Wo Ajnabi by Yusra readelle50025 Episode 27
Rate this Novel
Episode 27
صدیق صحاب کے ساتھ آریز ایک پلاٹ دیکھ کر لوٹ رہا تھا۔ دونوں بس کار کے قریب پہنچنے والے تھے۔ آریز نے کار وہاں بنی دکانوں کے پاس ہی پارک کی تھی جہاں سے سائیڈ سے گاڑیاں گزر رہیں تھیں۔۔۔ اور وہ لوگ انہی گاڑیوں کی طرف سے گزرتے ہوئے کار کی طرف آرہے تھے کہ تبھی ایک کار ان کے پاس سے سپیڈ سے گزری جو کے صدیق صاحب کو ٹکر مار کے گئی جس سے وہ سیدھا زمین پر اوندھے منہ جا گرے۔۔یہ سب اتنا اچانک ہوا کے آریز صدیق صاحب کو وارن بھی نہ کر سگا وہ بھی لاعلم تھا کار سڑک کے اتنے پاس سے گزرے گی.۔۔۔
” تایا ابو ” آریز کی چیخ نکل گئی۔ وہ فوراً انھیں اٹھانے کے لئے جھکا۔۔۔۔۔۔۔
” تایا ابو اٹھیں!!! ” وہ انکو اٹھاتے ساتھ انکے کپڑوں سے مٹی صاف کر رہا تھا۔ پریشانی اسکے چہرے سے صاف جھلک رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
صدیق صاحب کو شاید ہاتھوں اور بازوں پر چوٹ لگی تھی ان کے چہرے سے انکی تکلیف عیاں تھی آریز نے ان کی آستینیں اوپر کیں تو اُسے زخم نظر آئے جس سے خون بھی رس رہا تھا چوٹ اتنی گہری نہیں تھی چھوٹی موٹی تھیں لیکن آریز ضد کر کے انہیں ہسپتال لے آیا۔ صدیق صاحب منع کرتے رہے لیکن اِس نے ایک نہ سنی۔۔۔۔
اس پرائیویٹ اسپتال میں بھی اس کی اچھی بھاگ دوڑ ہوگئی ڈاکٹر نے کچھ دوائیاں لکھ کر دیں جو آریز لے آیا اور ان کے لیے بینڈج بھی لے آیا جو ان پیشنٹ فارمیسی(Inpatient) میں ہی آریز کو مل گئی۔۔ ڈاکٹر اندر ان کی بینڈیج کر رہے تھے جبکہ آریز اب کوریڈور میں چکر لگا رہا تھا پہلے تو اس نے سوچا کہ گھر میں انفارم کرے پھر اس کے ذہن میں آیا کہ اتنی بڑی بات نہیں ہے اگر گھر میں بتا دیا تو سب پریشان ہوں گے اس لیے خاموشی ہی اس نے بہتر جانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوریڈور میں چکر لگاتے اس کی نظر سامنے ایک لڑکی پر پڑی نہ جانے کیوں وہ لڑکی آریز کو جانی پہچانی لگی اٹھنا،، بیٹھنا،، چلنا وہ اسے دیکھی دیکھی سی لگ رہی تھی۔۔۔۔ اس کا انداز اسے کسی کی یاد دلا رہا تھا دور سے چہرہ دھندلا تھا اسے وہ چہرہ ٹھیک سے دیکھائی نہیں دیا کیونکہ وہ لڑکی اس سے کافی دور تھی۔۔۔ یہ نہیں تھا کہ اس کی نظر کمزور ہے پر وہ لڑکی اتنی دور تھی اور کوریڈور اچھا خاصا لمبا تھا ایک ہی فلور کے ایک کوریڈور میں تقریباً سترہ کمرے تھے وہ قدم اٹھاتا اس لڑکی کی طرف بڑھ رہا تھا جیسے جیسے وہ قریب بڑھتا گیا اس چہرے سے پردہ اٹھتا گیا اور جیسے ہی اس نے عزاہ کو اپنے سامنے کھڑے پایا آریز کی سانسیں تھم گئیں کیونکہ عزاہ رحمان بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔
۔۔۔۔ ” وہ بےتابی سے اسکی طرف بڑھا اسے اپنے سامنے دیکھ وہ خوشی سے بس اُسے تکے جا رہا تھا۔ یہ آنکھیں اسکا زرہ زرہ حفظ کر رہیں تھیں آخر کیا تھا اس لڑکی میں جو آریز کا خود پر بس نہیں چلتا؟؟ وہ یہ تک بھول گیا یہ لڑکی دوسری بار اسے ٹھکرا کر روپروش ہوگئی تھی۔۔۔۔۔
” کیسی ہو تم؟؟؟ تمہیں پتا ہے کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا تمہیں؟؟؟؟ “
” ام۔۔۔۔۔۔امی۔۔۔۔۔ک۔۔۔۔۔کی۔۔۔۔۔ط۔۔۔۔۔۔طبیعت۔۔۔۔ ” وہ جو اسے دیکھ کر چونکی تھی یکدم ہی نڈھال ہوگئی جسم میں جان ہی باقی نہیں رہی تھی نجانے اسے کیا ہوا وہ آریز کے بازو پر سر رکھے بلکنے لگی۔۔۔۔۔
آریز نے اسکے پیٹھ پر ہاتھ رکھنا چاہا پر اسے عجیب لگا۔ شاید عزاہ ابھی تو ہوش میں نہیں مگر اُسے یہ حرکت ناگوار گزرے خود وہ بھی ہچکچا رہا تھا بس ” عزاہ ” کا کوئی اپنا انہیں دیکھ نہ لے آریز کی تو خیر ہے مرد ہے۔۔۔ دنیا انھیں ” نشانہ ” نہیں بناتی پر اِس ایک عمل سے لڑکی ساری زندگی ” بدنا ” الگ ہوتی ہے اور ” ٹارچر ” الگ۔۔۔
” عزاہ سنبھالو انھیں کچھ نہیں ہوگا!!!! اور بتاؤ ڈاکٹر کیا کہ رہے؟؟؟؟ ” وہ خاموشی سے بس روۓ جا رہی تھی آریز کو سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے؟؟؟
” عزاہ ” ایک بار پھر آریز نے اسے مخاطب کیا مگر وہ تو آج جیسے اسے سامنے پاکر اپنے سارے دکھوں کا حساب اس سے لینے آئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔!!!! حالنکے ہجر کے لمحے آریز نے کاٹے تھے۔۔۔۔۔۔
” عزاہ۔
” عزاہ نرس آرہی ہے ” عزاہ تیر کی تیزی سے آریز سے دور ہٹی چہرہ شرمندگی کے مارے جھک گیا۔ وہ آنسوں پونچھتے پیچھے مُڑی مگر وہاں کوئی نہ تھا عزاہ سوالیا نظروں سے آریز کو دیکھنے لگی۔۔۔۔
” کوئی ہمیں اس طرح دیکھ لیتا تو بس اس لیے۔۔۔۔۔۔ ” کہتے کہتے وہ رُک گیا تبھی وہاں واقعی نرس آگئی اُس نے عزاہ کو ڈاکٹر کے روم میں آنے کا کہا ” عزاہ ” کے پیچھے آریز بھی اندر آگیا اور عزاہ سے پہلے جاکر کرسی پر بیٹھ گیا جیسے اسکی ماں کا ” سگا ” بیٹا وہی ہے۔۔۔۔ عزاہ بس اسکی حرکت دیکھتی رہ گئی۔۔۔۔۔۔
” اب انکی طبیعت بہتر ہے!!! گھبرانے کی بات نہیں ٹیسٹ رپورٹس آگئی ہیں سب کلئیر ہے بس انھیں ڈائیبیٹیس ڈائگنوس ہوا ہے۔۔۔۔ ” عزاہ کا چہرہ ایک پل کو سفید پڑ گیا مگر اگلے ہی لمحے وہ ضبط کرتے انھیں سن رہی تھی۔۔۔جبکے آریز چونک اٹھا ٹیسٹ بھی ہوگئے؟ وہ کب سے یہاں ہے؟؟ کافی دنوں سے یا صبح سے؟؟؟؟؟
” پریشان نہ ہو بیٹا!!! یہ عمر ہی ایسی ہے میں خود شوگر کے مرض میں مبتلا ہوں۔۔ بس احتیاط کرو انکی شوگر نہ بڑھے دوائیں لکھ دیں ہیں یہ دو ٹیبلیٹس صبح شام اور یہ والی صبح بس ایک مرتبہ ہڈیاں مضبوط ہوں گی اس گولی سے۔۔۔ ” ڈاکٹر اسکی حالت دیکھ کر اسے تفصیل سے سمجھا رہے تھے پھر دوائیوں کا پرچہ اسے سمجھانے لگے۔۔ انہوں نے عزاہ کی حالت دیکھ کر کچھ ہدایت آریز کو کی جو ایک نظر عزاہ کو دیکھ کر اب انکی باتیں سن رہا تھا۔ ڈاکٹر سے ملکر وہ لوگ انکے کمرے سے باہر نکل آئے رپورٹس اور پریسکریپشن( دوائیوں کا پرچہ )آریز نے ڈاکٹر سے لیا تھا۔۔۔۔
