66.2K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

وہ جتنی تیز رفتاری سے کار بھگا سکتا تھا بھگا رہا تھا ساتھ اسکے ہاتھ موبائل پر تیزی سے چل رہے تھے کبھی وہ ایک انسان کو کال کرتا کبھی دوسرے کو اسکے ہاتھ میں ریموٹ کنٹرول بھی تھا جس سے وہ نجانے کیا چیک کر رہا تھا؟؟؟؟
” ہم کہاں جا رہے ہیں؟؟؟ “
جب کار شہر سے دور جنگلات کی طرف بڑھنے لگی تو زاکون نے پوچھا۔۔ جس نے خود بھی پولیس کو کال کی تھی۔۔۔
” منہ بند رکھو ” وہ کسی بھوکے شیر کی طرح دھارا۔ وہ شخص زاکون کو اس وقت قابل رحم لگ رہا تھا زاکون کو سمجھ نہیں آرہا تھا فکر تو اسے بھی مومنہ کے کرنی چاہیے تھی مگر وہ تو ہر بات سے انجان ہے لیکن شاید یہ احساس کے وہ زندہ ہے اسے ہر پریشانی سے بےفکر کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
” اب تک اُسے چھپایا کیوں تھا؟؟؟؟ وہ آج بھی مجھ سے محبت کرتی ہے۔۔۔۔ ” زاکون نے جیسے اسے باوقار کرایا جبکے حاوز سلیمان کے سر پہ اس وقت خون سوار تھا۔۔۔
” جان لینا آج ” حاوز سلیمان نے کار دائیں طرف اس انداز میں ایک جھٹکے سے موڑی کے زاکون کا سر ڈش بورڈ سے ٹکراتے ٹکراتے بچا۔۔۔۔۔۔
” تم بھی۔۔۔۔ ” وہ اسے تیش دلانا بھولا نہیں تھا۔۔۔ جبکے حاوز کی کار آگے جاکر ایک بڑے سے گیٹ کے آگے رُک گئی۔۔۔۔۔۔
زاکون اِس گیٹ کی طرف دیکھنے لگا وہ کسی بنگلے کا عام گیٹ نہیں تھا بلکہ وہ کسی ایک شہر کا یا کسی ایک علاقے کا بڑا سا گیٹ تھا جس کی اونچائی ایک بلڈنگ جتنی تھی اس گیٹ کے آگے چار گارڈز کھڑے تھے جو انہی لوگوں کو آگے جانے دے رہے تھے جن کے پاس ایک کارڈ تھا شاید وہ اُن لوگوں کی نشانی تھی جن کا گھر اس گیٹ کے اندر تھا یا شاید وہاں کوئی کاروبار تھا۔۔۔۔۔۔
جیسے ہی کار رُکی اسکے کچھ سکینڈز بعد ہی ایک آدمی نے کُھلے شیشے سے حاوز کی طرف ایک کارڈ پھینکا جو اس کی گود میں آگِڑا اور کارڈ گود میں گِڑتے ہی حاوز نے کسی طوفان کی طرح کار آگے بڑھائی گیٹ کے پاس رک کر کارڈ گارڈز کو دکھایا اور کار اندر بھگائی وہ نجانے کن کن راستوں سے اندر کی طرف بڑھ رہا تھا۔۔
جیسے ہی وہ اندر آئے تھے سیدھے چلتے تین روڈ آئے ان تینوں میں سے حاوز نے دائیں طرف بنے روڈ کا انتخاب کیا وہاں سے آگے جاتے جاتے دوبارہ تین روڈ آئے اس دفع حاوز نے بیچ میں بنے روڈ کا انتخاب کیا۔۔۔ پھر آگے چلتے چلتے راستہ بلکل صاف تھا صرف ایک ہی روڈ تھا جس کے اندر بےشمار بنگلے تھے روڈ کے دائیں بائیں ہر طرف بنگلے بنے تھے مگر منزل ابھی تک آئی نہیں تھی۔۔۔۔ وہ تقریباً ایک سو دو کی اسپیڈ سے کار چلا رہا تھا اتنی تیز کہ اگر کوئی کار راستے میں آتی تو ضرور ایکسیڈنٹ ہوتا۔ مگر سڑک خالی تھی اور سنسان وہ کسی کی پرواہ کیے بغیر کار ہوا کی رفتار سے تیز بھگا رہا تھا تبھی کار چلتے چلتے ایک بنگلے کے آگے روکی۔ وہ بنگلے کا پچھلا حصہ تھا جہاں دو گارڈز کھڑے تھے۔۔
کار ان سے دور ہی تھی ابھی ان گارڈز کی نظر کار پر پڑی نہ تھی۔۔۔۔۔۔
حاوز آنکھیں سیکوڑ کر ان گارڈز کی حرکت دیکھ رہا تھا تبھی ایک گارڈ جھاڑیوں کی طرف بڑھا آگے جاکر ایک بڑا سا ناریل کا درخت تھا جہاں وہ آدمی گیا تو کافی دیر تک واپس نہیں آیا۔۔۔۔
اسکے ساتھ کھڑا گارڈ تھوڑا گھبرا گیا وہ سوچنے لگا اپنے مالک کو بلائے؟؟ لیکن اِسکا مالک اسے ہی بھیجے گا اور غصّہ الگ کریگا۔۔۔ اسلئے ڈرتے ڈرتے اسنے خود ہی قدم آگے کی طرف بڑھائے پسٹول اسکے ہاتھ میں تھی جسے اس نے دائیں ہاتھ سے آگے کی طرف کیا تھا جیسے کسی کو پوائنٹ کرتے ہیں وہ بھی اس درخت کی طرف بڑھا۔ اسکی ٹانگیں لڑکھڑا رہیں تھیں وہ اس درخت کے پیچھے گیا تبھی کسی نے پیچھے سے اس کے سر پہ زور سے پسٹل ماری اور وہ گارڈ پیچھے کی طرف گھوما اس سے پہلے کہ وہ سامنے سے حملا کر کے اس پر گولی چلاتا اس شخص نے دوبارہ گارڈ کے سر پر کسی ایک خاص پوائنٹ پر وار کیا جس سے وہ شخص لمحوں میں بے ہوش ہو گیا اس کے بعد اس شخص(پولیس افسر) نے حاوز سلیمان کو اشارہ کیا حاوز نے اشارہ ملتے ہی کار آگے جا کر اس دروازے کی پاس روکی جہاں وہ گارڈز پہلے کھڑے تھے جیسے ہی حاوز کار سے نکلا تبھی پولیس کے آدمی الگ الگ جگہوں سے نکل کر حاوز کے پیچھے آئے ساتھ میں زاکون بھی تھا جو انکی موومنٹ پر حیران تھا۔۔۔۔۔۔
حاوز بھاگتا ہوا اندر کی طرف بڑھا اس کے ساتھ ہی کچھ پولیس افیسرز تھے جو اس کے ساتھ تو جا رہے تھے لیکن اندر جاتے ہی وہ الگ الگ ڈائیریکشن میں چلے گئے۔۔۔
صرف حاوز تھا جسے اندازہ تھا وہ کہاں ہو سکتا ہے؟؟؟
اس لیے وہ بھاگتا ہوا اس بنگلے کی لائبریری کی طرف بڑھا وہ لائبریری کا دروازہ کھول کر جیسے ہی اندر داخل ہوا ایک بک ریک تھا جسے حاوز نے پوری قوت سے دور دھکیلا جس کے بعد سامنے کا منظر واضع ہوا۔۔۔۔۔۔
