Wo Ajnabi by Yusra readelle50025 Episode 23
Rate this Novel
Episode 23
” پہلے مجھے لگا آپ Maladaptive Daydreaming کا شکار ہیں جس میں انسان خود کو اپنی اصل دنیا سے دور ایک خوبی دنیا میں لے جاتا ہے جہاں سب کچھ اس کا خود کا بنایا ہوتا ہے جیسے وہ چاہتا ہے بالکل ویسے۔۔۔ اور یہ ڈریمز کب آتے ہیں کیسے؟ اور کس وقت؟؟ تو ان ڈریمز کا ذریعہ آپ کی روزمرہ کی ایکٹیوٹیز ہوتی ہیں جیسے کسی خاص خوشبو کو سونگ کر وہ اپنی بنائی دنیا میں کھو جاتا ہے۔ جیسے ٹی وی میں کوئی سین دیکھ کر وہ سین کے اندر اپنی ایک الگ دنیا میں نکل جاتا ہے۔۔ بیٹھے بیٹھے اگر وہ کچھ سوچ رہا ہے تو وہ اس میں اتنا کھو جاتا ہے کہ اسکا اصل دنیا سے تعلق ختم ہو جاتا ہے۔ مطلب وہ اُس دنیا میں اِس حد تک آگے نکل چکا ہوتا ہے کہ وہ اُس دنیا کو اپنی اصل زندگی ماننے لگتا ہے۔۔۔ مگر آپ اسکا شکار نہیں تھیں یہ مجھے آج معلوم ہوا آپ کی امی سے بات کرنے کے بعد۔۔۔۔۔
اُس دن آپ جو کمپیوٹر پر سرچ کر رہی تھی وہ سب میں نے دیکھا تھا پوری ہسٹری چیک کی تھی اور آپ کی وہ سب حرکتوں سے مجھے اندازہ ہوا کہ آپ اسی بیماری کا شکار ہیں مگر نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ زیادہ تر انکے ساتھ ہوتا ہے جو Bipolar Disease کا شکار ہوتے ہیں۔ آپ کی کنڈیشن بہت severe نہیں لیکن ہاں sever نہیں تو خطرناک ضرور ہے۔۔۔ جیسے اسکے رزلٹ نکلے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ خواب اور حقیقت میں الجھی ہیں۔۔ آپ کو خواب حقیقت میں فرق کرنا نہیں آتا۔۔جسے کہتے ہیں
Dream Reality Confusion Disorder
مگر آپ کو بائے پولر ڈس اوڈر نہیں۔۔۔۔
جب جب آپ خوف کا شِکار ہوئی ہیں،، زریق سے ڈری ہیں وہ آپ کا خواب ہوتا تھا جسے آپ جان نہ سگیں آپ کے اصل سے مختلف ہے۔۔۔ آپ کو زریق نے ان غنڈوں کی جو تصویریں دکھائیں تھیں وہ ایک خواب ہی تھا اُن کی کبھی بھی کوئی بھی تصویر نہیں لی گئی تھیں نہ ہی زریق نے انہیں مارا تھا کہ وہ اقرار کرتا۔۔۔ مارا میں نے تھا موت انکی ایکسیڈنٹل تھی۔۔۔۔۔۔یہ سب آپ کے دماغ کا کھیل ہے اُس دن آپ کنفیوجن کا شکار تھیں زریق اور میری شرٹ کے کلر نے آپ کو سوچنے پر مجبور کیا۔ آپ نے نیوز دیکھی تھی کے ان لوگوں کو مار کر جان کر ٹرک کے آگے ڈال دیا گیا ہے۔۔۔ آپ کا شک یقین میں بدل گیا اِس سوچ نے آپ کو وہاں پہنچا دیا جہاں آپ سچ سنا چاہتی تھیں وہی ہوا۔۔۔ لیکن اس خواب نے آپ کے ذھن میں یہ
” شک ” ڈال دیا کے زریق آپ کی پسندیدگی ” المیر ” سے واقف ہو چکا ہے۔۔۔۔۔ایسا ہی ہے نہ؟؟؟؟ ” مایل کی پھٹی آنکھوں میں دیکھتے وہ تائید چاہ رہا تھا ساکت جسم سے بس وہ آنکھوں کی پلکوں کو گرا کر ہی ہاں میں جواب دے سگی۔
