66.2K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

” آپ دونوں کو اس طرح نہیں آنا چاہیے تھا اپنے لئے بھی مسلا کریٹ کر رہی ہیں اور میرے لئے بھی ” وہ ان دونوں سے کہ رہا تھا۔۔۔
” مسلا کیوں میڈم کو تھوڑی پتا ہے؟؟ وہ تو مارننگ میں چلی گئیں۔۔ ” صباء نے کہا۔۔
” باقی سب نہیں جانتے کیا؟؟ وہ آپ کی ” میڈم ” سے پوچھ سکتے ہیں!!! آپ دونوں کس کی عیادت کے لئے فلورز پر آئیں ” صباء اور مومنہ نے بےساختہ ایک دوسرے کو دیکھتے تھوک نغلی۔۔۔۔
زاکون ان دونوں کو وہیں چھوڑ کر ایک کال آٹینڈ کرنے چلا گیا۔ جیب میں رکھا فون مسلسل بج رہا تھا۔۔۔
” مومنہ کی بچی تمہارے چکر میں آئی تھی میں۔۔۔ اب کیا ہوگا؟؟ “
” اب کیا ہوسکتا ہے بس ذلیل ہونگے سب کے سامنے ” مومنہ نے زاکون کو دیکھتے کہا جو اب آگے جا چکا تھا اور کسی سے کال پر بات کر رہا تھا۔۔۔۔
” تم جاؤ فارمیسی میں!! میں آتی ہوں ” کہکر وہ زاکون کے پیچھے چل دی صباء نے دانت پیسے یہ کبھی ” اس شخص ” کو نہیں چھوڑے گی۔ بڑبڑاتی ہوئی وہ نیچے چلی گئی۔۔۔۔
” میں ہمیشہ کے لئے جا رہا ہوں ملک چھوڑ کر!!! اسلئے پلیز آپ فورس مت کریں اپنی امی کے لئے کوئی اور نرس ہائر کرلیں ” وہ فون پر کسی سے کہ رہا تھا مومنہ کو لگا وہ ابھی زمین بوس ہو جائے گئی۔۔۔۔ یکدم دل کسی کی مٹھی میں جکڑا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔ کیا وہ اسے چھوڑ کے چلا جائے گا؟؟؟؟؟؟
” اچھا آپ فکر مت کریں دیکھتے ہیں ابھی میں یہیں
ہوں ” کہتے ساتھ زاکون نے فون رکھ دیا۔ بہت عرصے پہلے ایک لڑکا اپنی ماں کے زخمی وجود کو لے کر ہسپتال آیا تھا زاکون نے ان کی بہت خدمت کی تھی وہ ان کا ہر کام خود اپنے ہاتھوں سے کرتا تھا۔ وہ یہاں سے صحت یاب ہو کر تو چلی گئیں مگر اکثر کمزوری کے باعث انہیں چکر آجاتے ہیں کبھی کبھی تو وہ مہینوں بیڈ پر لیٹی رہتی ہیں تب وہ لڑکا بلال ہمیشہ زاکون کو فون کر کے اسے گھر بلاتا تھا انھیں ڈریپ لگانے کے لئے۔۔۔۔
آج بھی وہ زاکون سے درخواست کر رہا تھا کہ وہ ملک چھوڑ کر نہ جائے کیونکہ بلال کی ماں زاکون سے بہت مانوس ہو چکی تھیں وہ اس کے علاوہ کسی سے بھی ٹریٹمنٹ نہیں کرواتیں۔۔۔۔۔
” آپ مجھ سے ناراض ہیں؟؟؟ ” فون جیب میں رکھتا دیکھ وہ اسکے روبرو آن کھڑی ہوئی۔۔۔۔۔
” ہمارے بیچ ناراضگی کا کوئی رشتہ ہے؟؟ ” اسکا لہجہ سخت تھا وہ تھوڑی خائف ہوگئی۔۔۔ آج کے اسکے عمل نے زاکون کو شدید غصّہ دلایا ہے۔
” میں تو بس نکاح کی مبارکباد دینے آئی تھی “
” کس رشتے سے؟؟؟ ” وہ اسکے قریب چلا آیا لہجہ حد درجہ غصّہ سے بھرا تھا۔۔۔۔
” انسانیت۔۔۔۔ اوووو۔۔۔۔۔ ” وہ کہتے کہتے رُک گئی الفاظ ہی کہیں غائب ہو چکے تھے۔۔ اِسکی سخت نظریں خود پر جمی دیکھ۔۔ انسانیت کا رشتہ تو سب سے تھا پھر کیا سب انجان لوگوں کو وہ مبارکباد دیتی پھرتی ہے۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟
” اچھا۔۔۔ ” وہ جیسے اسکی عقل پر ماتم کر رہا تھا۔۔۔ مومنہ شرمندہ ہوگئی۔۔۔
” اور؟؟؟ ” اسکے ” اور ” پر طنز کرتے وہ دونوں ہاتھ سینے پر باندھے اسکے جواب کا منتظر تھا۔۔۔
” وہی جس سے آپ بھاگتے ہیں۔۔۔ ” وہ بھی خود کو روک نہ پائی اسکی سنگدلی دیکھ کر آنسوں پیتے بولی۔۔
” کبھی نہیں بھاگا ” وہ سرد نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ اسکی بات ” مومنہ ” کے حوالے سے سمجھا نہیں تھا۔ مومنہ کے دل سے ایک دعا نکلی کاش اس شخص کی آنکھوں میں مومنہ کے لئے نرمی در آئے۔۔۔۔۔
” نکاح سے نہیں بھاگے تھے۔۔۔۔ ” وہ انجانے میں اسکے زخم تازہ کر گئی۔ ایک تو اسکی سرد نگاہیں اوپر سے اسکا ٹھکرانا مومنہ پورے ایک سال تک اس شخص کا انتظار کرتی رہی مگر وہ ” پتھر “۔۔۔ کہاں سے اسکا احساس کریگا؟؟؟؟؟ وہ تو آج تک اپنی منگیتر کی یادوں کے سہارے زندہ ہے۔۔۔۔
جبکے وہ حیرت و بےیقینی سے اسے دیکھے گیا۔ لمحے میں ان آنکھوں میں بےپناہ غصّہ در آیا ان انگارے برساتی نگاہوں سے مومنہ کو اپنا وجود جلستا محسوس ہوا۔۔۔۔۔
” میرا مقصد آپ کو تکلیف دینا نہیں تھا۔۔۔۔” وہ اپنی جلد بازی پر بےبس ہوگئی آنکھوں کے کنارے بھیگنے لگے اب شاید وہ اس سے اور ” نفرت ” کریگا۔۔۔۔ یہ سوچ ہی اسے مار رہی تھی وہ روتی ہوئی اس سے کہ رہی تھی۔۔۔۔۔
” زاکون حیدر آپ انتہا کے بےحس شخص ہیں!!! ایک لڑکی خود چل کر آپ کے پاس آئی ہے اور آپ؟؟۔۔۔ مجھے ڈر لگتا ہے۔۔۔ میں آپ کو کھو دوں گی اس معملے میں انتہا کی سیلفش ہوں!!!!! اتنے اچھے شخص کو کسی اور کا کیسے ہونے دوں؟؟؟۔۔۔۔ اپنی بےبسی میں اپنا ہی ہمیشہ نقصان کیا ہے۔۔۔۔۔ مجھے معاف کردیں میرے دل میں ایسی سوچ نہیں ورنہ خود آپ کے پاس کبھی نہ
آتی۔۔۔۔۔ ” وہ دوپٹے سے آنسوں پونچتے اس سے گلہ کر رہی تھی جبکے زاكون ایک بار پھر پچھتاوے میں آگیا۔ کیا پہلے کی گئی غلطی وہ دوبارہ کر رہا ہے؟؟؟؟؟
کاش کاش اسکا نام مومنہ نہ ہوتا!!! پھر وہ چاہ کر بھی اسکی سوچوں پر حاوی نہ ہو پاتی۔۔۔
بےبسی سے اپنا سر مسلتے اس نے سوچا۔۔۔
اور جیب سے رومال نکال کر اسکی طرف بڑھایا۔۔۔
” ابھی تم جاؤ کسی نے دیکھا تو غلط سمجھے گئیں!!!! بعد میں بات کرتے ہیں ” وہ بےحد نرمی سے بولا کہیں اسکا سخت لہجہ دوبارہ نہ برسات جاری کردے۔۔۔۔۔
