66.2K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

ارحم کے ہنسنے پر مایل اس کی طرف متوجہ ہوئی۔۔۔۔
” میری جان۔۔۔ ” مایل کو اتنا پیار آرہا تھا کے اسکا دل کر رہا تھا ارحم کو کھا جائے مایل نے اسکا پورا گال اپنے منہ میں لیکر زور سے اسے دٙبایا۔۔۔۔
” نہیں کریں اسے درد ہوگا ” مایل زریق کی بات پر بس اسے دیکھتی رہ گئی۔۔ انکی پہلی ملاقات ہسپتال میں ہوئی تھی اور کتنی حیرانگی کی بات ہے وہ اپنی رپورٹس کے خوف میں اِس قدر مگن تھی کے زریق کی موجودگی محسوس نہ کر سگی۔۔۔۔۔
” مجھ سے سب چُھپایا کیوں؟؟ ” وہ شکوا کر رہی تھی۔ اسکی نگاہیں زریق کی طرف اٹھیں تھیں جسکا قد اس سے بڑا تھا وہ گردن اونچی کیے اسکی آنکھوں میں دیکھتی جیسے آج کسی اور ہی جہاں میں تھی۔۔۔۔۔۔۔
” آپ چھوڑ کر چلی جاتیں ” وہ سنجیدگی سے بولا۔۔۔۔
” اتنی بےاعتباری؟؟ “
” آپ جا بھی چکی ہیں ” وہ اسے یاد دلا رہا تھا مایل نے خفگی سے اسے دیکھا۔۔۔۔
” میں انجان تھی ” وہ اسے باوقار کروا رہی تھی غلطی اُسکی ہے۔۔۔۔۔
” آپ کو ارحم کا رونا اچھا لگتا تھا نہ؟؟؟ میرے خوف میرے ڈر سے واقف تھے نہ؟؟ اتنے قریب ہوکر دور کیوں تھے؟؟؟ ” وہ اس سے پوچھ رہی تھی زریق نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے سچائی سے کہا۔۔۔۔۔۔
” مجھے پیار کرنا نہیں آتا!!!!! پر آپ ہوتیں ہیں تو جینے کا مقصد ملتا ہے ورنہ سب بےمعنی لگتا ہے ” مایل حیرانگی سے اِسے سُن رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” کیا ایسا ہے؟؟؟ “
” جی!!! حاوز کہتا تھا آپ وہاں زیادہ خوش ہیں بس اسی لئے لینے نہیں آیا آپ کو ارحم بھی یاد نہیں آیا؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔ “وہ اُلٹا اِس سے شکواہ کر رہا تھا۔ مایل نے مُڑ کر حاوز کو دیکھا وہ مبہم سا مسکرایا۔ کیا اتنی دور سے وہ انکی باتیں سُن سکتا ہے؟؟؟؟ مایل نے سر سے پیڑ تک زریق کو دیکھا اِسکی شرٹ کی سامنے کی جیب میں مایل کو تٙجسُس ہوا سفید شرٹ میں کالا سا کچھ ہے مایل نے ہاتھ ڈالا تو وہاں چھوٹا سا مائیکرو فون تھا۔۔۔۔۔۔
ایک غصّے بھری نظر سے اپنے شوہر کو نوازتے مایل نے وہ مائیکرو فون اپنے پیڑوں تلے کچل دیا۔۔۔مڑکر اس نے حاوز سلیمان کو دیکھا وہ ابھی بھی مسکرا رہا تھا حاوز نے اپنے کانوں سے وہ ڈیوائس نکال کر مایل کے سامنے دُور اوچھالی نظریں مایل اور زریق پر تھیں۔۔۔۔۔ وہ ایک آخری نظر سے ارحم کو محبت سے دیکھتا اپنے کار میں بیٹھ کر کار زُن سے اُڑا لے گیا۔۔۔۔۔
” اب آپ کو اسکی ضرورت نہیں،،، جو پوچھنا ہے مجھ سے پوچھیں جو سمجھنا ہے مجھ سے سمجھیں،،، چاہے کوئی بھی بات ہو میاں بیوی میں پردہ نہیں ہوتا۔۔۔ آپ کا میرا گہرا رشتا ہے حاوز اور آپ کے رشتے سے بھی گہرا رشتا۔۔۔۔۔۔۔ ” مایل نے اسکی داڑھی کو چھوتے نرمی سے کہا۔زریق بس ان آنکھوں میں دیکھتا رہا۔۔۔۔۔
” میرے اندر خوائش پیدا ہوتی ہے کہیں نہ کہیں تٙجسُس ہے میں آپ کو چھو کر محسوس کروں!!!! پر نہیں کر پاتا۔۔۔۔۔۔ ” وہ اسے دیکھتے کہ رہا تھا مایل کو لگا جیسے وہ اُداسی سے کہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
” کیوں اتنی پروا کرتے ہیں؟؟؟ خود سردی میں گھوم کر خود کو بیمار کردیا اور مجھے گرم کپڑے پہنانا آپ کو یاد رہا؟؟ اور میں صرف یہ سوچتی رہی آپ ارحم کو۔۔۔۔ ” اسکی آواز بھر آگئی۔۔۔
وہ تب کا ذکر کر رہی تھی جب Ski Dubai میں وہ خود کو بیمار کر کے بس مایل اور اسکی بچے کی پروا کرتا رہا تھا۔۔۔۔
” حاوز سے ایک ڈاکٹر نے کہا تھا مجھے اپنوں کا احساس ہوگا جن کے ساتھ میرا بچپن گزرا ہے!!!! مجھے آپ کا احساس نہیں ہوا مگر جب آپ میری نظروں کے سامنے نہیں ہوتیں۔۔ کچھ اچھا نہیں لگتا۔۔۔ ” وہ نم آنکھوں سے مسکرا رہی تھی ارحم اسکے کھلے بالوں پر ہاتھ مار رہا تھا۔۔ اسے مسکراتے دیکھ وہ بھی ہلکا سا مسکایا۔۔۔۔۔۔۔
——————————
” یہ ہمارے پیچھے گارڈز کیوں آرھے ہیں؟؟ ” مایل جو زریق کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی اپنے پیچھے دو دو گاڑیوں کو آتے دیکھ پوچھ بیٹھی۔۔۔۔
” ہم اسی لئے دبئی گئے تھے!!!! یہاں جان کا خطرہ ہے حاوز انہیں ہماری سیفٹی کے لئے چھوڑ گیا ہے آپ اپنے گھر والوں سے مل لیں پھر آج رات کی فلائٹ سے ہم واپس دبئی۔۔۔۔۔ ” مایل دبئی جانے کا سن کر چونک گئی اسکا دل راضی نہیں تھا یہاں سے جانے کے لئے۔۔ وہ یکدم ہی اداس ہوگئی تھی زریق نے ایک نظر اسے دیکھا جو ارحم کو اپنے سینے سے لگائے اسکی پیٹ تھپک رہی تھی ارحم سو چکا تھا ماں کا لمس پاتے ہی وہ اسکی چھائوں میں ہی گہری نیند میں اتڑ گیا۔۔۔۔
