66.2K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

” کیا میرے ساتھ غلط نہیں ہوا؟؟ میں ایسا انسان ڈیزرو کرتی تھی؟؟؟؟ ” مایل حاوز سلیمان سے پوچھ رہی تھی جو اسکی بات سن کر زخمی سا مسکرایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” بُرا وقت، بُرے حالات، صبر یہ ہماری تقدیر کے فیصلے ہیں جن سے لڑا نہیں جا سکتا مگر دعا کر کے انکو بدلا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ ” وہ مایل کی طرف دیکھتے کہ رہا تھ جو اس کے اگلے انکشاف کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
جبکے حاوز سلیمان کو وہ لمحہ یاد آیا۔۔۔۔۔
نجمہ بیغم اس سے ملنے آئیں تھیں۔۔۔۔۔
انکے گھر جہاں زریق،، مایل اور ثمرین رہتے تھے۔۔۔۔۔
نجمہ کو وہاں کال کر کے حاوز سلیمان نے ہی بلایا تھا تاکے جب وہ نجمہ کو اسکی بیٹی ” مایل ” کے بارے میں بتائے تو وہ ان باتوں پر یقین کرے۔۔۔ مگر نجمہ آتے ہی
وہاں زریق کی کندھے پر سوئے ارحم کو دیکھتے غصّے سے زریق کے پاس آئیں جو کچھ دیر پہلے گارڈن میں ٹہل کر ارحم کو سلا رہا تھا اور ابھی بھی وہ اسی پوزیشن میں ٹہل رہا تھا مگر ارحم سو چکا تھا اسے اس طرح پُر سکون دیکھ نجمہ نے رکھ کے تھپڑ اسکے گال پر دے مارا۔۔۔
” شرم نہیں آتی تمہیں میری بیٹی کو برباد کردیا ” وہ اسکا گریبان پکڑ کے چیخ پڑیں زریق انکی حرکت آنکھیں سیکوڑ کر دیکھتا رہا۔۔۔ وہ اب لہجے اور ایسے رویے تو جان چکا تھا مگر اسے حیرانگی تھی اس تھپڑ کی وجہ؟؟؟
” آپ کی بیٹی کو زریق نے نہیں بلکے خود اسنے تباہ کیا ہے ” وہ اپنے بھائی کا کالر انکے ہاتھوں میں دیکھتے نرمی سے بولا وہ ضبط کیے ہوئے تھا۔ نجمہ مایل کی ماں تھیں پر انکا انداز حاوز کو شدید بُرا لگا تھا۔۔۔۔۔
حاوز نے جب انہیں مایل کی کنڈیشن سے آگاہ کیا تو کتنے ہی پل وہ سسکیاں لیتیں آنسوں بہاتی رہیں انہیں احساس ہو رہا تھا انکی ساس کی تمام بددعائیں آج بھی اسی شدت سے انکا پیچھا کر رہی ہیں۔۔۔۔۔
” میں اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی۔ بچپن سے میری ضد، میری انا نے انھیں جُھکایا ہے۔ عمران۔۔۔۔ مرتضیٰ سکندر (مایل کے دادا)کے آخری بیٹے تھے جو اپنے ماں باپ کی آنکھ کا تارہ تھا۔۔ میں ان سے تین سال بڑی تھی میری ساس اس رشتے کے سخت خلاف تھیں مگر میری ماں جو مرتضیٰ سکندر کی بہن تھیں انہوں نے بہت اسرار کر کے اپنے بھائی سے عمران کا رشتہ مانگا۔ میری ماں میری طبیعت سے واقف تھیں وہ مجھے غیروں میں بھیج کر تجربہ نہیں کرنا چاہتی تھیں اور خاندان میں میرا کوئی جوڑ بھی نہ تھا۔ تھے تو سب بڑے شادی شدہ اور چھوٹے۔۔۔۔۔۔
میری ماں کے اسرار پر بلاآخر یہ شادی ہوئی۔ شادی کے بعد مجھے علم ہوا میری ساس کی پورے گھر میں حکمرانی ہے پہلی تاریخ آتے ہی انکے تینوں بیٹے پوری تنخواہ لاکر انکے ہاتھوں میں رکھ دیتے جو مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا میں اپنے شوہر کی طبیعت سے واقف نہیں تھی اسلئے جتنا سمجھاتی کوشیشں بےکار جاتیں شروع شروع میں اس بات پر شوہر کے سامنے احتجاج بھی بہت کیا اُس نے کچھ نہ کہا بس اگلے مہینے مجھے دو ہزار دیے۔۔۔