” تم کب سے یہاں ہو؟؟؟؟ ” کمرے سے نکلتے ہی اس نے پوچھا۔۔۔۔۔
” صبح سے۔۔۔۔۔۔۔ ” آریز کو ایک پل کے لئے اس لڑکی پر غصّہ ضرور آیا مگر اگلے ہی پل یہ سوچ بھی ذھن میں آئی وہ ڈھیٹ ہے عزاہ کو اِسکے غصّے کی بھی پروا نہیں۔۔۔۔۔
” کچھ کھایا ہے؟؟؟ “
” مجھے بھوک نہیں۔۔۔۔ ” آریز کا دل چاہ اپنا سر دیوار میں دے مارے۔
” یہیں روکو میرے تایا ایڈمٹ ہیں بس انھیں بتا کر آتا ہوں ” وہ کہ کر لمبے لمبے قدم اٹھاتا کوریڈور عبور کر کے اُسکی نظروں سے اوجھل ہوگیا عزاہ اُسی جگہ اُسی پوزیشن میں کھڑی اِسکا انتظار کرتی رہی وہ واپس آیا تو اِسکے ہاتھوں میں دوائیوں کی تھیلی تھی اور دوسری تھیلی میں کچھ کھانے پینے کا سامان۔۔۔۔
آریز جانتا تھا وہ اگر اسے بتاتا یہ سب لینے جا رہا ہے وہ اپنی ماں کو لیکر ہسپتال سے ہی نکل جاتی۔۔۔۔۔
” کچھ ” لوگ کسی کے لئے بہت خاص ہوتے ہیں جیسے عزاہ رحمان اسکے لئے ہے وہ جانتا تھا وہ بندی سانس تک نہیں لے گی جس حالت میں چھوڑ گیا وہ اسی حالت میں کھڑی ہوگئی عزاہ کی نظریں تک ” آریز حیدر ” کے انتظار میں اسی ڈائریکشن میں تھیں۔
” یہ دوائیاں تمہارے لئے نہیں ہیں آنٹی کے لئے لایا ہوں۔۔۔ اسلئے ہاتھ جوڑتا ہوں بحث نہیں کرنا اور واپس بھی نہیں لیں گئے ” ریفنڈ پولیسی ” نہیں۔۔۔ اور یہ سینڈوچ جوس اسلئے لایا ہوں کے اپنی ” امی ” کو خود لے کر جاؤ گی اور راستے میں بےہوش ہوئی تو سوچ لو آنٹی پھر۔۔ “
آریز نے جان کر بات ادھوری چھوڑدی اور سینڈوچ کی پلاسٹک ہٹا کر اسکی طرف بڑھایا تو عزاہ نے خاموشی سے سینڈوچ لیا اسنے ایک بائٹ لی ہی تھی کے آریز نے جوس میں اسٹرا ڈال کر وہ خود اسکے ہونٹوں کے پاس آیا۔۔۔
” میں خود پی لونگی ” اسکے ہاتھ سے لیتے عزاہ نے عام لہجے میں کہا شاید ابھی تک اُسے ” شوگر ” کا صدمہ تھا۔ تبھی وہ خاموش تھی ورنہ اپنی سامنے اس شخص کو دیکھ کر عزاہ کا بی پی نارمل نہ رہتا۔۔۔۔۔۔
سینڈوچ ختم کرنے تک وہ جان کر اسے دیکھتا رہا تاکے وہ کھائے وہ کچھ کہنے بھی لگتی تو آریز اُسے ٹوکتا۔۔
” پہلے ختم کرلو کھانے کے بیچ بولنا سہی نہیں ” عزاہ بس خالی نظروں سے سامنے دیکھتی کھا رہی تھی۔۔۔ آخری بائٹ لیتے ہی اس نے آریز کی طرف دیکھا اور دیکھتے ہی دیکھتے اسکی آنکھیں پانیوں سے بھر گئیں جوس خود با خود ہاتھ سے چھوٹ گیا۔۔۔۔۔ دکھ آریز کی اتنی پروا کرنے پر تھا؟؟؟ باپ کے جانے پر؟؟؟ یا ماں کا سن کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” زندگی کی تلخ حقیقت جانتے ہو کیا ہے؟؟؟؟ ” بھیگی آنکھوں سے دیکھتے وہ پوچھ رہی تھی آریز نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔۔ ” کاش اسے اختیار ہوتا ان آنسوں کو پونچھنے کا “
” یہ سچ کے ” ماں باپ بوڑھے ہو رہے ہیں ” ” کتنی گہری بات کہی تھی اس نے آریز نے اپنا چہرہ چھت کی طرف کیے ایک گہرا سانس لیا۔۔۔۔
جبکے عزاہ کا فون بج اٹھا نمبر دیکھ کر وہ جو کسی سحر میں کھوئی تھی ہوش میں آئی دوپٹے سے چہرہ صاف کرکے آریز سے بولی۔۔۔
” شکریہ آپ کا۔۔۔۔ اب ہمیں جانا ہے۔۔۔ ” اسکا اشارہ اپنی ماں کی طرف تھا انھیں لیکر عزاہ کو نکلنا تھا۔۔۔۔۔۔۔
” میں چھوڑ۔۔۔۔”
” نہیں ” وہ اتنی سختی سے بولی کے آریز بےبسی سے اسکی بےحسی دیکھتا رہا۔۔۔۔۔۔۔
” پلیز۔۔۔۔۔۔۔ ” وہ ملتجی ہوا عزاہ نے اسے سخت نظروں سے گھورا اتنا ڈھیٹ شخص تھا وہ۔۔۔۔
” عزاہ۔۔۔۔۔۔ ” اس آواز پر عزہ پیچھے مڑی آریز نے دیکھا وہ یکدم ہی اس آواز پر گھبرا گئی۔۔۔۔
” یہ کون ہے؟؟ اور تم یہاں کیا کر رہی ہو؟؟ وہاں میں آنٹی سے مل بھی آیا ڈاکٹر نے کیا کہا؟؟؟ ” اس شخص نے آتے ہی سوالوں کی بارش کردی تھا کون تھا یہ آخر؟؟؟
” آپ؟؟؟ ” آریز نے اس سے پوچھا۔۔۔
” عزاہ کا ہونے والا شوہر۔۔۔۔اور آپ؟؟ ” آریز بےیقینی سے عزاہ کو دیکھنے لگا پیڑوں تلے سے زمین سڑکنا کیا ہوتی ہے اسے آج پتا لگا تھا۔۔۔ وہ جو آنکھوں سے اسے التجا کر رہی تھی چُپ رہنے کی آریز اُس ظالم کو دیکھتا رہا کیا خطا تھی اُسکی؟؟؟؟ کیا جرم تھا؟؟؟ قتل کرنے سے پہلے اُسکا جرم تو بتاتی یکدم ہی پتا نہیں اسے کیا ہوگیا وہ سُن ہوگیا جب آنکھوں میں نمی اتڑنی لگی اس نے نظریں جھکا لیں۔۔۔۔۔۔۔
” و۔۔۔وہ۔۔ یہ اپنی دوائیں بھول گئیں تھیں وہی انکے پیچھے دینے آیا تھا۔۔۔۔” دوائوں کی تھیلی اسکی طرف بڑھا کر وہ جانے لگا تھا کے عزاہ سے تھیلی تھامتے ہی نیچے گڑ گئی وہ جو جانے لگا تھا رُک گیا زمین پر ایک گھٹنا ٹکا کر ٹیبلیٹس کے باکسسز اٹھا کر اُسے شاپر میں ڈالے اسی پوزیشن میں بیٹھے گردن اوپر کیے وہ شاپر آریز نے اسکی طرف بڑھائی۔۔۔ آریز نے اپنی پلکیں اوپر کو اٹھائیں تو وہ اسے دیکھ کر دنگ رہ گئی سرخ بے تحاشہ لال آنکھیں جو پانیوں سے بھری تھیں عزاہ کو پہلی دفعہ اس کے آنسوؤں سے خوف آیا۔۔۔۔۔
وہ اسے تھیلی پکڑا کر اس کی آنکھوں کے سامنے ہی اس سے دور ہوتا چلا گیا وہ آخر تک اُسے دیکھتی گئی یہاں تک کہ اس کا وجود ایک نقطے کی شکل میں آگیا اور کچھ دیر بعد وہ نقطہ بھی غائب ہو گیا۔۔۔ آریز حیدر آج ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس سے جُدا ہو گیا اب تو شاید وہ کبھی اس کی طرف پلٹ کر بھی نہیں آئے گا آج وہ آریز کی شخصیت کے ایک نئے پہلو سے آگاہ ہوئی تھی وہ شخص جسے وہ ہمیشہ اپنی بہن کا مجرم سمجھتی تھی آج اُس کے اس انداز پہ حیران رہ گئی وہ اگر عورت کو عزت دینے والا ہے تو اِس نے اس کی بہن کے ساتھ ایسا کیوں کیا؟؟؟؟ اور آج وہ کیوں عزاہ رحمان کو شرمندہ ہونے سے بچا رہا تھا اس کی آنکھوں کی ایک التجا پر اس نے اپنے آپ کو کیا سے کیا بنا دیا لیکن اس کی عزت پر بات نہیں آنے دی۔۔۔۔۔