نیچے بیسمنٹ تھا جہاں کا راستہ اس لائبریری سے ہی تھا ریک کو دور دھکیلتے ہوئے نیچے کی طرف جاتی ہوئی سیڑھیاں حاوز سلیمان کو نظر آئیں وہ اپنے آدمیوں کے ساتھ ان سیڑھیوں سے اتڑنے لگا زاکون حیدر بھی اس کے ساتھ تھا یہ احساس بار بار دل میں ایک نئے طریقے سے جی اٹھا ہے کہ وہ اپنی منزل کے بے حد قریب تھا۔۔۔۔۔۔
” میرے خلاف گوائی دے گی؟؟؟ تجھے تیری دوست کی طرح اپنی آدمیوں کے آگے پیھنک دیتا مگر تیرا یار کمینا سالا میرے پیچھے آیا ہے اُسے لگتا ہے میں اندھا ہوں!!!!! ” وہ اسکے کان کے پاس غرایا لڑکی کی آنکھیں خوف سے پھیلی ہوئیں تھیں یہ ” آواز ” اُسے آٹھ سال کا وہ منظر بار بار یاد دلا رہی تھیں جہاں کا منظر دھندھلا تھا مگر آواز اسی شخص کی تھی۔۔۔۔
” آٹھ سال بعد ملی ہے!!!! تیری تلاش میں آدھی زندگی گنوادی وہ کمینا انسپکٹر(ہمین) روز ہمارے خلاف کورٹ میں اپنے آدمیوں کو بھیجتا تھا،،، روز تاریخ پہ تاریخ کمینا کورٹ بلوا کر روز ذلیل کرواتا تھا اس پیشی کی وجہ سے میری عورت مجھے چھوڑ گئی۔۔ سسر نے میرے پیچھے گنڈے لگا دیے حرامی مجھ سے زیادہ پاور فل ہے تو میرے واٹ لگا دی۔۔۔۔۔” وہ اسکے بالوں کو جھٹکا دیتا نفرت سے بولا۔ وہ اس وقت بیسمنٹ میں بنی چھت پر کھڑا تھا جو اس لائیبرری کے اندر ہی تھی۔ وہ اس لڑکی کو جو ہوش و حوس کی دنیا سے دور بس اِس شخص کے خوف کے سائے تلے تھی اس کے بال مٹھی میں جکڑ کر وہ اسے نیچے کی طرف دھکیلتے کھڑا تھا اس طرح کے اسکے بال چھوڑتے ہی وہ نیچے کی طرف گڑتی جہاں کوئی کنٹینر رکھا تھا جسکے اندر پانی یا کوئی اور لیکیوڈ بھرا تھا۔۔۔۔
” بول پیھنک دوں اس تیزاب میں؟؟؟ ” وہ لہو رنگ آنکھوں سے اسے دیکھتا اسکے جواب کا منتظر تھا مگر وہ اپنے حواسوں میں کب تھی؟؟؟ جو سمجھ پاتی۔۔
” بتا تیرے یار کے پاس کون کون سے ثبوت ہیں؟؟ ” زور دار تھپڑ اسکے گال پے مارتے وہ پاگل ہو رہا تھا اسکی خاموشی اس شخص کو تیش دل رہی تھی کل پھر پیشی تھی اور اسکے پاس کچھ نہ تھا خود کے ڈیفینڈ کرنے کے لیے۔۔۔۔
” آ۔۔۔۔ ” تھپڑ پڑتے ہی وہ درد سے کراہ اٹھی۔ مگر اس شخص کے کسی سوال کا جواب اسکے پاس نہ تھا۔ وہ ہوش میں ضرور تھی مگر دماغ ابھی تک سویا ہوا تھا۔۔۔
” یاد ہے تیری دوست کو ننگا کیا تھا؟؟؟؟؟ یاد کر کیسے تیرے سامنے اسکے جسم کو نوچا تھا؟؟ میں نے اور میرے ساتھیوں نے؟ ہاہاہا۔۔۔۔۔ ” وہ قہقہ لگاتے وہ منظر یاد کرنے لگا جب اس لڑکی کی دوست اسکے آگے منتیں کر رہی تھی رو رہی تھی،،، چیخ رہی تھی۔۔۔ اب بھی اسے کچھ یاد نہیں تھا آٹھ سال بعد وہ نیند سے بیدار ہوئی ہے اِسے تو اپنا نام تک سہی سے یاد نہیں دماغ کا ہر حصہ خالی تھا۔۔۔۔
وہ جو بلند قہقے لگا رہا تھا یکدم خاموش ہوگیا۔ اس شخص کی پیشانی پر سلوٹیں نمودار ہوئیں کوئی اسکے سر پر پسٹل تانے کھڑا تھا۔۔۔ درید بینا کوئی آہٹ کیے ایک ہاتھ اوپر کو اٹھائے (جیسے سرینڈر کیا ہو )پیچھے کو آہستہ آہستہ مڑا اور حاوز سلیمان کی خود کو تکتیں سرخ آنکھیں دیکھ وہ پھر بلند قہقے لگانے لگا۔۔۔۔۔
” میرے ایک وار کی دیر ہے اور تیری محبوبہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن جائے گی۔۔۔۔ اس وقت قابلِ رحم میں نہیں تو ہے۔۔۔ میرے سر سے پسٹل ہٹا کتے۔۔۔ ” درید آخر میں پوری قوت سے دھارا یہی شخص تو تھا جسکی جان کا وہ پیاسا تھا حاوز سلیمان!!! جس نے آج تک اس کیس کو بند ہونے نہیں دیا۔۔ سالوں اس لڑکی کو چھپا رکھا جو اُس جرم کی ایک آخری گواہ تھی۔۔۔۔ حاوز سلیمان ابھی تک اسی پوزیشن میں تھا نہ خوف تھا نہ اُسے کھونے کی سوچ ایک لمحہ لگا تھا اُسے سوچنے میں اور اگلے ہی پل درید کی مسکراہٹ سمٹی۔۔۔۔ٹھاہ ٹھاہ کی آواز نے سب کو حیران کردیا۔۔۔۔۔ حاوز سلیمان نے اس لڑکی کو کھینچ کر اپنی طرف کیا ایسے کے اس لڑکی کا سر حاوز سلیمان کی ٹھوڑی سے کچھ فاصلے پر تھا۔۔۔۔
” نہیں حاوز ” ہمین اتنا بلند چیخا کے اس کا سانس لمحے کو اٹک گیا وہ گہرے گہرے سانس لینے لگا ” آٹھ سال ” زندگی کے آٹھ سال اس نے انصاف کے لئے گنوادیے اور اس شخص نے ” وعدہ خلافی ” کی؟؟؟ حاوز سلیمان کی پسٹل سے نکلی گولی سیدھی جاکر درید کی کھونپڑی میں جا لگی وہ رُکا نہیں تھا درید کے بال دوسرے ہاتھ سے مٹھی میں جکڑ کے پے در پے پسٹل سے گولیاں اس مردہ شخص کی کھونپڑی پر فائر کر رہا تھا اتنا غصّہ تھا اسکے اندر کے بس نہ چلتا اسے بار بار زندہ کر کے مارے ۔۔۔۔۔۔۔
درید کے آدمیوں نے بھی فائرینگ شروع کی مگر پولیس ٹیم ان پر بھاری پڑگئی ایک کے بعد ایک سب نے خود ہی ہاتھ اٹھا کر ” سرنڈر ” کیے ” موت ” سے بہتر کچھ سالوں کی قید بھلی ہے۔۔۔
نفرت سے حاوز سلیمان نے درید کو جھٹکا دے کر نیچے پھینکا۔۔
” نہیں حاوی۔۔ پاگل مت بنو اسکی لاش بھی ہمارے لئے ضروی ہے ” ہمین نے التجا کی مگر وہ سن کہاں رہا تھا؟؟؟ وہ تو دلچسپی سے اسکے گڑتے وجود کو دیکھ رہا تھا حاوز نے انسپکٹر کی چیخ پر بھی اسکے گرڑتے وجود کو نہیں تھاما۔۔دل بہلانے والا منظر تھا جو اسکی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچا رہا تھا آج زندگی(وہ لڑکی) اسکے قریب تھی تو وہ شیطان آج انجام کو پہنچ رہا تھا۔۔۔۔
