66.2K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

” کیسی ہو میری جان “

” ٹھیک ہوں امی!!! آپ کیسی ہیں؟؟؟ ” مایل نے عام سے انداز میں کہا وہ اس وقت ویڈیو کال پر نجمہ سے بات کر رہی تھی۔ نجمہ محبت سے اسے دیکھتی آبیدہ ہوگئیں کیوں کے مایل کے تااثرات نارمل تھے جیسے اسے ماں سے بات کرنے کی نہ خوائش تھی نہ خوشی۔۔۔۔۔۔۔

” تمہیں بہت یاد کرتی ہوں!!! کب آؤ گی؟؟ ” انکے لہجے میں آس تھی حسرت تھی مایل سے ملنے کی جبکے مایل ٹماٹر کاٹتے بس مسکرا رہی تھی کوئی جزبات ہی نہ رہے تھے ماں کے لئے نجمہ سوچ رہی تھی۔ اس نے لیپ ٹاپ کیچن کے شیلف پر رکھا تھا صاف سترا کچن تھا اور وہ خود کھڑی ہوکر الیکٹریک اسٹوو(Electric Stove) پر رکھی چھوٹی سی دیگچی میں ٹماٹر کاٹ کاٹ کر ڈال رہی تھی۔۔۔۔۔

” پتا نہیں جب وہ لیکر آئیں!!!! تائی امی آپ کیسی ہیں؟؟؟ آپ کو بہت یاد کرتی ہوں۔۔ ” مایل جو نجمہ سے بات کر رہی تھی صالحہ کو دیکھ کر یک دم خوش ہو گئی جو نجمہ کے برابر آن بیٹھی تھی وہ اس وقت آریز کے لیپ ٹاپ پر ان سب سے بات کر رہی تھی۔ صالحہ کو دیکھ کر وہ سالن ڈھک کر کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی نجمہ نے غور سے اسکی یہ حرکت دیکھی تھی۔۔۔۔

” میری جان ہم بھی بہت یاد کرتے ہیں۔۔۔ کیسی ہو؟ اپنا خیال رکھ رہی ہو؟؟ اور میں نے جو حلوہ بتایا تھا وہ کھا رہی ہو؟؟؟ “صالحہ اس کا حال چال پوچھنے لگ گئی جبکہ نجمہ کونے میں ہو کر دونوں کو دیکھتی رہیں بیٹی کی ناراضگی سے وہ واقف تھیں پر وہ کیا کرتی؟؟؟ وہ اُس وقت خود بھی مجبور تھیں۔ مگر نجمہ کو معلوم نہیں تھا کہ وہ ان دونوں کی ملاقات کا آخری دن تھا پتا ہوتا تو وہ خود سے اسے سینے میں نہ بھینچ لیتیں۔۔

ایک ایک کر کے سب مایل سے بات کرنے لگے شگفتہ بھی جلدی روٹی پکا کر آکر بیٹھ گئیں پھر آبی نے بھی بات کی صالحہ کو خیال آیا تو وہ زونیشہ کو بلانے گئی مگر اسکے کمرے کی بند لائٹ دیکھ صالحہ کو لگا وہ سو رہی ہے اس لئے صالحہ نے اسے جگانا مناصب نہیں سمجھا۔۔۔۔۔

صالحہ کی سمجھ سے یہ سب بچے باہر تھے وہ کافی دفعہ زونیشہ سے کہہ چکی ہے کہ مایل سے بات کرا دے لیکن زونیشہ کچھ نہ کچھ کہہ کر ٹال دیتی ہے(فیس بوک آئی ڈی کے ذریعے رابطہ کرے جیسے آریز کرتا ہے ) اب تو وہ پہلے والی بات بھی نہیں رہی جس طرح زونیشہ اور مایل ساتھ ہنستی تھیں، مسکراتی تھیں، کھیلتی تھیں اب ان میں وہ دوستی لگتی ہی نہیں تھی نہ جانے کیا ہو گیا تھا؟؟ گھر کا ماحول بھی ایک دم سے بدل کر رہ گیا تھا سب بچوں کے اپنے ہی غم تھے کوئی جو اس گھر کھل کر مسکرایا ہو؟

ادھر مایل ان سب سے بات کرتی مسکرا رہی تھی پھر اس نے سب سے معزرت کی کے کل بات کر لیں گئے ابھی اسے کام ہے وہ لیپ ٹاپ اوف کر کے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔۔۔

سالن تیار کر کے وہ جلدی سے نہا کر فریش ہوئی۔ مایل نے ثمرین کو کھانے کے لئے بلایا اور کیری کی چٹنی بنانے لگی پیاز اور کیری کے (Grater) کی مدد سے چھوٹے چوٹھے ٹکرے کیے اور اس میں نمک مرچ ڈال کر اچھے سے میکس کیا۔ یہ ثمرین کی پسندیدہ چٹنی تھی تبھی مایل نے بنائی تھی۔۔۔۔۔

ثمرین کے ساتھ مایل نے پیٹ بھر کر لنچ کیا پھر چائے کا پانی چھڑایا۔ چائے بن کر تیار ہوئی تب تک زریق بھی آگیا۔ مایل نے کپوں میں چائے ڈال کر انکے آگے رکھی پھر چائے پی کر مایل اور زریق شاپنگ کے لیے نکل گئے ثمرین انہیں دروازے تک چھوڑنے آئی پھر واپس اندر ثمروز صاحب کو دیکھنے چلی گئی۔۔۔۔۔۔

وہ یہاں دبئی چلے آئے تھے اُس دن نجمہ اور المیر مایل کو گھر کے گیٹ تک چھوڑنے آئے لیکن وہ دونوں اندر نہیں آئے اسے چھوڑ کر ہی وہ چلے گئے مایل جب اندر آئی تو اندر کا ماحول ہی بدلا ہوا تھا ثمروز صاحب اور ثمرین پہلے سے ہی جا چکے تھے اور زریق اس کی اور اپنی کچھ ضروری چیزیں بیگ میں پیک کر رہا تھا وہ جب اندر کمرے میں آئی زریق اسے دیکھ کر تیزی سے اسکی طرف آیا۔۔۔۔

” میں آپ کو ہی لینے آرہا تھا ہمیں نکلنا ہے ابھی” وہ اسے دیکھ کر نہ حیران ہوا تھا نہ چونکا تھا اس کے برعکس وہ مایل کو یہاں سے چلنے کا کہہ رہا تھا۔۔۔ مایل کچھ بولتی اس سے پہلے ہی وہ اس کا ہاتھ پکڑ کے بیک ڈور سے نکلا تھا فرنٹ سے نہیں۔۔۔

وہاں ایک بڑی لینڈ کروزر کھڑی تھی جس میں ڈرائیور بیٹھا ہوا تھا زریق نے پہلے مایل کو پیچھے بٹھایا پھر خود آکر اس کے ساتھ بیٹھ گیا وہ اتنی حیران پریشان تھی کے بس دیکھتی رہی ہلق سے آواز تک نہ نکل رہی تھی بس وہ اسے یکھتی رہی مگر وہ اسے کچھ بولنے کا موقع ہی نہیں دے رہا تھا بلکہ ڈرائیور کو ہدایت دے رہا تھا کہ جلد سے جلد یہاں سے نکلے۔۔۔۔۔۔۔

وہ اسے ایک سنسان جگہ لے آئے جہاں بڑا سا گراؤنڈ تھا کچھ دیر بعد ہی آہستہ آہستہ مایل کو وہ منظر صاف دیکھنے لگا جیسے جیسے وہ قریب ہوتی جا رہی تھی اس نے اس بڑے سے گراؤنڈ میں ایک پرائیویٹ جیٹ کھڑا دیکھا زریق اسے کار سے نکال کر فوراً اس پرائیویٹ جیٹ کے طرف بڑا پیچھے سے ڈرائیور ان کا بیگ لے کر آرہا تھا مایل نے یکدم زریق کو خوف سے دیکھ کر اس سے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور وہاں سے بھاگنے لگی زریق اس کی اس حرکت پر اسے دیکھتا رہا پہلی دفع زریق کو لگ رہا تھا وہ ناسمجھ ہے۔ کیونکہ وہ اس کی کیفیت سے انجان تھا وہ بھی بھاگتا ہوا اس کے پیچھے آیا اور زور سے اس کی کلائی تھامتے اسے اپنے قریب کیا وہ فورا سے اس کے سینے سے جا ٹکرائی۔۔۔۔۔۔

