Wo Ajnabi by Yusra readelle50025 Episode 30
Rate this Novel
Episode 30
نکاح ہوتے ہی جہاں سب خوش تھے وہیں سب سے بلند ہچکیاں عزاہ کی تھیں جسکا چہرہ بڑے سے دوپٹے کی وجہ سے ڈھکا ہوا تھا۔۔ وہ ہچکیاں لیکر رو رہی تھی یقین نہیں آرہا تھا آج اسکی قسمت کیسے اس پر مہربان ہوگئی۔ اسکی ماں نفیسہ نے اسے خود سے لگایا جو اسکے پاس ہی بیٹھیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسکی ہچکیاں بخوبی سن رہا تھا جو خود لیٹنے کے انداز میں بیٹھا تھا آنکھیں بند تھیں مگر آنکھ کی کونوں سے نکلتے آنسوں اسکی ماں دوپٹے سے صاف کر رہیں تھیں۔۔۔۔
” یا میرے اللّه صبر دے ” اسکا دل پتا نہیں کیوں آج اتنا بھر آرہا تھا وہ سب کے سامنے چیخ کر رونا نہیں چاہتا اپنی چیخیں اپنے اندر دباتا وہ گہرے سانس لے رہا تھا۔۔۔
جبکے نکاح کے بعد المیر مولوی صحاب کو چھوڑنے چلا گیا۔ شاز حیدر مرتضیٰ کو (ملی جلی کہانی بتا کر معملہ رفع دفع کر رہا تھا ) پر انکی کھوجتی نگاہوں سے ڈر بھی بہت رہا تھا۔۔۔۔
” تمہاری کہانی میں جھول کیوں لگ رہا ہے؟؟؟ ” انہوں نے ابرو اچکا کے پوچھا۔۔۔۔
” مجھ پر یقین نہیں تو ان سچے بہتے آنسوں کو دیکھیں جنھیں تائی امی دوپٹے کے پلو سے صاف کر رہیں ہیں ” شاز کا اشارہ شگفتہ اور آریز کی طرف تھا۔۔۔۔
” کب سے وہی دیکھ رہا ہوں!!! مگر اب کون سا میرا بیٹا ڈاکٹر بن گیا جو اس لڑکی کے ابا نے آریز کو ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے ریجیکٹ کردیا؟؟؟؟ ” انہوں نے اسے گھور کر پوچھا شاذ نے تھوک نغلا۔۔۔۔۔
” تو ابا کون سے زندہ ہیں؟؟؟؟ مطلب نہیں رہے تبھی تو “
حیدر مرتضیٰ نے شاذ کو سخت گھوری سے نوازا تو وہ گھبرا گیا۔۔۔
” بیٹا جس یونیورسٹی میں اتنے سالوں سے سپلیاں لے رہے ہوں وہاں کا میں ” گولڈ میڈیلیسٹ ” رہ چکا ہوں ” اپنا بازو پھیلا کر حیدر مرتضیٰ نے شاذ کے کندھے پر رکھا اور اسکا کندھا تھپکا شاذ کو یخ ٹھنڈے کمرے میں بھی پسینہ آرہا تھا۔۔۔۔(اب کیا کرتا؟؟ شیر کے منہ میں ہاتھ ڈال چکا تھا)
” ماتھے سے پسینہ پونچھو!!! ” انہوں نے حکم دیا تو شاز نے گھبرا کر بازو سے پسینا صاف کیا ایسا لگ رہا تھا مالک الموت ساتھ کھڑا ہے دل کی دھڑکن دھماکوں کی طرح تیز بج رہی تھی اپنی ہی دھڑکن کی آواز اس کے کانوں میں گونج رہی تھی۔۔۔۔۔
” بی پی چیک کرالو ” انہوں نے مشورہ دیا۔۔۔۔۔۔
” ن۔۔۔ن۔۔۔نہ۔۔۔نہیں۔۔ تایا ابو۔۔۔۔م۔۔۔می۔۔میں ٹھیک ہوں ” ہکلاتے ہوئے بامشکل شاز نے جملا مکمل کیا پاس کھڑی مایل سب سن رہی تھی اسے بھی ٹھنڈ میں پسینے آرھے تھے۔۔۔۔۔۔۔
اس واقع کے بعد تو گھر والے اس سے بھی ” ارحم ” کے متعلق پوچھیں گئے۔۔۔
زریق کا پوچھیں گئے کہاں غائب ہوگیا تھا؟؟ جس سے وہ اب تک بچ رہی تھی تو کیا اب اس کی بھی کلاس لگے گی؟؟؟؟ مایل کو اپنی فکر لاحق ہونے لگی۔۔۔۔
” بس کردیں آپ تو میرے بیٹے سے بھی زیادہ روتے ہیں ” مایل نے جھک کر آریز کے کان کے قریب کہا جو اسکی بات سن کر مسکرایا جو شگفتہ نے دیکھا تو سکھ کا سانس لیا بیٹے کے آنسوں دل پر گڑ رہے تھے۔۔۔۔۔
” آپ کی وجہ سے تایا ابو کو شک ہو رہا سب کی کلاس لیں گئے۔۔۔ ” مایل نے جیسے اسکی سوچ میں اضافہ کیا آریز کی نظر باپ پر پڑی اور انھیں اپنی طرف دیکھتا پاکر وہ یکدم سیدھا ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔۔
” یہ صاحب زادے ابھی بیڈ پر ہیں تو آسمان میں اڑھ رہے گھر پہنچے سارے کس بل نکالتا ہوں ” حیدر مرتضیٰ کی بلند سرگوشی شاذ اور مایل نے سنی تھی پر آریز سن کر بھی انجان بنا اب نفیسہ کو دیکھ رہا تھا جو اٹھ کھڑی ہوئیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔
” تایا ابو میں انہیں چھوڑ آتا ہوں ” نفیسہ کو اٹھتے دیکھ شاز فوراً آگے بڑھا حیدر مرتضیٰ نے اسے گھورا وہ کیا سمجھیں گئے؟؟؟ انہیں بھگانے کے چکر میں ہیں؟؟؟ نفیسہ نے بولا تک نہ تھا شاز خود بول کر اٹھ کھڑا ہو گیا؟؟؟ جبکے شاز اپنی جلد بازی پر تھوڑا شرمندہ ہوگیا۔۔۔
” جی ہمیں اجازت دیں بہت رات ہو چکی ہے!!! اب نکلنا چاہیے۔۔۔۔۔ ” نفیسہ آریز کے قریب چلی آئیں اور ماتھے پر ہاتھ رکھ کے دعا دی۔۔
” اللّه تمہیں میری عمر بھی دے دے!!! ہمیشہ عزاہ سے تمہارا پوچھتی تھی۔ میرا کوئی بیٹا نہیں مگر تمہارے آنے سے احساس ہوتا تھا میں بیٹے کے ماں بنے سے محروم نہیں ہوں تمہاری صورت میں مجھے میرا ” سگا ” بیٹا نصیب ہوا ہے۔۔ آج برسوں پرانی تمنا پوری ہوئی ہے میرے بیٹے۔۔۔ تم مجھے اتنے ہی عزیز ہو جیسے جاسمین اور عزاہ۔۔۔۔ ” خوشی انکے چہرے سے جھلک رہی تھی آریز نے انکا ہاتھ احترامً اپنی آنکھوں سے لگایا۔۔۔
” آج آپ کو دیکھ کر دلی سکون ملا ہے لگتا تھا کبھی آپ کی دعائیں پھر نہیں لے سگوں گا “
” کیوں نہیں؟؟؟ میری دعائیں صدا تمہارے ساتھ ہیں!!! بہت نیک بچا ہے آپ کا میرے شوہر کے انتقال کے بعد آریز نے کبھی محسوس نہیں ہونے دیا گھر میں کوئی مرد نہیں۔۔۔ بیٹا بن کر آریز نے میرے شوہر کی میت کو کندھا تک دیا تھا۔۔۔۔۔۔ ” انکی آنکھوں میں نمی در آئی حیدر مرتضیٰ کے کان کھڑے ہوگئے جو بیٹا انہیں اپنے سب بیٹوں میں سے شریف لگتا تھا اسی نے اپنی ” عاشقی ” کے قصے مشہور کیے ہیں۔۔۔ سارے کے سارے ایک نمبر کے ڈھیٹ انکے پیٹ پیچھے کیا کیا کارنامے سر انجام دیے ہیں۔۔۔
” ماشاللہ بہن اپنا فرض ہی پورا کر رہا تھا اب تو زندگی بھر بیٹا بن کر اپنے فرائض پورے کریگا۔۔آپ بھی تو اسکی ماں ہیں کہتے ہیں دعائیں اور نیکیاں انسان کو موت کے منہ سے بھی لوٹاتے ہیں شاید آپ کی دعائیں ہیں جو آج مجھے میرا بیٹا واپس مل گیا۔۔۔۔ ” شگفتہ اٹھ کر ان سے گلے ملیں اور محبت سے کہا۔ پھر شگفتہ نے عزاہ کے سر سے بڑا سا گھونگھٹ ہٹایا اور اسکے سر پر دوپٹا ٹھیک کر کے اسکے گرد چادر اوڑھی۔۔
آریز خود کو روک نا پایا اور ناراضگی کے باوجود ایک بھرپور نظر عزاہ پر ڈالی۔
” میں جلد اپنی بیٹی کو لینے آؤں گی!!! ” وہ انکے بیٹے آریز کی پسند تھی وہ انہیں اتنی ہی عزیز ہوگئی تھی جتنے انکے باقی بچے تھے۔ وہ پیار سے اسکی ٹھوڑی پکڑ کے بولیں۔ پھر جذبات میں آکر اس سے گلے ملیں۔ آج انکا آریز بہت خوش تھا اگر اسکی خوشی ” عزاہ ” تھی تو شگفتہ سوچ رہی تھی بیٹے کی سلامتی کے لئے ساری زندگی بھی انھیں خود عزاہ کے آگے جھکنا پڑے وہ جھکیں گی بس انکا بیٹا سلامت رہے۔۔۔۔
پھر حیدر مرتضیٰ خود شاز کے ساتھ عزاہ اور نفیسہ کو چھوڑنے گئے۔ المیر بھی انکے جانے کے بعد اسی کمرے میں آگیا اب وہاں صرف سارے کنزنس تھے۔ زاکون حیدر بھی بھائی کے پاس چلا آیا جو نکاح کے بعد ایک فون کال آٹینڈ کرنے باہر چلا گیا تھا۔۔۔۔۔
شگفتہ بیغم کو عشاء کی نماز ادا کرنی تھی جیسے ہی وہ نماز پڑھنے کے غرض سے کمرے سے نکلی مایل کی زبان فوراً چلی۔۔۔۔