” مایل آپ کہیں نہ کہیں خود چاہتی تھیں آپ کے ساتھ بُرا ہو آپ چاہتیں تھیں المیر آپ کے آگے روئے اپنے کیے پر پچھتائے آپ نے جب جب جو سنا آدھا سچ تھا اپنے نکاح والے دن المیر کی وہ کال۔۔ وہ آپ کی اپنی سوچ تھی المیر زریق ایک دوسرے کو نہیں جانتے تھے۔۔۔۔
جیسے ایک بیماری ہے اُس میں ہمیشہ خود کشی کے خواب آتے ہیں بُرے بُرے خواب۔۔۔ اپنے ساتھ جتنا بُرا وہ انسان سوچ سکتا ہے اتنا وہ بُرا سوچتا ہے جس سے اس کے اندر خوف ڈر یہ سب چیزیں ایک نئے سرے سے پیدا ہوتی ہیں۔۔۔۔۔۔
آپ کہیں نہ کہیں خود سمجھنا نہیں چاہتی تھیں ورنہ آپ کی بیماری کوئی اتنی severe نہ تھی۔۔۔۔
آپ کی یہ بیماری تب خطرناک ہوئی جب آپ کے دل میں اپنی موت کو ہٹ کر ارحم کی موت کا ڈر پیدا ہوا۔۔ آپ یہ سچائی قبول کر چکی تھیں زریق آپ کے ساتھ بُرا نہیں کریگا نہ آپ کو نقصان پہنچائے گا۔۔۔۔۔۔
مگر مجھے نفرت صرف اس سوچ سے تھی آپ نے میرے بھائی کو اسکی اولاد سے دور رکھا؟؟؟؟ اس پر غصّہ کرتیں،، اس پر چیخ اٹھتیں آپ کو لگتا ہے وہ اپنے بچے کو سانپ کی طرح نغل لے گا؟؟؟؟ مسسز مایل ملک اُس دن آپ پاکستان آئیں تھیں زریق صرف اس وجہ سے کہ آپ میت دیکھ کر ڈریں نہ اپنے باپ کو چھوڑ کر آپ کو گھر چھوڑنے آیا تھا۔۔۔
وہ آپ کو اپنی امی کے گھر اس لیے نہیں چھوڑ کے آیا کہ وہ سب وہاں خالو کی میت پر آئے تھے۔۔۔ آپ جو سب کچھ بتا رہی ہیں وہ آپ کے دماغ کی خود کی سوچی ہوئی سوچ ہے آپ نے کہا کہ اُس دن زریق نے ارحم کو گرم پانی سے نہلایا جس پر آپ چیخ کر اُس پر غصہ کر گئیں جس کے بعد آپ سوئیں تو وہ آپ کے پہلو سے ارحم کو اٹھا کر اپنے ساتھ لے گیا اس کے ساتھ دو آدمی بھی تھے جو آپ کو دبئی چھوڑنے آئے تھے آپ نے اُن دو آدمیوں کو زریق کے ساتھ دیکھا تھا جب آپ پاکستان سے دبئی گئیں اور دبئی سے پاکستان آئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقول آپ کے اس نے ارحم کو کھائی میں پھینک دیا ایسا ہی ہے نہ؟؟؟ “
” میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اس نے میرے ارحم کو۔۔۔۔ ” وہ رو رہی تھی،، اپنی بات کا یقین دلا رہی تھی سب اسکے سامنے ہوا تھا اسے اچھے سے یاد ہے۔۔۔ ایک ایک چیز یاد ہے۔۔۔۔۔۔
” تو پھر وہ زندہ کیسے ہے؟؟؟ لائیو ویڈیو دیکھائی تھی؟؟ ” وہ سخت لہجے میں بولا مایل کا جسم کپکپانے لگا۔۔ اس نے دماغ پر زور دیا سامنے کھڑا شخص خواب تھا یا حقیقت؟؟؟؟ وہ کیسے سوال کر رہا تھا؟؟ سب اِس نے خود محسوس کیا تھا دیکھا تھا ہر چہرہ اسے یاد ہے۔۔۔۔۔اس نے جھٹ آنکھیں کھولیں تو وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔
” آپ ارحم کے ساتھ سوئیں تھیں۔ قدرتی مرد اور عورت میں کچھ ہارمونز کا فرق ہوتا ہے۔۔ ماں میں کچھ ایسے ہارمونز زیادہ مقدار میں ہوتے ہیں جس سے بچہ جب روتا ہے تو باپ تو نہیں لیکن ماں جاگ جاتی ہے۔۔ اُس دن شاید آپ کو بہت تھکن تھی آپ اتنی گہری نیند میں سوئی تھیں کہ آپ کا بیٹا آپ کو بلا رہا تھا پر آپ کی نیند میں خلل تک پیدا نہیں ہوا اُس وقت زریق آپ کو دیکھنے واپس گھر لوٹا تھا خالو کو ہم دفنا کر واپس آچکے تھے زریق کو آپ کی فکر تھی اسی لیے وہ اُس دن واپس لوٹا تھا اُس نے روتے ہوئے ارحم کو دیکھ کر اسے دودھ پلایا پھر وہ اسے اپنے ساتھ چھت پر ٹہلنے لے گیا۔۔ آپ جب نیند سے اٹھیں آپ نے ارحم کو اپنے پہلو میں نہیں پایا دن رات کا آپ کا شک کے ایک دن زریق آپ کے ارحم کو مار ڈالے گا آپ کا ڈر،،، آپ کا خوف،، اِس نے آپ سے آپ کے ہی بچے کی جان لے لی۔۔ آپ اب تک یقینی بے یقینی کی کیفیت میں ہیں کہ ارحم زندہ ہے بھی یا نہیں؟؟؟ مجھے یقین ہے اب تک آپ نے اس چیز پر یقین نہیں کیا کہ ارحم زندہ ہے اُس دن چوکیدار نے آپ سے کہا بھی تھا کہ صاحب چھت پر ہیں آپ نے اُس کی ایک نہیں سنی اور آپ وہاں سے چلی گئیں۔۔۔۔ راستے میں آپ کو ایک کار نے ٹکر ماری آپ ہاسپٹل جا پہنچیں جہاں آپ کے چیخنے چلانے سے لوگوں کو یہی لگا کہ آپ پاگل ہیں آپ نے خود انہیں بتایا کہ آپ کا ارحم مر چکا ہے اس کے بعد وہاں المیر نے آپ کو دیکھا۔۔۔
میں اُس عورت کے ذریعے آپ کو ڈھونڈتا ہوا آیا تھا اُس کی کار کا نمبر کچھ لوگوں نے نوٹ کیا تھا لوگوں کو پتا بھی تھا وہ عورت اُسی ایریا میں رہتی تھی تبھی آپ کو پہچان کر وہ ڈر کے وہاں سے بھاگی تھی۔ اُس عورت سے پوچھ کر میں آپ کو ہسپتال لینے آیا تھا لیکن آپ وہاں المیر کے ساتھ جا چکی تھیں۔۔۔۔۔۔۔
ایسا نہیں تھا اِن دنوں زریق کو آپ کی پرواہ نہیں تھی یا ہم نے آپ کے بارے میں سوچا نہیں تھا آپ کے گھر والوں کو یہی لگ رہا تھا کہ آپ ہمارے ساتھ ہیں اور ہمیں یہ لگا کہ اپ اُن کے پاس گئی ہیں لیکن آپ کی اس حرکت نے مجھے اتنا تیش دلایا کہ میں نے خود زریق کو یقین دلایا کہ آپ اپنے گھر میں صحیح سلامت ہیں جو کے سچ تھا۔۔۔ زریق کس بات سے آگاہ نہیں۔۔۔۔ مجھے آپ پر بے تحاشہ غصہ تھا آپ میں اور میرے باپ میں کیا فرق تھا؟؟؟ میرا باپ ساری زندگی زریق سے اس لیے نفرت کرتا رہا کہ اُنہیں لگتا رہا کہ زریق کی بیماری ایک جھوٹ ہے ایک شخص دن رات موت سے لڑتا ہے اور میرا باپ کہتا ہے کہ وہ ناٹک کر رہا ہے؟؟؟؟
میرے والد صاحب سلیمان وہ زریق سے سخت نفرت کرتے ہیں۔ ہماری ایک چھوٹی بہن بھی تھی(دعا) جو اب اس دنیا میں نہیں رہی وہ زریق اور مجھ سے بہت اٹیچ تھی یہ اُس وقت کی بات ہے جب زریق تقریباً سات سال کا تھا اور ہماری بہن پانچ سال کی تھی۔ ہم واٹر ورلڈ پارک میں گئے تھے وہاں ایک بچی نے شرارت سے دعا کو پانی میں دھکا دیا۔۔ زریق وہیں موجود تھا دعا مدد کے لئے بلا رہی تھی پانی میں وہ ہاتھ پاؤں مار رہی تھی لیکن سب اپنی دنیا میں گم تھے زریق کے سوا کسی کی نظر اس پر نہ پڑی زریق نہ ڈر سے واقف تھا نہ موت سے۔۔۔۔۔۔