” آپ پاکستان چھوڑ کر جا رہے ہیں؟؟ ” نظریں اٹھا کر اس نے جھجھک کے پوچھا اور اسکا بڑھایا ہوا رومال تھاما۔۔
زاکون نے ایک نظر اس سے دیکھا اور بولا۔۔۔
” اب نہیں جا رہا “
پھر جیسے نظریں ٹھہر سی گئیں اس کے جواب پر جو سکون اس لڑکی کی آنکھوں اس کے چہرے پر در آیا زاکون اس سے پیچھا نہ چھڑوا سگا۔۔۔۔۔۔
وہ بےبس ہو رہا تھا۔۔۔
بےچین ہو رہا تھا۔۔۔
کیسے سمجھائے اسے۔۔۔۔
وہ پتھر پر سر مار رہی ہے۔۔۔
جس کا دل و دماغ آج تک ” مومنہ ” کی یادوں میں قید ہے وہ اسے بھلا کیا دے سکتا ہے؟؟؟؟
وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ پیاسی نظروں کو سیراب کر رہی تھی زاكون خود ہی وہاں اسے چھوڑ کر اندر چلا آیا جہاں شگفتہ آریز کو ہسپتال کا پرہیزی کھانا کھلا رہی تھیں جبکے المیر، زریق اور شاز زریق کے گھر سے لایا کھانا کھا رہے تھے سمرین بیغم ارحم کو گودھ میں لیے بیٹھیں تھیں اور شگفتہ سے آریز کی طبیعت کے متعلق پوچھ رہیں تھیں۔ مایل زاکون کو کمرے میں آتا دیکھ اسکے لئے کھانا نکالنے لگی وہ منع کرنا چاہتا تھا کے اسے بھوک نہیں ابھی پر۔۔۔۔ وہ اسکے لئے نکال چکی تھی۔۔
” زکی بھائی آئیں کھانا ٹھنڈا ہوجاے گا ” وہ خاموشی سے آکر بیٹھ گیا اور انکے ساتھ کھانا کھانے لگا۔۔
دو دن رہ کر آریز کو سب گھر لے آئے۔۔۔۔ شگفتہ اسکا پہلے سے بڑھ کر خیال رکھ رہیں تھیں خاص کر اسکے لئے کچھ دن تک پرہیزی کھانا بنتا رہا دوائیاں بھی خود شگفتہ اسے اپنے سامنے کھلاتی رہی۔ کچھ دن یوں ہی گزرے پھر جس دن آفس جانا تھا اس دن وہ بامشکل ایک بجے تک آفس میں اپنا پینڈنگ کام کرتا رہا پھر دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر ان گلیوں میں چلا آیا جہاں سے آریز کا پرانا ناتا تھا۔۔۔۔
وہ ابھی ایک گلی کی طرف کار کا رخ موڑ رہا تھا کے اسے عزاہ ایک دکان پر کھڑی نظر آئی۔ آریز نے مُٹھی بھینچ لی اسے غصّہ عزاہ پر نہیں آیا۔ بس اپنی قسمت پر آیا نجانے کتنے عرصے سے وہ ایسے دکانوں پر پھرتی سامان لیتی ہوگی وہ کار سے فوراً نکل کر اس دکان کی طرف چلا آیا۔۔۔۔۔
” عزاہ کار میں بیٹھو ” اپنی پیچھے آریز کی آواز سن کر وہ حیران ہوتی پلٹی امید نہیں تھی وہ اسے یہاں ملیگا۔۔۔
” آپ۔۔ آپ یہاں؟؟؟ آپ کی طبیعت کیسی ہے؟؟ “
” ٹھیک ہوں چلو آؤ!!! ” جب وہ اسکے کہنے پر بھی نہ ہلی تو آریز نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔۔
” کبھی خاموشی سے مان لیا کرو۔۔ “
” مگر میں یہ سامان۔۔۔ ” وہ کہنے لگی تھی مگر آریز اسے اپنے ساتھ کھینچتا گاڑھی تک لایا اسے فرنٹ سیٹ پر بیٹھا کر آریز نے دوسری طرف آکر ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔۔۔
کار ریورس کر کے وہ اس محلے سے باہر نکل آیا۔ کار کا اے سی وہ فل کر چکا تھا کیوں کے عزاہ پسینے میں نہا ہوئی تھی ڈش بورڈ سے ٹیشو کا پیکٹ اٹھا کر اسنے عزاہ کی طرف بڑھایا جس نے ایک ٹشو لیا اسکے ٹشو نکالتے ہی ڈبا آریز نے واپس رکھ دیا۔۔۔
” ہ ۔۔۔ہم کہاں جا رہے ہیں؟؟ ” اسے انجان راستوں پر جاتے دیکھ وہ پوچھ بیٹھی اعتبار تو اس شخص پر تھا تبھی وہ خوفزدہ نہیں تھی۔۔۔
” سپر مارکیٹ “
” لیکن اتنا سامان ہے ہی نہیں بس دو تین چیزیں ہیں “
” جو بھی پورے مہینے کا سامان لے لیں گئے!! اور اگر اب بھی تمہیں پیسوں کو لیکر مسلا ہے تو سن لو اب تمہارا دوست نہیں!! شوہر ہوں یہ میرا حق ہے جس سے تم مجھے روک نہیں سکتیں۔۔۔ امید ہے سمجھ آگئی ہوگی اس معملے پر کبھی بحث مت کرنا ” اسکے بولنے سے پہلے ہی وہ اسکا منہ بند کروا چکا تھا عزاہ بھلا کیا کہتی؟؟؟ پہلے تو اس شخص سے بات بات پر لڑتی تھی اب ہمت ہی جا سوئی تھی اسکی بےرُخی دیکھ کر۔۔۔۔
پھر وہ اسے قریبی سوپر اسٹور لے آیا اور ٹرالی لیکر اپنی مرضی سے اسے بھرتا گیا۔ چاول، آٹا، دالیں، بیسن، میدہ، بیکری سے بسکیٹس پیسٹریز لیں، شیمپو پیسٹ توتھ برش، ٹشو، کے این ایس کے بنے فروزن ٹینڈر پوپس اسکے پسندیدہ رول سموسے چپلی کباب، صرف، صابن، باتھروم صاف کرنے کی دوا نجانے وہ کیا کیا بھرتا جا رہا تھا اسکی پسندیدہ چیزوں میں اس نے چپس، سیون اپ کا کارٹن اور مارش میلوز رکھے۔ اسپیگیٹی نوڈلس الگ سے آخر میں رکھیں وہ منہ کھولے اسے دیکھتی رہی۔۔۔
” امی کی کوئی دوائیاں ہیں؟؟؟ ” وہ جو یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی اسکے امی کہنے پر چونک اٹھی پھر بات سمجھ میں آئی تو اس نے نفی میں گردن ہلائی۔۔
” نہیں۔۔۔ “
” شیور؟؟؟ ” ایک بار پھر اسنے پوچھا۔۔۔
” جی۔۔۔۔ ” وہ دونوں کیش کائونٹر تک آگئے آریز سامان نکال کر کائونٹر پر رکھ رہا تھا جہاں سے پھر وہ کیش کائونٹر والا بندہ سامان چیک کر کے اسے بل میں ایڈ کرتا جا رہا تھا کمپیوٹر میں۔۔۔۔
عزاہ نے سوچا وہ بھی سامان اٹھا کر رکھ دے چھوٹی چھوٹی چیزیں تاکے آریز کو آسانی ہو اور کام بھی جلدی ہوجائے اس نے ابھی شیمپو اور کنڈیشنر اٹھا کر رکھا تھا کے آریز نے اسے ٹوک دیا۔۔
” رہنے دو۔۔۔ ” وہ خاموشی بس اسے دیکھتی رہ گئی کار میں بھی اس نے خود سامان رکھا جاتے ہی عزاہ سے کہ دیا۔۔۔۔
