66.2K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

مکرم علی کو فرزانہ نے بی پی کی دوائی دی جس سے انکی طبیعت تھوڑی بہتر ہوئی جبکے حاوز عینا کو اپنے کمرے میں جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔۔ اسکی نظریں بس اُسی پر تھیں۔۔۔۔۔۔
” تھنک یو حاوز سلیمان کن لفظوں میں شکریہ ادا کروں؟؟ ” مکرم علی نے سینے کو مسلتے گہرا سانس لیتے کہا۔۔۔۔
” اُسکی ضرورت نہیں!!! خیر مسٹر مکرم علی یہ ناٹک وہ کسی ” وجہ ” سے کر رہی تھی انگیجمنٹ اسکا ریزن نہیں آئی ایم شیور اور میرے خیال سے یہ سوچنے والی بات
ہے ” وہ اپنے تہے باپ بیٹی کے دل سے بدگمانی دور کر رہا تھا مگر وہ یہ بھی تو نہیں جانتا تھا کہ ان دونوں کے تعلقات کیسے ہیں؟؟؟ کیونکہ اب تک وہ جو سمجھا ہے اسے یہی لگ رہا ہے کہیں نہ کہیں ماں باپ کی بھی غلطی ہے۔۔۔۔۔۔
” اسکی عقل ٹھکانے لگائیں گئے۔۔۔۔ ” فرزانہ کے ایک جملے نے جیسے بات ہی ختم کر دی حاوز بس اس میاں بیوی کو دیکھتا رہا پھر وہ ان سے الودی کلامت کہتے گھر سے باہر نکلا۔۔۔۔
وہ کار میں آبیٹھا دن بھر کی تھکن کے بعد اسے شدید نیند آرہی تھی لیکن کار ڈرائیو کرتے ہوئے ابھی بھی اس کی سوچوں کا مرکز بس وہ لڑکی ہے جس کی آنکھوں میں حاوز سلیمان نے نمی دیکھی تھی پتا نہیں کیا تھا پہلی بار زندگی میں اسے کسی بات پر افسوس ہوا تھا شاید اُسے یہ سب نہیں کرنا چاہیے تھا وہ اب بھی وجہ نہیں جانتا آخر اس لڑکی نے اپنے ساتھ ہی ایسا کیوں کیا؟؟؟؟
اسے بدنامی کا ڈر نہیں تھا کیا؟؟؟اُسے نہیں معلوم تھا اس سے اُس کی عزت پر بھی بات آئے گی کریکٹر پر بات آئے گی۔۔۔۔ شاید اس ایک غلطی کی وجہ سے اُس کی ساری زندگی برباد ہو سکتی ہے آخر کون لڑکا ایسی لڑکی سے شادی کرنا چاہے گا؟؟؟ وہ انہی سوچوں میں تھا جب اچانک سے اس کی کار کے آگے ایک ریڈ کلر کی کار آ رُکی حاوز نے ابرو اچکا کے اس بندے کی حرکت دیکھی رات کے اندھیرے میں وہ اس کا چہرہ تو نہ دیکھ سگا تھا مگر یہ حرکت اسے ناگوار گزری تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
کار کی لائٹ سے بھی وہ اس کا چہرہ نہیں دیکھ سگا تھا کیونکہ شیشے بلیک تھے۔۔۔۔
پر اِسے زیادہ سوچنا نہیں پڑا کیونکہ عینا کار سے نکل کر باہر آکھڑی ہوئی۔ اس کے ہاتھ میں ایک بڑا سا ڈنڈا تھا تو کیا اب وہ اسے مارے گی؟؟؟؟
عینا نفرت بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ حاوز کار سے نکل کر باہر آیا عینا عین اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی حاوز سلیمان کبھی بھی اسکی نفرت بھری انکھوں کو بھول نہیں سکتا جو اسے دیکھ رہی تھیں بس نہ چلتا وہ اس شخص کو زندہ آگ میں جلا ڈالے۔۔۔۔۔
” بہت شوق ہے نا ڈاکٹر دوسروں کے کاموں میں ٹانگ اڑانے کا؟؟؟؟ خود کو تم افلاطون کی اولاد سمجھتے ہو تمہیں میں ابھی بتاتی ہوں۔۔۔۔ ” شدید غصے سے کہتے اس نے وہ ڈنڈا زور سے اس کی کار کے فرنٹ (ونڈ شیلڈ) شیشے پر دے مارا جس سے وہ شیشہ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوگیا وہ رکی نہیں تھی بلکہ کار کے چاروں شیشوں کو وہ توڑ رہی تھی۔ حاوز عینا کی کار سے ٹیک لگائے اسکی کاروائی دیکھ رہا تھا۔
یہ کوئی پہلی مرتبا نہیں تھا وہ ایسے کافی کیسز ہینڈل کر چکا ہے جس میں انسان غصے کی حد پار کرتا ہے اور عینا اس وقت صرف اپنی فرسٹریشن نکال رہی تھی جبکے حاوز سلیمان کو اس کی کاروائی سے واقعی کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا لیکن وہ جانتا ہے عینا کو اس بات پر بھی غصہ ہوگا کہ وہ اتنا پُرسکون کیسے ہے جو بات ہے لڑکوں کو سب سے زیادہ عزیز اس کی کار ہوتی ہے یہ بات وہاں کھڑے دونوں ” نقوش ” اچھے سے جانتے تھے۔۔۔۔۔۔
” غصّہ کم ہوا؟؟؟ ” وہ جب آخری شیشہ توڑ کر پیچھے ہٹی تو حاوز سلیمان قدم اٹھاتا اس کی جانب آیا اور اس کے پیچھے آن کھڑا ہوا اچانک سے اپنے یہ پیچھے آواز سن کر وہ چونکی ضرور تھی کیونکہ وہ اس کے بے حد قریب کھڑا تھا۔۔۔ نجانے کب وہ اتنا نزدیک چلا آیا۔۔۔۔
