے وہ لوگ اسلام آباد ایئرپورٹ سے کراچی لوٹ آئے۔ فلائٹ اُسی وقت حاوز نے بُک کی تھی اور ان کی خوش قسمتی تھی کہ انہیں فلائٹ مل گئی۔۔
واپسی میں اس نے کوئی بات نہیں کی وہ شخص عجیب تھا جو اسکے لئے اپنی تڑپ ظاہر کر رہا تھا اب جدا ہوتت
ے وقت ایک لفظ نہیں بولا کیا وہ اب دوبارہ بھی ملینگے؟؟؟؟ پہلے حاوز نے آبرا کو چھوڑا پھر جب وہ اسے چھوڑنے آیا تو عینا کو حیرت ہوئی کیونکہ وہ اس کے ساتھ اندر گھر میں آرہا تھا عینا نے چلتے ہوئے بے اختیار اس کا بازو پکڑا۔۔۔۔
” گھر میں ممی ڈیڈی ہوں شاید۔۔۔۔۔ ” وہ ہچکچائی اول تو حاوز اس کی بات سے حیران ہوا پھر سمجھ کر مسکرایا۔۔۔۔
” تو تم مانتی ہو کے ہم دونوں ایک دوسرے کو۔۔؟؟؟ ” اس نے بات ادھوری چھوڑی عینا زمین کو تکنے لگی۔
” میں وقت ضائع نہیں کرتا ابھی تم ہاں کہہ دو تو ہم دونوں نکاح کے بندھن میں بن جائیں گے۔۔۔ ” عینا نے کوئی جواب نہیں دیا الٹا وہ اس کے انداز پر شرمندہ ہو گئی اور اسکی جلد بازی پر حیران کیا شادی گڈا گڈی کا کھیل ہے؟؟؟ عینا نے اسکے بازو سے اپنا ہاتھ ہٹایا وہ کچھ دیر اسے دیکھتا رہا وہ کچھ بولے گی لیکن شاید وہ لڑکی اب ماں باپ سے حد سے زیادہ ڈر چکی تھی۔۔
” پہلے میں ڈائریکٹ تمہارے ڈیدی سے بات کرنا چاہتا تھا لیکن اب تم سے کہوں گا۔۔۔عینا اگر ہم یہاں آگئے اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم سیو ہو۔۔۔۔۔۔۔ ” وہ جو اب تک خوش فہمی میں تھی سکتے میں آگئی سب سے حیران کن وہ جو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی کے ” حاوز ” کی آنکھیں ہلکی سی نم تھیں جیسے نمی ان آنکھوں میں بھرنے لگی تھی۔۔۔۔۔۔
” اسے یہ معلوم ہے تم اس وقت میرے ساتھ ہو!! وہ کوئی عام بندہ نہیں ہے وہ ایک د۔۔ہ۔۔۔شت گرد ہے جو پیسوں کے لئے اپنی باپ تک کو بیچ سکتا ہے۔۔۔۔” وہ جیسے الفاظ ڈھونڈ رہا تھا جو اس کا معصوم ذہن سمجھ سگے جب کے وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکے جا رہی تھی۔۔۔
” عینا سب سے اہم بات امید کرتا ہوں تم ڈرو گی نہیں میری طرف دیکھوں اس نے سب کو مار دیا سوائے تمہارے حالانکہ جو اس کی راہ کا کانٹا تھا وہ سہانا نہیں تھی بلکہ تم تھیں لیکن اس نے صرف تمہیں چھوڑا آبرا کا تو الگ سین ہے وہ اس خون کی گواہ نہیں مگر تم ہو اصولاً وہ پہلے تمہیں نقصان پہنچاتا لیکن نہیں پہنچایا جانتی ہوں کیوں؟؟؟؟۔۔۔۔” عینا نے نفی میں گردن ہلائی وہ جس خوف سے حاوز کو دیکھ رہی تھی حاوز سلیمان کا دل ڈوب رہا تھا۔۔۔۔ کاش وہ اسے وہاں جانے سے روک لیتا اسکا دل خود خوفزدہ تھا وہ ایک ” عام ” انسان تھا وہ جانتا ہے جس در میں مدد کے لئے دروازہ کھٹکھٹائے گا اسے وہ ہر در بند ملے گا مگر وہ عینا کو بھی خود سے دور ہونے نہیں دیگا چاہے اسے بچاتے حاوز زندگی کی بازی ہی کیوں نہ ہار جائے۔۔۔۔
