Wo Ajnabi by Yusra readelle50025 Episode 29
Rate this Novel
Episode 29
وہ صدمے کی سی کیفیت میں اپنے گودھ میں گِڑے فون کو دیکھ رہی تھی۔ آنسوں اسکی آنکھوں سے روانگی سے بہ نکلے ” آریز ” جو سگے بھائ سے بڑھ کر تھا اُسکی یہ حالت؟؟؟؟؟؟
اِسکا دل بیٹھا جا رہا تھا وہ بیڈ سے اٹھی۔ عجیب سی طبیعت ہو رہی تھی جیسے ابھی اسے ومیٹنگ شروع ہوجاے گی۔اسکی آنکھوں میں ہلکی سی نمی تیرنے لگی۔۔۔۔۔۔۔
” سنا ہے تمہارا مرض لاعلاج ہے ” وہ اکثر مایل کو چھیڑتا تھا جب بھی وہ وہم پالنے لگتی آریز اسکا مذاق اڑاتا تاکے ” ڈر ” اسکے ذھن سے نکل جائے۔۔۔۔۔۔
” رویا مت کرو!!! بہت خوبصورت لگتی ہو ” وہ اسے چھیڑنے کے لئے کہتا تھا ” یعنی رویا کرو بہت بُری لگتی ہو ” وہ اکثر کہا کرتا تھا جب جب وہ ایکزیمز کے دنوں میں رویا کرتی تھی۔۔۔۔ پھر خود ہی اس کے ساتھ سر کھپا کر اسے فزیکس سمجھاتا جو مایل کی سمجھ سے باہر تھا جبکے آریز فزیکس میں جینیس تھا اور المیر میتھس،اسٹیٹس اور کیمسٹری میں۔۔۔۔۔۔
کل تک آریز اسکی نظروں کے سامنے تھا اور آج بند کمرے میں ہسپتال کی دیواروں کے بیچ۔۔ مایل نے سختی سے آنکھیں میچیں۔۔۔۔۔۔۔
تبھی اسکا فون پھر سے بج اٹھا مایل کی نظر پڑی تو شاذ کا نمبر اسکرین پر جگمگتا دیکھ اسنے بہتے آنسوؤں پونچھتے جلدی کال پک کی۔۔۔
” میں تمہاری طرف آرہا ہوں چلو گی نہ؟؟؟؟؟ ” شاذ کا لہجہ ملتجی تھا۔ مایل نے آنسوں پیتے ” ہاں ” کہا اور فون رکھ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔
ہونٹوں پر زبان پھیرتے اپنے آنسوؤں پیتے وہ اٹھی جھک کر احتیاط سے سوئے ہوے ارحم کو اٹھا کر اپنے کندھے پر سلایا وہ تھوڑا سا کسمسایا لیکن پھر غنودگی میں چلا گیا مایل سمرین بیغم کو ارحم تھما کر انکی اجازت سے شاذ کے ساتھ چلی آئی جہاں آج اسے ” عزاہ رحمان ” کو آریز کی حالت کا بتانا تھا۔۔۔۔۔۔
۔……….……………….………. ابھی تک وہ چہرہ اسکے دل و دماغ پر حاوی ہے۔ وہ کروٹیں بدل بدل کر تھک گیا مگر اس چہرے سے جان نہ چُھڑوا سگا۔۔۔۔۔۔۔۔ عینا کے گھر میں قدم رکھتے ہی حاوز سلیمان کی پہلی نظر کچن کے اس کھلے کیبنٹ پر پڑی جس کا دروازہ نہیں تھا جو کھلا کرو(curve) شیپ میں ڈیزائن ہوا تھا۔ وہاں اسے دو پیکٹز چوہے مار دوائی کے دیکھائی دیے۔۔ یہی نہیں ایک ڈبا کیچن شلیف پر بھی رکھا ہوا تھا اس شخص کو یا فوبیا تھا یا چوہوں کا حد سے زیادہ خوف۔۔۔ حاوز کا شق نجانے کیوں عینا پر ہی گیا لڑکیاں دنیا کی وہ واحد مخلوق ہیں جو خود سے چھوٹے ہر جانور سے ڈرتی ہیں۔۔۔ مکرم علی کے کہے مطابق وہ صرف منگیتر اور ماں باپ کے سامنے ایسی حرکت کرتی تھی ورنہ باقی دنوں میں وہ ٹھیک تھی۔ نوکروں سے پوچھنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا جس طرح وہ اسے دیکھ کر عجیب حرکتیں کر رہے تھے حاوز سمجھ گیا تھا کہ وہ لڑکی اکیلی نہیں ہے بلکہ نوکر بھی اس کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔۔۔ جب وہ گھر میں داخل ہوا تھا اسے اچھے سے یاد ہے کہ ان کی ایک نوکرانی مکرم علی اور اسکی باتیں سن کر موبائل پر کچھ ٹائپ کرنے لگی تھی۔۔۔ شک اُسے وہیں ہوگیا تھا نوکرانی کی حرکت سے مگر یقین خود ” عینا ” کے ٹیب ریکارڈ نے کروا دیا۔۔ جب کوئی ڈاکٹر آیا یا سائکیٹریسٹ وہ وہی ٹیپ ریکارڈر انکے سامنے چلاتی تھی مگر جو آتا پہلا سوال یہی پوچھتا کے وہ ہے کون؟؟؟ عموماً میڈیکل فیلڈ میں پیشنٹ سے پہلے اس کا نام پوچھا جاتا ہے چاہے وہ کسی بھی مرض میں مبتلا ہو پہلے اس کا نام پوچھتے ہیں۔۔۔ اس کی ہر کنڈیشن پوچھتے ہیں ڈاکٹر کو اس کی باتوں سے اندازہ ہوتا ہے اگر وہ اپنی سوچ کی وجہ سے بیمار ہے تو ڈاکٹر اندازہ لگا لیتا ہے کہ اسے بیماری کچھ نہیں وہ صرف خود کو بیمار سمجھتا ہے۔۔۔ لیکن جو سچ میں بیماری میں مبتلا ہوتا ہے ڈاکٹر جب اس بیماری کے متعلق سوال پوچھتی ہیں تو پیشنٹ کے جواب سے انہیں اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ شخص اس مرض میں مبتلا ہے۔۔۔۔ حاوز بھی وہی کرنے والا تھا مگر اسکے دماغ نے آلارم دیا آج ایک کھیل اس جنات سے کھیلا جائے۔۔۔۔۔۔ ” کیوں آئے ہو؟؟؟؟ ” ” ساکر جنات کا سردار ہوں۔۔۔۔۔ ” پہلے سوال پر ہی اس کا ٹیپ ریکارڈر غلط جواب دے کر حاوز کو یقین دلا گیا۔۔۔۔۔۔۔ ” نام کیا ہے؟؟؟ ” ” اسے اپنے ساتھ لے جانے آیا ہوں اسکے ” جسم ” پر میرا قبضہ ہے۔۔۔ اسکی روح اپنے ساتھ لے جاؤں گا ” حاوز کی مسکراہٹ گہری ہوگئی جو وہ جنات نما لڑکی دیکھ رہی تھی تبھی غصّہ چہرے پر صاف نظر آرہا تھا باقی کام ان چوہوں نے کردیا۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اسکے ماں باپ کے ریکشن پر حاوز سوچنے پر مجبور ہوگیا اور وہ پہلی لڑکی تھی جو اسکے حواسوں پر بُری طرح حاوی تھی۔۔۔۔ تبھی اندھیرے میں جب وہ اسکی کار کے شیشیے توڑنے میں مگن تھی حاوز نے اسکی پرس موبائل اور کار میں ٹریسر فیکس کردیا۔ آج کے دن کو سوچتے اسکی آنکھیں خود بھاری ہورہیں تھیں اور نجانے کب نیند اس پر غالب ہوگئی صبح کے چھ بج رہے تھے اور دس بجے اسے ڈیوٹی پر جانا تھا۔۔ صبح کے نو بجے تھے کے اسے ایک کال ریسیو ہوئی ایکسیڈنٹل کیس تھا۔ بلڈ کلوٹ ہوگیا تھا دماغ میں،، حاوز کو تو فون پر یہی سنے کو ملا تھا جب وہ وہاں پہنچا کیس واقعی بہت پیچیدہ تھا۔۔ تقریباً دوپہر ہوگئی جب وہ فارغ ہوا خون لگے گلوز کو ڈسٹبن میں پیھنک کر اس نے ہاتھ دھو دھو کر سینیٹائز کیے۔۔۔۔۔۔۔ کپڑے بدلنے کے بعد حاوز نے لوکیشن دیکھو جو ڈیفنس کی شو ہو رہی تھی جبکے عینا کا گھر تو وہاں نہیں پھر؟ ہسپتال میں اپنے ڈیوٹی آرزز پورے کرنے کے بعد وہ اسی لوکیشن پر گیا کار ایک بلڈنگ کے آگے روک دی۔ اس سے پہلے کے وہ اسے ڈھونڈتا عینا کسی لڑکی کے ساتھ خود ہی اس بلڈنگ سے باہر نکلی اور وہاں حاوز کو کھڑے دیکھ بمشکل غصّہ ضبط کرتی وہاں آئ۔۔۔ ” آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟؟؟؟ کہیں مریضوں کا علاج کرتے کرتے خود تو کسی مرض میں مبتلا نہیں ہوگئے؟؟؟ ” وہ طنزیہ لہجے میں بولی آنکھوں میں اب بھی وہی غصّہ تھا۔۔۔۔ ” سنا تھا جنات پریڈیکشن کرتے ہیں آج تو یقین ہوگیا ” وہ اسکی سہی پیشن گوئی پر داد دے رہا تھا مگر عینا کو سخت ناگوار گزرا اسے لگا وہ اس پر طنز کر رہا ہے۔۔ ” جسٹ شٹ اپ!! کسی دن تمہیں تمہارا ہسپتال کے ساتھ اس پلینٹ سے ہی اڑا دونگی “۔۔۔۔۔۔ وہ انگلی سے وارن کرتی اسے کچا چبانے کو تھی۔۔۔۔۔ ” جہاں لے جاؤ گی چلوں گا بوریہ بسترا سمیٹ کر ” خمار الودہ لہجے میں کہتے وہ اسے آگ لگا گیا۔۔۔۔۔ ” تمہیں مذاق لگ رہا ہے؟؟؟ تڑپو گئے رووے گے جب تمہارا کوئی اپنا تمہیں چھوڑ دیگا۔۔ میری بےبسی کا مذاق اڑنے آئے ہو؟؟؟ ” عینا کو اسکے ہر انداز سے لگ رہا تھا وہ اسکی بےبسی پر ہنس رہا ہے مذاق اڑا رہا ہے۔ مگر وہ اسے کیا بتاتا پوری رات جاگتے وہ بس اسی کے متعلق ہر انفارمیشن اکٹھا کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ ” آپ غلط سمجھ رہی ہیں!!!! بس یہ کہنے آیا ہوں آپ مجھے اچھی لگنے لگی ہیں ” آنکھیں سرخ ہو رہیں تھیں رات جگے کا اثر تھا نیند آنکھوں پر غالب تھی۔ جب کے لہجہ محبت بھرا تھا۔۔۔ ” اچھا؟؟؟؟؟۔۔۔۔۔ انسان کو بھی کبھی جن اچھے لگے ہیں ” ” بس یہ جانتا ہوں یہ ” جن ” کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا۔۔۔۔ جو بےحد حساس ہے!!!!!! اور محبت کی طلب گار ” اسکی بات پر عینا کی آنکھیں حیرت سے کھل گئیں۔۔۔۔۔ ” عینا مکرم علی۔۔۔ عمر انیس سال،،، بی ایس سی اسٹونڈٹ۔۔۔ تاریخ پیدائش۔۔ بیس دسمبر ٢٠٠۵ اکلوتی ہو مگر نفرت ہے ایسی زندگی سے جس میں ” عیش ” تو ہے ماں باپ کی توجہ نہیں۔۔۔ مکرم علی کو بیٹے کی خوائش تھی پر آپ کی پیدائش پر صبر کے گھونٹ بھرے۔۔۔۔۔ اس ناٹک کی وجہ صرف ماں باپ کی ” توجہ ” ہے اور باپ کے سرکل میں شادی کرنے کی آپ کی خوائش نہیں آپ نہیں چاہتیں آپ کے باپ جیسا شخص آپ کی زندگی میں آئے۔۔۔۔۔۔۔” کتنے ہی پل وہ حیرت میں مبتلا رہی یہ شخص تو وہ تک بتا رہا تھا جو چار دیواروں کے بیچ ہوا ہے جسکا علم کسی کو نہیں۔۔۔۔۔۔۔ وہ کہ رہا تھا۔۔۔۔ ” یقین کرو عینا پانچ بیٹیاں بھی ہوئیں اس رب سے کہونگا!!!! میں تیرا گہنگار بندہ لائق نہیں تھا میری اوقات سے بڑھ کر مجھے نوازا ہے بس اسی طرح نوازتے رہنا ” بےاختیار عینا کا دل دھڑک اٹھا وہ بےخودی کے عالم میں ان آنکھوں میں محبت کا جہاں آباد کیے اسے ہی تکے جا رہا تھا۔۔۔۔ اسکی نظریں ایسی تھیں کی عینا کو اپنی ہڈیوں میں دھنستی محسوس ہو رہیں تھیں پلک چھبکے بغیر وہ اسے دیکھے جا رہا تھا۔ جیسے کبھی دوبار دیکھ نہیں سگے گا۔۔ وہ اسکی نظروں سے پزل ہوتی لڑکھرائی وہ اسے سنمبھالنے کے لئے آگے بڑھا مگر وہ خود کو سنمبھال کر پیچھے ہٹی۔۔۔ وہ جلدی سے انوشہ کا ہاتھ پکڑ کے اپنے کار میں بیٹھ گئی اور اسکی نظروں کے سامنے اسی کے پاس سے گزر گئی۔۔۔۔۔۔۔ حاوز سلیمان سرد آ بھرتا اسکی کار کو دیکھتا رہا۔۔۔۔ کل وہ جو جنات کا کھیل کھیل کر اس کے دل و دماغ پر حاوی ہوئی تھی آج حاوز سلیمان اس پر حاوی ہو گیا وہ جانتا ہے وہ اس کی آخری بات کو سوچتی رہی گی لیکن یہ بات اس نے بس یہ سوچ کر کی تھی کہیں وہ اسے اپنے باپ جیسا نہ سمجھے پر درحقیقت وہ اس عورت کے وجود سے ایک کیا؟؟؟ دس بیٹیوں پر بھی شکر ادا کرتا نہیں تھکے گا۔۔ کیوں کے وہ اسکی اور ” عینا ” کی اولادیں ہونگی اور اسکے ریکشن سے حاوز کو اندازہ ہوگیا وہ اس کے دل و دماغ پر حاوی ہو چکا ہے۔۔۔۔ ۔……….……………….……….
” وہ اتنی خاص نہیں تھی مگر آریز تھا جس نے اسے
” خاص ” بنایا تھا۔۔۔۔ وہ خوبصورت تھی مگر اس قدر نہیں کے کوئی شخص بس اسکی خوبصورتی پر مر مٹے۔۔۔۔۔۔
عزاہ نے دروازہ کھولا تھا مایل غور سے اسکے چہرے کو دیکھ رہی تھی جس نے سر پر دوپٹا اوڑھا تھا۔ سلیقے سے خود کو دوپٹے سے کورر کیا تھا اتنا تو مایل بھی نہیں کرتی تھی۔۔۔۔۔۔
” آپ کون؟؟؟ ” وہ اسے دیکھ کر پوچھ بیٹھی انکے گھر کوئی آتا جاتا نہیں تھا بس اسکی ماں اور وہی ہوتی تھی۔۔۔۔
” مایل!!!! آریز کی بہن آپ مجھے نہیں جانتیں پر میں آپ کو جانتی ہوں بس آپ سے بات کرنی ہے ” آریز کا نام سن کر اس نے دروازہ بند کیا کیوں کے وہ کچھ سنے کی پوزیشن میں نہیں تھی اس وقت گھر میں اسکی بہن اور ساس آئی تھی (جو کے اسکی بھی ہونے والی ساس ہے)
مایل اسکی حرکت پر شدد رہ گئی دروازہ اس نے ہاتھ رکھ کر بند ہونے سے روک دیا تھا اور اسے دیکھتے نہایت ٹھنڈے ٹھار لہجے میں بولی۔۔۔
” آریز آئی سی یو میں ہے ” عزاہ کے پیڑوں تلے سے جیسے زمین ہی نکل گئی ” آئی سی یو ” اس کا ہاتھ خود بخود نیچے گِر گیا جس کے بعد مایل دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوئی اس کے پیچھے ہی شاز بھی اندر آیا۔۔
” شاذ میرے ساتھ ہے ” اس نے پہلے ہی بتانا مناصب سمجھا کہیں شاذ کو بھی وہ باہر کا دروازہ نہ دکھا دے۔۔۔۔۔
” کون آیا ہے آپی؟؟؟ ” جاسمین پوچھتی ہوئی کمرے سے باہر نکلی جاسمین کو یہاں دیکھ شاذ کی رگیں تن گئیں مگر یہی صحیح موقع تھا وہ جاسمین کا سچ ان کے سامنے لا سکتا ہے جبکے جاسمین بھی اسے یہاں دیکھ سلگ اٹھی۔۔۔۔
” اچھا ہے آپ کی بہن بھی یہیں ہے!!! ” شاز نے طنزیہ انداز میں کہا جبکہ اس وقت کوئی عزاہ کو نہیں دیکھ رہا تھا جو دنیا جہاں سے بےخبر بس آریز کا چہرہ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