عینا ایک جھٹکے سے پیچھے مُڑی جس سے عینا کے کھلے بال حاوز سلیمان کے چہرے پر پڑے جس سے ہلکی سی تکلیف ہوئی تھی۔ کیونکہ بال بے حد گھنے تھے اور کرل تھے جس سے چہرے پر تھپڑ جتنا فرق پڑا تھا۔۔۔۔۔
” یہ میرے کام میں دخل اندازی کا جواب تھا!!! مگر جو تھپڑ ڈیڈ سے پڑا ہے اسکا وہ بدلہ لونگی کے تمہاری سات نسلیں یاد رکھیں گی۔۔ اور ہاں میری تکلیف کا اندازہ تمہیں ہوجائے گا جب سیٹ پر بیٹھو گئے ” اس کا اشارہ شیشوں کے ٹکڑوں پر تھا جو آگے فرینٹ سیٹ پر پڑے تھے۔ حاوز آگر وہاں بیٹھتا تو دوبارہ بیٹھنے لائق نہیں رہتا۔۔
عینا اسکی آنکھوں میں دیکھتی سرد مہری سے کہتی وہ ڈنڈا وہیں پھینک کر اپنی کار میں آ بیٹھی اور اسکی آنکھوں کے سامنے اسکی نظروں سے اوجھل ہوئی حاوز سلیمان کو آج یہ اندھیرا بےحد پسند آیا جس نے عینا کو اسکی حرکت کی خبر تک ہونے نہیں دی۔۔۔۔۔۔
وہ دھول اڑاتی اسکی کار کو دیکھتے خوش دلی سے مسکرایا اور اپنی جیب سے فون نکال کر زریق کو کال کرنے لگا۔۔۔
………..………..………..….۔ اسکی آنکھیں بار بار دھندھلا رہیں تھیں سامنے کا منظر صاف ہوکر پھر دھندھلا جاتا۔ وہ صدیق صاحب کو ہوسپٹل سے لیکر نکل چکا تھا اور جلد سے جلد گھر پہنچنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔ ” آریز تم ٹھیک ہو؟؟ تمہاری آنکھیں۔۔۔ ” صدیق صاحب کار میں بیٹھے بس اِسکی آنکھوں کا وہ کونا دیکھ سگے جہاں سے لگ رہا تھا پانی بہ رہا ہے اسکی پلکیں بھی نم لگ رہیں تھیں۔۔۔۔۔۔ ” تایا ابو آج کل آئی انفیکشن پھیلا ہوا ہے شاید وہی ہو رہا ہے۔۔۔۔ آنکھوں کا برا حال ہے۔۔۔۔۔ ” خود سے بات بنا کر وہ مسکرایا تایا ابو مطمئن ہوئے تھے تبھی سیٹ کی پُشت سے سر ٹکا گئے۔۔۔ ” ہاں ڈاکٹر جو بینڈیج کر رہا تھا اُسے بھی انفیکشن لگا ہوا تھا۔۔۔ خیر تم آئی ڈراپس لیتے چلو ” وہ اسے مشورہ دے رہے تھے۔۔۔۔۔۔ ” وہ گھر میں موجود ہیں ” آریز نے اسپیڈ بڑھا لی گھر بس پانچ منٹ کی دوری پر تھا۔ ” ہم ” انہوں نے ہنکار بھرا۔۔۔ وہ خود گھر جاکر چیخنا چاہتا تھا چلانا چاہتا تھا۔۔ لگ رہا تھا جیسے دل غم سے پھٹ جائے گا۔۔ کوئی لڑکی اتنی بےحس اتنی شکی کیسے ہو سکتی ہے؟؟؟؟؟آج نجانے کیوں پچھتاوا ہو رہا تھا زندگی کے سال بس اُس بےحس کے لئے گنواہ دیے؟؟؟؟ گھر پہنچتے ہی اس نے احتیاط سے صدیق صاحب کو کار سے نکالا انکی حالت دیکھ کر گھر کا ہر فرد اپنا کام چھوڑ کر انکے پاس آیا۔ شاذ جو گھر لوٹا تھا باپ کا سن کر ان سے ملنے کے بعد پیشمان سا جاکر آریز کے سامنے کھڑا ہوا۔۔۔۔ ………..………..………..…… ” بھائی۔۔۔۔۔ ” پہلے دفع وہ آریز کے سامنے کھڑا ڈرا ہوا تھا۔ اسکا کمزور لہجہ بھی آریز کا دیہان عزاہ کی باتوں سے نہ ہٹا سگا۔ وہ اُسی کی سوچوں میں گم تھا۔۔۔۔ شاذ کے ماتھے پر پسینے کی ننی بوندیں نمودار ہوئیں اِسکے ہاتھ کانپ رہے تھے انجانے میں وہ اپنے بھائی کو ” تباہ ” کر چکا ہے اگر وہ حرکت نہ کرتا تو آج شاید وہ ” انگیجڈ ” تو نہ ہوتی۔۔۔۔۔۔ آریز سیدھا بیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔۔ آنکھوں پر بازو رکھا ہوا تھا۔۔۔۔۔ ” بھائی۔۔۔ ” شاذ نے ایک بار پھر کوشش کی آریز جو جوتوں سمیت بیڈ پر لیٹا تھا اِسکے وجود میں ہلچل پیدا ہوئی بازوں آنکھوں سے ہٹا کر مندی مندی آنکھیں کھولیں اچانک سے آنکھوں پر روشنی پڑنے سے ایک پل کو سر پھٹتا ہوا محسوس ہوا اگلے ہی لمحے درد غائب تھا۔۔۔۔ ” میری طبیعت ٹھیک نہیں۔۔۔۔۔۔ ” صاف مطلب تھا وہ یہاں سے چلا جائے۔ شاذ کے گلے میں گلٹی سی ابھری آریز کا ردِ عمل سوچ کر ہی اسکے پسینے چھوٹ رہے تھے کیوں کے وہ ” عزاہ ” کے معملے میں بہت ” سینیسٹو ” تھا۔۔ ” آپ کی اداسی کی ” وجہ ” عزاہ۔۔۔۔۔۔۔ ” لفظ زبان سے ادا ہونے سے پہلے اِس نے دیکھا آریز کی آنکھیں پوری کھل گئیں مگر وہ آج بہت کمزور لگ رہا تھا اُس میں شاید ہمت نہیں تھی لڑنے کی تبھی وہ اٹھا نہیں ویسے ہی بیٹھا رہا۔۔۔ ” اکیلا چھوڑدو۔۔۔۔ ” لہجہ کمزور تھا، آنکھوں میں التجا آج وہ بےحد بےبس لگ رہا تھا۔ شاز کے دل کو کچھ ہوا جس سے اتنی ” نفرت ” کی آج اُسی کی حالت پر دل پھٹ رہا تھا۔۔۔۔ ” مجھے معاف کردیں!!!! میں اب تک دھوکے میں تھا۔۔ ” وہ گھٹنوں کے بل اِسکے سامنے بیٹھ گیا جبکے آریز اِسکی حرکت پر اُٹھ کر بیٹھ گیا وہ آنکھیں سیکوڑ کر اسے دیکھ رہا تھا شاید کمزوری کی وجہ سے اِس پر نیند غالب آگئی تھی۔ تبھی یہ روشنی آنکھوں کو چُب رہی تھی۔۔۔۔۔۔ ” عزاہ کی بہن جاسمین نے اُسے ” بدزہن ” کیا ہے!!!!میرے عمل ” نے بھی۔۔۔۔ ” آریز کی سرخ آنکھیں شاذ پر ٹھر سی گئیں وہ اِسکی زبان سے ادا ہونے والے الفاظوں کا بےصبری سے منتظر تھا۔۔۔۔۔۔ ” آپ نے صفدر سے وہ کانٹریک ریڈی کروایا تھا۔ اُسکے سائن کرنے سے ایک دن پہلے میں نے عزاہ کو پورے کانٹریک کی پیکچرز بھیجیں صفدر اور آپ کی بات سنی تھی یہی ایک موقع لگا جس سے بدلہ۔۔۔۔۔۔۔ ” وہ آریز کی خون ٹپکاتی آنکھوں کو دیکھ رہا تھا۔ جو غم و غصے سے اِسے دیکھ رہیں تھیں۔ وہ ضبط کی انتہا پر تھا۔ کسی نے نہیں سوچا تھا ” اس شخص ” کی خاموشی ایسا قہر لائے گی۔ وہ انگاروں میں جلس رہا تھا کسی بھوکے شیر کی طرح وہ سیدھا بیٹھا ایسے کے اسکا چہرہ شاز کی طرف تھا شاذ نے اپنے ہاتھ جوڑ دیے۔۔۔۔۔ ” مجھے معاف کردیں میں جاسمین کی باتوں۔۔۔۔۔ ” مگر آریز اس کی سن کہاں رہا تھا؟؟؟ پاؤں سمیت بوٹ آریز نے زور سے شاز کے سینے پر دے مارا وہ کراہ اٹھا۔ وار اتنی زور کا تھا وہ گڑتے ہی زمین پر لیٹ گیا آریز پر تو آج جنون سوار تھا وہ اٹھا پے در پے تھپڑ مُقے اسکے چہرہ پر مارتا گیا۔۔۔ ” ب۔۔۔بھ۔۔۔۔بھائی۔۔۔۔۔۔ م۔۔۔۔۔ ” وہ اندھا دھند جانوروں کی طرح اس پر وار پر وار کر رہا تھا۔۔ اِسکا ہاتھ نہیں رُک رہا تھا اِسے مارتے وہ خود بھی رو رہا تھا۔اسکی آنکھیں برس رہیں تھیں۔۔۔۔۔۔ ” کیا قصور ہے میرا جو تم سب نے مجھے پاگل کیا ہے؟؟ ہاں بتاؤ کس گناہ کی سزا دی ہے؟؟؟؟ ” وہ چیخ رہا تھا۔ گلے سے ابھرتی نسیں اس بات کی گنواہ تھیں۔ مارتے مارتے وہ اسے کمرے کے باہر لے آیا وہ اسے لاتوں سے مار رہا تھا۔ شاذ اد مواہ ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔ ” بولو۔۔۔۔۔۔۔ ” اس بار چیخ اتنی بلند تھی کے اسکے سر میں شدید درد کی ایک لہر اٹھی جو دیکھتے دیکھتے اسکے پورے دماغ پر حاوی ہوگئی۔۔۔۔۔ وہ دونوں ہاتھوں سے سر پکڑے بند ہوتی آنکھوں کو بامشکل کھول رہا تھا۔ ” آااااااااا ” درد کی وجہ سے اسکی چیخیں نکل رہیں تھیں۔ آبی اپنے بھائی کی ایسی حالت دیکھ سہما سا دیوار سے لگ کر کھڑا ہوگیا جہاں ابھی کچھ سیکنڈ پہلے وہ سیلفیاں لے رہا تھا موبائل تک ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر جا گڑا۔ شاذ کی آنکھیں مار کی وجہ سے بند تھیں ایک آنکھ تو سوج تک چُکی تھی جب اُسنے زور دے کر آنکھیں کھولیں تو آریز کی حالت دیکھ کر خود ڈر گیا۔۔ آریز کی چیخیں سن کر گھر کی خواتین کچن سے تقریباً دوڑتی ہوئی آئیں۔۔ شگفتہ نے دل تھام لیا آریز بےہوش زمین پر پڑا تھا۔۔۔ ” آررریز۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہوا میرے بیٹے کو؟؟؟ ” شگفتہ شاذ سے پوچھ رہیں تھیں جو خود حواس بختہ تھا۔ وہ روتی ہوئیں اپنا ہاتھ آریز کی ناک کے پاس لے گئیں جہاں سے خون بہ رہا تھا سرخ خون تھوڑا سا شگفتہ کی انگلی پر جا لگا۔۔ ……….………..………..…… ” اسلام علیکم ” سلام کرتے ہوئے وہ انکے سامنے گردن جھکائے ہوئے تھا۔ وہ نہیں جانتا زونیشہ نے انہیں کیا کہا ہے مگر وہ تھا تو انکی بیٹی کا گہنگار جس نے نہ بیوی کی حیثیت دی نہ وہ درجہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” وعلیکم اسلام کیسی طبیعت ہے بیٹا؟؟ ” انہوں نے خوش دلی سے جواب دیا۔ سکندر خان (زونیشہ کے ابو) اس وقت المیر کے ساتھ لاؤنچ میں بیٹھے تھے۔۔۔۔۔۔ ” آپ کیسے ہیں؟؟ ” الٹا المیر نے ان سے پوچھا وہ کیا جواب دیتا اتنے دنوں سے انہیں پریشان کر کے وہ ” سکون ” میں تھا؟؟؟؟؟ ” الحمدللہ۔۔۔۔ ” انہوں نے ہنکار بھرا المیر پہلی دفع زندگی میں کسی کے سامنے شرمندہ ہو رہا تھا۔ عجیب سی کیفیت تھی بس دل چاہ رہا تھا کسی سے سامنا نہ ہو گھر میں آتے ساتھ بس زونیشہ کے کمرے میں پہنچ جائے کسی طرح۔۔۔۔۔۔ ” زونیشہ؟؟؟ ” صوفہ پر غیر مخصوص انداز میں بیٹھا وہ جیسے یہاں سے بھاگنے کی کوشش میں تھا۔۔۔۔۔۔۔ ” اپنے کمرے میں ہے ” سکندر خان اسکی ہر حرکت نوٹ کر رہے تھے اور دل میں اس بات پر پُرسکون تھے کے انکا داماد شرمندہ ہے۔ ورنہ تو جو شوہر بیویوں کو اس کے مائکے سے لینے آتے ہیں اُنکا سر تو جیسے فخر سے بلند ہوتا ہے، لہجہ سخت، نظریں ہر ایک کو احساس دلاتی ہیں کی بیٹی کو لے جا کر احسان کر رہا ہوں میاں بیوی میں اکثر جب جھگڑے ہوتے ہیں شوہر ہمیشہ ہی بیویوں پر رُعب جماتے ہیں لیکن آج المیر کو اس طرح شرمندہ دیکھ کر کہیں نہ کہیں وہ دل سے خوش تھے کہ ان کی بیٹی کا مقدر وہ شخص بنا ہے جو اپنی غلطی پر پیشمان ہوتا ہے۔۔۔۔ ” اجازت ہو تو۔۔۔۔۔ ” وہ جھجکا۔۔۔۔۔۔۔ ” میری اجازت کس لئے؟؟ بیوی ہے تمہاری۔۔ ” وہ اسکی بات کاٹ کر مسکراتے ہوئے بولے۔،۔۔۔۔ ” پہلے آپ کی بیٹی ہے۔۔۔ ” المیر کے جواب نے انکی روح میں سکون پھونک دیا۔ اکثر وہ سوچا کرتے تھے کہ بیٹیوں کی کیا غلطی ہے؟؟؟ جو ساری عمر تو پلی ماں باپ کے گھر ہوتی ہیں اور باپ کے گھر آنے کے لئے اجازت شوہر سے لیتی ہیں۔۔۔۔۔ ” جاؤ بیٹا تم مل لو ” انہوں نے سیڑھیوں کی جانب اشارہ کیا المیر ان کے گھر کبھی نہیں آیا تھا۔ اسلئے وہ خود اٹھ کر پھر المیر کو اسکے روم کے باہر چھوڑ گئے۔۔۔۔۔۔۔ ” زونیشہ۔۔۔۔۔۔۔ ” انکے جانے کے بعد وہ کمرے کا دروازہ کھولتے اسے پکارتا ہوا اندر داخل ہوا کمرہ خالی تھا کوئی نہیں تھا وہاں لیکن وہ جیسے آگے بڑھا۔ اِسے واش روم سے پانی گڑنے کی آواز آئی۔۔۔۔ المیر نے اندھیرے سے سوئچ بورڈ ڈھونڈ کر لائٹ آن کی تو کمرہ روشنی میں نہا گیا پر جیسے ہی اس کی نظر کمرے پر پڑی وہ حیران رہ گیا۔۔ گول بیڈ تھا جس کے ارد گرد چاروں طرف سے خوبصورت جالی کے نفیس جامنی کلر کے پردے لگے تھے جو گول بیڈ کو ڈھانپ رہے تھے کمرے کی دیواروں پر سفید اور جامنی کا پینٹ ہوا تھا۔۔ دیواریں سفید تھیں جس پہ جامنی کلر کی خوبصورت ڈیزائننگ کی ہوئی تھی۔۔۔ کھڑکی پر خوبصورت جامنی اور سفید کلر کے پردے لگے ہوئے تھے۔ کمرے کی چھت پر بھی خوبصورت ڈیزائنگ کی گئی تھی۔ الماری بڑی سی دیوار سے اٹیچ تھی جو اچھی خاصی دیوار کا آدھا حصہ لئے ہوئے تھی۔ ڈریسنگ ٹیبل بھی بیڈ اور الماری کی طرح سفید اور جامنی کلر کی تھی ایسے کے پوری سفید تھی مگر ڈیزائنگ جامنی کلر کی تھی شیشے کی چھت کو کور کرتی ڈریسینگ ٹیبل کی چھت پر بلبز لگے تھے۔ جو کے شاید اب میک اپ دیکھنے کے لئے لگائے جاتے ہیں۔۔۔۔ اس کی ڈریسنگ ٹیبل پر طرح طرح کے کاسمیٹکس پروڈکٹ رکھے ہوئے تھے۔ لپسٹک فیس پاؤڈر المیر تو کافی چیزوں کے نام تک نہیں جانتا تھا مگر آج اسے پہلی بار اس بات کا علم ہوا تھا کہ اس کی بیوی لڑکیوں والے پورے شوق رکھتی تھی ورنہ وہ تو سمجھتا تھا کہ زونیشہ صرف کتابوں کی حد تک محدود رہتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ المیر کی اچانک ہی نظر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے ایک فریم پر پڑی یہ تصویر فریم کس نے کرائی؟؟ شاید زونیشہ نے یہ ان کے نکاح کی تصویر تھی جو المیر کو بےانتہا خوبصورت لگی۔ یہ تصویر فوٹوگرافر نے اچانک ہی لی تھی جب المیر زونیشہ کے چہرے سے گھونگٹ اٹھا رہا تھا دونوں کی تصویر واضح تھی۔۔۔ بہت قریب سے لی گئی تھی زونیشہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی وہ المیر کی آنکھوں میں ہی دیکھ رہی تھی مگر اس فریم کو دیکھ کر جتنی خوشی المیر کو ہوئی تھی اتنا ہی دُکھ بھی تھا کیونکہ فریم کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا جو کسی نے ہٹایا بھی نہیں تھا نہ جانے یہ گِر کر ٹوٹا تھا یا جان کر کسی نے توڑا تھا؟؟؟ کہیں زو نیشہ نے تو؟؟؟ وہ اس سے ناراض بھی تو بہت تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ المیر اتنی دیر سے انتظار کر رہا تھا اور وہ ابھی تک واش روم سے نہیں نکلی تھی۔۔ المیر فریم کو وہیں پر رکھ کر واش روم کی طرف جانے لگا کہ اسے زمین پر نیچے کپڑے ملے جو لگ رہا تھا کسی نے اندر سے پھینکے ہیں۔۔ تبھی زونیشہ نے روم کا دروازہ بند کیا تھا المیر تو زونیشہ کی اس عادت سے واقف تک نہیں تھا کیا وہ اس سے اتنا بیگانہ تھا کہ وہ لڑکی ایک سال اس کے پاس رہی اور وہ اس کی کسی چیز سے واقف نہیں تھا یہاں تک کہ اس کی یہ کپڑے پھینکنے والی عادت سے۔۔۔۔ جو اکثر بچپن میں ہم کرتے تھے لیکن بڑے ہوتے ہی المیر نے بھی یہ عادت چھوڑ دی تھی اب وہ اپنے گندے کپڑے اندر ہی ہینگ کرتا تھا۔۔۔۔۔ وہ انہی سوچوں میں تھا کے یکدم باتھروم کا دروازہ کھلا المیر کی نظر سیدھی زونیشہ پر گئی جو حیرت سے المیر کو دیکھ رہی تھی۔ گیلے لمبے بال کمر تک آرھے تھے ہاتھوں میں گیلا ٹاول لیا ہوا تھا اور بےیقینی سے وہ المیر کو ہی تک رہی تھی۔ المیر نے جیسے ہی ایک قدم بڑھایا زونیشہ جیسے ہوش کی دنیا میں لوٹی ٹھاہ سے کپکپاتے ہاتھوں سے اس نے دروازہ بند کیا اور اسے اندر سے لاک کر لیا المیر کو زونیشہ کے ایسے ردِعمل کی ہرگز توقع نہیں تھی۔۔۔۔۔ ” کیا ساری زندگی واشروم میں رہو گی؟؟؟؟۔۔۔۔۔۔ ” وہ دروازے کے قریب چلا آیا نجانے کیوں اس کے عمل پر المیر کو ہنسی آرہی تھی وہ واقعی بچوں جیسی سوچ رکھتی ہے چھوٹا دماغ ہے اُسکا۔۔۔۔۔۔۔ ” ایک دفع مجھے سن لو!!!! تمہارے ساتھ کوئی زبردستی نہیں ہوگی۔۔۔۔۔ ” المیر نے تھوڑا انتظار کرنے کے بعد دوبارہ کوشش کی لیکن اندر سے ایک سوئی تک کی آواز نہیں آئی۔۔۔ ” زونیشہ۔۔۔۔۔ ” اب کی بار آواز میں سختی در آئی زونیشہ کانپ کے رہ گئی۔ چہرے پر سرخی مزید بڑھ گئی۔ وہ دروازے سے پیٹ لگاے کھڑی تھی۔۔۔۔۔۔ ” زونیشہ؟؟؟ سن رہی ہو؟؟؟؟ ” اسے غصّہ آرہا تھا وہ اسکی ایک بات تک نہیں سن رہی تھی نہ جواب دے رہی تھی۔۔۔۔۔۔ ” اتنی ” ضد ” اچھی نہیں زونیشہ ” وہ جیسے ضبط کھو کر بےبس ہوچکا تھا۔ زونیشہ کی ایک ہلکی سی آواز تک نہیں آرہی تھی یہی بات المیر کو غصہ دلا رہی تھی کیا اب وہ اس قابل نہیں رہا کہ زوینشہ اس سے شکوہ تک کرے؟؟؟ پورے پچیس منٹ ہوچکے تھے مگر وہ باتھ روم سے نہ نکلی المیر سمجھ گیا اگر وہ پوری رات یہاں کھڑا رہا تو زونیشہ بھی دروازہ نہیں کھولے گی اور اندر آخر کب تک وہ گھٹ گھٹ کر رہے گی؟؟؟ المیر خود ہی اسکے خاطر جانے لگا کے اسکا فون بج اٹھا۔۔۔۔۔۔۔ ……….………..………..……. شاذ نے جلدی المیر کو کال کی وہ زونیشہ کے گھر ہی تھا فوراً بھاگتا ہوا یہاں آیا تھا المیر اور شاذ نے آریز کو اٹھا کر کار میں بٹھایا آریز کے ناک اور منہ سے خون بہ رہا تھا جو اِسنے ڈش بورڈ پر پڑے ٹیشو سے صاف کیا۔۔۔۔ کار میں خاموشی تھی اس وقت دونوں کا دماغ سُن ہوچکا تھا شاذ سوچ رہا تھا آج تک اِس نے جتنی بدتمیزی کی آج آریز نے اُسکا بدلہ لےلیا اپنی ایسی حالت کر کے اُسے پروا نہیں تھا وہ ” بھائی ” تھا اُسکا۔۔ بڑا بھائی۔۔ وہ چاہے اِسے ڈنڈوں سے مارے لیکن اس طرح خود خاموش ہوکر اُسے ” خاموشی ” کی مار نہ مارے اِسے اپنے بھائی سے کتنی محبت تھی۔۔۔۔ وہ صرف ایک گھٹیا عورت کی باتوں میں آگیا تھا اِسکی آنکھوں سے یکدم پانی جھلکنے لگا بامشکل خود کو کنٹرول کرتے بس وہ آریز کے لئے دعا کر رہا تھا بس ایک بار وہ ٹھیک ہوجاے وہ خود ” عزاہ ” کو لے آئے گا عزاہ کے پیڑ تک پڑ جائے گا ہر ممکن کوشش کریگا بس آریز ٹھیک ہوجاے۔۔۔۔ وہ ہسپتال پہنچے تو شاذ اور المیر کی چیخیں ہسپتال میں گونج رہیں تھیں المیر نے چیخ کر وارڈ بوائے کو بلایا جو اسٹریچر لے آیا شاذ نے ریسیپشنسٹ کو ڈاکٹر کو بلانے کا کہا۔۔۔ ” یہ آپ فارم فل کردیں ” شاذ نے وہ فارم دو ٹکروں میں پھاڑ دیا۔۔۔ ” ڈاکٹر کو بلاؤ ” وہ اتنی زور سے دھارا کے ریسیپشنسٹ کانپ کے رہ گئی۔ پاس سے گزرتے عباس نے جب آریز کو دیکھا تو صورت حال سمجھ گیا۔ جیب سے فون نکال کر اسنے کال ملائی اور اگلے تین منٹ میں نرسسز بھاگتی ہوئیں آئیں وہ اسٹریچر کو گھسیٹتے سب لفٹ کی طرف بھاگ رہے تھے شاذ الجھ کر رہ گیا اندازہ تھا یہ ضرور پاس کھڑے اِس شخص نے کیا ہے۔۔۔ ” آپ؟؟ ” وہ انہیں بلو اسکریب میں دیکھ کر پوچھ بیٹھا۔۔۔۔ ضرور وہ یہاں کام کرتے تھے۔۔۔۔ ” آپ کے بھائی زاکون حیدر مجھے اچھے سے جانتے ہیں!!! اینی ویز وہ ففتھ فلور پر لے جا رہے ہیں وہاں ڈاکٹرز ہیں سب سیٹ ہے!!! بس دعا کریں۔۔۔ ” وہ شاذ کو تسلی دیکر خود موبائل میں مصروف ہوگئے المیر جب آیا تو عباس نے اسے سلام کیا کیوں کے وہ المیر کو جانتا تھا اکثر وہ زاکون سے ملنے یہاں آیا کرتا تھا۔جبکے عباس ایک ہاتھ سے ہاتھ ملاتا دوسرے سے فون کان پر لگائے تھا وہ مسلسل زاکون کا نمبر ٹرائے کر رہا تھا۔۔۔۔۔ ” شاذ آریز کہاں ہے ڈاکٹر کو لے آیا ہوں ” ڈاکٹر المیر کے پیچھے ہی آرھے تھے۔ عباس نے ڈاکٹر کو دیکھتے فون واپس جیب میں رکھا اور انکے پاس جاکر ساری صورت حال سے آگاہ کیا۔۔۔ ” المیر انہیں وہیں لے جا رہا ہوں ” عباس المیر کو اطلا دیکر ڈاکٹر کو اپنے ساتھ لے گئے۔ المیر نے جیب سے فون نکالا پہلی کال اس نے حیدر مرتضیٰ کو کی تھی انھیں اطلا دیتے اسکی اپنی زبان لڑکھڑا رہی تھی۔۔۔ حیدر مرتضیٰ کے بعد المیر نے زاکون کو کال کی مگر اُسکا فون ہی بند تھا۔۔ وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا پریشانی سے ہسپتال کے کوریڈور میں چکر کاٹ رہا تھا شاز کا ذہن تو سن ہو چکا تھا نجانے آگے کیا ہونے والا تھا کیا وہ بچیں گئے؟؟؟؟ بار بار خطرناک سوچیں اسکا ذھن مفلوج کر رہیں تھیں۔۔۔۔ المیر نے کچھ سوچ کر زریق کو کال کی۔۔۔ ” سلام زریق؟؟ آریز کی اچانک طبیعت بیگڑ گئی ہے۔ ہم اسے لیکر ہسپتال آئے ہیں۔ تم بس چچی لوگوں کو لے آؤ گھر میں کوئی انھیں یہاں لانے والا نہیں۔۔۔ ہاں۔۔۔ ہاں ٹھیک ہے ہسپتال کا نام میڈیکیر ہے۔۔۔۔۔ ” فون رکھتے ہی المیر کی نظر شاذ پر پڑی۔۔۔ ” یہ کیسے ہوا۔۔۔ ” شاذ جو سوچوں میں الجھا تھا چونک اٹھا اپنے بھائی کے پاس آکر وہ ان سے گلے لگ گیا۔۔۔ ” آریز بھائی میری وجہ سے اس حالت میں ہیں۔۔۔ انھیں کچھ ہوگیا تو؟؟؟؟؟ ” اِسکی آواز رندھی ہوئی تھی۔ پھر وہ المیر کو سب بتاتا گیا جیسے جیسے وہ سنتا جا رہا تھا اسکی رگیں تن گئیں شاذ کو اگر اِس وقت پچھتاوا نہ ہوتا تو المیر اُسکا حشر نشر کردیتا۔۔۔ تھوڑی دیر بعد زریق گھر کی سب عورتوں کو وہاں لے آیا۔ وہاں سب تھے سوائے صدیق صاحب آبی اور مایل کے المیر نے دونوں کا زریق سے پوچھا۔۔۔۔۔ ” مایل کو کچھ دیر میں لیکر آتا ہوں۔۔۔ باقی آبی آپ کی ساس کے گھر ہے ” المیر نے سکون کا سانس لیا۔ تائی کی حالت خراب تھی وہ بےحوش کی حالت میں بھی لگ رہا تھا سسک رہیں تھیں صالحہ انہیں دلاسے دے رہی تھی۔۔۔۔۔ ………..………..………..…… حیدر مرتضیٰ کی خاموشی المیر اور شاذ کو پریشانی میں مبتلا کر رہی تھی۔۔ وہ خاموشی سے دونوں ہاتھوں کو آپس میں جوڑے بھینچ پر بیٹھے تھے۔۔۔۔۔۔ اِس وقت وہی وہاں سب سے بڑے تھے۔ صدیق صاحب تو دواؤں کے زیرِ اثر گھر میں سوئے ہوئے تھے انھیں ابھی اطلا نہیں کیا گیا تھا۔ وہاں انکے ساتھ نجمہ بیغم تھیں جو بار بار کال کر کے صورتِ حال پوچھ رہیں تھیں۔۔۔ زاکون حیدر بھاگتا ہوا کوریڈور میں آیا۔ اسے آتا دیکھ المیر بھی لمبے لمبے ڈگ بھرتا اسکی طرف آیا۔۔ ” المیر آریز؟؟؟؟ ” اسکی سانسیں پھول رہیں تھیں، لہجے میں بےتابی تھی۔ ” زکی تایا ابو کو سنمبھالو کب سے خاموش ہیں۔۔ آریز ابھی اندر ہے۔۔۔۔۔ ” المیر کو حیدر مرتضیٰ کی فکر کھاۓ جا رہی تھی آخر ایک وہی انسان تو ہیں جنہوں نے سب کو جوڑے رکھا ہے۔ آج تک بچوں میں فرق نہیں کیا۔ سب کچھ سنبھالا ہے۔ سب کو ” ایک ” کیا ہے وہی آج اپنی چُپی سے خوف دلا رہے ہیں۔۔۔۔۔ زاکون دھیمی چال چلتا عین انکے سامنے آگیا گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اس نے اپنے دونوں ہاتھ انکے گھٹنوں پر رکھے۔۔۔۔۔ ” بابا۔۔۔۔۔۔ ” برسوں کی پیاس تھی اسکے لہجے میں لفظ ادا کرتے آنکھیں تک پانیوں سے بھرتی گئیں۔ حیدر مرتضیٰ نے جھکی نظریں اوپر کو اٹھائیں کتنے عرصے بعد یہ خوبصورت لفظ سنا تھا زاکون نے دیکھا اُنکی آنکھیں سرخ ہو رہیں تھیں شاید وہ روئے ہیں؟؟؟ ” مجھے میرے دونوں بیٹے واپس چاہیے۔۔۔” زاکون اپنی نظریں نہ جھکا سگا حیرت و بےیقینی سے باپ کو دیکھے گیا کیا اسے معافی مل گئی؟؟؟؟ ” بابا ” وہ مرد پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا اپنا سر انکے گھٹنوں سے لگا کر وہ سسک رہا تھا۔ حیدر مرتضیٰ کے گلے میں گلٹی سی ابھری۔۔۔۔۔۔۔ ” مرنے والوں کے ساتھ مرا نہیں جاتا زکی۔۔۔۔۔” شفقت سے اسکے سر پر ہاتھ رکتے انہوں نے کہا زاکون مرنے کے قریب ہو رہا تھا۔ اتنی ہمت نہیں تھی کے یہ محبت برداشت کر سگے وہ تو انھیں کھو چکا تھا پھر آج کیسے قسمت اس پر مہربان ہوگئی؟؟؟؟۔۔۔۔۔۔ ” بابا۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے معاف کردیں۔۔۔۔۔ میں نے اُسے مار ڈالا۔۔۔۔ ” ” نہیں زکی!!! اُسکا وقت مقرر تھا۔۔۔ میرے بچے تمہارا قصور نہیں بس بہت سزا کاٹ لی۔۔۔۔۔ ” انہوں نے زکی کے بالوں میں ہاتھ پھیرا شاذ المیر اور صالحہ انھیں ہی دیکھ رہے تھے ہر چہرے پر مسکان تھی مگر صالحہ حساس تھیں بچوں کے معملے میں زکی کی تنہایوں کی گواہ ہیں وہ۔۔۔۔۔ وہ ہونٹوں پر دوپٹا رکھے خود کو رونے سے روک رہیں تھیں۔۔۔ زکی جب خوب رو کر دل ہلکا کر چکا تو حیدر مرتضیٰ کی بھاری آواز نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔۔۔۔۔ ” دعا کرو زکی آریز بس ٹھیک ہوجائے!!! جوان بھائی کھو چکا ہوں۔ جوان بیٹی بھی اب ان ہڈیوں میں طاقت نہیں۔۔۔۔ آریز کو کچھ ہوا تو۔۔۔۔۔۔ میرا دل بھی دھڑکنا بھول جائے گا۔۔۔۔ ” ” نہیں بابا!!!!! ” وہ تڑپ اٹھا۔۔۔ ” آریز کو کچھ نہیں ہونے دونگا کچھ بھی نہیں ” حیدر مرتضیٰ نے اسکے سر پر بوسہ دیا۔ زاکون لمس پاکر جیسے دیوانہ ہو رہا تھا دل چاہ رہا تھا پھوٹ پھوٹ کر روۓ باپ کے سینے سے لگ کر موت بھی آجائے وہ بھی اسکے لئے رحمت ہے۔۔ کہتے ہیں باپ جنت کا دروازہ ہے ایک عرصے سے جس جنت سے محروم تھا آج اُسکی خوشبو پاکر وہ پاگل ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔ ” بابا!!!!!!۔۔۔۔ ” وہ سہ نہیں پا رہا تھا، یقین نہیں آرہا تھا، اتنی خوشیاں اسکے نصیب میں؟؟؟ حیدر مرتضیٰ نے زاکون کا بازو پکڑ کے اسے اٹھایا اور اسے اپنے سینے سے لگایا۔ وہ اِن کے کندھے پر چہرہ رکھے کتنے ہی پل سسکتا رہا ہوش تو تب آیا جب المیر نے آکر دونوں کو الگ کیا۔۔ ” زکی۔۔۔۔۔۔۔۔ آریز!!!!!۔۔۔ پلیز تم اندر جاکر دیکھو۔۔۔۔” وہ آنسوں بازؤں سے پونچھتے اٹھ کھڑا ہوا وہ جیسے ہی سیدھا مڑا کچھ قدم دور مومنہ کو کھڑے دیکھ چونک اٹھا وہ بھی اسے خود کو تکتا پاکر ڈر گئی اور تیزی سے مُڑ کر وہاں سے بھاگ گئی۔ حیدر مرتضیٰ پھر آنکھیں بند کر کے دونوں ہاتھ آپس میں ملائے ویسے ہی بیٹھے رہے۔۔۔۔ المیر نے دیکھا وہ ہاتھ کی انگلیوں میں کچھ پڑھ رہے تھے مگر کسی کو اپنی جانب متوجہ نہیں کرنا چاہتے تھے تبھی انداز ایسا تھا کے ہر کوئی اُن سے بےخبر یہاں سے گزر جائے بس نظروں کا مرکز وہ نہ بنیں ۔۔۔۔۔۔۔ جبکے زاکون بھاگتا ہوا اُسکے پیچھے گیا مگر درحقیقت نیچے جاکر وہ اپنے لاکر روم میں آگیا وہاں سے اپنا نرسنگ اسکرب اٹھا کر ڈریسنگ روم میں چینج کر کے وہ بھی بھاگتا ہوا اُس روم میں آگیا جہاں آریز زندگی و موت کے بیچ جھول رہا تھا۔۔۔ ……….………..………..……
ثمرین نے آکر سوئے ہوئے ارحم کو اٹھایا اُس وقت مایل گہری نیند میں تھی اُسے تو پتا ہی نہیں لگا کب ثمرین آکر اس کے پہلو سے ارحم کو اٹھا کر لے گئیں۔۔۔۔۔۔
