66.2K
40

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

وہ بھاگتا ہوا گھر کے اندر آیا۔
” امی کیا ہوا مایل کیوں رو ہی تھی ” ہانپتے ہوئے زاکون نے شگفتہ سے سوال کیا۔

” پتا نہیں ہمیں تو خود کچھ معلوم نہیں نجمہ ہی آکر بتا سکتی ہے ابھی کچھ پوچھتے یا روکتے بھی تو وہ کسی کی نہیں سنتی۔۔۔ ” صالحہ نے تو خاموشی سے کچن کا رُخ کیا جبکے شگفتہ اب آبی کو ناشتہ کروا رہی تھی۔ ماں سے ڈر کے وہ چچی کے پاس آتا تھا تیار ہونے اب بھی شگفتہ خود ہی اسے تیار کر کے بریڈ پر اسکے لئے جیم لگا رہیں تھیں پر سوچ مایل کی طرف تھی۔۔۔۔۔

زاکون حیدر نے کمرے کا رُخ کیا اسکا ذھن بےحد الجا ہوا تھا۔ وہ اسکے لئے چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پایا تھا۔ وہ مومنہ کی بہن ہے زاکون کے لئے اسکی خوشی زیادہ اہم ہے اسی لئے اسکے کہنے پر زاکون نے بےحد کوشش کی تھی وہ اُسے اسکی پسندیدہ ہستی دے دے مگر وہ نہیں کر پایا وہ اسکے لئے کچھ نہ کر سگا۔۔۔۔۔۔

مگر اسے لگا تھا شادی کے بعد وہ خوش ہے آج اسکی آنکھوں میں آنسوں دیکھ کر وہ تڑپ اٹھا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے مومنہ اسکے سامنے رو رہی تھی۔۔ زاكون نے کمرے میں آکر المیر کو کالز کیں لیکن اس نے کال پک نہیں کی غصّے کے مارے زاکون نے فون بید پر پٹکا اور اپنے مینیجر کو ایک میسج ٹائپ کر کے سینڈ کردیا۔۔۔۔

” سر آج کی نائٹ کرلونگا ” میسج کرکے وہ نہانے چلا گیا۔ وہ ابھی نائٹ شفٹ کر کے گھر لوٹا تھا آج اس کی نائٹ نہیں تھی وہ الریڈی دو نائٹس کر چکا تھا آج کسی اور سینیئر اسٹاف کی نائٹ تھی۔ مگر سی سی یو میں پیشنٹس بہت کریٹیکل تھے زاکون سے مینجر نے کہا تھا کہ وہ آج کی نائٹ کرلے بس جو کہ اس کے لیے بہت مشکل تھا کیونکہ آج ہی اس نے شگفتہ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ انہیں باہر ڈنر کرانے لے جائے گا بہت عرصے بعد اس کی ماں نے ایسی خواہش ظاہر کی تھی جسے سن کر وہ حیران ہوا تھا۔۔۔۔۔۔

مگر گھر آکر مایل کو اذیت میں دیکھ اسے سکون نہیں مل رہا تھا وہ آج جاتا بھی تو اس کا ذہن مایل کی طرف ہی ہوتا اس لیے اس نے خود ہی مینجر کو میسج کر دیا کہ وہ آج کی رات بھی آئے گا بات یہ تھی کہ وہ سینیئر اسٹاف ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ذمہ دار انسان بھی تھا اسے اپنی ذمہ داری کا احساس تھا۔ سی سی یو میں اسکے علاوہ ایک معاویہ تھا جو اسی کی طرح سوچ رکھتا تھا۔ اپنی جاب سے سینسیر تھا تبھی اسکے مینجیر ان دونوں کی نائٹس زیادہ لگاتے ہیں جب سی سی یو میں زیادہ پیشنٹس ہوں اور وینٹ پر ہوں۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” تم مایل کو لے کر آئے تھے پھر چچی کے ساتھ اسی وقت واپس چھوڑ آئے کیوں؟؟ بتاؤ کیا ہوا تھا؟؟ ” آریز کو مایل کا اپنی ماں سے پتا چلا تھا لیکن وہ المیر سے بات کرتا اس سے پہلے ہی المیر آفس چلا گیا بلکہ وہ گھر لوٹا ہی نہیں تھا چچی کو گھر ڈراپ کر کے وہ وہیں سے آفس کے لیے روانہ ہوگیا اس نے ناشتہ بھی نہیں کیا تھا شاید وہ سب کے سوالوں سے بچنا چاہتا تھا۔ مگر آفس میں وہ اب آریز کے سوالوں کا جواب دہ تھا۔۔۔۔۔