” ہی لائکس یو۔۔۔۔ ” پتا نہیں حاوز نے انگریزی میں کیوں کہا وہ خود نہیں جانتا پر اس سے بولا ہی نہیں گیا کہ وہ تمہیں پسند کرتا ہے۔۔۔۔ اسے ان انگریزی لفظوں سے اتنا خوف محسوس نہیں ہوا جو حاوز کو اپنے اردو کی زبان سے محسوس ہو رہا تھا ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ کسی اور کے جذبات سے اسے آگاہ کر رہا ہے۔۔۔ جو اسے شدید ناگوار گزرا۔۔۔۔۔۔۔۔
حاوز اتنا تو جانتا ہے کہ وہ عینا کو اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتا کیونکہ حاوز نے اس کے خلاف پاکستان میں کیس درج کروادیا ہے اب وہ اگر عینا کو نقصان پہنچائے گا تو مات وہ خود کھائے گا۔۔۔۔۔۔ مگر وہ یہ بھی جانتا ہے کہ حبروز ضرور کچھ کرے گا جس سے عینا اس کے سامنے ہار مان جائے گی۔۔۔۔۔
وہ اسے خوفزدہ دیکھ کر چُپ ہو گیا حاوز کو لگ رہا تھا اس کا دل کسی نے مٹھی میں بھینچ لیا ہے وہ پھڑپھڑا رہا ہے وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتا نا اپنے لیے نا عینا کے لیے وہ اسے لے کر گھر کے اندر داخل ہوا اس نے ساری بات مکرم علی کو تفصیل سے بتا دی وہ کافی دیر سوچتے رہے جیسے انہیں ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا پھر نا جانے ان کے ذہن میں کیا تھا انہوں نے حاوز کی ہر بات مان لی اور وعدہ کیا کہ وہ عینا کا خیال رکھیں گے۔۔۔۔۔۔
حاوز کو یقین تھا وہ آج ہی عینا کے لیے گارڈز کا انتظام کریں گے وہ کافی دیر ان سے بیٹھ کر باتیں کرتا رہا انہیں یقین دلاتا رہا یہی نہیں اس نے عینا کے لیے اپنی پسندگی کی بھی ظاہر کر دی اور اس بات کا وعدہ کیا کہ وہ اس کا خیال رکھے گا۔۔۔۔
وہ مکرم علی کے تاثرات بغور دیکھ رہا تھا جو اس کی پسند والی بات پر یکدم بدلے تھے۔۔۔
مگر وہ ان سے مزید کہہ رہا تھا اگر عینا اس کے ساتھ رہی تو سیو رہے گی اور اگر وہ اس کی نظروں سے اوجھل ہے تو سب سے زیادہ خوفزدہ وہی ہے ان سے بات کرتے اچانک حاوز کو ایک کال وصول ہوئی اس نے جیسے ہی کال اٹینڈ کی تو اسے معلوم ہوا کہ ہاسپٹل میں ایکسیڈنٹل کیسسز آئے ہیں۔۔۔۔
پانچ چھ بائیک ریسرز تھے جن کا ریسنگ کے دوران ایکسیڈنٹ ہو گیا اور بہت کریٹیکل کنڈیشن میں وہ لوگ ایڈمٹ ہوئے ہیں دماغ سے باقاعدہ بلیڈنگ ہو رہی تھی وہ آگے کچھ بول ہی نہ سگا وہ عینا کے باپ سے مل کر فوراؐ اسپتال پہنچ ۔۔گیا۔۔۔۔
وہی وہ منحوس دن تھا جس دن اس کی زندگی اجڑ گئی اسے اندازہ نہیں تھا آج ایک قیامت اس پر آ گزرنی ہے۔۔۔