اسکے گڑنے کی آواز سب نے سنی کیوں کے جس ڈرم میں وہ گڑا تھا اس میں بھرا وہ ” ایسیڈ ” اوپر تک اُچھلا تھا لیکن کسی کو نقصان نہیں پہنچا۔ اسکی اونچائی اتنی نہیں تھی کے وہ بلندی تک جاتا۔۔
حاوز نے آنکھیں بند کر کے گہرا سانس خارج کیا وہ اسکے قریب تھی مگر اس طرح کے وہ اسکے وجود کو نہیں چھو رہی تھی وہ تو اپنی جگہ بس ساکت تھی یا ڈری کھڑی تھی؟؟ حاوز نے ایک قدم پیچھے ہوکر اسکے چہرہ کو دیکھنا چاہا تو وہ خوف سے سفید تھا۔۔۔۔۔۔
مگر۔۔۔ یہ۔۔۔؟؟؟ کیا اسکی آنکھیں جو دیکھ رہی ہیں کیا سچ ہے یہ خواب نہیں؟؟؟۔۔۔۔۔اسکے لب کپکپا رہے تھے پلکیں کبھی اوپر کو اٹھتیں تو کبھی واپس جھک جاتیں،، حاوز سلیمان ساکت تھا،، اسکا دل کسی ننے بچے کی طرح بلک بلک کر رونے کو ہوا۔۔۔
” ع۔۔۔۔۔۔۔ع۔۔۔۔عینا۔۔۔۔ ” اس لڑکی نے یہ نام سنتے ہی پلکیں اوپر کو اٹھائیں تو حاوز سلیمان کا دل رُک سا گیا۔۔ زندگی میں رنگ پھر لوٹ آئے جو بہت گہرے تھے۔ ایسے لگ رہا تھا وہ اندھیروں سے نکل کر خوبصورت صبح میں آگیا۔۔ یہ منظر جان لیوا تھا وہ لڑکی مقابل کے چاروں شانے چت کرچکی تھی۔۔
کوئی دیکھتا اِس وقت حاوز سلیمان کی آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر گئیں۔۔ آٹھ سال زندگی کے آٹھ سال اس شخص نے ” عینا ” کے لئے گنوا دیے۔۔ دنیا سے غافل خود سے بےپروا بس وہ اسکے ساتھ اسکی دنیا میں ” جی ” رہا تھا۔ اسے زندہ رکھنے کے لئے کتنی جانیں گنوائیں تھیں اس نے اِسے یاد تک نہیں بس۔۔۔۔۔ افسوس ہے سامنے پاکر بھی اسکا چہرہ دھندھلا گیا وہ اسے دیکھ تک نہیں پا رہا تھا آنکھیں تھیں کی بھرتی چلی جا رہیں تھیں۔۔۔۔
” حاوز تماشا تو ختم کردیا اب اوپر کیا کر رہے ہو؟؟ ” وہ انسپیکٹر ایک بار پھر بلند آواز میں چیخا حاوز جیسے کسی سحر سے آزاد ہوا۔ اس نے ایک بار غور سے عینا کو دیکھا پھر اپنی آستین سے آنسو پونچھتے وہ سوچنے لگا عینا اب بھی سیو نہیں نا اپنے حواسوں میں ہے۔ حاوز نے ایک لمحہ سوچا پھر اگلے ہی پل عینا کو اپنی باہوں میں اٹھائے وہ نیچے آتی سیڑیوں سے اتڑتے بیسمنٹ کے گرائونڈ فلور پر آیا۔۔۔۔
” یہاں بوم ہے ” وہاں سے گزرتے حاوز کو ایک ٹائمر کی آواز آئی اسے اندازہ ہو چکا تھا یہ کام ” درید ” کا ہی ہو سکتا ہے۔۔
اس کی بات سن کر سب نے وہاں سے دوڑ لگائی پولیس اہلکار ان مجرموں کو لے کر اس بنگلے سے باہر نکل گئے وہاں موجود تھا تو صرف ہمین حاوز کا وہ اسنپکٹر دوست اور زاکون حیدر۔۔۔ جو ساکت تھا بلکل وہیں اپنی جگہ جم چکا تھا عینا کو دیکھ کر۔۔۔۔ ہمین اسکا ہاتھ جکڑ کے اسے اپنے ساتھ کھینچتا ہوا باہر لے جا رہا تھا۔ جبکے حاوز عینا کو اٹھائے اس بیسمنٹ کے پیچھے بنے ایک دروازے کی طرف آیا وہ ایسے گیا تو عینا کو بچا نہیں پائے گا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے؟؟؟ وہ جتنا بھاگنا چاہے عینا کے وزن سے وہ بھاگ نہیں پائے گا۔۔۔ نہ اس دروازے کے پیچھے وہ بوم سے چھپ سکتا ہے۔۔۔
تبھی اس کا ذہن یکدم کسی نیند سے جاگا وہ عینا کو ویل چئیر پر ہی یہاں لایا ہوگا۔۔۔۔ ہاں عینا کی ویل چئیر وہ عینا کو لئے بیسمنٹ سے باہر نکلا زمین پر کھڑا کر کے بھاگتا ہوا وہ ارد گرد ہر طرف دیکھنے لگا تبھی اسے وہ وئیل چئیر گارڈن ایرایا میں نظر آئی نیچے زمین پر الٹی پڑی تھی جیسے کسی نے لات مار کر اسے گڑایا ہو۔۔۔
حاوز بھاگتا ہوا وہ وہیل چئیر لے آیا اور اتنی ہی تیزی سے اس نے عینا کو اپنے باہوں میں اٹھا کر ویل چئیر پر بٹھایا یہی نہیں اس نے کھڑکی کو ڈھانپتے پردوں میں سے ایک پردہ نکالا اور اُسے پوری قوت سے پھاڑ دیا اس پردے کو لے کر اس نے وہ عینا کے گرد باندھ دیا تاکہ وہ جتنی تیز ویل چئیر چلائے پر عینا نیچے نہیں گڑے۔۔ اور ایسا ہی ہوا وہ وہ جتنی تیزی لگا سکتا تھا اتنی تیزی سے وہ بھاگ رہا تھا اسکا سانس پھولنے لگا تھا مگر اسکی ٹانگیں ایک پل کو نہ رُکیں اور جیسے ہی وہ پچھلے گیٹ سے گھر کے باہر نکلا ٹھیک تین منٹ بعد وہ بنگلا انکی آنکھوں کے سامنے بلاسٹ ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عینا کو اس وقت وہ اپنے فارم ہائوس لایا تھا۔ انسپیکٹر ہمین درید کی آدمیوں کو لیکر پولیس اسٹیشن گیا تھا لیکن حاوز اسی کی مدد سے عینا کو یہاں لایا تھا۔۔ وہ عینا کو بستر پر احتیاط سے لٹا کر اسے غور سے دیکھ رہا تھا۔ آئی وی کا سامان اس نے اپنے ایک آدمی سے منگوایا تھا تاکے وہ عینا کو کچھ ادویات دے اسکے حساب سے وہ بےحد کمزور ہو چکی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” عینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
اسکی آواز میں صدیوں کی پیاس تھی۔عینا جو کب سے خاموشی سے آنکھیں بند کیے لیٹی تھی اس پکار پر آنکھیں کھولیں!!!!!!