” آپ اداس نہ ہوں آپ نہیں جانا چاہتیں خیر ہے!!! حاوز سے بات کرلوں گا۔۔۔۔ ” مایل کو آج اس شخص پر بےتحاشا پیار آرہا تھا وہ کافی بدل چکا تھا ان کچھ دنوں میں جیسے وہ اسکی رٙگ رٙگ سے واقف ہو چکا تھا۔۔۔۔
” آپ بدل گئے ہیں پہلے اجنبی لگتے تھے۔۔۔ “
” بس اب آپ کی طرح ریسرچر بن گیا ہوں ” وہ اسکی بات سن کر چونکی پھر جیسے سمجھ کر حیرت میں ڈوب گئی کیا وہ ہر بات سرچ کرتا تھا؟؟؟ ہر چیز؟؟؟؟ اسکے موڈ سوئینگس سے بھی واقف ہوگیا تھا؟؟؟
وہ سوچ رہی تھی پھر یکدم جیسے ایک سوچ نے اس کے دماغ میں جگہ بنا لی اسے حاوز سلیمان کے الفاظ یاد آئے کہ اس کی وجہ سے کسی کی زندگی متاثر ہوئی ہے۔۔۔۔
” اپنا فون دیں ” اس نے زریق سے فون لے کر کال ملائی اگلی ہی بیل پر حاوز نے اس کی کال اٹینڈ کر لی۔۔۔
” فرمائیے؟؟؟ میں بول کر تھک چکا ہوں آپ سُن کر تھکی نہیں؟؟؟ ” اسکے لہجے میں جیسے بےزاری تھی۔۔۔۔
” آپ کیا کہ رہے تھے کس تیسرے کی زندگی متاثر؟؟ ” وہ اس سے نہایت دھیمی آواز میں پوچھ رہی تھی اسے شک تھا کہیں زریق نہ سن لے اور وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کا شوہر اس کے بارے میں کچھ بُرا سوچے یا سمجھے۔۔۔۔
” دل اور دماغ کو بیلنس کرنا مشکل ہے جنہیں دل کا روگ لگ جاتا ہے وہ سنبھل جاتے ہیں مگر جو دماغ سے ہاتھ دھو بیٹھے ساری زندگی کے لیے وہ مفلوج ہو کر رہ جاتے ہیں۔۔۔ لڑکی چھوڑ کر چلی گئی،،، بے وفائی کی،، یہ غم مٹ جاتے ہیں لیکن دماغ پر اثر ہوا تو دماغ پہلے کی طرح دوڑتا نہیں۔۔۔۔آہستہ آہستہ کمزور ہونے لگتا ہے۔۔۔۔۔ اس کی مثالیں آپ کے سامنے ہیں آپ کو دل کا روگ لگا تھا لیکن آپ کا دماغ بھی متاثر ہوا تھا دل کے روگ نے آپ کو سنبھال لیا۔۔۔ آپ بھٹکی نہیں تھیں نہ اُس محبت میں آکر آپ نے کچھ غلط کیا تھا لیکن دماغ جب اُس سے ہاتھ دھو بیٹھیں آپ کی زندگی کے ساتھ ساتھ دوسروں کی زندگی پر بھی اثر ہوا۔۔۔۔
دوسرا آپ کا کزن زاکون حیدر جو آج تک دل کا روگ لگائے بیٹھا ہے۔۔۔۔ لیکن اپنی زندگی میں اُس سے کامیاب ترین کون ہے؟؟؟؟ پورے ہاسپٹل میں لوگ اُسے جانتے ہیں ہر کوئی اُس کی شخصیت کے پہلو سے آگاہ ہے اُس نے اپنی عزت خود بنائی ہے کتنے ہی لوگوں کی اُس نے جان بچائی ہیں۔۔۔۔ اپنے دماغ کا استعمال اُس نے وہاں وہاں کیا ہے جہاں دوسروں کے دماغ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔۔۔۔۔”
وہ ایک ہیڈ نرس ہے لیکن آپ اس بات سے آگاہ نہیں کہ آپ کے کزن نے ایک کیبج(ہارٹ) پیشنٹ کی رپورٹ دیکھی تھی جس میں اُس کے وائٹ بلڈ سیلز (WBC)بہت کم تھے یہ بات ڈاکٹر کی نظر میں نہیں آئی۔۔ آپ کے کزن نے دیکھتے ہی سینیئر کو انفارم کیا جس کے بعد اُس پیشنٹ کا کیبج رُک گیا آپ کو اندازہ ہے اگر اس کا کیبج ہو جاتا تو وہ پیشنٹ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ بچ پاتا۔۔۔۔۔
اس مثال کو دینے کا مقصد صرف یہی تھا کہ دل کے روگ سے انسان نکل آتا ہے پر دماغ متاثر ہو تو بہت مشکل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں آپ کو کچھ نہیں بتاؤں گا آپ خود جا کے اپنی آنکھوں سے دیکھیں میں اس حوالے سے کچھ نہیں جانتا آپ کو خواب اور حقیقت کا اگر فرق بتایا تھا تو صرف آپ کی سوچ جان کر۔۔۔ آپ کے شوہر کی باتیں سُن کر کہیں نہ کہیں اندازہ ہو گیا کہ جھول کہاں ہے؟ پر میں ان چیزوں سے واقف نہیں ہوں جن سے میرا تعلق نہیں۔۔۔۔۔ بس یہی کہنا ہے۔۔۔۔ ” زونیشہ ” سے مل لیں اِس سے پہلے کے وقت آپ کے ہاتھ سے نکل جائے۔۔۔۔۔۔ ” کہتے ساتھ اس نے فون رکھ دیا۔ مایل کو امید نہ تھی وہ زونیشہ کا ذکر کرے گا۔۔۔ اس کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ تیسرا وجود مومنہ کا ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
——————————
مایل جھجکتی ہوئی گھر میں داخل ہوئی اسکے ساتھ آج زریق تھا مگر اِسکی حرکتوں سے وہ سب جو پریشان ہوئے تھے مایل کو اُسکا ڈر تھا وہ کیا جواب دے گی؟؟۔۔۔۔۔۔۔
وہ جب گھر میں داخل ہوئی اُسی وقت اُس نے دیکھا حیدر مرتضی صدیق صاحب آریز اور شاد سب ہی صوفے پر تھکے تھکے سے بیٹھے تھے شاید وہ ابھی سفر سے لوٹے تھے اسے دور سے ہی آتا دیکھ حیدر مرتضی خوشدلی سے اُٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔۔۔۔
” میری بچی کیسی ہے؟؟؟ ماشاءالله میرا شیر میرا جگڑ “
حیدر مرتضیٰ نے مایل کے سر پر ہاتھ رکھا پھر اسکے بازوں میں سوئے ارحم کو احتیاط سے لیکر نیند میں ہی اسکے دونوں گال باری باری چومے۔۔۔۔۔۔۔
” تایا ابو آپ کی دعائوں سے بہت خوش ہوں ” حیدر مرتضی نے حیرت سے اسے دیکھا وہ آج بہت بدلی بدلی سی لگ رہی تھی جیسے اس میں ” کانفیڈنس ” نئے سرے سے آگیا۔۔۔۔
