Wo Ajnabi by Yusra readelle50025 Episode 25
Rate this Novel
Episode 25
” بتاؤ ورنہ میرا دل بند ہو جائے گا ” وہ جو اس سے لگی رو رہی تھی مایل نے اسے خود سے دور کر کے بےتابی سے پوچھا۔ اسکا رونا بند نہیں ہو رہا تھا وہ ہچکیاں لے کر رو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد جب وہ سنبھلی تو خود ہی اُس نے ایک دفع پھر لکھنا شروع کیا۔۔۔۔۔۔۔
” تمہارے جانے کے بعد زندگی اور مشکل ہوگئی۔ ایک کی چُپ نے نے مجھے مار دیا تو دوسری کے تعنوں نے مجھ پر زندگی تنگ کردی۔ تم جب واپس آئیں وہ تو کمرے میں جیسے آنا چھوڑ چکے تھے بس ہر وقت گارڈن میں ٹہلتے یا آریز کے کمرے میں چلے جاتے۔ آریز اور گھر کے باقی مرد سب تایا ابو کے دوست کے بیٹے کی شادی میں گئے تھے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے۔۔
مجھے شک ہوگیا تھا شاید میں آپ دونوں کے بیچ میں آئی ہوں تمہارے رویے،،، تمہاری ناراضگی نے مجھے بتا دیا میں غلطی پر تھی۔ لیکن میں یہ سمجھ نہ سگی وہ بھی جب تمہیں پسند کرتے تھے پھر انہوں نے تم سے شادی کیوں نہیں کی؟؟؟؟ مایل تم جب آئیں میں نے اُن سے پوچھا تھا مجھے شک تھا لیکن اُن کے منہ سے یہ سُن کر کے ” تم اُن سے شادی کرنا چاہتی تھیں ” یقین جانو۔۔۔ میرا وجود ہل گیا تھا جیسے کسی نے سر پر بم پھوڑا تھا۔۔۔ پھر انہوں نے کہا۔۔۔۔۔
” اُسے دکھ صرف اس بات کا ہے،،،،، اُسے دھوکہ دینے والے وہ تھے جن پر وہ اندھا اعتماد کرتی تھی۔۔۔ وہ تھے جو اُسے جان سے زیادہ عزیز تھے۔۔ وہ جو لاکھ برائیاں رکھتے ہوئے بھی اُسکے لئے فرشتے تھے ” میں اُس وقت سُن رہ گئی میں نے تمہیں کوئی دھوکہ نہیں دیا تھا میں اتنی بےاعتبار ہو چکی تھی یا شاید میری تنہائ نے میرا صبر ختم کردیا میں اُنکے سامنے جا کھڑی ہوئی۔۔۔۔
مجھے تم سے واقعی اُس دن جلن محسوس ہوئی،، میری زندگی میں کچھ رہا ہی نہیں تھا مایل۔۔۔ امی کہ رہیں تھیں مجھے ڈاکٹر کے پاس لے جائیں گی میرا چیک اپ کرائیں گی۔۔۔۔ وہ اُن سے کیوں نہیں پوچھتی تھیں؟؟؟وہ بھی تو انکا بیٹا تھا۔۔۔ اولاد دینے کی زمیداری کیا صرف میری تھی؟؟ اور یہ کہاں کا انصاف ہے کے ایک سال میں بچا نہ ہوا تو وہ عورت ساری عمر اولاد سے محروم رہتی ہے؟؟؟ وہ مجھ سے یہ باتیں کرنے لگیں!!!! میں انھیں کیسے کہتی خود سے کہتی امی کی خوائش؟؟؟ کیا کہتی؟؟؟ اُنکی نظر میں مایل میں ایک ایسی لڑکی ہوں جو اپنے جذبات کو قابو میں نہیں رکھ سکتی۔۔ چُپی بھی انسان کو مار دیتی ہے میں چاہتی تھی اپنے دُکھ کسی کو بتاؤں کہیں لکھوں آبی کو پڑھاتے اُس کی کاپی میں۔۔۔ تمہاری یاد میں ایک شئیر لکھا تھا اور اُن کے لے۔۔۔۔!!!
میں دنیا میں سب سے تنہا ہو کر رہ گئی تھی مایل تمہارے علاوہ دوست کون تھا؟؟ ہمدرد کون تھا؟؟؟
سکون جسکی باتوں سے ملتا ہے
اُسکی خاموشی نے مار دیا۔۔۔۔
یہ میں نے تمہارے لئے لکھا تھا۔ تمہاری خاموشی نے مجھے مار دیا۔۔۔۔۔
دل سکون چاہتا ہے۔۔۔۔
جو تیرے سوا ممکن نہیں۔۔
یہ میں نے اُنکے لیے لکھا تھا۔ میں صرف ذہنی دبائو کی وجہ سے بےسکون تھی۔ ایک ہی گھر میں مایل تمہاری ماں کے دن رات تعنوں نے مجھے ختم کردیا تھا۔ مجھے اُنکا ساتھ چاہیے تھا۔ اُنکا احساس چاہیے تھا،، وہ میرا نام تو لیں۔۔ مجھے دیکھیں تو کوئی وجود ہے جو انھیں بے انتہا۔۔۔۔ ” لکھتے لکھتے وہ رُک گئی مایل نے دیکھا اسکی آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر گئیں وہ واشروم کی طرف بھاگی۔۔۔
مایل اسکے پیچھے گئی وہ اسے پُکارتی رہی۔ مگر جب اُسکا رو کر دل ہلکا ہوا پھر وہ باہر نکلی مایل اسے ہی غور سے دیکھ رہی تھی آنکھیں بےتحاشا سُرخ تھیں مایل نے اسے ہاتھ لگایا تو محسوس ہوا اُ سکا چہرہ گرم تھا شاید رونے کی وجہ سے؟؟؟ مگر وہ اس سے دور ہوکر ایک بار پھر سے پیپر پر لکھنا شروع کیا۔۔ مایل کی بےتابی بڑھتی جا رہی تھی بےشمار سوالات تھے اُسکے دل میں آج ایک سال بعد تو وہ زندگی سے لوگوں سے اتنی قریب ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
” اُنہیں لگا مجھے ” سکون ” اُنکی ” قربت ” میں چاہیے میں اُنکے لفظوں سے یہی سمجھی۔ وہ میرے پاس آئے تھے۔ میں اُنکی وارڈ روب سیٹ کر رہی تھی جمعے کا دن تھا سب کے لئے دل سے بریانی بنائی تھی سب نے تعریف کی پر وہ تعریف نہ سہی لفظوں سے تو نہ مارتے۔۔۔!!!!!