اس نے دعا کو نہیں بچایا بس اسکا ایک جملا۔۔ ” ممی دعا پانی میں ہاتھ پاؤں مارتی کھیل رہی تھی میں نے
دیکھا ” اسے علم نہیں تھا سامنے رکھا دعا کا وجود مردہ ہے اس میں جان نہیں۔۔ اُس نے غلط جگہ غلط بات کر دی تھی جس کے بعد بابا اُس سے سخت نفرت کرتے تھے انہوں نے اُس دن زریق کو اتنا مارا کہ اس کے پیڑ کے ایک انگلی ٹوٹ گئی انہیں زریق پہ ذرا برابر رحم نہیں آیا میری ماں روتی رہیں لیکن وہ رُکے نہیں وہ اُسے تب تک مارتے رہے جب تک وہ اُس کے رونے چیخنے کی آواز نہیں سنتے مارتے مارتے انہوں نے اُسے نڈھال کر دیا لیکن زریق نے ایک چیخ تک نہیں ماری اِس کے بعد سے میری ماں نے ڈر کر زریق کو اپنی بہن یعنی میری خالہ سمرین کے حوالے کر دیا ہم دونوں بھائی اُس دن جدا ہو گئے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔۔۔۔۔۔۔ “
وہ تلخی سے مسکرایا جب کے مایل کی آنکھیں بھیگ رہیں تھیں۔ ذھن میں ایک سوال آیا۔۔ وہی کیوں؟؟؟؟
” وہ آپ کو کبھی نقصان نہیں پہنچا سکتا ” اسکے پوچھنے سے پہلے وہ بولا تھا۔۔۔
” مجھے لاعلم کیوں رکھا گیا؟؟؟؟ “
” پتا چلتا تو تو ساتھ منظور ہوتا؟؟؟ ” وہ پوچھ رہا تھا۔۔۔
مایل خاموش ہوگئی۔۔۔۔
” آپ کی ماں انھیں یہ رشتہ منظور تھا۔۔۔آپ کی کنڈیشن سے وہ آگاہ تھیں تبھی انہوں نے فوراً ہاں کردی مایل سچ یہی ہے تلخ بھی۔۔۔۔۔ آپ کی شادی ناممکن نہیں تو مشکل ضرور تھی۔۔۔۔۔ بہن کی خودکشی،، آپ کی طبیعت پھر۔۔۔ باپ کی موت آپ کو شاید بُرا لگے لیکن مجھے آپ کی ماں سے مل کر علم ہوا اگر انھیں معلوم بھی ہوتا وہ انکار نہ کرتیں۔۔۔۔۔مگر آپ پھر بھی لاعلم رہتیں۔۔ اور آپ نہیں جانتیں مگر زریق ہی آپ کی ہر بیماری کا علاج ہے اور آپ بھی اسکی دوا ہیں۔۔ ” اس کے ہونٹوں سے نکلے الفاظ شدید کڑوے لگ رہے تھے۔۔ جو بھی تھا وہ کہہ سچ رہا تھا مگر تھا تلخ اور اسے بُرا بھی لگا۔۔۔۔۔
” مجھے اُس دن یقین ہوا جب زریق نے میرے سامنے اپنے نام کی پریسکریپشن بنائی۔ اُس پر اُس نے پیشنٹ کا نام زریق لکھا تھا اور جہاں میڈیسنز لکھتے ہیں وہاں مایل لکھا اس کے نیچے اس نے ڈوس لکھی 1+1+1
یعنی صبح شام رات آپ اسکے لیے ضروری ہیں ” مایل نے سختی سے اپنی آنکھیں بند کرلیں جیسے نہ کھولنے کی قسم کھا رکھی ہو۔۔۔۔۔
” جو بھی تھا میں یہ ڈیزرو نہیں کرتی تھی۔۔۔ ” بند آنکھوں سے وہ گویا ہوئی۔۔۔۔