” مایل کیا کر رہی ہیں؟؟ مجھ پر اعتبار نہیں “

” آپ نے اعتبار دلایا ہے؟؟ جو اعتبار کی بات کر رہے ہیں “
وہ خوفزدہ آنکھوں سے اسے دیکھتی رونے والی ہوگئی تھی۔ مایل کو لگ رہا تھا وہ دنیا سے اسکا نام و نشان مٹانے والا ہے۔۔۔۔

” یہ ہماری سیفٹی ہے ” وہ سکون سے بولا۔۔

” میں آپ کے ساتھ کبھی سیو نہیں رہ سکتی جب سے آپ میری زندگی میں آئیں ہیں میں پاگلوں میں شمار ہونے لگی ہوں ” وہ اس پر چیخ رہی تھی باقاعدہ آواز کانوں میں دھنس رہی تھی زریق نے کان کُھجایا۔۔
( کیا وہ اسے محسوس کر سکتا ہے آواز اسکے کانوں میں چُب رہی تھی۔۔۔۔ )

” حاوی سہی کہتا ہے عورت نہ دماغ میں آتی ہے نہ سمجھ میں ” کہتے ساتھ زریق نے اسے اپنی باہوں میں اٹھایا اور اپنے قدم جیٹ کی طرف بڑھائے بہت مشکل سے وہ اسے بٹھا پایا تھا وہ باقاعدہ اسے ہاتھ پیڑ مار رہی تھی جسکی وجہ سے وہ خود ہی اسکے باہوں سے پھسل رہی تھی اسے بیٹھا کر وہ خود بیٹھا جیسے ہی جیٹ زمین چھوڑ کر آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگا ویسے ہی مایل کی چیخیں عروج پر تھیں وہ اتنی زور زور سے چیخیں مار رہی تھی کہ پائلٹ بھی ڈر گیا اس نے زریق سے منٹ سماجت کی اِسے چُپ کرائے اسکی چیخوں سے پائلیٹ کو آٹیک ہوا تو ہم سب ایک ساتھ ڈوبیں گئے۔۔۔۔۔۔۔

” مایل آپ کو کبھی سلیپ پیرالیسسز (Sleep Paralysis )ہوا ہے؟؟؟ ” اچانک ہی زریق نے زکر کیا مایل جو چیخ رہی تھی بُری طرح چونکی۔۔۔۔

” آپ کو کیسے پتا؟؟؟ ” اس کی چیخیں بند ہو چکی تھیں۔ زریق مبہم سا مسکرایا۔۔۔۔۔۔

” میں جانتا ہوں آپ کو سلیپ پیرالیسسز ہوتا ہے لوگ کہتے ہیں یہ تب ہوتا ہے جب ہماری نیند پوری نہیں ہوتی میرا مطلب لوگوں سے کہ سائنسدان ایسا کہتے ہیں اور ” ڈاکٹرز ” بھی مگر اسلام میں یہ ہے کہ یہ چیز جنات کی وجہ سے ہوتی ہے رات کو جنات آپ کے سینے پر دباؤ ڈالتے ہیں آپ پر جھکتے ہیں جس وجہ سے آپ کا سینہ بھاری ہوتا ہے صرف آپ کا دماغ جاگ رہا ہوتا ہے جبکہ پوری باڈی پیرالائز ہوتی ہے ایسا ہی ہے نہ مایل؟؟؟ ” وہ پوری آنکھیں کھولے غور سے اسے سن رہی تھی مایل نے زریق کا بازو چھوڑ دیا جو خوف کے مارے اسنے پکڑا تھا۔۔۔

” ہاں آپ اور بتائیں یہ تو مجھے بھی معلوم ہے ” اسکی دلچسپی بڑھتی جا رہی تھی۔۔

” اور یہ صرف رات میں نہیں دن میں بھی ہوتا ہے انسان کو لگتا ہے کہ کوئی اسے گہری نیند میں کھینچ رہا ہے اس کی آنکھوں میں نیند ہوتی ہے وہ چاہے منہ دھولے چائے پی لے لیکن نیند اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی ایسا ہی ہے نا مایل؟ ” وہ اسے باتوں میں الجھا کر اس کا دھیان بٙٹا چکا تھا مایل اس کی چالاکی سے بے خبر تھی بیٹھے بیٹھے نہ جانے وہ اس سے کون کون سی باتیں کرنے لگا کبھی کوئی مووی ڈسکس کرتا کبھی اسے احساس دلاتا کہ وہ مایل سے اتنا بے خبر نہیں تھا ان باتوں میں وقت کا پتا ہی نہیں چلا مایل کب اس کے کندھے پر سر رکھ کر سو گئی تھکن اتنی تھی کہ نیند آنکھوں پر سوار تھی اور وہ لمحے میں اس کے کندھے پر جھول گئی۔۔۔۔۔

زریق نے شکر کا سانس لیا اور اسے کمر سے پکڑ کر خود سے قریب تر کیا کہ اگر وہ اٹھے تو کہیں خود کو زمین سے دور آسمانوں میں دیکھ کر خوفزدہ نا ہوجائے پر زریق نے دل سے دعا کی تھی کہ اس کے اُٹھنے سے پہلے ہی وہ اپنی منزل تک پہنچ جائیں۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” مایل مایل ” کوئی دھیمے سے اس کے کان میں سرگوشی کر رہا تھا مایل نیند میں بھی اپنے نام کی پکار سن سکتی تھی لیکن اس کا اُٹھنے کا دل نہیں کر رہا تھا اس کا دل تھا کہ آج پورا دن وہ سو کر اپنی تھکن اتارے لیکن پھر اسے اپنی کمر پر ایک ہاتھ رینگتا ہوا محسوس ہوا ایک دم سے اس کے دل میں خوف آیا کہیں؟؟ کوئی جن تو نہیں؟؟ جو پھر سے اس پر سلیپ پیرالیسسز کے زریعہ حاوی ہو گیا وہ اس کی کمر کو مضبوطی سے پکڑ رہا تھا مایل دعائیں کر رہی تھی کہ وہ بےہوش ہی ہو جائے تاکہ جب یہ جن چلا جائے تو ہی مایل کو ہوش آئے۔ مگر یہ کیا؟؟ نا اسکا سینہ بھاری ہو رہا تھا نہ نیند اس کی آنکھوں پر سوار تھی جیسے سلیپ پیرالیسیسز کے دوران ہوتی ہے۔

” مایل اٹھ جائیں ہم پہنچ گئے۔۔۔۔ “پھر سے اس کے کان میں سرگوشی کی گئی لیکن اس دفعہ سرگوشی کچھ عجیب تھی وہ اسے کہہ رہا تھا کہ اٹھ جائیں ہم پہنچ گئے یہ کون ہو سکتا ہے یہ کوئی جن تو نہیں ہو سکتا یقیناً یقیناً یہ زریق تھا ہاں زریق تھا مایل نے جھٹ سے اپنی آنکھیں کھولیں وہ خود کو زریق کے اتنے نزدیک دیکھ کر یکدم اس سے دور ہوئی۔۔۔۔۔

” آپ گھبرائیے گا نہیں میں یہی بتا رہا تھا کہ ہم پہنچ گئے ہیں!!! اب بس یہاں سے اُتر کر کار تک چلیں یہاں سے اُتارنے میں مشکل ہے زہن میں یہ سوچ آرہی ہے کہ آپ کو اس حالت میں آگر میں یہاں سے اتاروں گا اور میرے ہاتھ سے آپ پھسل گئیں تو ہمارے بچے کو نقصان نہ پہنچ جائے۔۔ آپ کار میں چل کر سو جائیے گا وہاں سے میں آپ کو خود گھر تک اپنی باؤں میں اٹھا کے لے چلوں گا “
وہ اس کی بات پر سر جھکا گئی۔۔۔۔

زریق پہلے خود اُترا پھر اس نے ہاتھ بڑھا کر مایل کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما وہ زریق کی مدد سے نیچے اتری۔۔ پہلے تو اتنی پریشان تھی چیخیں مار رہی تھی لیکن اب یک دم سے جب وہ پہنچ گئی ہے تو اسکا خوف بھی اسکی نیند کے ساتھ جا سویا ہے ایک تو چیخ، چلا کر اس کے اندر سے طاقت بلکل ختم ہو چکی تھی اسے شدید بھوک لگی تھی۔ پتا نہیں وہ اسے یہاں کیوں لایا تھا کیا وہ اسے نقصان پہنچانا چاہتا ہے یا وہ دونوں آباد ہونے کے لیے ایک نئی زندگی کی شروعات کرنے یہاں آئے تھے۔۔۔۔۔

وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے کار تک لے جا رہا تھا کہ مایل نے اس کا ہاتھ جھٹکا اور سرخ چہرا لیے کہا۔۔۔۔۔

