Wo Ajnabi by Yusra readelle50025 Episode 21
Rate this Novel
Episode 21
” آپ ہر کسی سے اتنی بےاعتبار کیوں رہتی ہیں؟ مایل آپ کو نقصان خود سے ہے کوئی اور آپ کا دُشمن نہیں۔۔۔ ارحم آپ کا بیٹا ہے جیسے ہی آپ کا میرا سیسیشن ختم ہوگا ہم وہیں جائیں گئے۔۔۔۔۔۔ ” اسکرین پر وہ لائیو ویڈیو حاوی نے جان کر چلائی تھی تاکے مایل کے دماغ پر اس وقت حاوز سلیمان نام کی سوچ نہ ہو وہ نہیں چاہتا مایل اسکی زندگی کی کتاب کھولے۔۔۔۔۔۔۔
” آپ یہ ویڈیو ہٹا دیں ” وہ آنسوؤں بھری آنکھوں سے اسے دیکھتی خفگی سے بولی۔
” وجہ؟؟ “
” میرے بیٹے کو مجھ سے چھین لیا۔۔۔۔ ” اسکی ہچکی بن گئی حاوز نے بامشکل خود کو کچھ سخت بولنے سے روکا۔۔
” اگر آپ میری بھابی نہ ہوتیں۔۔۔۔ اٹھا کر اسی چھت سے پھینک دیتا۔۔۔۔۔۔۔ ” وہ اس سنجیدگی سے بولا کے مایل کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں وہ اس سے دور سمٹی کھڑی ہوگئی۔۔۔۔۔۔
” کیا زریق نے قتل۔۔۔۔۔ “
” نہیں۔۔۔ ” وہ اتنی زور سے دھارا کے مایل اچھل کر رہ گئی۔۔۔۔۔
” اتنا مت ڈریں آپ میرے لیے اہم ہے، اسلئے کے آپ اس شخص کے لئے خاص ہیں جس میں میری جان بستی ہے اور میری جان(ارحم) کی ” ممی ” بھی ہیں۔ میں آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائوں گا اور اس سے زیادہ حوالے ہیں نہیں میرے پاس اس لئے سکون سے بیٹھ جائیں۔۔ ” مایل زریق اور ارحم کے اس طرح طرزِ زکر پر بس نظریں جھکا گئی اسے اب حاوز سے سے اتنا ڈر نہیں لگ رہا تھا وہ قدم اٹھاتی اسکے سامنے رکھی چئیر پر آبیٹھی۔۔۔۔۔
” اپنی شادی رات وہ دو آنکھیں آپ نے میری ہی دیکھیں تھیں۔ میں بس آپ دونوں کو ساتھ دیکھنے آیا تھا۔۔۔ ” وہ کہ نہ سگا کے وہ مایل کو مومنہ کے حوالے سے بھی دیکھنے آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
” مجھے نہیں معلوم بند کمرے میں کیا باتیں ہوتی ہیں زریق اور آپ کی مگر اتنا جان لیں اسے سمجھیں گی تو زندگی آسان لگے گی الجھیں گی تو وہی حال۔۔۔ ہر شخص سے ” ڈریں گی ” وہ آپ کو اہمیت دیتا ہے تو وہ اسے ممی خالا اور میں سیکھاتے تھے زریق کا دماغ سمجھیں ایک ناسمجھ بچے کی طرح ہے صرف احساس کے معملے میں اسے نہیں پتا محبت کیا ہے؟؟؟ نہیں جانتا وہ بیوی کو خوش کیسے رکھتے ہیں؟؟؟ اسے اظہار کا مطلب نہیں پتا اسے نہیں پتا زندگی کیا ہے؟؟ وہ آپ کو اگنور کرتا تھا تو جان لیں وہ ” کرتا ” نہیں تھا اسے معلوم نہیں ہوتا اُس وقت کمرے کے اندر کون سا کردار نبھانا ہے؟ باہر مایل کے گھر والوں کے سامنے کونسا کردار نبھانا ہے۔۔۔۔
