66.2K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

وہ وہیں کھڑے کھڑے اپنے حواس کھو گئی۔ جسم وہیں ساکت رہ گیا۔ آس پاس کا کوئی ہوش نہ تھا۔ وہ حیوان اسکے قریب تر چلا آیا اس نے سختی سے مایل کا ہاتھ جکڑا اور اسے کھنچتا ہوا اپنے ساتھ چلتا گیا کار میں پٹکنے کے انداز میں زریق نے اسے بٹھایا اور ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی کار ہواؤں سے باتیں کر رہی تھی وہ تیزی سے گھر کے راستے کی طرف چل پڑا گھر پہنچتے ہی وہ مایل کو کھینچتا ہوا اپنے اور مایل کے مشترکہ بیڈ روم میں آیا اور اسے بیڈ پر دھکا دیتے وہ خود نہانے چلا گیا۔ واپس آیا تو مایل کو اسی پوزیشن میں ساکت پایا وہ دیوار کو تک رہی تھی۔
زریق اسے وہیں روم میں چھوڑ کر چلا گیا۔۔۔۔۔۔
مایل کو بار بار کسی بچے کی رونے کی آواز آرہی تھی۔۔۔
پر تھکن ایسی تھی کے اسکے جسم کے ساتھ اسکا ذھن بھی سوتا رہا۔ وہ آوازیں آہستہ آہستہ مدھم ہوکر بند ہی ہوگئیں۔۔۔۔
شام کے چھ بج رہے تھے مایل گہری نیند سے بیدار ہوئی اس نے اپنی آنکھیں کھولیں تو آنکھیں سرخ ہو رہیں تھیں مایل کو سارا منظر آہستہ آہستہ کر کے یاد آیا اس نے اپنے آس پاس دیکھا بیڈ پر اسے کہیں ارحم نظر نہیں آیا۔۔ وہ بھاگتی ہوئی کمرے سے باہر نکلی۔۔۔
” ارحم ” وہ روتے روتے چیخ رہی تھی لیکن ارحم اسے کہیں نہیں ملا نہ کمروں میں نہ کچن میں نہ زمین پر کہیں وہ چل پھر نہیں سکتا پھر بھی مایل خود کو تسلی دینے کے لئے جیسے ہر جگہ کا ایکسرے کر رہی تھی کے
” یہاں ارحم ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔ “
” ارحم ” وہ گلا پھاڑ کر چیخی اسکا معصوم بچا کیا قصور تھا اسکا؟؟ وہی تو ایک اسکے جینے کی وجہ تھا زندگی دُکھوں کا سمندر تھا بچپن سے وہ سہتی آرہی تھی اب جاکر تو ارحم کی صورت میں اسے خوشی ملی تھی اور زریق نے تباہ کردیا اُسے۔۔۔۔۔۔
” ارحم ” وہ اس قدر بلندی سے چیخی کے اسکا گلا جواب دے گیا وہ بھاگتے ہوے گھر سے باہر نکلی وہ اس جگہ پر جاکر ارحم کو ڈھونڈے گی اسے یقین تھا وہاں ارحم زندہ ہوگا۔ وہ باہر نکلی تو اسے چوکیدار نے روک لیا۔۔۔
” بی بی جی آپ کہاں جا رہی ہیں؟؟ صاحب جی چھت پر ہیں ” اسنے چھت کی طرف اشاراہ کیا۔۔۔ مایل سرخ آنکھوں سے اسے گھورتی چیخی۔۔۔۔
” مر جائیں تمھارے صاحب ” وہ اسے دھکا دیتی وہاں سے بھاگتی چلی گئی پیچھے چوکیدار گھر کے اندر بھاگا تاکے زریق کو اطلا دے مایل بھاگتی چلی جا رہی اسے بس اُس جگہ پہنچنا تھا وہ اندھا دھند بھاگتی چلی جا رہی تھی اسے احساس تک نہ ہو سامنے سے ایک کار آرہی تھی جو اسے دیکھتے بھی رُکی نہیں بلکے اسے ٹکر مار کر وہ آگے جا رُکی مایل سڑک پر گڑتی خون سے لت پھت ہو چکی تھی اسکی ٹانگ سے خون نکل رہا تھا درد کے مارے وہ کراہ رہی تھی کار سے ساڑی پہنے ایک عورت نکلی مایل کی کنڈیشن دیکھ کر وہ ڈر گئی پھر مایل کو کھڑا کر کے اس نے مایل کا ہاتھ اپنی گردن کے پیچھے کیا اور اسے سہارا دیتی کار کی پچھلی سیٹ پر لیٹا دیا۔۔۔۔۔۔
پورے سفر کے دوران اس عورت نے بس ایک لفظ سنا تھا ” ارحم ” اور پھر جلد ہی وہ سفر طحہ کرتے ہسپتال آن پہنچے۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ عورت مایل کو وہیں چھوڑ کر چلی گئی۔ اسے ڈر تھا پولیس کیس نہ بن جائے۔ اسی ہسپتال میں المیر روتے ہوئے بچے کو بھلا رہا تھا۔ وہ بچا المیر کے دوست کا تھا۔
المیر کا دوست ایک پولیس افسر تھا۔ آج سنڈے کے دن دونوں میاں بیوی اپنے بیٹے کے ساتھ شاپنگ کے لیے نکلے تھے کہ وہاں کسی نے المیر کے دوست اور اس کی بیوی پر فائرنگ کی شکر تھا کہ ان کا بچہ صحیح سلامت تھا جو پیچھے بیک سیٹ پر بےبی کار سیٹر میں سویا ہوا تھا المیر کو جیسے ہی خبر ملی وہ فورا ہسپتال آگیا وہ دونوں میاں بیوی ابھی اندر آئی سی یو میں تھے۔۔۔۔
المیر کی تو دنیا ہی ہل گئی تھی اُسے تو لگا تھا کہ وہ اپنی زندگی میں اب خوش ہے لیکن اُسے ہسپتال میں اِس حالت میں دیکھ کر المیر کے ہوش اُڑ گئے تھے وہ پاگلوں کی طرح حرکتیں کر رہی تھی اپنے بچے کے لیے چیخ چلا رہی تھی۔
کوئی نرس کہہ رہی تھی کہ وہ جب سے یہاں آئی تھی یہی کہہ رہی تھی کہ میرے بچے کو مار ڈالا، بچے کے لیے چیخ چلا رہی تھی۔۔۔ نرس نے بھی اسکی روح ہلادی یہ کہ کر کہ۔۔۔۔۔۔۔۔ ” تمہارا بچہ مر گیا ” جس پر وہ اور چیخنے چلانے لگتی اس کی چیخوں سے وہ دو نرسسز اسے نفرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہیں تھیں۔۔۔۔۔