” ویسے آپ یہ ناٹک پہلے کرتے تو آج ایک عدد بچوں کے ابا ہوتے “
” میں بھی یہی سوچ رہا ہوں!!! پھر ہم رشتداری بھی آسانی سے کرتے ارحم میرا گھر داماد بنتا ” آریز نے لب دبائے سنجیدگی سے کہا جبکے المیر اور زاكون کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آن ٹھری۔۔۔۔
” گھر داماد؟؟؟ ” مایل کی آنکھیں حیرت کے مارے پھیل گئیں۔۔۔۔
” خبردار میں اپنے بیٹے کی شادی ہی آپ کی بیٹی سے نہیں کرونگی۔۔۔ ساری زندگی کنوارہ رکھوں گی ” مایل نے خفگی سے کہا اسکا منہ بن گیا تھا جسے المیر آج کافی عرصے بعد دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔
” پر میں تو اُس کے کان بھر کر گھر داماد بناؤں گا ظاہر ہے اپنی بیٹیوں کو اپنے پاس رکھوں گا ” رخصت ” تو داماد ہوکر آئیں گئے یہاں۔۔۔ ویسے ہمارا شہزادہ ہے کہاں؟؟ ” زاکون اپنے بھائی کو دیکھ رہا تھا جس کا آج انداز ہی الگ تھا بہت خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جنھیں اپنا
” پسندیدہ شخص ” ملتا ہے۔۔۔ وہ خوش ہے اسے نہ سہی اسکے بھائی کو تو ” زندگی ” ملی ورنہ آج آریز کی جو حالت ہوئی تھی سب کے لئے دل دہلانے والا منظر تھا۔۔۔۔۔۔
” ہائے اللّه میرا بیٹا کہاں ہے؟؟؟ ” اچانک سے مایل کو خیال آیا اسکا بیٹا اسکے پاس نہیں یکدم وہ اسکے پوچھنے پر بوکھلا گئی۔۔۔۔۔
” دنیا کی پہلی ماں ہو جو بیٹا اِدھر اُدھر رکھ کے بھول جاتی ہو۔۔۔۔ ” المیر جو کب سے اسے دلچسپی سے دیکھ رہا تھا بولا اٹھا عرصے بعد اسے ” اپنی ” وہ پرانی مایل دیکھی ہے۔۔۔۔
” نہیں مجھے یاد آگیا وہ گھر پر ہے ” پہلے اگر بیٹے کا سن کر وہ یکدم جذباتی ہوگی تھی تو اب وہ پُر سکون تھی وہ خود ہی تو ثمرین کے ہاتھوں میں ارحم کو تھما آئی تھی۔۔۔۔۔۔
” شکر ہے!!!! ورنہ آج بھی میں ” مجرم ” ٹہرایا جاتا ” وہ زیرِلب بڑبڑایا مگر مایل نے سن لیا اور اسے گھور کر دیکھا۔۔۔
” جو سچ ہے ” کہ کر وہ خاموش ہوگئی۔۔۔ المیر نے افسوس سے اسے دیکھا مایل کے پڑوس میں کوئی لڑکی بھاگی تب بھی وہ شک المیر پر کریگی کے المیر نے بھگائی۔۔۔۔۔۔۔۔
زاکون انکی باتیں سنتا اپنی ہی سوچوں میں مگن تھا وہ جب دوائیاں لیکر ہسپتال کی ونگ میں داخل ہوا تھا آتے ساتھ ہی ان پیشنٹ فارمیسی میں وہ بیٹھی نظر آئی تھی۔ وہ کبھی اسے نہ دیکھتا اگر جو وہ لڑکی اس پر نگاہیں جمائے نہ ہوتی۔ ” وہ نظریں ” زاکون کو اپنی ہڈیوں میں دھنستی محسوس ہوئیں کس بےتابی سے وہ اسے دیکھ رہی تھی۔ لگاتار اسکی نائٹ شفٹ تھی اور زاکون دو ہفتوں سے مارننگ میں تھا تبھی وہ اسے دیکھ نہیں پاتی ہوگی۔۔۔۔۔۔۔
” اسلام علیکم ” زریق نے کمرے میں داخل ہوتے ہی سلام کیا جس کے کندھے پر ارحم سویا ہوا تھا۔۔ زاکون اپنی سوچوں سے باہر آیا مایل زریق کو دیکھتے ہی اٹھ کھڑی ہوئی ” بیٹھیں ” اسے اٹھتا دیکھ وہ ہاتھ کے اشارے سے بیٹھنے کا کہ کر المیر اور زاکون سے ملا جو اسکے لئے احترامً اٹھ کر اس سے ملے۔۔۔۔
” کیا حال ہے زریق؟؟ ” زاکون نے زریق سے گلے ملتے پوچھا جبکے المیر نے گلے ملتے ہی سوتے ہوئے ارحم کو احتیاط سے لیکر اپنے بازؤں پر سلایا۔۔۔۔۔۔
” اللّه کا شکر آپ سنائیں بھائی “
” الحمدللہ!!!! ” گلے ملتے ہی زاکون نے اسے بیٹھنے کا کہا
” یہاں آؤ بیٹھو “