” میں کہیں نہیں جاؤں گی پتا نہیں کہاں لے جائیں گئے اور۔۔۔۔؟؟؟ ” وہ کچھ سخت کہتے کہتے رکھ گئی۔

” آپ کو میرے ساتھ نہیں جانا ٹھیک ہے یہ کال سن لیجئے گا میں آپ کو صحیح سلامت امی کے پاس پہنچا دوں پھر آپ کو جو کرنا ہے آپ کی مرضی میں آپ کو پریشان نہیں کروں گا “

زریق نے اسکے چیخنے چلانے سے پہلے ہی تفصیل دے دی اور ثمرین کا نمبر ڈائل کیا کچھ دیر بعد فون اُٹھا لیا گیا۔۔ زریق ثمرین سے بات کر رہا تھا اور اسے کہہ رہا تھا کہ وہ مایل کو سمجھا مایل یکدم ہی شرمندہ ہو گئی لیکن پھر بھی اس نے ثمرین سے بات کر کے تسلی کی ظاہر ہے زریق جیسے انسان پر یقین کرنا اسے سمندر میں بغیر پانی کے تیرنا لگ رہا تھا۔۔۔۔۔

جیسے ہی دوسری طرف مایل نے ثمرین کی آواز سنی تو خاموشی سے زریق کے ساتھ اس کی کار میں آبیٹھی وہ اسے نا جانے کہاں کہاں سے جنگلوں سے ہو کے لے جا رہا تھا وہ ہر راستے کو غور سے دیکھ رہی تھی وہ جو نہایت اس کے قریب بیٹھی تھی آہستہ آہستہ اس سے دور کھسک رہی تھی وہ کہتا تھا کہ وہ اس پہ اعتبار کرے وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ اسے خود خوف میں مبتلا کر کے اس کے اعتبار کی دھجیاں اڑاتا ہے زریق کوئی بات اسے نہ صحیح سے بتاتا ہے نہ سمجھاتا اور پھر کہتا ہے کہ وہ اس پر اعتبار نہیں کرتی۔۔۔ بتاؤ ایک اکیلی لڑکی کو ایسے جنگلوں میں لا کر کھڑا کر دیا وہ کیسے اس شخص پر اعتبار کرے؟؟؟؟؟

چلتی ہوئی کار بڑے سے بنگلے کے پاس آرکی۔ وہ کار سے نکل کر زریق کی ہمراہی میں اندر آئی تو اسے حال میں ہی ثمرین ملی وہ تقریباً دوڑتے ہوئے ثمرین سے جا گلے لگی۔۔۔

” کیا ہوا میرا بچا رو کیوں رہی ہو اپنی طبیعت خراب کروگی۔۔۔ ” مایل ان کے گلے لگ روئے جارہی تھی ثمرین اسے روتا دیکھ پریشان ہو گئی اور اس کی پیٹ تھپکنے لگیں۔

” انہوں نے مجھے اتنا ڈرایا پہلے پرائیوٹ جیٹ سے لے آئے پھر جنگلوں کے اندر آئے۔۔۔۔۔ ” وہ جو اسے روتا دیکھ رہا تھا اور ماں کی نظریں خود پر جمی دیکھ رہا تھا وہاں سے چُپ چاپ واک آئوٹ کر گیا۔۔۔۔۔۔

وہ اسے اپنے ساتھ کمرے میں لے آئیں پہلے مایل کو ہاتھ منہ دھونے کا کہا پھر اسے اپنے ساتھ لے کر ڈائننگ ٹیبل پر آئیں جہاں زریق پہلے سے بیٹھا ہوا تھا ثمرین کھانا خود سے اس کی پلیٹ میں بھر بھر کے ڈال رہی تھیں مایل کو نہ جانے کیوں ثمرین کا پیار دیکھ کر رونا آرہا تھا آج جو نجمہ نے اس کے ساتھ کیا اس کا دل اتنا خراب ہو چلا تھا ماں سے کہ اس نے بس سوچ لیا تھا وہ کبھی واپس نہیں جائے گی ساری زندگی ثمرین کے سائے تلے رہے گی۔۔۔۔۔۔۔

کھانا کھا کر رات کو جب وہ اپنے اور زریق کے کمرے میں لوٹی تو زریق کو فون پر مصروف پایا وہ اس سے آتا دیکھ چکا تھا مگر وہ اپنے کام میں مصروف رہا۔۔۔۔

مایل نے ہمت کر کے دل میں اُمڈتا سوال پوچھ ہی لیا۔۔

” ہم یہاں کیوں آئے ہیں؟؟ “

” ڈیڈ کا علاج کروانے آئے ہیں اور آج سے ہی ان کا علاج ہونا لازمی تھا ورنہ سیچویشن اور خراب ہو سکتی تھی۔۔” وہ اس سے جلد بازی میں آنے کی وجہ بتا رہا تھا مایل مطمئن تو نہ ہوئی تھی البتہ وہ اسے مار دے گا یہ خوف اس کے دل سے ابھی جا چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔

وہ جب سونے کے لیے لیٹی تو زریق نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کی طرف رُخ کیے سرگوشی کی۔۔۔

” مت ڈرا کریں مجھ سے میں کوئی جانور یا حیوان نہیں
اور سب سے اہم بات میں خواب میں بھی آپ کو نقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتا چاہے وہ آپ ہوں، مجھ سے جڑا کوئی رشتہ ہو یا ہمارا بچہ ہو میں ان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا کبھی بھی نہیں۔۔۔۔۔ ” اس کی باتیں مایل کو اتنی اچھی لگ رہی تھی کہ وہ دھیرے دھیرے اس کی باتیں سنتی غنودگی میں جا رہی تھی زریق اسکے بالوں میں دھیرے دھیرے ہاتھ پھیرتا اسے سکون پہنچا رہا تھا نجانے کیوں جب وہ یہاں ہوتی ہے (شادی کے بعد) اسے سکون بھری نیند آتی ہے دل کہتا ہے وہ بیدار ہی نہ ہو بس سوتی رہے۔۔۔۔

کل مایل نے ثمرین سے الگ یہاں آنے کی وجہ پوچھی تو ثمرین کا جواب بھی یہی تھا۔۔ مایل وقت کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتی جا رہی تھی وہ اپنا گھر رشتے سب پیچھے چھوڑ آئی تھی اسے یہاں آکر سکندر ولا کے کسی افراد کی یاد تک نہیں آرہی تھی۔ کیونکے وہ خود کو ہر وقت مصروف رکھتی تھی یہاں وہ جب دل چاہتا اکیلی باہر نکل جاتی کبھی ثمرین کے ساتھ پارک چلی جاتی۔

وہ اس جگہ کا نام نہیں جانتی تھی مگر یہ ایسے کہہ سکتے ہیں جیسے اکثر لوگ کہتے ہیں کہ بحریہ ٹاؤن شہر سے بہت دور ہے ویسے ہی یہ ایک ایسا علاقہ ہے جو بہاری دنیا سے دور الگ ہی بنا ہے پر یہاں ان کے علاوہ اور بھی بنگلے ہیں یہاں باقاعدہ بچوں کے اسکولز ہیں،، پارکس ہیں لیکن یہی بہت عجیب بات ہے یہ شہر سے بہت دور ہے یا لگتا ہے جیسے کسی کی پروٹیکشن کے لیے بنائی گیا ہے دنیا والوں کا اس سے کوئی تعلق ہی نہ ہو نہ رہے۔ ۔ یہاں سپر مارکیٹز بھی بہت ہیں مایل کو جب بھی کسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ اکیلی بھی سپر مارکیٹ چلی جاتی تھی(زریق نے اسے یہاں آکر ایک الگ سے اے ٹی ایم کارڈ دیا تھا) زریق نے اسے پوری آزادی دی تھی وہ یہاں جیسے چاہے اپنی زندگی گزار سکتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ اب زریق کی طرف بھی توجہ دینا کم کر چکی تھی وہ ان باتوں کو اگنور کرتی جو اسے پریشان کرتیں یا ٹینشن میں مبتلا کرتیں ہیں پتا نہیں اس کی سوچیں تھی یا کیا تھا لیکن اب وہ اپنی سوچوں کو ہر وقت جھٹکتی تھی آج بھی وہ زریق کی کافی عجیب حرکتیں دیکھتی تھی لیکن وہ ان کو اگنور کرتی تھی اسے ایک بات سمجھ آگئی تھی مایل کو ساری زندگی رہنا زریق کے ساتھ ہے اور وہ اُسے نقصان نہیں پہنچا سکتا اس سے بڑی بات کیا ہو سکتی ہے؟؟ جو وہ بس خوف کے سائے میں ساری زندگی رہ کر اپنا آج اور کل خراب کرے۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زریق اور مایل نے مل کر ڈھیر ساری شاپنگ کی تھی۔ مایل کی تو اتنی گرمی میں حالت بری ہوگئی اسلئے اس نے گھر جلدی جانے کی رٹ لگا لی۔ حیرانگی کی بات تھی زریق کو ایک پسینہ تک نہیں آیا وہ تو اتنا فریش تھا جیسے مری میں گھوم رہا ہو۔ مایل نے زیادہ اس پر دھیان نہیں دیا ورنہ وہی اسکا ” گوگل ” ہوتا اور ڈھیر سارے جاندار جس میں زریق کو ڈھوڈنا ناممکن تھا یہاں آکر وہ بہت گھومنے لگی تھی روز زریق کے ساتھ ایک نئی جگہ جاتی یہاں کی آفس ٹائمنگ بھی اچھی تھی زریق جلدی آٹھ بجے ہی گھر آجاتا تھا۔