دو ہزار میری آنکھوں میں دو سو کی طرح چُبھ رہے تھے آہستہ آہستہ مجھے معلوم ہوا مایل کی طرح عمران بھی کمزور دل تھے جلد ہی ہر چیز سے خوفزدہ ہوجاتے تھے۔ کسی سے کچھ نہ کہتے تھے گھر کے سب کام کرتے تھے جو چھوٹے موٹے کام ہوتے سب میرے شوہر کے ذمے تھے۔ یہ تو ہر گھر میں ہوتا ہے چھوٹا بیٹا ہی ان کاموں کو دیکھتا ہے پر مجھے یہ سب چیزیں آنکھوں میں چُبتی تھیں۔۔۔۔۔
جب امید سے ہوئی ہر بات پر چڑچڑی ہونے لگی ساس سے بات بات پر بحث ہوتی مجھے وہ بدتمیز، ان پڑھ، گوار کہتی تھیں۔۔۔ انکا کہنا تھا نہ عزت کرنے آتی ہے مجھے نہ چھوٹے بڑے کا ادب ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ عمران سے شکایت کرتی تھیں۔ عمران آکر مجھے اتنا کہتے بھی نہیں تھا بس یہی کہتے تھے میری ماں ہیں کیسے لڑوں؟؟ صبر کرلیا کرو نہ انکی سائیڈ لیتے تھے نہ میری۔۔ مومنہ جب میری گودھ میں آئی میرا چڑچڑا پن اور بڑھ گیا مجھے بیٹا چاہیے تھا پر عمران بہت خوش تھے اسے پیار کرتے روتے تھے۔ خود کو دنیا کا خوش قسمت ترین انسان سمجھتے تھے۔ مومنہ بڑی ہو رہی تھی مجھے ایک کمرے میں کوفت ہوتی تھی میں نے عمران سے ضد کی الگ ہونے کی وہ گھبرا گئے،،، ڈر گئے انہوں نے پھر شاید اپنی ماں سے بات کی میری ساس نے مجھے کمرے میں بلا کر سب کے سامنے سنائی اور کہا الگ ہونا ہے تو باپ کے گھر چلی جاؤ میں برداشت کر گئی۔ایک دفع مجھے پتا نہیں کیا ہوگیا ساس سے لڑائی کے بات اور کچھ پچھلی باتوں کی وجہ سے اتنی پاگل ہوگی جب عمران آئے انہوں نے وہی صبر کے الفاظ دہرائے تو میرا پارا ہائی ہوگیا میرا ہاتھ ان پر اٹھ گیا۔ وہ حیرانگی سے مجھے دیکھتے رہ گئے مگر جواب میں کچھ نہیں کیا۔ اس خاموشی نر جیسے میری ہمت بڑھا دی شوہر کا اگر تھوڑا بہت بھی خوف تھا وہ اسی دن جا سویا۔۔۔۔
پھر یہ سلسلہ شروع ہوا تو چلتا گیا۔ وہ خاموش رہ جاتے تھے چہرہ سرخ ہوجاتا تھا نہ کسی کو بتا سکتے تھے نہ اُن میں ہمت ہوتی تھی کے سہتے جائیں شاید یہ انھیں اندر ہی اندر کھاۓ جا رہا تھا۔۔۔۔۔ آہستہ آہستہ وہ کمزور ہوتے چلے گئے ان کے چہرے سے لگتا تھا برسوں کے بیمار تھے ماں الگ چیختی تھی بیوی کا غلام ہے اور میں الگ ان پر برستی تھی اور اسی طرح خبر بھی نہ ہوئی ایک دن اچانک سب شام کی چائے پی رہے تھے مومنہ اپنے پیپروں کی تیاری کر رہی تھی مایل باہر کھیل رہی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے کچھ لوگ عمران کے مردہ وجود کو میری آنکھوں کے سامنے حال میں رکھ کے چلے گئے۔ اس دن سے میری انا، میری اکڑ، میری ضد سب مٹی میں جا سوئے۔
میں ان سے لپٹ کر بلک بلک کر روئی تھی میری مومنہ جان کا ٹکڑا تھی اپنے بابا کے دل کا وہ سب چھوڑتی بھاگتی ہوئی آئی تھی اپنے باپ کے مردہ وجود کو اٹھا رہی تھی انھیں پُکار رہی تھی لیکن وہ نہیں اٹھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صاحبان کیا ہوتا ہے مجھے اُس رات پتا چلا،، یتیم ہونا کیا ہوتا ہے اُس دن عمران نے ہمیں بتایا۔ وہ شخص ہیرا تھا۔۔ کوہِ نور کا ہیرا جس کی میں نے قدر نہیں کی۔ آہستہ آہستہ مجھے اپنی اوقات معلوم ہوئی لیکن اصل میں