یہ سب آپ کو بتانا ضروری ہے!! “وجہ؟؟ ” میں آپ کی سوچ سے اب واقف ہو چکا ہوں!!!! جس دن آپ اپنے مائکے گئیں تھیں شادی کے اگلے دن میں اُس دن گھر آیا تھا۔ جب آپ کی کال آئی زریق میرے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔۔۔ ہم خالہ کے ساتھ ڈنر کر رہے تھے آپ نے زریق سے کہا کہ وہ آپ کو لینے آئے یہ سن کر ثمرین خالہ حیران ہوگئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ وہاں ایک دن رُکیں گئی۔ مگر خالہ آپ کے آنے کا سن کر خوش تھیں زریق کے حوالے سے آپ انہیں بے حد عزیز ہیں۔ اُس دن کیا ہوا مجھے علم نہیں لیکن آپ کے آنے کے بعد زریق نے مجھے کال کی تھی اور وہاں ہوئی ایک ایک بات بتائی۔۔ سب نے المیر اور آپ کا ذکر کیا۔ یہی کے المیر نے آپ کی زمیداری لی تھی۔ زریق آپ میں دلچسپی رکھتا ہے اسی لیے آپ سے جُڑی وہ ایک ایک بات نوٹ کر کے مجھے بتاتا تھا جیسے اُس دن وہ آپ کے گھر والوں کی باتیں سن کر کار میں آپ سے المیر کا ذکر کر رہا تھا تو اُس نے آپ کے چہرے کے تااثرات دیکھے تھے مجھ سے آکر اُس نے پوچھا تھا کہ جب کسی انسان کے بارے میں بات کی جائے اور دوسرے کے چہرے کے تاثرات بدلتے رہیں تو اس صورتحال کو ہم کیا کہتے ہیں؟؟؟ اور وہ یہ سب صرف اسی لیے کر رہا تھا تاکہ وہ آپ کے قریب آئے آپ اُسے سمجھیں اُسکا سچ جانے کے بعد اسے چھوڑیں نہیں۔۔۔۔۔ وہ تو اُس وقت کچھ نہیں سمجھا مگر ۔۔۔ “
وہ کہتے کہتے رُکا مایل نے جھجھک کر اسے دیکھا تو وہ نظریں پھیر کر سامنے دیوار کو دیکھنے لگا۔۔۔۔۔
” میں سمجھ گیا تھا۔۔۔۔۔ آپ کی امید سے ہونے کی خبر سن کر زریق نے اسلئے ریکٹ نہیں کیا کیوں کے آج تک وہ باپ کے رشتے سے آشنا نہیں ارحم کے آنے سے بھی اُسکے دل میں کوئی احساس پیدا نہیں ہوا۔ اِس کی مثال آپ ایسے لے لیں زریق ماس نہیں کھاتا جیسا آپ سوچتی ہیں اپنی انگلیاں کھانے کی کوشش کرتا تھا کاٹنے کی کوشش کرتا تھا مگر میری ماں سایہ بن کر ساتھ رہتی تھیں۔۔ پر ایسے بچے اپنی انگلی کاٹ دیتے ہیں۔۔۔ بچے بچپن میں انگلیاں منہ میں ڈالتے ہیں جب وہ دانت سے اسے کاٹتا ہوگا اُسے درد محسوس نہیں ہوتا اس کھیل کا پھر وہ عادی ہوگیا اور کب اپنی ہی انگلی کاٹ دی اسے پتا نہیں لگا۔۔۔۔جب کے جنکو درد محسوس ہوتا ہے چاہے وہ پانچ ماہ کا بچا وہ جانتا ہے یہ چیز اسے درد دیتی ہے پھر وہ اس کے پاس کبھی نہیں جاتا۔۔۔۔اس بیماری میں کافی لوگ اپنے بچوں کے دانت نکلوا دیتے ہیں تاکہ وہ اپنے جسم کی کسی حصے کو نقصان نہ پہنچا سگیں۔۔۔۔۔۔