وہ شکر کر رہی تھی ہاشم کی کال آگئی تھی۔ ورنہ ان دونوں کو اس طرح دیکھ کر وہ سمجھ جاتا آریز اسکے لئے اجنبی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” وہ مجھ سے تعارف کیوں مانگ رہا تھا؟؟؟ ” ہاشم کال رکھ کر اب عزاہ کی طرف متوجہ تھا اور اس سے پوچھ رہا تھا کہ آریز نے کیوں اِس سے اس کا حوالہ مانگا۔۔۔۔؟؟
” امی کی وجہ سے پریشان تھی رو رہی تھی تو تبھی وہ اکیلا دیکھ کر شاید تسلی کر رہا تھا ” عزاہ نے قدم روم کی طرف بڑھائے جہاں اسکی ماں لیٹی تھیں ہاشم بھی اسکے ساتھ ہی انھیں لینے چلا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” سہی کہا تم نے!! مگر میں نے مومنہ سے بدلہ نہیں لیا۔۔۔۔ بس کبھی اپنا نظریہ نہیں بدلا چچا کی موت کے بعد جب جب مومنہ میرے سامنے آئی بس اُس میں ” چچی ” کا عکس دیکھا در حقیقت وہ ” چچا ” کا عکس تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ حاوز سلیمان تم نہیں سمجھ سکتے میرے چچا ہیرا تھے جوان موت مرے صرف اس لئے کے بیوی کی خواہشات پوری نہ کر سگے؟؟؟؟ انھیں شادی سے پہلے کوئی مرض نہ تھا جب سے شادی ہوئی پہلے سال ہی انھیں پہلا اٹیک ہوا تھا۔۔۔۔۔ میری دادی خون کے آنسوں روتی تھیں اتنی بددعائیں دیتی تھیں کے اب بھی ڈرتا ہوں مایل ایک آخری نشانی بچی ہے اُسکی اولاد پر کوئی ” تکلیف ” نہ آئے۔۔۔۔۔ گناہ ایک کرتا ہے بُگتا پورا خاندان ہے۔۔۔۔ دادی کا دل پھٹتا تھا بہت مجبور تھیں وہ۔۔۔۔۔ نجمہ چچی کی نسل کو بددعائیں دیتی تھیں۔۔۔ مگر مومنہ کے بعد وہ چُپ سی ہوگئیں خاموشی سے بس روتِیں تھیں مومنہ انھیں بےحد پیاری تھی۔۔۔ بس اکثر کہا کرتیں تھیں۔۔۔۔۔۔ “دل اتنا پیارا ہے میری بچی کا اتنا نیک کام کرتی ہے لوگوں کی خدمتیں کرنا آسان ہے کیا؟؟؟ بلکل میرے عمران جیسی ہے۔۔۔ مگر چہرے کے نقش اس نجمہ سے لئے ہیں خدا بیڑا غرق کرے نجمہ کو کلمہ بھی نصیب نہ ہو ” انھیں بھی آخری دنوں میں اپنی بددعائوں پر پچھتاوا تھا۔ مومنہ کے جانے کے تین ماہ بعد وہ بھی ہمیں چھوڑ گئیں۔۔۔ یہ دکھ برداشت ہی نہ کر سگیں ” زاکون زخمی سا مسکرایا۔۔۔ بددعا دی ” ایک عورت ” کو تھی سزا واقعی نسل بھگت رہے ہیں چاہے وہ خود ” “زاکون ” ہی کیوں نہ ہو۔۔۔۔۔ ” اُس لڑکی کو ٹھکرا کر تم دوسری غلطی کر رہے ہو محبت بار بار ” دستک ” نہیں دیتی ” حاوز نے موضوع گفتگو ہی بدل گیا زاکون نے سرخ آنکھیں سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔۔ ” ایسا کچھ نہیں ہمارا کوئی میل نہیں!!!! بس ہم دونوں ایک ہی ” جگہ ” کام کرتے ہیں ” زاکون نے تھوڑے سخت لہجے میں کہا مگر پروا کسے تھی؟؟ ” زاکون حیدر!!! میرے بےشمار سوال تمہاری طرف بھی اٹھتے ہیں مگر جواب خود تلاش لیتا ہوں!!! جیسے تم نے عینا کو میرے نمبر سے ڈھونڈا۔۔۔ نمبر یقیناً مایل سے لیا ہے۔ ٹریس کر کے تم مجھ تک پہنچے۔۔۔۔۔ میرا نام زریق یا شاید تمہارے ابا حیدر مرتضی کے منہ سے تم نے سنا تھا۔۔۔۔۔” وہ اسے آگاہ کر رہا تھا کے مشورہ وہ بغیر جانے نہیں دے رہا وہ کچھ ” حقیقتوں ” سے واقف ہے۔۔۔۔ ” اُسی طرح تمہیں ہسپتال کے فورتھ فلور پر مومنہ کے ساتھ دیکھ چکا ہوں جب وہ تم سے معافی مانگ رہی تھی اور اپنی محبت کا ۔۔۔۔۔” زاکون کا سر جھک گیا وہ خود شرمندہ ہو رہا تھا۔ اسکے ” اقرار ” سے نہیں۔ اس بات سے کہ وہاں ” زاکون ” موجود تھا نجانے وہ اسکے بارے میں کیا سوچے۔۔۔ ” بھول جاؤ!!!! اتنا آسان نہیں جسکے ہجر میں آدھی زندگی کاٹی ہے باقی بھی گزر جائے گی ” وہ جیسے بےزار سا ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔ حاوز کیا جانتا ” مومنہ ” اس وقت اسکے حواسوں پر ایسی چھائی ہے کے نظر رکھتے ہوئے بھی اسے لگ رہا ہے وہ بینائی سے محروم ہے۔۔۔۔۔۔ ” وہی کر رہے ہو جو مومنہ کے ساتھ کیا؟؟ ” ” تم میرے باپ نہیں کے تمہارا کہنا مانوں!! ایک بات بتاؤ اتنے عرصے چُھپے کیوں رہے؟؟؟ جب مومنہ تمہارے پاس نہیں تھی صاف بتا دیتے ” وہ بھڑک اٹھا۔۔ جبکے سامنے والا شخص بلکل پُر سکون تھا۔۔۔ ” صاف پوچھا تھا تم نے؟؟؟ تم تو ہر ذریع نکال کر مجھے ڈھونڈ رہے تھے!!!!!! اور رہی بات چُھپنے کی بس ” عینا ” کو ہر آنکھ سے چھپایا ہے خود نہیں چھپا ” وہ جیسے اسکی ” غلطی ” سے اسے باوقار کروا رہا تھا۔۔۔۔۔مگر زاکون نڈھال سا ہو رہا تھا۔۔۔۔ ” کاش زاکون!!!! زندگی مجھ سے دغا کرلے۔۔۔۔ اپنا وجود بھی اب خود پر بوجھ لگ رہا ہے ” بےبسی تھی اسکے لہجے میں کوئی اسے وہ در بتاۓ جہاں ” سکون ” خریدا جا سکتا ہے۔۔۔ ” ایک بات سمجھو مرنے والوں کے ساتھ مرا نہیں جاتا ایک آدمی اپنے محبوبہ کے عشق میں اس ” حد ” تک ڈوب گیا کے مزاروں میں ” ملنگ ” بن کر ناچنے گانے لگا۔۔۔ لوگوں کو عشق کی مثالیں دینے لگا۔۔ ماں باپ نے کزن سے شادی کروادی آج دونوں خوش ہیں۔۔۔ ” زاکون طنزیہ مسکرایا اور قریب ہوکر سامنے بیٹے حاوز سے دھیرے سے بولا۔۔۔۔۔۔۔ ” اُسے پوچھنا یاد نہیں آتی اسکی؟؟؟؟ ” حاوز زاکون دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے جہاں ایک کی آنکھیں غم میں ڈوبیں تھیں تو دوسرے کی آنکھوں میں سکون تھا ” اپنی محبت ” کو واپس پاکر سہی کہتے ہیں یہ آنکھیں ہر دکھ سکھ سب عیاں کرتی ہیں۔۔۔۔۔۔ ” کہنا آسان ہے جس پر گزرتی ہے وہی جانتا ہے!!!! تمہارا سانس بھی اٹکا تھا جب بس دو پل دور تھی تم سے۔۔” وہ اسے ” اسکی ” حالت بتا رہا تھا جب اسکے سر پر جنون سوار تھا۔ گینگسٹر کو اریسٹ کروانے کا وعدہ تک اس نے توڑ دیا تھا۔۔۔ حاوز خاموشی سے اسے سن رہا تھا۔۔۔۔ شاید وہ اس مرض سے گزرا نہیں اسلئے۔۔۔ مگر سوچ ہی جان لیوا ہے کے عینا۔۔۔۔نہیں نہیں حاوز نے اپنی سوچوں کو جھٹکا۔۔۔۔۔۔۔ ” مجھے اختیار نہیں ہے حاوز ان آنکھوں کو برسنے سے روکوں میں رونا نہیں چاہتا پر اتنا بےبس کبھی نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔ آج اس پل لگ رہا ہے پھر سے وہ ” دفن ” ہوئی ہے۔۔۔۔ تم نے سچ کہا تھا موت ” دردناک ” ہے سوچتا ہوں دو گز زمین کے نیچے اسے ” ماں ” یاد آتی ہوگی ” چچا ” یاد آتے ہونگے سوچتی ہوگی مجھ جیسے ” بےحس ” کے لئے اسنے خود پر ” جنت ” حرام کردی۔۔۔۔ کیسے جیوں اس ” بھیانک سچ ” کے ساتھ۔۔۔۔۔۔مجھے وہ بہت اچھی لگتی ہے اتنی کے دل چاہتا ہے اسکے ساتھ ” دفن ” ہوجاؤں۔۔۔۔ ” وہ اپنا سینہ مسلتے سرخ آنکھوں سے کہ رہا تھا۔۔ یہ ” مرض ” لاعلاج ہے جو اسے لگ چکا ہے۔۔ شاید آج وہ اس ” جھوٹ ” سے نکلا ہے تبھی تکلیف ناقابلِ برداشت ہے۔۔۔ اسکی آنکھوں میں اب بھی پانی تیر رہا تھا جنھیں وہ بہنے نہیں دے رہا تھا جذب کرلیتا جیسے دل کو ہلکا کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔۔ ” اس نے ایک ” گناہ ” کیا مزید تم اس ” گناہ ” کو بڑھا رہے ہو۔۔۔۔ ” اسکی دفن والی بات پر حاوز کے مزاج بگڑے تھے یہ بات ناگوار لگی اسے۔۔۔ ” کیا کروں؟؟ ” وہ بےبسی سے پوچھ رہا تھا۔۔ ” اسکے لئے دعا کرواؤ!!! قرآن پڑھا کرو اُسکی ” بخشش ” ہو۔۔۔۔۔۔ ” سکون ہاں سکون اسے ” مسجد ” کے علاوہ اور کہاں مل سکتا ہے؟؟ ” بخشش ” کے نام پر زاکون کی آنکھیں چمک اٹھیں ہاں اسکے لئے وہ یہی تو کر سکتا ہے جس سے شاید اسے بھی سکون ملے۔۔۔وہ فوراً اٹھ کھڑا ہوا۔ ” کہاں جا رہے ہو؟؟؟ ” اسے اٹھتے دیکھ حاوز نے پوچھا۔ ” مسجد!!!! ” دل سے بوجھ کم کرنے کے لئے ” ” یہاں دوبارہ مت آنا ” زاکون نے آنکھیں سیکوڑیں۔۔۔ ” پھر کہاں ملوگے؟؟؟؟ ” ” خود رابطہ کروں گا ” ” یہ گھر؟؟؟ ” زاکون نے اس گھر کے بارے میں پوچھا؟ اسے لگا حاوز کا ہے یہ۔۔ ” صرف تمہارے لئے آیا تھا۔۔۔ ” عینا ” کو لیکر پھر سے فرار کا سوچ رہا ہوں ” وہ مسکرا رہا تھا زاکون بھی اس عرصے میں پہلی دفع مبہم سا مسکرایا۔۔ شاید اسے چوہے بلی کا کھیل پسند ہے۔۔۔۔ ” جب اسے ہوش آئے گا ماں باپ کا پوچھے گی۔۔۔” ” نہیں پوچھے گی!!! اور اُسکی ” جان ” کا رسک نہیں لینا اسلئے بس دو دن گمشدہ رہنا ہے اب یہ چوہے بلی کا کھیل ختم ہوگا ” ” ہمممممممم!!!! چلتا ہوں اللّه حافظ ” وہ اسکے قریب آکر اس سے گلے ملا۔۔۔۔۔۔پتا نہیں حاوز پھر اس سے ملے گا بھی یا نہیں؟؟؟ ” شکریہ!!!! ” ” کس لئے؟؟؟ ” وہ حاوز کے شکریہ پر چونک ہی اٹھا۔۔۔۔ ” تم سے ملکر اچھا لگا!!! محسوس ہوا جیسے ” مومنہ ” سے عرصے بعد مخاطب ہوا ہوں ” وہ کچھ کہ ہی نہ سگا حاوز نے اسکی آنکھیں دیکھیں تھیں وہ اسے دیکھ کر مسکرایا تھا مگر یہ آنکھیں رو رہیں تھیں۔۔۔وہ ہارے ہوئے قدموں سے دھیرے دھیرے دروازے کی طرف بڑھا لگ رہا تھا جیسے کسی نے سلو موشن میں ٹایپ چلائی ہو لیکن حاوز جان گیا تھا وہ ” مومنہ ” کے ذکر پر ایک بار پھر خود کو زنجیروں میں قید محسوس کر رہا ہے۔۔۔ جس میں صرف وہ پھرپھرا سکتا ہے آزادی کی تمنا کر سکتا ہے کیونکے درحقیقت وہ زنجیریں صرف اسے ہی دیکھ رہی ہیں۔۔۔ آزاد تو وہ تھا۔۔۔ آج کل ہمیشہ سے۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیدر مرتضیٰ کے بار بار کہنے پر آخر شاذ نے انکا آفس جوائن کر ہی لیا۔ آخری سمسٹر بھی اچھے سے گزر گیا بس ریزلٹ آنا باقی ہے شاذ کو امید تھی وہ پاس ہوجائے گا۔۔۔۔۔۔
آج وہ اپنی پہلی سیلیری سے صالحہ کے لئے ایک سوٹ خریدنے کے لئے مال آیا تھا۔ وہ مختلف شاپس میں گھوم رہا تھا۔۔۔ اسے کوئی ڈریس پسند نہیں آرہا تھا الکرم ہو خادی، ثناء سافیناز، لائم لائٹ کسی برانڈ کا کوئی ڈریس اسے اچھا نہیں لگ رہا تھی۔۔۔۔۔
مختلف شاپس گھومتے وہ ایتھنیکس کی ایک شاپ پر آگیا وہاں اکا دکا مرد تھے ورنہ سب ہی عورتیں تھیں اسے ان باتوں سے فرق نہیں پڑتا تھا وہ ہر طرف نظر دوڑاتا ڈریسسز دیکھنے لگا کہ کوئی اچھی سی ڈریس اسے مل جائے شاذ کو کافی ڈھوڈنے کے بعد ایک ڈریس پسند آئی اس ڈریس کو غور سے دیکھنے اور پسند کرنے کے بعد شاذ نے شاپ کیپر سے اسے پیک کرنے کا کہا اور بل کی ادائیگی کر کے وہ جیسے ہی شاپ سے نکل کر فوڈ کوٹ کی طرف آیا تو وہاں ایک عورت کو دیکھ کر وہ چونک گیا۔۔۔
وہ جاسمین تھی وہی جاسمین جس کے لیے وہ آج تک آریز کو کوستا ہے جس نے اِس کی محبت جاسمین اس سے چھین لی۔۔ وہ آج اتنے عرصے بعد جاسمین کو دیکھ کر پہلے تو حیران ہوا پھر اس کا دل چاہا کہ ایک بار اِس سے مل لے اور یہ سوچ آتے ہی شاذ اس کی طرف بڑھا وہ فوڈ کوٹ سے نکل کر جانی ہی لگی تھی کہ شاذ اس کے راستے میں حائل ہوگیا۔۔۔۔
” جاسمین “
اس پکار پر اور اپنے سامنے شاذ کو اتنے عرصے بعد دیکھ کر وہ خوشی سے قدم اٹھاتی مزید اس کے پاس چلی آئی۔۔۔
” اوہ مائے گاڈ شاذ تم؟؟؟ اتنے عرصے بعد؟؟؟
کیسے ہو؟؟؟ اور کیا کر رہے ہو آج کل؟؟ شادی وادی کی ” خوشی اسکے چہرے سے عیاں تھی۔ جیسے اسے یقین نہ آرہا ہو شاذ اسکے سامنے ہے۔۔۔آتے ساتھ ہی اس نے سوالوں کی بوچھاڑ شاذ پر نچاوڑ کر دی شاذ نے ایک بات نوٹ کی تھی وہ بہت بدل چکی ہے۔ پہلے کی طرح نہیں رہی تھی اس کا رہن سہن چلنا، پہنا، اوڑھنا سب بدل چکا تھا دوپٹا تک اس کے سر سے غائب تھا وہ جینز اور شرٹ میں ملبوس تھی۔۔۔
” میں ٹھیک ہوں۔۔۔ تم کیسی ہو؟؟ اور۔۔۔۔ “
بولتے بولتے وہ یکدم خاموش ہو گیا اس نے ہونٹوں پر زبان پھیری اور سوچنے لگا کہ پوچھے یا نہ پوچھے کہ اس کی شادی ہوئی ہے یا نہیں؟؟؟
” اور کیا؟؟؟ ” وہ مسکرا پڑی شاذ جتنا اسے دیکھ کر ایکسائٹڈ نہیں تھا اس سے کہیں زیادہ جاسمین لگ رہی تھی۔۔