” نہیں بھائی بس یہاں مایل کے پاس جگہ ہے ” وہ کہتے ہی خود اسکے پاس آکر بیٹھ گیا مایل بھائیوں کے سامنے جیسے شرمندہ ہوگئی زریق سے تھوڑا دور کھسک کر بیٹھ گئی زریق نے اسکی یہ حرکت باخوبی نوٹ کی۔۔۔
” نکاح مبارک ہو!!! سنا ہے ہوش آتے ہی آپ کا نکاح پڑھوا دیا ” زریق نے اِس سنجیدگی سے پوچھا کے آریز کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی۔۔جبکے المیر کا دل ابھی ارحم سے بھرا نہیں تھا کے زاکون نے احتیاط سے اسے المیر سے لیا وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا تھا ارحم کو زاکون نے اپنی ٹانگ پر لٹایا……
” ہاں!!! خوش نصیب ہوں نہ؟؟ ” وہ پوچھ رہا تھا۔۔
” بہت ” زریق نے جواب دیتے ہی مایل کو دیکھا جو ارحم پر نظریں جمائے تھی۔ زاکون کی گود میں سویا وہ اتنا حسین لگ رہا تھا کے زاکون کی نظروں کا مرکز اس وقت وہی تھا۔ مایل کی عادت تھی وہ ارحم کو دن میں دو بار نہلاتی تین دفع اسکے کپڑے چینج کر کے ڈھیر سارا پاؤڈر جسم پر ملتی تھی۔ اور ہر وقت پیڑوں میں سوکس کے ساتھ وہ شوز پہناتی تھی وہ اسے اس طرح خوشبوں میں نہلاتی تھی کے ہر کوئی آتے جاتے اسے پیار ضرور کرتا وہ تھا بھی تو اس قدر حسین کے مایل کا بس نہ چلتا وہ کبھی اپنے بچے کو دنیا کی نظروں میں آنے دیتی۔۔
” کیا دیکھ رہی ہیں؟ وہ بلکل ٹھیک ہے ” زریق نے مسلسل اسے ارحم کو دیکھتے دیکھ پوچھا۔۔۔
” بھوک لگی ہوگی نہ اسے؟؟ ” اسکے لہجے میں فکرمندی تھی۔۔۔۔
” نہیں ممی اسے کھیلا کر لائیں ہیں اور وہ سب کے لئے کھانا بنا کر لائی ہیں آپ کھا لیں صبح سے کچھ کھایا نہیں ہوگا ” مایل پتا نہیں کیوں سب کے سامنے زریق کی ایسی باتوں پر شرمندہ ہو رہی تھی وہ اسے کیا بتائے اس طرح سب کے سامنے اسے عجیب سا لگ رہا تھا۔
مایل کی جھکی پلکیں اسکی کیفیت آریز سے چھپی نہ تھی مایل کی خفت مٹانے کو وہ بولا۔۔۔
” بیمار میں ہوں خدمتیں بیوی کی ہو رہی ہیں!!! پوچھنے میرا آئے ہو فکرمند بیوی کے لئے ہو۔۔ ” مایل نے سٹپٹا کر آریز کو گھورا جو مسکراہٹ دبائے ہوئے تھے۔ المیر نے کان کھجا کر ایک پل کو سر جھکا لیا پھر سنجیدگی سے زاكون کی گودھ میں سوئے ارحم کو دیکھنے لگا جبکے زاكون بھی مسکرا کر سر جھکا گیا انہیں اندازہ تھا مایل کی آنکھوں سے برسات کسی بھی وقت جاری ہوسکتی ہے۔۔۔۔۔۔
” کیا کہوں؟؟ ایکسپیرینس نہیں ہے میری جگہ میری بیوی نے رو دھو کر کسر پوری کی ہوگی ” وہ جانتا تھا مایل کو آدھے گھنٹے تو بیٹھ کر اسنے آنسو بہائے ہونگے۔۔
” میرے سامنے نہیں روئی ہاں کیا پتا پیچھے روئی ہو ” آریز اسے چھیڑ رہا تھا مایل نے خفگی سے اسے دیکھا اور خود ہی آنکھیں نمکین ہونے لگیں وہ لمحات سوچ کر۔۔۔
” سوری سوری میں مذاق کر رہا تھا ” مایل وہاں سے اٹھ کر باہر چلی آئی اسکے پیچھے ہی زریق بھی آگیا۔۔۔
” کمال ہے لوگ مجھ سے خفا تھے!!! وجہ میں بنا آنسوں کی آج وہ خود ہی ملزم قرار دیے ” المیر جو کب سے انکی گفتگو سے لطف اٹھا رہا تھا ٹوکے بینا رہ نہ سگا۔۔۔۔۔
” پر تمہارا ریکارڈ نہیں توڑا ” آریز نے بھی طنز کے جواب میں طنزیہ کہا
” تمہارا بس چلے مجھے پھانسی کی سزا دو ” المیر نے جل کر کہا اسکا موڈ ہی خراب ہوگیا۔۔۔
“میرے نزدیک وہ بھی کم ہے ” وہ کندھے اچکا کے بولا
” اُس بات پر بحث کیوں کر رہے ہو جسکا نہ سر ہے نہ پیڑ مایل خوش ہے اب!!! تو یہ بےتکی گفتگو کس لئے؟؟؟ اور ذکر کیوں کر رہے ہو جن کو نہیں پتا انھیں بھی چیخ کر بتاؤ۔۔۔۔۔ ” زاکون نے نہایت سخت لہجے میں انہیں ٹوکا اور آریز کو وہاں بستر پر لیٹے شدید حیرانگی ہوئی تو کیا زاکون کو بھی سب معلوم تھا؟؟؟؟؟