زونیشہ وارد روب سیٹ کر رہی تھی اسے دروازہ بند ہونے کی آواز آئی مگر وہ پلٹی نہیں جانتی تھی المیر اپنے کسی کام میں مگن ہوجاے گا۔۔۔۔
” یہ کیا ہے؟؟؟ ” وہ اس سے مخاطب تھا زونیشہ حیرانگی سے اسکی طرف مُری اور اسکے ہاتھ میں وہ شیر والا کاگز دیکھ کر بس ایک لمحے کو ٹھٹکی تھی اگلے ہی پل وہ نارمل تھی وہ خود بھی تو چاہتی تھی المیر پڑھے۔۔ اسنے کوئی جواب نہ دیا۔۔۔
” آبی بچا ہے!! وہ اِنکا کیا مطلب سمجھے گا؟؟؟ اُسکی بھابی یہ سب لکھ رہی ہیں؟؟ کن خیالوں میں ہوتی ہیں؟؟؟ ” وہ اِسکے الفاظوں پر شدد رہ گئی اُس نے ایسا بھی کیا لکھ لیا تھا؟؟؟؟ وہ نظریں جھکائے کھڑی رہی اس شخص کو تو علم بھی نہ تھا اِسکے لفظوں نے دل پر ایسا وار کیا تھا کے آنکھوں میں سیلاب جمع ہوا تھا۔۔۔۔
وہ کاگز کو مُٹھی میں دٙبوچے اِسکے پیڑوں کے پاس پھینک کر چلا گیا جب کے وہ سُن ہوتے ذھن کے ساتھ بیڈ پر ڈھ گئی۔۔۔۔
وہ زخمی کرنے میں ماہر ہیں کسی کو کیسے سِسکا سِسکا کر مارنا ہے اُن سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔۔۔۔۔۔
میں اُنکی نظروں سے گِر چُکی تھی سمجھ نہیں آتا تھا کیا کروں؟ شادی سے پہلے زندگی جنّت تھی اور بعد کی زندگی کوئی امتحان جس میں پڑھے بینا بس پاس ہونا تھا پر میں ہار چکی تھی۔۔۔
وہ ہماری آخری ملاقات تھی اُس دن میرا رہا سہا اعتماد بھی چلا گیا۔۔۔تم جب آئیں میں دن رات انھیں تمہاری ٹینشن میں گُلتے دیکھ تنگ آگئی تھی میں اُنکی بیوی ہوں۔۔۔ لیکن کہیں نہیں ہوں۔۔۔ میرا دل چاہتا تھا چیخ چیخ کر رووں۔۔۔
میں اُنکے پاس گئی تھی۔۔۔
اُن سے پوچھنے۔۔۔۔
وہ بہت ٹوٹے ہوئے تھے۔۔۔
خود کو تمہارا مجرم مان بیٹھے تھے۔۔۔۔۔
میں اُن سے ہر سوال کا جواب پوچھنے گئی تھی یہ بھی کے میری اس گھر میں ذرا عزت نہیں؟؟؟ جب تم مجھے اپنے کمرے سے نکال رہی تھیں تب وہ دیکھ کر بھی کیوں نہیں آئے؟؟؟ اپنا ہاتھ تک نہیں بڑھایا مایل کیا شوہر ایسے ہوتے ہیں؟؟؟ میں دنیا کی بدقسمت لڑکی ہوں کے میرے نصیب میں ایک بےحس انسان ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” آ۔۔۔۔۔آ۔۔۔۔۔۔۔پ۔۔۔۔۔۔آپ نے مجھ سے ش۔۔۔۔۔۔شادی کیوں کی جب میرے س۔۔۔س۔۔۔۔۔۔سات۔۔۔۔۔۔۔۔ساتھ یہ ظلم کرنا تھا؟؟؟ ” اِسکی آنکھیں برس رہیں تھیں۔ رونے سے اسکا چہرہ سرخ ہوچکا تھا۔ کھلے لمبے بال آج بھی ہمیشہ کی طرح اِسکی خوبصورت کمر تک آرھے تھے۔ وہ ہمیشہ بڑا سا دوپٹا سینے سے لیکر اپنے پیٹ تک اوڑھے پورے اپنے وجود کو چھپائے ہوئے ہوتی آج پہلی دفع وہ اُس سے آنکھیں ملا کر اِسکے روبرو کھڑی اِس سے جواب طلب کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
” اُسے لگتا ہے ہم دونوں دھوکے باز ہیں!!!! اُس سے شادی نہ کرنے کی وجہ کم عمری ہے۔۔۔ اپنی جھوٹی عزت کے لیے میں اُس سے شادی نہیں کر رہا کہ اگر میں نے شادی کی تو سب گھر والے خاندان والے یہی سمجھیں گے کہ میں نے اُس پر اب تک احسان صرف اس لیے کیے تھے کہ مجھے اُسے اپنے نکاح میں لینا تھا۔۔۔ یہ حقیقت نہیں وہ کم عمر ہے یہ وجہ نہیں۔۔ وجہ یہ ہے اگر اُس سے شادی کر بھی لیتا تو کیا اُسے خوش رکھ پاتا جیسے وہ آج میرے ساتھ خوش ہے؟؟ کیا کل بھی میرے ساتھ خوش ہوتی؟؟ سالوں لگ جاتے ہیں گھر والوں کو سمجھنے میں میاں بیوی کی کیوں نہیں بنتی؟ صرف عزت، خاندان، بدنامی کے ڈر سے شادی چلاتے ہیں لیکن وہ عورت بھی ادھوری رہ جاتی ہے مرد بھی۔۔۔ جسے کبھی میں نے اُس نظریے سے نہیں دیکھا پھر شادی کیسے کر لوں؟؟ اور مجھے یقین تھا تم سے شادی نہ کرتا۔۔۔۔وہ بھی نہیں کرتی،،،، میرا انتظار کرتی، میں اُسکی ضد نہیں بن سکتا تھا۔۔۔ مایل اپنی لائف میں آگے بڑھے بس اسی لئے تم سے شادی کی تھی ” اسکا وجود پتھر ہوگیا۔ سانس سینے میں اٹک گیا بس بےآواز آنسو بہ رہے تھے مگر وہ ستمگر اپنے ہی غم میں چاند کی چمکتی روشنی کو دیکھ رہا تھا منظر بےتحاشا حسین تھا۔ لیکن اُسے کیا معلوم تھا؟؟؟ یہاں اسکی دنیا ہی اُجڑ چکی تھی المیر کا عکس دھندھلا گیا دماغ کے ساتھ ساتھ اسکے ہوش و حواس بھی سُن پڑ گئے۔۔۔۔۔۔آنکھوں سے جب سیلاب رواں ہوا منظر پھر صاف ہوگیا اسکے حواس بحال ہوے تو اٹکتے ہوئے بامشکل وہ بولنے کے قابل ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” م۔۔۔۔۔۔۔ی۔۔۔۔۔۔۔میں ہی کیوں؟؟؟ ” ایک ہچکی لی تھی اُس نے مگر المیر اپنی ہی دُھن میں مگن نجانے کن سوچوں میں تھا۔۔۔۔۔۔
” کیوں کے تم مجھ سے محبت کرتی تھیں۔۔۔۔۔میں جانتا تھا تم انکار نہیں کرو گی!!!! میں تمہیں تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا ایک اچھی زندگی تمہارے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔ مگر یہ میرے اِختیار میں نہیں اُسے روتا دیکھ میں زندگی میں آگے بڑھ نہیں پاتا۔۔۔۔۔۔ ” اِسکے لہجے میں صدیوں کی آس تھی۔ وہ بہت تھکا تھکا سا لگ رہا تھا۔۔۔۔۔وہ قدم قدم اٹھاتی بلکل اِسکے سامنے آکھڑی ہوئی تاکے وہ اِسکے آنسوں دیکھ سگے اِسکی حالت جان سگے وہ کس آگ میں جل رہی ہے؟؟ اُسکی گرمائش محسوس کر سگے مگر۔۔۔۔ روبرو پاکر جیسے وہ تو اِسے قتل کر چکا تھا۔۔۔۔۔۔
” مگر ہاں یہ سچ ہے میں تم سے محبت نہیں کرتا نہ تم میری پسند ہو!!!!! ” المیر نے اِسکی آنکھوں میں دیکھتے بےبسی سے کہا اسکے آنسوں وہ دیکھ رہا تھا۔
” مگر نکاح والے دن سے میں۔۔۔۔ ” المیر کے ہونٹ پھر کُھلے مگر اسکی بات وہ کاٹ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” آپ مایل کو پسند نہیں کرتے مگر اُس کے لئے روتے ہیں؟؟ وہ تو خوش ہے اُس کے پاس اپنا بچا بھی ہے۔۔۔۔۔ میرے پاس کچھ نہیں ہے۔۔۔ ہم کہاں ہیں؟؟؟ کہیں نہیں؟؟؟؟؟ ” وہ اِسکا کالر پکڑ کے دھیمی آواز میں جیسے اِس سے اِلتجا کر رہی تھی۔۔۔۔ مگر المیر کے دماغ میں کوئی اور ہی سوچ تھی۔۔۔۔۔
” تمہیں آج یہ سب نہیں کہنا چاہیے تھا!!! وہ بہت تکلیف میں ہے اور میں یہاں اپنا جہاں آباد کروں؟ یک سال سے اوپر ہوگیا ہے ہماری شادی کو شاید ہمارے بیچ میاں بیوی کا رشتہ ختم ہو چکا ہے۔۔۔۔۔۔ ہم دونوں آج تک ایک دوسرے کے لئے اجنبی ہیں میں یہ تک نہیں جانتا کے ہمارے بیچ میاں بیوی کا رشتہ اب بھی ہے یا نہیں؟؟؟؟ ” میری دنیا ختم ہوگئی مایل مجھے ایسے لگا جیسے میں راکھ بن رہی ہوں وہ میرے کان میں سور پھونک رہا تھا۔ میرا جسم،، میری روح کانپ اٹھی تھی،، وہ شخص جیسے میرا گناہ بن چکا تھا۔۔ آدھی رات کو میں اپنے گھر لوٹ آئی۔۔۔۔۔
مجھے لگا میں اُس گھر سے نکل آئی تو میری زندگی آسان ہو گئی لیکن یہاں بھی سفر ختم نہیں ہوا تھا۔۔آدھی رات کو میں اپنے گھر لوٹی تھی ابو امی پریشان ہو گے تایا ابو سے بات کرنا چاہتے تھے لیکن میں نے اُنکی منتیں کیں اُنکے آگے ہاتھ جوڑے۔۔۔
میں سکون چاہتی تھی۔۔۔۔
ذہنی سکون۔۔۔
بند کمرے میں بس خود کے ساتھ ٹائم گزارنا چاہتی ہوں۔۔
مجھے کوئی خواہش نہیں کسی چیز کی نہیں نہ محبت چاہیے نہ ہم سفر نہ شوہر۔۔۔۔۔ میں تنہا بہت خوش ہوں مجھے محبت سے زیادہ میرا ذہنی سکون عزیز ہے
میں ہر پل مر مر کے سِسکتی زندگی نہیں گزار سکتی۔۔۔۔۔۔
میں بہت ڈرتی ہوں مایل اُُس وقت سے اس لمحے سے اُس گھڑی سے جب سب لوگ میرے اور المیر کے رشتے کو لے کر بیٹھیں گے۔۔۔۔۔
بیٹھ کر جواب طلب کریں گے مجھ سے،،، پریشانیاں پوچھیں گے،،، مشورے دیں گے اور آخر میں کہیں گے ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں ایک دوسرے کو سمجھیں۔۔۔۔۔
وہ یہ کیوں نہیں سمجھتے مجھے محفل نہیں چاہیے