” پتا نہیں!!!! مگر وہ ابھی تک بس ماتم کر رہی ہے ” المیر کے لہجے میں افسوس تھا جب کے آریز نے دانت بھینچے۔۔

” کیا مطلب ہے اس بات کا؟؟ ” آریز کی آنکھوں میں خون اتر آیا جب کے المیر نے سرد نظروں سے اسے گھورا۔۔۔۔۔

” جو سمجھ کر انجان بن رہے ہو “
آریز نے اسے افسوس سے دیکھا پھر گہرا سانس لیکر اسکے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔

” المیر تم سے زیادہ مایل کو کون جانتا ہے؟؟؟ شاید نجمہ چچی بھی اسے اتنا نہیں جانتی تھیں جتنے قریب وہ تمہارے تھی۔ تم خود اس بات سے واقف ہو کے وہ کتنی ڈرپوک تھی کتنی چیزوں سے خوف کھاتی تھی۔۔
لفٹ سے ڈرتی تھی، پھنکے سے ایک دفع نیوز میں موت دیکھی تو اُس سے ڈرنے لگی کے سر پر نہ گر جائے۔تم ہی اسے لے کے گئے تھے نا ڈاکٹر کے پاس تم نے اس کی کنڈیشن دیکھی تھی وہ ہر بات پر کتنا گھبراتی تھی تب تو اس کے دماغ میں باتیں نہیں تھیں تب تو وہ یہ سب تمہاری توجہ پانے کے لیے نہیں کرتی تھی۔۔۔۔۔” آریز جذباتی ہوکر اسے سمجھا رہا تھا المیر لیپ ٹاپ میں خود کو مصروف ظاہر کر رہا تھا مگر کان آریز کی باتوں کی طرف تھے۔۔۔

” تمہیں یاد ہو اسکا ٹی ایس ایچ لیول بڑھا ہوا آیا تھا؟ کیا اس نے وہ خود سے کیا تھا؟ کوئی انسان خود سے خود بیمار نہیں ہوتا المیر صدیقی اس کے پیچھے وجہ ہوتی ہے۔۔۔ کچھ کچھ لوگ اپنے ڈر خوف کی وجہ سے اینزائٹی (Anxiety) تک کا شکار ہوتے ہیں۔۔۔ تمہیں پتا ہے مایل ان لڑکیوں میں سے ہے جو گھر میں زیادہ رہی ہے اس نے باہر کی دنیا نہیں دیکھی المکر صدیقی!!!!! کیا تم نے اسے کبھی دیکھا ہے وہ یونیورسٹی لائف میں بھی کبھی دوستوں کے ساتھ باہر گئی ہو؟؟؟ اس کی دوست ہے کون؟؟ تمہاری بیوی اس کے علاوہ تم نے اس کے منہ سے کس دوست کا نام سنا ہے؟؟؟ ارے ہمیں پانچ منٹ دیر اُسے لینے میں وہ کتنا گھبرا جاتی ہے کہ کہیں کوئی اسے یونیورسٹی سے اٹھا نہ لے۔۔۔ نیٹ پہ روز نئے واقعے پڑھ کے دنیا کا خوفناک روپ دیکھ کر وہ کتنا ڈرتی ہے، المیر تم نے ساری زندگی اسے گھر میں۔۔ اپنی نظروں کے سامنے بیٹھا کے رکھا ہے کیا تم نے کبھی اسے باہر کی دنیا دیکھائی ہے؟؟؟ شادی بھی اُس کی راتوں رات ایسے انسان سے کروائی جس کے نام کے علاوہ وہ اسکے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی۔۔۔۔” وہ بولنے پر آیا تو اسکے چودہ طبق روشن کر رہا تھا المیر کے کی بورڈ پر چلتے ہاتھ کب کے رُک چکے تھے۔ ناچاہتے ہوئے بھی آریز کے الفاظ اسکا دیہان اپنی طرف کھینچ رہے تھے۔۔۔۔