اپنے بھائی کی حیرانگی زاکون بھانپ چکا تھا۔ آریز اب تک زاکون کو دیکھ رہا تھا جیسے پوچھ رہا ہو کیسے؟؟
” آپ جانتے تھے؟؟؟ “
” کون سی زبان سمجھتے ہو؟؟؟؟ اب کیا تمہیں داستانیں سناؤں؟؟ باپ لگے ہو میرے۔۔۔۔ ” زاکون نے بھڑک کر اس انداز میں کہا کے المیر نے بامشکل اپنا قہقہ روکا جبکے آریز سیدھا ہوگیا غصّہ کرنا تو ان سب کے خون میں شامل تھا سوائے آریز کو چھوڑ کر مگر اُسکا کل کا غصّہ بھی تو بھیانک تھا جو شاذ پر نکلا تھا۔۔۔۔
اسے زاکون کا ٹوکنا بُرا نہیں لگا وہ سمجھ چکا تھا زریق کی موجودگی اور دوسرا دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں بہت مشکل سے وہ مسکرانا سیکھی تھی اور انکی ایک بےوقوفی کہیں پھر سے اُسکی مسکراہٹ نہ چھین لے۔۔۔۔۔
وہ اسکے ساتھ ہی کمرے سے باہر نکل آیا۔ وہ سوں سوں کرتی دوپٹے سے ناک صاف کر رہی تھی زریق نے جیب سے رومال نکال کر مایل کی طرف بڑھایا جسے اُسنے فوراً لے لیا۔۔۔۔
” آپ رو کیوں رہیں ہیں اب تو آریز ٹھیک ہے “
” آپ سب رلاتے ہیں۔۔ ” وہ خفگی سے بولی۔۔۔
” میں آپ کو نہیں رلاتا آپ رولانے والے کام کرتی ہیں البتہ مجھے رونا نہیں آتا فیل نہیں کر پاتا ورنہ تکلیف ہمیشہ آپ نے دی ہے ” آج وہ اس شکوہ کر رہا تھا مایل نہیں جانتی تھی وہ یہ سب بھی سوچتا ہے۔۔۔۔
” آپ کو کیسے پتا تکلیف ہوتی ہے دور جانے سے؟؟ ” اس کے سوال پر وہ دھیمے سے مسکرا دیا۔۔۔۔
” آپ کو غصّہ آئے گا۔۔ “
” نہیں آئے گا!!! کوئی گرل فرنڈ تھی؟؟ ” تپ کر مایل نے کہا پھر گرل فرنڈ کا ذھن میں آتے ہی جیسے وہ شیرنی بن کر ڈٹ گئی۔۔
” طوبہ!!!! آپ واقعی کوئی ” ڈیپ تھینکر ” ہیں ” وہ اسکی سوچ پر کہ رہا تھا چہرے پر حیرانگی سا کوئی تاثیر نہ تھا۔۔۔۔۔
” یہ کس نے کہا ” وہ تو جیسے آج اسکی شہ رگ میں جا گھسی تھی۔۔
” کہا نہ آپ کو غصّہ آجائے گا ” وہ مسلسل مسکرا رہا تھا
” یعنی دونوں باتیں ایک ہی شخص سے ” ریلیڈٹ ہیں ” “
زریق کی مسکراہٹ گہری ہوگئی۔۔۔۔۔۔
” میری لئے کسی ساس سے کم نہیں دو ساسوں کی موجودگی مجھے اتنی محسوس نہیں ہوئی جتنا ایک دیور ” نما ” ساس کی محسوس ہوتی ہے میں بتا رہی ہوں آج کے بعد آپ اُس سے نہیں ملیں گئے ” وہ غصّے سے زریق کو آنکھیں دیکھاتی کہ رہی تھی جو اسکے انداز پر مسکرائے جا رہا تھا۔۔۔
” آٹھ سالوں سے وہ جدائی کا درد سہ رہا ہے اسکی تکلیف محسوس نہیں کی پر آنکھوں سے دیکھی ہے “
” کیوں؟؟ “
” حاوی جس سے محبت کرتا ہے وہ آٹھ سالوں سے قوما میں تھی۔۔۔ جس دن آپ کی بہن کا آپریشن ہوا تھا اسی دن وہ بھی یہاں زخمی حالت میں آئی تھی۔۔ ایک کو زندگی ملی تو دوسری۔۔ کیسا اتفاق ہے نہ؟؟؟ ” مایل سُن سی رہ گئی دنیا کتنی گول ہے؟؟ وہ سب ایک دوسرے سے ملتے رہے تھے مگر اجنبی بن کر۔۔۔
مایل نے ایک لمحے کو آنکھیں بند کیں تو مایوں کے جوڑے میں سجی مومنہ کا عکس اسکی آنکھوں کے سامنے لہرایا۔۔۔۔۔۔۔ زریق کاش ذکر نہ کرتا اس میں ہمت نہیں تھی رونے کی وہ آنکھوں کو سختی سے بند کرگئی۔۔۔
” مایل کیا ہوا۔۔۔ ” زریق نے اسکا کندھا ہلایا تو وہ جیسے ہوش کی دنیا سے باہر آئی۔۔