ابھی وہ ایک کیس سے فارغ ہوا تھا جو چار لوگ آئے تھے ان میں سے تین کی حالت بہت ہی پیچیدہ تھی ایک کے تو شاید بچنے کے چانسز ہی نہیں تھے۔ تقریباً شام گئے تک وہ ان کیسز سے فارغ ہوا اسی کی طرح اور سرجن باقی تین پر کام کر رہے تھے وہ سب سرجنز مل کر ان کیسسز کو ڈسکس کرنے لگے اتنی پیچیدگی آگئی تھی کہ ان کے لیے ہینڈل کرنا مشکل تھا دو کی تو برین سے نٹرنل بلیڈنگ ہو رہی تھی۔۔ اسی میں وقت گزرتا رہا مگر دو لوگ اب خطرے سے باہر تھے۔۔۔
پھر وہی دن تھا جب اس کی ملاقات مومنہ سے ہوئی اور کچھ ہی دیر بعد جب اسے خبر ملی کہ مومنہ کی حالت کریٹیکل ہے۔۔۔۔۔
کتنی ہی دیر وہ سن کھڑا رہ گیا ابھی تو وہ مومنہ سے مل کر آرہا تھا جو آج اداس تھی۔ پھر جو اس کے پاس خبر آئی وہ اسے ہلا کر رکھ گئی ابھی مومنہ کی حالت سے وہ سنبھلا نہیں تھا کہ اسے عینا کی خبر ملی۔۔۔۔
اسے سمجھ نہیں آیا وہ کیا کرے لیکن وہ اتنا جانتا تھا کہ اگر وہ عینا کے کیس کو ہینڈل کرے گا تو شاید وہ اسے بچا نہیں سکے گا اور اصولاً وہ جذبات میں آکے کوئی کام نہیں کر سکتا تھا مومنہ کا کیس پہلے آیا تھا اس لیے حاوز نے اُسی کیس کو ہینڈل کیا۔۔۔
اس نے اپنے دوست ایک ماہر سرجن سے ریکویسٹ کی کہ وہ عینا کا کیس ہینڈل کرے وہ جانتا ہے وہ حاوز سلیمان سے بھی بہتر اس کیس کو ہینڈل کرے گا۔۔۔۔
آپریشن کے دوران وہ نرسز سے بار بار عینا کے بارے میں پوچھ رہا تھا اُسی دن اس پر قیامت گزری کہ عینا کا کیس بھی کریٹیکل تھا ڈاکٹرز نے اسے بچا تو لیا مگر وہ اب کوما میں ہے اور کوئی نہیں جانتا وہ کب کوما سے باہر آئے گی۔۔۔
زندگی میں پہلی بار وہ اپنے کیبن میں جا کر پھوٹ پھوٹ کر رویا تھا ایسا محسوس ہو رہا تھا کسی نے اس پر سانسیں تنگ کر دیں۔۔۔
زندگی جیسے چلتے چلتے رُک گئی۔۔۔۔۔
کتنی ہی دیر وہ سناٹوں میں گرا رہا پھر جیسے اسے ہوش آیا۔۔ اسے اُس وقت ہر شخص جھوٹا لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
اسے دھوکہ دیا گیا ہے سب سے پہلا دھوکے باز عینا کا باپ تھا جو کچھ دیر بھی عینا کی حفاظت نہیں کر سگا پھر اس کا سرجن دوست وہ جو اتنا ماہر سرجن تھا جس کا ہر کیس کامیاب رہا کیسے اس نے عینا کو کوما میں جانے دیا؟؟؟ اسے اِس وقت ہر شخص جھوٹا لگ رہا تھا وہ ہر کسی سے بد ذہن ہو گیا تھا اس لیے وہ عینا کو لے کر وہاں سے نکل گیا۔۔۔
اس حالت میں بھی اس کے ذہن میں سوچیں آرہیں تھیں کہ حبروز ضرور عینا کو ڈھونڈتے یہاں آئے گا وہ اس کی لاش کا بھی پیاسا ہوگا اور ایسا ہی تھا۔۔۔ ہسپتال سے نکلنے سے پہلے اس نے وہ ہر کام کیا تھا جس سے حبروز کو یقین ہو جائے کہ عینا اس دنیا میں نہیں رہی۔۔۔