یہی وجہ ہے وہ آج تک اپنے بچے کا لمس محسوس نہیں کر سگا اس میں غلطی زریق کی نہیں وہ خود مجبور ہے۔۔۔۔۔
آپ کو لگتا ہے وہ آپ کے ہر راز سے واقف ہے نہیں۔۔۔۔
آپ کے راز سے زریق نہیں صرف میں واقف ہوں زریق نگاہوں کا نہ پیغام سمجھتا ہے نہ اپنے وجود پر کسی کی نگاہیں محسوس کر سکتا ہے۔۔۔۔۔”
وہ غور سے اُسے سن رہی تھی کیا کیا پوچھے اسے سمجھ نہیں آرہا تھا سوال بےشمار تھے اتنے کے وہ جواب دیتے دیتے تھک جائے گا۔۔۔۔۔ مایل کا دل چاہ رہا تھا اُس سے پوچھے کیا زریق اسے بھی محسوس نہیں کر سکتا؟؟؟ اکثر وہ اُسے غور سے دیکھتا ہے جب وہ تیار ہوتی تھی جیسے وہ انگیجمنٹ والی رات جس دن زیرق نے خون۔۔۔۔ آںںںںںںں خون؟؟ مایل کو یاد آیا۔۔۔۔ وہ کیا تھا؟؟؟
مایل نے اس سوچ پر بےاختیار حاوز کو دیکھا وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا جیسے اسکی سوچ پڑھ رہا ہو۔۔۔
” پوچھیں۔۔۔۔۔۔ “
” میری کزن کی انگیجمنٹ ہوئی تھی اس دن زریق تو۔۔۔ آں۔۔۔ جب تیار ہوکر آئی۔۔۔ د۔۔دیکھ۔۔۔رہا۔۔۔۔ “
وہ کچھ ہچکچا رہی تھی۔۔۔۔۔
” آپ پر غور کیا تھا زریق نے۔۔۔ اُسے میں نے ہی کہا تھا۔۔ وہ ایک بچا ہے مایل جسے محبت کرنا سیکھنا پڑتا ہے آپ کا شک دن با دن بڑھتا چلا جا رہا تھا اتنا کے آپ نے گھر چھوڑ دیا تھا۔۔۔ زریق اکثر کہتا تھا مجھے وہ سیکھاؤ جس کے کرنے سے آپ اُسے چھوڑ کر نہ جائیں۔۔۔۔۔
یہی سیکھایا تھا اُسے کے محبت کا احساس دلاؤ نرم نگاہوں سے، ہاتھوں سے اپنے ہونٹوں سے محبت بھرا لمس پیشانی پر چھوڑو جیسے ہماری ماں کرتی ہے!!! وہ ایک معصوم بچا ہی ہے جو ہر چیز سے لاعلم ہے اسے سیکھایا ہے ذرا ذرا میں نے ممی نے سیکھایا ہے ایک بات اور۔۔۔۔۔۔ انگیجمنٹ والے دن المیر اور زونیشہ کو آپ حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں حالنکے آپ اس سے زیادہ خوش نصیب ہیں اسکا علم آپ کو ابھی نہیں۔۔۔۔
میرے دیکھنے کا مقصد شک نہیں تھا بس ایک ایکسپیریمینٹ تھا جو آگے زریق پر کیا بھی پر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔۔” المیر کے نام پر مایل کی پھٹی آنکھیں دیکھ حاوز نے صفائی دی۔ پر مایل جیسے مطمئن نہ ہوئی۔۔۔۔حاوز اسے یاد کر کے ہر ایک ایک بات سے آگاہ کر رہا تھا جیسے ابھی اسے غنڈوں والی بات یاد آئی۔۔۔۔