میں یہ نہیں چاہتی کوئی میرا نام لے مجھے بیٹھ کر ڈسکس کرے۔۔۔۔۔ مجھے یہ سب پسند نہیں مایل میں اندر سے ختم ہونے لگتی ہوں۔۔۔۔۔
لوگ کیوں میاں بیوی کے رشتے کے بیچ آتے ہیں۔۔۔
کوئی یہ نہیں سمجھتا مجھے سکون چاہیے۔۔۔
مجھے سر جھکا کر مردوں کے سامنے نہیں بیٹھنا دل چاہتا ہے شرم سے مر جاؤں۔۔۔۔
مجھے یہاں آئے ایک ہفتہ ہو گیا ہے میری چچی نے مجھے ایک دو دفعہ یہاں دیکھا وہ امی سے روز جواب طلب کرتی ہیں اور روز میں نئی موت مرتی ہوں جب امی پوچھتی ہیں آج تمہاری ساس سے بات کروں؟؟؟؟؟
میری خطا مجھے بتا دو۔۔۔
اب تو اُسے دیکھنا سوچنا چھوڑ دیا ہے۔۔۔۔۔۔
کھڑکی کے شیشوں پر اخباریں چُپکا دیں۔۔۔۔
پردے ہٹا کر اُسے دیکھنا بھی چاہوں تو اخباریں پھاڑنی پڑھیں گی کھڑکی کو لاک کر کے اُسکا نوب توڑ دیا۔۔۔۔۔
ہر کوشش کی ہے بس ذھن سے ہٹا نہیں پائی۔۔۔۔۔۔
وہ بے قراری سے اس کا لکھا ایک ایک لفظ پڑھتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔
میں دنیا کی بدقسمت لڑکی ہوں کے میرے نصیب میں ایک بےحس انسان ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زونیشہ کے ان لفظوں نے مایل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اُسے بے اختیار حاوز سلیمان کا کہا گیا جملہ یاد آیا ” مایل کیا تم دنیا کی خوش قسمت ترین لڑکی نہیں؟؟ کہ تمہارا احساس ایک بے حس نے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “
زونیشہ کے لفظوں نے اِس کی آنکھیں کھول دیں ہم لوگوں کو کیا سمجھتے ہیں؟؟؟ اور حقیقت کیا ہوتی ہے؟؟؟
مایل کو اِسے چُپ کروانا بہت مشکل لگا!!! وہ روتی چلی جا رہی تھی ساتھ اُسے بھی اپنے غم میں نڈھال کر رہی تھی پھر جو زونیشہ کی ماں ہی آئی جس نے اس کی حالت دیکھ کر مایل سے شکوہ کیا۔۔ مایل کیا کہتی بس شرمندگی سے سر جھکا کر رہ گئی۔۔۔
زونیشہ نے ہاتھ اٹھا کر ماں کو رُوکا تو وہ دونوں کے لیے چائے بنانے کے گرز سے کچن میں چلی آئیں مایل نے اب بھی زونیشہ سے چُپ رہنے کی وجہ پوچھی مگر وہ خاموش رہی اب تو وہ رو بھی نہیں رہی تھی بس بیڈ شیٹ پر ہاتھ سے ڈیزائن بنا رہی تھی۔۔۔۔۔۔
مایل بغیر چائے پیے جلد ہی نکل گئی زونیشہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر آنکھوں سے جیسے نا جانے کی التجا کی لیکن مائل کو جانا تھا ایک ضروری کام تھا جو اُسے آج پورا کرنا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*
وہ واپس اپنے گھر چلی آئی کسی طور دل کو سکون نہیں مل رہا تھا وہ جانتی تھی زونیشہ خود سے اسے وجہ نہیں بتائے گی وہ خود ہی سوچنے پر مجبور ہو رہی ہے کہ آخر اس کے ساتھ ہوا کیا ہے؟؟؟؟ کیوں اس نے ہر بات لکھ کر بتائی کیوں اِسے اپنے دل کا حال اپنی زبان سے نہیں بتایا یہی سوچتے وہ ابھی سب کے درمیان آکر بیٹھی ہی تھی کہ اسے المیر گھر کے اندر داخل ہوتے نظر آیا۔۔۔۔
وہ زریق کی گود میں ارحم کو دیکھ کر شدد رہ گیا۔ اس نے پوچھنے کے لئے لب کھولے مگر مایل کا فق چہرہ دیکھ وہ چُپ ہوگیا۔ خاموشی سے وہ زریق سے ملا پھر انکے درمیان بیٹھ گیا۔۔۔
کافی دیر سب بیٹھے آپس میں باتیں کرتے رہے مایل جانتی تھی یہاں سے اگر زریق اٹھا تو سب لوگ اِسے اپنے سوالوں میں گھیریں گے۔ اسلئے اسنے سوچ لیا تھا زریق سے دور ایک پل بھی نہیں ہوگی۔ کافی دیر ہو گئی تھی یہاں بیٹھتے ہوئے رات کا کھانا تک ہو گیا تھا جب زریق اٹھا تو وہ بھی اس کے ساتھ تیزی سے اٹھی اسے تائی امی نے ایک دفعہ بلایا لیکن آج وہ کسی کی بھی سننے کے موڈ میں نہیں تھی وہ بس زریق سے چُپکی رہی۔۔۔۔۔