” تم نے شادی کرلی؟؟؟ ” وہ ہچکچایا جاسمین ہنس پڑی۔۔
” آف کورس یونیورسٹی ختم ہوتے ہی پہلے ماہ میں ہی میری شادی ہوگئی۔ ایک بیٹی بھی ہے جو ابھی نند کے ساتھ اندر شاپنگ کررہی ہے۔ ارے اُسی کے لیے تو میں یہ برگر لینے آئی تھی۔۔۔۔۔۔ ” شادی کا سن کر شاذ کے دل میں درد کی ایک لہر اٹھی۔۔۔۔۔ پتا نہیں کیوں اسے سب اتنا عجیب لگ رہا تھا یونیورسٹی میں تو جاسمین ایسی نہیں تھی شادی کے بعد وہ کتنا بدل گئی ہے اپنی شادی کا بھی وہ خوشی خوشی بتا رہی ہے کیا اُسے نہیں پتا تھا شاذ اُس کا دیوانہ تھا؟؟ کیا وہ انجان تھی اِس بات سے؟؟ جو فخر سے اپنی شادی کا بتا رہی ہے۔۔۔۔
” جاسمین میں آج تک آریز سے اُتنی ہی نفرت کرتا ہوں دل آج تک اُس کی نفرت سے صاف نہیں ہوا اور آج یہ جان کر کے تم نے شادی کر لی مزید میرے دل میں اُس کے لیے نفرت بڑھ گئی “
” کیوں؟؟؟ ” وہ حیران ہوئی۔۔
اسکے ” کیوں ” پر وہ اس سے کہیں زیادہ حیران ہوا۔۔۔۔۔
” تم بھول گئیں؟؟؟ وہ تمہارے پیچھے تھا تمہیں پسند کرتا تھا اُس نے تمہیں پروپوز بھی کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔اور تم اِس وجہ سے مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھیں کے کہیں میرے نکاح میں ہوکر کل کو آریز تمہارے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” اس نے بات ادھوری چھوڑدی۔۔۔۔ ” کیوں کے تم اسکی پسند تھیں ” اسکی آنکھیں سرخ ہوگئیں وہ تکلیف دہ باتیں اپنی زبان سے کہتے۔۔۔
” شاذ تم کتنے پاگل ہو وہ پہلے کی باتیں ہیں۔۔ وہ ہمارا بچپنا تھا اب ہم میچور ہو گئے ہیں تمہیں کیا ہو گیا اتنی پرانی باتیں تم دماغ میں لیے بیٹھے ہو آریز مجھے پسند نہیں کرتا تھا بس اُس وقت مجھے آریز پر غصہ تھا اور کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔ آریز نے کبھی مجھے پروپوز نہیں کیا!!! میں نے اُس سے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا جس پر وہ غصہ ہو گیا غصہ وہ اس بات پر تھا کہ یہ جانتے ہوئے بھی کے وہ میری بہن عزاہ سے محبت کرتا ہے اور عزاہ اُس سے میں نے اُسے پروپوز کیا؟؟ محبت کا اظہار کرنا گناہ تو نہیں۔۔۔ مجھے اُس وقت جو سہی لگا میں نے کیا۔۔۔۔۔۔ بعد میں جب اس بارے میں سوچا تو مجھے افسوس بھی ہوا شاید مجھے وہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔ تم نے جب اظہار کیا اُس وقت میں بہت غصے میں تھی اور مجھے یہ واقعی گوارا نہیں تھا کہ میں اُس گھر میں جاؤں جس گھر کے بیٹے نے مجھے ٹھکرایا۔۔ بس اس لئے اُس وقت بھاگنے کا ایک بہانہ بنایا تھا۔۔ اگر تم اِس بات کو لے کر بیٹھے ہو تو بھول جاؤ زندگی میں ایسی چھوٹی موٹی باتیں ہوتی رہتی ہیں اِن کو جتنا دماغ پر سوار کرو گے نقصان اپنا ہوگا زندگی میں آگے بڑھنا سیکھو۔۔۔۔۔۔۔ ” وہ اسکے انکشاف پر ہل کر رہ گیا کتنی آسانی سے وہ اس کے وجود کو زخمی کر کے اسے آگے بڑھنے کا مشورہ دی رہی تھی۔۔۔ اور جنکو وہ زخمی کر چکا تھا اسکا حساب کون دیگا؟؟؟؟؟
” تم مجھے کہہ رہی ہو میں زندگی میں آگے بڑھنا سیکھوں؟؟؟ تم کس قسم کی عورت ہو؟؟ تمہیں زرا احساس نہیں آج تم مجھے خوشی سے اپنی شادی کا بتا رہی ہو وہ دن بھول گئیں جب میں تمہارے لیے رورہا تھا؟؟ میں نے تم سے سچی محبت کی تھی یہاں تک کہ سال گزر گئے میں اپنے بھائی سے آج بھی شدید نفرت کرتا ہوں ہر محفل میں۔۔۔ میں نے اسے بےعزت کرنے میں کوئی قسر نہیں چھوڑی ہر وہ حدود پار کر کے گیا۔۔۔ جہاں اس نے میری محبت چھینی تو بدلے میں۔۔ میں نے اُس سے اُس کی محبت چھینی آج مجھے گنہگار بنا کر مجھ سے گناہ کروا کے تم کہہ رہی ہو کہ میں چھوٹی موٹی باتیں بھول جاؤں؟؟؟ تمہاری نظر میں یہ عام بات ہے کسی کی ہستی اُجاڑ کر تم اتنے سکون سے کیسے رہ سکتی ہو؟؟؟؟؟۔۔۔۔۔ ” پتھر کو مات دیتا اسکا سخت لہجہ وہ سن رہی تھی۔ اسکی آگ برساتی نظروں سے وہ اپنا وجود جلستا محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
” میں نے کیا غلط کیا؟؟ یہ تمہاری غلطی تھی جو تم نے سر پر سوار کیا وہ پرانی باتیں تھیں۔۔۔۔ ” اس نے نارمل انداز میں کہ کر جیسے بات ختم کرنی چاہی وہ تو یہاں آکر پھنس گئی تھی۔۔۔۔۔
” نہیں تھیں وہ پرانی باتیں تم نے صرف میری ہی نہیں میرے بھائی کے ساتھ ساتھ اپنی بہن کی بھی زندگی برباد کی ہے۔۔۔ تم جانتی ہو وہ کتنی مشکل میں تھی ہمارے آفس میں جاب ڈھونڈنے آئی تھی تب آریز بھائی نے اُنہیں جاب دی تھی مجھے یہ گوارا نہیں تھا کہ میری محبت مجھ سے چھین کر وہ اپنا جہاں آباد کریں۔۔ انکے ساتھ رہ کر دشمن بھی اپنی دشمنی بھول کر ہاتھ ملا لیتا ہے ان دونوں کو قریب دیکھ کر یہی ڈر تھا کہ وہ اپنی محبت حاصل کر لیں گے اور میں ساری زندگی اس مرض میں مبتلا رہوں گا کہ مجھے اپنی محبت صرف ان کی وجہ سے نہیں ملی اس لیے میں نے بدلہ لینے کے لیے کیا نہیں کیا؟؟؟ اور تم کس قسم کی گھٹیا عورت ہو تم۔۔۔۔۔۔ تمہیں اپنی بہن کی بھی پرواہ نہیں تھی۔۔۔ ” وہ جیسے پاگل ہو رہا تھا دل چاہ رہا تھا اس عورت کا گلا دبا دے اپنی حرکت یاد کر کے پچھتاوا اور غصہ نئے سرے سے آرہا تھا۔ آریز اسکا ہر گناہ معاف کر سکتا ہے مگر وہ حرکت نہیں جو اس نے کی تھی عزاہ کو اس سے دور کرنے کے لئے۔۔۔۔۔۔
” جسٹ شٹ اپ مجھے بتانے کی ضرورت نہیں میری بہن بہت خوش ہے وہ میرے دیور کے ساتھ انگیجڈ ہے آریز کو سوچتی تک نہیں وہ پرانی فضول باتیں تھیں جسکا آج سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔۔۔ ” عزاہ کی منگنی کا سن کر وہ شدد رہ گیا غصّے سے وہ اس پر دھارا