” تمہاری تائی نے بتایا تھا تم یہاں آئی ہو لیکن وہ خاص مجھے بتا نہ سگی وہ کہہ رہی تھی تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں۔۔۔۔ ” وہ مایل سے پوچھ رہے تھے جب کہ زریق صدیق صاحب آریز اور شاز سے گلے مل رہا تھا آریز تو اس سے شکوہ بھی کر رہا تھا کہ وہ مایل کو دبئی لے کر ایسا گیا کہ واپس لوٹا ہی نہیں آج اتنے عرصے بعد وہ سب اکٹھا ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مایل کچھ دیر ان سب کے ساتھ بیٹھی رہی صالحہ شگفتہ اور نجمہ حیرت سے اسے دیکھ رہیں تھیں وہ کس حال میں گئی تھی اور کس حال میں لوٹی تھی؟؟؟ وہ تینوں اس سے سوال کرنا چاہ رہیں تھیں گھر میں جو ماحول تھا کل تک کس قدر خوفناک تھا جیسے مایل کی دنیا ہی ختم ہو کر رہ گئی ہو۔۔۔
وہ اس سے ارحم کے بارے میں پوچھنا چاہ رہیں تھیں بے شمار سوالات تھے لیکن اس وقت وہ مردوں کی موجودگی کی وجہ سے سب چُپ تھیں اگر وہ ہلکے سے بھی اس بات کی کا ذکر کرتیں تو ضرور حیدر مرتضی اور صدیق صاحب اس بات کے پیچھے پڑ جاتے اور پھر سوالوں کا وہ سلسلہ شروع ہوتا کہ وہ تینوں عورتیں سر پیٹ کر رہ جاتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
——————————
مایل کچھ دیر ان کے ساتھ بیٹھی رہی لیکن بے چینی ایسی تھی کہ کسی طور سکون محسوس نہیں ہو رہا تھا اس لیے وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔
اس نے حیدر مرتضی سے کہا کہ وہ زونیشہ سے ملنے اس کے گھر جا رہی ہے پھر وہ گھر کے گیٹ سے نکلی کسی کو کوئی اعتراض نہیں تھا کیونکہ وہ ہمیشہ سے زونیشہ کے گھر جاتی تھی جو چند قدم کی دوڑی پر ہی تھا زریق نے اسے جاتے ہوئے غور سے دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔
ایک سال اور کچھ ماہ گزرے تھے کہ وہ زونیشہ کے گھر نہیں گئی تھی کتنی گہری دوستی تھی ان میں لیکن وقت نے ایسا پاسا پلٹا کہ ان کے بیچ کی گہری دوستی نفرت میں بدل گئی۔۔۔
وہ بہت سوچ کر قدم قدم بڑھا رہی تھی اس نے ایک دفع زونیشہ کی ماں سے بدتمیزی کی تھی اور زونیشہ سے تو کئی دفع کی ہے۔۔ مایل نے بیل بجائی تپ چوکیدار نے دروازہ کھولا۔۔۔۔۔۔
اسکا دل اب بھی اندر جانے کو نہیں تھا نجانے وہ اسکے ساتھ کیسا سلوک کریں گئے؟؟؟ چوکیدار نے دروازہ کھولا تو وہ گیٹ پار کرتے گارڈن سے ہوکر گھر کے دروازے تک آئی۔۔ دروازہ کھلا ہوا تھا زونیشہ کا بھائی علی باہر کھیل رہا تھا اسے اندر جاتا دیکھ اُس نے پُکارا۔۔۔۔
” مایل آپی زونی آپی اپنے کمرے میں ہیں ” اُس نے تیز آواز میں کہا مایل پیچھے مڑی اور اسکی بات سن کر گہرا سانس لیکر رہ گئی۔۔۔۔۔۔
وہ پہلے بھی یہاں کئی دفعہ آچکی تھی لیکن آج اسے یہاں سب کچھ پرایا سا لگ رہا تھا گھر کے اندر اسے کوئی نظر نہیں آیا اس لیے خاموشی سے وہ سیڑھیاں چڑھتی اوپر زونیشہ کے کمرے میں آئی۔۔۔۔۔۔
کمرے کا دروازہ کھلا تھا وہ اندر داخل ہوئی تو اسے زونیشہ بیڈ پر لیٹی نظر آئی۔ وہ دائیں طرف لیٹی تھی مایل اتنی کنفیوز کبھی نہیں ہوئی جتنی آج اس پل ہوئی اسے یاد آیا اس نے زونیشہ کو اپنے کمرے سے نکالا تھا اپنی ہی حرکت پر اسے شرمندگی ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
” زونیشہ؟؟ ” اس نے دھیرے سے پکارا وہ جو اپنی سوچوں میں محو تھی اس آواز پر حیرت زدہ رہ گئی وہ لیٹی لیٹی ہی سیدھی ہوئی تو مایل کو سامنے دیکھ کر ساکت رہ گئی وہ یہاں؟؟؟
مایل اُسکا حلیہ دیکھ رہی تھی آج بھی وہ اتنی ہی خوبصورت تھی۔ اسکے گال سُرخ تھے جیسے ابھی بلش لگایا ہو آنکھیں لال تھیں جیسے روتی رہی ہو۔ شاید مایل کو لگا ہو بھلا وہ روئے گی کیوں؟؟؟ سلکی لمبے بال کھلے ہوئے تھے دوپٹا بیڈ پر پڑا ہوا تھا۔۔۔ وہ شاید ہر چیز سے بےنیاز اپنی سوچوں میں محو تھی۔۔۔۔
” المیر تو تمہاری اس خوبصورتی کا دیوانہ ہوگا ” وہ جو اسے سامنے پا کر حیرت زدہ رہ گئی تھی اس کے منہ سے نکلتے الفاظ سن کر اپنی نظریں جھکا گئی مایل کو اب اس سے کوئی جلن محسوس نہیں ہوتی تھی لیکن نا جانے کِس احساس کے تحت اس نے زونیشہ سے کہہ دیا اب تو واقعی اِسے المیر اور زونیشہ سے نہ جلن محسوس ہوتی تھی نہ کوئی فرق پڑتا تھا کیونکہ اب اسے زریق مل گیا ہے آج اس کے آنے کی شاید وجہ بھی یہی تھی ورنہ اگر وہ پہلے کی طرح سوچتی تو کبھی وہ زونیشہ کے گھر پیڑ تک نہ رکھتی۔۔۔۔۔۔۔
” کیسی ہو؟؟ ” اس کے سوال پر ایک بار پھر نظریں اٹھیں تھیں اس نے بولنے کے لئے لب کھولے مگر یہ کیا؟؟ اسکی آنکھیں پانیوں سے بھرتی چلی گئیں۔۔۔۔
” تم ٹھیک ہو؟؟؟ ” وہ اسکے قریب چلی آئی زونیشہ کی ہچکی بن گئی وہ رو رہی تھی مگر منہ سے ایک لفظ تک نہیں نکالا۔۔۔۔
” کیا ہوا ہے؟؟؟ ” جو بھی تھا وہ اسکی دوست رہ چُکی ہے مایل اسے روتا دیکھ پریشان ضرور ہوئی تھی۔ مگر اس کے بار بار پوچھنے پر بھی وہ منہ سے ایک لفظ تک نہیں نکال رہی تھی۔۔۔اخر کار مایل نے اسے اپنے آنے کی وجہ بتائی۔۔۔