المیر جیسے ہی اسکے قریب گیا تھا مایل نے اسکے ہاتھ سے وہ بچا چھینا تھا اسکی بےتابی سے اسکے دماغ کی حالت پتا لگ رہی تھی کے وہ اپنے بچے کو ہی پہچان نہ سگی اگر یہی مایل کی خوشی ہے تو وہ اس وقت چُپ ہی سہی تھا۔۔۔۔۔۔۔
نرسز وہاں اسے نفرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں وہ اس ماں کی طلب کیسے جان سکتے ہیں جس نے اپنے پیٹ سے جنمے بچے کو دیکھا نہ ہو جو اس کی آنکھوں کے سامنے ہی کھائی میں بے دردی سے پھینک دیا گیا تھا۔ جو اس کی پہنچ سے بہت دور ہو وہ تو یہ تک نہیں جانتی تھی کہ وہ زندہ بھی ہے یا نہیں۔۔۔۔۔۔۔
وہ گھر پہنچنے سے پہلے سب کو انفارم کر چکا تھا۔ سب ہی وہاں حیران تھے کیوں کے سب ثمروز صاحب کی میت دیکھنے گئے تھے وہاں مایل نہیں تھی تو ثمرین نے یہی کہا تھا وہ ابھی پاکستان پہنچے نہیں اور اب مایل المیر کو ایسی حالت میں ملی؟ تو زریق کہاں ہے؟؟ وہ مایل کو گھر لیکر آگیا وہاں آکر مایل نے نارمل ہی بیہو کیا وہ سب پر اپنا غصّہ اتاڑ رہی تھی۔ کوئی نہیں کہ سکتا تھا کے کچھ دیر پہلے ڈاکٹر نے کہا اسکی دماغی حالت ٹھیک نہیں۔ وہ جب بل پئے کرنے گیا تھا تب بھی ڈاکٹر کہ رہے تھے وہ مایل کو کسی سائکیرٹسٹ کو دیکھائیں جسے سن کر المیر کو لگا کسی نے اسکا دل مٹھی میں جکڑا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مایل کا غصّہ جائز تھا۔ یہ انکی غلطی تھی کے وہ اسے دیکھنے ایک بار بھی نہیں گئے تھے بس فون کے ذریعے رابطہ رکھا ایک سال ہوگیا تھا مایل کو گئے اور گھر میں سے کوئی ایک مرد بھی اُسے دیکھنے نہیں گیا تھا۔۔۔
اکثر جو لوگ باہر ملک میں رہتے ہیں خود ہی ایک دو سال بعد وہ پاکستان آکر اپنے رشتہ داروں سے ملتے ہیں پر یہاں تو بات ان کی مایل کی تھی وہ مایل جسے ان سب نے محبت سے پالا تھا جس میں سکندر ولا کے ہر افراد کی جان بستی تھی تو انہوں نے کیسے مایل کی خبر نہیں لی؟؟؟ لیکن قصوروار صرف وہی نہیں تھے اس میں سب سے زیادہ قصور وار حیدر مرتضی تھے جنہوں نے سختی سے سب کو منع کیا تھا کوئی بھی مایل کے پاس جانے کی بات نہ کرے جب تک کہ حالات بہتر نہیں ہوتے اب وہ خود سب اس بات سے لاعلم ہیں کہ وہ کن حالات کی بات کر رہے تھے؟؟؟
اب تو مایل کی حالت دیکھ ہر کوئی پچھتا رہا تھا۔ حیدر مرتضیٰ صدیق صاحب شاز اور آریز گھر پر نہیں تھے سب صدیق صاحب کے دوست کے بیٹے کی شادی میں گئے تھے۔ المیر نے انھیں کچھ بتایا بھی نہیں تھا المیر کا کہنا یہی تھا وہ آجائیں پھر ہی تصلی سے بات ہو سکتی ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی حالت سے سب گھر میں پریشان تھے۔ اُس نے بچے کو پہچان لیا تھا۔ وہ کہہ رہی تھی یہ بچہ مایل کا اپنا نہیں ہے اُس کے بچے کو زریق نے مار دیا بے۔ سب اس انکشاف پر دہل کر رہ گئے تھے۔ نجمہ نے بیٹی کی ایسی حالت دیکھ کر غصّے سے ثمرین کا نمبر ملایا وہ جب یہاں ہیں تو انہوں نے اپنا پاکستان والا نمبر اون کیا ہوگا یہی سوچتے نجمہ نے کال ملائی۔۔۔
” ہیلو اسلام علیکم “
دوسری طرف سے کال اٹھا کر سلام کیا گیا۔۔۔۔
” وعلیکم اسلام ثمرین کو فون دو “
نجمہ کا غصہ جائز تھا جو ابھی اپنی بیٹی کے منہ سے سن کر آرہی ہے کہ ارحم نہیں رہا نہ جانے کیوں سب کو لگ رہا تھا اس بات میں کوئی نہ کوئی جھول ہے کیونکہ اپنے ہی بچے کو مارنا یہ کوئی عام بات نہیں ہے بہت بڑا الزام ہے جو مایل زریق پر لگا رہی ہے۔۔۔لیکن اب کون یقین نہیں کرے گا؟؟؟ ہر آنکھ تو اس کا حال دیکھ کر یقین کر رہی ہے جس طرح وہ اپنے بچے کے لیے بلگ بلک کر رو رہی ہے۔۔۔۔۔۔
” آپ کون؟؟؟ “
اس لہجے پر دوسری طرف سے عورت نے بھی کچھ غصے سے پوچھا۔۔۔۔۔
” میں انکی سمدھن مایل کی امی بات کر رہی ہیں انھیں فون دو میں پوچھوں کیا کیا ہے زریق نے میری مایل کے ساتھ۔۔۔۔۔۔ ” بولتے بولتے انکی آواز بھرا گئی۔۔۔۔
پہلے تو وہ عورت چونک پڑی پھر سردمہری سے بولی۔
” کچھ نہیں کیا میرے بیٹے نے اور ثمرین کی طبیعت اس وقت ٹھیک نہیں ابھی تو شوہر کے جانے کا صدمہ ختم نہیں ہوا تھا کہ آپ اس طرح اس لہجے میں ثمرین سے بات کرنے کو کہہ رہی ہیں؟؟؟؟ اور دوسری بات میرے بیٹے زریق نے کچھ بھی نہیں کیا وہ اپنے سے جُڑے کسی رشتے کو نقصان نہیں پہنچا سکتا ارے اپنے کیا وہ تو باہر کے لوگوں تک کو نقصان نہیں پہنچاتا دو منٹ دیں مجھے سب کلئیر کرواتی ہوں ” اس عورت نے انہیں اسی کے لہجے میں جواب دے کر فون کاٹ دیا نجمہ کو ایک بات سمجھ نہیں آئی وہ زریق کو اپنا بیٹا کیوں کہہ رہی تھی اور آخر وہ تھی کون؟؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” امی۔۔۔ امی “