” جھوٹ وہ تمہاری طرح خود غرض نہیں ہوگی!!! ورنہ اگر اُسے آریز کی موجودگی سے کوئی فرق نہیں پڑتا تو وہ جاب کبھی نہ چھوڑتی اتنا اچھا سیلری پیکج کوئی کسی کی وجہ سے چھوڑتا نہیں ارے اتنی سیلری تو میں اس گھر کا بیٹا ہوں میری بھی نہیں جتنی سیلری آریز عزاہ کو دینا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔ “
” تمہارا دماغ خراب ہے خود تو سائیکو ہو مجھے بھی فضول باتوں میں اُلجھا کر پاگل کر رہے ہو ” وہ اس سے جان چھڑوا کر یہاں سے جانے لگی تھی کے شاذ نے اسکی گردن دبوچی۔۔۔۔
” مجھے افسوس ہے کہ تم جیسی خود قرض عورت کے لیے میں اپنے بھائی سے لڑا فرشتوں جیسے بھائی سے اور اب تم دیکھنا تمہیں میں دو گز زمین کے نیچے کیسے لاتا ہوں۔۔۔۔۔ تمہیں تو میں چھوڑوں گا نہیں جیسی دیوار تم نے ہم دونوں بھائیوں کے بیچ کھڑی کی ہے اس سے کئی زیادہ گہری دیوار میں تمہارے اور تمہارے شوہر کے بیچ کھڑی کروں گا تم اب دیکھنا میں تمہارا کیا حشر کرتا ہوں تم نے غلط انسان کو چھیڑا تھا اِسکا افسوس تمہیں زندگی بھر کروائونگا۔۔۔۔۔۔۔ ” ایک جھٹکے سے اسکی گردن کو آزاد کرتے وہ تن فن کرتا وہاں سے چلا گیا جاسمین کا بس نہیں چل رہا تھا اس گھٹیا شخص کو قتل کردے۔۔ اس نے ارد گرد دیکھا تو ایک دو خواتین اسے عجیب نظروں سے دیکھ رہیں تھیں وہ انھیں اگنور کرتی اپنی بیٹی اور نند کے پاس چلی آئی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکے تھپڑ مارنے پر المیر نے افسوس سے اسے دیکھا۔۔۔ ” تمہارا بیٹا اپنی ماں کے بدلے لینے جانتا ہے۔۔۔۔ ” مایل اسکی بات سن کر مسکرا پڑی۔۔۔۔ المیر نے ایک دفع پھر اسکے سرخ گالوں کو چوما۔۔۔۔۔۔ ” چلتا ہوں!!! ” اسے ارحم کو تھما کر وہ جیسے جانے کے لئے تیار کھڑا تھا۔۔۔۔ ” آپ بیٹھیں میں چائے بنا کر لاتی ہوں ” اسکے جانے کا سن کر وہ بوکھلا گئی۔ ابھی تو اس نے مہمان نوازی بھی نہیں کی تھی۔۔۔۔ ” نہیں پھر کبھی!!! میری باتوں پر غور کرنا ” مایل نے اثبات میں سر ہلایا المیر نے ارحم کا گال ہلکا کھینچا پھر ارحم کو اسے تھما کر وہ وہاں سے نکل آیا۔۔۔ ” میری جان۔۔۔۔” المیر کے جانے کے بعد وہ اپنے بیٹے کے صدقے واری جا رہی تھی۔۔ آج اسے یقین ہوگیا ارحم اسی کا بیٹا ہے وہ سوچ کر خود ہی ہنس رہی تھی۔۔۔۔ ” دوبارہ نہ دو اور لگانا۔۔ ” وہ اسکے کان میں دھیرے سے بولتی اسکے کان پر کس کر گئی ارحم بھی ماں کو ہنستے دیکھ ہنس رہا تھا۔ مایل نے اسے اپنے سینے سے لگایا۔ ارحم کے سونے کا ٹائم ہو چلا تھا ابھی تو اسے زونیشہ سے بھی بات کرنی تھی اور زریق کو میسج کرنا تھا کے آج جلدی آجائے کیوں کے مایل کو اپنے لئے شاپنگ کرنی تھی۔ اسلئے وہ جلدی جلدی اسکی پیٹ تھپک کر اسکا فیڈر تیار کرنے لگی۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسان کا دماغ بھی کیا عجیب شے ہے میں سوچتا تھا
” سکون ” وہ میری قربت میں چاہتی ہے مگر ” سکون ” اسے میرے ساتھ میں چاہیے تھا۔۔۔
میں ” ان ” دونوں کا مجرم ہوں۔ مایل کو بھی میں نے آج تک بس خود سے محبت کرنے کی سزا دی ہے؟؟؟؟
اور زونیشہ؟؟؟ اسکا جرم یہ تھا وہ میری بیوی ہے۔۔۔
میں اسے اپنے اور مایل کے بیچ لے آیا۔۔۔۔۔
” میں اُسکے ساتھ جینا چاہتی تھی مایل تبھی میں نے ہار نہیں مانی اسکے ساتھ وہ زندگی جینے لگی جو وہ جیتا ہے۔۔ وہ ہنستا نہیں میں نے ہنسنا چھوڑ دیا،،،،،، وہ گھنٹوں سوچوں میں محو ہوتا میں بھی اس کے ساتھ بیٹھ کر اُسے دیکھتے اسی کو سوچنے لگتی۔۔۔۔۔۔۔
غلطیاں بہت کی ہیں زندگی میں مایل
لیکن سزا مجھے وہاں ملی جہاں بےقصور تھی میں۔۔۔۔۔۔۔۔”
اسکے الفاظ دل کی ان تاروں کو جھنجور رہے تھے پوچھ رہے تھے اتنی بےحسی؟؟؟ کاش وہ اس کے سامنے بیٹھ کر ان خطوں کو پڑھتا اور اسکے ہر سوال کا جواب دیتا آج شدت سے اسُکی طلب محسوس ہو رہی تھی۔۔ مایل کی طرف سے اب جاکر اسے سکون ملا ہے۔ اسے خوش دیکھ کر ہنستے دیکھ کر۔۔ اسکی طرف سے مطمئن ہوا تو آج یہ احسسات جاگ رہے ہیں شدت سے اسکی طلب ہو رہی ہے۔ اسکی قربت میں سکون کی خوائش بڑھ رہی تھی۔۔۔۔
اس بات سے وہ خود انجان ہے ان باتوں کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ مایل کے آنسوں اسکی ہنسی اسکے لئے اتنی ضروری ہے کے اسکے آگے اُسے زونیشہ کے جذبات تک نہ دیکھے نا اُسکے آنسوں نہ التجائیں۔۔۔۔۔۔
کیا مایل کے ہنسی اسلئے اہم ہے وہ اسکی کزن ہے؟؟؟ وہ اسکے لئے خاص ہے،، اسکے ہاتھوں میں پلی ہے،، اسکے قریب رہی ہے،، اسکے خاندان سے ہے۔۔۔ اور سب سے اہم وہ اسکے ہر آنسوں کی ” وجہ ” بنا۔۔۔۔۔۔
اور زونیشہ سے شاید اب تک اس لیے بیگانہ رہا کے انکے بیچ کوئی رشتہ ہی نہیں،، نہ اسکی سوچ ہے، نہ اسکا احساس۔۔۔ وہ دونوں آج تک ایک دوسرے کے لئے
” اجنبی ” ہیں۔۔۔۔
اس نے اسٹیرینگ کا رُخ دائیں طرف گھومایا اسکی منزل ” زونیشہ ” ہے۔ اب وہ وہیں اسکے پاس جا رہا تھا پتا نہیں وہ اسے دیکھتے ہی کیسے ریکٹ کریگی؟؟ اور کیا اسکے ساتھ جانے کے لئے تیار ہوگی؟؟؟؟وہ یہی سب سوچتے ڈرائیو کر رہا تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب اسے ہوش آیا حاوز سلیمان پھر اسے ایک نئی جگہ لے آیا جہاں ہر طرف صرف ہریالی تھی۔ اس کمرے میں چار کھڑکیاں تھیں اور چاروں کھلی ہوئی تھیں باہر سے دور دور تک صرف ہریالی نظر آرہی تھی۔ اور دور نظر پڑتے ہی وہاں ہر جگہ صرف پہاڑ تھے جن پر گرینری تھی۔۔۔۔۔
” عینا۔۔۔۔۔” وہ جو اپنے ایک پیشنٹ سے کال پر بات کر رہا تھا اسے ہوش میں آتا دیکھ کال کاٹ کر بےتابی سے اس کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔۔
” آخر کون ہو تم۔۔۔۔۔۔۔ ” اس سے اپنے پاس آتا دیکھ وہ ماتھے پر بل ڈالے پوچھ رہی تھی۔۔۔۔