” میں ” اُس دن مردہ دفن ہوئی تھی جب حیدر بھائی نے سارے انکشاف کیے تھے۔ انھیں تیسرا اٹیک آیا تھا وہ ہارٹ پیشنٹ تھے یہ بات جسے معلوم ہوئی دھنگ رہ گے پہلا اٹیک انہیں شادی کے پانچ سال بعد ہوا تھا اور دوسرا مایل کی پیدائش کے بعد وہ انسان اندر سے مر رہا تھا وہ کتنی تکلیف میں تھا اُس نے کبھی نہیں بتایا کسی کو ہوا تک نہیں لگنے دی سنا تھا موت سے کچھ دن پہلے وہ اپنی رپورٹس جو آفس میں تھیں ناجانے کہاں پھینک آئے وہ نہیں چاہتے تھے انکے بھائی انکی ماں کو یہ صدمہ آپہنچے کے انھیں اٹیک ہوا تھا۔ وہ میرے اور میرے بچوں کے لئے سب کر کے گئے تھے انکی پینشن آج تک ملتی ہے ایک فلیٹ خریدا تھا انہوں نے جسکا کرایا مجھے ملتا ہے۔ میں ساری زندگی اُن سے حق کے لئے لڑتی رہی اور وہ مجھے میرے۔۔۔ ہمارے بچوں کے سارے حقوق دے گئے ساری زندگی میری اور میری بچوں کی فکر میں گُلتے رہے۔۔۔ میری ساس کو جب علم ہوا وہ مجھ سے نفرت کرنے لگیں مجھے بددعائیں دیتیں، کوستی تھیں، انکا بیٹا جوانی میں انھیں چھوڑ کر چلا گیا۔۔۔۔۔۔
انکی میت پر ایسے ایسے لوگ آئے تھے جن کو میں نے انکی حیات میں نہیں دیکھا۔ وہاں اُس دن میں نے لوگوں کے منہ سے سنا تھا ” انسان کی قدر مرنے کے بعد ہوتی ہے یہ سچ بھی تھا۔۔۔۔ ” وہ سب لوگ میرے شوہر کو جانتے تھے کہ رہے تھے نیک انسان کیسے راتوں رات جوانی میں چلا گیا اور جن کو اٹھانا چاہیے انکی زندگی گناہوں کے ساتھ لمبی ہو رہی ہے۔۔۔ وہ کہ رہے تھے ” نیک انسان تھا یہ شخص زندگی میں اسکے احسانوں کا قرض نا چکا سگے لیکن اب ساری زندگی دکھ رہے گا وہ کبھی عمران کو دوبارہ دیکھ نہیں پائیں گئے۔۔ ” چوکیدار سے لیکر ہر شخص عمران کو جانتا تھا مجھے آج تک یاد ہے سب سے بُری عادت مجھے انکی دوسروں کی مدد کرنا لگتا تھا۔ المیر ہو آریز یا زاکون انکی ایڈمیشن سے لیکر کتابیں تک وہ لاتے تھے انکا یونیفارم سب کچھ ہلکا بخار ہوجاتا بھائی صاحب کہتے ڈاکٹر سے چیک اپ کرواؤ مجھے غصّہ اس بات کا آتا تھا میرا ہی شوہر کیوں اپنے بچوں کو خود پالیں؟؟؟ اسے گھر کا نوکر بنا دیا ہے یہاں تک کے بھابی بھی جب اسے ہلکا پھلکا سودہ سلف کہتیں میں اندر ہی اندر کڑکتی رہتی یہ غصّہ اُن پر نکلتا تھا اور پتا ہی نہ لگا کب میری باتیں زہر بن کر انکے جسم کو کھانے لگیں وہ سب سے ملے تھے کہتے ہیں جب کوئی جانے والا ہوتا ہے اسے شاید اپنی موت کا علم ہوجاتا ہے وہ آخری دنوں میں اپنی قضا نمازیں پڑھتے تھے وہ گھنٹوں مومنہ کے ساتھ گزارتے تھے نجانے اسے کیا نصیحتیں کرتے تھے؟؟؟ اپنی ماں کے پاس بھی بار بار جاتے جیسے خوف ہوتا ہے انسان کو اب جان جسم سے نکلے گی وہ بہت ڈرپوک تھے اور میں۔۔۔ ” میں ” انکی زندگی میں کہیں نہیں تھی شاید میں نے انھیں حق ہی نہیں دیا ایک شوہر کا نہ وہ سکون دیا کے مجھ سے آکر سب باتیں کریں۔ میرا دل آج تک یہ سوچ کر پھٹتا ہے وہ کس تکلیف میں ہونگے؟؟ نہ کسی کو بتا سگے تھے نہ ہی یہ درد کبھی زبان سے لفظوں کی صورت نکلا تھا۔ وہ میرا دیا گیا ” زہر ” خاموشی سے پیتے رہے کتنے مجبور ہوں گے،، کتنے بےبس ہونگے آج سوچتی ہوں دل خون کے آنسو روتا ہے۔۔۔