نجمہ کو کمرے میں ناپاکر وہ چیخی۔ مایل کی چیخ سن کر زونیشہ کمرے میں آگئی۔۔۔۔
” نجمہ آنٹی باہر گئی ہیں آتی ہونگی کافی ٹائم ہو چکا ہے انھیں جاتے۔۔۔۔۔ ” زونیشہ نے عام سے لہجے میں اسے جواب دیا۔ مایل کا سر جو درد سے پھٹ رہا تھا اسے دیکھ کر مزید درد میں شدت آگئی۔۔۔۔۔۔
” تم یہاں کیوں آئی ہو؟؟ مجھے برباد کر کے بھی تمہیں سکون نہیں ملا؟؟؟ ” وہ اس پر چلاتی اپنے وجود سے چادر ہٹاتی بیڈ سے اٹھ کر غصّے سے اسکے پاس آگئی زونیشہ اسکا انداز دیکھ خوف سے پیچھے ہوئی۔۔۔۔
” م۔۔۔م۔۔۔۔۔۔ “
” دفع ہوجاؤ یہاں سے اپنی شکل مت دیکھنا مجھے۔۔۔ تمہاری اور تمہارے شوہر کی وجہ سے میں برباد ہوئی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” مایل نے زونیشہ کا ہاتھ پکڑ کے اسے اپنے روم سے باہر دھکیلا۔
” م۔۔۔۔ م ” وہ کچھ کہنا چاہ رہی تھی مگر مایل نے اسے اپنے کمرے کے باہر باقاعدہ کسی کچرے کی طرح پھینکا۔۔۔
” دوبارہ اس کمرے میں مت آنا سمجھی تم ” اس پر چیختے مایل نے دروازہ بند کردیا۔ زونیشہ کا سر احساس توحین سے جھکتا چلا گیا چہرہ حد دردجہ سرخ پڑ چکا تھا اس نے نظریں پھیریں تو وہیں ساکت رہ گئی کیوں کے المیر دور کھڑا سب کچھ دیکھ چکا تھا۔ دونوں کی جب نظریں ملیں تو المیر اسے ایک ںظر دیکھتے وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
المیر خالی دیوار کو تک رہا تھا۔ اسے آج افسوس ہو رہا تھا کیوں اس نے روحیل کا بتایا ہوا رشتہ حیدر مرتضیٰ کے پاس بھیجا۔ بےشک ثمرین خود سے نجمہ کے پاس گئی تھی مگر رشتہ تو حیدر مرتضیٰ نے طحہ کیا تھا جسے مترادف المیر نے کرایا۔۔۔۔۔۔۔
آج اس نے خود پر ہر خوشی حرام کردی۔
ہر خوشی۔۔۔
زونیشہ بھکرے وجود کے ساتھ ابھی اسکے سامنے رات کے اس پہر اپنے گھر چلی گئی وہ جو ہر وقت اسکا محافظ بن کر اسکے لیے ہر جگہ پہنچتا تھا آج اسے تنہا کرگیا۔۔۔۔۔۔
” میں یہ تک نہیں جانتا کے ہمارے بیچ میاں بیوی کا رشتہ ہے بھی یا نہیں؟؟؟؟ “
” میں تم سے محبت نہیں کرتا نہ تم میری پسند ہو “
” مایل اپنی لائف میں آگے بڑھے بس اسی لئے تم سے شادی کی تھی “
” تمہیں آج یہ سب نہیں کہنا چاہیے تھا!!! وہ بہت تکلیف میں ہے اور میں یہاں اپنا جہاں آباد کروں؟ “
” شاید ہمارے بیچ میاں بیوی کا رشتہ ختم ہو چکا ہے “
وہ اب تک اسکی سرخ آنکھیں نہیں بھولا تھا جو کسی آبشار کی طرح بہ رہیں تھیں شرم سے جھکا سر نہیں بھولا تھا جو المیر کے آگے جھکا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ آنکھیں ایسے لگ رہا تھا جان کر بار بار بھرتی چلی جا رہیں تھیں تاکے وہ المیر سے نظریں نہ ملا پائے۔۔۔۔۔۔
آج وہ چلی گئی المیر کی زندگی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جس میں خود المیر کا ہاتھ تھا آج اس نے خود پر ہر خوشی حرام کردی۔ اسکی ذات سے اب تک کوئی خوش نہیں رہا۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گزری رات کسی قیامت سے کم نہ تھی۔۔۔
زونیشہ رات کے پہر اپنے گھر لوٹ گئی سب ہی اس بات سے انجان تھے۔۔۔
مگر گھر میں اسے ناپاکڑ صالحہ نے المیر سے پوچھا تھا جس نے بس ایک لفظی جواب دے کر انھیں چُپ کرادیا۔
” وہ کچھ دن وہاں رہنا چاہتی ہے “
مایل بس اپنے کمرے کی ہو کر رہ گئی تھی اسے دو دن ہوئے تھے یہاں آئے۔ نجمہ انتظار کر رہی تھی کب وہ مکمل اپنے حواسوں میں لوٹے گی کل تک تو حیدر مرتضیٰ اور صدیق صاحب بھی آجائیں گئے انکی بیٹی کا گھر انہی کے ہاتھ میں ہے اگر بات آگے بڑھی تو بس تماشے ہونگے۔ اب تو وہ مایل کو کسی قسم کی ٹیبلٹ بھی نہیں کھلا رہیں تھیں پھر بھی مایل ویسی ہی تھی بس سوچوں میں الجھی۔۔۔۔۔۔
” امی۔۔۔۔ “
” زریق نے ارحم کو گرم پانی کے ٹب میں ڈالا تھا پھر۔۔۔۔” وہ دیوار کو تکتے سوچ رہی تھی نجمہ کے گلے میں گلٹی سی ابھری۔۔۔۔۔
” ارحم زندہ ہے میری جان ” نجمہ نے ایسے راضداری سے کہا کے مایل کی آنکھیں بےاختیار ماں پر اٹھیں وہ بےیقینی سے ماں کو دیکھتے نم آنکھوں کو بار بار جھبک رہی تھی کہیں کوئی خواب تو نہیں تھا۔۔۔اسکی ماں نا مزاق کرتی ہیں نہ بیٹی کے جزبات سے کھیلینگی۔۔۔۔۔