ایک دن مایل نے زریق سے (Ski Dubai) جانے کی ضد کی جوکے برفیلا علاقہ ہے۔ انکے ساتھ ثمرین بھی ریسورٹ میں چلیں مگر وہ اندر نہیں گئی ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر انکا انتظار کرتی رہیں۔۔۔۔۔وہاں اسکائے دبئی میں مختلف قسم کے کھیل تھے۔۔۔
Snow sledding, meet the penguins, zip line or take a chairlift ride.

وہ جب وہاں پہنچے تو مایل سب سے پہلے سنو سلیڈینگ کے لئے ڈریس اپ ہوئی زریق نے صرف ایک جیکٹ پہنی تھی اُسے سردی نہیں لگ رہی تھی۔ جبکہ مایل فل ڈریس اب ہوئی تھی وہ وہاں ایک لڑکی کے ساتھ سنو سلیڈینگ کے لیے گئی بیس سے پندرہ منٹ تک وہ سنو سلیڈنگ انجوائے کرتی رہی اس دوران وہ لڑکی اسکا ہاتھ مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھی۔کیونکہ اس سے زریق نے ریکویسٹ کی تھی کہ وہ اس کا ہاتھ نہ چھوڑے اوپر سے وہ مایل کی کنڈیشن سے بھی واقف تھا کہ وہ پریگننٹ ہے۔ اسکے بعد مایل پینجنز سے ملی زریق نے اسکی کافی تصویریں لیں وہ پہلی دفعہ پینجنز کے ساتھ مل کر ڈانس کر رہی تھی کبھی ہنس رہی تھی مایل کی ایسی حالت دیکھ کر نہ جانے کیوں زریق بھی مسکرایا وہ بہت کم ہی ہنستا تھا اور مسکراتا تھا پر آج یہ مسکراہٹ آٹومیٹک تھی جو مایل کی وجہ سے آئی تھی۔ اس سب کے دوران کافی لوگ زریق کو حیرت سے دیکھتے رہے ان سب کو حیرت اس بات کی تھی کہ زریق کو سردی نہیں لگ رہی تھی جبکہ وہاں ہر ایک شخص برف کی طرح جم رہا تھا۔

اگلا زیپ لائینگ تھا۔ مایل زریق کے ساتھ ہی زیپ لائنیگ کر رہی تھی۔ زریق کو اس نے کیپ ضرور پہنائی تھی نہ جانے کیوں زریق کو سردی نہیں لگ رہی تھی لیکن مایل اس کو دیکھ کر ایک دفع پریشان ضرور ہوئی تھی اس لیے زبردستی اس نے اسے کیپ پہنائی تھی پھر وہ لوگ زپ لائننگ کرتے رہے تقریباً ایک گھنٹے بعد وہ اور گیمز کھیلنے کے بعد ثمرین کے پاس چلے آئے۔۔۔۔

مایل کو احساس تھا کہ ثمرین اکیلی ہے اسلیے وہ جلدی ہی آگئی آتے ساتھ وہ خوشی سے ثمرین کے گلے لگی۔۔

” امی آج اتنے دنوں بعد اتنا مزہ آیا۔۔۔۔ ” وہ کھل کر مسکرا رہی تھی ثمرین بھی اسے دیکھ کر مسکرا دی پھر ثمرین نے زریق کو غور سے دیکھا تو اس کے ہونٹ، اسکے گال اس کی آنکھیں حد درجہ سُرخ ہورہیں تھیں ثمرین نے زریق کو سر سے پاؤں تک دیکھا تو اس کے پیڑوں میں ساکس نہیں پہنے ہوئے تھے بس ایک ہلکی سی جیکٹ پہنی ہوئی تھی جو سردی کے لحاظ سے ناکافی تھی۔۔۔۔۔

ثمرین کو جھٹکا لگا انہوں نے مایل سے پوچھا کیا زریق نے سنو کوسٹیوم نہیں پہنا تھا؟؟؟

” نہیں امی انہیں سردی ہی نہیں لگ رہی تھی کیپ بھی میں نے انہیں زبردستی پہنائی تھی۔۔۔ ” وہ کیپ کی طرف اشارہ کرتے بولی مایل کو ثمرین کے لہجے سے ڈر بھی لگ رہا تھا جو کے سخت تھا۔۔۔۔

یہ سن کر ثمرین کا پارہ ہائی ہو گیا۔۔۔۔

” حیرت ہے مایل اتنے مہینے ہوگے تم اپنے شوہر سے واقف نہ ہو سگیں؟؟ وہ تمہارا شوہر ہے کیا فائدہ ہے جب اتنے مہینوں میں تم اسے جان ہی نہ سگیں تمہیں اندازہ ہے اگر میرے بیٹے کو کچھ ہو جاتا تو میں کیا کرتی؟؟؟ اس کی حالت دیکھو کیا تم نے ایک دفعہ بھی اس کا چہرہ نہیں دیکھا اس کی آنکھیں دیکھو کتنی سرخ ہو رہی ہیں چلو زریق فوراً گھر چلو۔۔۔۔ ” مایل شدد رہ گئی ثمرین نے کبھی مایل سے اس لہجے میں بات نہیں کی۔۔۔۔

ثمرین کو غصے میں دیکھ مایل بس خاموش رہی اپنی صفائی پیش نہیں کی۔ اس نے چُپ رہنا ہی مناصب سمجھا جبکہ ثمرین اتنی خوفزدہ تھی کہ گھر آکر وہ بس زریق کی تیمارداری میں لگ گئی اسے بیڈ پر لٹایا، کمبل اوڑھایا،اس کے لیے سوپ بنا کر لائیں خود اپنے ہاتھوں سے ثمرین نے زریق کو سوپ پلایا مایل دونوں ماں بیٹے کو بس دیکھتی رہی۔ اتنی خدمت تو مایل نے کبھی زریق کی بھی نہیں کی۔ زریق بھلے اس کا شوہر تھا لیکن مایل کو نہیں یاد پڑتا تھا کبھی اس نے خود سے زریق سے چائے کا کپ بھی پوچھا ہو کیونکہ زریق تھا ہی عجیب
کے اسکے سامنے جو رکھو وہ چُپ چاپ کھا لے گا نہ اسے بھوک لگتی ہے نہ پیاس اکثر اس نے دیکھا تھا ثمرین خود ہی زریق کو ہر چیز دیتی تھیں مایل بھی جب اپنے لیے چائے بناتی تو خود سے اِسے دیتی تھی لیکن کبھی بھی زریق نے مایل سے کسی چیز کی فرمائش نہیں کی۔۔۔۔۔۔

رات تک زریق کو بہت تیز بخار ہو چکا تھا مایل نے اسے چھو کر دیکھا تو اسے کچھ بھی محسوس نہ ہوا لیکن جب ثمرین نے تھرما میٹر کے ذریعے چیک کیا تو ایک سو دو بخار دیکھ کر مایل کے ہوش اُڑھ گئے۔۔۔۔۔

پتا نہیں اسکے ساتھ کیا ہو رہا تھا ایسی چیزیں تو اس نے ڈراموں میں بھی نہیں دیکھیں۔ کبھی کبھی لگتا ہے سب خواب تو نہیں؟؟مگر ماں کا کھایا تھپڑ المیر کا کھایا تھاپڑ اپنی بےعزتی سب یاد آتے ہی اسے یہ بےحس دنیا ہی لگتی ہے خواب ہوتا تو اسکے ساتھ کچھ تو اچھا ہوتا۔۔۔۔۔