” پوچھو جو دل میں ہے ” حاوز نے ہاتھ بڑھا کر اس کے گال کو چھونا چاہا تو پھر وہی احساس ہوا جو صدیوں سے اسے ” عینا ” کے قریب جانے سے روکتا تھا۔ وہ صرف اسکی ” پیشنٹ ” تھی” بیوی ” نہیں۔۔۔۔۔۔
” کچھ بولو!!!! تمہیں سنے کی حسرت رہ گئی۔۔۔ “
وہ بس اسے دیکھ رہی تھی اسے اپنا وجود بےحد تھکا سا لگ رہا تھا۔ وہ اس سے کیا پوچھے وہ تو خود اُس شخص کو سوچ رہی تھی جسکی آواز سے خوفزدہ ہوکر وہ نیند سے جاگی تھی۔۔ وہ شخص اسے ایک کمرے میں چھوڑ آیا تھا جہاں سے ” درید ” اسے اٹھا کر اپنے ساتھ لے گیا۔۔۔۔۔
وہ شخص کون تھا؟؟ یہ کون ہے جو ” عینا ” کہ کر اسے پکار رہا ہے اور وہ اُسکی ” پکار ” پر اُسے دیکھنے کیوں لگتی ہے؟؟؟ وہ خود ہے کون؟؟ اور یہاں کیسے آئی؟؟ یہ سب کون ہیں؟؟ کیا اسکے ماں باپ نہیں؟ کیا وہ لاوارث ہے؟؟
” میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ک۔۔۔۔کون۔۔۔ ہوں۔۔۔۔ ” حاوز نے آنکھیں میچ لیں اسے یہی شک تھا۔۔ اور شاید مہینہ لگے گا عینا کو ریکور ہونے میں۔ وہ اسے دیکھتی پوچھ رہی تھی حاوز نوک کی آواز پر وہاں سے اٹھا اور عینا نے دیکھا تھا وہ اسے اکیلا نہیں چھوڑ رہا سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں وہ واپس آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
” میری عینا!!! جس پر ” جن ” کا سایہ تھا۔۔۔۔ ” اسکی آنکھیں مسکرا رہیں تھیں عینا کو اپنے بازو پر چُبن سی محسوس ہوئی اتنے عرصے بعد حاوز سلیمان شاید آج پہلی بار دل سے مسکرایا تھا اسکی آنکھیں اسکی خوشی کی گواہ تھیں۔۔۔۔۔۔
” ت۔۔۔۔۔تم۔۔۔ک۔۔۔۔کو۔۔۔کون۔۔ہ۔۔۔ہو ” بازو پر اب درد کی شدت کم ہوگئی تھی۔ حاوز نے انجکشن سے بھری سیرینج اسکی نس میں خالی کی اور احتیاط سے سیرینج نکالتے ساتھ ہی وہاں کاٹن رکھ دی۔۔۔۔۔۔
” وہی جس نے تمہیں ” جن ” کی قید سے آزاد کیا ” وہ مسکرایا۔ عینا بس خالی نظروں سے اسے دیکھتی رہی۔ دونوں کی آنکھیں ایک دوسرے کو غور سے دیکھ رہیں تھیں ایک کی آنکھوں میں الجھن تھی، اجنبیت تھی وہ اسے یاد کر رہی تھی آخر یہ شخص ہے کون؟؟؟؟؟ اور دوسری طرف حاوز سلیمان اپنی زندگی کی گڑتی پلکوں کو دیکھ رہا تھا جو دیکھتے ہی دیکھتے جلد غنودگی میں چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔
حاوز اٹھ کر لاؤنچ میں چلا آیا جہاں ٹوٹا بھکرا زاکون حیدر اس کے سامنے تھا وہ ابھی تک ” شاک ” کی کیفیت میں تھا۔ وہ عینا کو دیکھ چکا تھا اور اسکے نام سے جان گیا تھا یہ وہی لڑکی ہے جو ” مومنہ ” کے ساتھ اُس دن ہسپتال آئی تھی اور یہ ” زندہ ” ہے تو ” مومنہ ” ؟؟؟ اسکے آگے زندگی کا ہر لفظ ختم ہے۔
اسکی حالت دیکھ کر حاوز نے خود ہی پہل کی۔۔۔۔۔
” تم حقیقت سے ہر وقت آگاہ تھے زاکون!!!!! بس خود کو دھوکہ دے رہے تھے!!!!! مرنے والے کبھی واپس نہیں آتے۔۔۔ تمہاری آنکھوں کے سامنے اُسکی میت گزری تھی۔۔ مردہ وجود نظروں کے سامنے تھا۔۔۔۔ پھر؟؟؟؟ “
وہ ابھی تک ویسے ہی خاموش تھا حاوز نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تو اسے احساس ہوا وہ رو رہا ہے جھکی نظریں گنواں ہیں۔۔۔۔۔ آنسوں بہنے سے پہلے ہی وہ آنکھوں میں ہی اُن آنسوں کو ” خشک ” کردیتا۔۔۔
وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو پھیلائے انھیں دیکھ رہا تھا۔
” ان لمحوں میں۔۔ میں نے زندگی جی لی۔۔ اُسکے اِحساس نے کے وہ زندہ ہے مجھے زندگی بخشی۔۔۔ میں اُسکے لئے اب تک جی رہا تھا۔۔۔۔ حاوز سلیمان یہ احساس مجھے مار رہا ہے وہ نہیں رہی۔۔۔ کبھی اُسے دیکھ نہیں پاؤں گا۔۔۔
مومنہ کا وجود ہی نہیں۔۔۔ وہ ہے ہی نہیں۔۔۔۔۔ ” اس بار آنسوں کو خشک نہیں کیا تھا آنکھوں کے ذریعے انھیں بہنے کا راستہ دیا۔۔۔۔۔۔
” اور میرے لئے یہ احساس دردناک ہے کے اُس نے خود کشی کی ” حاوز کی بات پر ایک جھٹکے سے زاکون نے سر اٹھایا یہ ” سوچ ” کبھی ذھن میں آئی ہی نہیں؟؟؟؟؟؟
” وہ میری اُن وفادار اسٹونڈس میں سے تھی جس نے غداری کی ” وہ شخص کیا تھا؟؟؟ ملا سالوں بعد اور آج انکشاف پر انکشاف۔۔۔ پہلے عینا اب مومنہ کی موت؟
“میرے ہی ” کریش کارڈ ” سے انجیکشن نکال کر تین وائلز خود کو انجیکٹ کیں۔۔۔۔ ” زاکون ضبط کے مارے سرخ پڑ گیا دل چاہ رہا تھا اتنا بلک بلک کے روئے کے آسمان بھی آج اُسکے ” درد ” پر آنسوں بہائے۔۔۔
نوٹ:- کریش کارڈ ایک شیلف کی طرح یا تجوری کی طرح ہے جو ہر ہسپتال میں موجود ہے جہاں ڈاکٹرز نرسسز ایمیرجنسی میڈینسسنز رکھتے ہیں۔ جو آخری لمحوں میں کام آتی ہے جب پیشنٹ وینٹ پر جانے لگتا ہے یا اپنی آخری سانسیں لے رہا ہوتا ہے۔۔۔۔