اس نے عینا کا پورا بل ادا کیا۔ اس کا نام لسٹ سے کٹوا دیا آج پورے دن میں عینا نام کی کوئی پیشنٹ یہاں نہیں آئی نرسز اور پورے اسٹاف کو خاص کر کے ہدایت کی گئی تھی کہ کوئی اس بات کا ذکر نہ کرے کہ آج کے دن کوئی عینا ایڈمٹ تھی آج جو کریٹیکل کیس آیا تھا کسی لڑکی کا وہ صرف مومنہ کا تھا۔۔۔۔۔
مومنہ کی ڈیتھ باڈی بہت جلد اس کی فیملی کو واپس دی گئی جنہوں نے اسے دفنا دیا ورنہ حبروز کا بس نہیں چلتا وہ قبر سے اس کی لاش نکالتا۔۔۔۔۔۔۔
ٰعینا کی ہر نشانی ہسپتال سے نکالنے کے بعد اس نے وہ ہاسپٹل چھوڑ دیا۔۔وہ جگہ چھوڑ دی اپنی فیملی سے لا تعلق ہو گیا ہر شخص سے دور ہو گیا لیکن اسے پیچھے سے خبر ملتی رہی کہ حبروز اس کے ساتھ ساتھ عینا کی جان کا بھی پیاسا ہے۔۔۔۔۔۔۔
اس پورے دوران حاوز پیچھے نہیں ہٹا تھا اس نے ان پر بھی زندگی تنگ کی تھی وہ کیس کھلوا کر۔۔۔ حبروز کا سالہ درید روز اپنی بے گناہی ثابت کرنے آتا تھا لیکن اس کے پاس بچنے کا کوئی راستہ نہیں تھا کیونکہ اس کے سیمن سیمپلز اور لاش سے ملے سیمپلز دونوں میچ ہو گئے تھے اس لیے حبروز اپنے سالے درید کو بچانے کے لیے ہر کوشش کرتا تھا یہاں تک کہ وہ روز تاریخ پر تاریخ لیتا تھا لیکن ہر بار کیس سہانا کے حق میں ہوتا تھا جج تک اس نے خرید لیے تھے لیکن حاوز سلیمان نے بھی کیس بند نہیں ہونے دیا تھا۔۔۔
دونوں طرف جنگ جاری تھی اس پورے دوران حاوز کو یہ فائدہ ہوا تھا کہ کوئی بھی اس کی فیملی تک نہیں پہنچ سگا وجہ بچپن سے ہی حاوز اپنے بھائی سے دور رہا ہے بہت کم لوگوں کو اس بات کا پتا ہے کہ حاوز کا کوئی بھائی ہے اس لیے وہ لوگ سیف تھے دوسری طرف فکر اسے اپنے ماں باپ کی تھی پر اس کا باپ بھی کوئی عام آدمی نہیں تھا ان کا تعلق سیاسی لوگوں سے تھا شاید یہی وجہ تھی کہ اس شخص نے کبھی اس کی فیملی کو نقصان نہیں پہنچایا اس کے باپ کے پاس ہر وقت سیکیورٹی گارڈ ہوتے چوبیس گھنٹے ان کا گھر پولیس کے کنٹرول میں ہوتا اس کے باپ کو اکثر دھمکی بھرے خط آتے تھے کالز آتی تھیں میسجز آتے تھے لوگ ان سے ان کی جان کی قیمت مانگتے تھے پر اس کا باپ کسی کو ایک پھوٹی کوڑی تک نہیں دیتا تھا۔۔ سیکیورٹی اس حد تک بڑھا دی تھی کہ کوئی پرندہ بھی یہاں پر نہیں مارتا تھا اور یہ چیز اس کے حق میں بہتر ثابت ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ اب تک یہ نہیں جانتا کہ حبروز نے عینا کے ساتھ کیا کیا تھا یہ صرف عینا ہی اسے بتا سکتی تھی جو اب اس کے سامنے بیٹھی تھی لیکن وہ زندگی کی ہر یاد بھلا چکی تھی وہ سافٹ ویئر ہی دماغ سے اُڑ چکا تھا جو بچپن سے اس کے ساتھ جُڑا تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” کیا میں اندر آجاؤں۔۔۔۔۔ ” وہ ہچکچایا جسے آریز نے محسوس کیا تھا لیکن اسے دیکھتے ہی اس کی آواز سنتے ہی خود آریز نے اسے اندر انے کا اشارہ کیا اور لیپ ٹاپ بند کرتے صوفے سے اٹھ کر اسکی طرف آیا۔۔۔۔