” تم خود ایک بات بتاؤ اس نے سب باتیں کیں۔۔۔ کیا تم نے ایک دفعہ بھی جاننے کی کوشش کی کہ خود اس میں عقل نہیں ہے کہ وہ ایسی باتیں کر رہی تھی؟ اس نے خود نہیں سوچا ہوگا کہ لوگ میری بات کا یقین نہیں کریں گئے؟ وہ ایک پڑھی لکھی گریجویٹڈ لڑکی ہے بولنے سے پہلے بھی اس بارے میں سو بار سوچا ہوگا وہ اپنا مذاق خود بنوائے گی؟؟؟؟ تم اس کی بات کا ایک دفعہ یقین تو کر لیتے اُس سے ایک ایک چیز پوچھتے آخر کیا وجہ تھی کہ اس نے ایسی بات کہی؟ وہ ایک ایک چیز بیان کرتی۔ جو اُس کی آنکھوں کے سامنے گزرا۔۔۔ تم اعتبار تو کرتے اس پر پتا ہے اس میں تمہارا بھی قصور نہیں تمہاری سوچ کا ہے کہ تمہیں لگتا ہے مایل کو تمہارے علاوہ کچھ اور نہیں دیکھتا۔۔۔۔ ” المیر نے نظر اٹھا کر آریز کو دیکھا جو طنزیہ نظروں سے اسے گھور رہا تھا جیسے اسکے غرور پر ہنس رہا ہو۔۔۔ المیر صدیقی تم دنیا کے آخری شخص بھی ہوتے تب بھی مایل تمہارے پاس نا لوٹتی وہ جانتا ہے مایل مرنا پسند کریگی مگر المیر کے پاس نہیں آئے گی۔۔۔۔۔۔۔

” اگر اس سے ہٹ کر تم سوچتے تو شاید اس کا دکھ، درد اُسکی تکلیف محسوس کرتے۔ وہ ایک ایسی لڑکی ہے جو گھر میں شہزادی کی طرح پلی تھی ارے اتنا آٹینشن تو آبی کو بھی نہیں ملتا ہے جتنا مایل کو دیا گیا تھا اس کے ہاتھ میں چھوٹی سی چوٹ آجاتی چاہے امی ہوں چچی ہوں یا المیر تم سب اس کے آگے پیچھے گھومتے تھے وہ گھر کی ایک اکلوتی بیٹی تھی خاص کر مومنہ کے جانے کے بعد تو وہ ہر ایک آنکھ کا تارا رہی ہے۔۔۔۔۔۔ اچانک سب کچھ اس سے چھین لیا گیا۔ وہ پیار وہ محبت، وہ احساس، جو سب کے دلوں میں اُسکے لئے تھا۔ اس کی کیا حالت ہو رہی ہوگی جب اُسے ایک اکیلے گھر میں لا کر قید کر دیا گیا ہو؟؟ جہاں شوہر دن بھر کام میں مصروف ہوتا ہے۔ ساس سسر کی تیماداری میں لگی ہوں۔ اس سب میں مایل کو کون دیکھتا ہے؟ دن بھر وہ کیا کرتی ہوگی؟؟ المیر اس کے پاس اپنا کوئی نہیں ہے کوئی بھی نہیں۔ وہ ایک بڑے محبتوں سے بھرے گھر کو چھوڑ کر ایسے گھر میں گئی ہے جہاں صرف تنہائی ہے،،،، ایسے میں تو وہ تنہائی کا شکار ہو سکتی ہے خوف کا ہو سکتی ہے وہ ایسی باتیں بھی سوچ سکتی ہے جو شاید ہوتیں بھی نہ ہوں۔۔۔ تم اس کے دماغ کا کیا اندازہ لگا سکتے ہو تم نے یہ نہیں سوچا کہ وہ اِس وقت اکیلی تنہا ہے اُس کے آس پاس اس کا کوئی اپنا کوئی ہمدرد نہیں۔۔۔ یہاں تک کہ اس کی ماں بھی اس کے بارے میں وہ سوچتی ہے جسے سن کر مجھ جیسے شخص کو حیرت ہو رہی ہے۔ اتنا گہرا تعلق تو نہیں میرا اور مایل کا جتنا تمہارا اور نجمہ چچی کا اس سے ہے۔۔۔۔” لفظ گہرے پر وہ اسے طنز کر گیا جیسے جتا رہا ہو جان لوٹاتے تھے جس پر اب اسی کی جان لے رہے ہو؟

” اور تم بچپن سے زریق کو جانتے ہو؟ اس کے کردار کی گواہی دے سکتے ہو؟؟؟ مایل اُسے دن رات دیکھتی ہے۔۔ تم دیکھتے ہو؟؟؟ جانتے ہو؟؟ کتنا گہرا تعلق ہے زریق سے جو مایل کو جھوٹا کہ کر زریق کی سائیڈ لے رہے ہو؟ ” وہ نظریں جھکا گیا آریز کی باتیں اسکے دماغ میں کیل کی طرح چُپ رہیں تھیں۔۔۔۔۔