” وہ نرسنگ مینیجر سے سب کچھ سیکھی تھی۔ کسی پیشنٹ کی نس نہیں ملتی تو غیر حاضری میں سب مومنہ کو بلواتے تھے۔۔ اس نے سب کو ” خود ” پر دیپینڈٹ کیا تھا اپنی قابلیت سے محنت سے۔۔۔ میری ملاقات اس سے ایک پیشنٹ کی ٹریٹمنٹ کے دوران ہوئی۔۔ وہ میرے سیسشنز دیکھ کر اکثر ضد کرتی روز آنے کی اُسے بہت شوق تھا ” انسانی دماغ ” کو پڑھنے کا۔۔
پیشنٹ سے جو سوال کروں وہ دلچسپی سے اُن سوالوں کے جوابات سنتی اکثر سوچتا ہوں۔۔۔۔
وہ بےحس لوگوں کو دیکھ چکی ہے۔۔۔
ریپ ویکٹمز سے ملی ہے۔۔۔۔۔
معصوم چہروں کے پیچھے چھپے قاتل سے مل چکی ہے۔۔
پھر خود کشی کیسے کی؟؟؟؟
جس طرح نرسینگ مینیجر کو تم عزیز ہو زاکون مومنہ بھی تھی۔ انہوں نے ہی تو ہر انسان کو قابل بنایا ہے اپنی اسکیلز سے۔۔۔ مومنہ سے ہی مجھے اِنکا معلوم ہوا۔۔ خیر۔۔۔ کہنے کا مقصد یہ تھا مومنہ کو ہر کوئی جانتا تھا سوائے تمہارے۔۔۔۔ ” حاوز نے زاكون کی طرف انگلی کی تو زاکون بےبسی سے دیوار کو دیکھنے لگا یہ ” سچ ” تھا آنکھیں اسکے زکر سے پھر بھیگ رہی تھیں۔۔۔۔
تمہارے انکار کی وجہ ” نجمہ آنٹی ” تھیں۔۔ مگر ” بیٹی ” تو وہ تمہارے مرحوم ” چچا ” کی بھی تھی۔۔۔۔ ” زاکون نے نظریں پھیر کر اسے دیکھا تو کیا وہ اسکے ” انکار ” کی وجہ جانتا تھا؟؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔
” جس رات شاید مایوں تھا یا مہندی اُس سے اگلے دن وہ ہسپتال آئی تھی۔۔۔ وہ خود کو مارنے آئی تھی یا مجھ سے ملنے؟ نہیں جانتا۔۔۔۔۔
پر کاش میں جان پاتا وہ کیا کرنے لگی ہے؟ تو تھپڑ مار کر اُسے رُوکتا۔۔۔۔۔
اِسکی آنکھیں بےتاشا سرخ تھیں۔۔
پلکیں نم۔۔۔۔
وہ رو رہی تھی۔۔۔۔
بتا رہی تھی۔۔۔۔۔
کے۔۔۔۔
” ڈاکٹر میری شادی ٹوٹ گئی!!! اُس نے انکار کردیا۔۔ ” وہ نرس کے گرین اسکریب میں ملبوس تھی ہاتھوں اور بازؤں پر دلہن کی طرح بھر بھر کر مہندی لگی تھی وہ پہلے سے کہیں زیادہ آج خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔۔
” کیوں؟؟؟ ” حاوز سلیمان اپنی ڈسک کے پاس کھڑا تھا۔ اسکے آنے سے پہلے وہ ایک فائل کا مطالع کر رہا رتھا مگر اسکی حالت دیکھ وہ سب چھوڑ کر بس اسکی طرف متوجہ تھا۔۔۔۔۔
” وہ مجھے پسند نہیں کرتا۔۔۔ ” حاوز کی نظریں اسے پر تھیں وہ کس قرب سے کہ رہی ہے وہی جانتی ہے۔۔۔
” کوئی وجہ؟؟؟ “
” میری ماں میرے باپ کی قاتل ہے ” پہلی بار حاوز نے اسے ٹوٹتے دیکھا تھا وہ خود کو کنٹرول کیے ہوئے تھی ورنہ یہاں دھاریں مار مار کر روتی۔ حاوز کو اندازہ تھا اسکا چہرہ اِسکا ہر دکھ عیاں کر رہا تھا۔ اسکی آنکھیں کسی پل رُکیں نہ تھیں آنسوں سیلاب کی طرح بہ رہے تھے۔۔
” اُسے لگتا ہے؟؟ “
” اُسے یقین ہے!!! اور یہ بھی کے میں صرف ” نجمہ ” کی بیٹی ہوں۔۔ عمران مرتضیٰ کی نہیں ” دکھ تھا اسکے معصوم چہرے پر واقعی کتنی بڑی بات کہی تھی اس نے۔ نفرت کرنے والے یہ کیوں نہیں دیکھتے وہ تھی تو ان کا ہی ” خون “۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” اُس نے کہا یہ سب ” حاوز نے ابرو اچکا کے پوچھا۔۔۔۔
” نہیں امی دادی سے کل رات معافی مانگ رہیں تھیں کے وہ ہمیں ” بددعا ” نہ دیں!!!!! اِنکے بیٹے کی موت کی زمیدار وہ ہیں۔۔۔ اُس وقت وہ آسمان کی بلندیوں کو چھوتیں تھیں اب واپس ” زمین ” پر ہیں ” آنسوں پونچھتے مومنہ نے کہا نظریں ابھی بھی وہ جُھکائے ہوئے تھی شاید اِسے شرمندگی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔
” ہم!!!! لیکن یہ انکار کی وجہ تو نہیں “
” شاید وہ مجھ سے نفرت کرتے ہیں !!! ورنہ اتنی ” سنگدلی ” تو کوئی غیر نہیں دیکھاتا اور ” وہ ” تو میرے اپنے تھے ” لفظ ” اپنے ” پر مومنہ نے سر اٹھا کر بھیگی آنکھوں سے حاوز سلیمان کو دیکھا کے شاید اِسکے پاس جواب ہوگا وہ جو لوگوں کا دماغ پڑھتا ہے اسے ” زاکون حیدر ” کا دماغ پڑھ کے بتاۓ گا مگر وہ تو خود اِسکے انکشافوں پر حیران تھا۔۔ کیا زندگی سے کسی کو نکالنے کی بس ایک ” وجہ ” چاہیے ہوتی ہے جو زاکون کو مومنہ کے لئے ملی تھی؟؟؟
” وہ تمہارے قابل نہیں تھا مومنہ!!!!!! ” حاوز نے مٹھی بھینچتے کہا یھ لڑکی اسے اپنی چھوٹی بہنوں جیسی عزیز تھی اسکی شادی ٹوٹنے کا دکھ اتنا نہیں تھا مگر ” وجہ ” جان کر حاوز سلیمان کو اندازہ ہوا وہ شخص دنیا کا بدقسمت ترین شخص ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
” آپ میرے لئے دعا کریں میں اپنے ” پاپا ” کے پاس چلی جاؤں ان سے اچھا اور سچا پوری کائنات میں کوئی نہیں۔۔
Please Pray For Me I M Dying Inside “
وہ مجھ سے التجا کر رہی تھی زاکون!!! میں اُسکے لئے