آریز مسکرا رہا تھا اور شاذ اس کی مسکراہٹ دیکھتے ہی اس سے گلے لگ گیا۔۔۔ اس کا دل بھر آگیا اُس دن کا سوچتے ہی اس کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے جس دن اس نے آریز کو شدید تکلیف دی تھی۔۔
” لڑکیوں کی طرح رو رہے ہو۔۔۔ ” اس سے الگ ہوتے ہی اس کی نم آنکھیں دیکھ کر آریز نے اسے ٹوکا اور اسے لیکر صوفے پر دونوں آمنے سامنے بیٹھ گئے۔۔۔۔۔
” میں نے آپ کے ساتھ بہت غلط کیا ہے۔۔۔۔۔ میں۔۔۔۔ ” شاذ ندامت سے چور لہجے میں نظریں جھکا کے بولا تو آریز نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مزید بولنے سے روکا۔۔
” جو ہوگیا سو ہوگیا!!!! مجھے تم سے گلا نہیں تم نے مجھے زندگی بھر کی خوشی دی ہے ویسے کیا کیسے؟؟ ” وہ شوخ ہوا شاز ہنسا۔۔۔ آریز بھی سر کُھجا کر مسکرایا اس بات میں کوئی شرم نہیں تھی کہ وہ دل سے خوش تھا اور خوشی کا اظہار کرنے میں بھی اسے کوئی شرم محسوس نہیں ہو رہی تھی۔۔۔۔
” مایل کی مدد سے!!!! ” مایل کا نام آتے ہی آریز کو دل سے خوشی ہوئی تھی جو بھی ہو وہ سب کنزنز باقاعدہ دل سے جُڑے تھے خاص کر مومنہ کی موت کے بعد۔۔۔۔۔
” آپ کی حالت نے میری جان نکال دی تھی مجھے آپ قتل کردیتے منظور تھا مگر آپ نے تو آئی سی یو پہنچ کر مجھے ہلا دیا۔۔۔ بس جاسمین کی اصلیت بھابی کو بتائی مگر یقین کریں بھائی انہوں نے سنا بھی نہیں وہ آپ کا سن کر ہی صدمے میں چلیں گئیں۔۔۔۔ آپ کو ہوش نہیں آرہا تھا۔۔ میں نے بس یہ سوچا ایسا کیا کیا جائے کے
” ہوش ” میں آکر آپ ” بےہوش ” نہ ہونے پر مجبور ہوجائیں آنکھیں بند نہ کریں اس ڈر سے کے یہ ” خواب ” نہ ہو!!!!! تب بس خیال ” نکاح ” کا آیا۔۔۔ امی ابو تایا چچا سب کو یہی بتایا کے آپ عزاہ بھابی کو پسند کرتے تھے مگر عزاہ بھابی کے ” پاپا ” نہیں مانے۔۔۔۔۔ میں شرمندہ ہوں مجھے پتا ہے یہ جھوٹ غلط ہے پر۔۔۔۔۔۔ ” وہ جو تفصیل سے آریز کو بتا رہا تھا لفظ ” پاپا ” پر آریز نے اپنی آنکھیں سیکوڑ کر تنبیہ نظروں سے اسے دیکھا تو وہ گھبڑا کر بولا۔۔۔۔۔پھر جب رُکا تو آریز نے اسے مزید بولنے کے لئے پوچھا۔۔۔
” پھر “
” میں نے ان سے کہا آپ کو اٹیک بھابی کی انگیجمنٹ کا سن کر ہوا تھا آگر آپ دونوں کا نکاح ہوجاے تو پچاس پرسنٹ ریکوری کے چانسسز ہیں اور عزاہ بھابی کو لے تو آیا تھا رات کے پہر انکو اکیلا چھوڑنے جاتا تو جانتا ہوں اُن پر بات آتی کوئی الزام لگتا۔۔۔ تو آپ ساری زندگی مجھے جوتے مارتے اسلئے بھی انکی امی کو لے آیا۔۔۔ پر وہ تو پہلے سے جیسے آپ کی منتظر تھیں پتا ہے بھائی انہوں نے آپ کا سنا نہ رونے لگیں یہاں تک کے مجھ سے کہا نکاح میں اگر عزاہ بھابی نے ہاں نہیں کی سب کے سامنے انھیں تھپڑ مار کر سیدھا کریں گی۔۔۔ ” وہ آخر میں مزے لے لے کر بتا رہا تھا جسے سن کر آریز بس مسکرائے جا رہا تھا۔۔۔۔۔