” تم اندر جاکر بیٹھ جاؤ ” وہ بس اس شخص کو دیکھتی رہ گئی سیٹ کی پشت سے سر ٹکا کر وہ سوچ رہی تھی یہ شخص کس ” نیکی ” کا اجر ہے؟؟؟ یکایک اسکی آنکھیں ہلکی سے نم ہوگئیں اسے یاد آیا اسکے بابا اسکی ماں سے کہتے تھے ” جب سے پیدا ہوئیں تھیں تب سے بس اللّه سے انکا نصیب مانگتا ہوں!!! دیکھنا مجھ سے بڑھ کے محبت کرنے والا ملے گا ” وہ اپنے بابا سے بہت قریب تھی انکی موت نے اسے نیم پاگل کردیا تھا اور اسی پاگل پن کو سب سے زیادہ آریز نے جھیلا تھا۔ لیکن جب تک وہ رہے ساری زندگی بس انکے لئے جیتے رہے انہے کبھی محسوس نہیں ہونے دیا دنیا انکی حیثیت مطابق نہیں۔۔۔۔
وہ جو سوچوں میں گم تھی گاڑھی چلنے پر ہوش میں آئی۔ عزاہ نے ہلکی سی گردن موڑ کر چور نظروں سے اسے دیکھا تو وہ سنجیدگی سے ڈرائیونگ کر رہا تھا۔۔۔
کیسے وہ اسے منائے؟؟؟ کیا وہ اسے معاف کردیگا؟؟؟؟ یہی سوچتے وہ جانی پہچانی گلیوں میں آگئے اسکا گھر آگیا۔۔
آریز نے سارے شاپنگ بیگز اندر گھر میں رکھے اور بس اسے چلنے کا اشارہ کیا اندر آکر وہ اسکی ماں سے محبت سے ملا۔۔
” کیسی ہیں آپ امی؟ طبیعت کیسی ہے؟؟ ” وہ اسکے امی کہنے پر نہال ہوگئیں محبت سے اسکا ماتھا چوما۔۔
” اللّه تمہیں میری عمر بھی دے دے ” وہ انکے پاس بیٹھا رہا وہ اس سے شکوہ رہیں تھیں وہ مسکراتے سن رہا تھا معافی مانگنے لگتا تو وہ ڈانٹ دیتیں۔ وہ دونوں باتوں میں مگن تھے کے عزاہ لوازمات سے بھری ٹرے انکے سامنے رکھ گئی۔ نفیسہ اسے بار بار اسرار کر کے ہر چیز کھلا رہیں تھیں۔۔۔
” بیٹا یہ کباب کھاؤ عزاہ نے بنائے ہیں!!! اور یہ رول کھا کر دیکھو کتنے لزیز ہیں پرسوں ہی بنا کر فریز کیے تھے ” انکے اسرار پر آریز نے ایک رول لیا مگر کباب نہیں لے۔ پھر انکے ساتھ ٹائم کا پتا ہی نہیں لگا کب آٹھ بج گئے؟؟ وہ معزرت کرتا اٹھ کھڑا ہوا اور نفیسہ سے ملکر وہ چلا گیا اس سے ملے بغیر ہی چلا گیا۔ کتنا کٹھور بن گیا تھا وہ اس سے ہر بدلہ لے رہا تھا۔
جب وہ چائے کے خالی کپ اور پلیٹس اٹھانے آئی اسنے دیکھا آریز نے سب کچھ کھایا تھا سوائے کباب کے۔۔۔۔
باہر کے فروزن ٹینڈر پوپس تک کھاۓ مگر اسکے کباب نہیں۔۔ دلبرشتہ ہوکر رات کو جب وہ لیٹی تو دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس نے آریز کو میسج کیا۔۔۔
” سب کھایا سوائے کباب کے؟؟؟ ” اسے لگا تھا وہ رپلائے نہیں دیگا اسکی نظر میں معمولی بات ہوگی مگر اسکی حیرت کی انتہا نہ رہی جب آریز نے فوراً سے جواب دیا جیسے اسی سوال کا منتظر تھا۔۔۔۔
” کباب نہیں پسند۔۔ ” آریز جو سونے کے لئے بس لیٹا ہی تھا اسکا میسج دیکھ کر مسکرا اٹھا۔۔۔۔۔
شدت سے دل سے خوائش نکلی کاش آج وہ اسکے پاس ہوتی تو دن بھر کی تھکن اسے دیکھتے ہی اتڑ جاتی۔۔۔۔۔
” میں نے بنائے اسلئے؟؟ ” اسے شدید غصّہ آیا کتنا جھوٹا تھا وہ شوق سے کباب کھاتا تھا۔۔۔
” نہیں “
” پھر؟؟؟؟ پہلے تو شوق سے کھاتے تھے “
” اب نہیں رہا شوق۔۔ وقت کے ساتھ پسند نہ پسند بدلتی رہتی ہے ” اسکے جواب پر عزاہ کے دل میں درد کی ایک لہر اٹھی۔۔۔
” پھر تو میں بھی پسند نہیں رہی ہے نہ؟؟ شادی کیوں کی؟؟؟ ” اسکا دل رو رہا تھا۔۔۔۔۔۔
” بیڈ پر لیٹے مریض کے کان میں نکاح کا اعلان کرکے رضامندی مانگیں گئے اور ہاتھ میں پیپر پکڑا کر سائن کرنے کو کہیں گئے تو بتاؤ کوئی اوپشن بچا؟؟؟ ” اسکا جواب سن کر عزاہ کی آنکھیں نم ہوگئیں وہ شخص زخم دینا جانتا تھا۔۔۔
” تو منع کردیتے میری زندگی کیوں برباد کی ” اسکا بس نہیں چل رہا تھا فون کو آگ لگا دیتی۔۔۔۔۔
” میری بھی تو ہوئی ” اسکا جواب دیکھ کر عزاہ کا دل چاہا وہ شخص سامنے ہوتا تو اسے بتاتی کس طرح وہ اسکے لئے رو رہا تھا اور اب اسے ستانے کے لئے جان کر۔۔۔ یا کیا واقعی یہ سچ ہے حاصل کرنے کے بعد اُس انسان کا مول نہیں رہتا وہ بےمول ہوجاتا ہے؟؟؟ سوچ سوچ کر اسکا دماغ پھٹ رہا تھا ایک بار پھر وہ آریز سے بدگمان ہو رہی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔****
” یہ سب میری غلطی کی وجہ سے ہوا!!! میں اپنی بیوی سے غافل رہا۔۔ پتا نہیں کیا ہوگیا تھا میرے الفاظ،، میری کوئی تقریر آپ کو قائل نہیں کر سکتی۔۔ زونیشہ بہت ناراض ہے اسے میں نے کہا تھا ہمارے بیچ شاید میاں بیوی کا کوئی رشتہ نہیں تبھی وہ کب سے یہاں ہے۔۔۔” وہ کہ کر خاموش ہوا تو سب اسے ہی دیکھنے لگے وہ اپنے ساتھ صالحہ کو بھی لایا تھا جو اس وقت امبرین (زونیشہ)کی ماں کے آگے شرمندہ تھیں۔۔۔۔۔
” اپنی غلطی کو سدھارنا چاہتا ہوں زونیشہ بہت ناراض ہے!!! بات تک نہیں کرنا چاہتی۔۔۔ آپ دونوں کی موجودگی میں اُس سے نکاح کرنا چاہتا ہوں ” وہ شرمندہ تھا اسکا سر جھکا ہوا تھا اسکے پاس کوئی اور ھل نہیں تھا وہ آگر اب یہ بھی نہ کرتا تو شاید وہ اس سے مزید بدگمان ہوجاتی جو پہلے سے ہی بہت تھی۔۔۔۔
امبرین بیغم کچھ کہے بغیر اٹھ کر زونیشہ کے کمرے میں چلی آئیں وہ جو کتاب کو غور سے پڑھتے بیڈ پر اوندھی لیٹی تھی انکی آمد پر سیدھی ہوکر اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔
” تمہارا شوہر اور ساس آئی ہیں ” انہوں نے غور سے اسکا چہرہ دیکھا جو شوہر کی آمد کا سن کر سفید پڑ چکا تھا۔۔۔۔