” آنکھیں کیوں اتنی لال ہیں؟؟ یہ ایسی بات نہیں تھی کے اتنا روئیں خیر ارحم اُٹھ جائے گا آپ اندر جائیں میں امی کو دیکھ کر آتا ہوں نماز ایریا میں ” نرمی سے اسکے ہاتھ کی پشت کو سہلا کر زریق نے دھیرے سے اسکا ہاتھ چھوڑ دیا وہ آج سمجھ نہ سگا دکھ ” حاوز کی محبت “
کا نہیں تھا دکھ ” مومنہ کا تھا۔۔ ” جبکے مایل اسکے لمس سے بےپروا اندر چلی آئی جہاں ارحم اب جاگ چکا تھا اور اپنی بڑی بڑی آنکھیں کھولے زاکون کو دیکھ رہا تھا جو اس پر جھکا اسکی ناک سے کبھی اپنی ناک مس کرتا تو کبھی اسکے ہونٹ چومتا۔ اسکے دل میں درد کی ایک لہر اٹھی کاش زاکون بھائی اور اسکی مومنہ آپی کی شادی ہوتی تو آج زکی بھائی کی گودھ میں انکا اپنا بیٹا ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔
” جب ماں کا مذاق اڑا رہے ہیں تو میرے بیٹے کو اپنے پاس کیوں رکھا ہے ” وہ آنسوں پیتے زاکون کے سامنے آکھڑی ہوئی اس سے لڑنے کے لئے تیار۔۔۔۔۔
” ارے میں نے تو کچھ کہا بھی نہیں ” زاکون بوکھلا گیا۔۔۔۔۔
” ہاں تو کونسا میرا ساتھ بھی دیا؟؟ ” مایل نے زاکون کو گھورا۔۔۔۔
” مجھے تو دو اپنے داماد سے ملا ہی نہیں “
” ہر گز نہیں۔۔۔۔ ” مایل نے آریز کو غصیلی آنکھیں دیکھائیں تو وہ ہنسا۔۔۔۔۔ جھک کر مایل نے زاکون کی گودھ سے ارحم کو اٹھایا جو خود ماں کے پاس آنے کے لیے مچل رہا تھا مگر اسی وقت کمرے میں حیدر مرتضیٰ شاذ کے ساتھ داخل ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔
” برخودار چھوڑ کر تو ایسے آئے ہو جیسے وہ رشتے میں آریز کی نہیں تمہاری ” ساس ” لگتی ہے!!! ” حیدر مرتضیٰ نے کمرے میں آتے ہی شاز پر گہرا طنز کیا جو صبر کے گھونٹ بھر گیا جبکے وہاں بیٹے سب نقوس ایک دوسرے کو دیکھنے لگے شاز کا چہرا اتڑا ہوا تھا۔۔۔۔
” ارے میرا بیٹا آیا ہے ” ارحم کو دیکھتے وہ خود اسے لینے کے لئے آگے بڑھے مایل جس نے صرف ارحم کا پمپر چیک کرنے کے لئے اسے اٹھایا تھا وہیں ٹہر گئی اور دبی دبی آواز میں زاکون سے کہا۔۔۔
” بھائی صرف پمپر دیکھنا تھا اب آپ دیکھیں نہ ” زاکون نے افسوس سے اسے دیکھا اور ارحم کا پمپر چیک کیا حیدر مرتضیٰ کو مایل نے خود ہی ارحم تھما دیا جبکے زاکون نے دونوں آنکھیں دھیرے سے بند کر کے ” سب ٹھیک ہے ” کا اشارہ دیا مایل نے سکھ کا سانس لیا۔۔۔۔
ارحم اچھا خاصا صحت مند تھا اگر مایل بھی آدھے گھنٹے سے زیادہ اُسے گودھ میں لیے پھرتی تو تھک جاتی ہے اسنے ارحم کو پکڑا ہی اِس پوزیشن میں تھا کے وہ چیک کرتی تو ارحم کہیں اسکے بازوں سے گر نہ جاتا اسلئے اسنے زاکون سے کہا۔۔۔۔
” تایا ابو وہ آریز بھائی کی ساس ہیں اسی لئے۔۔۔ ” شاز نے اپنے احتجاج میں کہا۔۔۔حیدر مرتضیٰ المیر کی جگہ آبیٹھے جہاں المیر انہیں جگہ دینے کے لئے اٹھا تھا شاز کو کھٹکے کی آواز آئی تو ادھ کھلا دروازہ اسنے پورا کھول دیا سامنے ہی دو خوبصورت لڑکیاں کھڑی تھیں شا*ید وہ ڈاکٹرز تھیں جنہوں نے سفید کوٹ پہنا ہوا تھا اور ہاتھ میں میٹھائی کا ڈبا تھا۔۔۔ اگر وہ آریز کا چیک اپ کرنے آئی بھی ہیں تو میٹھائی کا ڈبا کیوں لائی تیں؟؟؟
“اسلام علیکم!!!! ہم نے سنا ہے پیشنٹ کا نکاح ہوا ہے؟ اسلئے میٹھائی لے آئے مبارک باد دینے کے لیے۔۔۔ ” مومنہ نے مسکراتے ہوئے کہا مگر ” زاکون حیدر ” کی خونخوار نظریں خود پر جمی دیکھ اسکی زبان کو بریک لگی اسے تو لگا تھا زاکون اندر نہیں ہے پھر وہ یہاں؟؟؟؟