” نفرت مجھے آپ سے کرنی چاہیے کیوں کیا میرے ساتھ ایسا۔۔۔ ” حاوز سلیمان پہلی دفعہ زندگی میں لاجواب رہ گیا۔ وہ اسے کیا بتاتا کہ مایل کو دیکھتے ہی زریق نے اس کے موبائل پر مایل کی تصویر بھیجی تھی جسے دیکھ کر حاوز کو اس میں مومنہ کا عکس نظر آیا۔ وہ خود چاہتا تھا مایل زریق سلیمان کی زندگی میں آئے۔۔۔۔۔۔
” وہ کہاں ہیں؟؟؟ ” اس نے آنکھیں کھولتے ہی پہلا سوال زریق کا کیا حاوز نے ابرو اچکا کے اسے دیکھا۔۔۔۔
” آپ نے اتنی دیر تک میرا ذہن سُن رکھا کیا میں دو منٹ کے لیے آپ کی دنیا نہیں ہلا سکتی۔۔۔ ” وہ پہلی بار ہنسی تھی حاوز سلیمان اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ جو اب تک اس کی کلاس لے رہا تھا اس کی اس حرکت پر خود مسکرا دیا وہ واقعی بہت ڈر گیا تھا۔۔۔۔۔۔
” میرے ذھن میں اور بھی سوال ہیں؟؟ وہ پینٹنگ کہاں گئی؟؟ ” وہ شرارت سے بول رہی تھی لیکن آخر میں واقعی اسے یاد آیا کہ پینٹنگ اس کی آنکھوں کے سامنے سے کیسے غائب ہوئی؟؟؟
” میں آپ کا باہر انتظار کر رہا ہوں۔۔ زریق آپ کو بہت یاد کررہا ہے۔۔۔۔ ” وہ اس کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی۔ حاوز سلیمان اسے بنگلوں سے باہر لے آیا لیکن مایل نے دیکھا کہ اس نے بنگلے کو نہ جانے کس انداز میں لاک کیا اسے خود سمجھ نہیں آیا ہر جگہ حاوز سلیمان کے فنگر پرنٹس لگے تھے۔۔۔۔۔
” میں نے اپنے بھائی کو کسی شخص کے لیے سوچتے نہیں دیکھا آپ جانتی ہیں ارحم اگر اُسے عزیز بھی ہے تو صرف اس لیے کہ وہ آپ کا بیٹا ہے۔۔ زریق کے ذہن میں یہ ہے ہی نہیں کہ وہ اُس کا خون ہے اُسے تو بس یہی لگتا ہے کہ یہ تحفہ آپ نے اُسے دیا ہے آپ جتنا ارحم کا خیال رکھتی تھیں وہ ہر وقت اُسے دیکھتا رہتا تھا اور یہی وجہ ہے کہ وہ اُسے صرف آپ کی وجہ سے عزیز ہوا ہے۔۔۔۔۔ آپ کو اور ایک بات بتاتا چلوں کہ خالہ نے زریق کو دیکھا تھا کہ اس نے ارحم کو گرم پانی سے بھرے ٹب میں ڈالا تھا تب انہوں نے زریق کو سمجھایا تھا خالہ کی خود چیخیں نکل گئی تھیں لیکن وہ پانی اتنا گرم نہیں تھا جتنا آپ کی سوچ نے بنایا یہ بات آپ کو خالہ نے بتائی تھی تاکہ آپ احتیاط رکھیں لیکن آپ کے خوابوں نے آپ کی سوچ نے اُسے الگ ہی رنگ دے دیا۔۔۔ وہ جو کبھی آپ نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا نہیں تھا سنا تھا۔۔۔۔۔۔ آپ کو لگا یہ آپ کے سامنے ہوا ہے یا آپ نے خواب میں دیکھا ہے یہ عام زندگی میں بھی ہم سب کے ساتھ ہوتا ہے کہ ہمیں لگتا ہے ہم نے یہ دیکھا ہے خواب میں یا سنا ہے یا پہلے بھی یہ ہو چکا ہے۔۔۔۔ آپ نے اُسے اپنی سوچوں میں ملا دیا اور یہی ہوا کہ وہ خواب بن کے آپ کے سامنے آیا تھا اور آپ کو لگا تھا کہ آپ کے غصہ کرنے پر زریق نے جان کے اسے کھائی میں پھینکا ہے تو وہ سب آپ کی آنکھوں کے سامنے کبھی ہوا ہی نہیں تھا نہ زریق کو آپ نے ڈانٹا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ آپ کو اتنا سوچتا ہے آپ سے جُرے