” المیر نے تمہارے یہاں رکنے کی وجہ بتا دی ” زونیشہ نے جھٹکے سے سر اٹھا کر ماں کو دیکھا جو آگ کا شعلہ بنیں اسے ہی دیکھ رہیں تھیں۔ تو کیا اُس نے سب کچھ بتا دیا؟؟؟
” تم ابھی میرے ساتھ مسجد چل رہی ہو وہاں۔۔۔ ” اسکی پروا کیے بغیر انہوں نے اپنا فیصلہ سنایا جسے سن کر وہ نفی میں سر ہلانے لگی اور کچھ بولنے لگی تھی کے امبرین بیغم کا ہاتھ اٹھ گیا۔۔۔
” چُپ ایک لفظ نہیں۔۔ ماں مر گئی تھی؟؟؟ اتنے دنوں سے پوچھ پوچھ کر تھک چکی ہوں مگر تم ہو کے؟؟؟ کوئی احساس ہے شادی شدہ بیٹی گھر آکر بیٹھ جائے تو ماں باپ کی کیا حالت ہوتی ہے؟؟؟ دن بھر اپنے ان ناولوں میں سر کھپاتی ہو انہیں جیسے اپنی دنیا بنا لی ہے کبھی سوچا ہے میں تمہاری وجہ سے ڈائبیٹیس کی مریض بن چکی ہوں؟؟ ایسا کیا تھا جو غلطی تمہاری نہیں تھی پھر بھی ایک لفظ تک نہیں بتاتیں تھیں؟؟ بولو اب چُپ کیوں ہو؟؟؟ میں سمجھ چکی تھی تمہیں وہاں واپس جانا ہی نہیں یہیں رہنا چاہتی ہو۔۔۔ ایسا ہی ہے نہ؟؟؟ ” انکا ہاتھ اٹھا تھا زونیشہ پر وہ گال پر ہاتھ رکھے بےآواز آنسو بہا رہی تھی ہر لفظ سچ تھا مگر سچ کے پیچھے کی وجہ بھی تو اِس سے نہیں پوچھ رہیں تھیں وہ اِسے واپس اُس شخص کے پاس بھیج رہیں تھیں جس نے اِسے برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔۔۔۔۔۔
” اٹھو۔۔۔ ” انہوں نے اسکا ہاتھ پکڑ کے اٹھایا رسالہ اسکے ہاتھ سے گڑتا بیڈ پر گِر گیا وہ باقاعدہ اسے کھینچتی واشروم کے دروازے تک چھوڑ آئیں۔۔۔
” منہ ہاتھ دھو کر حلیہ درست کر کے نیچے آؤ نکاح کے بعد تمہیں تمہارے سسرال چھوڑ کر ہی آؤں گی “
وہ بےیقینی سے ماں کو دیکھنے لگی لیکن انکی ایک سخت نگاہ پر وہ واشروم میں جاکر بند ہوگئی وہاں کتنی دیر روتی رہی پھر ماں کے دروازہ بجانے پر ہاتھ منہ دھو کر کپڑے چینج کر کے نیچے آگئی اس نے آتے ساتھ سلام تک نہیں کیا بس آکر انکے سامنے بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔۔
کتنے دنوں بعد وہ اسے دیکھ رہا تھا نظریں تھیں کے اسکے سُرخ چہرے پر ٹک سی گئیں۔۔۔
وہ ہنوز نظریں جھکائے ہوئے تھی کسی کٹھ پتلی کی طرح جو اسے کہا جا رہا تھا وہ خاموشی سے کرتی جا رہی تھی نظریں ایک پل کو نہ اٹھیں اِسکی ماں نے اِسکا ہاتھ پکڑ کر کار میں بٹھایا پھر جہاں کار رُکی وہاں سے اِسکی ماں اِسکا ہاتھ پکڑ کے نجانے کہاں کہاں لے گئیں ہوش تو تب آیا جب ایک بار پھر اسی شخص کا نام لیکر مولوی صاحب نے نکاح کی رضامندی مانگی۔۔۔۔۔۔
تین بار اقرار کر کے نکاح نامہ پر دستخط کیے اسکا دل رو رہا تھا اسکا رواں رواں سلگ رہا تھا ایک بار پھر وہ برباد ہونے اسی کے پاس واپس لوٹ رہی تھی فرق صرف اتنا تھا پہلے دل سے راضی تھی آج مجبور ہوکر جا رہی تھی۔۔۔۔۔
نکاح کے بعد جب وہ گھر لوٹے امبرین اس سے ایک منٹ تک تو گلے لگتے اسکی خوشبو محسوس کرتی رہیں مگر وہ پتھر بنی کھڑی رہی انکی محبت کے جواب میں اِس نے اپنی باھیں تک انکی گرد نہ کیں۔ امبرین کو محسوس تو ہوا مگر جانتیں تھیں ابھی انکی بیٹی ناراض ہے جب وہ خود اس بات کو محسوس کریگی زندگی ڈراموں کی کہانی نہیں حقیقت ہے تب وہ خود اس بات کو سمجھے گی۔۔۔۔۔۔۔
امبرین جب اسے گلے مل کر پیچھے ہٹی تو وہ اپنے گھر کی طرف بڑھ گئی کسی کا بھی انتظار کیے بغیر وہ خود گیٹ تھوڑا سا کھول کر اندر چلی گئی المیر اسکی کاروائی دیکھ رہا تھا صالحہ بھی جان چکی تھیں وہ ان سب سے ناراض ہے۔۔۔۔۔۔
حال میں اسے کوئی نظر نہیں آیا شکر تھا وہ تیز قدم اٹھاتی اپنے کمرے میں چلی آئی۔ کمرے میں آکر وہ بیڈ پر بیٹھ گئی اپنے گھٹنوں کو سینے سے لگائے وہ اس پر چہرہ ٹکائے کانپنے لگی دل کی دھڑکن تیز تر ہوتی جا رہی تھی وہ کیسے سب سے نظریں ملائے گی؟؟ بےشک نکاح کا معلوم دو لوگوں کو تھا مگر ،مشکوک تو وہ سب کی نگاہوں میں ہوگئی اور وہ جو اسے دوبارہ نکاح کر کے لایا تھا لاعلم تھا وہ اب پہلے جیسی نہیں رہی اب تو اسکی زبان میں بھی ہکلاہٹ۔۔۔۔۔ یا میرے اللّه۔۔۔ یہ تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا!!! تو کیا وہ اسے قبول کریگا؟؟ اسکے جسم میں یکدم سے کپکپی سی طاری ہوگئی۔۔۔
اسے سردی لگ رہی تھی وہ کانپ رہی تھی المیر جب کمرے میں آیا تو اسکی حالت دیکھ کر بوکھلا گیا ذھن یکدم سے سُن ہوگیا پھر یاد آیا زاکون نائٹ کر کے آیا تھا وہ ابھی گھر پر ہوگا المیر اسکے کمرے کی طرف بھاگا۔۔۔
” زکی۔۔۔۔۔ زکی۔۔۔۔ ” المیر نے باقاعدہ اسے جھنجھوڑ ڈالا وہ جو پوری رات نائٹ ڈیوٹی کر کے لوٹا تھا باقاعدہ بوکھلا اٹھا نیند سے جھولتی آنکھیں کھولیں تو المیر کو اپنے سر پر کھڑا پایا۔۔۔۔۔
وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا المیر نے زاکون کا بازو پکڑ کر اسے اٹھایا۔۔
” جلدی چلو زونیشہ کو دیکھو۔۔۔ ” وہ اسے اپنے ساتھ کھینچتا ہوا لے جا رہا تھا زاکون ہوش میں آیا تو سب سے پہلے اس نے المیر سے اپنا بازو چھڑوایا۔۔۔۔
” شرٹ تو پہنے دو پہلے ” وہ جو بنیان میں ملبوس تھا اکتاہٹ بھرے لہجے میں بولا المیر کے لئے اس وقت صبر کرنا نہایت ہی مشکل تھا وہ شرٹ پہن رہا تھا اور المیر اسے ایسے ہی کھینچتا ہوا لے جا رہا تھا۔۔