” المیر مجھے تو افسوس ہوتا ہے تم تو مایل کو جانتے ہوئے بھی اس کے کردار تک کی گواہی نہیں دے سکتے مجھے ایک بات بتاؤ وہ تمہیں پسند کرتی تھی؟؟؟ تم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ” تم ” اس کی ایک معصوم ” خواہش ” تھے۔ وہ اپنی شادی کا سن کر نہیں روئی تھی المیر یاد کرو وہ تمہارے رشتے کا سن کر روئی تھی کہ تمہیں مایل سے ” چھین ” رہے ہیں۔تم وہ ہستی ہو جو بچپن سے اس کے ساتھ رہے ہو جو اس کی ہر خواہش پوری کرتا ہے، جس میں وہ اپنا باپ بھائی ایک محافظ ایک سرپرست دیکھتی ہے یہاں تک کہ شوہر بھی۔ اس بندی نے زندگی میں تمہارے علاوہ کسی کو نہیں سوچا۔ کیا وہ خوبصورت نہیں رشتوں کی کمی تھی اُسے؟ ہمارے اس ایریا میں کتنے حسین نوجوان رہتے ہیں کبھی دیکھا مایل کو جو انہیں نظر اٹھا تک کر دیکھتی ہو؟؟ پرسنل موبائل ہے اسکے پاس ایسی لڑکی دیکھی ہے جسکے موبائل کا پاسورڈ پورا گھر جانتا ہے؟؟؟ یہاں تک کے تم خود سوچو میں بھی تھا زاکون بھائی ہیں کہتے ہوئے مجھے شرم آرہی ہے لیکن ہم مایل کے اتنے قریب نہیں تھے جتنے تم تھے اس لیے اسے یہ خوف کھا جاتا تھا کہ اگر تم اس سے دور ہوئے تو وہ زندگی میں برباد ہو جائے گی اور یہی اب اس کے ساتھ ہو رہا ہے تم سب نے بنا تحقیقات کے آج کیسے اُسے گھر سے نکال دیا؟؟ ایک بار تو سوچتے المیر وہ مایل تھی مایل جسے بچپن سے تم نے اپنے بے حد قریب رکھا ہے اس کا تھوڑا تو احساس کر لیتے۔۔۔ ارے ہم ایک کتا پالتے ہیں اس سے بھی ہمیں ہمدردی ہو جاتی ہے وہ تو مایل تھی جس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر تم تڑپ اٹھتے تھے اب تمہیں کیا ہو گیا ہے؟؟؟ ایسا کیا ہے کہ تمہاری آنکھیں نہ مایل کا دکھ دیکھ پاتی ہیں نہ تمہارے کان اس کی تکلیف سن پاتے ہیں نہ تمہارے یہ ہونٹ اسے سکون دا الفاظ فراہم کرتے ہیں افسوس ہوتا ہے کہتے مگر آنکھیں ہوتے ہوئے بھی تم اندھے ہو،، کان ہوتے ہوئے بھی تم بہرے ہو اور ہونٹ ہوتے ہوئے بھی تم گونگے ہو ورنہ آج نجمہ چچی کے آگے اسکی ڈھال بن کر کھڑے ہوتے۔۔۔۔۔۔۔ ” وہ اتنا جزباتی ہوچکا تھا کے اسے اندازہ نہیں تھا اسکی آواز تک اونچی ہوگئی۔ کچھ ایپلوائز کو تو لگ رہا تھا انکی لڑائی ہوئی ہے۔ آریز کی آنکھوں میں جیسے خون اتر آیا تھا کردار پر بات آتے ہی وہ جیسے جنونی ہوگیا تھا۔۔۔

جبکے المیر کا چہرہ سرخ ہوچکا تھا۔ آریز جان نہیں پایا تھا شرم سے یا بےعزتی سے!!! مگر اسکے چہرے سے لگ رہا تھا جیسے وہ بہت ضبط کیے ہے پھر کیا تھا وہ تیزی سے اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے کیبن سے باہر نکل آیا۔ آریز کو فرق نہیں پڑا تھا چاہے وہ جہنم میں جائے مگر کسی کو اتنی اذیت نہ دے کے وہ انسان اپنا حواس گواہ بیٹھے۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ آفس سے اتنی تیز ڈرائیو کرتے یہاں تک پہنچا تھا کہ راستے میں اس کا ایکسیڈنٹ ہوتے ہوتے بچا تھا۔۔۔ اسے بے چینی نے آن گھیرا تھا پتا نہیں کیوں اسے لگ رہا تھا جیسے کوئی بڑا طوفان آنے والا ہے جیسے زندگی لمحہ بہ لمحہ اس کے ہاتھ سے سڑکتی جا رہی ہے۔۔۔۔۔۔