” موت ” کی دعا کروں۔ یقین مانو میں جب اُسے سوچتا ہوں بس یہ خیال آتا ہے اُسنے ” حرام موت ” چُنی۔۔
میں اِس کی موت کو جسٹفائے نہیں کرونگا مگر وہ دل اور دماغ کی ایک جنگ لڑ رہی تھی۔۔ لوگ کہتے ہیں دیکھو کیسے ایک لڑکی کے لئے اُس مرد نے حرام موت چُنی یا مرد کے لئے لڑکی نے چُنی ہم یہ نہیں سوچتے کے
” موت ” ایک ایسا دردناک عمل ہے جس سے زمین و آسمان بھی کانپ جائیں۔ انسانی جسم سے ” روح ” نکلنا
” درد ” کی وہ آخری حد ہے جسکی کوئی شدت نہیں “
ہم یہ نہیں جان سکتے انکے دماغ میں آخر کیا سوچ آتی ہے؟؟؟جو دل پر بھی حاوی ہوجاتی ہے۔۔۔ اگر وہ یہ نہ کریں کیا اس سے آگے اُنکی زندگی ختم ہے؟؟؟ موت سے زیادہ دردناک زندہ رہ کر اسے برداشت کرنا ہے؟؟؟
مومنہ کو اپنے ” باپ ” کے پاس جانا تھا؟؟؟
ماں کو احساس دلانا تھا؟؟؟
مایل کی آنے والی زندگی کا ڈر تھا؟ کہیں اسکی زندگی پر یہ اثر نہ پڑے ؟؟
کیا وہ اپنی موت؟؟ ان سب پریشانیوں کا حل سمجھتی تھی؟؟؟
یا۔۔۔۔۔۔ ” سرخ انگارہ لال آنکھیں جو آنسوں کی شدت سے سرخ ہو چکی تھیں حاوز سلیمان کو ہی دیکھ رہیں تھیں جو اتنے ” انکشاف ” کرنے کے بعد اب خاموش ہوگیا تھا۔۔۔ زاكون کو بےچینی سی ہو رہی تھی وہ چُپ کیوں تھا بول کیوں نہیں رہا تھا؟؟؟؟
” یا کیا؟؟ ” تڑپ کر اسنے خود پوچھ لیا حاوز نے گہرا سانس خارج کیا۔۔۔۔۔
زندگی جینے کی خوائش ختم ہو چکی تھی ” وہ اسی کے لئے تھا۔ زاکون نے قرب سے آنکھیں بند کرلیں۔ کیا وہ زاکون سے محبت کرنے لگی تھی؟؟؟؟؟ حاوز سلیمان پہلا شخص ہے جسکے آگے زاکون حیدر اتنا رویا ہے۔ وہ سچ کہ رہا تھا آج تک وہ خود جان کر مومنہ کو زندہ کیے ہوئے تھا۔ بس کہیں نہ کہیں وہ ہر پہلو کو جھوڑتا اسکے ” زندہ ” رہنے کی خود کو امیدیں دے رہا تھا۔ شاید وہ جان کر اس ” جھوٹ ” کی دنیا میں رہنا چاہتا تھا کیوں کے سچ تکلیف دہ تھا جو اسکی برداشت سے باہر ہے۔۔۔۔۔
آج تو ہر امید دم توڑ گئی۔
کتنا بدنصیب ہے وہ۔۔۔۔
جو ” وقت ” کی قدر نہ کر سگا۔۔
جوانی کے جوش میں خود کو ” بادشاہ ” بنا بیٹھا۔۔۔
اگر اسے چچا عزیز تھے تو ” مومنہ ” انہی کا خون تھی اسکا بس نہ چلتا وہ اس پر زندگی قربان کردے مگر زاکون نے تو اسکی زندگی قربان کردی۔۔۔۔۔۔
” آآآآآآآآآآ۔۔۔۔۔۔۔ ” چیخ کر زاکون حیدر نے اپنے بال نوچے حاوز صوفہ پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے اسکا ہر عمل دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
” آرام سے۔۔۔ عینا اٹھ جائے گی ” وہ اسے عام سے انداز میں کہ رہا تھا۔ زاکون کو پل بھر کے لئے ” حیرت ” بھی ہوئی کیا وہ اتنا سنگدل ہے اسکی طرح ؟؟ اس کے ” درد ” سے بڑھ کر عینا کی نیند ہے؟؟
” اپنے حصے کا دکھ منا چکا ہوں!!! ایک روگ تمہیں تھا ایک مجھے آج میں اُس روگ سے آزاد ہوں امید کرتا ہوں تم بھی آگے بڑھو!!! زندگی صرف جینے کا نام نہیں دوسروں کے لئے جینا سیکھو خاص کر اپنے ماں باپ کے لئے۔۔۔۔ ” زاکون اسے کیا بتاتا وہ اب ” جیتا ” ہی دوسروں کے لئے ہے۔۔۔۔۔۔
” زاکون حیدر کچھ کہانیاں ادھوری رہ جاتی ہیں!!! ہر سوال کا جواب نہیں مل سکتا جیسے ہم سب ” اب ” بھی انجان ہیں اُسکی ” سوچ ” سے۔۔۔۔۔ وہ جاتے ساتھ اپنی زندگی کی وہ کتاب بند کر چکی ہے۔ جس کے پنے جتنی کوشش کرو نہیں کھلیں گئے۔ وہ اسکا اختیار کسی کو دے کر نہیں گئی ” سیٹ کی پشت سے سر ٹکائے وہ اسے سن رہا تھا۔۔۔۔۔۔
” کاش۔۔۔۔۔۔۔ ” کہتے کہتے زاکون رُک گیا۔۔۔۔
” کاش تم ” میری ” نہ ہوتیں مگر ” زندہ ” تو ہوتیں۔۔۔” اِسکی آنکھیں لباب پانیوں سے بھریں تھیں۔ وہ دل میں اُس سے مخاطب تھا۔۔۔
کاش ایک بار میرے سامنے میرا نام لیتیں۔۔۔۔۔
کاش ایک بار تمہارے ہاتھوں میں پھر سے اپنا نام دیکھ پاتا۔۔۔۔۔
کاش۔۔ کاش۔۔۔میں جان پاتا تمہارے ہر دکھ،، ہر غم کی وجہ۔۔
کاش میں تمہاری قدر کر پاتا۔۔۔۔۔
کاش۔۔ موت مجھے اپنی لپیٹ میں لیتی۔۔ میری زندگی تمہارے نام ہوتی کاش۔۔۔۔۔ کاش۔۔۔۔۔۔ مومنہ۔۔۔۔ کبھی کبھی لگتا ہے تم میری روح میں بسی ہو۔۔۔۔۔بس دکھ یہ ہے۔۔۔۔
تمہیں دکھ دینے والا زاکون حیدر کبھی تمہیں محسوس نہیں کر سکتا۔۔۔۔ کبھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔”
وہ سسکیاں لیتے بلک رہا تھا۔۔۔ حاوز نے اسے روکا نہیں وہ روئے خوب روئے مگر اب اس روگ سے نکل آئے۔۔۔ کسی کے جانے سے زندگی ختم نہیں ہوتی۔۔
دس ،پندرہ ،بیس پھر پچیس منٹ گزر گئے جب وہ اس
” غم ” سے باہر نہیں آیا تو خود ہی حاوز نے اسکا زھن دوسری طرف مائل کرنے کی کوشش کی۔۔۔۔وہ بس آنکھیں بند کیے اِسکی سوچوں میں الجھا تھا۔۔۔۔۔ کہیں کھو گیا تھا مومنہ کا چہرہ بار بار بند آنکھوں کے آگے آتا۔۔۔۔۔۔