” کہاں پھنس گیا!!! بھائی کچھ نہیں ہوا ہوگا آج کل لڑکیوں کے دل چھوٹی چھوٹی بات پر گھبراتے ہیں کیا پتا کوئی گڈ نیوز ہو ” اسکی پریشانی دیکھ کر زاکون نے اسے تسلی دینی چاہیے مگر وہ اسکی کوئی بھی بات سنے بغیر بس اپنے کمرے کی طرف اسے لے جا رہا تھا۔۔۔
زاکون وہاں پہنچا تو زونیشہ کو کپکپاتا دیکھ اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھ کے چیک کیا۔ اسکا ماتھا گرم تھا زاکون تھرما میٹر لے آیا اس سے بخار چیک کیا تو ایک سو تین تک بخار پہنچا ہوا تھا۔۔۔۔
” جلدی بلینکٹ دو ” المیر نے الماری سے بلینکٹ نکالا اور اسکے وجود کو پورا ڈھانپ دیا زاکون حولیہ درست کرتے قریبی اسپتال میں گیا اور وہاں سے آئی وی کا سامان لے آیا اور کمرے میں آکر زونیشہ کو بخار کی ڈرپ لگا دی۔۔۔
” کچھ دیر تک بخار اتڑ جاۓ گا!!! میرے خیال سے کمزوری ہے۔۔ یا روکو پی بی اور شوگر لیول چیک کرتا ہوں ” وہ صالحہ کے کمرے سے بی پی آپیریٹس لے آیا اور شگفتہ کے کمرے سے شوگر ٹیسٹ مشین۔۔۔ ٹیسٹ کرنے کے بعد معلوم ہوا بی پی تھوڑا لو تھا۔۔۔۔
المیر نے ایک سکون بھرا سانس لیا ” میں ڈرگیا تھا مجھے لگا کوئی شوک پہنچا ہے۔۔ “
” کیسا شوک؟؟؟ ” زاکون نے چونک کر پوچھا۔۔
” بس ایسے ہی لگا تم بتاؤ کیا کھیلانا پیلانا ہے “
” تم بس اسکے پاس بیٹھو میں امی کو بھیج رہا ہوں ” جس ہڑبڑاہٹ میں یہ سب ہوا تھا گھر والوں کو بتانا اس کے ذہن سے ہی نکل گیا نہ آتے جاتے انہیں کسی نے دیکھا۔ صالحہ تو آتے ساتھ عصر کی نماز پڑھنے چلی گئی جب کے باقی گھر کے فرد اپنے کاموں میں ہونگے یقیناً۔۔۔۔
زاکون کے جاتے ہی المیر اسکے پاس بیٹھ گیا اسکا چہرہ پیلا پڑ چکا تھا وہ آنکھیں بند کیے شاید سو چکی تھی المیر نرمی سے اسکے بال سہلاتا رہا اسے ایسے شدید ریکشن کی امید نہ تھی یقیناً زونیشہ کی ماں نے زبردستی اسے یہاں بھیجا ہے وہ باہر ہی سب سمجھ گیا تھا پھر امبرین بیغم کی التجائیں کے زونیشہ کا خیال رکھنا۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسکے لمس پر کسمسائی اور دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔۔۔۔
اسے دیکھتے ہی زونیشہ نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔۔۔
” کچھ چاہیے؟؟ ” وہ اسکی حرکت بخوبی دیکھ رہا تھا زونیشہ نے نفی میں سر ہلایا اور آنکھیں موند لیں دیکھتے ہی دیکھتے نیند اسکی آنکھوں پر غالب آگئی۔۔۔۔
وہ اٹھا اور صالحہ کو لے آیا صالحہ نے پاس آکر اسے دھیرے سے پکارا۔۔۔
” زونیشہ۔۔۔ “
صالحہ کی پکار پر زونیشہ نے دھیرے سے اپنی آنکھیں کھولیں۔۔۔۔۔
” کچھ چاہیے؟؟؟ اب طبیعت کیسی ہے میری بیٹی کی؟ “
صالحہ نے سر پر ہاتھ پھیرتے پیار سے پوچھا۔۔۔۔۔
” و۔۔و۔۔واشروم۔۔۔۔ ” المیر صالحہ کے پیچھے ہی کھڑا تھا۔
اس کی بات سن کر المیر نے ڈرپ نکال دی کیونکہ ڈرپ بس تھوڑی سی رہتی تھی۔۔ صالحہ نے اسے اٹھنے میں مدد کی اور اسے واشروم تک چھوڑ آئی۔۔۔۔
المیر ڈرپ نکالنا جانتا تھا کیونکہ اکثر زاکون جب گھر پر کسی کو ڈرپ لگاتا تھا پیچھے باقی سب ڈرپ ختم ہونے کے بعد ڈرپ ہٹاتے تھے زاکون تو ہسپتال چلا جاتا تھا۔۔۔۔
اسلئے گھر میں سب کو اس کا تجربا تھا۔۔

وہ ویٹر کی بتائی اسی ٹیبل پر آگئی ویٹر نے اسکے لئے چیئر پیچھے کی تو وہ تھوک نغلتے اس چیئر پر بیٹھ گئی۔۔
” کیسی ہو؟؟؟ ” گھمبیر آواز اسکی سماعتوں میں گونجی وہ جو لوبسٹر چیز سوس میں ڈپ کر کے کھا رہا تھا اسکے بیٹھتے ہی پوری طرح اسکی طرف متوجہ ہوا۔۔۔۔
عینا نے خوفزدہ نظروں سے اسے دیکھا قتل کر کے وہ کتنا پُرسکون تھا؟ وہ اپنی سوچوں میں غم اِسے دیکھتے غور ہی نہ کرپائی کے جواب نہ ملنے پر اس شخص کے چہرے پر کتنی سختی در آئی۔۔۔۔۔۔
” سنا نہیں؟؟؟ ” وہ برہمی سے بولا عینا چونک کر مزید سہم سی گئی۔ حبروز نے جبڑے بھینچتے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر اتنی زور سے دبایا کے عینا کی چیخ نکل گئی۔
” ٹ۔۔۔۔ٹ۔۔۔ٹ۔۔۔ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔” وہ مسکرایا روتی دھوتی منت کرتی عورتیں اسے خوب آٹریکٹ کرتی ہیں۔۔۔
اسکے ایک آدمی نے کچھ تصویریں ٹیبل پر رکھیں جنھیں دیکھ کر عینا کا سانس ہلق میں اٹک گیا۔۔۔
وہ کل رات کی تصویریں تھیں اور نہ جانے کب کھینچی گئی تھیں؟؟؟ وہ اُس وقت کی تصویریں تھیں جب عینا لاش کے پاس کھڑی تھی ایسا لگ رہا تھا جیسے وہی قاتل ہے۔ کیونکہ ایک دو تصویروں میں تو عینا خوف سے لاش کو دیکھ رہی تھی مگر ایک تصویر ایسی تھی جس میں عینا کی پلکیں جھکی ہوئی تھیں جس سے آنکھوں میں امڈتا خوف نہیں دیکھ رہا تھا۔۔ کوئی بھی دیکھ کر یہی پوچھے گا اگر وہ بےگناہ ہے تو وہاں کیا کر رہی تھی؟؟ پولیس کو انفارم کیوں نہیں کیا؟؟ بےشمار سوالات سے یہاں کی عدالت اسے مجرم قرار دیکر سزا دے دے گئی۔۔۔۔۔
وہ جو تصویر کو دیکھ کر کانپ رہی تھی ایک بار پھر اسکی دھار سے خوف سے سفید پڑ گئی۔۔۔۔
” کھاؤ۔۔۔۔۔ “
اسکی آنکھیں پھیل گئیں وہ خود اب کریب سی فوڈ سوس میں ڈپ کر کے کھا رہا تھا۔۔۔ ویٹر کریب کی ٹانگ کینچی سے کاٹ کر اس کے اندر کا گوشت نکال کر حبروز کے سامنے رکھ رہے تھے جسے وہ پھر ساس میں ڈپ کر کے کھا رہا تھا۔۔۔۔۔