” گیٹ کھولو ” زریق کے بنگلے پر پہنچتے ہی اس نے چوکیدار کو تیز لہجے میں کہا۔ وہ کار سے باہر نکل آیا تھا اور اب چوکیدار پر برس رہا تھا کہ وہ گیٹ کھولے۔۔۔۔۔۔

” صاحب جی اندر کوئی نہیں ہے۔۔۔ ” چوکیدار کی بات سن کر وہ حیران ہوگیا۔۔۔۔

” سب کہاں گئے؟؟؟؟ “

” پتا نہیں صاحب جی!!! بس مجھے کہا ہے آج کے دن گھر کی دیکھ بھال کرو کل میں بھی چلا جاؤں گا میرا کانٹریک انہوں نے پورا ہونے سے پہلے ختم کردیا کہ رہے تھے اب نہیں لوٹیں گئے۔۔۔۔ ” وہ سمجھ گیا تھا چوکیدار کمپنی کی طرف سے تھا مگر اسے سن کے شدید جھٹکا لگا تھا مایل کو چھوڑے ابھی دیر ہی کتنی ہوئی تھی آگر اسے پتا ہوتا قسمت اسے ایسا وقت دیکھائے گی تو وہ کبھی مایل کو یہاں نہیں چھوڑتا اسے تو اب بھی احساس نہیں ہوتا آگر آریز اسے نا بتاتا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے لمحے بھر کی تو بات تھی جب وہ یہاں اسے چھوڑ گیا تھا اور اب وہ اس کی نظروں سے اوجھل پتا نہیں کہاں ہو گی کس حالت میں ہوگی؟؟؟ وہ کبھی اسے دیکھ پائے گا بھی یا نہیں؟؟؟

” کچھ تو بولا ہوگا؟؟؟ ” وہ بےبسی سے سر پر ہاتھ پھیرے پاگل ہو رہا تھا یہ سوچ اسے کھا رہی تھی وہ مایل کو اب کبھی دیکھ نہیں پائے گا وہ پھر سے چوکیدار کے سر پر آکھڑا ہوا۔۔۔۔۔۔

” نہیں صاحب جی کچھ نہیں بولا!!! بس آپ کی طرح لوگ آکر ان کے بارے میں پوچھ رہے ہیں اور میں انہیں جواب دے رہا ہوں۔۔ مجھے زریق صاحب نہیں اسی لیے کہا تھا کہ آج کی رات میں یہیں رکوں اور جو جو ان کے بارے میں پوچھ رہا ہے انہیں بتا دوں کہ وہ یہاں سے جا چکے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ ” وہ اس وقت خود کو بےبسی کی انتہاؤں پر محسوس کر رہا تھا۔ کہاں جائے؟ کیا کرے؟ کس سے پوچھے؟ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔ وہ اتنا پریشان تھا کہ اس بات پر غور نہ کر سگا کے آخر کون لوگ ان کے بارے میں پوچھنے یہاں تک آرہے تھے؟؟؟

اسنے مایل کا یقین نہیں کیا اور پل بھر میں زریق اسے لیکر ہر ایک کی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔

المیر نے اندر کار میں آکر گھر کا رُخ کیا بےچینی تھی کے بڑھتی چلی جا رہی تھی سکون ایک پل کو نہیں مل رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حیدر مرتضیٰ اور صدیق صاحب کسی پلاٹ کو ڈیسکس کر رہے تھے۔ حیدر مرتضی نے مایل کی شادی کے دوران ہی بیرون ملک والی جاب چھوڑ دی اب وہ مستقل پاکستان میں ہی سیٹل ہو چکے ہیں اور صدیق صاحب کے ساتھ اپنے بزنس کو سنبھال رہے ہیں۔۔۔ ابھی وہ دونوں ایک پلاٹ کے پیپرز کو ہی ڈسکس کر رہے تھے کہ المیر وہاں آدھمکا۔۔۔۔۔۔