” امی آپ نے میری بیوی کو ڈرا دیا!!! مایل کی غلطی نہیں مایل نے مجھے کافی دفع کہا تھا میں نے خود ہی نہیں پہنے۔۔۔۔۔ ” زریق ایسی حالت میں بھی اپنی بیوی کا دفاع کرنا نہیں بھولا تھا ثمرین نے اسے ایک گھوری سے نوازا۔۔۔

مایل نے بےاختیار زریق کی طرف دیکھا تو وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ مایل نے اپنی نظریں جھکا لیں۔

اس واقع کے بعد مایل زریق کا بہت خیال کرنے لگی تھی پہلے تو اسکی تیمادرای میں لگی رہی جب تک وہ ٹھیک نہیں ہوا مایل نے اسے آفس جانے نہیں دیا۔ پھر وہ خود سے ہر اس چیز کو زریق سے دور رکھنے لگی جو اسے نقصان پہنچاتی تھی وہ دونوں ایک دوسرے کی سنگت میں بہت خوش تھے زریق اسکے موڈ سوئینگس سمجھ تو نہیں پتا تھا مگر کوشش کرتا تھا مایل کو خوش رکھے۔ یہاں آنے کے دو ہفتے بعد ہی مایل نے سکندر ولا کے مکینوں سے کانٹیکٹ کیا وہ بھی ثمرین کے اسرار پر۔۔۔۔

” کیوں بات نہیں کر رہیں؟؟

” امی سے لڑائی ہوگئی انہوں نے بہت ڈانٹا تھا “

” بیٹا وہ ماں ہیں تمہاری جو کہا ہوگا تمہارے بھلے کے لئے کہا ہوگا۔۔ تم ابھی ماں نہیں بنی نا؟ بنوگی تب خود معلوم ہوگا۔۔ ” ثمرین نے مایل کو بہت سمجھایا تھا یہ تک کہا اگر مایل کی اِس ناراضگی میں نجمہ کو کچھ ہوجائے تو؟ ساری زندگی بس پچھتاوا ہی رہے گا۔۔۔ یہ سب سن کر ہی اسکا دل پیگلا تھا اگلے دن خود مایل نے اپنی ماں سے بات کی ورنہ حیدر مرتضیٰ سے تو اکثر اسکی بات ہوتی تھی وہ خود ہے مایل کو کال کر کے اسکا حال چال پوچھتے تھے۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” تایا ابو کیا مجھے مایل کا نمبر مل سکتا ہے؟؟؟ ” وہ جو کافی دنوں سے ان سے بات کرنے کا سوچ رہا تھا آج ہمت مجتمع کر کے آہی گیا۔ حیدر مرتضیٰ سے بات کرتے وقت ہزار بار سوچنا ہوتا ہے وہ انسانوں کی ہر نسل سے واقف ہیں دور سے شریف اور کمینے انسان کا فرق بتا دیتے آج المیر انکے سامنے کھڑا ان سے جیسے التجا کر رہا تھا۔۔۔۔۔

” کیوں تمہیں کیوں چاہیے؟؟؟ ” وہ اس وقت اپنی کُرسی پر بیٹھے ایک کتاب کا مطالع کر رہے تھے۔ المیر کی بات پر آنکھیں سیکوڑ کر اسے دیکھا۔۔۔۔

” مجھے کیوں نہیں چاہیے ہوگا تایا ابو آپ جانتے ہیں مایل مجھے بہت عزیز تھی میں اُس سے اسکا حال پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ کیسی ہے؟؟؟ ” حیدر جس طرح المیر کو دیکھ رہے تھے المیر نے اپنی نظریں پھیر لیں حیدر مرتضیٰ نے اپنے گلاسسز اتارے اور بک بند کردی۔۔

” دیکھو برخودار پہلے تو یہ کہ اس کا شوہر زریق ہے وہ اسے جہاں چاہے جیسے چاہے جس حالت میں رکھے جہاں لے جائے ہمیں اس سے غرض نہیں ہونا چاہیے۔۔ ہمیں صرف اس بات سے غرض ہونا چاہیے کہ ہماری بچی خوش ہے اور مجھے زریق پر یقین ہے وہ مایل کو خوش رکھے گا۔۔۔۔ زریق میرا انتخاب ہے ڈھوڈنے سے بھی برائی ڈھونڈوں گئے تو صرف اچھائیاں ملیں گی۔۔۔۔۔ تم سے پہلے آریز بھی اس کا نمبر مانگنے آیا تھا اسے بھی میں نے یہی کہا تھا کہ مجھے زریق نے اجازت نہیں دی کہ میں مایل کا کسی سے رابطہ کرواؤں ہاں البتہ گھر میں سب جیسے بات کرتے ہیں ویسے کرو فیس بوک آئی ڈی دی ہے نہ؟؟ اُس سے بات کرو “

حیدر مرتضیٰ نے گویا بات ہی ختم کردی۔

” ریکوسٹ ہی ایکسیپٹ نہیں کر رہی بات کیسے کریگی” وہ بڑبڑایا حیدر مرتضیٰ اٹھ کھڑے ہوئے المیر انکی چٙوڑی پشت دیکھ رہا تھا۔وہ جیسے ہی اپنے کمرے کی طرف بڑھنے لگے المیر کو ٹیبل پر انکا موبائل نظر آیا وہ کچھ سوچ کر آگے بڑھا ضرور اس میں مایل کا نمبر ہوگا المیر نے موبائل کی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔۔۔۔

” اس کا شوہر زریق ہے وہ اسے جہاں چاہے جیسے چاہے جس حالت میں رکھے جہاں لے جائے ہمیں اس سے غرض نہیں ہونا چاہیے۔۔”

” مجھے زریق پر یقین ہے وہ مایل کو خوش رکھے گا۔۔۔۔ “

” زریق میرا انتخاب ہے ڈھوڈنے سے بھی برائی ڈھونڈوں گئے تو صرف اچھائیاں ملیں گی۔۔”

المیر نے ہاتھ کی مٹھی بنا لی وہ اسکی پہنچ سے بہت دور جا چکی ہے آریز سہی کہتا تھا۔ مایل اسے اپنا سب کچھ سمجھتی تھی یہاں تک کے اسکے ذھن نے المیر کو اپنا شوہر تک تسلیم کرلیا تھا۔۔۔۔۔ تبھی تو وہ اتنا ٹوٹی تھی بھیکری تھی،،،، المیر کے قدم پیچھے کی طرف بڑھے۔۔۔۔۔

” یہ پچھتاوا مجھے ایک دن نغل جائے گا۔۔۔ مایل میں تمہیں کیا بتاؤں؟؟ میں کتنا برباد ہو چکا ہوں میں نے تو۔۔۔۔۔ تمہاری دوست تک کو تباہ کردیا۔۔۔۔۔۔۔ ” المیر کی آنکھیں یکدم نمکین پانیوں سے بھرنے لگیں۔ نا کل سکون تھا نہ آج ہے اور زندگی کا سفر ہے کے کانٹوں سے بڑھتا جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زندگی یکدم سے پُرسکون ہوگئی تھی زریق عجیب تھا مگر مایل اسے سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی اب زریق میں وہ عادتیں اسے نظر نہیں آتیں رات گئے تک لوٹا خون سے لت پت جسم اگر یہ دبئی کے کانون کی وجہ سے بھی ہے تو زریق اتنے صبر سے کیسے رہ رہا ہے وہ وحشی ہوتا تو کیا بھوک برداشت کر لیتا؟ ہر گز نہیں۔۔۔ یا وہ اب بھی ویسا ہی تھا پر اسکی گھر چھوڑنے کی حرکت کے بعد زریق الرٹ ہوگیا تھا؟ نجانے کیا تھا مگر زریق اب مایل کو اچھا لگتا تھا یہ محبت تب اور بڑھی جب اسکی گودھ میں ارحم آیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ثمرین کا کہنا تھا ارحم ہو بہ ہو مایل کی کاپی ہے۔ اسکے چہرے کے نقش بلکل مایل جیسے ہیں معصوم سے جسکے چہرے کو دیکھ بس پیار آجائے ثمرین تو بار بار مایل کا کبھی ماتھا چومتیں تو کبھی خود سے لگا کر دعائیں دیتیں۔۔۔۔۔۔

پتا نہیں کیوں مایل نے محسوس کیا تھا ثمرین اس بات سے بہت خوش تھیں کہ ارحم مایل پر گیا ہے نہ کہ زریق پر وہ دونوں اس وقت ہسپتال کے کمرے میں تھے زریق ناجانے کہاں تھا اس نے اب تک ارحم کو نہیں دیکھا تھا وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا مایل نے دیکھا اس کے ہاتھ میں میٹھائی کے دو تین ڈبے تھے۔۔۔۔۔۔