” مجھے اپنے کیے کی سزا پل پل ملی۔ بیٹیوں کے سر سے باپ کا سایہ کیا اٹھا میں زندگی کے تلخ رنگوں سے آشنا ہوئی۔ میری بیٹیاں ہر آنکھ کا تارا بن گئیں دادی جان چھڑکتی تھیں تایا چچا کہنے سے پہلے ہر خوائش پوری کردیتے۔ مگر مجھ سے۔۔۔۔میری دیورانی جیٹھانی کنارہ کشی کر گئیں ساس کے تعنوں نے زندگی حرام کردی۔ جو آتا میری بیٹیوں کو یتیم دیکھ کر افسوس کرتا۔ بیوہ عورت کی زندگی کیسے ہوتی ہے مجھے اب معلوم ہوئی تھی کوئی تھا نہیں جس کے آگے روتی غم بیان کرتی اپنی ضرورت کی اشیاء منگواتی،، سکون مانگتی۔۔۔ ماں باپ بھی بس آتے دعائیں دے کر روتے اور چلے جاتے۔۔ عمران کے بغیر ابھی زندگی جینا سیکھی تھی کے تقدیر نے ایک اور دکھ مقدر میں لکھ دیا۔۔۔۔
مومنہ بلکل عمران جیسی تھی وہیں عادتیں وہی خوبیاں وہی رحم دلی وہی نرم لہجہ،، کسی کو انکار نہ کرنا، دعائیں لینا خوشیاں بانٹنا،، سکون زدہ ماحول قائم کرنا جلد ہی میری مومنہ بڑی ہوتی ہوگی ابھی بیس کی نہ ہوئی تھی کے زمیداریوں کا احساس ہونے لگا اس نے مجھ سے لڑ جھگڑ کے نرسینگ پروفیشن جوائن کیا۔ وہ کہتی تھی اسے لوگوں کی خدمت کرنی ہے لوگوں کے پاس رہنا ہے ان کو دیکھنا ہے ہمت والا بننا ہے وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ ساری زندگی ڈر کے جیے جیسے عمران چھوٹی چھوٹی چیزوں سے ڈر کے زندگی گزارتا تھا وہ بھی ویسے گزارے وہ مضبوط دل ہونا چاہتی تھی۔۔میری بچی ہیرا تھی سنجیدہ بھی ہنس مک بھی باپ کی موت نے اسے خاموش کردیا مگر اپنوں کے ساتھ نے اسے واپس ہنسا سیکھایا۔۔۔۔
وہ مجھے مایل سے زیادہ عزیز تھی۔۔ وہ تھی ہی ایسی مجھ سے زیادہ میرا اور مایل کا خیال رکھتی تھی۔ بلکل عمران کی طرح تھی مایل اسکی سنگت میں ہمیشہ خوش رہتی تھی مگر اسکی ڈیوٹیز نائٹ، مارننگ، ایونینگ اس سے میں بےزار تھی۔ میرے جیٹھ بھی مومنہ کا پوری رات ہسپتال رہنا انھیں پسند نہیں تھا۔ اسلے حیدر بھائی نے مومنہ کا رشتہ زاکون سے تحہ کردیا۔ زاکون مجھے پسند نہیں کرتا تھا مگر میں یہ احتجاج کر نہ سگی مجھے لگا تھا وہ میری مومنہ کو انکار نہیں کریگا اسے کوئی انکار کیسے کر سکتا ہے؟؟؟ زاکون، آریز، المیر ان تینوں نے عمران کو قریب سے محسوس کیا تھا وہ تینوں عمران کی حیات میں سمجھدار تھے زاکون اپنے عزیز چچا کی بیٹی کو منع کر ہی نہیں سکتا مگر اس نے انکار کردیا۔ وہ مجھے اپنے چچا کی موت کا زمیدار سمجھتا تھا مجھ سے سخت نفرت کرتا تھا اور اس دن اسکی نفرت جیت گئی میری مومنہ ہار گئی۔۔۔۔۔۔
میری مومنہ ٹوٹ گئی اُس دن مجھے لگا میں اپنی ہی بچیوں کی خوشیاں کھا گئی۔ اپنی ساس سے میں نے رو رو کر معافیاں مانگیں تھیں وہ شرمندہ ہوگئیں انہوں نے کہا دل سے کبھی انہوں نے مایل یا مومنہ کو بددعا نہیں دی تھی۔ اُس ماں کا غم اس وقت سمجھ آیا جب مومنہ کا ادھ مردہ وجود مشینوں میں جکڑے پایا۔ جوان اولاد کی موت کا احساس اُس دن ہوا۔۔۔۔۔۔۔
مومنہ کی موت سب کے لیے ہی کسی قیامت سے کم نہ تھی۔ اُسکی موت کے دو مہینے بعد ہی میری ساس بھی صدمے سے چلیں گئیں۔ اکثر یہ سوچ میرے ذھن میں آتی ہے وہ باپ کے اتنے قریب تھی کے جلد ہی انہی کے پاس چلی گئی دونوں ہی کم عمر میں۔۔۔۔۔۔ اور پھر مومنہ کے جانے کے بعد مایل کے لیے محبت گھر کے افرادوں میں اور بڑھ گئی وہ سب مایل پر جان چھڑکتے تھے۔۔۔۔۔۔