” تایا ابو، ابو زریق کے بنگلے میں کوئی نہیں وہ مايل کو کہیں لیکر چلا گیا ہے ” وہ بھیکرا حُلیہ لیے خود سے لاپروا انکے سامنے کھڑا تھا۔۔۔۔

” تو؟؟ جانتا ہوں زریق مجھے پہلے ہی بتا چکا تھا ثمروز کے علاج کے لئے وہ دُبئی جائیں گے!!! انفیکٹ آج اُنکی دبئی کی فلائیٹ ہے ” حیدر مرتضی نے دھیمے لہجے میں جواب دیا۔ المیر پل بھر کو سُن سا رہ گیا یہ بات تو کسی کے علم میں نہ تھی ہوتی تو ضرور اسے پتا چلتی جبکے صدیق صحاب بھی حیدر کو دیکھ رہے تھے جیسے وہ بھی اس بات سے لاعلم تھے۔۔۔۔۔۔

” لیکن تایا اب وہ ہم سے مل کر نہیں گئے نہ ہم میں سے کسی کو اطلاع دی؟؟؟ ” المیر کو یہ بات ہضم ہی نہیں ہوئی تھی رہ رہ کر مایل کے الفاظ زریق کی یہ عجیب حرکت اس سے چیخ چیخ کر کہ رہے تھے ” کچھ تو ہے ” جس سے وہ سب لاعلم ہیں۔۔۔۔

” خیر ہے تو کیا ہوا؟؟ مایل سے تو ہم لوگ اکثر ملتے رہتے ہیں اس وقت اِن کے گھر کا ماحول ٹھیک نہیں زریق نے اس کا ذکر صدیق اور میرے سامنے کیا تھا مگر ان کا جانا کنفرم نہیں تھا یہ تو اچانک کل رات زریق نے مجھے میسج کیا کہ وہ مایل کو آج دس بجے کی فلائٹ سے دبئی لے کر جا رہا ہے صدیق میں تمہیں بھی اطلاع کرنا بھول ہی گیا۔۔۔۔مسیج ہی صبح پڑھا اب پندرہ منٹ میں آئیر پورٹ کیسے پہنچتے؟ اور ویسے بھی المیر مایل جب آئے گی ہم تب اس سے مل لیں گے اس میں پریشانی کی کیا بات ہے ہم خود بھی دبئی جا کے اس سے مل سکتے ہیں۔۔۔ ” حیدر مرتضی نے گویا بات ہی ختم کر دی پر المیر تھا کہ اسے پل بھر کو بھی سکون محسوس نہیں ہورہا تھا اسے لگ رہا تھا وہ کسی اندیکھی آگ میں جل رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” آریز مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا کیسے ڈھونڈوں کہاں ڈھونڈوں اُسے؟؟؟ ابو، تایا بلکل بےفکر ہیں۔ انکو سمجھا کر بھی کوئی فائدہ نہیں یقین نہیں کریں گئے “
وہ اس وقت آریز کے کیبن میں سرد تھامے بیٹھا تھا اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے جبکے آریز خود مایل کے جانے کا سن کر صدمے میں تھا۔ وہ کیبن کی گلاس وال کو دیکھتا ناجانے کس گہری سوچ میں تھا۔۔۔۔

” المیر سب چھوڑو مجھے اب انجانا سا ڈر لگ رہا ہے ” وہ یک دم گردن موڑ کر المیر کو دیکھنے لگا دونوں ایک دوسرے کو ہی دیکھ رہے تھے۔ المیر کی چھٹی حس کہہ رہی تھی آریز کے منہ سے نکلنے والے الفاظ اس کے لیے بے حد تکلیف دہ ہوں گے۔ اسلیے المیر خاموش تھا جیسے کہ رہا ہو کچھ نہ کہنا وہ نہیں سنا چاہتا ایک اور روگ نہیں۔۔۔ اس میں ہمت نہیں بچی۔۔۔

” اگر وہ پریشانی میں ہے بھی، تکلیف میں ہے یا کسی مصیبت میں وہ کسی حال میں ہم سے رابطہ نہیں کریگی۔۔۔۔ تم سمجھ رہے ہو یہ دنیا اتنی بڑی گول ہے المیر اور ہم اس گول دنیا میں مایل کو کھو چکے ہیں ہمیں علم نہیں وہ اس وقت دنیا کے کس کونے میں ہیں۔۔۔۔۔ ” آریز کی باتیں سن کر المیر کی آنکھیں حیرانگی سے پھیل گئیں۔ یہ تو اس نے سوچا ہی نہیں اگر وہ کسی مصیبت میں بھی ہے تو وہ ان سے رابطہ کیوں کرے گی؟؟؟ اس کی ماں نے اسے سکندر ولا سے نکالا تھا وہ اس دہلیز پر دوبارہ کیوں آئے گی۔ دونوں ایک دوسرے سے نظریں چڑا گئے۔۔۔۔۔۔۔۔