” اس رات آپ کے سامنے ان غنڈوں کو مارنے والا زریق نہیں میں تھا۔ وہ غصّہ آپ کے لئے تھا آپ کو اس طرح باہر نہیں آنا چاہیے تھا آپ اپنے دُھکوں میں اس قدر مگن ہوجاتی ہیں آپ کو ہوش نہیں رہتا آپ کے سامنے کیا ہو رہا ہے؟؟؟ آپ انجان رہتی ہیں اگر وہ آپ کو ساتھ لے جاتے آپ کو شاید علم تک نہیں ہوتا کیوں کے آپ اپنے حواس میں نہیں رہتیں۔۔۔۔۔” وہ اسکی بات پر چونک پڑی حاوز سلیمان اپنے پیڑوں کی طرف دیکھ رہا تھا۔ آکسورڈ شوز پر بلیک پالش اس طرح ہوئی تھی کے حاوز سلیمان کا چہرہ اپنے ہی شوز پر صاف دیکھ رہا تھا۔ مایل حیرانگی سے شوز کو دیکھنے لگی وہ اس میں کیا ڈھونڈ رہا ہے؟؟؟؟ “
” چیک کر رہا تھا آپ مجھے سن رہی ہیں یا اپنی دنیا میں پہنچ گئیں۔۔۔۔۔ ” وہ مبہم سا مسکرایا مایل شرمندہ ہوگئی پر اسکی باتوں کا مطلب وہ پوری طرح سے سمجھی نہیں سگی۔ وہ کونسی دنیا میں کھو جاتی؟؟؟
” ان غنڈوں کا قتل زریق یا میں نے نہیں کیا تھا ہاں کرنا چاہتا تھا اپنے ہاتھوں انھیں موت دینی تھی مگر افسوس انکی ڈیتھ ایکسیڈینٹل ہوئی زریق اور میں انھیں ہسپتال لے گئے مگر وہ بچ نہیں پائے۔۔۔۔۔میں نے کہا جائے تو ہر چیز کا فائدہ اٹھایا ہے المیر کو لیکر زریق کا ریکشن دیکھنا چاہا۔۔۔۔ خالی ہاتھ لوٹا غنڈوں کا زریق کو بتایا اسے فرق نہیں پڑا۔۔۔۔ ایک استاد ایک ماں کی طرح اسے بات بات پر ٹوکتا ہوں جانتا ہوں کوئی اور ہوتا اسے غصّہ آتا مگر وہ تو ناراض بھی نہیں ہوتا۔۔۔۔ پر ہیں اس سیکھ کی وجہ سے اپنوں سے علیدہ تو نہیں ہوگا ان غنڈوں کے حوالے سے زریق کو غصّہ آیا بھی تو مصنوئی تھا جو وہ آپ کو جتانے کے لئے کرتا تھا کے اسے محسوس ہوتا ہے۔۔ اور آپ اپنا خیال خود سے بھی رکھیں یہ لاپروائی چھوڑ دیں۔۔۔۔ “
مایل خاموشی سے اسے دیکھتی سب سن رہی تھی۔ وہ پوچھنا چاہ رہی تھی انگیجمنٹ والی رات جو زریق نے اسے غنڈوں کی تصویریں دیکھائیں اور کہا کہ وہ قتل اس نے کیا ہے میری محبت میں تو کیا وہ سچ نہیں تھا؟؟ کیا وہ اس بارے میں پوچھے اس سے؟؟؟ اور زریق نے جو پوچھا تھا مایل سے وہ اس سے محبت کرتی ہے؟؟ اسکے جواب پر زریق ہنسا تھا ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اپنی بے بسی پر ہنس رہا تھا تو وہ سب کیا تھا کہ زریق ناٹک کر رہا تھا؟؟؟ کیا واقعی اُسے وہ چیز فیل نہیں ہو رہی تھی؟؟
” کچھ کہنا ہے؟؟ “
” وہ۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔۔ انگیجمنٹ والے دن۔۔۔۔ ” پھر وہ اسے سب بتاتی چلی گئی حاوز سلیمان پہلے چونکا پھر جیسے سنبھل کر نارمل ہوا شکنیں چہرے سے غائب ہوتی گئیں۔۔۔۔۔