” آپ کے اتنے حمایتی ہیں کے آپ کے ساتھ کوئی برا کر ہی نہیں سکتا۔۔۔ن سچ میں۔۔ میں لڑکی ہوتا نخرے بھی نہ دیکھاتا۔۔۔۔۔۔۔ ” آریز کا باقاعدہ کمرے میں قہقہا گونجا اس نے شاذ کی گردن پیچھے سے پکڑ لی جس نے سر جھکایا ہوا تھا۔۔۔۔۔ وہ سچ کہہ رہا تھا ہمیشہ اسی بات سے تو جلتا تھا کہ آریز کے گھر میں سب حمایتی موجود ہیں کوئی اس کے خلاف کچھ نہیں کہتا کیونکہ آریز دلوں کو جیتنا جانتا تھا۔۔ ان کی مرحوم دادی کا پسندیدہ پوتا بھی تو آریز ہی تھا تبھی اس کے اٹیک کی خبر نے پورا گھر ہلا دیا۔۔۔۔۔
” آپ کہاں سے لاتے ہیں صبر بھائی!!!!! دیکھیں اتنے سال آپ تکلیف میں رہے اب ہر شے آپ کی گواہی دے رہی ہے۔۔۔۔۔ بھائی کاش مجھ میں اتنا صبر ہوتا۔۔۔۔۔ ” وہ آریز ہنستا دیکھ نرمی سے مسکرا کر بولا اس کی یہی غلطی تو اسے ہمیشہ مہنگی پڑتی تھی کہ وہ جذبات میں آکر مرنے مارنے پر اتڑ آتا تھا۔۔۔
” آجائے گا جب زیمیداریاں آتیں ہیں صبر خود آجاتا ہے۔۔۔
چچی کو کہتا ہوں بیوی لا دیں دیکھنا ایک ٹانگ پر کھڑے ہونا بھی سیکھ جاؤ گئے ” آریز نے شرارتً کہا وہ ہنس دیا۔۔۔۔
” ایک اور بات آپ غصہ تو نہیں کریں گئے؟؟ اب ڈرتا ہوں آپ کے غصّے سے۔۔۔۔ ” شاز اس سے تھوڑا دور ہٹ کر بولا تو آریز نے ابرو اچکائی۔۔۔۔۔
” بولو۔۔۔ ” آریز یہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اس سے سہلایا جیسے کسی شکار کو قربان کرنے سے پہلے تیار کرتا ہے۔۔۔۔
” بھابھی یعنی آپ کی بیوی جاب تلاش کر رہی ہیں ” وہ جو سمجھ رہا تھا کہ آفس میں شاذ سے کوئی حماقت ہو گئی ہوگی اسے اس بات کی ہرگز توقع نہیں تھی کے وہ جو بات کرنے جا رہا ہے اسکی بیوی سے تعلق رکھتی ہوگی۔۔۔۔
آریز کو جاب کا سن کر غصہ بھی آیا تھا وہ لڑکی پتا نہیں کیوں اپنا احساس نہیں کرتی جب شوہر ہے تو وہ کیوں خود کو خوار کر رہی ہے وہ اس کے پاس بھی تو آسکتی تھی یا اس کی کمپنی میں اپلائے کر کے سیدھے طریقے سے جاب مانگتی۔۔۔۔۔
” تمہیں کیسے پتا۔۔۔ ” لہجہ ہر جذبات سے عاری تھا بہت مشکل سے وہ خود کو ضبط کیے ہوئے تھا۔ عزاہ کے معاملے میں وہ بے انتہا بے بس تھا نا اُس پر غصہ کر سکتا تھا نا اس کے ساتھ زور و زبردستی کر سکتا تھا۔۔۔