” امی یہ ہوسپٹال اسٹاف میں بانٹ دیا تین ڈبے بچے ہیں ” زریق نے اندر آتے ہی ثمرین کو کہا اس نے مایل کو نہیں دیکھا نہ ہی زریق کی نظر اپنے بچے پر گئی۔۔۔۔۔

زریق نے پھر اپنے موبائل پر کچھ ٹائپ کیا تھوڑی دیر بعد مایل نے دیکھا کہ ویڈیو کال پر زریق نے پوری اسکی فیملی کو بلایا تھا وہ سب مایل کو دیکھ کر بےانتہا خوش ہو رہے تھے زریق سے کہ رہے تھے کیمرہ بچے کی طرف کرو۔

زریق نے ایسے ہی کیا بیک کیمرہ سے سب کو ارحم دیکھایا جسے دیکھ کر آبی تو خوشی کے مارے چیخ پڑا۔۔۔

” مایل آپی آپ جلدی آئیں نہ پلیز پلیز۔۔۔ ” یہ آبی تھا جو ارحم کو دیکھ کر بلکل ہی پگال ہوگیا تھا باقاعدہ وہ مایل کا سر کھاتا رہا جب بھی وہ صالحہ،نجمہ یا شگفتہ سے بات کرتی آبی بیچ میں چلا آتا۔۔۔۔۔۔۔

” میں آؤں گی آبی ” مایل نے مسکراتے کہا اسکی مسکراہٹ یکدم سمٹی جب مائل نے زریق کو ارحم کو تکتے دیکھا تھا باپ جس طرح محبت سے بیٹے کو دیکھتا ہے وہ نگاہیں ہر کوئی پہچان لیتا ہے لیکن زریق وہ سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا اس کے چہرے پر نہ کوئی خوشی تھی نہ باپ بننے کا کوئی احساس تھا ایسے لگ رہا تھا کہ وہ ارحم کے آنے سے خوش نہیں ہیں۔
مایل کو اپنے بچے پر اٹھتیں یہ نگاہیں پسند نہیں آئیں اس حالات میں بھی ارحم کو احتیاط سے اٹھا کر مایل نے اپنے سینے سے لگایا اور آنکھیں بند کرلیں زریق بس اسے دیکھتا رہا۔۔۔۔۔

دو تین دن گزر گئے مایل نے دیکھا کہ زریق ارحم کو اٹھا تک نہیں رہا تھا اس کا نام تک مایل نے خود رکھا تھا زریق کو کوئی انٹرسٹ ہی نہیں تھا وہ جب ارحم کے حوالے سے کچھ بات کرتی پوچھتی وہ اس سے یہی کہتا جیسے تمہیں ٹھیک لگے اتنا کٹھور تو کوئی بھی شخص نہیں ہوتا پھر وہ اپنے ہی بچے کے لئے اتنا سخت کیوں تھا؟؟؟؟

لگتا ہی نہیں تھا ارحم کے آنے سے زریق کی زندگی میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔۔ وہ ویسے ہی ہے پہلے کی طرح اپنی زندگی گزارتا ہے ایک باپ جو ہوتا ہے بچے کے آنے سے اس کی زندگی پر اثر ہوتا ہے کافی تبدیلیاں اس میں آتی ہیں وہ بچہ ان کی زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔۔۔ پورے دن میں وہ بچہ بس باپ کی محبت اور ماں کی توجہ مانگتا ہے جس میں مایل تو اپنا پورا فرض نبھاتی ہے لیکن زریق وہ تو اس فرض سے بھی انجان رہتا ہے۔۔۔

کیا اسکا دل نہیں کرتا ارحم کو پیار کرے جیسے مایل دن بھر کرتی ہے اسے خود سے لگائے بیٹھی ہوتی ہے اسکے ہاتھوں کو اپنے گالوں پر پھیرتی ہے اسکی آنکھیں اسکے ہونٹ بار بار چومتی ہے۔ ارحم کے آنے کے بعد مایل میں اتنی تبدیلیاں آئیں تھیں اسے لگتا تھا وہ پہلے سے زیادہ خوبصورت ہوگئی ہے ثمرین بھی یہی کہتی ہے۔ دونوں جب ساتھ ہوتے باقاعدہ ایسا محسوس ہوتا ہے ارحم مایل کے وجود کا حصہ ہے۔۔۔۔۔۔۔

وہ اتنی جلدی بڑا ہو رہا تھا کے مایل کا دل کرتا ہے وقت کو روک لے اپنے بچے کو ساری زندگی ایسے ہی رکھے کے اسکی حفاظت بس وہی کرے۔ ثمرین بھی ارحم کو گھنٹوں اپنے کمرے میں لے جاتی ہے مایل کو اس بات کی ٹینشن نہیں ہوتی بس جب زریق ہوتا ہے مایل خاص احتیاط کرتی ہے وہ ارحم کے پاس رہے زریق جب ارحم کو اٹھاتا ہے مایل کا دل بیٹھ جاتا کے کہیں اسکے بازؤں سے ارحم پھسل نہ جائے مایل کی جان بستی تھی ارحم میں۔۔۔۔۔۔

” مایل پتا ہے جب ارحم روتا ہے مجھے خوشی ہوتی ہے ” زریق کی یہ عجیب بات سن کر مایل بُری طرح چونکی بے اختیار نظریں اٹھا کر زریق کو دیکھا تو وہ ارحم کے ماتھے پر پیار کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔

مایل کا دل ڈوب رہا تھا ارحم چھوٹی سی اُسی کے سائز کی شیٹ پر لیٹا زریق کے پیار کرنے پر ہنس رہا تھا مایل نے شیٹ کا کونا پکڑا اور ارحم کو اپنی طرف کھینچا۔۔۔۔۔

” وہ ارحم کو نہلانا ہے۔۔۔ ” وہ ارحم کو نہلا چکی تھی مگر اس وقت وہ اپنے بچے کو اسکی پہنچ سے دور کرنا چاہتی ہے۔ وہ ارحم کے کپڑے اتارنے لگی پھر اسے لے کے فوراً واش روم کی طرف بھاگنے کے انداز میں دوڑی زریق جب چلا گیا وہ پھر باہر آئی اس نے ارحم کو اپنے دوپٹے میں لپیٹا تھا تاکے اسے سردی نہ لگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس شخص نے مایل کا سانس پل بھر میں اٹکا دیا تھا۔ اس کے بعد سے زریق نے ایسی کوئی بات نہیں کی لیکن کچھ دنوں بعد ثمرین نے زریق کو کہا کہ ارحم کا دودھ مائیکرو ویو میں گرم کر دے زریق نے دودھ فیڈر میں ڈالا اور اسے مائیکرو ویو میں گرم کیا ثمرین نہانے چلی گئی تو زریق نے ارحم کو وہ دودھ پلایا دودھ پیتے ہی ارحم بلک بلک کر رونے لگا۔ مایل جو نماز پڑھ کے ابھی اٹھی تھی ارحم کی آواز سن کر تیزی سے حال میں آئی اور زریق کے ہاتھ سے ارحم کو چھینے کے انداز میں لیا۔۔۔

” اسے دودھ پلایا یہ رونے لگا “
زریق نے نارمل انداز میں کہا جب کہ مایل نے فیڈر کو ہاتھ لگایا تو فوراً سے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا۔۔۔۔۔۔

” آپ باپ ہیں یا کوئی جانور میرے بچے کو مار رہے ہو!!! احساس نام کی چیز ہے آپ کے اندر؟؟؟ خود ہاتھ لگا کے دیکھو کیسے ہاتھ جلتا ہے۔۔۔۔۔ ” وہ ارحم کے ساتھ خود بھی رو رہی تھی ثمرین نہا کر نکلی تو اسکی چیخیں سن کر وہ بھی وہیں چلی آئی۔۔۔۔

” کیا ہوا مایل؟؟؟ ” ثمرین نے باہر آتے ہی روتے ارحم کو دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔۔۔

” پوچھیں اپنے بیٹے سے ارحم کی زبان جلادی کتنا رو رہا ہے کتنی جل رہی ہوگی زبان ” روتے ہوئے مایل نے فریج سے ٹھنڈا پانی لیا اور دوسرے فیڈر میں ڈال کر وہ ارحم کو پلانے لگی وہ ارحم کے ساتھ ساتھ خود بھی رو رہی تھی ارحم اب ہلکی ہلکی سسکیاں لے رہا تھا وہ دو ماہ کا ہو چکا تھا رونے سے اس کے گال سرخ ہو چکے تھے اب تو وہ بلکل مایل کی کاربن کاپی لگتا تھا۔۔۔۔۔