عمران کے جانے کے بعد مجھے محسوس ہوا تھا زندگی کتنی مشکل ہے گزارنا کوئی نہیں جانتا ایک ماں کا دکھ کیا ہوتا ہے؟؟ یہ مجھے مومنہ کی موت نے بتایا اس کے جانے کے بعد سب کا رویہ بھی مجھ سے بدل گیا جٹھانیاں مجھ سے مل جُل کر رہنے لگیں۔۔۔ اسکی موت کے تین دن بعد مایل اور میں ہوش میں آئے تھے نہ مایل زندہ لوگوں میں شمار تھی نہ ہی میں۔ میں نے تو آہستہ آہستہ خود کو سنبھال لیا لیکن مایل خود کو سنبھال نہ پائی مجھے نہیں پتا تھا میرے گناہوں کی سزا میری بیٹیوں کو ملے گی مومنہ کے جانے کے بعد مایل بہت کمزور دل ہوگئی تھی۔ چھوٹی چھوٹی بات پہ اکثر رات کو اٹھ کر رونے لگتی چیخنے لگتی،، چلانے لگتی اپنی بہن کو پکارتی تھی۔۔ مایل کو مومنہ کی عادت تھی اس کے بغیر وہ رہ نہیں پاتی تھی اکثر پوچھتی تھی مومنہ سے کے آج اُس کی شفٹ کون سی ہے؟ پھر پوری رات بھی ہو دن بھی ہو وہ اس کا انتظار کرتی تھی کہ جیسے ہی اُس کی آپی آئے گی وہ اُن سے ڈھیر ساری باتیں کرے گی۔۔۔۔
اُس کے جانے کے بعد مایل اکثر مجھ سے پوچھتی تھی کہ مومنہ کہاں گئی؟؟ وہ ایک دو مہینے تو اس سچ کو قبول ہی نہیں کر پائی کہ مومنہ اس دنیا سے جا چکی ہے۔۔ لیکن مومنہ کی جدائی نے گہرا اثر اس کے دماغ پر چھوڑا تھا مایل کو اب میں اپنے پاس ہی سلاتی تھی لیکن مجھے بھی علم نہیں ہوا نہ جانے کب وہ راتوں کو اٹھ کر خود سے باتیں کرنے لگتی پوری پوری رات جاگتی اور پورا پورا دن وہ سوتی رہتی۔۔۔ مجھے صرف اپنی بیٹیوں کی آئندہ آنے والی زندگی کی زیادہ فکر تھی ہر وقت یہی سوچتی رہتی کہ میرے جانے کے بعد مایل کا کیا ہوگا؟؟ میں اُسے اُن ہاتھوں میں دینا چاہتی تھی جسے مایل کی قدر ہو، ضرورت ہو اور اس کے لیے میں ہر حد پار کرتی گئی مجھے ڈر تھا کہ اگر میں مایل کو ڈاکٹر کے پاس لے کر گئی تو یہ بات خاندان میں سب کو پتا چل جائے گی کہ مایل کی دماغی حالت ٹھیک نہیں پھر وہ ساری زندگی کے لیے یہیں بیٹھ جائے گی اس کی تایا ایک وقت تک اس کی ذمہ داری سنبھال سکتے ہیں لیکن ساری زندگی نہیں۔۔۔ میرے جانے کے بعد میری بچی کا کیا ہوگا؟؟؟ یہی بات مجھے دن با دن کمزور کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
میں نے مایل کا علاج نہیں کروایا خود سے اسے نیند کی دوائی دیتی تھی۔ مجھے تو یہ تک معلوم نہیں تھا کتنی مقدار دینی چاہیے اس سے بس یہ ہوا تھا اُسکا چیخنا بند ہوگیا تھا راتوں تو وہ سکون سے سوجاتی لیکن کبھی کبھی یہ ہوتا پورا دن سونے لگتی تھی جب مجھے تشویش ہوئی میں چھپکے سے اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئی انہوں نے ٹیسٹ کرنے کے بعد جو دوائیں دیں اسکا اثر یہ پڑا مایل تو ٹھیک ہوتی گئی لیکن ان دوائیوں کی اُسے عادت ہوتی گئی۔ اسکی پڑھائی متاثر ہوئی وہ حد سے زیادہ سونے لگی تھی۔ اسکا وزن بڑھنے لگا۔ میری جیٹھانیاں بھی پوچھتیں کے اسے ہوا کیا ہے؟؟؟ وہ بات بات پر ڈرنے لگتی تھی ڈرپوک شروع سے تھی لیکن مومنہ کی موت نے اسے اور خوفزدہ کردیا تھا۔۔۔۔۔۔