” امی۔۔۔ “
” میری غلطی نے تمہیں کہاں پہنچا دیا تم نے خود کے ساتھ کیا کیا ہے؟؟ دو دن سے تمہیں بتا رہی ہوں کیا تمہیں یاد نہیں؟؟؟ اب اٹھو میرے ساتھ چلو!!! ” نجمہ کو لگا جب وہ چلنے لائق ہوگی تبھی وہ اسے لے جائے گی مگر نجمہ کو سمجھ آگیا اسکی بیٹی کا علاج اسکے پاس نہیں۔ نجمہ نے اسے تیار ہونے کا کہا اور اپنے ساتھ لیتی گھر کے باہر آگئیں شکر تھا حال میں کوئی نہیں تھا۔۔۔۔
باہر ایک گاڑھی کھڑی تھی جس میں نجمہ نے اسے بٹھایا۔ نجمہ اسے بیٹھا کر جا رہیں تھیں کے مایل نے نجمہ کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔۔
” میری جان تم ارحم کو لے آؤ وہاں تمہارا ہی سسرال ہے میرا کیا کام؟؟؟ ” مایل نے کچھ نہ کہا نجمہ کا ہاتھ چھوڑ دیا اسے بس ارحم سے ملنا تھا کار کا دروازہ بند کرتے ہی کار ہوا سے باتیں کرنے لگی۔۔۔
کار بھی نہ جانے کن کن رستوں سے ہو کر ایک اسکوائر شیپ بنگلے کے آگے آرکی وہ نہیں جانتی وہ کن کن رستوں سے آئی ہے مگر اسے اتنا پتا تھا کہ آگر وہ خود سے یہاں سے باہر نکلنا چاہے تو وہ کبھی نہیں جا سکتی۔۔۔۔۔
وہ جیسے ہی کار سے باہر نکلی آگے جاکر کار اسکی نظروں کے سامنے اوجھل ہو گئی مایل نے اپنے قدم اس بنگلے کی جانب بڑھائے وہ جیسے ہی اس بنگلے کے دروازے پر پہنچی اُس نے دیکھا دروازہ پہلے سے کھلا ہوا تھا مایل نے اپنے قدم اندر کی طرف بڑھائے۔۔۔۔
وہ جیسے ہی اندر داخل ہوئی اندھیرے نے اسکا استقبال کیا۔۔۔۔
ہاتھوں میں بےساختہ کپکپاہٹ طاری ہوگئی کہیں کوئی دھوکہ تو نہ تھا؟؟؟ وہ غلط جگہ تو نہیں آگئی؟؟؟ وہ اپنی سوچ میں الجھی تھی کے پورا حال یک دم روشنی میں نہا گیا۔۔۔۔۔۔
کمرے میں ایسی خاموشی تھی کے اسے اپنی گہری سانسوں کی آواز بھی آسانی سے محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔
وہ جانتی تھی ضرور اسکے علاوہ بھی یہاں کوئی موجود ہے ورنہ لائٹس اپنے آپ اون نہ ہوتیں۔۔۔۔۔۔ خود اسے کسی کی موجودگی کا احساس ہو رہا تھا۔۔۔۔
گہری سانس لیتے اسنے کمرے کا جائزہ لیا۔۔۔۔۔
وہاں ایک بڑی سی آفیس ٹیبل تھی۔۔۔۔۔ ٹیبل کے شیشے پر لیپ ٹاپ کچھ فائلز کرسٹل بال اور چھوٹا سا واز رکھا تھا جس میں الگ الگ کلر کی پینز رکھیں تھیں۔۔۔۔
باقی پورا حال خالی تھا۔۔۔
دیواریں سفید تھیں صاف ستھری جیسے آج ہی پینٹ کرایا ہوا۔۔۔ جگہ جگہ دیوار پر سفید پردے لگے ہوئے تھے جو کمرے کو خوبصورت نقشہ دے رہے تھے۔۔۔۔۔۔
اسے سمجھ نہیں آرہا تھا آگے جائے یا واپس لوٹ جائے۔۔۔۔۔۔۔۔
جو بھی تھا اسے حقیقت تو جاننی تھی۔۔۔ اور سب سے بڑی بات اسکا بیٹا اسکا ارحم۔۔۔
ارحم کی سوچ آتے ہی اسکی آنکھیں پھر سے پانیوں سے بھر گئیں۔۔۔۔یہی سوچتے اسنے اپنے قدم آگے کی جانب بڑھائے۔۔.
دیوار پر لگی ایک تصویر نے مایل کی توجہ اپنی جانب کھینچی۔ وہ بلیک اور وائٹ رنگز کی پینٹنگ بنی تھیں سب سے چھوٹا سرکل بلیک پینٹ سے بنا تھا پھر اس سے بڑا وائٹ سے پھر وائٹ سے بڑا سرکل بلیک سے اس طرح سے تقریباً ان دو کلرز سے پندرہ رنگز بنی تھیں۔ جو دیکھنے سے بالکل اصلی لگ رہی تھیں جیسے وہ رنگز آپ کے سامنے بنی ہوں۔۔۔۔۔۔۔
وہ جو اس پینٹنگ کو دیکھنے میں اس قدر محو تھی یکدم نہایت چونک پڑی اس میں سے پہلی رنگ روشنی میں نہا گئی۔۔۔۔۔۔
مایل کا سانس اٹک گیا اتنے دنوں بعد وہ اس بےحس شخص کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہ قدم اٹھاتا اپنے ہر سفر کو روشن کر رہا تھا وہ جیسے ہی کسی رنگ پر پیڑ رکھتا وہ روشنی میں نہا جاتی جبکے اس سے پچھلی رنگ میں واپس اندھیرا ہوجاتا۔۔ ایسا لگ رہا تھا یہ رنگز اپنے مالک کے انتظار میں تھیں اسکے آتے ہی جہاں نیا سفر شروع ہو رہا تھا وہیں پچھلے سفر کا اختتام ہوا۔۔۔۔۔۔
مایل جو آنکھیں چھپکائے بغیر اسے دیکھ رہی تھی اس انجانی آواز پر چونکی۔۔۔۔۔۔
” مجھے پتا تھا آپ یہاں ضرور آئینگی ” مغرور چال چلتا وہ اسکے روبارو آن کھڑا ہوا۔۔۔۔۔۔۔
وہ سانس روکے اس شخص کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
کون تھا وہ؟؟ اسکا شوہر؟؟؟ مگر آواز تو اسکی نہ تھی نہ انداز۔۔۔۔۔۔ یہ تو کوئی اجنبی ہے جسے دیکھ کر اسے محسوس ہو رہا تھا آج انکی پہلی ملاقات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکے پیڑ یکدم سے لڑکھڑائے وہ گڑتے گڑے سنبھلی اور حیرت تھی وہ شخص بھی آگے نہ آیا۔۔۔۔ جسکا چہرہ وہ پچھلے پندرہ ماہ سے حفظ کر چکی تھی آج وہ اجنبی بن کر اسکے سامنے کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔
کیا تھا یہ؟؟؟؟
کوئی خواب ؟؟؟ یا حقیقت ؟؟؟؟؟
” خواب اور حقیقت یہیں تو آپ مات کھا گئیں “
بھاری مردانہ آواز نے کمرے کی وحشت کو کم کیا وہ اسکی حالت سمجھتے گہرا طنز کر گیا مایل بےیقینی کی کیفیت میں اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔وہ شخص اسکے دماغ تک رسائی حاصل کر چکا تھا؟؟؟
یہ لہجہ۔۔۔
یہ انداز۔۔۔۔
وہ الگ تھا۔۔۔۔
بلکل الگ وہ زریق نہیں تھا۔۔۔۔۔
زریق سے الگ بھی نہیں۔۔ تو وہ کون تھا؟؟؟؟ اسے لگ رہا تھا وہ زریق کا عکس آئینے میں دیکھ رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور یہ آنکھیں مايل دم سادے اسے تک رہی تھی تبھی اس شخص نے اپنی آنکھیں سیکوڑی اور یہیں مايل کے سامنے وہ آنکھیں نمودار ہوئیں شادی رات اس نے یہی دو آنکھیں تو اپنے بیڈ گزیبو میں دیکھیں تھیں اور زریق تو اسکے ساتھ تھا پھر یہ؟؟؟؟؟؟؟؟؟وہ آنکھیں اس شخص کی تھیں؟؟ وہ کیوں اسکے پیچھے پڑا تھا؟؟ شادی سے لیکر اب تک؟؟؟
اچانک سے اسکا دایاں بازو کپکپایا خوف سے اسے دیکھتے وہ قدم پیچھے کی جانب بڑھا رہی تھی اسے لگ رہا تھا وہ دو منٹ بھی یہاں رکی تو خوف سے اسکا دل بند ہوجاے گا۔۔
” آپ کو کچھ نہیں ہوگا!!!!! اتنی آسانی سے نہیں مرنے والی آپ سو جانیں مار کر مریں گی۔۔۔۔۔ ” پورے آنکھیں کھولے وہ اس بےحس انسان کو دیکھ رہی تھی جسے سامنے کھڑی اس لڑکی کی رٙتی بھر پروا نہیں تھی۔۔۔۔۔۔
وہ اس قدر بےحس،،، کٹھور تو نہ تھا؟؟؟؟
اس شخص نے پاس پڑی چئیر کو آگے کی طرف ہاتھ سے پش کیا تو وہ سیدھی مایل کے پیچھے آن ٹہری اس شخص نے اسے ہاتھ کی دو انگلیوں سے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔اور خود ٹیبل سے پانی کا گلاس اٹھا کر اسکی طرف بڑھایا ہر تیاری پہلے سے تھی جیسے اس شخص کو آنے والے وقت کا اندازہ تھا مایل نے فوراً ہی پانی کا گلاس اس شخص کے ہاتھ سے لیا اسکے گلے میں کانٹے چُب رہے تھے گلا سوکھے پتے کی طرح خشک ہو چکا تھا۔۔۔
ایک ہی گھونٹ میں وہ سارا پانی پی گئی۔۔۔۔۔۔۔ اسکی ہاتھوں کی لرزش کم ہو رہی تھی وہ شخص اسکے سامنے چئیر کھسکا کر آن بیٹھا۔۔۔
ک۔۔۔۔۔۔ک۔۔۔۔کون۔ ۔۔۔ہ۔۔۔۔ہو تم۔۔۔۔۔ ” اسکی آواز خوف کے مارے کانپ رہی تھی۔ وہ اس وقت جن نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا خوف پل پل مزید بڑھ رہا تھا۔
وہ اسے ایسے دیکھ رہا تھا جیسے وہ مایل کو اس سے زیادہ جانتا ہے۔۔۔ جیسے وہ اسے پڑھ رہا ہو اسکے ہر راز سے واقف ہو۔۔۔۔۔۔
” جو آپ بنانا چاہیں” وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھے پُر سکون سا اسکے سامنے بیٹھا اسکی کیفیت سے لطف اٹھا رہا تھا۔۔۔۔
” کہ۔۔۔۔۔کیا۔۔۔م۔۔۔مطلب۔۔۔۔ ” اسکی جان نکلی جا رہی تھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا اسکے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟؟؟؟
” انسان اپنے حواس دو وجہ سے کھوتا ہے۔۔ ایک جب اسے نشہ دیا جائے دو جب کوئی صدمہ پہنچا ہو۔ ۔۔آہاں۔۔۔۔۔ ایکسیڈنٹ کنڈیشن نہیں دماغ سے ہاتھ دھو بیٹھنا۔۔۔جسکے بعد اسے علم نہیں ہو اسکے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟؟؟ یا وہ کیا کر رہا ہے؟؟؟ جیسے آپ کی کنڈیشن ہے۔۔۔۔ سو آئ ڈونٹ مائنڈ آپ جو بنانا چاہیں۔۔۔۔۔۔ ” اسکا پُر سکون انداز داز سامنے بیٹھی لڑکی کے حواس معطل کر رہا تھا۔۔۔۔۔
” می۔۔۔ ” بولنے کے لئے لب کپکپائے لیکن سامنے بیٹھا شخص تو آج اسکی روح فنا کرنے کے در پر تھا۔۔۔۔۔۔۔
” آپ بیمار نہیں آپ بیمار بنے کا ناٹک کرتی ہیں ” سرخ آنکھوں میں بےتحاشا نفرت لئے وہ بولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مایل نے اپنے بال مٹھی میں جکڑے وہ شخص اسکی دماغی کیفیت سے انجان تھا،،،، سوچ سمجھ،،، وہ تو کب کی ان صلاحیتوں سے محروم ہو چکی ہے وہ شخص اسکی بگڑتی حالت دیکھ کر اس پر جھکا۔۔۔۔۔
” اس وقت یہاں آپ بیٹھیں ہیں!!! یہ خواب نہیں مایل حقیقت ہے آپ کی زندگی سے جڑی حقیقت۔۔۔۔۔۔خواب اور حقیقت میں فرق کریں!!!! میں آپ کے سامنے بیٹھا آپ کے ہر سوال کا جواب دونگا بس شرط یہ ہے آپ اسے حقیقت مانیں۔۔۔۔۔۔!!!! ” اسکی باتیں سن کر وہ مزید خوفزدہ ہوگئی بےساختہ اسکے ہاتھ اپنی پیشانی پر گئے جو پسینے سے تر تھی نظر گھما کر دیکھا ای سی کی کولنگ تیز تھی مگر اس شخص نے اسکی حالت دیکھ کر ٹیمپریچر مزید کم کردیا کمرہ برف کی طرح ٹھنڈا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