” بتاتا ہوں!!! وٹساپ پر ایک جاب گروپ ہے آپ کو تو ضرورت نہیں پڑی شروع سے بزنیس سنبھالا ہے آپ نے مگر میں ڈھونڈتا تھا جب ابو سے ناراض ہوا تھا۔ اسلئے اپنے دوستوں سے کہا تھا جابز گروپس میں ایڈ کرو تو انہوں نے یونیورسٹی سے لیکر ہر گروپ میں ایڈ کیا ہے۔ یونیورسٹی مطلب ہمارے سارے سال کے بیچز جہاں آپ کے دوست بھی ایڈ ہیں۔۔۔میرے کلاس فیلوز،، جونیئر ہمارے سینیئرز سب وہیں آیڈ ہیں ایچ آرز بھی۔۔ تو میرا ایک کلاس فیلو ایچ آر ہے ایک کمپنی میں اسے بھابی نے اپنی سی وی سینڈ کی اسی گروپ سے انہوں نے جاب کی ریکوائرمنٹ دیکھی تو اپنی سی وی میل کی اب وہ مجھ سے آج پوچھ رہا ہے آپ اور بھابی تو ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے اُسے تو لگا تھا آپ دونوں کی شادی ہو چکی ہے تو اب وہ جاب کیوں ڈھونڈ رہیں؟؟ اس نے مجھ سے پوچھا اسلئے کے آگر انھیں ہائیر کیا تو وہ چھوڑ نہ دن بیچ میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” شاذ نے اسے تفصیل بتائی جسے سن کر اب وہ سوچ رہا ہے کیا کرے؟؟؟
وہ سمجھ تو چکا تھا یونیورسٹی میں انہیں ہر کوئی جانتا تھا دونوں ساتھ پڑھتے تھے ہر وقت ساتھ ہوتے تھے یہاں تک کے کسی کامپٹیشن میں حصہ لینا ہو تو دونوں ساتھ لیتے تھے کوئی پلے کرنا ہو تب بھی۔ آریز ہر جگہ صرف عزاہ کا نام لکھواتا تھا کیونکہ وہ اس کے شکی مزاج سے واقف تھا۔۔۔۔۔
” میرے دوست کو میرا نمبر بھی اسی گروپ سے ملا اس نے مجھے ایک وقت میں ایڈ کروایا تھا لیکن پھر فون چینج ہونے پر اسکا نمبر مس پلیس ہو گیا۔۔۔ مگر میں گروپ میں ایڈ تھا تو میرے پاس نوٹیفکیشنز آتے تھے۔۔ “
” ہممممم ” وہ گم سم ہو گیا جو شاز نے محسوس کیا وہ اسے اداس نہیں کرنا چاہتا تھا مگر اگر وہ اسے نہ بتاتا تو خود کو پھر سے وہ آریز کا مجرم سمجھنے لگتا۔۔۔
” تم اسے کال کرو کل انٹرویو کے لئے بلاؤ ” آریز کے منہ سے بےساختہ نکلا آخر اسکے ذھن میں اس وقت صرف عزاہ رحمان گھوم رہی تھی۔۔۔۔
” وہ آئیں گی؟؟؟ ” شاذ نے پوچھا۔۔۔
” پتا نہیں۔۔۔۔۔ شاید ہاں اگر بیوقوفی کی مقدار کم ہوئی ہو تو۔۔۔ “
” آپ غصّہ نہ ہوں میں خود کال کر کے انہیں راضی کرونگا۔۔۔۔۔۔۔ ” وہ اسے حوصلہ دے رہا تھا۔۔ ” میں اگر کہوں گا کہ آپ کو اچھا نہیں لگے گا بھابھی کہیں اور جاب کریں تو شاید وہ یہاں آجائیں انہیں آپ کی ناراضگی کی فکر ہے مجھے تو لگتا ہے میں انہیں قائل کرنے میں کامیاب رہوں گا۔۔۔۔ ” شاز اسے یقین دلا رہا تھا مگر آریز کا سر اب دُکھنے لگا تھا۔ اوپر سے ڈنر کا وقت ہوگیا تھا شاذ نے اسے اٹھنے کا کہا تو وہ خاموشی سے اس کی ہمراہی میں نیچے چلا آیا۔۔۔۔۔۔
اپنوں کے ساتھ بیٹھ کر ڈنر کر کے پھر چائے سے لطف اندوز ہو کر آریز کا دل کچھ پُرسکون ہوا تھا مگر اب بھی عزاہ رحمان اس کے ہواسوں پر چھائی تھی بس ایک بار وہ اسکی دسترس میں آجائے ہر ڈر،، ہر پریشانی وہ دور کردیگا۔۔۔۔ اور اسے احساس دلائے گا ایک انسان ہے جو اس کے لئے بے انتہا،، بےتحاشا ” تڑپتا ” ہے۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