مگر اس کے لیے وہ شخص کچھ اور ہی سوچے بیٹھا تھا جیتا جاگتا آکٹوپس ویٹر نے اس کے سامنے رکھا وہ ایک بڑا سا آکٹوپس تھا جو ہلکی سی حرکت کر رہا تھا اس کا مطلب تھا وہ مکمل مرا نہیں تھا۔۔۔
ویٹر نے لال گرم سوس اس آکٹوپس کے اوپر ڈالی تو وہ آکٹوپس جو حرکت کر رہا تھا دھیرے دھیرے اس کی حرکت بند ہوگئی اور وہ مکمل طور پر خاموش ہو گیا۔۔
اس کے بعد ویٹر نے آکٹوپس کے اوپر کٹی ہوئی ہری مرچ سجا کر اسے سروو کیا۔ عینا کو یہ دیکھ ابکائی آرہی تھی مگر اس شخص کا خوف؟؟؟
” اپنی بات دہرانا سخت ناپسند ہے!!!! ایک ہی دفعہ میں مان جایا کرو ورنہ تم بھی کسی دن اندھیری رات میں بے جان نیچے پڑی ہوئی ملوگی۔۔۔۔۔ “
” م۔۔۔م۔۔۔مجھ۔۔۔۔۔مجھے۔۔۔م۔۔معاف کردیں!!! میں کسی سے کچھ نہیں کہوں گی پلیز مجھے بخش دیں۔۔ ” اس کی بات سنتے ہی اس شخص کا ہاتھ اٹھا تھا جو سیدھے اس کے گال پر پڑا۔ وہ منہ پر ہاتھ رکھے حیرانگی سے اسے تک رہی تھی یہ نہیں تھا کہ اسے شخص سے تھپڑ کی امید نہ تھی بلکہ یہ اتنی اچانک ہوا کہ وہ بس اپنا قصور ڈھونڈتی رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” کھاؤ ” اس نے ناگواری سے کہا عینا کی جان پر بن آئی وہ دعا کر رہی تھی کاش وہ یہاں سے غائب ہوکر پاکستان واپس لوٹ جائے وہ پہلے بھی کئی بار اسی طرح الگ الگ ملکوں میں اکیلی گھوم چکی ہے مگر ایسا اسکے ساتھ کبھی نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔
وہ اسے شعلہ برساتی نظروں سے گھور رہا تھا تبھی وہاں اسکا سالا درید آگیا۔۔۔
” کیا بات ہے بھائی صاحب اتنا غصّہ؟؟؟ ” وہ دونوں کو دیکھ رہا تھا ایک طرف خوف سے پیلی ہوتی عینا دوسری طرف حبروز جو اسکی جان پر قبضہ کیے ہوئے بیٹھا تھا۔۔۔
” انف!!!! بہت ہوگیا عینا اٹھو اس خبیث سے کیا ڈر رہی ہو؟؟ دیکھا نہیں اول درجے کا گرا ہوا انسان عورت پر ہاتھ اٹھا رہا ہے؟؟ اپنی ماں بہنوں کے ساتھ بھی یہی سلوک کرتے ہو۔۔۔۔۔ ” سہانا اور آبرا جو کب سے اسکی دہشت دیکھ رہیں تھیں اس ٹیبل پر چلی آئیں سہانا نے کہتے ساتھ وہ آکٹوپس والی تھالی اٹھا کر فرش پر پھینکی۔ حبروز کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ جن نظروں سے وہ اسے دیکھ رہا تھا اگر سہانا کو معلوم ہوتا وہ کبھی یہ حرکت نہ کرتی بدلے کی آگ میں جلستی نگاہیں سہانا کے وجود پر ٹکی تھیں اس حیوان کے دماغ میں کیا چل رہا تھا سہانا اندازہ بھی نہیں کر سکتی۔ دوسری طرف عینا کا جسم کپکپا رہا تھا۔۔۔۔۔
اس شخص کی نظریں چیخ چیخ کر اعلان کر رہیں تھیں وہ اسے آسانی سے چھوڑے گا نہیں۔۔۔
سہانا نے عینا کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ کھینچتی کمرے میں چلی گئی جب کے حبروز کی خون ٹپکاتی نگاہوں نے انکا دور تک تعاقب کیا۔۔۔۔۔
سہانا نے اسے نیند کی دوائی دی خوف کے مارے اسے بخار ہوگیا آبرا بھی سہانا کے عمل سے خوفزدہ تھی مگر سہانا کو کیسے سمجھاتی وہ تھی پنجابی فیملی کی نڈر جسے حبروز جیسے لوگوں سے خوف محسوس نہیں ہوتا۔۔۔۔۔
اس رات نیند تینوں کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی سہانا ایسا نہ کرتی اگر اسکی برداشت کی حد ختم نہ ہوتی وہ تینوں سوچوں میں الجتی کب نیند کی وادیوں میں اُتڑ گئیں انہیں ہوش نہ رہا۔۔۔۔۔۔۔
وہ رات کسی قیامت سے کم نہ تھی۔ آبرا کنگ سائز بیڈ پر جہاں نیند کے مزے لے رہی تھی وہیں اندھیرے میں دو نقاب پوش سختی سے عینا اور سہانا کے ہونٹوں پر ہاتھ جمائے انہیں بازؤں میں اٹھائے ہوٹل روم سے باہر نکل آئے۔۔۔۔۔۔
” آ۔۔۔۔آااا۔۔۔۔۔” نیند میں اسے بلند چیخیں سنائی دیں عینا نے جھٹ سے اپنی آنکھیں کھولیں تو سامنے کا منظر قیامت کا ساماں تھا۔۔۔۔۔
وہ آگے بڑھنا چاہ رہی تھی مگر یہ کیا؟؟؟ اسکا پیڑ نہیں حل رہا تھا وہ زمین پر اوندھی پڑی تھی عینا نے اٹھنا چاہا تو اسے اپنی جسم میں جان محسوس نہ ہوئی وہ چاہ کر بھی جسم کا کوئی حصہ ہلا تک نہ سگی بس اسکی آنکھیں تھیں جو سامنے کا منظر دیکھ اور سن پا رہیں تھیں۔۔۔۔۔۔
کیا ہو رہا تھا؟؟ کیا یہ کوئی خواب تھا؟؟؟ کیا وہ ” سلیپ پیرالائیسسز ” میں تھی؟؟؟ لیکن یہ بھیانک منظر۔۔۔۔۔ اسکی چیخیں تک نہیں نکل پا رہیں تھیں جسم جیسے دماغ کے ہر سیگنل کی نفی کر رہا تھا وہ رو رہی تھی بلک رہی تھی اسکی آنکھیں سامنے کا ہر عمل دیکھتے مزید سرخ ہو رہیں تھیں۔۔۔۔۔۔
” ع۔۔۔۔۔۔عی۔۔۔۔۔۔۔۔عینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” سہانا کے منہ سے درد ناک چیخیں نکل رہیں تھیں وہ بےلباس زمین پر پڑی تھی اور اسکے اوپر وہ حیوان درید جھکا ہوا تھا جو اسکے جسم سے کسی کھیلونے کی طرح کھیل رہا تھا اسکے پیچھے اسکے تین آدمی کھڑے تھے جو اسکی ہر چیخ پر بلند قہقے لگا رہے تھے۔
سہانا اسے پُکار رہی تھی مگر وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتی تھی شاید یہ اسکی ” سزا ” تھی۔ اور سہانا کے لئے سبق کے اِس نے اُس وقت عینا کی مدد کی اور عینا کیسی دوست ہے؟؟؟ جو یہ قیامت خیز منظر دیکھ کر بھی اِسکی مدد نہیں کر رہی تھی۔۔۔۔
عینا نے بےبسی سے آنکھیں بند کرلیں مگر یہ آواز۔۔۔۔۔
” آنکھیں کھول!! دیکھ اسے بہت شوق ہے نہ یاری نبھانے کا؟ اب یہ کسی کی مدد کرنے لائق رہے گی ہی نہیں۔۔۔۔۔ “