جبکے صباء نے بھی مسکراتے ہوئے مبارک باد دی پہلے تو سب حیران ہوئے تھے پھر سب کی نظریں ” زاکون ” کی طرف اٹھیں کیوں کے وہی تھا جسے پورے ہسپتال جانتا تھا!!! اور سب کی سوالیاں نظریں اس سے یہی پوچھ رہیں تھیں کے یہ کون ہیں؟؟؟
” یہ دونوں فارمیسسٹ ہیں!!! نیچے فارمیسی میں ہوتی ہیں۔۔۔ آنٹیوں سے خبر سن کر مبارک دینے آئیں ہیں ” نہایت ضبط کرتے اس نے بامشکل اپنا لہجہ نارمل رکھا جبکے اسکی نظریں مومنہ کو اپنی ہڈیوں میں دھنستی محسوس ہو رہیں تھیں۔۔۔
” شکریہ بیٹا خیر مبارک آپ دونوں کا نام کیا ہے؟؟ ” حیدر مرتضیٰ نے تیکھی نظر سے زاکون کو نوازتے ان سے پوچھا تو صباء نے جواب دیا۔۔۔۔
” میں صباء یہ مومنہ ” اور نام ” مومنہ ” پر سب کی نظریں اسی کی طرف اٹھیں جو پہلی ہی کافی بوکھلائی ہوئی تھی مایل نے زاکون کو دیکھا جس نے مایل کی نظریں خود پر محسوس کرکے سر نفی میں ہلایا مطلب تھا ” ایسا کچھ نہیں ہے ” پر سب کچھ یکدم تھم سا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ سب چپ تھے ساکت تھے۔۔۔
” پاپا ان سے کچھ میڈیسنز کا پوچھنا ہے میں آتا ہوں۔۔۔۔”
ماحول میں وحشت ناک خاموشی دیکھ وہ اٹھ کھڑا ہوا اسکی نظریں بس مومنہ پر ہی تھیں جو خاموش کھڑی تھی۔۔۔۔۔
” چلیں؟؟؟ ” اب کے اس نے صباء سے کہا جس نے میٹھائی کا ڈبا رکھا اور زاکون کے ساتھ کمرے سے باہر نکل آئی۔۔۔۔۔۔۔
” دیکھ لو ارحم بیٹا!!! تمہارے سارے ماموں نے چار سو بیسی میں ریکارڈ قائم کیا ہے ایک کا کارنامہ ابھی سن کر فارغ نہیں ہوتے کے اگلوں کے پورے چیٹھے نکل آتے ہیں “
بظاہر کہ تو وہ ارحم سے رہے تھے لیکن ان کا تعنہ وہاں بیٹے ہر نقوش کے لئے تھا۔ شاز آریز کی نگاہ ایک دوسرے کی طرف اٹھی تو المیر مایل نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر سب ایک دوسرے سے نظریں چراہ گئے۔۔۔
جبکے حیدر مرتضیٰ اب ارحم کے ساتھ کھیل رہے تھے وہ چٹکی بجاتے تو ارحم کی ہنسی پورے کمرے میں گونجتی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” پھر۔۔؟؟؟ پھر کیا ہوا؟؟؟ ” عینا کی آواز اسے واپس ہوش میں لائی وہ مسکرایا۔۔۔۔۔۔۔
” پھر تم نے مجھے اتنا ستایا کے میری ” ہمت ” جواب دے گئی ” وہ الجھی نظروں سے اسے دیکھنے لگی حاوز پھر ایک بار ماضی میں اسے لے گیا۔۔۔۔۔
اگلے دن وہ اپنی دوستوں کے ساتھ گھومنے دبئی چلی آئی وہ سب اسی کی طرح ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھتی تھیں۔ عینا کو فوٹوگرافی کا بہت شوق تھا اِس وقت برج خلیفہ دیکھنے کے بعد وہ لوگ ” Museum Of The Future ” آگئے جہاں وہ اس ” میوزیم ” کی باہر سے تصویریں لے رہی تھی اس وقت رات کے نو بج رہے تھے انہیں جلدی ہوٹل پہنچانا تھا وہ ایک آخری تصویر لیکر نکلنے کو تھی اندر کا نظارہ وہ لوگ کل کر لیں گئے حالنکے رونک رات میں ہی ہوتی ہے مگر انہیں سختی سے گھر سے ہدایت ملی تھی نو کے بعد انھیں ویڈیو کال کر کے اپنی موجودگی کا احساس دلانا ہے ہوٹل کے روم میں۔۔۔
سہانا اور آبرا اسے تصویروں میں مگن دیکھ کر چھپکے سے اندر چلیں آئیں اس سوچ میں کے بس ایک دفع دیکھ کر واپس آئیں گی۔۔۔
وہ جو الگ الگ انگیلز سے تصویریں لے رہی تھی ایک دم گولی چلنے کی آواز سے کانپ اٹھی اسکی چیخ نکل گئی تبھی اسے محسوس ہوا کسی نے اس پر روشنی ڈالی ہے اتنی تیز روشنی آنکھوں پر پڑتے ہی اسکا سر چکرانے لگا وہ جو کوئی تھا اس نے دو پل کے لئے روشنی کو اس سے دور کیا تو وہ بمشکل آنکھیں کھول پائی وہ شخص قدم اٹھاتا اسکے قریب آیا اور سختی سے اسکے بال جکڑے۔۔۔