” مومنہ بھی اچھی ہے۔۔۔۔ تمہیں unfortunately پسند کرتی ہے محبت بار بار دستک نہیں دیتی۔۔ یہ اتفاق ہے اُسکا نام بھی مومنہ ہے مگر کیا پتا اِسی میں تمہاری
” خیر ” ہو۔۔۔۔ ” زاکون نے آنکھیں نہیں کھولیں جیسے اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی اس بات میں۔۔۔۔۔
” کچھ ایسا کہو نہ۔۔۔ جس سے میرا دل غم سے پھٹ اٹھے ” زاکون نے التجا کی مومنہ کا ذکر اسکی باتیں اسکا اظہار۔۔۔ اسکا احساس زاكون کو پاگل کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
” مومنہ تھی ایسی کہ ہر شخص اسے پانے کی خواہش رکھے وہ اکثر بتاتی تھی کہ زندگی میں ” صاحبان ” ہونا ضروری ہے اُسے کافی لوگوں کی نظریں شدید بُری لگتی تھیں۔۔۔۔ ایک دفعہ غصے میں ہی سہی مگر مومنہ نے ایک بات کہی تھی جو آج تک بھولا نہیں۔۔۔۔” ڈاکٹر آپ دیکھنا میرا شوہر نہ ان سب پر بھاری پڑے گا میں اُسے ” سی سی یو ” کا انجارج بنوائوں گی یا ” ٹیم لیڈر ” پھر کوئی نظر اٹھا کر اُسکی ” بیوی ” کو نہیں دیکھے گا۔۔۔۔۔۔” وہ فخر سے کہتی تھی عجیب بات ہے نہ تم ” ہیڈ ” ہو بھی ” سی سی یو ” کے۔۔۔۔۔۔۔ پھٹا دل غم سے ” حاوز سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا زاکون کو اسکا انداز طنزیہ ہی لگا تھا مگر دل واقعی ” غم ” سے پھٹ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
کچھ باتیں۔۔۔ کچھ عمل کتنے گہرے ہوتے ہیں۔۔ اسنے بس کہا تھا ” زاکون ” نے سوچا تک نہیں خود ہی آج وہ اسی فلور کا ” ہیڈ ” بن گیا۔۔۔۔
” کون تھے وہ؟؟؟ ” وہ حاوز سے اُن لوگوں کا پوچھ رہا تھا جو مومنہ کو تنگ کرتے تھے مگر حاوز طنزیہ مسکرایا۔۔۔۔۔۔۔
” مرنے والوں کا بدلہ زندہ لوگوں سے لوگے؟؟۔۔۔۔۔ یہی تو کیا تھا انجام دیکھا نہیں؟؟؟؟ ” حاوز اسے لاجواب کرگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ابھی ارحم کو نہلا کر نکلی تھی۔۔ اسکا جسم چھوٹے سے ٹاول سے پونچھ کر مایل نے ٹیلکم پاؤڈر اسکے جسم پر اچھے سے لگایا اور پیک کر کے اسے گرے کلر کی شارٹ اور شرٹ پہنائی جو اسکے گورے رنگ پر خوب جچ رہی تھی۔۔ پھر وہ ارحم کا دودھ بنا کر سمرین کو ارحم تھما گئی تاکے وہ خود بھی نہا کر فریش ہو۔۔۔۔
کچھ دیر بعد جب وہ فریش ہوکر باہر نکلی تو سمرین لاؤنچ میں ارحم کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی اور اسے دودھ کے بجائے سیریلک کھیلا رہی تھی جو یقیناً انہوں نے خود بنایا تھا۔۔۔۔۔۔
” ممی آپ بھی نہا لیں پانی گرم آرہا ہے میں اسے کھیلاتی ہوں۔۔۔ “
” بس آخری چمچ ہے!! تم اسکا منہ دھلوا دو۔۔۔ ” سیریلک سے بھرا آخری چمچ ارحم کے منہ میں ڈال کر سمرین نے اسے گودھ میں اٹھا کر مایل کو تھمایا اور خود نہانے چلی گئیں۔۔۔۔ منہ ہاتھ دھلوا کر مایل جیسے ہی کچن سے باہر نکلی چونک گئی۔۔۔۔
” آپ “
” اجازت ہے؟؟؟ تمہارے بیٹے کو پیار کرنے کی؟؟؟ ” المیر کی پہلی نظر ہی ارحم پر پڑی جسے دیکھتے ہی المیر کو اسے لینے کی چاہ ہوئی۔ بےاختیار المیر کو اپنے دوست کا وہ بیٹا یاد آیا جسے مایل ارحم سمجھ رہی تھی دو دن تک اُسے ” زونیشہ ” نے پالا تھا جس سے المیر کو اندازہ ہوا زونیشہ کو بچے بےحد پسند تھے۔۔۔۔
” جی۔۔۔۔ ” مایل نے خاموشی سے ارحم کو آگے کیا جسے المیر نے فوراً تھاما۔۔۔۔۔۔
” بہت پیارا ہے۔۔۔ بلکل زریق کی کوپی ہے۔۔۔۔ ” اسکے دونوں گالوں پر بوسہ دیتے المیر نے کہا۔ اسکی آنکھیں بھی بےحد پیاری تھیں جن پر المیر نے اپنے لب رکھ کے پیار کیا۔ ہو با ہو وہ آنکھیں زریق کی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” اپنے پاپا پر گیا ہے ” المیر اسکی بات پر مسکرایا۔۔۔۔۔واقعی وہ بدل گئی ہے۔۔۔۔ جبکے مایل سوچ رہی تھی اسکا بیٹا بلکل اس جیسا ہے ہر کوئی کہتا ہے۔۔ ہاں البتہ آنکھیں زریق کی ہیں پر المیر شاید اسے کسی چیز میں کامپلیمینٹ نہیں دے سکتا۔۔۔۔۔
” کیسی ہو؟؟؟؟ ” المیر نے اب اسکا حال چال پوچھا مایل کو اسکا لہجہ گھمبیر لگا۔۔۔۔۔
” ٹھیک ہوں۔۔۔ وہ آپ نے؟؟؟ ” مایل نے کچھ جھجھک کر پوچھا۔ وہ ان پپرز کی بات کر رہی تھی جو مایل المیر کے کمرے میں رکھ آئی تھی تاکے وہ زونی کے لکھے الفاظ پڑھے۔۔۔۔۔۔۔
” پڑھ لیے!!!!! ” مایل کو نہایت حیرانگی ہوئی المیر کو دیکھ کر لگ نہیں رہا تھا کے اُسنے پڑھے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
” آپ نے زونیشہ کے ساتھ اچھا نہیں کیا ” وہ خود کو روک نہیں پائی یہ شخص واقعی سنگدل تھا کوئی احساس نہیں اُسے۔۔۔۔۔۔۔