لوگوں کو اہمیت دیتا ہے،، آپ اُسکے لئے اہم بن گئیں ہیں آپ کی حرکتوں سے جان لیتا ہے آپ پریشان ہیں ڈر رہیں ہیں رو رہیں ہیں۔۔۔ میں کیسے مان لوں میرا بھائی بےحس ہے یا آپ کو یہ نہ پوچھوں۔۔۔۔مایل ملک کیا آپ اس دنیا کی خوش قسمت ترین لڑکی نہیں؟ جسکا احساس ایک بےحس نے کیا۔۔۔۔۔”۔۔۔۔ حاوز کی باتیں اِس کے ذہن میں گونج رہیں تھی وہ سامنے زریق اور ارحم کو دیکھ رہی تھی۔ زریق ارحم کو اوپر اچھال رہا تھا جس پر ارحم کھلکھلا کے ہنسنے لگتا آج سے یہ منظر بُرا نہیں لگا نہ اسے لگ رہا تھا کہ زریق ارحم کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ یہ منظر تو اسے نے دنیا کا سب سے خوبصورت ترین منظر لگا تھا وہ کار سے نکلتے ہی بھاگتے ہوئے اس کے سامنے آپہنچی اور پہلی دفعہ حاوز سلیمان نے دیکھا تھا کہ اس کا بھائی چونکا تھا اُس کی آنکھیں حیرت سے کھلیں تھیں وہ بس اُسے پلک جھپکائے بغیر دیکھے جا رہا تھا۔۔۔ ارحم کو اِس نے اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیا تھا اب وہ اُسے اچھال نہیں رہا تھا کیونکہ اب اس نے سامنے اِس کی ماں کو دیکھا تھا زریق نے ارحم کو اپنے کندھے پر لٹایا دوسرا اس کا بازو اس نے کھلا چھوڑ دیا مایل ارحم کی پرواہ کیے بغیر اس کے گلے جا لگی اس نے خود اپنے دونوں بازو زریق کے گلے میں ڈالے اور اس کے سینے سے جا لگی اس کا لمس پاتے ہی پھر سے مایل کی آنکھیں بھیگتی چلی گئیں وہ کتنی ہی دیر اس سے گلے لگی اس کے لمس کو محسوس کرتی رہی۔۔۔۔ اِس کی خوشبو کو اپنے اندر اُتاڑنے لگی پھر اس نے گردن اوپر اٹھا کر زریق کی طرف دیکھا جو ابھی تک پوری آنکھیں کھولے اسے ہی دیکھ رہا تھا مایل نے بے اختیار محبت سے اسکے گال کو اپنے ہونٹوں سے چھوا داڑھی کی چُبن پر مایل نے اپنے ہاتھ اسکی داڑھی پر پھیرے وہ ابھی تک اسے حیرت سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
” آپ ٹھیک ہیں؟؟؟ ” اسکی آواز سن کر مایل کے اندر سکون کی لہر دوڑی۔۔۔۔ وہ بھیگی آنکھوں سے مسکرا دی اس نے زریق کے بازو سے ارحم کو لیا جو اسے دیکھ کر مشکل میں آگیا تھا جیسے ماں کو پہچانے کی کوشش کر رہا تھا مایل نے روتے ہوے اسے سینے میں بھینچ لیا باری باری اسکے چہرے،، اسکے ہونٹوں کو چومنے لگیں۔۔۔
” دھیان سے وہ روئے گا!!! آپ کو اِسکا رونا نہیں پسند نہ؟؟ میں اسے رونے نہیں دیتا۔۔۔۔ ” وہ کتنی معصومیت سے کہ رہا تھا مایل نے ٹخنوں کے بل اونچا ہوکر زریق کی پیشانی چومی۔ وہ ایک بار پھر اسے حیرت سے دیکھ رہا تھا جب اسکی سینے سے لگی اسکی زندگی ” ارحم ” ہنس رہا تھا۔۔۔۔۔۔