تبھی آریز کے کیبن کا ڈور نوک ہوا آریز نے اندر آنے کی اجازت دی تو اس کی سیکرٹری نے اسے ایک فائل تھمائی جو آریز نے خود تیار کرنے کے لیے اپنے ایمپلوائے صفدر کو دی تھی۔۔۔

اور اس کی نظر اچانک گلاس وال سے باہر پڑی تو اسے محسوس ہوا عزاہ آج پورے دن اسے دیکھی نہیں۔۔۔۔۔

” وہ نئی ایمپلوائے نہیں آئی؟ ” آریز نے جان کر انجان بنا جیسے وہ اسے جانتا نہیں۔۔۔

” سر آئی تھی اپنے ڈاکومنٹس لیکر چلی گئی۔۔ “

” واٹ؟؟؟ ” آریز کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہو رہا تھا۔ وہ مینیجر کے پاس گیا تو اسے پتا چلا عزاہ رحمان اپنا ریزیگنیشن دے گئی۔ آج کیا ہو رہا تھا اسے ایک سے بڑھ کر ایک جھٹکے مل رہے تھے وہ اپنے کیبن میں آیا تو المیر وہاں سے جا چکا تھا۔۔۔۔

آریز بھی اپنی کیبن سے نکلنے لگا تھا یہ اس کی بے وقوفی تھی کہ اس نے عزاہ کے ڈاکومنٹس کی کاپی نہیں رکھی نہ ہی اس کے ڈاکومنٹس کو ایک الگ کمپیوٹر فائل میں سیو کیا اس کے پاس عزاہ کی کوئی پہچان ہی نہیں وہ نہیں جانتا عزاہ کہاں ہے؟؟؟ کہاں رہتی ہے؟؟ وہ اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا وہ اپنے کیبن سے نکلنے لگا تھا کہ اسے اپنی ٹیبل پر ایک پیپر نظر آیا اس نے جھٹ سے وہ فولڈ پیپر اٹھا کر اسے کھولا۔۔۔

” مسٹر آریز حیدر مرتضی میں آپ کی کوئی جاگیر نہیں جس پر آپ اپنا رُعب جمائیں یا جسے آپ اپنی ملکیت سمجھیں۔۔ سمجھ آئی؟؟ اب تک آپ کا میرا جو حساب تھا آپ سے وہ کلیئر ہو چکا ہے میں نے آپ کا کوئی احسان خود تک نہیں رکھا سارے پیسے دے دیے تھے۔ آپ کے ہر احسان کی قیمت میں نے ادا کی ہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں ریزگنیشن کیوں دے رہی ہوں؟ آخر ایسا کیا ہوا تو سنیں آپ کو لگا ہوگا میں بےخبر رہوں گی۔ مجھے معلوم ہے آپ نے صفدر سے ڈاکومنٹس ریڈی کروائے ہیں جس میں یہ شرط رکھی ہے کہ میں یہاں ایک سال تک کام کروں گی اگر اس بیچ میں یہ جاب چھوڑتی ہوں تو مجھے کمپنی کو دو لاکھ دینے پڑیں گے آپ کو کیا لگتا ہے آپ کی یہ حرکت مجھے روک سکتی ہے آپ انجانے میں مجھ سے وہ کنٹریکٹ سائن کرواتے اور میں ساری زندگی آپ کی غلامی کرتی؟؟ مجھے پتا ہوتا یہ آپ کی کمپنی ہے میں کبھی یہاں پیڑ تک نہیں رکھتی پیڑ کیا تھوکتی تک نہیں اس پر۔۔۔۔ ” وہ اس کے جانے کی وجہ جان چکا تھا وہ اسے کیسے سمجھاتا اس نے یہ حرکت اس لیے کی تھی تاکہ وہ اس کی نظروں کے سامنے رہے وہ صرف ایک مہینہ چاہتا تھا کہ وہ اس ایک ماہ میں اس کا دل جیت سگے مگر وہ عزاہ کے نیچر سے واقف تھا عزاہ اسے آسانی سے معاف کرنے والوں میں سے نہیں تھی تبھی اس نے سوچ سوچ کر ایک سال کیا۔۔۔۔۔۔۔