یہاں تک کہ اسے اپنا ایک کام کرنا تھا جس کے لیے وہ زریق سے واش روم کا کہہ کر اوپر چلی آئی۔۔ اس سے پہلے کہ کوئی آتا وہ منٹوں میں واپس آی تائی امی جو ابھی اوپر جانے کا سوچ ہی رہیں تھیں مایل کی تیزی دیکھ وہیں جم کر رہ گئیں کیوں کے اسے گئے ابھی دو منٹ نہیں ہوئے وہ فوراً واپس آگئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جب زریق کے ساتھ واپس جا رہی تھی سب باری باری اس سے ملے وہ واپس آنے کا کر وہاں سے گئی تھی۔۔ اس نے امید دلائی تھی وہ جلدی آئی گی نجمہ آج بہت خوش تھیں اپنی بیٹی کو دیکھ کر ارحم کی تو دو تین دفع نظر اتاڑی تھی جان سے عزیز تھا انہیں ارحم۔۔ بس دعا تھی اب کسی کی نظر نہ لگے مایل کی خوشیوں کو۔۔۔۔۔
” اِسے مجھے دیں ” وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے لگا تھا لیکن اس سے پہلے کہ بیٹتا مایل نے احتیاط سے ارحم کو اس کے بازوں سے لیا۔۔۔۔۔۔۔
وہ سو کر ابھی ابھی اٹھا تھا۔۔ جیسے ہی زریق نے کار اسٹارٹ کی ارحم رونے لگا۔ مایل اسے روتا دیکھ خود بوکھلا کر پریشان ہو گئی۔ اسے سمجھ نہیں آیا کیا کرے؟؟ آج وہ چار دن بعد تو اپنے بیٹے سے ملی تھی اور لگ رہا تھا صدیوں بعد ملی ہے تبھی اسکے رونے کی وجہ نہ جان پائی۔۔۔۔۔۔
” اسے بھوک لگی ہے!!! سوکر اٹھتے ہی رونے لگتا ہے ” زریق نے اس کا پریشان چہرہ دیکھتے کہا اور پیچھے بیگ سیٹ پر رکھا وہ چھوٹا سا بیگ کھولا جس میں ارحم کی ضروریات کی ساری چیزیں تھیں۔۔۔۔
مایل نے اس کے ہاتھوں سے بیگ لے کر کھولا تو اس میں چھوٹا سا دودھ کا ڈبہ تھا فیڈر تھا،، پیمپر رکھے ہوئے تھے بی بی لوشنز تھے۔۔۔
وہ ایک بار پھر سوچنے لگی تھی آخر وہ کیوں نہ سمجھ سگی کہ اس کا بیٹا بھوک سے رو رہا ہوگا؟؟؟ وہ تو دن رات اس کے قریب رہی ہے زریق نے تو اسے ابھی سنبھالنا شروع کیا ہے۔ زریق نے تھوڑا آگے چل کر کار روکی وہ ارحم کا دودھ بنانے لگی جب زریق نے دیکھا وہ دودھ بنا کر اسے فیڈ کرانے لگی ہے تو زریق نے کار اسٹارٹ کردی۔۔۔
” آپ چیزوں کو زیادہ محسوس کرتی ہیں ورنہ زندگی گزاری ہے آپ جتنا بےحس سمجھتی ہے اتنا ہوں نہیں ” وہ مسکرا کر کہتا اسکے چہرے پر اُبھرتی پریشانیوں کا جواب دے رہا تھا۔۔۔۔۔
” اُس حد تک جا کر میں نہیں سمجھ سکتا کہ لڑکیوں کی سوچ کیا ہوتی ہے؟ کس وقت کیا موڈ ہے؟ لیکن ان چار دنوں میں حاوز نے لڑکیوں کے موڈ سوینگز پر بڑا لیکچر دیا ہے یہیں تک نہیں میں نے خود انسان کے Behaviours لاتعداد پڑھے۔۔۔۔ آہستہ آہستہ ہر انسان کی پرکھ ہو رہی ہے۔۔ آپ نے مجھ پر بہت غور کیا ہے میرا فون بھی دیکھتیں ہر وقت آپ کے بارے میں بھی بہت کچھ سرچ کرتا تھا جب آپ پریگنینٹ تھیں خاص طور پر تب بس محسوس نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ مگر آپ سے لاپروا نہیں رہا۔۔۔۔۔۔ ” اسکا دل خوشی سے جھوم رہا تھا۔۔ حسین زندگی برسوں بعد اسکے اتنی قریب آئی تھی اسکے لفظوں سے دل کو جتنا سکون مل رہا تھا وہ بیان نہیں کر پا رہی تھی زریق اسکا ایک ہاتھ پکڑ کے ہلکے سے سہلانے لگا جب کے وہ اسکی حرکت پر بس اسے دیکھتی رہی۔۔۔۔۔
شاید وہ جان چکا تھا بیوی کو سکون کیسے دیتے ہیں؟؟؟
_*
” ہم یہ کہاں آئے ہیں ؟؟؟ “
” اندر چلیں!!! آپ کو بتاتا ہوں۔۔۔ ” مایل اس نئی جگہ کو حیرانگی سے دیکھتی زریق سے پوچھ رہی تھی وہ اسے کسی اور ہی گھر میں لے آیا تھا وہ پہلے یہاں کبھی نہیں آئی وہ زریق کے ساتھ اندر چلی آئی تو اسے حال میں ہی ثمرین کسی سے بات کرتی نظر آئی وہ ثمرین کو تو پہچان گئی بے شک ثمرین کی پیٹ مایل کی طرف تھی وہ انہیں ہزاروں میں بھی پہچان سکتی ہے۔ جبکہ دوسری عورت کو نہیں جانتی تھی کہ وہ کون ہے؟؟؟ مگر مایل کو لگ رہا تھا یہ چہرہ اُس نے پہلے بھی کہیں دیکھا ہے۔
جبکہ ان دونوں کو آتا دیکھ وہ دوسری عورت اٹھ کھڑی ہوئی اس نے ثمرین سے بھی کچھ کہا ثمرین بھی اُٹھ کر پیچھے مُڑی اور مایل کو دیکھ کر جو خوشی اس کے چہرے پر آئی مایل دیکھ کر نم آنکھوں سے مسکرا دی۔۔۔