” انگیجمنٹ کے اگلے دن آپ کی ملاقات مجھ سے ہوئی اس دن اس کمرے میں ” میں ” ہی تھا وہ لیپ ٹاپ وہ کتابیں میری تھیں۔۔۔ وہ تصویر بھی میری تھی۔ جس کی تصویر تھی وہ میری ملکیت ہے۔ آپ کو آگاہ کردوں آپ کے ڈروو سے وہ تصویر لےلی تھی۔۔۔۔۔۔۔” وہ اسکے سوال کو نظرانداز کر گیا مایل جان نہ پائی کیوں؟؟؟
” اس دن وہ واز جان کر گرایا تھا ورنہ آپ کا جی متلا رہا تھا آپ میرے کمپیوٹر پر۔۔۔ ” اسکی اگلی بات سن کر وہ شرم سے پانی پانی ہوگئی کیسے وہ اسے منہ پر ڈھٹائی سے بول رہا تھا۔۔۔۔۔
” زریق مجھے آپ کی کنڈیشن سے آغا کرتا ہے۔۔ وہ ہمیشہ کہتا ہے کہ میں اُسے کچھ ایسا کرنے کو بتاؤں جس سے آپ اسے چھوڑ کر نا جائیں۔۔ وہ جان کر کچھ نہیں کرتا تھا اگر خالو کے کوما میں جانے پر بھی اُسے کوئی دکھ نہیں ہوا تو وہ یہ سب خود سے نہیں کر رہا تھا وہ چاہ کر بھی غم زدہ نہیں ہو سکتا۔ یہ اُسکے اختیار میں نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔جس دن آپ اُس کے خون الودہ کپڑے دیکھ کر گھر سے چلی گئی تھیں۔ وہ آپ کی محض ایک غلط فہمی تھی زریق نے صرف اپنی جان بچانے کے لیے کچھ غنڈوں سے لڑائی کی تھی انہوں نے خود زریق پر حملہ کیا تھا وہ اُسے حاوز سلیمان سمجھ کر مارنے آئے تھے۔۔۔۔۔ زریق نے جو کیا اپنے بچاؤ میں کیا اور اس دن مجھے بے حد خوشی ہوئی۔ زریق کو اس چیز کا علم ہو گیا تھا کہ کوئی اُسے مار رہا ہے۔ اُس نے اپنے بچاؤ کے لیے اپنے ہاتھ اٹھائے ورنہ زریق کو کوئی کتنا ہی بڑا نقصان پہنچا کر کیوں نہ چلا جائے اُسے پتا تک نہیں چلتا پر اللّه کا شکر ہے کہ وہ اب بہت ٹرینڈ ہو چکا ہے۔۔۔۔
اُس رات آپ اُسے اسٹیچز کرتے دیکھ گھر سے چلی گئیں اُس نے بہانہ بھی بنایا لیکن آپ کو اس کے بہانے پر یقین نہیں آیا۔ ان بہانوں کا وہ عادی ہو چکا تھا جب وہ کبھی اپنے اسٹیچز کرتا ہے اور اُس کے آس پاس کوئی ایسا انسان ہوتا ہے جو اُس بیماری سے واقف نہ ہو تو زریق اسے یہی بہانہ بتاتا ہے کہ جسم کا ایک حصہ سن کیا ہے۔۔۔۔
زریق کو اکثر چوٹیں لگتی تھیں میں سرجن ہوکر بھی اسٹیچز میں اتنا ماہر نہیں جتنا میرا بھائی ہے اپنے اسٹیچز کر کے ہوا ہے ” مایل کو محسوس ہوا تھا جیسے اسکے لہجے میں دُکھ تھا۔۔۔۔
” اسے اسٹیچز کرتے دیکھ تکلیف مجھے ہوتی ہے اکثر سوچتا ہوں اسکی جگہ میں کیوں نہ تھا؟؟؟