اس نے یہ بات صرف صفدر سے کی تھی اب اسے نہیں معلوم عزاہ کو یہ بات کیسے پتا چلی اس نے صفدر کے کیبن میں وہ فائل دیکھی یا صفدر کو کسی سے بات کرتے سنا یا ان دونوں کی بات سنی وہ نہیں جانتا مگر وہ اتنا جانتا ہے کہ اب وہ ایک بار پھر زندگی کی بازی ہار چکا ہے۔۔۔۔۔

اس کا دل آفس میں نہیں لگ رہا تھا وہ گھر چلایا آیا ناجانے کیوں اس کا دل بھر آرہا تھا اس کا دل چاہ رہا تھا وہ اپنی ماں کی گود میں سر رکھے بلک بلک کا روئے ان سے ایک ایک شکایت کرے یہ وہ لڑکی ہے جس نے اسے اتنے سالوں تک تڑپائے رکھا اپنی یادوں میں قید رکھا،، وہ دن رات اس کے لیے تڑپتا تھا سسکتا تھا لیکن وہ لڑکی کوئی پتھر ہی ہے جو اس کے جذبوں کی قدر نہ کر سگی۔ وہ آج تک صرف اس کی وجہ سے کنوارہ ہے اس نے اپنے بھائی(شاذ) تک کا ہر الزام قبول کر لیا۔ کسی کو یہ نہیں بتایا کہ وہ ایک لڑکی سے محبت کرتا تھا جو اسے اعتبار کے قابل نہیں سمجھتی تھی اسی کی وجہ سے آریز نے یہ روگ پالا ہے۔۔۔۔۔

وہ اندھیرے میں اپنی قسمت پر ماتم کر رہا تھا کہ اس کی ماں نے لائٹ جلائی اور آریز کو ایسی حالت میں دیکھ کر وہ تڑپ کر اس کے پاس آئیں۔۔۔

بیٹے کی طبیعت جاننے آئیں تھیں وہ انہیں لگا تھا آریز آج جلدی آگیا ہے تو کہیں اس کی طبیعت نہ خراب ہو مگر انہیں کیا پتا تھا ان کا بیٹا تو اندر سے ختم ہوچکا ہے۔۔۔۔۔

” کیا ہوا ہے آریز ” شگفتہ بیٹے کی ایسی حالت دیکھ کر صدمے سے اسے دیکھتی پوچھ رہیں تھیں۔۔ انہوں نے کبھی آریز کو اتنا ٹوٹا بھیکرا نہیں دیکھا ہاں یونیورسٹی کے دنوں میں انہیں یاد ہے جب یونیورسٹی ختم ہونے لگی تھی آخری دن تھے تب وہ ایسا ٹوٹا تھا اور ایسا ٹوٹا کہ آج تک کوئی اسے سمیٹ نہ سگا۔ آج اتنے سالوں بعد اپنے بیٹے کی پھر ایسی حالت دیکھ انہیں جیسے یقین نہیں آیا مرد آخر کب رویا کرتے ہیں؟؟ اور وہ تو اب میچور ہو چکا تھا یونیورسٹی لائف سے نکل آیا تھا۔۔۔۔۔
شگفتہ نے ایک دفعہ پھر اس سے پوچھا تو آریز اپنی ماں کی گود میں سر رکھے سسک پڑا وہ نیچے زمین پر بیٹھ سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا اس کی ماں بیڈ پر بیٹھیں تھیں اور وہ ان کی گود میں سر رکھے ہوئے تھا۔۔۔۔۔

” امی ہمیں کس کی بددعا لگی ہے؟؟؟ زکی بھائی کی ایسی حالت دیکھ کر میں دن رات انگاروں پر جلتا تھا۔ ایک غلطی کی اتنی بڑی سزا ہوتی ہے؟ چلیں انہوں نے غلطی کی میں نے کیا کیا امی؟؟؟ مجھے کیوں اتنے سال سزا ملی؟؟؟ میرا خدا گواہ آج تک کسی لڑکی کو بری نیت یا نظر سے نہیں دیکھا تو ایسا داغ میرے کردار پر کیوں لگا؟؟ جس پر عمل کر کے وہ مجھے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر چلی گئی۔۔۔۔۔۔ ” شگفتہ اسکی بات سن سناٹوں میں گیرگئیں۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