وہ تیزی سے انکے قریب آتی ان سے گلے ملی۔۔۔
” میں نے آپ کو بہت مس کیا۔۔۔ ” مایل کا دل چاہ رہا تھا انکے آنچل کے سائے تلے رہے۔ ثمرین نے سگی ماں سے بڑھ کر اسے محبت دی ہے۔۔۔
” یاد آتی تو اس طرح جاتیں؟؟؟ ارحم کی بھی یاد نہیں آئی؟؟ ” وہ شکوہ کر رہیں تھیں مایل شرمندہ ہوگئی جب کے وہ دوسری عورت غور سے مایل کو دیکھ رہی تھی ارحم اس وقت زریق کے پاس تھا۔۔۔۔
” مایل یہ میری بہن ہے ” ثمرین نے گلے ملنے کے بعد مایل سے دور ہوتے کہا وہ عورت مایل کو خود کو تکتا پا کر مسکرا دی۔۔۔۔۔۔
” پہچانا؟؟؟؟ “
مایل اب بھی انہیں میں غور سے دیکھ رہی تھی مگر ذہن میں وہ واقعہ نہیں آرہا تھا۔۔۔۔۔اسے سوچتا دیکھ وہ خود بولیں۔۔۔
” تم اب میرے پاس چیک اپ کے لئے آسکتی ہو!!! تمہیں کہا تھا شادی ہوجائے بچے ہوجائیں پھر آنا ” مائل کا منہ حیرانگی سے کھل گیا یہ بات اسے ویسے یاد نہ ہوتی اگر اس کا ذکر ہاوز سلیمان نہ کرتا اب تو یہ بات اس کے ذہن سے چُپک گئی ہے۔ وہ انکی بات سے زریق کے سامنے شرمندہ ہوگئی جو خود دور کھڑا مسکرا رہا تھا۔ صدف بیغم نے مایل کو گلے لگایا۔۔۔۔
” ثمرین کی کوئی اولاد نہ تھی۔ اُسکی زندگی میں رنگ بھرنے کے لئے بس زریق کو اسکی گودھ میں ڈال دیا۔۔ ” وہ کافی دیر تک صدف بیغم سے باتیں کرتی رہی لگ رہا تھا وہ اسکی ہر بات سے واقف ہیں لیکن وہ انجان بن رہیں تھیں۔ وہ کافی دیر وہاں بیٹھی رہی۔ مایل سے بات کر کے ثمرین کا دل بھی ہلکا ہو رہا تھا ورنہ ثمروز صاحب کی موت نے انہیں توڑ دیا تھا۔ رات کے تقریباً دس بج رہے تھے وہ جب اپنے کمرے میں جانے کے لیے اٹھی۔۔ اس کا کمرہ اوپر کی طرف تھا کھانا کھا کے وہ تھوڑی دیر صدف بیغم کے ساتھ بیٹھی تھی اب وہ اپنی کمرے میں لوٹنے کو تھی اوپر جاتے ہوئے اسے دروازہ بند کرنے کی آواز آئی تو وہ سیڑھیوں سے اوپر جانے کے بجائے وہیں ٹھہر گئی اسے لگ رہا تھا شاید زریق کہیں جا رہا ہے لیکن وہ ارحم کو اکیلا چھوڑ کے کیسے آسکتا ہے؟؟؟ وہ یہی سوچ رہی تھی تب ہی سیڑھیوں سے اترتی شخصیت کو دیکھ کر وہ لمحے کو سُن ہو گئی کیونکہ ایک بار پھر حاوز سلیمان سے یہ ملاقات تکلیف دہ ثابت ہونے والی تھی۔۔۔۔
حاوز سلیمان بھی اسے دیکھ چکا تھا اسے دیکھ کر بھی وہ رُکا نہیں تھا وہ جیسے ہی اس کے پاس سے گزرنے لگا مایل نے اسے پیچھے سے آواز دی۔۔۔۔۔۔
” زونی کے ساتھ کیا ہوا؟؟؟ وہ بول کیوں نہیں پا رہی؟؟ “
وہ اسکے راستے میں حائل ہوگی زاکون نے ایک سرد نظر سے اسے نوازا۔ کوئی اسکے راستے کے بیچ آئے یہ اُسے پسند نہیں۔۔۔۔۔۔۔
” دوست آپ کی ہے آپ جانیں ” وہ سفاکی سے گویا ہوا۔۔۔۔۔۔
” پیشنٹ تو آپ کی ہے نہ؟؟ ” اسکے لہجے میں التجا تھی۔۔۔
” ایسا ہے تو اپنے پیشنٹ کی ڈیٹیلز نہیں دیتا۔۔۔” وہی سرد لہجہ۔۔۔۔۔
” میں ریکوسٹ کر رہی ہوں پلیز “
” ٹیمپرری ہے وہ جلدی ٹھیک ہوجاے گی ” اسکی آنکھوں میں نمی دیکھ وہ بےزایت سے بولا۔۔۔۔
” مگر ” مایل مطمئن ہرگز نہ ہوئی تھی۔ اسکی نےتابی دیکھ وہ تنگ آگیا۔ اُسے اِس وقت صرف اپنی جانِ عزیز کے پاس جانا تھا۔۔۔۔۔۔۔
” Self esteem اور Stuttering
کا ایک دوسرے سے گہرا تعلق ہے۔۔
آپ میں اور زونیشہ میں زمین آسمان کا فرق ہے آپ کی نظر میں اقرار کرنا کوئی بُری بات نہیں اگر آپ کسی کو پسند کرتی ہیں اور اقرار کرتی ہیں تو آپ کو اس بات کا افسوس نہیں ہوتا آپ یہ نہیں سوچتیں کہ اُس شخص کے سامنے میں نے اپنی عزت مٹی میں ملادی آپ یہ سوچ سوچ کر پاگل ہو جاتے ہو کہ اُس نے انکار کیوں کیا آخر اِس کے انکار کی وجہ کیا ہے؟؟؟؟ اپنے آپ کو اُس کے سامنے پیش کرنا تکلیف دہ عمل نہیں بلکہ ٹھکرایا جانا ایک تکلیف دہ عمل ہے۔۔۔۔