حبروز کی دھار سے اس نے آنکھیں کھولیں وہ اسکے بال مٹھی میں جکڑے اس پر جھکا تھا۔ سرخ انگارے برساتی نگاہیں اس پر مرکوز تھیں وہ اسکا چہرہ اوپر کیے ہوۓ تھا مگر عینا کو کچھ بھی محسوس نہیں ہوا بس اسکی یہ ” آواز ” جو ہمیشہ اس کی روح فناح کردیتی۔۔۔۔۔۔۔
اسکی آنکھوں سے آنسوں کسی آبشار کی طرح بہ رہے تھے اور وہ ” قہقے ” لگا رہا تھا بلند قہقے اسکی آواز عینا کے کانوں میں چُب رہی تھی۔۔۔
” اب یہ آنکھیں اگر بند ہوئیں؟؟ تو جو اس کے ساتھ ہوگا زمیدار تم ہوگی۔۔۔۔ ” وہ اسکے کان میں دھیرے سے اپنا زہر اُگل کے پیچھے ہٹا سہانا منہ اسکی طرف کیے اب چیخ رہی تھی اس سے مدد مانگ رہی تھی وہ بےبس ہوکر بس رو سگی اس کی مدد کیسے کرتی؟ بلک بلک کر رونے کا حق بھی چھین لیا بس یہ آنکھیں تھیں جو اسکے غم پر ماتم کر رہیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ شیطان اپنی ہوس پوری کر کے ہٹا تو پھر اِسکا آدمی قریب آیا اس سے پہلے کے وہ سہانا کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتا سہانا نے بھیگی آنکھوں سے ایک بار عینا کو دیکھا اور پوری طاقت لگا کر اٹھی یہ ایک نظر عینا کو آج تک نہیں بھولی شکوہ، شکایت،افسوس،عینا کی بےحسی کیا کچھ نہ تھا؟؟؟۔۔ بھاگتے ہوئے وہ اُس نے کُھلی کنسٹرکشن سائیڈ سے چھلانگ لگا کر خود کشی کر لی۔۔۔۔
یہ ایک انڈر کنسٹرکشن بلڈنگ تھی جس کے گیارویں فلور پر یہ سب موجود تھے۔۔۔۔۔
ٰعینا کی آنکھیں پوری کھل گئیں وہ اپنا سر پٹکنا چاہتی تھی رونا چاہتی تھی مگر ہر حق اس سے چھین لیا تھا۔۔۔۔
وہ سب اسکی حرکت پر بوکھلا فگئے نے چیختے ہوۓ انہیں نیچے دیکھنے کا کہا درید نے نیچے دیکھا تو اسکے ماتھے پر پسینے کی بوندیں نمودر ہوئیں لڑکیوں کا ایک گروپ کھڑا تھا جنہوں نے سہانا کے جسم کو ڈھانپ لیا مگر اتنی اونچائی سے گڑنے کے بعد وہ یقیناً زندگی کی بازی ہار چکی تھی۔۔۔۔۔
” کمینی مرتے ہوے بھی ناگن بن کر ڈس کے گئی ہے ” حبروز سر پر ہاتھ پھیرتا پاگل سا ہو رہا تھا تبھی انہیں سائرن کی آواز آئی وہ سب بوکھلاتے ہوے وہاں سے اٹھے حبروز نے زمین پر پڑی عینا کو بازوں میں اٹھا کر وہیل چیئر پر بٹھایا اور وہ سب وہاں سے پولیس کے آنے سے پہلے پیچھے سے بھاگ گئے۔۔۔۔۔۔
یہ پاکستان نا تھا دبئی ہے۔۔ کل اس نے جس شخص کو مارا تھا اس کی کوئی آڈینٹٹی (identity) نہیں تھی نا حبروز اُس شخص سے کہیں پبلک پلیس پر ملا تھا جبکہ سہانا سے وہ کل ہی ملا تھا اور ہوٹل میں ہر کسی نے ان دونوں کی لڑائی دیکھی تھی جب سہانا اِسے سنا کر گئی تھی اور عینا اس کی دوست تھی جسے حبروز نے تھپڑ مارا تھا۔۔ اس لیے وہ سب خوفزدہ تھے اور سہانا جاتے جاتے انہیں موت کے منہ میں دھکیل چکی ہے۔۔۔۔۔
کوئی اسے جھنجھوڑ رہا تھا اسکے کان کے پاس چلا کر اسے پکاڑ رہا تھا اس نے اپنی آنکھیں کھولیں تو سامنے آبرا تھی۔۔۔۔۔
” سہانا کہاں ہے؟؟؟؟؟ نیچے پولیس آئی ہے ہم دونوں کا پوچھ رہی ہے۔۔۔۔ تمہیں میں پیچلے آدھے گھنٹے سے اٹھا رہی ہوں تم کیا بھنگ پی کر سوئی ہو ” وہ ناسمجھی کی کیفیت میں اسے دیکھ رہی تھی آبرا نے پانی کا گلاس اسکے منہ پر انڈھیلا وہ آنکھیں پھیلائے ارد گرد دیکھنے لگی۔ جیسے ذہن پر زور ڈال رہی ہو اس نے ہاتھ سے اپنے گیلے بال پیچھے کی طرف کیے ہر منظر اسکی آنکھوں کے آگے گھوم گیا۔۔۔۔ سہانا کا بلکنا،،رونا،،،اسکا شکوہ،،، اسکی عزت۔۔۔۔۔۔ سب کچھ وہ چیخ اٹھی بالوں کو ہاتھوں کی مٹھی میں جکڑے وہ چیخنے لگی آبرا اسکی حالت دیکھ کر گھبرا اٹھی۔۔۔
” ع۔۔۔۔عینا۔۔۔ سنبھالو۔۔۔ بتاؤ کیا ہوا۔۔۔۔ ” وہ اسے سمجھا رہی تھی، پوچھ رہی تھی، اسے یقین دلا رہی تھی وہ اسکے ساتھ ہے۔۔۔۔ اور عینا نے ہچکیاں لیتے اسے سب کچھ بتایا۔۔۔ سب کچھ۔۔۔۔ آبرا اسے ایسے دیکھنے لگی جیسے اسکی ذہنی حالت پر شُبہ ہو۔۔۔۔۔۔
” تمہیں کچھ کیوں نہیں کیا؟؟ تم اسکے ساتھ بیٹھیں تھیں وہ تمہیں جانتا تھا!!! سہانا تو تمہارے لیے لڑی تھی؟؟؟؟؟؟ ” وہ شاید سہانا کا سن کر ہل چکی تھی۔۔۔
” میں نے اسے قتل کرتے دیکھا تھا۔۔۔۔ آ۔۔۔آب۔۔آبرا۔۔۔ وہ مجھے ڈرا رہا تھا دھمکا رہا تھا۔۔۔۔۔ چاہتا تھا اسکا حکم مانوں پر سہانا نے میری مدد کی تو اس نے اسے اسکی سزا دی۔۔۔۔ اس نے۔۔۔س۔۔۔سہا۔۔۔سہانا۔۔۔۔ “
” ہم کیا کریں نیچے ریپسیشنسٹ نے کال کی پولیس آئی ہے ہمیں بلا رہی ہے آکر ان سے مل لیں۔۔۔ مجھے یقین نہیں آرہا سہانا کل تو۔۔۔۔ ” نمی کا گولا اسکے ہلق میں اٹک گیا۔ انجانے شہر میں وہ دونوں تنہا تھیں ان کے ساتھ کوئی نہ تھا۔۔۔۔۔۔
عینا آبرا کے گلے لگ گئی دونوں بلک بلک کر رو رہیں تھیں انکا دماغ سن ہو چکا تھا۔ دونوں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے جیسے محروم ہو چکی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔
” عینا سہانا نے مجھے بتایا تھا ایک ڈاکٹر تھا جو تمہارا پیچھا کر رہا تھا تم۔۔ تم اسے کال کرو پلیز!!! اس نے جب تمہارے بارے میں سب پتا کرلیا،، کہا تھا بیٹی ہوئی شکر کریگا تو یہاں تمہاری ہیلپ کریگا نہ؟؟؟ مجھے انوشہ نے بتایا تھا تم پلیز اسے بلاؤ۔۔۔ تم جانتی ہو میری فیملی آئے گی نہیں نہ تمہارے بابا۔۔۔ انھیں فرق کہاں پڑتا ہے زندہ ہیں یا مر گئے۔۔۔۔۔۔ ” عینا یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی اسکا جسم ابھی تک کانپ رہا تھا کاش وہ منظر اپنی زندگی کی کتاب سے ہٹا سکتی اسے تو ” حاوز سلیمان ” کا بھی نہیں پتا اسے کچھ نہیں پتا۔۔۔۔۔