مایل نے اسکی حالت دیکھی تو اسکے قریب جاکر اسکے ہاتھ کو اپنے میں لیکر ایک جھٹکا دیا جس سے وہ یکدم ہوش میں آئی۔
” ٹھیک ہو؟؟؟ ” عزاہ نے خالی خالی نظروں سے مایل کو دیکھا۔ مایل نے اسکے ہاتھ دیکھے جو کپکپا رہے تھے اسکے ہونٹ تک لرز رہے تھے شاید خوف تھا جس نے اسے جکڑ لیا تھا۔۔۔۔
” و۔۔۔۔۔و۔ ۔۔۔وہ۔۔۔۔ک۔۔۔۔۔کہاں۔۔۔۔۔ ہے۔۔۔”
” ہوسپٹل میں تم چلو گی نہ ہمارے ساتھ۔۔۔ ” مایل نے امید لیے اس سے پوچھا وہ تو گویا اسی انتظار میں تھی تبھی ہچکیاں لیتے سر ہاں میں ہلا رہی تھی۔۔ مایل نے پہلی دفعہ یہ تکلیف دیکھی ہے اس سے تو رویا بھی نہیں جا رہا تھا ایسے لگ رہا تھا کہ وہ دل کے درد کو دبائے ہوئے تھی رونے کی کوشش کر رہی تھی لیکن آنسو بھی اس کی آنکھوں سے نہیں نکل رہے تھے دل تھا کہ غم سے بس پھٹا جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔
” آپی آپ کی ہونے والی ساس یہاں ہے شوہر آنے والا ہے اور آپ جو سگا ہے نہ کوئی رشتےدار اس سے ملنے جا رہی ہیں؟؟؟؟؟ ” جاسمین تو شاذ کو دیکھتے ہی بہن پر بھڑک اٹھی۔ اور عزاہ یہ کیسے بھول سکتی ہے اندر بیٹھی عورت اسکی بہن کی بھی ساس ہے۔۔۔۔۔
” اپنے ہونے والے شوہر سے ملنے جا رہی ہے ” شاز اسکے قریب چلا آیا چہرے پر زلزے سے تاثرات تھے دانت پر دانت سختی سے جمائے جیسے وہ اپنے اندر کے اُبلتے لاوے کو پٹنے سے روک رہا تھا، برداشت کیے ہوے تھا۔۔۔۔
شاز کی موجودگی اسکے کہے الفاظ اور اپنی بہن پر رُعب اسے پاگل کر گیا وہ اس پر چیخی۔۔۔
” بکواس۔۔۔۔۔۔ “
” یو شٹ اپ!!!! جسٹ شٹ یور مائوتھ۔۔۔ ” وہ اسکے قریب تر آتا وہیں سے دھارتا ہوا آرہا تھا اسکی دھار اتنی بلند تھی کے جاسمین کا چہرہ سفید پڑ گیا وہ خوف سے پیچھے کھسک گئی مگر وہ اسکی سوچ سے زیادہ جلدی اسکے قریب چلا آیا۔۔۔اور سختی سے اسکی گردن جکڑی جس پر دباؤ بھی بےرحمانہ تھا جاسمین کی آنکھیں باہر اُبلنے کو تھیں۔۔۔۔
” شاز پاگل ہوگے ہو چھوڑو اسے “
مایل کا باقاعدہ دل کانپ اٹھا خوف سے،،، شاذ سے ایسی حرکت کی امید نہ تھی۔۔۔۔۔
” یہ ڈھیٹ ہڈی ایسے نہیں اُگلے گی۔۔ تم دور رہو مایل آج تمہارے کہنے سے بھی اسے نہیں چھوڑوں گا “
” شاذ پلیز۔۔۔ “
” مایل دور رہو۔۔۔ ہمارا جھگڑا ہوجاے گا ” وہ اسے آنکھوں سے تنبیہ کر رہا تھا،، ساتھ حوصلہ دے رہا تھا وہ کچھ غلط نہیں کریگا۔۔ مایل اب بھی بےچین تھی جبکے عزاہ کے دماغ میں بس آریز تھا کوئی ہوش نہ تھا دنیا کا۔۔۔
بکواس کرو۔۔۔۔۔ بولو نہ۔۔۔بھونکو اب۔۔۔۔۔ ” وہ دانت بھینچے پوری آنکھیں کھولے اسے دیکھتا اسکی روح فنا کر گیا غصّے کے ساتھ دباؤ بھی سخت ہوتا جا رہا تھا جو نا قابلِ برداشت تھا۔۔۔۔
” جو انہیں آریز کے خلاف بولا تھا اس میں کتنا سچ تھا؟؟؟؟ بکواس کرو۔۔۔۔۔۔” وہ پھر چیخا۔۔۔
” بولو ورنہ زندہ نہیں بچو گی۔۔۔۔۔۔۔ ” ہر دھمکی کے ساتھ اس کی گرفت مزید سخت ہو جاتی اب تو جاسمین کی برداشت سے باہر تھا وہ بولنا بھی چاہ رہی تھی لیکن بول بھی نہیں پا رہی تھی آنکھوں سے گرم گرم سیال اُبل رہا تھا
” ج۔۔۔۔۔جھ۔۔۔۔جھو۔۔۔جھوٹ۔۔۔ تھ۔۔۔۔۔تھا۔۔۔۔س۔۔۔سب۔۔ ” اس سچائی سے عزاہ کو جیسے کوئی فرق نہیں پڑا تھا سب اُسی کو دیکھ رہے تھے جو زمین کو دیکھتی گہرے گہرے سانس لے رہی تھی۔۔۔۔۔۔
اسے بس ایک شخص یاد تھا۔۔۔۔۔
آریز۔۔۔۔
جس نے ہمیشہ، ہر جگہ، ہر کہیں اسے اہمیت دی ہے۔۔۔
کوئی دنیا کا رئیس شخص بھی ہو تب بھی آریز کی نگاہیں بس ” عزاہ رحمان ” کو ڈھونڈتی ہیں۔۔۔
” اور اقرار کس نے کیا تھا؟؟؟؟ ” شاذ بلند آواز میں دھارا کے بہرا بھی سنے اور اس وقت بہری یہاں صرف ایک مخلوق تھی ” عزاہ رحمان “۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر جاسمین کی جھکی گردن بہتے آنسوں نے سب عیاں کردیا شاذ نے اسے پوری قوت سے دور دھکیلا اس امید کے ساتھ کہیں سر زمین سے لگ کر پھٹ جائے مگر وہ ڈھیٹ ہڈی اسے خوشی کہاں دینے والی تھی؟؟؟ بس پیچھے گڑتے گڑتے بچی ایسا نہ کے گڑ ہی جاتی اپنے معملے میں ہمیشہ سے وہ ” شیر ” تھی جب کے دوسروں کے معاملوں میں ” سانپ “۔۔۔۔