” میرا تعلق تم سے بہت گہرا ہے۔۔۔۔۔ ” اس کی آنکھوں میں دیکھتے وہ گویا ہوا۔ وہ اپنی نیند پوری کر چکی تھی اب اس کا ذہن پہلے سے کہیں زیادہ تیز چل رہا تھا تبھی اس نے اپنے سامنے بیٹھے اجنبی کو بار بار دیکھتے پوچھا۔۔۔۔۔ وہ پہلے بھی اسکے ساتھ تھا،، اس شخص نے اسکی جان بچائی تھی اور اب بھی۔۔۔۔۔۔وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے زندگی سے بھرپور مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے ہوئے تھا۔۔۔۔۔
رات کا ایک بج رہا تھا وہ گھر جانے کے لئے یہسپتال سے بس نکلنے لگا تھا کے ایک نرس بھاگتے ہوئے اسکے کیبن میں آئی۔۔۔۔۔
” سر ایک کیس آیا ہے۔۔ “
” چلو پھر اتنے آرام سے کیا بتا رہی ہو؟؟ ” وہ بتا کر وہیں کھڑی رہی تو حاوز نے ٹوکا جس پر وہ گھبرانے لگی۔۔۔
” ن۔۔۔۔۔نہیں سر کوئی ایسیڈنٹل یا انجیری ٹائپ نہیں!!! “
” پھر؟؟؟ ” اسکی چُپی پر حاوز آنکھیں سیکوڑ کر اسے دیکھ رہا تھا جو اب نظریں چڑا رہی تھی۔۔۔۔۔۔
” عباس سر کے دوست کی بیٹی ہے!! انہوں نے مجھے کہا آپ کو بتاؤں پر آپ کا شیڈیول اتنا بزی تھا تو۔۔۔ ” کہتے کہتے خوف سے اس نے حاوز کو دیکھا جو اب اپنا ماتھا مسل رہا تھا یعنی یہ پہلے کی بات تھی۔۔۔اور وہ اب بتا رہی تھی۔۔۔۔
” کام کی بات کرو “
” اسکا کوئی سائیکی کا مسلا ہے شاید ” جن ” ہے “
” تو کسی سائیکیٹرسٹ یا بابا کے پاس لے جائے “
” سر و۔۔۔ وہ عباس سر کو یقین ہے آپ پتا کریں گئے وہ کہ رہے تھے کیس کچھ ہے ہی نہیں صرف آپ جان سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔ ” اس وقت وہ گھر جانا چاہتا تھا پورا دن ہی اسکا بہت ہیڈک گزرا تھا اب یہ؟؟؟؟لیکن وہ عباس (نرسنگ منیجر) کی بات بھی نہیں ٹال سکتا۔۔۔۔۔
” ابھی پھر کچھ ہوا ہے ؟ ” اسکی سوال پر وہ کچھ جھجکی ابھی پھر اسے دورا پڑا ہے تبھی تو اعلیا کو یاد آیا۔۔۔۔
” جی!!!!! “
” ہر دفع غلطی معاف نہیں ہوگی!!! عباس تمہارے مینیجر ہیں میرے نہیں۔۔ تمہاری جاب کا مسلا بنے گا میری نہیں۔۔ میں مُکر بھی جاؤں تب بھی مسلا تمہارے لئے ھوگا ان باتوں کا خیال رکھا کرو ” وہ کہ کر رُکا نہیں اعلیا اسکے پیچھے پیچھے بھاگتے اسے پورا کیس بتا رہی تھی جب کے حاوز نے اس سے پیشنٹ کا ایڈریس اور نمبر لیا کیوں کے اعلیا کی مطابق اس ” لڑکی ” کا گھر حاوز کے راستے میں ہی آرہا تھا۔۔۔۔
وہ جب وہاں پہنچا رات کے دو بج چکے تھے صرف عباس کی خاطر وہ یہاں آیا تھا ورنہ اس طرح وہ گھر گھر جاکر یشنٹ نہیں دیکھتا۔۔۔۔
اسے کبھی کبھی ایک بات سمجھ نہیں آتی وہ ” نیرولوجسٹ ” ہے اسکی ٹیم اسے ” سائیکیٹرسٹ ” سمجھ کر ہر دماغی مریض کو اس کے پاس کیوں بھیجتے ہیں؟؟؟؟ سرجریز سے زیادہ تو وہ سائیکو پیشنٹس کو کائونسل کرتا رہتا ہے۔۔۔۔۔۔
گھر کے باہر ہی اسے اس ” لڑکی ” کے والد مکرم علی اور اسکی ماں فرزانہ ملے جن سے ملنے کے بعد اس نے سارا مسلا پوچھا۔۔۔۔
” عینا میری بیٹی عجیب حرکتیں کرتی ہے ہنسنے لگتی ہے چیخنے چلانے لگتی ہے!!بہت پریشان ہیں ہم نیندیں تک اُڑ چکی ہیں آج تو حد پار کردی۔۔۔۔ اپنی دوسری منگنی تُڑوا دی۔۔۔۔۔۔ میں یہ ” جن ” وغیرہ میں یقین نہیں رکھتا ضرور کچھ ہوا ہے جس کی وجہ سے میری بیٹی کی ایسی حالت ہوچکی ہے۔۔۔۔ ” مکرم علی بےحد پریشان تھے بیٹی کے لئے دونوں میاں بیوی جیسے بےتابی سے اسکے آنے کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔۔۔
” کب سے ہو رہا؟؟؟ “
” ایک ماہ ہو چکا ہے!! اچانک ہی ہوتا ہے جب افنان (عینا کا منگیتر) اس سے ملنے آتا ہے یا جب ہم اسکے پاس جاتے ہیں!!! یا شاید تب بھی جب ہم گھر نہیں ہوتے ” وہ پریشانی سے کہ رہے تھے.۔۔۔۔۔
” ہممممممممم۔۔۔۔۔۔ ” وہ انکے ساتھ گھر کے اندر آگیا۔ گھر اچھا خاصا بڑا تھا۔۔ محل نما بنگلا تھا گھر کو باقائدگی سے لگ رہا تھا ڈیزائن کیا گیا ہے۔ حاوز کو اندازہ ہوا انکا ٹیسٹ بھی کلاسی ہے۔ اوپن کچن تھا جس کا نظارہ حال میں بیٹھے بیٹھے ہی کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔ ہر چیز پر غور کرنے کے بعد حاوز نے باہر جاکر ایک کال کی۔۔۔
” آفتاب ایک کام ہے لیب سے تین چوہے لیکر ایک ایڈریس بھیج رہا ہوں وہاں لے آؤ۔۔۔۔۔ بعد میں پوچھنا ابھی جو کہا ہے وہ کرو۔۔۔۔۔ ” کہتے ساتھ حاوز نے فون رکھ دیا۔۔۔ اور اندر آتے ہی اس نے پہلا سوال اسکے کمرے کا کیا کے کہاں ہے؟؟؟؟؟
مکرم خود اسے کمرے کے باہر چھوڑ کر چلے گئے۔۔۔
اس نے دھیرے سے دروازہ کو پُش کیا تو وہ خود با خود کھلتا چلا گیا۔ کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا حاوز نے جیسے ہی پیڑ آگے کر کے پہلا قدم رکھا کسی کی خوفناک ہنسی کمرے میں گونجی۔۔۔۔۔۔۔۔
” ڈاکٹر!!! ” کوئی بھاری مردانہ آواز میں دھارا۔۔۔۔
” تو میرا علاج کرے گا؟؟؟؟ پھر تجھے مجھ سے کون پچائے گا؟؟؟؟ ” بھاری خوفناک آواز پورے کمرے میں گونج رہی تھی جیسے کمرے کے ہر کونے میں اسپیکرز بج رہے تھے۔۔۔
آخر میں وہی اُسکی خوفناک ہنسی حاوز سنجیدگی سے سب سن رہا تھا۔۔۔۔ روز وہ اتنے پاگلوں سے ملتا ہے اسکے لئے یہ ” عام ” ہی ہے۔۔۔۔۔۔
حاوز سلیمان تو اندھیرے میں بس کسی کی پرچھائی ڈھونڈ رہا تھا مگر وہ جو کوئی بھی تھا حاوز کو غور سے دیکھ رہا تھا جسکی پیشانی پر ایک بل تک نہیں تھا نہ کوئی شکن تھی۔ دروازہ کھلا تھا جسکی روشنی اندر تک آرہی تھی حاوز دیکھنے والوں کو صاف دیکھ رہا تھا مگر کمرے کے اندر کا منظر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
دھیکتے ہی دھیکتے کمرے کا دروازہ خود با خود بند ہوگیا۔۔۔۔۔پھر ایک دھار گونجی۔۔۔۔۔
” ڈاکٹر۔۔۔۔۔۔۔ ” وہ چیخا۔۔۔۔۔۔۔۔
” تیرا خون پی جاؤں گی ” حاوز اندھیرے میں جان نہ سگا آواز کس ڈائریکشن سے آرہی ہے؟؟؟؟ تبھی یکدم کمرہ روشنی میں نہا گیا۔۔۔