” مجرم تو تمہارا بھی ہوں ” اس جواب کی توقع نہ تھی مایل یکدم پزل سی ہوگئی المیر اسی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
” ہاں مایل!!!! تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی اب میں سوچتا ہوں کہاں غلط تھا؟؟؟ تو زندگی کے پنے بیتے کل کی یاد دلاتے ہیں۔ نجمہ چاچی جیسی بھی ہیں یاد ہے مجھے پوری رات تمہارے لئے جاگتیں تھیں جب تمہیں
” میں ” ایکزیمز کی تیاری کرواتا تھا۔۔۔ پتا ہے
کیوں؟؟؟؟؟ “
” نہیں ” مایل نے الجھ کر جواب دیا بھلا اسکا یہاں کیا ذکر؟؟؟؟؟ اور ” جیسی بھی ہیں ” کا مطلب وہ سمجھ گئی ان خطوں میں مایل کی ماں کے بارے میں بھی لکھا تھا اُس وقت مایل نے سوچا نہیں مگر وہ کیا کرتی؟؟؟؟
” کہیں میں کمزور لمحے کی لپیٹ میں نہ آجاؤں۔۔۔ ہاں سچ ہے یہ۔۔ مرد اور عورت کے بیچ اسی لئے فاصلہ رکھا گیا ہے عورت کو پردے کا حکم ہے تو مرد کو انھیں عزت دیکر نگاہیں جھکانے کا کہا گیا ہے ” شیطان ” کب انسانی شکل اختیار کر کے زندگی روند دے پتا نہیں چلتا۔۔۔۔۔
ہاں میں تمہارا مجرم ہوں کے میں نے تمہیں راستہ دیا۔۔۔۔
تمہارے معصوم ذھن کو سمجھ نہ سگا۔۔۔۔۔
میں تمہارے لئے تمہارا واحد ” محافظ ” تھا۔۔۔۔
ہر پل تمہارا سایہ بن کر میں نے سوچا ہی نہیں اس سائے کو تم ” زندگی بھر ” کے لئے اپنے پاس چاہتی ہوگی۔۔۔
میں یہ سمجھ نہ سگا راستے میں نے تمہیں خود دیے تھے تمہاری عادت بن کر،، تمہاری توجہ بن کر،، تمہاری زندگی کا واحد سہارا بن کر۔۔۔۔
تمہیں محبت کیسے نہ ہوتی؟؟ تم نے میرے علاوہ اپنے ساتھ کسی کو پایا ہی نہ تھا۔۔۔
میں ہے آگے تھا ہر پل ہر وقت۔۔۔۔۔
ورنہ آریز تھا،، زاکون تھا،، سب تمہارے سامنے تھے پر تم نے بس میرا انتخاب کیا۔۔۔۔۔
کاش مجھے ان ” جذبوں ” کا علم ہوتا تو اپنی حدیں محدود رکھتا۔۔۔۔۔۔
میں تم سے معافی مانگنے آیا ہوں۔۔۔۔
مجھے حق نہیں تمہیں سُنانے کا۔۔۔۔
تم پر حکم چلانے کا۔۔۔۔۔۔۔
تم سے زبردستی نکاح نکامے پر سائن کروانے کا۔۔۔۔
ہان بس حق اتنا تھا۔۔۔ ” تمہارا محافظ ” بنوں اور تمہیں
” تمہارا ” اختیار دوں اپنی زندگی کی مالک تم خود ہو اور
” چچی ہیں “۔۔۔۔۔۔۔ ” میں ” نہیں
I AM SORRY FOR EVERYTHING I DID TO YOU
پر مایل یہ ” سچ ” ہے اور میں اس میں شکر گزار ہوں میری نظریں تمہارے معملے میں پاکیزہ ہیں میں نے ہر لمحہ ہر پل جب تمہیں سوچا تمہارے اور اپنے کردار کو مضبوط بنا کر سوچا ہے۔۔۔۔۔ اقرار کرنا گناہ نہیں یہ مجھے زونیشہ نے سمجھایا۔۔۔۔ چاہے شادی سے پہلے ہو یا بعد ہمسفر چُنے کا حق سب کو ہے اگر تم نے۔۔۔۔۔
” پلیز۔۔۔۔۔” مایل کو الجھن ہو رہی تھی اب تو وہ ایسا کچھ سوچتی بھی نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔پھر یہ شخص ماضی کا ذکر کر کے اسے شرمندہ کیوں کر رہا ہے؟؟؟
” اگر اظہار کیا بھی تو غلط نہیں تھا۔۔۔ مجھے یہ سمجھنے میں زندگی لگ گئی جب وہ مجھ سے دور چلی گئی۔۔۔۔۔۔” آخر میں المیر زخمی سا مسکرایا۔۔۔۔۔
” آپ اس سے مل لیں۔۔۔۔۔”
” وہیں جاؤں گا!!! بس آج تم سے دوستی کرنے آیا تھا اور یہ اختیار مانگنے آیا تھا کے اپنی زندگی سے مجھے دور مت کرنا مایل آج بھی تم مجھے ” عزیز ” ہو۔۔ جب پکارو گی میں آؤں گا اور اس بار تمہیں دکھ نہیں دونگا۔۔ تمہیں سنوں گا سمجھوں گا۔۔۔ جیسے بچپن میں کرتا تھا۔۔۔ ” اسکی بات پر دونوں مسکرا پڑے بچپن میں مایل جب المیر سے کہتی تھی وہاں بھوت ہے جو ہمیں دیکھ رہا ہے تب المیر بھی کہتا تھا ” ہاں مجھے خود ڈر لگ رہا اسکی خوفناک آنکھیں دیکھ ” تب المیر اسلئے ایسا کرتا تھا تاکے مایل چُپ ہوجاے ورنہ وہ اتنا چیختی تھی کے کان کے پردے پھٹنے لگتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مایل کی مسکراتی آنکھوں میں وہ نمی دیکھ رہا تھا جانتا تھا ” وقت ” بہت آگے سیرک آیا ہے شاید مایل کو اِسکی معافی سے اب فرق بھی نہیں پڑتا تھا۔۔۔۔۔۔۔
” آپ نے جو تھپڑ مارا تھا۔۔۔۔ ” مایل کو اِسکا تھپڑ یاد آتے ہی شدید غصّہ آیا المیر نے بال کھجائے۔۔۔۔۔۔۔۔
” تم سے بڑا ہوں اب کیا ہاتھ اٹھاؤ گی؟؟؟ ” وہ شرمندہ سا لگ رہا تھا۔۔۔۔۔
” آپ سے چھوٹی تھی آپ کو اُٹھانا چاہیے تھا؟؟؟۔۔۔ ” وہ الٹا غصّے سے پوچھ رہی تھی المیر سوچ رہا تھا کہاں پھنس گیا؟؟؟؟؟؟ تبھی ارحم کو نجانے کیا ہوا وہ المیر کی گودھ سے نیچے کھسکنے لگا المیر نے جیسے ہی اسے واپس اوپر کیا کے وہ نیچے نہ گرے تبھی ارحم نے اسکے گال پر زور سے اپنا ہاتھ مارا مایل کا منہ کھلا رہ گیا اپنے بیٹے کی حرکت دیکھ کر۔۔۔۔۔جبکے المیر سُن ہوگیا۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