اسے اسٹیچز کرتے دیکھ آپ کے ذہن میں کچھ اور ہی آیا تھا۔۔ آپ اُسے چھوڑ کے چلی گئیں مایل ذہن میں ایک بات رکھیے گا ضروری نہیں جیسا آپ سوچتی ہیں کہانی کے دو رُخ ہیں۔ اپ کو ابھی میں نے صرف کہانی کا ایک رُخ بتایا ہے ابھی آپ جب اپنی شخصیت کے پہلو سے آگاہ ہوں گی آپ کو اندازہ ہوگا آپ کتنی غلطی پر تھیں؟ اور جب آپ گھر چھوڑ کر جا رہیں تھیں آپ زریق کا امتحان لینا نہیں بھولیں ایک آخری اُمید کے تحت!!! مگر میں آپ کو جان چکا ہوں۔۔اگر زریق آپ کا ہاتھوں کا لمس اپنے کندھے پر محسوس کرتا تب بھی آپ جاتیں آپ کو لوٹنا ہی تھا ایسا ہی ہے نہ؟؟؟؟؟؟ “
مایل یکدم سے کانپ گئی وہ مسکرا رہا تھا ناچاہتے ہوے بھی مایل کا جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا۔۔
” ایسا نہیں ہے ” اس نے احتجاج کیا۔۔
” آپ کا بس چلے المیر کو خون کے آنسوں رلائیں!!! جانتا ہوں بس اُسے تکلیف دینے کے لئے آپ گئیں تھیں ” وہ سچ کہ رہا تھا۔ مایل نے اپنی نظریں پھیر لیں وہ اِدھر اُدھر دیکھنے لگی۔ جیسے اسکی اگلے بات کا انتظار کرتے بور ہو رہی ہو مگر اچانک ہی اسکے ذھن میں جھماکا ہوا وہ پینٹنگ غائب تھی۔ اس نے غور سے دیواریں دیکھیں لیکن کہیں اسے وہ پینٹینگ نظر نہ آئی کچھ بھی نہ تھا بس خالی دیواریں اور ان پر لگے پردے تھے۔۔۔۔۔
” مجھے جانیں میں جان لگائیں گی رہے سہے دماغ سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گی۔۔۔۔۔۔” وہ اسکی بات پر چونک اٹھی شاید وہ جان چکا تھا مایل کی نگاہیں کس شے کی تلاش میں تھیں۔۔۔۔۔
” زریق جب خون سے لت پت گھر میں آیا تھا۔ وہ پوری رات میں نے پریشانی کے عالم میں گزاری تھی۔۔ ایک پل بھی میری آنکھ بند ہوتی مجھے اگلے ہی پل یہ خوف اٹھا دیتا کہ کہیں آپ دونوں کو کچھ ہو نہ جائے۔۔۔۔ پاکستان سے جانے کا بھی زریق کو میں نے کہا تھا اُس دن زریق کے پیچھے جب آپ کھڑی ہوئیں تھیں وہ بات بھی میں نے اسے صرف اسلئے بتائی تھی کے اُسے غصّہ آئے،،، احساس ہو،، جیلیسی کا فیکٹر اسکے اندر پیدا ہو۔۔ میں ہر پل ہر لمحہ اسکے ساتھ نہیں رہ سکتا!!!! بلکے اسے جسکے ساتھ زندگی گزارنی ہے وہ اس سے آگاہ ہو۔۔۔۔۔۔
وہ آپ کو نہ بتاتا ہے نہ خود سے دور کرنا چاہتا ہے۔۔۔خیر۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان سے موو کرنے کے لیے میں نے ہی کہا تھا میں نے ہی خالہ کو کنوینس کیا تھا کہ وہ پاکستان سے جائیں صرف اِس وجہ سے نہیں کہ خالو کا علاج وہیں پوسیبل ہے وجہ آپ لوگ کی سیفٹی تھی لیکن مجھے نہیں معلوم تھا وہاں آپ کی تنہائیوں میں مزید اضافہ ہو جائے گا اتنا کہ آپ کا ڈر اپ کے بچے کی جان لے لے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پوری کوشش کی تھی زریق کو آپ کی شخصیت کے پہلو سے آغاہ کروں جیسے سلیپ پیرالیسسز اگر وہ اسکا ذکر نہ کرتا آپ دبئی نہ آتیں۔ جس چیز میں آپ کا انٹرسٹ ہے وہی آپ کا مائنڈ ڈائیورٹ کر سکتی ہے کوئی اور چیز نہیں۔۔۔۔۔۔۔اور وہ جانتا تھا آپ اسے ویمپائر یا کوئی جانور سمجھتی ہیں جس پر ہمیشہ وہ مسکراتا تھا۔۔۔
اس کے بعد جو ہوا وہ آپ کے سامنے تھا آپ زریق کی ہر حرکت سے واقف پہ ہوتی گئیں کہیں نہ کہیں آپ کو معلوم ہو گیا تھا کے اس پر سردی یا گرمی بے اثر ہے اور اس کا اندازہ آپ کو اسی دن ہوا جب خالہ نے آپ کو ڈانٹا ان کا مقصد صرف یہ تھا کہ ان کے جانے کے بعد بھی کوئی ہو جو ان کے بیٹے کی پرواہ کرے۔۔۔۔ ان کے بیٹے کو سنبھالے جو بھی تھا زریق کا شمار ان بچوں میں ہی ہوتا تھا جو اپنا خیال خود نہیں رکھ سکتے جن کے ساتھ ہر وقت کوئی نہ کوئی ہوتا ان کی جان کی حفاظت کرنے کے لیے۔۔۔۔۔ مجھے ہر چیز کا علم اس لیے ہے کہ خالہ نے بہت دُکھ سے کال کر کے بتایا تھا کہ انہیں ڈر ہے اگر کبھی زندگی میں انہیں کچھ ہو جائے تو زریق کا کیا ہوگا؟؟؟ وہ اس بات سے اگاہ تھیں کے ضروری نہیں ہر وقت زریق کے ساتھ کوئی نہ کوئی۔۔۔۔۔۔۔اور وقت کے ساتھ ساتھ سب بدلتا چلا گیا اگر آپ زریق کی تھوڑی بہت پرواہ بھی کرنے لگیں تھیں تو ارحم کے آنے سے وہ کم ہو گئی تھی اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ آپ کو ہر وقت ڈر لاحق ہوتا کہ زریق ارحم کو نقصان پہنچائے گا حالانکہ وہ چیزیں کتنی سچ تھیں کتنی جھوٹ اس کا اندازہ نہ آپ کو ہے نہ مجھے۔۔۔۔۔ وہ اندازہ تب ہوگا جب میں آپ کی دنیا میں جا کر آپ کی ان باتوں کو سمجھوں گا دیکھوں گا۔۔۔۔ ” وہ اس کی آخری بات پر حیران رہ گئی وہ ہر بات پر ” اسکی دنیا۔۔۔ اسکی دنیا ” کیوں کہ رہا تھا؟؟؟ آج وہ اپنے بے شمار خیالات سے آگاہ ہو گئی تھی کہ وہ زریق کے بارے میں کیا سوچتی تھی اور سچ کیا نکلا؟؟؟ وہ تو واقعی بہت معصوم تھا اس کا دل بالکل کسی معصوم بچے کی طرح صاف اور پاک تھا اسے جھوٹ بولنا دھوکہ دینا نہیں آتا تھا۔۔ وہ لہجے نہیں سمجھتا تھا۔۔۔ نہ اسے غداری کرنی آتی تھی۔ ابھی بھی اس کے دماغ میں ڈھیروں سوال تھے کہ زریق سے سچائی کیوں چھپائی؟؟؟ زریق نے اِسے ہی کیوں چُنا کیوں وہی اس کی زندگی کا حاصل بنے!!! لیکن آج سب سے زیادہ اسے گلٹ ہو رہا تھا بے شمار چیزوں کا کہ وہ المیر جیسے شخص کے پیچھے بھاگتی رہی اور کوئی ایسا بےحس شخص بھی تھا جو صرف اس کے لیے احساس رکھتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