” تم حاوز کو جانتی ہو ” حاوز کا نام سنتے ہی زونیشہ چونک کر اسے دیکھنے لگی مایل اس کی آنکھوں سے شناسائی محسوس کر چکی تھی کہ وہ حاوز سلیمان کو جانتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہچکی لیکر روتی رہی مایل کی سمجھ سے باہر تھا وہ کیوں رو رہی ہے؟؟؟؟؟ پھر وہ اٹھی اور کچھ ڈھوڈنے لگی مایل اسکی حرکتیں دیکھ رہی تھی وہ کر کیا رہی تھی؟؟؟؟ اس نے ڈرا میں سے ایک نوٹ بوک اور پین نکالی۔۔۔۔۔۔۔
وہ بیڈ پر اِسکے قریب بیٹھ گئی وہ پین لیکر نوٹ بک پر کچھ لکھنے لگی مایل دیکھ رہی تھی کہ وہ لکھنے کے ساتھ رو بھی رہی ہے جتنا وہ لکھ رہی تھی اُس سے زیادہ وہ رو رہی تھی شاید الفاظ ایسے تھے کہ اِسے رونے پر مجبور کر دیتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” ہر مرد خوبصورتی پر نہیں مٹتا مایل۔۔۔۔۔۔ “
” ہم کتنے اچھے دوست تھے ہمارے بیچ کوئی دیوار نہیں تھی۔ پھر پتا نہیں تم نے بنائی میں نے بنائی یا خود بنی۔ المیر کے نام کی دیوار۔۔۔۔۔۔۔ میں نے اُسے تم سے چھینا ہے؟؟؟ وہ میرا تھا کب؟؟؟ ایک بات بتاؤ مایل مجھے محبت ہوتی تو تمہیں نا بتاتی؟؟؟ تمہیں ہوئی کبھی تم نے بتایا؟؟؟ وہ شخص تمہاری پسند تھا کبھی تم نے اِس بات کی ہوا تک لگنے دی؟؟ نہیں کیوں کے ہمارے ذھن ان باتوں تک کبھی پہنچے نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
” تم دن رات اسکا ذکر کرتیں ” المیر بھائی ” کی رٹ سُن کر وہ شخص کب میری سوچوں میں آگیا نہیں جانتی۔ ٹھیک ہے سوچوں تک رسائی حاصل کی پر اُسے کس نے اجازت دی میرے دل میں اپنا مقام بنائے۔۔۔؟؟؟؟ میری غلطی یہ تھی مایل یا میری سزا کہ میں تمہاری دوست ہوں اور تم اُس شخص کو اتنی عزیز ہو کہ وہ تم سے جُڑے ہر رشتے کو اہمیت دیتا ہے۔۔۔۔۔
جب کبھی میں راستے میں اکیلے تھی تنہا تھی مصیبت میں ہوتی وہ ہر اُس جگہ میری مدد کو پہنچ جاتے تھے کیونکہ میں تمہاری دوست تھی۔۔۔۔ ایک دفعہ اُنہوں نے مجھے کچھ غنڈوں سے بچا کر میری حفاظت کی دوسری دفعہ میری بُکس کے پیسے ادا کر کے بےعزت ہونے سے بچا لیا۔۔۔۔۔۔
اُس وقت مایل مجھے لگتا تھا کہ وہ شخص اجنبی ہو کر بھی میرے بے حد قریب ہے۔۔۔۔۔۔
جب اُن کا رشتہ آیا مایل۔۔۔۔۔۔
مجھے لگا زندگی کا حاصل مل گیا۔۔۔۔
کوہِ نور کا خزانہ مل گیا۔۔۔۔۔۔۔
تم تو شاید جان نہ پاؤ مجھے زندگی جینے کا احساس ملا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
زندگی حسین لگنے لگی تھی۔۔۔۔۔
نکاح والے دن لوگ میری تعریف کرتے تھکتے نہ تھے جو آتا ہمیں دیکھ کر کہتا چاند سورج کے جوڑی ہے جتنا حسین دلہا ہے اتنی ہی حسین دلہن ہے۔۔۔۔ وہ نظر اٹھا کر مجھے دیکھنا نہیں بھولتے تھت اُس دن میں خود کو کسی سلطنت کی شہزادی سمجھ رہی تھی جس نے اپنے محبت کو فتح کر لیا وہ شخص جس سے میں محبت کرتی ہوں وہ بھی میرے دیدار کا طلبگار ہے۔ نکاح سے شادی کا سفر بہت خطرناک تھا مایل اُسکا احساس مجھے شادی کی پہلی رات ہی ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔۔
نکاح کے بعد اُن سے امیدیں بڑھتی گئیں وہ جب صبح آفس جانے کے لئے نکلتے میں بھاگ کر کھڑکی کے پاس جا کھڑی ہوتی تھی پردے کے پیچھے سے اُنہیں فل سوٹ میں دیکھتی تھی اُن کے چمکتے بوٹ، اُن کی آنکھوں پر دھوپ سے بچنے کے لئے گوگلز ورسٹ واچ اُن کا چلنا،، کار کے پاس جاکر رُکنا ریموٹ کنٹرول سے کار کا دروازہ کھولنا، بیٹھ کر کار ریورس کرنا پھر منٹوں میں میری نظروں کے سامنے سے اوجھل ہونا۔ جب کوئی آپ کی پسند ہوتا ہے نہ مایل اُسکی ایک ایک چیز سے آپ کو محبت ہوتی ہے مجھے بھی ہے۔۔۔بےانتہا، بےتحاشا۔۔۔۔ جب تک وہ نظروں کے سامنے رہتے نہ مایل دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی لیکن جیسے ہی چلا جاتا دل سُست رفتار سے دھڑکنے لگتا۔۔۔۔ حسین زندگی پل بھر میں رُک جاتی۔۔۔۔۔۔۔
وہ اتنا مکمل شخص ہے مایل جب میرے سامنے سے گزرتا تھا گھنٹوں مجھے اپنے سحر میں جکڑتا تھا۔۔۔۔۔۔
اُن کی کلون کی مہک میرا ذھن سُن کر دیتی سامنے بس وہی نظر آتا اُس دن اُسکی لائیبرری میں بھی یہی ہوا اُنہیں دیکھا تو بس دیکھتی رہ گئی وہ میری آنکھوں میں اپنی پسندیدگی بھانپ چکے تھے تبھی اُنہوں نے مجھے ڈانٹا۔۔۔۔
تین دن تک مجھے بخار رہا،،، خوف کے مارے کے اُسے پتا چل گیا،،، ڈر کے مارے کے اُسے شاید میں ناپسند ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن قسمت۔۔۔ قسمت ہر کسی پر مہربان نہیں ہوتی نکاح میں ہوکر بھی مایل وہ مجھ سے بہت دور تھے۔۔۔۔