سمرین نے افسوس سے مایل کو دیکھا وہ کچھ کہتے کہتے رُک گئی ثمرین نے زریق کو دیکھا تو زریق نے نفی میں گردن ہلائی اور گھر سے ہی نکل گیا۔۔۔۔۔۔۔

وہ جب رات کو لوٹا تو اس نے خود سے مایل سے بات کی جو منہ پھلائے ارحم کو خود سے لگاۓ اُسکی پیٹ تھپک رہی تھی۔ ارحم اسکے کندھے پر سویا ہوا تھا۔۔۔۔

” اپ کو کتنی بار کہا ہے ارحم کو یہ عادت مت ڈالیں وہ آپ کو تھکا دے گا آپ اس طرح اُسے گھوماتی پھریں گی تو تھک جائیں گی اُسے اتنی گود کی عادت مت ڈالیں ” زریق نے مایل کو دیکھتے کہا جس کی آنکھوں میں نیند کا خمار تھا کوئی بھی انسان اُسے دیکھ کر کہہ سکتا تھا کہ ابھی وہ نیند میں جھول کر گِر جائے گی۔۔۔۔

” ارحم میرا بچہ ہے اور میں آپ کی طرح بے رحم نہیں۔۔ میں چاہے بار بار تھک جاؤں لیکن میں وہی کام کروں گی جو میرے بچے کو سکون دیتا ہے۔۔۔ ” وہ سوئے ہوئے ارحم کو احتیاط سے بیڈ پر لٹا کر اسے کہہ رہی تھی زریق بس اسے دیکھتا رہ گیا۔۔۔۔۔

” میری پروا نہیں آپ کو؟؟؟ “

” نہیں۔۔۔۔ ” وہ سردمہری سے بولی آنکھوں میں جیسے خون تھا۔۔۔۔

” ٹھیک ہے!!! مگر مایل میں جان کر نہیں کرتا۔۔۔ جو چیز آپ کے پاس زیادہ مقدار میں ہے وہ میرے پاس ہے ہی نہیں۔۔۔۔ ” وہ اسکی بات پر ناسمجھی سے اسے دیکھتے آخر کو بھڑک اٹھی۔۔۔۔

” مجھے آپ کی عجیب باتیں نہیں سننی جن باتوں کا کوئی مقصد ہی نہیں ہوتا اور بس میں سوچتی رہ جاتی ہوں نہ آپ مجھے کچھ بتاتے ہیں نہ آپ کی ماں۔۔۔ ” وہ اس سے شکوہ کرتی سرد نظر سے اسے نوازتی لیٹ گئی یہ سوچے بغیر کے زریق نے کچھ کھایا ہوگا یا نہیں؟؟ زریق بھی اسکے برابر آ لیٹا اور لائٹس آف کردیں۔۔۔۔۔
زریق نے ہاتھ بڑھا کر مایل کو اپنی طرف کھینچا مایل جتنی مزاحمت کرتی بےکار تھا وہ اس پر حاوی ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کافی دنوں سے سکندر ولا کا ہر مکین مایل کو فورس کر رہا تھا کہ وہ واپس پاکستان آجائے مایل نے اُن سے کہا تھا کہ وہ زریق سے بات کرے گی۔ زریق آیا تو مایل نے اس سے بات بھی کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” ہم پاکستان کب جائیں گئے۔۔۔ ” وہ ارحم اور زریق کی الماری سیٹ کر رہی تھی۔ ارحم باہر لان میں ثمرین کے ساتھ تھا جبکے زریق ابھی آفس سے آیا تھا آتے ساتھ مایل نے اُسے پوچھا۔۔۔۔۔۔

” انشااللہ شاید اگلے ہفتے۔۔۔۔۔ ” مایل زریق کو دیکھتی رہ گئی اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔۔۔۔

” سچی؟؟؟ ” زریق نے ایک نظر اسے دیکھا ” ہم ” کہا۔۔۔۔۔۔۔

وہ جو اگلے ہفتے جانے کا سوچ سوچ کر خوش ہو رہی تھی رات کے ناجانے کس پہر زریق کے اٹھانے پر وہ گہری نیند سے بیدار ہوئی سرخ ہو تی آنکھوں سے اس نے زریق کو دیکھا وہ کچھ کہہ رہا تھااسکے ہونٹ ہل رہے تھے۔ لیکن مایل کا دماغ شاید سویا ہوا تھا اس نے آنکھیں بند کرلیں اسے محسوس ہوا کوئی اس کا کندھا ہلا رہا تھا۔

سرخ ہوتی آنکھیں اس نے دوبارہ کھولیں تو زریق کو خود پر جھکے پایا۔۔۔۔۔۔۔

” مایل ڈیڈ نہیں رہے۔۔۔۔۔۔۔۔ ” اسکے ہونٹوں سے ادا ہوتے لفظ سن کر وہ سناٹوں میں چلی گئی شدید دھچکا لگا تھا۔۔۔ تھوڑی دیر بعد وہ حال میں اپنے سسر ثمروز صاحب کے بےسود سوئے جسم کو دیکھ رہی تھی جس میں کوئی حرکت نہ تھی۔۔ وہ ارحم کو اپنے سینے سے لگائے ہوئی تھی جو گہری نیند سو رہا تھا اس نے ارحم کو اٹھایا نہیں تھا مگر آج ایک موت دیکھ کر اسے وہی اپنے بہن اور بابا کا کفن یاد آیا جتنا ہو سکے اس نے ارحم کو اپنے سینے میں بھینچ لیا ثمرین بلک بلک کر رو رہی تھی کبھی کبھی بے ہوش ہو جاتی آس پاس کی کچھ پاکستانی عورتیں انہیں ہوش میں لا رہی تھیں۔۔۔۔۔۔

” ارحم کو مجھے دو تم امی کے پاس جاؤ ” زریق اس سے کہہ رہا تھا مگر اس نے ارحم کو اسے نہیں دیا وہ زریق سے کچھ قدم دور ہوئی زریق اس کی یہ حرکت دیکھ کر پلٹ گیا۔۔۔۔

مایل اندر جا کے خوف کے مارے کمرے میں چلی گئی آج اسے محسوس ہو رہا تھا اس کا کوئی اپنا اس کے ساتھ نہیں اسے نہیں پتا تھا کہ اس ماحول میں اسے کیا کرنا چاہیے؟؟؟ اس کا ذہن یک دم سے بند ہو چکا تھا اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔ نہ جانے کتنا وقت بیت گیا۔۔۔ زریق دروازہ کھول کر کمرے میں آیا اور اسے چلنے کو کہا مایل نے اسے نا سمجھی سے دیکھا۔۔۔۔

” کہاں؟؟؟ “

” پاکستان۔۔۔۔ “

” امی اور بابا؟؟ ” وہ ثمرین اور ثمرو صاحب کا پوچھ رہی تھی کہ کہاں ہے؟؟؟

” وہ جا چکے!!! انھیں ہی چھوڑ کر آرہا ہوں کچھ گھنٹوں میں پاکستان پہنچ جائیں گئے۔۔۔ “

مایل کی ٹانگیں کانپ رہیں تھیں اب تو اس کا بیٹا بھی اس کے ساتھ تھا اس کا دماغ ویسے ہی نہیں چل رہا تھا وہ چُپ چاپ اس کے پیچھے چلتی گئی۔ اس نے ایک لفظ تک نہیں بولا تھا وہ کہیں اپنی ان حرکتوں سے سچ میں جان کی بازی نہ ہار جائے اور اس میں اتنا حوصلہ نہیں تھا کہ وہ اپنے بیٹے کی جان خطرے میں ڈالے۔ اسلئے مایل نے خاموشی اختیار کی۔۔۔