” آاااا ” اسکے دل میں درد کی لہر اٹھی۔۔۔۔۔
” میں ہی کیوں ” وہ اس سے پوچھ رہی تھی حاوز سلیمان نے جیب سے لائیٹر نکال کر جلایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” ہم ہمیشہ اُس کے پیچھے بھاگتے ہیں جس سے محروم ہوتے ہیں یا!!!! جو ہماری پہنچ سے بہت دور ہوتا ہے۔۔۔۔ ” مایل کی آنکھیں بھیگ رہیں تھیں نظریں حاوز سلیمان پر تھیں جس کی نگاہیں اس جلتی جوت پر تھیں۔۔۔۔۔۔۔
” آپ کے پاس ” وہ ” زیادہ مقدار میں ہے جس سے میرا بھائی محروم ہے۔۔۔ آپ کا ” احساس” وہ ” ڈر ” آپ کو بادلوں کی آوازوں سے ڈر لگتا تھا۔۔۔ اپنے ہی دل کی تیز دھڑکن سے ڈر لگتا تھا۔۔۔ جہاز کی آواز پٹاخوں کی۔۔۔ یہ آپ نے کسی سے کہا تھا یاد کریں۔۔۔۔۔ ” حاوز سلیمان وہ آگ کی جوت پھونک مار کر بجھا چکا تھا مایل آنکھیں سیکوڑ کر اُسے دیکھتے جیسے یاد کر رہی تھی پھر دھیرے دھیرے آنکھوں کے اسکرین کے آگے وہ منظر نمایاں ہوا اِسے یاد آیا یہ سب باتیں مایل نے اُس ڈاکٹر سے کیں تھیں جس نے اُسے کہا تھا شادی کے بعد آنا۔۔۔۔۔۔
” اُس دن وہاں اُس کمرے میں ڈاکٹر کے علاوہ اُنکا بیٹا بھی بیٹھا تھا جو غور سے آپ کو سن اور دیکھ رہا تھا۔۔۔ جسے آپ کی ماں نے کہا تھا اندھے ہو دیکھ کر نہیں
چلتے ” مایل نے ذھن پر زور ڈالا اُسے لگ رہا تھا ایسا ہوا ہے مگر اُسے یاد نہیں آرہا۔۔۔ پر جیسے اِسے یقین تھا کہ ایسا ہو چکا ہے مگر وہ سکرین اس کی آنکھوں کے سامنے نمودار نہیں ہو رہی تھی۔۔۔۔۔
حاوز سلیمان غور سے اِسے دیکھ رہا تھا جب اسے مایل کے تاثرات سے اندازہ ہوا کہ مایل کو وہ ڈاکٹر یاد آگئی تو اس نے مزید اُسے اُس شخص کے بارے میں بتایا جو اُس کمرے میں موجود تھا مایل کے چہرے سے اندازہ لگ رہا تھا کہ اِسے وہ شخص یاد نہیں۔۔۔۔۔ جو چیز اس کی آنکھوں کے سامنے سے ہو کر گزری ہے وہ اُسے یاد نہیں۔۔۔۔۔
بےشک وہ شخص سامنے نہیں آیا تھا مگر مایل جیسے ابھی بھی یقین بےیقینی کی کیفیت میں تھی۔۔۔۔۔
” وہ شخص آپ کا شوہر ” زریق سلیمان تھا۔۔۔ اور وہ لیڈی ڈاکٹر ہماری ماں۔۔۔ ” اس انکشاف پر وہ جو سوچ میں محو تھی حقا بقا رہ گئی منہ کُھلا کا کُھلا رہ گیا۔۔۔۔۔۔
مایل اس کی زندگی میں ایک ایسی کتاب کی طرح ہے جسے حاوز سلیمان دلچسپی سے پڑھتا ہے جب جب وہ اسے پڑھتا ہے ایک نئی کہانی اُسکے سامنے آتی ہے۔۔ جیسے آج اسے سمجھ آگیا مایل کا دماغ اسکے ساتھ کیا کھیل کھیل رہا ہے۔۔۔
جاری ہے۔۔۔