ہر انسان کی شخصیت اسکا نیچر الگ ہے جیسے زونیشہ انٹروورٹ ہے ویسے ہی آپ ایکسٹروٹ آپ لوگوں میں گھل مل کر رہتی ہیں انکی کمپنی انجوائے کرتی ہیں جبکہ زونیشہ اپنے آپ میں مگن اپنی کمپنی میں زیادہ انجوائے کرتی ہے۔۔۔
پہلا شاک اُسے تب لگا جب دلہن بنا کر اُسے پیش کیا گیا جہاں سے صرف بےرُخی ملی پہلی دفع تب وہ کمزور ہوئی تھی۔۔۔۔
دوسری دفع تب جب اُسے ” سکندر ولا ” میں جگہ نہیں ملی نہ وہ اپنی مرضی سے کھا پی سکتی ہے نہ سکون لے سکتی ہے۔۔۔۔
تیسری دفع تب جب اسے ” ماں ” نہ بنے کا تعنہ ملا۔۔۔
آخری دفع تب جب زونیشہ کے اقرار کے باوجود اُسے یہ سنے کو ملا وہ میاں بیوی نہیں رہے۔۔۔۔۔یہ سب سے تیز شک تھا جسکا صدمہ اُسے اب تک ہے۔۔۔۔۔
مایل اپنے دماغ پر زیادہ زور مت ڈالے گا پیشے سے ایک ڈاکٹر ہوں جانتا ہوں مریض سے بات کیسے نکلوانی ہے؟؟آپ کی نظر میں یہ میاں بیوی کا پرسنل ریلیشن شپ اُن کی پرسنل بات ہوگی لیکن میری نظر میں یہ کاز (cause) اور ہسٹری ہے میرا وہ کیس ہے جس کی ہسٹری جانے بغیر میں اسے ٹریٹ نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔
زونیشہ اپنی یونی میں ایک قابل اسٹوڈنٹ رہ چکی ہے۔ جسے ہر لیول پر اپنی محنت کا سلا ملا ہے۔ مگر یہاں نہیں نہ بیوی کی صورت میں نہ بہو اور بیٹی جس نے اِسکا سلف کانفیڈنٹ کم ہوتے ہوتے ختم کردیا۔۔ جس نے اسکی سوچ،،،، اسکے دماغ پر اثر کیا۔۔ اسی وجہ سے اسکے دماغ کی ایک نس دب گئی ہے۔ وہ بول سکتی ہے وہ بولنے کی کوشش کرے گی تو حقلاہٹ محسوس نہیں ہوگی لیکن وہ اپنا سیلف کانفیڈنس اپنے اندر سے بالکل ختم کر چکی ہے وہ خود ہی ٹھیک نہیں ہونا چاہتی میں جتنی کوشش کروں اسے خود زندگی سے محبت نہیں کروا سکتا۔۔۔۔۔ وہ کوشش کرے تو ایک ماہ میں ٹھیک ہوسکتی ہے،، اور نہ ٹھیک ہونا چاہیے تو زندگی لگ جائے گی۔۔۔۔ “
مایل کا فون بج رہا تھا وہ جو غور سے سن رہی تھی فون بجنے پر چونکی اُس نے فون فوراً کاٹا اِس کے الفاظ کتنے کڑوے تھے جنہیں مایل کو ہضم کرنا بے انتہا مشکل لگ رہا تھا۔۔۔۔ وہ اس سے جواب دے کر جانے لگا تھا مایل نے
پھر اسے پکارا۔۔۔۔۔۔
” حاوز۔۔۔۔۔ ” حاوز کو اسکا لہجہ بھیگا محسوس ہوا۔۔
” یہ سب میری۔۔۔۔ ” وہ اسکی بات کاٹ کر سختی سے بولا۔۔۔۔۔
” نہیں!!! بالکل نہیں مایل آپ کسی کے رویے کی ذمہ دار نہیں ہیں آپ کی وجہ سے کچھ نہیں ہوا۔۔۔ نہ اپ کی وجہ سے زونیشہ کی لائف ڈسٹرب ہوئی آپ سے اگر غلطیاں ہوئی ہیں تو اُس کی سزا آپ نے خود اپنی لائف میں بگھتی ہے نہ کہ دوسروں نے آپ کی وجہ سے سفر کیا ہے تو دوبارہ یہ مت سوچیے گا۔۔۔۔ ” پہلی دفعہ اس شخص نے مایل کی سائیڈ لی تھی مایل کو اسکا انداز حیرتوں میں مبتلا کر گیا جبکہ اب دوبارہ کال آرہی تھی اس نے کال جیسے ہی اٹینڈ کی دوسری طرف سے کچھ کہا گیا جس پر مایل نے کہا کہ وہ زریق سے پوچھ کر سینڈ کرتی ہے۔ مایل نے جیسے ہی کال کٹ کی وہ شخص اس کی آنکھوں سے اوجھل ہو گیا یعنی کہ وہ جا چکا تھا اپنی منزل کی طرف۔۔۔۔۔۔
__*
حاوز سلیمان کا وہ بنگلہ اسکی آنکھوں کے سامنے تھا۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں اُس نے مومنہ کو سالوں سے قید کر کے رکھا تھا۔ زاکون کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا اسے ڈر تھا کہیں اس خوشی میں اُس تک پہنچتے یہ سانسیں نہ تھم جائیں۔ کتنا گھٹیا شخص تھا وہ جس نے ایسی جگہ اُسے قید کر کے رکھا تھا جہاں انسان کا نام و نشان نہیں۔ پتا نہیں اُسکے ساتھ کیسے سلوک کرتا ہوگا؟؟؟ اگر وہ حاوز سلیمان کے سنگ نکاح کے رشتے میں بندھی ہوگی تب بھی وہ اسے آزاد کریگا وہ جانتا ہے مومنہ اُسے پسند کرتی ہے تبھی تو مایوں والے دن زاکون انکار پر مومنہ آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔۔۔۔۔