آج بھی وہ پرائیویٹ جیٹ سے جا رہے تھے لیکن اس سفر کے دوران مایل کی آنکھ ایک منٹ کو بھی بند نہ ہوئی اُس کی وجہ اِس کی گود میں سویا اِس کا بیٹا تھا جس کی وہ حفاظت کر رہی تھی کافی لمبا سفر تھا ایسا کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا لیکن جیسے ہی وہ پاکستان کی سرزمین پر پہنچی اس نے سُکھ کا سانس لیا دل میں جتنا ڈر اور خوف تھا یکدم سے کم ہوگیا اسے لگ رہا تھا وہ اپنی دنیا میں واپس چلی آئی ہے۔۔۔ زریق نے مایل سے کوئی بات نہیں کی وہاں ان کا کوئی ڈرائیور بھی نہیں تھا زریق اسے ٹیکسی کے ذریعے ہی گھر لے آیا۔۔۔ گھر پہنچتے ہی مایل نے دیکھا وہی گھر ہے جہاں وہ رخصت ہو کر آئی تھی۔ پورا گھر خالی تھا کوئی بھی نہ تھا نا وہاں ثمرین تھیں نا ثمرو صاحب تھے نا کوئی مہمان تھا کچھ بھی نہیں تھا وہ خالی گھر تھا جس کی حالت بہت بُری تھی انتہائی بُری ایسے لگ رہا تھا سالوں سے صفائی نہیں کی گئی مایل کو سمجھ نہیں آیا ثمرین کہاں گئی؟؟ اس نے زریق سے پوچھنا چاہا لیکن وہ کال آنے پر اسے چھوڑ کر چلا گیا بس حال میں آکر اسے زریق کی اواز آئی کہ وہ کہہ رہا تھا

” میں جلدی آ جاؤں گا “۔۔۔۔۔۔۔

وہ اتنی تھکی ہوئی تھی کہ نیند اس کی آنکھوں پر سوار تھی وہ ارحم کو خود سے لگائے اپنے کمرے کے مشترکہ بستر پر لیٹ گئی الماری میں اب بھی اس کا کچھ سامان تھا اس نے سوچ لیا تھا جب وہ اٹھے گی تب ہی چینج کرے گی ابھی اسے صرف نیند چاہیے تھی سب باتیں اس کے دماغ سے نکل چکی تھیں یہ تک کہ ثمرو صاحب اب اس دنیا میں نہیں رہے۔۔۔۔۔۔

وہ سو رہی تھی جب اسے محسوس ہوا کوئی دبے پاؤں اس کے کمرے میں آیا ہے نیند میں بھی اس کا دماغ جاگ رہا تھا اسے لگ رہا تھا کوئی اس کے پاس آکر جھکا ہے اور اور جھک کر وہ۔۔۔۔۔۔۔اگلی سوچ آتے ہی وہ چیخ کر اٹھی

” ارحم۔۔۔۔۔ ارحم۔۔۔۔۔ “

جھٹکے سے مایل نے اپنی انکھیں کھولیں تو دیکھا زریق ارحم کو اٹھا رہا ہے مایل چیخ رہی تھی لیکن زریق نے اس کی پرواہ کیے بغیر وہ دروازے کی طرف بڑھا مایل اس کے پیچھے چلاتی چلی جا رہی تھی لیکن زریق کو فرق نہیں پڑا۔ گھر کے باہر آکر اس نے کار کا دروازہ کھولا جیسے ہی وہ بیٹھا مایل بھی بھاگتی ہوئی دوسری سائیڈ آکر کار میں بیٹھ گئی۔۔۔۔۔

” کیا کر رہے ہو کہاں لے جا رہے ہو ارحم کو؟؟؟ ” وہ اسکے سامنے بلک رہی تھی اسکا پورا جسم خوف سے لرز اٹھا تھا. ۔۔۔۔۔۔

” وہیں چھوڑ کر آرہا ہوں جہاں سے آیا تھا یہ فساد کی جڑ “
اس کے لفظوں میں اپنے بیٹے کے لیے صرف اور صرف زہر تھا زہر سے بجھے الفاظ مایل کے کانوں میں چُب رہے تھے اس کی آنکھیں خوف و حیرت سے پھیلتی چلی گئیں دل میں درد کی لہر اٹھ رہی تھی مایل اس کا گریبان پکڑ کر چیخ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

” اگر مرنا ہی ہے تو بتا دو اپنی ان حرکتوں سے تم اپنے بیٹے کو بھی کھو دو گی ” وہ اس کے کالر پکڑنے کی حرکت پر طنز کر رہا تھا کہ اس طرح وہ ایکسیڈنٹ کرواتے اپنے بیٹے کو بھی ہاتھ سے دھو بیٹھے گی مایل روتی ہوئی پیچھے ہوئی۔۔ وہ تھک چکی تھی۔ پاگل ہو رہی تھی زریق نے ارحم کو سیدھا کھڑا کیا تھا وہ اس کے سینے سے لگا ہوا تھا ارحم ابھی تین ماہ کا تھا اس طرح اس کی ٹانگوں پر دباؤ بڑھ رہا تھا وہ چھوٹا بچہ تھا چل نہیں سکتا تھا لیکن اس بے رحم باپ کو اپنے بیٹے کی پرواہ نہیں تھی اور ارحم سسکیاں لے کر رو رہا تھا ماں کی طرف آنے کے لیے بار بار ہاتھ بڑھا رہا تھا جسے زریق غصے سے پیچھے جھٹکتا۔۔۔۔ وہ اور رونے لگتا مایل کا دل پھٹ رہا تھا۔۔۔۔۔

” تمہیں اللہ کا واسطہ ارحم کو۔ چھوڑ دو یہ معصوم ہے اس نے کچھ بھی نہیں کیا جو سزا دینی ہے مجھے دو اسے کچھ نہیں کرو ” وہ اسکے سامنے ہاتھ جوڑ رہی تھی۔ زریق کو شدید ناگوار گزرا۔۔۔۔۔

” کیسے چھوڑ دوں یہی تو ہے جس نے ہمیں ایک دوسرے سے دور کر دیا یہی تو فساد کی جڑ ہے جس کی وجہ سے تم میرے قریب نہیں آتیں مجھ سے نفرت کرتی ہو ان آنکھوں میں ہر وقت میں اپنے لیے نفرت دیکھتا ہوں ” وہ ارحم کو نفرت سے دیکھتے چیخ رہا تھا۔۔۔۔۔۔

” ایسا نہیں ہے یہ جھوٹ ہے ” وہ روتے ہوئے چیخ رہی تھی لیکن زریق اسے دیکھتا زخمی مسکرایا۔ وہ اس کی بے بسی پر بھی خوب لطف اٹھا رہا تھا۔۔۔۔۔

” جھوٹ سفید جھوٹ تم مجھ سے نفرت کرتی ہو اور یہ سب اس کے آنے کے بعد ہوا ہے یہ میری اولاد ہو ہی نہیں سکتا نہ جانے کس شیطان کی اولاد ہے یہ ” مائل اس کے الفاظوں سے زمین میں دھستی چلی جا رہی تھی اسے لگ رہا تھا موت اس کے نہایت قریب ہے ایسے الفاظ کے۔۔۔۔۔ اس کی روح لرز اٹھی تھی۔۔ شیطان اسکا بچا نہیں وہ خود ہے جو معصوم چہرے کے پیچھے بھاینک چہرہ لیے بیٹھا تھا۔۔۔۔

وہ اسے وہیں لے آیا تھا جہاں ان کا پرائیویٹ چیٹ لینڈ ہوا تھا جہاں آگے پہاڑی پر کوئی راستہ نہیں ہے۔۔۔۔ ہر طرف پہاڑ ہیں اور اسکے آگے ایک بڑی کھائی زریق نے کار روکی اور کار سے نکلا مایل اسکے پیچھے بھاگ آئی تھی اسکا سانس رُک رہا تھا زریق نے ایک نظر مایل کو دیکھا اور مسکرایا۔۔۔۔

” وہیں روکے ورنہ اسے کھائی سے پھینک دونگا “

” نہیں ” مایل جیخی ہوئی نفی میں گردن ہلاتی رو رہی تھی وہ صدمے سے اُسی جگہ جم گئی سانس تک اُس نے اپنا روک لیا تھا کہ کہیں وہ اس کے بیٹے کو نقصان نہ پہنچا دے وہ کسی پتھر کی مانند وہیں زمین پر ساکت رہ گئی۔۔۔۔

زریق قہقہ لگا کر ہنسا۔۔۔

” کاش یہ فرمانبرداری آپ نے ان تین ماہ میں دیکھائی ہوتی جتنی نافرمانی آپ نے میری کی ہے!!! تو آج آپ پر یہ وقت نہیں آتا ” کہتے ساتھ اس نے ارحم کو اس کھائی سے نیچے پھینک دیا۔۔۔۔ مایل سانس لینا بھول گئی مایل اور ارحم کی نظریں ملیں وہ چھوٹا بچہ اپنی ماں کو دیکھتا روتا ہوا نیچے کی طرف کھینچتا چلا گیا جیسے زمین اسے اپنے اندر سمانے کے لیے تیار کھڑی تھی اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مایل کی زندگی سے چال گیا۔۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