میری جب اُن سے شادی ہوئی میرے پیڑ زمین پر نہیں پڑ رہے تھے۔ میری شادی میرے پسندیدہ شخص سے ہوئی تھی میں آسمان میں اوڑھ رہی تھی زمین پر آنے کا ہوش تک نہیں تھا۔۔۔۔۔۔ وقت گزرنے کے ساتھ مجھے احساس ہوا لوگ سہی کہتے ہیں شادی اُس سے کرو جو آپ سے محبّت کرے وہ نہیں جس سے آپ کو محبت ہو کیوں کے قدر دان ہی قدر کرنا جانتا ہے۔۔۔۔۔۔
شادی رات میں اُنہی کے بیڈ پر بیٹھی سجی سنوری اُن کا انتظار کر رہی تھی۔ اُن کی موجودگی کمرے میں محسوس کر کے پہلی دفع میرا سانس اٹکا تھا۔ سوچ رہی تھی کاش وہ آج ویسے ہی مجھ پر مہربان ہوں جیسے میری مدد کرنے کے لئے ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کے بوٹوں کی آواز چلتے چلتے رُکی میرا دل وہاں رُک گیا۔۔۔۔۔۔
” چینج کر کے سوجاؤ!! تھک گیا ہوں تم بھی تھک گئی ہوگی۔۔۔۔۔ ” ایک جملا کہا تھا انہوں نے بےدردی سے میرے ارمان مٹی میں ملا دیے۔ مایل مرد کیوں نہیں سمجھتا؟؟؟ ہم ماں باپ چھوڑ آتے ہیں اُنکا تھوڑا سا سرد رویہ ہماری دنیا ہلا دیتا ہے شادی رات اُن کا ایسا رویہ دیکھ کر میں اندر سے ہل گئی اُنہوں نے نہ میرا انتظار کیا نہ مجھے وقت دیا لائٹ بند کر کے لیٹ گئے۔۔۔ میں اُن کے بیڈ سے ہل تک نہ سگی سانس روکے ساکت ہوگئی وہ بیڈ پر لیٹ چکے تھے میں ہلتی بھی تو انہیں محسوس ہوجاتا۔۔۔۔۔۔
مجھے لگا شاید وہ مجھ سے ناراض ہیں انہوں نے علی کے ہاتھ ایک لیٹر بھیجوایا تھا جس میں وہ مجھے نیچے بلا رہے تھے، مجھ سے بات کرنا چاہتے تھے میں انھیں اپنی کھڑکی سے دیکھتی رہی لیکن ہمت نہیں ہوئی نیچے جانے کی۔۔۔ نکاح ہوچکا تھا مگر مایل مجھے کوئی ان کے ساتھ دیکھتا کیا کہتا؟ میں ڈر گئی تھی ابو بھی گھر پر نہیں تھے یہی سوچ رہی تھی کوئی ہمیں ساتھ دیکھ کر طنز نہ کرے۔۔۔ جب شادی کے بعد شوہر سے پوچھ کر ماں باپ سے ملتے ہیں تو میں شادی سے پہلے اُن سے بغیر پوچھے کیسے جاؤں!! میرا دل راضی نہیں تھا۔۔۔۔۔۔
اُنکے سوجانے کے بعد میں اٹھی تھی چینج کرنے۔ اُسی رات مجھے احساس ہوا میری دنیا واقعی بدل گئی ماں باپ پیچھے چھوٹ گئے سب سو رہے تھے میرا بیگ نجانے کہاں تھا؟ کپڑوں کا ہوش نہیں۔۔۔ بھوک سے حالت خراب پر وہاں مایل سب بےفکر سو چکے تھے۔۔۔۔۔
اُن کے کپڑے پہن کر میں بھوک سے لڑتے لڑتے سوگئی۔ صبح میں اٹھ گئی وہ نہیں اٹھے دیر سے اٹھے تھے۔ میرا حولیا دیکھ کر وہ حیران رہ گئے۔ میری نظریں شرم سے جھکی ہوئیں تھیں وہ خود ہی سمجھ گئے میرا بیگ کمرے میں لے آئے نجانے کہاں تھا؟؟؟۔۔۔۔۔۔
مایل وہ مجھے آج تک اپنی کسی ضروری چیز تک کے لئے بھی نہیں بلاتے۔ وہ نہا کر نکلے پھر میں گئی ایک لفظ تک نہ انہوں نے بولا نہ میں نے۔۔۔۔۔۔۔
ہم باہر آئے وہ سب کے سامنے میری جھجھک محسوس کر کے ناشتے کی ٹیبل پر میری پلیٹ بھرتے رہے کمرے میں کیوں وہ مجھ سے بےخبر تھے؟؟؟ پورا دن گزر گیا مایل وہ گئے تو واپس نہیں آئے نئی نویلی دلہن کے میں نے سنا تھا شوہر نخرے اٹھاتے ہیں مجھے تو وہ خوش نصیب دن بھی نصیب نہ ہوئے۔۔۔۔۔۔۔
وہ باہر مجھ سے بات بھی کر لیتے سب کے سامنے مگر کمرے میں وہ صرف میری لئے ” ایک اجنبی ” تھے۔۔
میں کتنا تڑپتی ہوں سسکتی ہوں ایک کمرے میں دو سانس لیتے وجود ہیں لیکن صرف خاموشی ہے۔۔۔۔۔
میں آج تک اپنی غلطی ڈھونڈتی ہوں، اِس شادی نے مجھ سے میرا سکون چھین لیا میری نیندیں چھین لیں۔ کیسا محسوس ہوتا ہے،، کیا سوچ آتی ہے جب شادی کے بعد شوہر گھر میں لاکر شوپیس کی طرح رکھ دے؟؟؟ مایل انہوں نے تو کبھی میرا ہاتھ تک نہیں چوھا۔۔ میں کیسے سمجھاؤں کمرے میں ہوتے ہوئے بھی وہ ایسے ظاہر کرتے تھے جیسے اُن کے علاوہ کمرے میں کوئی نہیں۔۔ میں انہیں غور سے دیکھتی ہوں گھنٹوں دیکھتی رہتی ہوں۔ لیکن اُنہیں پرواہ نہیں ہوتی تھی وہ اپنا کام کرتے تھے اُنہیں فرق تک نہیں پڑتا تھا کہ کوئی کمرے میں موجود ہے میں گھنٹوں سوچتی رہ جاتی تھی کیا میں اُنہیں دِکھتی نہیں ہوں؟؟ عجیب عجیب خیال میرے ذہن میں آتے تھے۔۔۔۔۔ ایک دفع خود میں تنگ آکر اُنکے سامنے کھڑی ہوگئی۔۔۔۔۔
وہ لیپ ٹاپ پر اپنا کام کر رہے تھے چہرے کے تااثرات سنجیدہ تھے۔ وہ چائے کے گھونٹ بھرتے اپنے انگلیاں کی بورڈ پر چلا رہے تھے۔۔۔۔۔
زونیشہ المیر کے قریب جا کھڑی ہوئی،، وہ لب کھولتی پھر بند کردیتی سمجھ نہیں آرہا تھا کیسے بات کرے؟؟
” بولو۔۔۔۔۔ ” بھاری سنجیدہ آواز خاموش کمرے میں گونجی۔۔۔۔۔المیر کی آواز سن کر ایک لمحے کو تو وہ ڈر گئی۔۔
” وہ۔۔۔و۔۔۔۔ اُس د۔ ۔۔دن آپ نے بلایا تھا میں اِس وجہ سے نہیں آئی کے امی۔۔ ابو کو شاید اچ۔۔۔ھا۔۔۔ اچھا نہ لگے۔۔ ” نگاہیں جھکائے وہ ہچکچا کر کہ رہی تھی۔۔۔۔