اسکا دل پھر ایک دم تیز دھڑکنے لگا اسکے قدم اندر کی جانب بڑھ رہے تھے بنگلے کا دروازہ کھلا ہوا تھا وہ سست روئی سے اندر کی طرف بڑھ رہا تھا۔ تبھی اس نے کوئی آواز سنی کسی کے قدموں کی جیسے کوئی بھاگتا ہوا اندر آرہا تھا زاکون پیچھے مڑا اور آج پہلی بار اسے اپنے روبرو دیکھ کر وہ ساکت ہوگیا۔۔ تو کیا یہ حاوز سلیمان؟؟؟؟؟ لیکن اسکا چہرہ یہ تو زریق کا چہرہ ہے۔۔۔۔
زاکون اسے ہی دیکھ رہا تھا لیکن وہ شخص اسے نہیں دیکھ رہا تھا اس کے چہرے کی تو ہوائیں اڑی ہوئی تھیں وہ افراتفری میں بھاگتا ہوا ہی اندر آیا تھا۔۔۔۔
” حاوز سلیمان ” زاکون نے اسے پُکارا لیکن وہ جیسے تیزی سے آیا تھا ویسے ہی اپنی ٹیبل کے پاس آرُکا جہاں کھڑے ہوکر وہ مایل سے بات کر رہا تھا۔۔ شیشے کی ٹیبل تھی جس کے نیچے سے اس نے اپنا پیڑ آگے کیا زاکون اسے غور سے دیکھ رہا تھا پتا نہیں اُس نے کس چیز کو دبایا تھا یا سینسر تھا جس نے اسکے پیڑوں کو سینس کیا تھا پھر وہ پیچھے مڑا دائیں طرف بنے دیوار کی طرف بھاگا یہ۔۔۔ یہ۔۔۔ یہ کیا؟؟؟ وہاں صرف ایک پینٹنگ تھی جس میں رنگز بنی تھیں مگر زاکون حیرت میں ڈوب گیا حاوز اُن رنگز کی طرف بڑھا جیسے ہی وہ رنگ پر پیڑ رکتا وہ رنگ روشنن میں نہا جاتی۔ اور جیسے ہی وہ اگلی رنگ کی طرف بڑھتا پیچھے بنی رنگ واپس اندھیرے میں ڈوب جاتی۔۔۔۔۔۔
زاکون بھی اس کے پیچھے چل پڑا اس کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے وہ جب جب آگے بڑھتا پچھلی رنگ اندھیرے میں ڈوب جاتی اور آگے کا منظر روشن ہوجاتا وہ اس کے پیچھے ہی چل پڑا اور جیسے ہی وہ اندر داخل زاکون حیدر حیران رہ گیا۔۔۔۔
وہ تین کمروں جتنا بڑا کمرہ تھا جو انتہائی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا ہر جگہ دیوار پر خوبصورت پینٹنگز لگی ہوئیں تھیں۔ جہازی سائڈ بیٹ تھا جس پر خوبصورت نیلے رنگ کی چادر بچھی ہوئی تھی۔ لیکن وہاں کا منظر زاکون حیدر کو تشویش میں مبتلا کر گیا۔ وہاں وینٹ کا سامان تھا جیسے کوئی وہاں لیٹا تھا کچھ دیر پہلے کسی کا وجود اس بیڈ پر تھا اب بیڈ خالی تھا۔۔ وہاں مشینز بھی لگیں تھیں۔ زاکون کو جہاں حیرت تھی وہیں حاوز سلیمان کی جیسے دنیا اجڑ گئی تھی خالی بیڈ دیکھ کر وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا بلکل کوئی دیوانہ لگ رہا تھا اسکے ہاتھ کانپ تھے تھے وہ جیب سے فون نکال رہا تھا جس میں پہلی بار اسے مشکل پیش آئی۔۔۔
موبائل پر ایک دو بٹن دباتے حاوز نے کچھ دیکھا پھر ٹیبل پر رکھا اپنا لیپ ٹاپ بے تابی سے اون کیا وہ جیسے ہر منظر سے بے پرواہ بس اِسی کام میں مگن تھا وہ زاکون حیدر کی موجودگی تک فراموش کر چکا تھا یا جان کر اُسے اگنور کر رہا تھا یا وہ شخص اس کے لیے اتنا اہم نہیں تھا جتنی وہ لڑکی اس کے لیے اہم تھی۔۔۔۔۔۔
وہ اپنا لیپ ٹاپ لے کر وہاں سے بھاگنے کے انداز میں لمبے لمبے ڈگ بڑھتا اپنی کار کی طرف گیا زاکون بھی اس کے پیچھے اس کی کار کی طرف آیا اور فرنٹ ڈور کھول کر اندر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔
” تم جیسا سمجھ رہے ہو ویسا کچھ بھی نہیں ہے اپنا اور میرا وقت برباد مت کرو میں اپنے ساتھ ساتھ تمہاری جان خطرے میں نہیں ڈال سکتا۔۔۔” حاوز نے اسے دیکھتے ہی ٹھنڈے ٹھار لہجے میں کہا
” اپنی زندگی سے روز کھیلتا ہوں آٹھ سال تک صبر کیا ہے اب یہ سب میری جان لے رہا ہے چاہے کچھ بھی ہو میں تمہارے ساتھ چلوں گا۔۔۔” زاکون حیدر کی ضد پر حاوز سلیمان کا دل چاہ رہا تھا اِس شخص کو قتل کر ڈالے پر اسکا پارہ ہائی ہو گیا لیکن اِس وقت زاکون سے ضروری اسکی جان تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