” میں نہیں جانتی اسے۔۔۔۔۔ آبرا۔۔۔ آآآآ۔۔۔ مجھے سہانا کا چہرہ نہیں بھول رہا آبرا۔۔۔۔۔۔۔” آبرا نے اسکا فون لیا وہاں وٹساپ کھول کر دیکھا وٹساپ پاکستانی نمبر پر ہی تھا۔–
آبرا کو لگا اُسکا میسج آیا ہوگا مگر وہاں وہی گنتی کے دو چار نمبر تھے آبرا نے جھٹ سے مکرم علی کو میسج کیا۔۔
” پاپا اس ڈاکٹر کا نمبر بھیج دیں میری فرنڈ کی امی کو
فٹس (دوڑے)پڑ رہیں ہیں پلیز جلدی ” میسج کرنے کے بعد آبرا نے عینا کے بابا کو کال بھی کی وہ دیکھ لیں اور ایسا ہی ہوا میسج دیکھ کر انہوں نے فوراً نمبر بھیج دیا۔۔ آبرا نے ایک نظر عینا کو دیکھا اور اس نمبر پر کال ملائی اور آبرا کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے فون فوراً سے اٹھا لیا۔۔۔
” عینا؟؟؟ ” گھمبیر آواز نے عینا کو اسکی طرف متوجہ کیا آبرا نے موبائل اسپیکر اون کیا تھا۔۔
” م۔۔۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔آ۔۔آبرا بات کر رہی ہوں۔۔ “
” عینا کہاں ہے؟؟؟ ” وہ جو ابھی سرجری کرنے کے بعد خون لگے گلوز ڈسٹبن میں پھینک کر اپنے ہاتھ دھونے لگا تھا فون کی بجتی بیل پر اس نے جھٹ سے کال اٹھائی کیونکہ فون پاس ہی سینک کے اوپر رکھا تھا۔۔۔۔۔
” یہیں ہے!!! ہم۔۔ بہت بڑی مشکل میں پھنس گئے ہیں۔۔۔۔” اور جیسے جیسے وہ سنتا گیا اسکی رگیں پھول گئیں ہاتھ دھو کر اس نے جھٹ سے اسپیکر اوف کر کے فون کان سے لگایا۔۔۔۔
” دونوں کہاں ہو ابھی؟؟؟ “
” روم میں “
” عینا کی آواز سناؤ۔۔ ” پتا نہیں کیوں اسے جیسے یقین کرنا مشکل لگ رہا تھا دن بھر اتنے دھوکے باز دیکھیں ہیں کے ہر شخص فریبی لگنے لگا ہے۔۔۔
” وہ شاک میں ہے “
” کیا وہ سن رہی ہے؟؟؟ “
” ہاں ” آبرا نے فون اسکے ہونٹوں کے پاس رکھا اور اشارہ کیا بولے۔۔۔۔۔
” عینا تم چاہتی ہو آؤں؟؟ بس ایک بار اجازت دے دو “
اسکی آواز سن کر وہ آنسوں پیتی بولی۔۔۔۔
” پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” مزید کچھ کہنے کے ہمت نہیں تھی ہاتھوں میں چہرہ چھپائے وہ بس روئے جا رہی تھی اور وہاں میلوں دور بیٹھا حاوز سلیمان اسکی سسکیاں سن رہا تھا دانت دانتوں پر سختی سے جمائے وہ ہسپتال سے نکل کر پارکینگ ایریا میں آیا۔۔۔۔
” غور سے سنو!!!! اول تو تم دونوں نیچے جاؤ پولیس کے ساتھ رہو انکے ساتھ تم دونوں سیف ہو جیسے ہی پولیس گئی وہ وہاں آسکتا ہے!!!!! اور آبرا عینا کو ریلیکس کرو ایسے باہر گئی تو شک عینا پر جائے گا۔۔۔ پولیس کے سامنے کچھ بھی بولنے کی ضرورت نہیں ہے!!!! عینا میری جان۔۔۔۔۔۔۔۔ ” عینا نے ایک جھٹکے سے گردن موڑ کر آبرا کو دیکھا جو خود اسکے ” جان ” کہنے پر حیران ہوگئی اسے سخت شرمندگی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔
” ہمممم۔۔۔ ” ناچاہتے ہوئے بھی کہنا پڑا کیوں کے وہ خاموش ہو چکا تھا۔۔۔۔۔
” آبرا تم ہی سیچیویشن ہینڈل کر سکتی ہو!! اگر عینا خوفزدہ ہے۔۔۔۔ شو کرو اسے بخار ہے طبیعت ٹھیک نہیں کس طرح کرنا ہے تم بہتر جانتی ہوگی!!!! انکے سوالوں کا بس ایک سیدھا جواب دینا ورنہ کوئی بات پکڑی تو وہ تمہیں الجھائیں گئے باقی کل کے متعلق یہی کہنا روم میں تھی نہیں معلوم سہانا کہاں گئی؟؟ فوٹوگرافی کا شوق تھا شاید کچھ دیکھ کر تصویریں لینے گئی ہو۔۔۔۔یاد رکھو کہیں بھی تم لوگ رُکے یا مشقوق پائے گئے پھر وہ تمہیں لے جا سکتے ہیں۔۔۔ اور تصویروں کے لیے اس لیے کہا کہ انہیں شک ہو۔۔۔ ضرور سہانا نے کچھ ایسا دیکھا تھا جس سے کسی کو اُس سے خطرہ تھا۔۔”
” آپ یہاں نہیں آئیں گئے؟؟؟ “
” میں ائیرپورٹ پر اپنی فلائٹ کا ویٹ کر رہا ہوں ” آبرا اور عینا نے حیرانگی سے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔ اتنی جلدی فلائٹ بُک بھی ہوگئی؟؟؟
” جس وقت تم نے کہا دبئی میں ہو اسی وقت آن لائن بُک کرلی دبئی سے مجھ سے رابطہ کیا ہے؟ ظاھر ہے کچھ ہوا ہے۔۔۔۔ ” وہ جیسے ان کے سوال پڑھ رہا تھا آبرا نے بے اختیار ایک گہری سانس لی۔۔۔۔۔
” آبرا عینا کو سنبھالنا جب تک اسے دیکھ نہیں لیتا کچھ کہ نہیں سکتا۔۔۔ ” وہ خاموش ہوگیا کیا بتاتا اسے خوف ہے انہوں نے عینا کو کوئی ایسی ڈرگ نہ دی ہو جس سے آگے اُسے نقصان پہنچے۔۔۔ ” اور عینا کا یورین سیمپل چاہیے۔۔۔۔ ” عینا جو پہلے ہی خوف میں مبتلا تھی سہم کر آبرا کو دیکھنے لگی آبرا نے ہاتھ سے اشارہ کر کے تسلی دی۔۔۔
” کیوں؟؟؟ “
” بس چاہیے۔۔۔ “
” آپ جلدی آئیں ہم آپ کا انتظار کر رہے ہیں ” اس نے بات بدلی۔۔۔
” بس دو گھنٹے پھر آپ دونوں کی حفاظت میری زمیداری ہے اینڈ آئ وانٹ ہر یورین سیمپل۔۔۔۔ ” کہتے ساتھ اس نے فون کاٹ دیا جبکہ آبرا اور عینا کو بےاختیار ایسا محسوس ہوا جیسے وہ دھوپ سے چھاؤں میں آگئی ہوں اِس شخص سے بات کر کے انہیں دلی سکون ملا تھا جیسے کسی بڑی قیامت سے گزر کر آئی ہوں۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