” ہم۔۔۔ ” المیر نے جیسے بات ہی ختم دی۔ ایک منٹ گزرا۔۔ دو۔۔۔ تین۔۔۔۔ پندرہ منٹ تک وہ اِسکے پاس کھڑی اِسکی سفاکی دیکھتی رہی خاموش آنسوں آنکھوں سے بہ نکلے۔۔۔ وہ کیوں کر رہا تھا ایسا؟؟ کس بات کی سزا دی اس نے مجھے؟؟ میں بس سوچتی ہی تو رہتی ہوں مایل۔۔۔۔۔ تمہیں پتا ہے مایل اگر مجھے تمہاری پسندیدگی کا علم ہوتا تو اللہ جانتا ہے میں کبھی تم دونوں کے بیچ نہ آتی میرے وہم و گمان میں نہیں تھا تم انھیں پسند۔۔۔ علم تو تمہاری ناراضگی سے تھوڑا تھوڑا ہوا تھا۔۔۔ اور آہستہ آہستہ اُن کے لیے میری ناپسندیدگی کا بھی مجھے علم ہوا وہ ہر وقت صرف تمہیں سوچتے تھے۔۔۔مایل تم آتی ہو تو اُن کی نظروں کا مرکز تم ہی رہتی ہو۔۔ تم جیسے ہی گھر سے جاتیں وہ اتنی گہری سوچوں میں ڈھوب جاتے کے اپنا کام فراموش کر دیتے۔۔ اُس منگنی میں بھی بس تم ہی تھیں حالنکے میں تو آُنہی کے لئے تیار ہوتی تھی سجتی تھی سنورتی تھی ہر سنگھار اُنہی کے لئے تھا۔۔ مگر میں اُن کی ایک نظر کرم کے لئے مرتی تھی اُن نظروں کا مرکز تو صدا سے تم رہی ہو۔۔۔۔۔
آبی نے بتایا تھا وائٹ اُنکا فیورٹ کلر ہے میں دل سے تیار ہوئی تھی ہر چیز اُن کے مطابق کی مایل اُنہیں چوڑیوں کی آواز نہیں پسند میں نے پہنی چھوڑ دیں اُس دن بھی نہیں پہنی انہیں سمپلیسیٹی پسند ہے میں نے بھاری زیور پہنا چھوڑ دیے انہیں کھلے بال نہیں پسند آدھا دن واشروم میں بند رہ کر لوگوں سے منتیں کر کے جوڑا بنوایا میری اتنی محنت پر بھی مایل انہوں نے ایک نظر تک مجھے نہیں دیکھا۔۔۔۔۔۔۔
میرے ہاتھ خراب تھے اُس دن وہ میری پرس سے پیسے نکال رہے تھے وہ لفافہ جو انگیجمنٹ میں دینا تھا۔ تم شاید ہم دونوں کو ہی دیکھ رہیں تھیں تمہارے جانے کے بعد جانتی ہو وہ مجھ سے فوراً سے دور ہوئے جیسے انہیں شک ہو کے تم ہم دونوں کو ساتھ دیکھ کر اداس ہو گئی ہو۔۔۔۔۔۔
مجھے علم نہیں تھا انہوں نے مجھ سے شادی کیوں کی؟؟ میں سمجھتی تھی اُنکی پسند ہوں میں۔۔۔۔ اب اس سوچ پر ہنسی آتی ہے۔۔۔۔۔ مایل اُس گھر کو اُن گھر کے لوگوں کو میری ضرورت نہیں۔۔ آپ کی قدر،، آپ کو اہمیت،، گھر کا فرد تب مانتے ہیں جب آپ کسی ضرورت کے تحت ہو،، جہاں آپ کے آنے کا مقصد ہو۔۔۔ جب کوئی رشتہ ہو جب اُن سے میرا رشتہ نہیں بنا تو باقی سب سے کیسے بنتا؟؟؟ مایل ہر لمحہ ہر وقت اُس پورے گھر پر صرف تم ہی تھیں تمہیں پتا ہے تم نہیں ہوتیں تو ہر کوئی تمہاری غیر حاضری کا احساس دلاتا ہے۔ وہ بھولنا چاہیں بھی ہر کوئی انھیں یاد دلاتا ہے۔۔
تم نہیں ہوتی تو ایک دو دفعہ آریز اُن سے لڑا تھا کہ مایل کے ساتھ انہوں نے ٹھیک نہیں کیا یہاں تک کہ زاکون بھائی نے بھی ایک دو دفعہ اُن سے پوچھا تھا کہ انہوں نے تمہارے ساتھ یہ سب کچھ کیوں کیا؟ مایل تم بہت خوش نصیب ہو گھر کا ہر شخص صرف تمہاری فکر میں گلتا رہا تھا پر تمہیں پتا ہے زندگی میرے لیے بہت مشکل تھی لیکن اسے اور مشکل بنایا تھا تمہاری ماں نے۔۔۔
مایل شادی کے بعد لڑکی سسرال کو اپنا گھر سمجھتی ہے لیکن انہوں نے اُس گھر کو مجھے اپنا گھر سمجھنے کا موقع دیا ہی نہیں۔۔۔ میں اُس گھر کو کبھی اپنا ہی نہ سگی تمہیں پتا ہے وہ مجھے اتنا ذہنی دباؤ دیتی تھیں کہ کبھی کبھی میرے دل سے ان کے لیے بددعا نکلتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ مجھے ہر بات پر ٹوکتی تھیں میری ساس کے سامنے چھوٹی چھوٹی چیزوں پر میری غلطیاں نکالتی تھیں میرا اتنا دل چاہتا تھا میں جواب دوں لیکن میری زبان میرا ساتھ نہیں دیتی تھی۔۔ یہاں تک وہ امی کو نہ جانے کیا کیا کہتی تھیں میں نہیں جانتی اکثر میں آنٹی کو دیکھتی تھی کہ وہ امی سے باتیں کرتی ہیں جب بھی میں اُن دونوں کو ساتھ باتیں کرتے دیکھتی تھی مجھے ڈر لگتا تھا کہ ضرور انہوں نے میرے خلاف کچھ کہا ہوگا۔۔۔ تمہیں پتا ہے مایل تم خوش نہیں نہ تو مجھے بھی خوش رہنے کا حق نہیں ہے۔۔۔۔۔۔
پتا نہیں آنٹی نجمہ کے دماغ میں کیا ہوتا ہے میری زندگی میں ویسے ہی سکون نہیں وہ اُس میں اور زہر بھر کر تباہ کر دیتی ہیں مایل میں بدتمیزی نہیں کرنا جاتی پر انہوں نے مجھے اتنا ذہنی دباؤ دیا ہے کہ میرا دل چاہتا ہے میں خود کو ختم۔۔۔۔۔۔۔ آہاں۔۔۔۔
انہوں نے مجھے اُن راستوں پر چلنے سے مجبور کیا جہاں میری سوچ سمجھ ختم ہو چکی تھی۔۔ یہ دنیا نہیں سمجھتی اُن کے چھوٹے سے تعنے اُن کی چھوٹی چھوٹی کہی باتیں کسی کے ذہن پر کیا اثر کرتی ہیں؟؟؟ لوگ کیوں نہیں سمجھتے کہ ذہنی دباؤ انسان کو ختم کر دیتا ہے پھر وہ زندہ میں شمار نہیں ہوتا۔۔۔۔۔ نجمہ آنٹی نے امی کو کہا کہ ایک سال ہماری شادی کو ہو گیا میں ابھی تک ماں نہیں بن پائی کہیں میں بانجھ تو نہیں ہوں؟؟؟ ایسا نہ ہو کہ ساری زندگی اُن کا بیٹا اور وہ اِس خوشی سے محروم رہ جائیں۔۔۔۔۔۔
امی اس بات سے اتنا ڈر گئیں کہ انہوں نے کوئی پھکی بنائی وہ روز مجھے کھلاتیں میں صبح اٹھتی نہیں کہ وہ چمچ لے کے میرے کمرے میں آجاتیں اور روز مجھے وہ چیز کھلاتیں۔۔۔