” ای سی کا بھی کوئی فائدہ نہیں اس ٹھنڈ میں بھی آپ کو پسینے آئیں گئے ” وہ وار کرنا نہیں بھولا تھا جیب میں ہاتھ ڈالے وہ اپنی چئیر سے اٹھا۔۔۔۔۔۔۔ اسے جاتا دیکھا وہ ساکت ہوگئی اگر وہ چلا گیا تو؟؟ اسکے سوالوں کے جواب کون دیگا؟؟ ان پہلیوں کو کون سلجائے گا۔۔۔۔
” میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟؟؟ ” اسے جاتا دیکھ وہ دبی دبی آواز میں چیخی۔۔۔
” کیا جاننا چاہتی ہیں ؟؟؟ ” وہ چہرہ موڑ کر دائیں جانب دیکھنے لگا لیکن اسکی گردن پیچھے نہ مُڑی مایل کو پھر بھی لگا جیسے وہ اسے دیکھ رہا تھا مگر اسکا رُخ سامنے بنی دیوار کی طرف تھا۔۔۔۔۔۔۔
” کون ہو تم ؟؟؟ “
” میرے خیال سے پہلے آپ خود کو جان لیں ” وہ ہنوز اسی پوزیشن میں بولا۔۔۔۔۔۔۔
” آپ خود سے بھی انجان ہیں۔۔۔۔۔۔۔ ” اب کے بار وہ پیچھے مڑا۔۔۔ مایل کا سانس کو مشکل سے بحال ہوا تھا اسے سامنے پاکر پھر اٹک گیا۔۔۔۔۔۔۔
” تو کہاں سے شروعات کروں ؟؟؟ آپ کی زندگی سے یا ہماری داستان سے ” لفظ ہماری پر بےساختہ اسنے نظریں اٹھا کر اس شخص کو دیکھا۔۔۔۔۔
” میری اور آپ کے شوہر کی!!!! ” وہ اسکی آنکھوں میں امڈتا سوال دیکھ چکا تھا۔۔۔۔۔مایل کے لئے اس وقت زندگی اتنی ہی اجنبی اور مشکل تھی جتنی ہر انسان کے لئے ایک سوچ ہے جب مرنا ہی تھا تو دنیا میں آئے کیوں؟؟؟؟ حالت ایسی تھی کے اپنی زندگی کا ہر گزرا پل وہ فراموش کر چکی تھی کوئی اس سے اسکا نام پوچھتا وہ اسے تکتی رہ جاتی کیوں کے اس وقت اس پل وہ اپنے ذھن سے مکمل ہاتھ دھو بیٹھی تھی۔۔۔۔۔۔۔
مایل کی نظریں اسی شخص پر جمی تھیں اسے امید تھی آج اسکے ہر سوال کا جواب اسے مل جائے گا پر دعا تھی یہ
” خواب ” نہ ہو ” حقیقت ” ہو۔۔۔۔۔
وہ کہ رہا ہے وہی سچ ہو وہ ” حقیقت ” ہو۔۔۔
اس شخص نے جیب سے کوئی چیز نکالی مایل کی نظریں جب اس پر پڑیں اسے اندازا ہوا وہ کوئی ریموٹ تھا جسکے دباتے ہی کمرے میں اندھیرا ہوگیا ایک پل کو اسکا جسم کانپا لیکن اگلے ہی پل اسکرین پر روشن ہوتا منظر دیکھ وہ ساکت ہوگئی۔۔۔۔
” وہ مجھے بےحد عزیز ہے۔۔۔ اپنی جان اپنی زندگی سے زیادہ۔۔۔۔ میرے جسم میری روح کا حصہ ہے وہ۔۔۔۔ کاش وہ میرا سایہ ہوتا دنیا سے تو بچ کے رہتا۔۔۔۔ میرے پاس رہتا۔۔۔۔۔۔ یا کاش۔۔۔ کاش۔۔۔ ہم جسم دو ہیں جان تو ایک ہوتے تاکے اس تک پہنچنے والی ہر مصیبت پہلے مجھ سے ٹکراتی میری جان لیتی۔۔۔۔۔۔
وہ کوئی وہمپائر نہیں۔۔۔۔
نہ کوئی جانور ہے۔۔۔۔
وہ خاص ہے۔۔۔ بہت خاص انمول ہیرا ہے وہ جسکی قدر آپ جیسے سیلف فش اور بےحس لوگ نہیں کرتے۔۔۔۔۔” اسکرین پر روشن ہوتی تصویر کو وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگی آنکھیں چھبک کر وہ بار بار اس تصویر کو دیکھتی سوچ رہی تھی وہ خواب ہوگا!!! سب ایک چھلاوا ہے۔۔۔ سب جھوٹ ہے کوئی اسے نیند سے اٹھاۓ جگائے مگر نہیں اس شخص کے الفاظ اسکے کانوں میں گونج رہے تھے
” اس وقت یہاں آپ بیٹھیں ہیں!!! یہ خواب نہیں مایل حقیقت ہے آپ کی زندگی سے جڑی حقیقت۔۔۔۔۔۔خواب اور حقیقت میں فرق کریں!!!! میں آپ کے سامنے بیٹھا آپ کے ہر سوال کا جواب دونگا بس شرط یہ ہے آپ اسے حقیقت مانیں۔۔۔۔۔۔!!!! ” نہیں آج پھر وہ ان سوالوں کے جال میں پھنسی تو کبھی لوٹ نہیں سکے گی۔۔۔۔۔
مایل نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھاما وہ گہری گہری سانسیں لینے لگی۔۔۔۔
آج اگر وہ یہاں سے لوٹی یا اس شخص کی باتوں کو نظر کیا دھوکا سمجھا تو وہ پھر سے شاید ان پہلیوں میں الجھ جائے گی جسکا جواب کسی کے پاس نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
” یہ ہے حقیقت جو آپ کی آنکھوں کے سامنے ہے ہم جڑوا بھائی ہیں۔ ماں کے پیٹ سے نکلتے ہی ہم دونوں نے ایک ساتھ یہ دنیا دیکھی۔۔ مگر دنیا نے ہمیں ایک جیسا پیار نہ دیا۔۔۔ ہم میں فرق کیا۔۔ جب کے ہم جسم دو تھے مگر جان تو ایک تھی۔۔۔مگر وہ لوگ یہ سمجھ نہ سگے آپ بھی تو ان میں سے ایک ہیں۔۔۔ ” اس شخص نے آخر میں مایل کو دیکھا مگر وہ تو اسکرین پر روشن ہوتے منظر کو ساخت نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔
وہ زریق اور اس کے بھائی کی تصویر تھی دونوں کو دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا وہ جُڑوا بھائی ہیں ایسے لگ رہا تھا کہ زریق آئینے کے سامنے کھڑا ہے مگر؟؟؟ زریق تھا کون سا؟؟
مایل کو آنکھیں سیکوڑتے دیکھ وہ مسکرایا۔۔۔۔۔
” ہم Monozygotic Twins ہیں؟؟؟ ” مایل نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔
” دو طرح کے ٹونز ہوتے ہیں ایک Monozygotic Twins دوسرے Dizygotic Twins مونو مطلب ایک جیسے جنکے سیم نقش ونگار ہوں،، سیم اسکین کلر ہو،، آنکھوں کا کلر سیم ہی بلکل ایک جیسے ہوں۔۔ کوئی فرق نہ ہو جیسے آپ اسکرین پر دیکھ رہی ہیں۔۔۔ “
” Dizygotic Twins
ایک دوسرے سے بلکل الگ ہوتے ہیں انکا چہرہ،، اسکین کلر،، بلڈ گروپ ایک دوسرے سے الگ ہوتا ہے کبھی کبھی پتا بھی نہیں لگتا ٹونس ہیں بلکل الگ فیشل فیچرز ہوتے ہیں ” مایل اسکرین کو دیکھتے اندازہ لگا سکتی تھی مگر ایک بات اسکے ذھن میں آئی کیا وہ بھی زریق کی طرح بےحس ہے؟؟؟؟
” دو ماہ کے تھے ہم جب ممی کو تشویش نے آن گھیرا کے زریق اتنا چینج کیوں ہے؟؟؟ نہ روتا ہے نہ انکے کھیلانے پر ہنستا ہے بھوک لگنے پر بھی خاموش کیوں ہوتا ہے؟؟ گرمی ہو یا سردی ہو اس پر اثر انداز کیوں نہیں ہوتی گرمی میں اسکی پیٹ پر پسینہ کیوں نہیں آتا جیسے لائٹ جانے کے بعد میری پیٹ پر پسینہ آتا تھا۔۔۔۔ وہ زریق کو لیکر ہر وقت پریشان رہتیں تھیں آج تک انہوں نے زریق جیسا بچا نہیں دیکھا تھا جو انھیں اپنی موجودگی کا احساس نہیں دلاتا تھا میرے لئے وہ راتوں کو جاگتیں تھیں میرے ساتھ۔۔۔۔
مگر زریق کے ٹائم وہ بےپروا ہوجاتیں جانتی تھیں وہ نہیں روے گا۔۔۔
ہر روز ایک نئی سوچ ہوتی مگر جواب کسی کے پاس نہیں تھا ممی خود ایک ڈاکٹر تھیں جانتی تھیں انکی باتیں سن کر ڈاکٹر یہی کہے گا یہ تو اچھی بات ہے مائیں ایسی اولاد چاہتی ہیں جو رات بھر نہ جگائے اور آپ اس بات پر رو رہی ہیں؟؟؟؟ ممی ہر دن اسے آبزروو کرتیں اور آخر کار وہ دن بھی آگیا جس سے ہم سب بھاگتے تھے۔۔۔
ایک ڈر سا رہتا ہے۔۔۔
انکشاف ہونے کے بعد کی اذیت سے ڈر لگتا ہے۔۔
سوچتے ہیں زندگی گزر تو رہی ہے نہ؟؟ ھلکی سی تکلیف ہی برداشت کر لیں گئے۔۔۔
مگر کوئی بڑا صدمہ کوئی بڑی تکلیف برداشت سے باہر ہوگی۔۔
شاید یہی وجہ ہوتی ہے ہم ہسپتال جانے کے خوف سے بیماری کو نظر انداز کر کے زندگی کی گاڑھی کو دھکے دیکر چل ہیں۔۔
زریق دو سال کا تھا،،، سیڑیوں سے بری طرح گڑنے کے بعد بھی وہ جب نہ رویا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ممی اسے ڈائریکٹ ایک نیرولوجسٹ کے پاس لے آئیں وہ خود ڈاکٹر تھیں کسی فیزیشن کے پاس ٹائم ویسٹ کرنے سے بہتر وہ ڈائریکٹ نیرولوجسٹ کے پاس زریق کو لے آئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہادیہ آپ خود ایک ڈاکٹر ہیں مضبوط دل سرجن!!! یو بیٹر نو ہائوو ٹو ڈیل ود دا سیچویشن۔۔۔۔ “
” Your Child is suffering from a rare disease CIPA “
ہادیہ جو دو سال کے معصوم زریق کو گودھ میں لیے بیٹھیں تھیں اس عجیب بیماری کا سن کر خوفزدہ ہوگئیں انہوں نے کبھی اپنی پوری زندگی میں اسکا نام تک نہیں سنا۔۔۔۔۔۔
” ریلیکس اس دنیا میں مشکل سے یہ بیماری بیس یا تیس لوگوں میں پائے جاتی ہوگی مئی بی زیادہ کیسز ہوں مگر رپورٹ نہیں ہوتے وہ کیسسز تبھی اتنی آویرنیس (awarness)نہیں۔۔۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں ہمارے دماغ کی ایک نرو (nerve) ڈیمیج ہوتی ہے۔ اسکا اندازہ پیدائش کے ٹائم نہیں ہوتا بعد میں ہوتا ہے جیسے آپ کو ہوا اسکی حرکتوں سے۔۔۔۔۔۔۔
ہادیہ اس بیماری میں انسان کو ” درد ” محسوس نہیں ہوتا(Pain Sensation) ہم کسی انسان کو یہ نہیں سمجھا سکتے کہ ” درد ” کیا ہوتا ہے؟ موت کیا ہوتی ہے؟ کیونکہ وہ اس سے انجان ہے جب وہ اس درد کو محسوس ہی نہیں کر سکتے تو وہ اس درد کی شدت کو کیسے جانیں گے؟؟؟ اسکے نقصان کیسے جانیں گئے؟؟۔۔۔۔
اس پر ابھی تک ریسرچ چل رہی ہے اس کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں نہ ہی اس کا کوئی علاج ہے۔۔۔۔ علاج ہے بھی تو صرف ایک یہ کے سرجری کے ذریعے دماغ کی نرو(nerve) ریپلیس ہوتی ہے جو کہ بے فضول ہے کیونکہ آج تک کوئی سرجری کامیاب نہیں گئی۔۔۔۔