” دعا کرو وہ ٹھیک ہوجاے ورنہ تمہارا جنازہ میرے ہاتھوں اٹھے گا۔۔۔ تم جیسی عورت کسی کی خوشی سہ تک نہیں سکتی۔۔۔۔۔ آباد کرنا تو دور کی بات ہے۔۔۔۔۔ میری جذبوں کو روندا تھا نہ؟؟ دیکھو کیسے تمہارے شوہر کو تمہارے قصے (manipulate)کر کے سناتا ہوں۔۔۔ آٹھ سال تم نے مجھے پاگل بنایا میرے بھائی کو آئ سی یو میں پہنچا دیا اب بےشرموں کی طرح یہاں رشتے کروا رہی ہو تم جیسی عورت کو سڑکوں پر بھیک منگوانی چاہیے۔۔۔ ” اسکے اندر اس عورت کے لئے صرف زہر تھا مایل آج پہلی بار شاذ کا یہ روپ دیکھ رہی تھی۔ مایل نے قریب آکر شاذ کے کندھے پر ہاتھ رکھا جس کا دل بار بار بھر آرہا تھا ایک طرف اسکا بھائی تھا دوسری طرف اِسکا اپنا رونا۔۔۔۔۔ اس نے خود کے ساتھ کیا کردیا؟؟؟ ایک ایسی عورت کے پیچھے زندگی گواں دی۔۔۔۔ ماہ وسال برباد کر دیے۔۔۔
” چلیں ” مایل کی آواز پر تینوں جیسے ہوش میں آئے عزاہ فوراً دروازے کے پاس آئی پہلے شاز نکلا پھر اسکے پیچھے عزاہ اور مایل جاسمین عزاہ کو پکارتی رہی لیکن ہر کوئی اسکی ان سنی کرتا کار میں بیٹھ گیا۔۔۔۔
۔……….……………….………. ” بی پی حد سے زیادہ بڑھ چکا تھا۔۔۔۔۔۔ ایک بوڑھے انسان کا بی ہی ہائی ہو تو کنٹرول کیا جا سکتا ہے مگر جوان ہو تو مشکل ہے بہت مشکل۔۔ جوانوں کا بلڈ بہت تیزی سے فلو کرتا ہے جب کے بوڑھے لوگوں کا آہستہ سے فلو کرتا ہے انکا بلڈ فلو کنٹرول کرنا آسان ہے جب کا جوانوں کا مشکل ہے۔۔۔۔۔۔ آپ کو تو علم ہوگا روز آپ سی سی یو میں کریٹیکل پیشنٹس دیکھتے ہیں اور آپ انجان نہیں آپ کے بھائی کو ہارٹ اٹیک ہوتے بچا ہے۔۔۔۔۔۔ ” زاکون انکے ساتھ ہی آریز کے کمرے میں تھا جہاں پروسیجر ہو رہا تھا وہ خود وہاں آریز کی کنڈیشن دیکھ کر آیا تھا۔۔۔۔۔ ” فالج کا اٹیک بھی ہوسکتا تھا شاید ماں کی دعائیں ہیں کے وہ ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔ ” ڈاکٹر اپنی حیرانگی بھی ظاہر کر رہے تھے جب کے زاکون شکر کر رہا تھا اب اسکا بھائی خطرے سے باہر ہے انسان کی نیکیاں اسکے نیک اعمال دوزخ کے دروازے سے پلٹ کر جنت میں لے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔ سب بس اسکے ہوش میں آنے کا انتظار کر رہے تھے شام سے رات ہو چکی تھی مرد سب عشاہ پڑھنے گئے تھے۔۔۔۔۔ شگفتہ صالحہ آریز کے ساتھ اندر کمرے میں بیٹھیں تھیں شگفتہ نڈھال سے بس آریز کے ہوش میں آنے کا انتظار کر رہی تھی جبکے صالحہ تسبیح ہاتھ میں لئے مسلسل پڑھ رہیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔ وہ مایل کی ہمراہی میں اسکے روم تک آئی مایل تو دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگی مگر وہ وہیں کھڑی رہی۔ اسکا سانس اٹک رہا تھا اسے پٹیوں میں جکڑا دیکھ۔۔۔۔۔۔ ؓمنہ پر اوکسیجن ماسک لگا تھا جس سے وہ مصنوئی سانس لے رہا تھا۔ وہ گلاس وال سے اسے دیکھ رہی تھی کس قدر کمزور ہوگیا تھا وہ بس ایک دن میں۔۔۔۔۔۔۔۔ آریز کو یونیورسٹی کے چار سالوں میں کبھی بخار تک نہیں ہوا وہ ہمیشہ فریش دیکھائی دیتا تھا۔ فجر پڑھ کے وہ تلاوت کرتا تھا صبح ہی صبح اسے میسج کرنا نہیں بولتا تھا ” صبح بخیر ” ایک عادت بن گیا تھا وہ۔۔ عزاہ ہمیشہ اسے کھونے سے ڈرتی تھی۔۔۔ اس نے گھر میں سب کو آریز کا بتایا تھا اسکی ماں تو آریز سے کافی دفع مل بھی چکی تھیں اور انھیں آریز اپنی بیٹی کے لئے بےحد پسند بھی تھا۔۔ وہ اسکی بہن بھی مل چکا تھا۔۔۔۔ لیکن عزاہ کا ڈر سہی ثابت ہوا آریز اس سے دور چلا گیا اتنا دور کے سالوں کا فاصلہ انکے درمیان آگیا۔۔۔۔۔ اس عرصے کتنا یاد آیا تھا وہ شخص۔۔۔ کتنا روئی تھی تڑپی تھی اسکے لئے۔۔ رو رو کر اُس نے آریز کو مانگا تھا۔۔ وہ اس کے بےحد پاس آیا بھی تھا مگر وہ اس پر اعتبار نہ کر سگی وہ تھا ہی ایسا کے ہر انسان اسکی خوائش کرے اسکی سب سے بنتی تھی جو بات عزاہ کو کبھی پسند نہیں آئی۔ شاید وہ اپنی شدت پسندی کی وجہ سے اسے کھو چکی تھی۔ وہ اس سے کتنا لڑتی تھی جگڑتی تھی بار بار اسکا موڈ خراب کردیتی۔۔۔۔۔۔۔ ” تم نے جاسمین سے کیا کہا؟؟؟؟ ” وہ آخری دن تھا انکی ملاقات کا۔۔۔ اگلے ہفتے سے پپرز شروع تھے۔ وہ اس وقت تیسری منزل کے کوریڈور میں اکیلا بیٹھا پڑھ رہا تھا جہاں وہ دونوں اکثر ساتھ بیٹھ کر پڑھتے تھے۔۔۔۔۔ آریز کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہو رہا تھا۔ وہ اکثر عزاہ کے گھر جایا کرتا تھا انکے چھوٹے بڑے کام خود سے کروا دیا کرتا تھا عزاہ اس سے ڈسکس کرتی تھی اگلے دن وہ خود سارے کام کرواتا۔ جیسے انکی پانی کی ٹنکی چینج کروانی تھی اوپر چھت پر لگا انکا پانی کا ڈرم تقریباً خراب ہوچکا تھا جس کی وجہ سے پانی آنے میں بہت مشکل ہوتی تھی عزاہ نے جب مسلا شئیر کیا اگلے تین دن وہ اسی کام میں مصروف رہا۔۔۔ ایسے ہی بہت کام جو عزاہ خود کرتے ڈرتی تھی وہ آریز کرواتا تھا اسی دوران وہ نہیں جانتا کب جاسمین اسے پسند کرنے لگی اور ایک دن جب وہ عزاہ کی ماں سے بیٹھا باتیں کر رہا تھا۔ اور عزاہ چائے بنانے گئی تھی تب بس پانچ منٹ کے لئے شاید عزاہ کی ماں نماز پڑھنے کے لیے اٹھی ہونگی کے جاسمین اِنکے جانتے ہی اِسکے سامنے آگئی اور اپنی محبت کا اظہار کرنے لگی۔۔۔۔ ” نجانے کب یہ ہوگیا؟؟ مجھے خود اندازہ نہیں پر مجھے ایسا ہی انسان چاہیے تھا احساس رکھنے والا دل کا صاف سب سے بڑا کے۔۔۔ محنتی ہو آپ ہو با ہو ویسے ہیں۔۔ میں آپ کو حد سے زیادہ۔۔۔۔۔۔ ” وہ جھجکتی ہوئی آریز سے کہ رہی تھی۔۔۔ ” عزاہ میری ہونے والی بیوی ہے آپ اسکی بہن ہیں اس رشتے سے آپ مجھے اپنا بھائی ہی سمجھیں۔۔ بہت غلط بات کی ہے آپ نے یہ جانتے ہوئے بھی کے عزاہ میں ایک دوسرے کی پسند ہیں؟؟ ” جاسمین کا چہرہ اُس وقت تو احساسِ توحین و شرمندگی سے جھکا رہا مگر آریز نہیں جانتا تھا وہ اتنا بڑا کھیل کھیلے گی۔۔۔۔ ” اُس نے کچھ کہا؟؟ ” آریز نے الٹا اس سے پوچھا جو سرخ آنکھوں سے اسے گھور رہی تھی۔۔۔ ” تمہاری اس سے بات ہوئی ہے؟؟؟ ” وہ ضبط کی انتہا پر تھی۔ دل پھٹا جا رہا تھا اس شخص کی بےوفائی پر۔۔۔ “کچھ خاص نہیں!!! آؤ بیٹھو تمہیں یہ چیپٹر سمجھاؤں” وہ ٹانگیں پھیلائے اپنی گودھ میں بوکس رکھے بیٹھا تھا اسے غصّے میں دیکھ وہ سمجھ گیا بات نارمل نہیں۔ مگر وہ اسکا دیہان ہٹانے کو نیا چیپٹر سمجھانے کے لیے پوچھ رہا تھا جانتا تھا ایک دفع وہ سمجھنے بیٹھی پھر کوئی طاقت اسے ہلا نہیں سکتی وہ اپنا سارا دیہان پڑھائی میں لگائے گی۔۔۔۔۔۔ ” تم اس سے شادی کرنا چاہتے ہو؟؟؟ ” وہ گردن اٹھا کر اسے دیکھنے لگا پھر بوکس رکھ کے روبرو اسکے سامنے آکھڑا ہوا۔۔۔۔ ” تمہیں کیا لگتا ہے؟؟ ” دونوں ہاتھ سینے پر باندھے وہ غور سے اسکے تااثرات دیکھ رہا تھا جو شیرنی بنی ہوئی تھی۔ آریز کا بولنا ہی تھا کے وہ اسکا کالر پکڑ کے چیخ اٹھی۔۔۔۔۔۔۔ ” تمہاری کزن کی ڈیتھ کو کتنے سال گزر گئے؟؟ تمہارا بھائی کس غم میں ہے؟؟؟ تمہارے پیرینٹس کبھی تو تمہاری شادی کرینگے نہ؟؟؟ مجھے دھوکے میں رکھ کر یہ سب بہانے پیش کر کے تم میری ہی بہن؟؟ ” دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے ایک کی آنکھوں میں حیرانگی تھی تو دوسرے کی آنکھوں میں آنسوؤں۔۔۔۔۔۔ ” کتنے بڑے جھوٹے دھوکے باز ہو تم مرے ہوئے لوگوں سے فائدہ اٹھا رہے ہو تمہیں شرم آنی چاہیے۔۔۔۔۔ ” وہ اسے دھکا دیتی اسکے سینے پر مکے برسا رہی تھی وہ خاموشی سے اسکی مار سہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔ ” جو نبھانے والے ہوتے ہیں تمہاری طرح نہیں ہوتے جسے محبت کرتے ہیں اُسے اپنی عزت بناتے ہیں تمہاری طرح جگہ جگہ منہ نہیں مارتے۔۔ تم کس قدر گڑے ہوئے شخص ہو میری ہی بہن۔۔۔۔” وہ اسکے سینے پر بھوکی شیرنی کی طرح وار کر رہی تھی اسے دھکا دیتی وہ دیوار تک لے آئی جہاں سے آگے کوئی راستہ نہیں تھا۔۔۔ ” تمہیں مجھ پر اعتبار ہے؟؟ ” اپنی ہی آواز اسے کسی کھائی سے آتی محسوس ہوئی۔ کن کن لفظوں نے اسے زخم دیے تھے کیا بتاۓ؟؟؟؟ وہ تو ” مومنہ ” کی موت سے واقف تھی پھر ایسی بےاعتباری؟؟؟؟؟ ” کس اعتبار کی بات کر رہے ہو جو کبھی دیا ہی نہیں؟؟؟ مجھے اپنی بہن پر اعتبار ہے جو تمہاری طرح منافق نہیں۔۔۔ ” وہ جانے لگی تھی کے آریز نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا تبھی عزاہ کا ہاتھ اٹھا جو اسکے گال پر نشان چھوڑ گیا اور آریزززززززز غم،حیرانگی،دکھ،افسوس کیا کیا جذبہ نہ تھا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ اور وہ وہاں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چلی گئی اسکی زندگی اسکی دنیا سے دور اسے تنہا چھوڑ کر آج عزاہ شیشے کے باہر آریز کے اُسی چہرے کو دیکھ رہی تھی جہاں کبھی اس نے تھپڑ مارا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ شگفتہ کی نظر اچانک ہی اس پر پڑی اسنے مایل سے پوچھا تو مایل نے ہر بات انکے سامنے عیاں کردی شگفتہ کمرے سے باہر نکل آئی عزاہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا جس سے وہ چونک اٹھی بھیگی آنکھوں سے انہیں دیکھا وہ رو رہیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔ نجانے کون سا جذبا تھا کیسا احساس تھا کے انکی موجودگی سے آریز کی خوشبو عزاہ کو آس پاس بھکرتی محسوس ہوئی وہ ان کے کندھے پر سر ٹکا کر بلک اٹھی۔۔۔۔ وہ اس شخص کو اگر آج کھو بیٹھی تو حقیقتاً خوف سے مر جائے گی۔ اسنے کبھی آریز کو ایسی حالت میں نہیں دیکھا تھا یہ سب اسکی برداشت سے باہر تھا۔۔ وہ تو ہمیشہ اسے حوصلہ دیتا ہے سنبھالتا ہے پھر آج کیسے تنہا چھوڑ دیا؟؟؟؟ ” آر۔۔۔۔۔۔آر۔۔۔۔۔آریز۔۔۔۔ک۔۔۔کو۔۔۔کچ۔۔۔کچھ۔۔۔۔ ہ۔۔۔۔ہوا۔۔۔تتو۔۔۔۔۔ت۔۔۔وو۔۔۔۔۔و۔۔۔۔۔۔تو۔۔۔۔مر۔۔۔۔۔ج۔۔۔۔جا۔۔۔جائونگی۔۔۔ ” ” اللّه نہ کرے ” شگفتہ کے منہ سے بےاختیار نکلا ُاسی وقت مایل کمرے کا دروازہ کھول کر باہر آئی۔۔ ” تائی امی آریز کو ہوش آرہا ہے۔۔۔۔ ” شگفتہ تو سنتے ہہ اندر کی طرف دوڑی۔۔۔ وہ ہوش میں آرہا تھا اسکے ہاتھوں میں حرکت پیدا ہو رہی تھی۔ وہ ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ کے پاس لیجانے کی کوشش کر رہا تھا۔ جو کہ نہایت تکلیف دا عمل تھا کیونکہ دونوں ہاتھ دوری پر تھے جبکے پورے بازو میں شدید درد تھا ہائی بی پی کی وجہ سے جو کے اب کم تھا مگر درد کی شدت میں بس تھوڑی کمی آئی تھی تبھی اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔۔۔ اور آنکھیں کھولتے ہی اس نے جو پہلا لفظ پکارا وہ ماں تھا۔۔۔۔ ” امی۔۔۔۔۔ ” اس کے گلے میں کانٹے سے چُب رہے تھے گلا خشک ہو چکا تھا جبکہ ہاتھ میں سوئی کی چُبن سے عجیب سی خُھجلی محسوس ہو رہی تھی اس کے ہاتھوں میں ڈرپ لگی تھی جسے وہ چاہ کر بھی نکال نہیں پا رہا تھا اس کا دل چاہ رہا تھا کوئی اس کا ہاتھ کُھجا کر اسے سکون پہنچائے۔۔۔۔ لفظ ” امی ” سن کر شگفتہ کو اپنے معصوم بیٹے پر بےحد پیار آیا دل چاہ رہا تھا اس کی ایسی حالت دیکھ کر بس نہ چلتا پٹیوں میں جکڑے اپنے بیٹے کو آزاد کردے سے کھلی فضا میں سانس لینے دے۔۔۔ وہ اس کے پاس آکر اس کا سر سہلا رہی تھیں اسے پیار سے بہلا رہیں تھیں وہ امی پکارتا تو محبت سے اس کا جواب دیتیں۔ اس کے ہوش میں آتے ہی شاذ پہلے ہی زاکون اور ڈاکٹر کو لے آیا زاکون ڈاکٹر کے پاس ہی تھا جو آریز کے متعلق زاکون کو ہدایت دے رہے تھے آریز کو ہوش میں آتا دیکھ ڈاکٹر نے اس کا پورے طریقے سے چیک اپ کیا تقریباً ایک دو گھنٹے بعد جا کر ڈاکٹر نے اس کا آکسیجن ماسک ہٹایا زاکون نے اسے بیڈ پر تھوڑا اوپر کر کے بیٹھنے کے انداز میں لیٹایا اس طرح وہ خود کو تھوڑا ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔۔ ” اس عمر میں میری جان لے رہے ہو ویسے ہی دل دن با دن کمزور ہوتا جاتا ہے ” شگفتہ نے شکوہ کیا جب کے آریز خاموش رہا بس خالی نظروں سے دروازے کو دیکھ رہا تھا۔ وہ شاید اس وقت بولنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔۔۔۔ سب باری باری بول رہے تھے لیکن اُسے تو چُپ لگی تھی بس کبھی زمین کو دیکھتا تو کبھی سامنے۔۔۔۔۔۔ تبھی دروازہ پُش کر کے جو ہستی اندر داخل ہوئی اسے دیکھ کر آریز دنگ رہ گیا۔۔۔. ” آپ؟؟؟؟ ” عزاہ کی ماں نفیسہ کو دیکھ کر وہ حیرت زدہ رہ گیا۔ یہی نہیں انکے پیچھے آنے والی ہستی حیران کن تھی کوئی مولوی تھے پھر کمرے میں آریز داخل ہوا اور آخر میں مایل کے ساتھ ” عزاہ رحمان ” وہ خالی خالی نظروں سے سب کو دیکھ رہا تھا عزاہ کو مایل نے وہاں رکھے ایک صوفہ پر بٹھایا پھر کمرے میں جو آواز گونجی اسے سُن کر شدید دھچکا لگا۔۔۔۔ ” آریز ولد حیدر مرتضیٰ آپ کا نکاح عزاہ ولد حبیب رحمان سے حق مہر دو لاکھ طے کیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے؟؟؟؟؟ ” اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا کوئی خواب تھا؟؟؟ کوئی چھلاوا تھا؟؟؟؟ کیا یہ لوگ اسِکا مذاق اڑا رہے تھے؟؟؟ ایسے کیسے ہو سکتا ہے؟؟؟ آٹھ پورے آٹھ سال وہ تڑپا تھا اس پل کے لئے اس لمحے کے لئے جو آج اسکی ایک بیماری نے اسے دیدیا۔۔۔۔ وہ نڈھال ہوگیا خود کو بلکل ڈھیلا چھوڑدیا تب حیدر مرتضیٰ آئے جنہوں نے اسکا ہاتھ تھام کر اسے سہلایا اُسی جگا جہاں ڈرپ کی وجہ سے اسے چُبن ہو رہی تھی۔ زاکون نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا آریز نے اسے دیکھا تو زاکون نے پلکیں گڑا کر اسے ” ہاں ” کہنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔۔ ” قبول ہے ” لفظ پھر دھڑائے گئے۔۔۔ پھر یہی جواب ملا ” قبول ہے۔۔۔ ” ” قبول ہے۔۔۔۔۔۔ ” ” عزاہ ولد حبیب رحمان آپ کا نکاح آریز ولد حیدر مرتضیٰ سے حق مہر دو لاکھ طے کیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے؟؟؟؟؟ ” قبول ہے ” ” قبول ہے ” ” قبول ” آریز کو لگا وہ کبھی سانس نہیں لے پائے گا اسکا دل بھر آرہا تھا سانس سینے میں اٹک رہا تھا۔ وہ ٹیک لگا کر لیٹ گیا اس نے ” پروا ” نہیں کی وہاں کون کون تھا؟؟؟؟ اسکا اپنا دکھ ہر انسان کے ” دکھ ” سے بڑھ کر تھا۔۔ وہ سوچتا تھا اسکے ” بنا ” مر جائے گا اور آج جب وہ ” مرنے ” کے قریب تھا وہ آگئی اس کے ” نام ” ہوکر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر یہ خواب ہے تو کاش وہ یہیں رہ جائے۔۔۔ اگر چھلاوا ہے تو کاش وہ اسی میں قید رہے۔۔ اگر حقیقت ہے تو وہ بار بار اسی حقیقت میں جینا چاہتا ہے یہیں اپنی آنکھیں کھولنا چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔ میں شاعر تو نہیں مگر اس انتظار میں نجانے کتنی شاعری کر ڈالی؟؟؟؟؟؟ کاش الفاظ بن کر میرے ہونٹوں پر ساری زندگی رہو۔۔ کاش دھڑکن بن کر بس اس دل میں دھڑکتی رہو۔۔۔۔ نرم لمس پاکڑ جیسے وہ سرشار ہوگیا وہ آنکھ کے کناروں سے بہتے آنسوں صاف کر رہیں تھیں پھر وہ جھکیں تھیں اور محبت بھرا لمس آریز کی پیشانی پر چھوڑا۔۔۔ وہ ماں تھیں اسکی ” ماں ” جو اسکے غم اسکی خوشی میں اسکے ساتھ رو رہیں تھیں۔۔۔۔ ۔……….……………….……….