میں جانتی ہوں وہ صحت کے لیے اچھی ہوتی ہے پھکی میں خرابی نہیں ہوتی لیکن مایل انہیں یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ وہ جو چیزیں ملا کے پھکی بنتی ہیں اس میں کوئی ایک چیز ایسی تھی جس سے مجھے پھکی کھاتے ہی ڈائریا ہو جاتے۔میری حالت اور خراب ہوجاتی۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دو دفعہ تو المیر نے بھی دیکھا لیکن کبھی پوچھا نہیں مایل میں انہیں کیا بتاتی کس طرح میں انہیں کہتی؟؟ کیسے لوگوں کو سمجھاؤں ہمارے بیچ میں میاں بیوی کا کوئی رشتہ ہی نہیں تھا وہ شخص تو میری خوشبو تک سے واقف نہ تھا کبھی انہوں نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں نہیں لیا وہ مجھے بیوی کا کیا درجہ کیا دیں گئے؟؟؟؟؟
میں اِن باتوں سے اتنی پریشان رہنے لگی کہ میرا سر پھٹنے لگا۔ جب میرا سر درد کرتا میں گولی لے لیتی۔۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا میں کس سے شیئر کروں مایل تم میری ایک ہی دوست تھیں اور تم مجھ سے روٹھ گئی؟؟؟؟ بغیر مجھے اپنا گناہ بتائے؟؟؟ پھر میں نے الگ الگ فیس بک گروپس جوائن کیے جن میں عورتیں اپنے گھر کی اسٹوریز لکھتی تھیں۔ میں ان سب کو پڑھنے لگی ایک دفعہ میں نے اپنی ایک سٹوری لکھی تو ایک عورت نے مجھ سے ان باکس میں رابطہ کیا اُس نے مجھے کہا کہ وہ مجھے ایک علم بتائے گی جس سے میرا شوہر میری قدر کرنے لگے گا۔۔۔۔
پہلے دن اُس نے مجھے کہا کہ مغرب کے بعد ٹھنڈے پانی سے نہاؤ۔ میں نے وہی کیا لیکن اگلے دن اُس نے مجھے پھر یہی کرنے کو کہا اور ساتھ میں ایک اور چیز لیکن ان کی باتیں سن کر میں اتنی خوف زدہ ہو گئی کہ میں دوبارہ فیس گروپس میں کبھی گئی ہی نہیں انہوں نے مجھے کہا کہ تھوڑا سا گوشت قبرستان میں چھوڑ آؤ خود۔۔۔ انہوں نے مجھ سے ایسی ایسی باتیں کی کہ مجھے کہیں نہ کہیں شک ہو گیا وہ مجھ سے بلیک میجک کا کہہ رہی تھیں۔۔۔۔۔
مایل میں اُس پل بیٹھی سوچ رہی تھی مجھے زندگی نے کہاں سے کہاں لا کھڑا کیا؟؟؟؟؟ کہا میں اپنے گھر میں سکون کی زندگی گزارتی تھی ہر ٹینشن سے پرے اور یہاں میں جب سے آئی ہوں مریض بن کر رہ گئی ہوں۔۔۔
میں اُسکے ساتھ جینا چاہتی تھی مایل تبھی میں نے ہار نہیں مانی اسکے ساتھ وہ زندگی جینے لگی جو وہ جیتا ہے۔۔ وہ ہنستا نہیں میں نے ہنسنا چھوڑ دیا،،،،،، وہ گھنٹوں سوچوں میں محو ہوتا میں بھی اس کے ساتھ بیٹھ کر اُسے دیکھتے اسی کو سوچنے لگتی۔۔۔۔۔۔۔
مجھے چائے نہیں پسند مایل تم جانتی ہوں۔۔۔۔ وہ شخص اسکی ایک مسکراہٹ کو میں روتی ہوں پتا ہے اُسے چائے بےحد پسند ہے جب اُسے چائے دیتی ہوں وہ مجھے دیکھ کر مسکراتا ہے۔۔۔۔
اُسکی ایک مسکراہٹ کے پیچھے کی وجہ میں جان گئی چائے۔۔۔۔ مجھے امی نے بتایا تھا مایل اور المیر کو عادت ہے چائے پینے کی مایل رات بھر جاگتی تھی اپنی بھی بناتی تھی اور اُن کی بھی ہر ایک دو گھنٹے بعد میں اس سے چائ کا پوچھتی وہب ہاں کہتے وہ ٹائم میں لکھ لیتی یہ ایک سے دوسری چائے کے بیچ گیپ کا لکھتی تھی وہ کاگز میں نے اپنے بیڈ کے سائیڈ ڈروو میں رکھا ہے کتنی پگال تھی۔۔۔۔۔
میں اکثر سوچتی ہوں کتنا ہی اچھا ہوتا اگر مجھے میرا پسندیدہ شخص نہ ملتا۔۔۔ مایل تم کہتی ہو نہ میں بہت خوبصورت ہوں المیر تو میری خوبصورتی کے آگے دل ہار گیا۔۔۔۔۔۔۔۔ خاندان سے اتنے اچھے رشتے آتے تھے امی جب مجھ سے کسی رشتے کا پوچھتیں میں روتی تھی میرے رونے سے وہ جان جاتیں کے مجھے یہاں نہیں جانا جب اِنکا رشتہ آیا میری آنکھوں کی چمک میری چہرے کی خوشی میری ماں نے جان لی میں آج تک اس بات کو روتی ہوں میں اُس وقت کیوں نہ روئی؟؟؟ خوشی سے ہی سہی روتی تو تاعمر اُسکے ساتھ نہیں رونا پڑتا۔۔۔۔
برباد ہوکر لوٹنے سے اچھا ہے میں کنواری ہی رہتی.۔۔۔۔۔
نا مجھے آنٹی نجمہ ملتیں۔۔۔۔۔ پتا ہے تم روتیں تھیں نہ مایل یہ لوگ مجھے بھی رلاتے تھے تم تکلیف میں ہوتیں تو یہاں یہ لوگ مجھے سلگاتے تھے مجھے جتایا جاتا تم خوش نہیں مجھے بھی خوش رہنے کا حق نہیں۔۔۔۔۔
غلطیاں بہت کی ہیں زندگی میں مایل
لیکن سزا مجھے وہاں ملی جہاں بےقصور تھی میں۔۔۔۔۔۔۔۔”
مایل کی آنکھیں پانیوں سے بھری تھیں۔ وہ ہر اُس کاغذ کا ایک ایک پنا پڑھ رہی تھی جو زونیشہ لکھتی جارہی تھی۔ وہ دونوں ہی رو رہیں تھیں زونیشہ لکھتے لکھتے رو رہی تھی کئی کئی الفاظ کاغذ میں مٹے ہوئے تھے لیکن مایل وہ الفاظ سمجھ جاتی تھی۔۔۔۔۔۔۔ وہ سوچ رہی تھی زونیشہ کی زندگی وہ کیا سمجھ رہی تھی اور کیا تھی؟؟ اکثر ہم باہر لوگوں کو خوش دیکھتے یہی سمجھتے ہیں کہ آپس میں بہت خوش ہونگے پیسا بھی ہے خوبصورتی بھی ہنڈسم حسبنڈ بھی لیکن اندر کی تلخ حقیقت ہمیں معلوم نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔
وہ لوگوں کے رویے سوچ کر حیران و پریشان ہو رہی تھی۔ یا کہیں زونیشہ تو جھوٹ نہیں بول رہی؟؟؟ وہ خوش ہو کر وہاں سے لوٹی تھی اور اب پھر وہ۔۔ ایسا لگ رہا اسی پرانی زندگی میں پہنچ گئی کیا سچ ہے کیا جھوٹ اسکی سمجھ سے باہر تھا۔۔ لیکن زونیشہ کی حالت چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کے وہ سچ کوہ رہی ہے.۔۔۔۔۔ اور کافی چیزیں تو مایل نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھی ہیں انگیجمنٹ والے دن کی اس کی کہی ہر ایک بات سچ لگ رہی تھی۔۔۔۔۔
وہ سوچ رہی تھی اُس نے زونیشہ کو جو اپنے بارے میں کہتے سنا تھا جب جب اُس کے ساتھ وہاں کیا ہوا تھا؟؟؟ وہ ذہن پر زور ڈال رہی تھی ایک دن اُسکے نکاح والی رات تھی۔۔ اُسے یاد آرہا تھا المیر اِس کے پاس آیا تھا اور تبھی اُس کے پیچھے زونیشہ آئی تھی لیکن وہ اُسے لے کر چلی گئی تھی۔ پھر دوبارہ المیر اِسے اٹھانے آیا تھا وہ نیند میں جھول رہی تھی المیر نے اسے کہا کہ وہ اپنے کمرے میں جا کر سوئے اور وہ اِسے کمرے تک چھوڑ بھی آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اِس کا مطلب تھا اُس دن وہاں وہ بیٹھے بیٹھے ہی سو چکی تھی المیر اور زونیشہ جو اس کے پاس آئے تھے وہ اِس کا خواب تھا جو حقیقت بن کر اِس کے دماغ میں زہر کی طرح گلا تھا وہ خواب ہی تھا ورنہ المیر زونیشہ کے ساتھ جانے کے بعد واپس کیوں لوٹتا؟؟؟؟؟؟
مایل جو اپنی سوچ میں اُلجھی تھی وہ زونیشہ کو بھی دیکھ رہی تھی جو اسے ہی دیکھ رہی تھی لیکن مایل کو ایک بات پر حیرت ہوئی وہ لکھ کر یہ سب کیوں بتا رہی ہے؟؟؟؟ اور مایل کو پڑھتے ہوئے بھی خیال نہیں آیا کہ وہ لکھ کیوں رہی ہے؟؟؟؟
” زونی تم لکھ کیوں رہی ہو بول کیوں نہیں رہیں؟؟؟؟ ” کتنے عرصے بعد مایل کے منہ سے زونی سُن کر وہ ہچکیاں لیتی روتی چلی گئی۔۔۔ لیکن اِس کا سوال ایسا تھا کہ زونیشہ کا رونا بند نہیں ہوا اُس کے کندھے سے لگی وہ روتی چلی گئی جب کہ مایل کی آنکھوں سے بھی خوف اور صدمے کے مارے آنسو بہہے کیوں کے ابھی کچھ انکشاف اور تھے جو ہونے تھے۔۔۔۔۔۔
——————————
” تمہارا یہی ڈرنا جھجھکنا، میری مردانہ انا کو تسکین پہنچاتا ہے!!!! تمہاری ان آنکھوں میں خوف دیکھ کر یقین ہو چلتا ہے تم میری ملکیت ہو صرف میری “
اسکے کان میں سرگوشی کرتا وہ اسکی روح فنا کر گیا۔۔۔۔۔
” چ۔۔۔۔۔۔۔چھ۔۔۔۔۔۔چھ۔۔چھوووڑررر د۔ ۔۔۔دو” اس آواز کو پہنچاتے ہی خوف سے اسکی آنکھیں پھیل گئی ہمت نہ تھی اسے دیکھنے کی وہ خوف کے مارے اپنے سینے سے لگے گھٹنوں میں سر دئیے کانپنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” تم چھوڑنے کی چیز ہو؟؟؟؟ ” وہ اس پر جھکا بےباکی سے ہنستا پل پل مزید اسکا خوف بڑھا گیا۔۔۔۔۔۔
وہ اسکے کانپتے وجود پر نرمی سے اپنا ہاتھ رکھ چکا تھا جسکا لمس محسوس کرتے ہی ایک بار پھر وہ وہ اسی خوف کی دنیا میں چلی گئی۔۔۔۔۔
اسے قریب سے آوازیں آ رہیں تھیں۔۔۔
وہ آواز لمحہ با لمحہ اسکے قریب آتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
عینا عینا کی چیخ اسکے حواسوں پر چھا رہی تھی اور وہ لمس اسے جلتے انگاروں کی طرح اسکا وجود جلسا رہا تھا۔۔۔۔
اسے سانس لینا مشکل لگ رہا تھا۔۔۔۔
یہ لمس اسکی جان لے رہا تھا۔۔۔۔
یہ چیخ اسے پاگل کر رہی تھی۔۔۔۔
وہ یہاں سے بھاگنا چاہتی تھی۔ اس شخص سے میلوں دور جانا چاہتی تھی مگر یہ کیا؟؟؟ چاہ کر بھی اسکا جسم حرکت نہ کر پا رہا تھا وہ بےحس و حرکت تھی اتنی کوشش کے بعد بھی اسکے وجود میں کوئی جنبش نہ ہوئی۔۔۔۔۔۔
وہ چیخ اسے نہایت قریب سے آتی محسوس ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جسے سن کر کوشش مزید بڑھ گئی وہ اپنی کوشش میں ھلکان ہوتی اس مردہ وجود میں حرکت پیدا کرنے کی کوشش میں پاگل ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔
دل کی دھڑکن خوف سے تیز ہوتی جارہی تھی۔۔۔۔
سانس اٹکنے لگا تھا۔۔۔۔۔۔۔وہ لمبی لمبی سانسیں لے رہی رہی تھی کوئی اسے کے وجود کو حلا رہا تھا۔۔۔۔۔
اسکے کان میں چیخ رہا تھا۔۔۔۔
” عینا بیٹا عینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” لیکن اس چیخ میں وہ چیخ جسے سنتے ہی وہ جھٹکے سے اٹھی تھی وہ اسی شخص کی چیخیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔
دروازہ کھولتے ہی وہ اسے اپنے سامنے دیکھ کر بےباکی سے ہنسا۔۔۔۔ہنستے ہنستے وہ پاگلوں کی طرح قہقے لگا رہا تھا۔۔۔
جبکے عینا کسی مردہ وجود کی طرح سامنے دیوار کو تک رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