اس بیماری میں انسان کو سردی یا گرمی محسوس نہیں ہوتی لیکن ہاں اگر وہ برفیلے علاقوں میں عام کپڑوں میں چلا جائے بھلے اس کے جسم پر اثر نظر نہیں آرہا لیکن اس کا اندرونی حصہ متاثر ہوتا ہے اور لمحوں میں اس بندے کی موت ہو جاتی ہے جب جسم کا ٹمپریچر برداشت سے باہر ہو۔۔۔ ویسے ہی ویسے ہی آگ اگر زریق کو محسوس نہیں ہوتی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ آگ اسے نقصان نہیں پہنچا سکتی۔۔ وہ آگ اُسے جلا کر راکھ کر دے گی اگر اُس نے احتیاط نہیں کیا۔۔۔۔
ایک اور بات ہادیہ ہر انسان میں اس بیماری کو لے کر الگ الگ قسم کی چیزیں پائی گئیں ہیں جیسے ایسے بچوں کو درد محسوس نہیں ہوتا تو اکثر اُن کے ماں باپ بچوں کے دانت نکلوا دیتے ہیں تاکہ وہ اپنی زبان نہ کاٹیں نہ کھائیں وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں ہاتھ کا ماس یہاں تک کے انگلیاں کھانے لگتے ہیں پیروں کی انگلیاں تک حالنکے انہیں بھوک نہیں لگتی انہیں کسی چیز کا احساس نہیں ہوتا۔۔۔پھر بھی۔۔ یہ کئی بچوں میں پایا گیا ہے۔۔۔۔
کچھ مریضوں سے تو یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ انہیں کھانے کا کوئی ٹیسٹ نہیں آتا یہاں تک کہ وہ پرفیوم کی خوشبو تک سونگ نہیں سکتے۔۔۔۔۔۔
ہادیہ تم ڈاکٹر ہو تمہیں ڈرا نہیں رہا لیکن تمہیں مشورہ دے رہا ہوں کہ اپنے بیٹے کا خاص خیال رکھو اُسے تمہاری خاص توجہ کی ضرورت ہے وہ بچہ کب اپنے ساتھ کیا کر لے تمہیں اس بات کا اندازہ نہیں ہوگا اُسے ہر پل نگرانی میں رکھو تمہارے لیے اسی میں بہتری ہے۔۔۔۔۔” مایل کی آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر گئیں وہ اسکے ہچکی لیتے وجود کو دیکھ رہا تھا۔ آج شاید اس لڑکی کو احساس ہوگیا تھا اسکا شوہر بُرے لوگوں یا انسان مخلوق سے حٹ کر کسی میں شمار نہیں ہوتا۔۔۔۔
ممی کو ساری زندگی اُس ڈاکٹر کا چہرہ یاد رہا کیونکہ انہوں نے جو انکشاف کیے تھے میری ماں کے لیے وہ دن قیامت سے کم نہ تھا وہ گھر آکر بہت روئیں تھیں اتنا کے انہوں نے گھر سر پر اٹھا لیا تھا کھانا پینا تک چھوڑ دیا تھا بس اللہ سے شکوے کرتیں روتیں بلکتیں کہ انہوں نے اس کے بیٹے کو ایسی سزا کیوں دی؟؟؟ کیوں اُس سے جینے کا حق چھینا؟؟؟ جب وہ کچھ کر ہی نہیں سکتا تو وہ دنیا میں آیا ہی کیوں تھا؟؟؟
” یہ بیماری خطرناک یا دردناک نہیں مگر جان لیوا ہے اگر اسکا علم نہ ہو تو۔۔۔۔۔
پر افسوس۔۔۔۔
جس انسان کو یہ بیماری ہوتی ہے وہ خود بےبس نہیں ہوتا مگر اسکے چاہنے والے ہوتے ہیں روز ایک نئی موت مرتے ہیں اس سے ریلیٹڈ کافی آرٹیکیلز پڑھے ہیں۔۔۔۔
جن کو یہ بیماری تھی ستر پرسنٹ نے خودکشی کرلی۔۔۔
مایل کا سانس اٹک گیا۔۔۔۔۔ وہ اسکی کیفیت پر مبہم سا مسکرایا۔۔۔(یہ لڑکی زریق کے لئے جذبات رکھتی ہے۔۔)
جبکے مایل ابھی تک ہلکی ہلکی سسکیاں لے رہی تھی اسے اپنے دوپٹے سے ناک صاف کرتے دیکھ اس شخص نے فوراً ٹشو آگے بڑھایا مایل شرمندہ سی ہوگئی۔۔۔۔۔
” زریق ان ستر پرسنٹ میں نہیں آئے گا!!!! وہ مسلمان ہے آپ تو واقف نہیں ہونگی مگر وہ پانچ وقت کا نمازی ہے “
اسکی حیرت سے کھلی آنکھوں پر وہ زخمی مسکرایا۔۔۔۔۔
” کوئی حال نہیں۔۔۔۔۔ ” اس نے افسوس سے سوچا۔۔۔
” کیا آپ میرے ہر سوال کا جواب دیں گئے؟؟ ” مایل بہت امید سے پوچھ رہی تھی۔۔۔۔
” جو نہیں پوچھیں گی اسکا بھی “
” آپ کا نام؟؟؟ “
” حاوز سلیمان ” مایل چونک اٹھی اُسے لگ رہا تھا اس نے یہ نام کہیں سنا ہے۔۔۔۔ حاوز سلیمان نے غور سے اُسکے چہرے کے تااثرات دیکھے اور اگلے ہی لمحے اُس نے ایک بٹن دبایا جس سے اسکرین پر منظر بدل گیا مایل نے دیکھا تو اُسکا سانس اٹک گیا۔ وہ بھاگتے ہوئے جا کر سکرین کی تصویر پر ہاتھ پھیرنے لگی اور زور سے چلائی۔۔۔
” میرا ارحم۔۔۔” وہ کوئی گارڈن تھا جس کی زمین پر زریق لیٹا ہوا تھا اور اس کے پیٹ پر ارحم بیٹھا تھا زیق ارحم کے پیٹ پر گُد گُدی بگزی کر رہا تھا جس پر ارحم زور سے کھل کھلا کے ہنس رہا تھا۔۔۔۔۔۔ اتنا خوبصورت اور بھرپور منظر تھا ارحم کبھی ہنس ہنس کر باپ کے سینے پر گِر رہا تھا تو کبھی اسکے سرخ گال زریق کی دارھی سے مس ہوتے جس کی چُبن پر وہ اپنی بڑی آنکھیں کھول کر باپ کو دیکھنے لگتا۔۔۔۔۔۔
” کہاں ہیں بتائیں پلیز۔۔۔ میں مر جاؤں گی مجھے میرا بیٹا چاہیے۔۔۔۔۔ ” وہ حاوی سے منتیں کر رہی تھی حاوز سلیمان نے ایک گہرا سانس بھرا۔۔۔۔
” ہم وہیں جا رہیں!!! بس آپ آج میرا دیا ٹیسٹ پاس کرلیں ” اس کی بات سن کر مایل بُری طرح چونکی اور بے بسی سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