ایک پل کو وہ واقعی چونک گیا اچانک ہونے والا وار تھوڑا چونکانے والا تھا کیوں کے وہ لڑکی اونچے بیڈ کے پاس بیٹھی تھی۔۔ اس طرح کے وہ بیڈ کا سر سیدھا تھا مگر وہ اسکی دائیں سائیڈ پر تھی بیڈ تھوڑا اونچا تھا لیکن وہ لڑکی بیڈ سے اور تھوڑی اونچائی پر بیٹھی تھی۔۔ جیسے اکثر یوگا پوزیشن میں بیٹھتے ہیں ایک ٹانگ دوسری ٹانگ کے اوپر رکھ کر اس نے بڑا سا گاؤن پہنا تھا حاوز جان نہ سگا وہ ہوا میں بیٹھی ہے یا بیڈ سے اونچائی پر کسی چیز پر کیوں کے گاؤن کی وجہ سے صاف پتا نہیں لگ رہا تھا جو نیچے تک لٹک رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
اس لڑکی کی آنکھیں بند تھیں وہ جو کوئی تھی کسی خوفناک چڑیل سے کم نہ تھی بالوں کا گھونسلا بنا ہوا تھا جیسے سالوں سے کنگی نہ کی ہو۔ آنکھوں کے آس پاس کٹ کے نشان تھے۔۔۔۔جن پر سرخ خون جما ہوا تھا ہونٹ پھٹے سفید تھے۔۔۔ اس قدر سوکھ چکے تھے کے جیسے ہی وہ بولنے لگی گی ان میں سے خون رسنے لگے گا۔ حاو غور سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔
تبھی اس لڑکی نے آنکھیں کھولیں۔۔۔ اور حاوز کو خود کو تکتا پاکڑ بھاینک قہقے لگانے لگی۔۔ اس لڑکی کی آنکھوں میں پتلیاں نہیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر حاوز کے چہرے پر ایک شکن تک نہیں تھی یہی بات اس ” جن ” کو تیش دلا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
” کیوں آئے ہو؟؟؟؟ “
” ساکر جنات کا سردار ہوں۔۔۔۔۔ ” اسکی دھار دیواریں ہلا رہیں تھیں ایسی چیخ تھی کے انسان کے کان کے پردے پھار دے۔۔۔۔۔۔
” نام کیا ہے؟؟؟ “
” اسے اپنے ساتھ لے جانے آیا ہوں اسکے ” جسم ” پر میرا قبضہ ہے۔۔۔ اسکی روح اپنے ساتھ لے جاؤں گا ” حاوز کے ہونٹ مسکرائے جب کے وہ ” عورت نما جن ” اسے غصّے سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے حاوز جان چکا تھا ان آنکھوں کے پیچھے وہ چُھپی آنکھیں جو اسے دیکھ رہیں تھیں۔۔۔ اُسی وقت دروازہ دھار سے کھلا جو کوئی تھا دروازہ کو ٹھوکر مار کر وہیں سے غائب ہوگیا حاوز اور وہ ” جن ” دونوں نے دروازے کی طرف دیکھا پر وہاں کوئی نہیں تھا مگر اچانک سے تین موٹے چوہے نجانے کہاں سے آگئے اور آتے ساتھ اس جن کی طرف دوڑے وہ ” جن ” انہیں اپنی طرف آتے دیکھ پہلے خوف میں مبتلا ہوگیا پھر بھاگتے ہوئے اس نے دوڑ لگائی چوہوں کے ڈر سے ” جن ” کی آواز تک سریلی ہوگئی بھاری خوفناک آواز سیریلی آواز میں بدل گئی۔۔۔۔۔۔
” ممی ڈیڈی بچاؤ۔۔۔۔۔چوہا۔۔۔۔۔۔” وہ بیڈ سے چھلانگ لگا کر حاوز کے کندھے سے ٹکراتی بھاگتی ہوے سیڑیاں عبور کر کے اپنی ماں کے پیچھے آکر چھپ گئی اسکی ماں بھی اسکی چیخ سن کر ڈر گئیں۔۔۔
” کیا ہوا عینا؟؟ ” ماں کی گھبرائی آواز سن کر وہ انکے گلے لگی۔۔۔
” ممی اوپر چوہا ہے۔۔۔ ” وہ خوف سے ان سے چپکتی جا رہی تھی۔مکرم علی کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے جبکے حاوز دھیمی چال چلتا دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈالے سیڑیوں سے اتڑ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
” آپ کی بیٹی بلکل ٹھیک ہے!!! یہی وجہ ہے کوئی ڈاکٹر
” بیماری ” ڈائیگنوس نہ کر سگا۔۔ ” عینا جو خوفزدہ ہوکر ماں سے چپکی تھی یہ سن کر ہوش کی دنیا میں واپس آئی وہ ماں سے تیزی سے الگ ہوئی۔ اسکی نظریں جھک گئیں چہرہ شرمندگی اور ڈر کے مارے حد سے زیادہ سرخ پڑ گیا۔۔۔
آج اسکی خیر نہیں تھی۔۔۔۔
یہی دڑ تھا اسے۔۔۔۔۔
سب ختم ہوگیا۔۔۔۔
اتنے عرصے سے وہ یہ ناٹک کرتے بچ رہی تھی اب پھر وہی سلسلے شروع ہونگے۔۔۔۔
وہ یہی سوچ رہی تھی کے یکدم اپنے باپ کی دھار سے کانپ اٹھی۔۔۔۔
” حولیا درست کرکے فوراً نیچے آؤ۔۔۔۔۔۔۔ ” عینا نے ایک نظر نم آنکھوں سے انہیں دیکھا کے شاید وہ پیگل جائیں پھر کانپتی ٹانگوں سے اوپر کی طرف دوڑی اور حاوز سلیمان حیران ہوئے بغیر رہ نہ سگا کیوں کے وہ پانچ منٹ کے اندر چینج کر کے ہاتھ منہ دھو کر اب انکے سامنے کھڑی تھی۔۔۔ حاوز کی نظریں گھڑی پر تھیں ایگزیکٹ پانچ منٹ ہوئے تھے نہ ایک منٹ اوپر تھا نہ ایک منٹ نیچے۔۔۔۔
” آپ کو کیسے اندازہ ہوا؟؟؟ ” فرزانہ نے پوچھا۔۔۔۔
” بس ہوگیا۔۔۔۔۔۔ ” وہ اس لڑکی کی طرف دیکھ رہا تھا جسکی آنکھیں سرخ تھیں نجانے کیوں اسے افسوس ہو رہا تھا شاید اسے پہلے لڑکی سے بات کرنی چاہیے تھی پتا نہیں کیا وجہ تھی؟؟؟؟ ورنہ وہ خود کو ” بدنام ” کیوں کرتی۔۔۔۔۔۔
” وجہ؟؟؟؟ ” مکرم علی کے سامنے کھڑی وہ انکے غیض و غضب کا شکار بنی تھی۔۔۔۔۔
” بولو؟؟؟؟؟ ” اسکی چُپی پر وہ دھار اٹھے۔۔۔۔۔۔۔
” مجھے شادی نہیں کرنی۔۔۔۔۔!!!! آپ کی پارٹیز میں نہیں جانا۔۔۔۔۔۔ ” پلکیں جھکائے وہ خوفزدہ تھی۔۔۔
” تم ہمارے ساتھ ٹائم اسپینڈ کرنا چاہتی تھیں؟؟؟ ” وہ اسے اسکی کہی بات یاد دلا رہے تھے۔ مکرم علی اسکے قریب آکھڑے ہوگے عینا خوف سے پیچھے کھسکی مکرم علی کی آنکھوں سے جیسے خون ٹپک رہا تھا عینا نے تھوک نغلتے کہا۔۔۔
” اب نہیں چاہتی۔۔۔۔۔۔ ” جواب مکمل ہونے سے پہلے مکرم علی کا ہاتھ اٹھا تھا جو اسکے گال پر نشان چھوڑ گیا۔
” تم جیسی بیٹی سے اچھا تھا پیدا ہوتے ہی مر
جاتیں۔۔ ” وہ غصّے سے چیخے انکا بی پی ہائی ہوگیا وہ گہرے گہرے سانس لینے لگا فرزانہ دوڑتی ہوئیں ان تک آئیں اور انکا سینہ اور پیٹھ مسلنے لگیں نوکر جلدی انکی دوایاں لے آیا حاوز نے بی پی آپریٹس منگوا کر انکا بی پی چیک کیا جو واقعی کافی بڑھا ہوا تھا فرزانہ نے قہر برساتی نظروں سے اسے گھورتے کہا۔۔۔۔
” دور ہوجاؤ میری نظروں سے۔۔۔۔ ” وہ دانت پیستے بولیں وہاں سب مکرم علی کے لئے پریشان تھے بس ایک حاوز سلیمان تھا جسے ” عینا ” کی بھیگی آنکھیں بےچین کر رہیں تھیں۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