وقت گزرتا رہا مایل بھی ٹھیک ہو رہی تھی مگر دوائیاں نہیں چھوڑتی میں اُسے منع کرتی تھی لیکن وہ کہتی تھی اُسکے بغیر اُسے نیند نہیں آتی جب المیر نے مایل کی زمیداری لی اُسے پڑھانے کی سنبھالنے کی تب وہ دوائیاں چھوڑ کر ٹھیک ہونے لگی تھی۔ المیر اس سے ایسے مشکل سوالات کرتا کے وہ سوچ میں پڑ جاتی ذھن تھکنے لگتا ایک دن میں وہ اسکے سر پر اتنا پریشر ڈالتا کے مایل پڑھنے کے بعد فوراً تھکن سے سوجاتی۔۔ اسنے خود کو اتنا مضبوط بھی کرلیا تھا کے آوازیں آتیں یا اسے لگتا کوئی اسکے سامنے کھڑا اس سے بات کر رہا ہے اسے محسوس ہوتا یہ دھوکہ ہے وہ اس سے بات نہیں کرتی وہ بلکل ٹھیک ہوگئی تھی مگر ڈرنا بند نہیں کیا اس لئے المیر سے ضد کرتی تھی اسے ڈاکٹر کے پاس لے جائے مجھ سے اسلئے نہیں کہتی تھی کے اسے معلوم تھا میں کبھی اسے ڈاکٹر کے پاس نہیں لے جاؤں گی۔ ڈاکٹرز پرانی ہسٹری پوچھتے ہیں جو میں بتانا نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مایل نے اپنی ضد پوری کی رپورٹس لینے میں اُسکے ساتھ گئی تھی مگر انہوں نے ایسا کچھ نہیں پوچھا تھا شاید ایسے کیسسز انکے پاس آتے رہتے تھے۔۔۔۔۔۔۔
مایل المیر کی عادی ہوتی چلی گئی۔ وہ اس بات سے ناواقف تھی وقت ایک جیسا نہیں رہتا رشتے بدلتے ہیں نئے آتے ہیں۔ ایک دن تو یہ ہونا تھا المیر کے انکار نے،، اُسکی شادی نے،، مایل کو توڑ دیا وہ خود کو سنمبھال نہیں پاتی تھی اُسے احساس نہیں تھا اُسکی حرکتیں سب کو سوچنے پر مجبور کردیں گی اسلئے دوائوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا لیکن خود بھی وہ مجھے بتائے بغیر یہ دوائیں لیتی تھی پتا نہیں کب اُس نے وہ جگہ دیکھ لی جہاں یہ دوائیاں تھیں ایک نیا پتا اندر چھپا کر رکھا تھا یہ میں نے مایل کے جانے کے بعد دیکھا وہ خالی تھا۔ وہ تنہایوں کا شکار ہو رہی تھی۔ پھر سے وہ اکیلے رہنے لگی تھی۔ اسے باتیں یاد نہیں رہتیں وہ ایک دفع نہا کر پھر دوبارہ نہانے چلی جاتی اسکے دماغ پر اثر ہو رہا تھا مجھے لگا تھا ماحول بدلے گا ہمسفر ساتھ ہوگا تو وہ شاید ٹھیک ہوجائے گی مگر۔۔۔۔۔۔۔ آج تک مجھے پچھتاوا ہے اکثر راتوں کو سوچتی ہوں کہ مومنہ کے ساتھ کیا ہوا ہوگا؟؟؟؟ اُسے ڈر لگتا ہوگا؟؟ خوف آتا ہوگا؟؟ جب یہ سوچے دماغ میں آتیں ہے کہ مٹی تلے دفن اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہوگا؟؟ وہ کیسی ہوگی مجھے پکارتی ہوگی؟؟ بلاتی ہوگی؟؟ کیا وہ زمین و آسمان کے بیچ ہے؟؟ سب کہتے ہیں اُس نے خودکشی کی یہ سوچ مجھے روز نئے سرے سے مارتی ہے۔۔۔۔ ہم اُِس زندگی کے بارے میں نہیں جانتے ہم دنیا میں اس قدر محو ہوجاتے ہیں کہ اپنے اصل کو بھول جاتے ہیں میں بھی بہت پہلے ایسے ہی تھی لیکن مومنہ کی موت نے مجھے بدل دیا موت کا خوف میرے اندر جاگا تھا جس سے میرے اندر کی وہ کٹھورنا اناپرست نجمہ نہ جانے کہاں جا سوئی ہے۔۔۔۔۔۔؟؟؟” انکے آنسوں انکے گال بھیگو رہے تھے حاوز سلیمان نے انھیں تب کال کی تھی جب نجمہ بیغم نے ثمرین کو کال کی تھی۔ تب اُن سے بات حاوز سلیمان کی ماں جاسمین نے کی تھی۔ انکے اسرار پر مجبوراً حاوز سلیمان کو انہیں بلانا پڑا ورنہ وہ بھی نجمہ کو سخت ناپسند کرتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حاوز سلیمان کو آج تک مومنہ کے الفاظ بھولے نہیں وہ چاہتا تھا انہیں بتائے انکی خودغرضی نے ایک نہیں انکی دونوں بیٹیوں کی زندگی تباہ کردی مگر وہ چاہ کر بھی نہیں کہ پایا وہ عورت خود ٹوٹ چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔
” پوری زندگی پڑی ہے ذرا سوچیئے گا!!! آپ نے ایک نہیں دو نہیں تین زندگی برباد کی ہیں۔۔۔ مایل کو دوائوں کی نہیں سہارے کی ضرورت تھی آپ نے جو بتایا یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ڈپریشن کسی بھی صورت میں آسکتا ہے ڈیلیوری کے بعد، کسی صدمے سے، تنہائی سے، اور بھی وجوہات ہیں ہر دفع دوا کام نہیں آتی۔ خیر آپ چاہتی ہیں آپ کی بیٹی نارمل ہو زندگی کی طرف آئے اسے یہاں لے آئیں ڈرائیور آپ کو چھوڑ دے گا اُسی کار میں اپنی بیٹی کو بٹھائیں۔۔ اور سوچیے گا ذرا وہ کون شخص ہے؟؟؟ جو زندگی جینا بھول گیا ہے؟؟؟ ” وہ انہیں زلزلوں کی زد میں چھوڑ کر وہاں سے چلا گیا تھا نجمہ کو پروا صرف بیٹی کی تھی اسلئے وہ سب بھول کر مایل کو لینے کے لئے اٹھیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جو پہلے ہی ہر انکشاف پر صدمے میں تھی اس
” بیماری ” والی بات پر سُن رہ گئی۔۔ حاوز سلیمان نے مایل کو یہ نہیں بتایا کے اُسکی ماں اُسکے باپ کی موت کی زمیدار ہے نہ ہی کچھ اور بتایا بس اُس بیماری کے بارے میں بتایا جس سے مایل واقف نہ تھی۔۔۔۔۔۔۔
” میں آپ کو سُننا چاہتا ہوں مایل!!! ہر ایک بات آپ مجھے تفصیل سے بتائیں گی تبھی میں آپ کو آپکی سوچوں کا علاج بتا سکتا ہوں اور میں آپکی بیماری سے بھی اب تک واقف نہیں ہوں۔۔ آپ کیا سوچتی ہیں؟؟ میں آپ کے دماغ کو پڑھنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔” وہ نرمی سے اسے کہ رہا تھا پہلی بار مایل کو بےانتہا سکون محسوس ہو رہا تھا۔ وہ اسے اپنی زندگی کی ایک ایک تلخ حقیقت بتانے لگی۔ دوستی میں ملا وہ دھوکہ،،، محبت میں ملی بےوفائی، اپنا آپ کسی کے ہاتھوں ٹھکرایا ہوا۔۔۔ شادی کے بعد ذہنی ٹینشن، دبائو وہ ڈر و خوف،، زریق کا وہ شکی مزاج، زریق کا ارحم کے ساتھ سلوک،، سب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” مجھے معلوم ہے آپ مجھے مجھ سے زیادہ جانتے ہیں میرے ساتھ اب تک کیا ہوا ہے کیوں ہو رہا ہے؟؟؟؟ ” وہ اس سے نہ ڈر رہی تھی نہ گھبڑا رہی تھی حاوز سلیمان نے غور سے اسے دیکھتے سوال پوچھا۔۔۔۔
” آپ برداشت کر لیں گی؟؟؟ ” مایل ایک پل کو سوچ میں پڑ گئی۔ کیا وہ دماغی طور سے مفلوج ہے؟ پاگل ہے؟ یا کوئی ایسی بیماری ہے جس سے وہ خود کو خود نقصان پہنچا رہی ہے مایل نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔۔۔
” آپ میری باتیں سکون سے سنیں گی مجھے نفرت آپ سے نہیں آپ کے ” ڈر ” سے ہے جس نے آپ کو دنیا میں ایک بُرا انسان بنایا ہے۔۔ آپ بُری نہیں نہ آپ نے اپنی ذات سے کسی کو نقصان پہنچایا ہے مگر آپ کا ” ڈر ” بُرا ہے جس نے آپ کو نظریں ملانے لائق نہیں چھوڑا خاص کر ایک ایسی ہستی سے جو آپ سے بےپناہ محبت کرتی ہے۔۔۔۔۔۔ ” مایل نے پُر سوچ نگاہوں سے اسے دیکھتے لب کھولے مگر وہ جانتا تھا مایل سوال کریگی اسلئے وہ رُکا نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔
” آپ کی امی جو کہ رہیں تھیں اُس میں ” جھول ” تھا۔ جیسے آپ کا رونا چیخنا آفٹر یورز سسٹر ڈیتھ یہ سچ تھا مگر۔۔ ” خود سے باتیں کرنا۔۔ ” یہ جھوٹ تھا۔۔۔ آپ کی امی کو ہمیشہ سے” عزت ” زیادہ عزیز تھی۔ آپ نہیں جانتیں مگر آپ کی امی اور اُنکی ساس کی آپس میں بنتی نہیں تھی۔ انکے تعنے آپ کی امی سہتی تھیں آپ کے ابو اور بہن کے جانے کے بعد اُن میں ہمت نہیں تھی آپ کو سنبھالنے کی۔ آپ کا پاگل پن جھیلنے کی آپ ہر وقت اپنی بہن کو یاد کرتی ہوں گی روتی ہونگی،، وہ ماں تھیں ہمت ہار چکی تھیں اسلئے انہوں نے آپ کو دوائوں کا عادی بنایا۔۔۔۔ اس طرح آپ نہ لوگوں کی نظر میں آئیں نہ گھر والوں کی بند کمرے میں کیا ہوتا تھا؟؟ آپ کی ماں اور آپ جانتی ہیں۔۔۔۔ وہ کبھی کبھی آپ کو ہائی ڈوز دیتیں تھیں جس سے آپ دو دن تک سوتی تھیں جب اٹھتیں تھیں آپ کو اپنا ہوش نہیں تھا بہن کی یاد کیسے آتی؟؟؟؟؟ اور جہاں تک ڈاکٹر کو دیکھانے کی بات ہے انہوں نے دیکھایا ہوگا مگر اس فائل میں انہی کے الفاظ لکھے تھے جو انہوں نے مجھے بتایا کوئی ٹیسٹ رپورٹس نہ تھیں ڈاکٹر نے ٹیسٹ نہیں کرایا تھا بس دوائیں دے دیں آپ کی امی آپ کو ایک کلینیک میں لے گئیں تھیں ہسپتال نہیں جو آپ کے گھر کے پاس ہے ریکارڈز بھی مجھے آپ کے اس لیے مل گئے کیونکہ اس ڈاکٹر کے کوئی خاص پیشنٹس نہیں تھے۔۔۔۔۔۔۔ “
” مایل انسان کو سمجھنا بہت مشکل ہے۔ ہر عورت کی خوائش ہوتی ہے ایک سہارا ایک بیٹا ہو آپ کی امی شاید ٹوٹ گئیں تھیں۔ کرنا بھلائی چاہتیں تھیں نقصان کر گئیں۔۔۔۔ ان میڈینسسز کی وجہ سے آج آپ کی حالت ایسی ہے۔۔ اصل میں جو ڈپریشن میں جاتے ہیں یا جو سائیکو پیشنٹس ہوتے ہیں ہم انہیں اینٹی سائیکوٹک یا اینٹی ڈپریسنٹ ڈرگز دیتے ہیں ان ڈرگز کا مین کام یہی ہوتا ہے کہ وہ آپ کے دماغ کے ایکٹیوٹی کو کم کرتی ہیں۔۔ جو کوئی سائیکو یا ڈپریسڈ پیشنٹس ہوتے ہیں انہیں یہ ڈرگز (ٹیبلیٹ) دی جاتی ہے۔ ان کی دماغ کی ایکٹیوٹی حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہے اسے کم کرنے کے لئے دیتے ہیں۔ تبھی آپ نے دیکھا ہوگا وہ چیخنے لگتے، چلانے لگتے ہیں مارنے لگتے ہیں خود سے باتیں کرتے ہیں۔ تو ہم ان کے اس دماغ کی ایکٹیوٹی کو ان دواؤں ان ڈرگز کے ذریعے کم کرتے ہیں لیکن آپ کے کیس میں الٹا تھا آپ وہ ڈرگز لیتی تھیں جس کی آپ کو ضرورت نہیں تھی آپ کو صرف ایک سہارے کی ضرورت تھی اور کچھ بھی نہیں آپ جتنا لوگوں میں گھل مل کے رہتی زیادہ سے زیادہ وقت اپنی پڑھائی اپنے سکول،،، اپنے ٹیوشن ان میں گزارتی آپ جلدی ریکور کر جاتے ہیں۔۔۔۔ اور یہ دوائیں صرف نیند کی گولی نہیں ہوتی یہ آپ کو اکثر جیسے بڑھاپے میں لوگوں کو نیند کا مسئلہ ہوتا ہے ڈاکٹر انہیں اس کے حساب سے میڈیسن دیتے ہیں آپ کا مسئلہ یہ تھا آپ کی امی نے آپ کو ایسی دوائی دی تھی جو نارملی کسی کو بھی سونے کے لیے نہیں دیتے ان ڈرگز کی الگ الگ کلاسسز ہوتی ہے۔۔ ہر کسی کو سلانے کے لئے پاگلوں کی دوائیں نہیں دیتے عام زبان میں کہا جائے تو اور آپ کی عمر کے حساب سے ڈوز بہت زیادہ تھی۔۔۔۔ ” وہ صدمے کی کیفیت سے پلک چھبکائے بغیر اسے دیکھتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