” انڈین ہو یا پاکستانی؟؟ ” وہ غصیلی آواز میں دھارا۔۔۔۔۔
جب کے خود کو کسی کی قید میں محسوس کر کے اسکی روح تک لرز اٹھی۔۔۔۔۔
” بولو۔۔؟؟؟؟ ” اب کے بار وہ اسکے کان کے قریب دھارا۔۔۔
” پ۔۔۔۔۔۔پا۔۔۔کست۔۔۔۔۔ت۔۔۔۔۔ت۔۔۔تان۔۔۔ی۔۔۔۔یی۔۔۔” بامشکل ہلق سے آواز نکلی۔ حبرور نے ناک اسکے بالوں کے پاس لے جاکر ایک گہری سانس کھینچی۔۔۔۔۔
” کس ہوٹل میں رُکی ہو؟؟؟۔۔۔۔۔۔ ” اسکی آنکھیں برس اٹھیں اسے بولا تک نہیں جا رہا تھا حبرور نے خود ہی اسکی پرس میں ہاتھ ڈال کر ہوٹل کا کارڈ نکالا اور موبائل کی تیز روشنی میں پڑھنے لگا۔۔۔۔
” یہاں جو ہوا اگر کسی کو بتایا تو تمہاری گردن دھر سے الگ ہوگی آئی سمجھ؟؟؟ ” کارڈ ذمین پر پھینک کر اس نے پسٹال اس کی گردن پر رکھی تو وہ جی جان سے کانپ اٹھی۔۔۔ اس کی زبان جواب دینے سے انکاری تھی اس نے نفی میں گردن ہلائی تو وہ دھیمے سے مسکرایا۔۔۔
” گڈ جانِ من اسی فرمانبرداری کی امید تھی۔۔ ” ایک بار پھر وہ اس کے کان کے قریب بولا اور اسے آزاد کرتا ہوا دو تین گولیاں زمین پر ایک ہی جگہ پر نشانہ مارتے ہی وہ وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔ اس کے جاتے ہی جیسے ہی عینا نے زمین پر دیکھا تو وہاں گولیاں سیدھا ایک شخص کے سینے سے جا لگی تھیں جس سے وہیں اس شخص کی ڈیتھ ہو چکی تھی شاید تھوڑی دیر پہلے اسی شخص کو وہ قتل کر رہا تھا جب عینا کی چیخ کی اواز سن کر وہ خاموش ہو کر اس کی طرف آیا تھا۔۔۔۔
اس شخص کو دیکھ کر عینا کو اپنے جسم سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی وہ لڑکھڑاتے قدموں سے ایک ہی قدم بڑھا پائی وہ وہاں سے نکلنا چاہتی تھی لیکن وہ جیسے قدم آگے بڑھاتی منہ کے بل زمین پر جا گڑتی اس میں ہمت ہی نہیں تھی چلنے کی لیکن خود کو انجانے شہر میں ایسے حالات کے بیچ میں چھوڑنا وہ سمجھ سکتی تھی کہ الزام اسی پر آتا اس لیے وہ ڈرتے ڈرتے گڑتی پڑتی جلدی سے اپنی دوستوں کے پاس چلی آئی اس کی دوستیں اس کی حالت دیکھ کر حیران ضرور تھیں لیکن اس نے کچھ بھی نہ بتایا بس ان کے ساتھ وہ ہوٹل کے روم میں واپس چلی آئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پوری رات اس کی خوف میں گزرتے گزری وہ چاہ کر بھی اپنی دوستوں کو کچھ نہ بتا سگی اسے پتا تھا اگر وہ انہیں کچھ بھی بتائے گی تو تینوں کی جان اس شخص کے قبضے میں ہوں گی۔۔۔۔
پوری رات اسکی یہی سوچتے آنکھوں میں کٹی اور ٹھیک اگلے دن جب وہ بریک فاسٹ کرنے نیچے آئے تو ووب شخص اسکے سامنے بیٹھا شوق سے ” سی فوڈ ” کھا رہا تھا۔ عینا کو آتا دیکھ وہ مسکرایا۔۔۔۔۔
” میم آپ کا ناشتہ اس ٹیبل پر ہے!!! آپ دونوں کا یہاں “
ایک ویٹر نے عینا کو سامنے بڑی سی ٹیبل کی طرف اشارہ کیا جہاں پر پہلے سے ہر چیز سجی سجائی رکھی تھی۔
وہ وہی حبروز والی ٹیبل تھی۔ جبکہ اس کی باقی دو دوستوں کو دوسری ٹیبل کی طرف اشارہ کر کے کہا جہاں پوری ٹیبل خالی تھی اور اپنا کھانا خود لیکر کھانا تھا۔۔۔۔۔ سلف سرویز تھی۔۔۔۔
عینا کے گلے میں جان اٹک گئی لیکن وہ جانتی تھی اگر وہ وہاں اس شخص کے پاس نہیں گئی تو وہ اسے زندہ زمین میں دفن کردیگا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