وہ ارحم کو لے کر کچن میں چلی آئی ارحم کو شیلف پر بٹھا کر کیبنٹ سے چائے کا سامان نکالنے لگی پھر پتیلے میں فرج سے دودھ نکال کر اس میں چینی ڈالی اور گیس پر چڑھا دیا۔ تھوڑی دیر بعد تھوڑا پانی پتیلے میں ڈال کر اس میں چائے پتی ڈالی وہ چائے بنانے کے ساتھ ارحم سے کھیل بھی رہی تھی کبھی اسکی ناک کھینچتیں کبھی بازو پر ہاتھ سے دو انگلیوں کو کھڑا کر کے چلتیں جیسے کوئی چیز ارحم کے پاس آرہی ہو جس پر ارحم ہنسنے لگتا۔۔۔۔
چائے جیسے ہی اُبھلنے لگی ثمرین چائے چھانے کے بعد کپ میں ڈالنے لگی تبھی ارحم کی نظر کائونٹر پر رکھی چینی پر پڑی وہ اسکی طرف لپکا وہ چینی کو لینے کے لئے جیسے آگے بڑھا تو اسکا ہاتھ چینی تک نہیں پہنچا ارحم نے پھر کوشش کی وہ تھوڑا آگے ہوا اور گڑتے گڑتے یکدم پیچھے کو کھسکا اور وہیں وہ شلف سے اوندھے منہ جاکر زمین پر گڑا مایل کی چیخیں نکلیں وہ کروٹ بدل رہی تھی تاکے اپنے بیٹے کو بچا سگے لیکن وہ خود ڈر کے مارے گڑتی گڑتی بچی اسکی آنکھ کھل گئی خود کو بیڈ سے گڑتے پاکر وہ گھبرا گئی ایک ہاتھ زمین پر رکھ کے وہ خود کو بچائے ہوئی تھی اسکا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا ماتھے پر پسینے کی ننی بوندیں تھیں مگر ارحم؟؟؟ وہ کہاں گیا؟؟؟؟
مایل نے کوشش کر کے خود کو تھوڑا اوپر کیا جس سے وہ خود کو بچاتی اوپر بیڈ پر آگئی اُسی لیٹنے والی پوزیشن میں۔۔۔۔۔
مایل نے خوف کے مارے گردن موڑی ارحم کو دیکھنے کے لئے مگر اسے وہیں بستر پر دنیا جہاں سے بےخبر سوئے دیکھ مایل کی جان میں جان آئی۔۔۔۔۔
سینے پر ہاتھ رکھے اُس نے گہرا سانس لیا۔ دل تو چاہ رہا تھا ارحم کے سوئے وجود کو اٹھا کر اپنے سینے سے لگا لے مگر اس کی نیند کے خاطر بس وہ دور سے اُسے دیکھتی رہی۔۔۔۔
وہ خواب میں ہمیشہ وہی کیوں دیکھتی تھی جس کے بارے میں وہ سوچتی تھی یا جسے سننے کے بعد وہ بدگمان ہوجاتی۔۔۔۔۔
پہلے المیر اور زونیشہ کی باتیں وہ سمجھ کیوں نہ سگی کے وہ اُس وقت نیند سے بیدار ہوئی تھی وہ اِس کا خواب بھی ہو سکتا ہے ورنہ المیر اُس کے پاس دو دفعہ کیوں آتا؟؟
دوسری دفعہ بھی اُس نے خواب میں ہی زونیشہ اور المیر کو دیکھا تھا جب وہ المیر کو بتا رہی تھی کے مایل کریکٹر لیس ہے۔ ہر دفع بھانیک خواب تب آئیں ہیں جب وہ نیند سے جاگی ہے۔ مگر پہلے والے خواب میں زونیشہ المیر کے کان نہیں بھر رہی تھی کیونکہ مایل نے ایسا سوچا ہی نہیں تھا کہ زونیشہ المیر کو اس کے خلاف کر رہی ہے بلکہ وہ تو ان سوچوں میں تھی کہ المیر اور زونیشہ دونوں ساتھ ہیں اور ایسا ہی ہوا تھا مایل کے نکاح والی رات المیر خوش تھا جب زونیشہ پیچھے سے اُسکے پاس آئی۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ دوسری دفعہ میں اُسے لگا تھا شاید زریق اس سے المیر کو لے کر بھی کہیں نہ کہیں بدگمان ہے۔ مگر اس نے تو خواب میں دیکھا تھا کہ زونیشہ المیر کو مایل کے خلاف کر رہی ہے زندگی کتنی عجیب ہے کون سے پہلو کہاں جا کے جُڑ رہے ہیں اسے کوئی ہوش نہیں۔۔۔۔۔۔۔
پھر اس نے اپنے بیٹے کی موت باپ کے ہاتھوں سے دیکھ کر اس کو حقیقت مانا حالانکے اس وقت بھی وہ نیند سے بیدار ہوئی تھی اُسے یاد ہے وہ جس مرض میں مبتلا تھی اس میں بیٹھے بیٹھے بھی خواب آجاتے جن کو وہ مریض حقیقت مان لیتے ہیں لیکن شکر تھا وہ اتنی آگے نہیں بڑھی۔۔ کبھی بھی بیٹھے بیٹھے ان برے خوابوں کو نہیں سوچا یہ صرف اسے سوتے وقت ہی آتے ہیں اور کیوں آتے ہیں وہ اب تک انجان ہے اور آتے بھی اُن لوگوں کے بارے میں ہیں جن پر وہ جان چھڑکتی ہے جیسے اُس کا خود کا بیٹا ارحم جو اِس کی جان تھا اُس کی موت دیکھ کر تو وہ اپنے حواس تک کھو چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ابھی انہی سوچوں میں تھی کہ اچانک سے اس کا فون بج اُٹھا اور دوسری طرف کی خبر سن کر اس کی آنکھیں خوف سے پھیلتی چلی گئیں۔۔۔۔۔۔
وہ خواب اور اریز بھائی؟؟؟؟ میرے اللّه۔۔۔۔۔
مایل چہرہ ہاتھوں میں چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔۔۔۔۔